Baaghi TV

گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

gb

گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

More posts