Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے  5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے منع کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے انعقاد تک نتائج روک دیے گئے ہیں، فیصلے کے تحت ضلع دیامر کے حلقوں جی بی اے 15، جی بی اے 16 اور جی بی اے 17 کے نتائج روک دیے گئے ہیں اسی طرح سکردو کے حلقہ جی بی اے 8 اور استور کے حلقہ جی بی اے 13 کے نتائج بھی تاحکمِ ثانی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ پوسٹل بیلٹس کی اسکروٹنی اور گنتی کا عمل بھی نہ کریں، اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • حلقہ این اے 251 میں انتخابی عذرداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    حلقہ این اے 251 میں انتخابی عذرداری کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 251 کی انتخابی عذرداری کیس میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے-

    یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا عدالت عظمیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں بلوچستان الیکشن ٹربیونل کی جانب سے 22 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ سید سمیع اللہ کی کامیابی کا 18 فروری 2024 کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریٹرننگ افسر نے فارم 48 تیار کرتے وقت فارم 45 کے نتائج میں دانستہ اور غیر قانونی تبدیلیاں کیں، عدا لت کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ خوشحال خان کاکڑ کے ہر پولنگ اسٹیشن سے 100 ووٹ کم کر کے مخالف امیدوار کے کھاتے میں ڈالے گئے پو لنگ اسٹیشن نمبر 343 پر خوشحال خان کاکڑ کے 100 ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار کے ووٹوں میں 200 ووٹوں کا اضافہ کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر فارم 45 کے نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو خوشحال خان کاکڑ 1863 ووٹوں کی واضح برتری سے کامیاب ہوتے۔

    سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی کہ نتائج میں تبدیلی انتخابی مینڈیٹ تبدیل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش تھی اور ریٹرننگ افسر کے پاس فارم 45 کے نتائج تبدیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن آئین کے تحت شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کا پابند ہے، جبکہ ووٹوں میں ردوبدل عوامی را ئے پر شب خون مارنے کے مترادف ہےانتخابی عملے کیجانب سے نتائج میں ردوبدل انتخابی قوانین کے تحت مجرمانہ کارروائی کے زمرے میں آتا ہے۔

  • گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق 7 جون 2026 کو گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی پولنگ کا دن مقرر کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو پاکستان گزٹ میں اشاعت کے لیے بھی بھجوا دیا گیا ہے، جس کے بعد انتخابی عمل کا باضابطہ آغاز تصور کیا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر راجا شاہ باز خان نے انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انتخابات الیکشنز ایکٹ 2017 اور جی بی آرڈر 2018 کے تحت منعقد کیے جائیں گے،تمام انتظامات متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔

  • ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے پی پی 167 سے کامیاب امیدوار ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    ملک شفیع کھوکھر پی پی 167 سے بلامقابلہ کامیاب ہوئے،پی پی 167 کی نشست عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی،عرفان شفیع کھوکھر کے بعد ان کے والد ملک شفیع کھوکھر الیکشن میں کھڑے ہوئے جبکہ دیگر امیدواروں نے کاغذات واپس لے لیے تھے۔

    واضح رہے کہ ملک شفیع کھوکھر ایم این اے ملک سیف المکوک کھوکھر اور افضل کھوکھر کے بڑے بھائی جبکہ صوبائی وزیر فیصل ایوب کے تایا بھی ہیں۔

  • نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

    قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی رکنیت بحال کی گئی ہے،سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار، چار اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی،سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک ایک رکن کی رکنیت بحال کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں،اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہےیہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں سینیٹ سے عابد شیر علی (پنجاب) ، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان) کی رکنیت بحال کی گئی-

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    قومی اسمبلی سے سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ کی رکنیت بحال کی گئی-

    پنجاب اسمبلی سے سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر کی رکنیت بحال کی گئی-

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    جبکہ سندھ اسمبلی سے آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کو مل کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی،علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سے فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نےاس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • گوشوارے جمع نہ کرانیوالے ارکان اسمبلی کو 16 جنوری تک الیکشن کمیشن کی آخری مہلت

    گوشوارے جمع نہ کرانیوالے ارکان اسمبلی کو 16 جنوری تک الیکشن کمیشن کی آخری مہلت

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کہا ہے کہ ڈیڈ لائن تک 446 اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی نے گوشوارے جمع نہیں کرائے ہیں اور16 جنوری 2026 تک گوشوارے جمع نہ کرانے والے اراکین کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ہر سال 31 دسمبر تک اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کی جانب سے اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد کے گوشوارے جمع کرانے لازمی ہوتے ہیں۔

    اعلامیے میں کہاگیا کہ انتخابی قانون 2017 کی شق 137 کے تحت 15 جنوری تک ان ارکان کو مہلت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے گوشوارے جمع کرائیں تاہم اس میں ناکام رہنے والے اراکین کی رکنیت 16 جنوری سے معطل کر دی جاتی ہے لیکن گوشوارے جمع کرانے پر ان کی رکنیت بحال کر دی جاتی ہے۔

    زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 21 ارب ڈالرز سے تجاوز

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سینیٹ کے 26، قومی اسمبلی کے 125، پنجاب اسمبلی کے 159، سندھ اسمبلی کے 62، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 48 اور بلوچستان اسمبلی کے 26 اراکین کی جانب سے ان کے اپنے اور زیر کفالت افراد کے مالی سال 25-2024 کے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع نہیں کرائے گئے ہیں لہٰذا 16 جنوری 2026 سے ان ارکان کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق 446اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں نے مالی گوشواروں کی تفصیلات تاحال جمع نہیں کرائی،سنیٹر طلحہ محمود،فیصل سلیم،قدوس بزنجو اورایمل ولی نے گوشواروں کی تفصیلات جمع نہیں کرائی،مریم اورنگزیب،عظمیٰ بخاری،حنا بٹ اور سلمہ بٹ نے بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

    جنرل (ر) فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق کا لائسنس معطل

    سکندر حیات، فرحت عباس اور جاوید کوثر کا نام اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والوں کی فہرست میں شامل ہے سندھ اسمبلی سے قائم علی شاہ،شرجیل میمن،سعید غنی نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں،خیبر پختونخوا سےشفیع جان ، اورنگزیب خان،زرعالم خان نے بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔

  • کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    الیکشن کمیشن نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے-

    الیکشن کمیشن نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے 24 دسمبر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 28 دسمبر 2025کو شیڈول بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گزشتہ روز سماعت کے بعد کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔

    کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات تاحکم ثانی ملتوی

    درخواست گزار عبدالقادر کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا تھا کہ کوئٹہ میں حلقہ بندیاں 2017 کی مردم شماری کے تحت ہوئی ہیں حالانکہ 2023 کی مردم شماری نوٹیفائی ہوچکی ہے لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں نئی مردم شماری کے مطابق ہونی چاہئیں،جس پر وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز بھی جاری کردیے ہیں۔

    برڈ فلو کے ایک اور کیس کی تصدیق ، لاکھوں مرغیاں تلف کرنیکا فیصلہ

  • گلگت بلتستان میں عام انتخابات 2026 کا شیڈول جاری کر دیا گیا

    گلگت بلتستان میں عام انتخابات 2026 کا شیڈول جاری کر دیا گیا

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے عام انتخابات 2026 کا شیڈول جاری کر دیا،جس کے مطابق پولنگ 24جنوری 2026کو ہو گی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی 15 سے 22 دسمبر تک جمع ہوں گے،امیدواروں کی ابتدائی فہرست 23 دسمبر کو جاری ہوگی،اسکروٹنی کی آخری تاریخ 30 دسمبر مقرر کی گئی ہے،اپیلیں دائر کرنے کی آخری تاریخ 3 جنوری 2026 ہوگی،اپیلٹ ٹربیونل 10 جنوری تک فیصلے سنائے گا،امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہر ست 11 جنوری کو جاری ہوگی،امیدوار دستبرداری اور حتمی فہرست 12 جنوری کو شائع ہوگی،انتخابی نشانات 13 جنوری کو الاٹ کیے جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن جی بی نے انتخابات 2026 کے لیے ڈی آر اوزکا تقرر بھی کر دیا،تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران تعینات کردئیے گئےگلگت میں امیر حمزہ ،اسکردو میں خورشید احمد،دیامر میں سہیل احمد خان اورغذر میں لقمان حکیم ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر ہوں گےاسی طرح منہاج علی راجہ استور ،نظام الدین ہنزہ اورمنحس حسین نگر میں ڈی آر او تعینات کئے گئے ہیں،گانچھے میں محمد اسحاق ،کھرمنگ میں محمد شریف ایڈیشنل سیشنز جج بطورڈی آر او ہوں گے شگر میں منظور حسین ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر تعینات کئے گئے ہیں-

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، منظم اور قانون کے مطابق ہوگا،تمام اضلاع میں انتخابی انتظامات مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔

  • ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی: الیکشن کمیشن نے طلال چوہدری کوطلب کر لیا

    ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی: الیکشن کمیشن نے طلال چوہدری کوطلب کر لیا

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کونوٹس جاری کرتے ہوئے 18 دسمبر کوطلب کرلیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹس میں مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ حلقہ این اے 96 کے ضمنی انتخاب میں حکومتی عہدیداروں کی جانب سے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی شکایات موصول ہوئیں، جن پرکارروائی ضروری ہے۔

    الیکشن کمیشن اسی کیس میں بلال چوہدری کو بھی طلب کر رہا ہے اوردونوں کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر اپنے مؤقف اورمتعلقہ ریکارڈ کے ساتھ پیش ہوں،کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضمنی انتخابات میں کسی قسم کی حکومتی مداخلت یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل ان کی اولین ترجیح ہے اور قوانین کیخلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی، کیس کی سماعت 18 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہوگی۔

    سندھ کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان

    ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل

    اوکاڑہ: غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف سول ڈیفنس کا کریک ڈاؤن، 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد