Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد چودھری پر فرد جرم عائد

    توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد چودھری پر فرد جرم عائد

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کمیشن نے توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور فواد چوہدری پر فردِ جرم عائد کر دی۔

    کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل میں کی۔ الیکشن کمیشن ممبران میں شاہ محمود جتوئی، بابر حسین بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ شامل ہیں،الیکشن کمیشن کی جانب سے فردِ جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی، عمران خان، فواد چودھری عدالت میں موجود تھے،عمران خان اور فواد چوہدری نے صحت و جرم سے انکار کر دیا،کیس کی مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    چارج شیٹ کے مطابق عمران خان اور فواد چوہدری نے 2022ء میں الیکشن کمیشن کے خلاف منصوبہ بندی سے تضحیک آمیز مہم کا سلسلہ شروع کیا ملزمان نے ایک نہیں متعدد بار الیکشن کمیشن اور سربراہ کے خلاف متعصبانہ اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی، ملزمان نے 12جولائی 2022ء کو بھکر میں عوامی جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی ملزمان نے 18جولائی اور 27 جولائی کو عوامی جلسوں میں الیکشن کمیشن اور سربراہ پر من گھڑت الزامات عائد کیے،ملزمان نے 4 اگست اور 10 اگست 2022ء کو الیکشن کمیشن کو اسکینڈلائز کیا، عمران خان اور فواد چوہدری نے جلسوں میں آئینی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بنایا ،مطلوبہ شواہد، ویڈیوز اور دستاویزات کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا جائے ملزمان نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توہین کی سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے تحت الیکشن کمیشن ملزمان کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے.

    چارج میں ایسی کوئی چیز نہیں جس پر توہین ثابت ہو سکے، عمیر نیازی
    سابق وزیراعظم عمران خان کے ترجمان عمیر نیازی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو لندن معاہدے کے تحت الیکشن سے باہر رکھا جا رہا ہے، آج الیکشن کمیشن کو بتایا کہ عجلت کا معاملہ نہیں ہے، انہوں نے چارج شیٹ پڑھنا شروع کر دی، لیکن چارج میں ایسی کوئی چیز نہیں جس پر توہین ثابت ہو سکے، پی ٹی آئی نے دو صوبوں میں خود حکومتیں گرائیں تاکہ بروقت الیکشن ہو، الیکشن کمیشن انتخابات کرانے میں ناکام رہا.،الیکشن کمیشن کا فوکس الیکشن کروانے پر ہونا چاہے مگر وہ آج عمران خان صاحب پر فردِ جرم لگا کر چلے گئے، ہمیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں دی جا رہی، کاغذات مسترد کئے گئے اور ادھر فرد جرم عائد لگا دی،فرد جرم کو التوا میں‌ ڈالنا چاہئے تھا لیکن نہیں ڈالا گیا،

    ایڈووکیٹ علی بخاری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو بتایا کہ لیڈنگ کونسل شعیب شاہین سپریم کورٹ میں مصروف ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے سماعت ملتوی نہیں کی، دوسری درخواست الیکشن کمیشن کی جیل ٹرائل کے خلاف تھی جس کو ڈس مس کر دیا گیا، ہم چارج شیٹ کو چیلنج کریں گے

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کی گزشتہ تین سماعتوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان اور فواد پر فرد جرم عائد نہ کی جا سکی تھی،عمران خان نے اڈیالہ جیل میں توہین الیکشن کمیشن کیس کے ٹرائل کرنے کے اقدام کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی تا ہم عمران خان کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف فوری ریلیف نہ مل سکا،لاہور ہائیکورٹ نے فوری جیل ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کردی تھی،

    توہین الیکشن کمیشن،فواد چودھری کی معافیاں کام نہ آئیں، فردجرم عائد
    ایک سماعت میں فواد چودھری الیکشن کمیشن پیش ہوئے تھے اور توہین الیکشن کمیشن کیس میں معافی مانگ لی تھی ،فواد چودھری نے کہا کہ میں نے فیصلہ پڑھا تھا شاید زبان کے استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی،فواد چودھری نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں ایک اور تحریری معافی نامہ جمع کرادیا ، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس معافی نامے کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیتے ہیں،فواد چودھری نے کہا کہ میں اپنی جماعت کا سفیر تھا، میں ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میری معذرت قبول کریں ، شو کاز نوٹس واپس لے لیں، پارٹی ایک ادارہ ہے، میں انکا ترجمان تھا، ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میں قانونی کیسز میں نہیں پڑنا چاہتا،آپ کے لیے احترام ہے، اس وقت پارٹی کی پوزیشن تھی جو میں بیان کی، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین آپ سے قتل کروائیں تو آپ کریں گے، فواد چودھری نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پارٹی چئیرمین کو ئی غلط بات کرے تو مان لیں گے،آپ کی جماعت نے کمیشن اور میری ذات کے حوالے سے کیا کیا نہیں کہا، آپ نے الیکشن کمیشن کی توہین کی ،آپ کے چیئرمین نے میری اہلیہ کے بارے مین غلط الفاظ استعمال کیے،میری بیوی کے بارے میں اوپن جلسے میں کہا گیا، پھر میڈیا کے سامنے مکر بھی گئے ،فواد چودھری نےکہاکہ سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں کیا کیا کہا جا رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ماحول ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے، فواد چودھری نے کہا کہ میری معذرت قبول کریں اور کیس ڈراپ کریں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ تحریری معافی دے دیں، اگر آپ معافی لینا چاہتے ہیں، فواد نے کہا کہ میں نے زبانی معافی مانگ لی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 اگست کو عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزمات عائد کیے تھے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا آخری دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا تیسرا اور آخری دن ہے، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    فہمیدہ مرز کےمخصوص نشستوں پر بھی کاغذات نامزدگی مسترد،نااہل قرار
    گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنما ،سابق وفاقی وزیر و سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے مخصوص نشست پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا، الیکشن کمیشن نےفیصلےمیں کہا کہ فہمیدہ مرزا الیکشن کے لیے نا اہل قرار دی جاتی ہیں،فہمیدہ مرزا کے 2 ملین روپے کی نادہندہ ہونے کا اعتراض سعدیہ جاوید نے داخل کیا تھا،اسٹیٹ بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ فہمیدہ مرزا کی کمپنی نادہندہ ہے، وہ ذاتی طور پر نادہندہ نہیں. فہمیدہ مرزا پر آئین کےآرٹیکل 63 ون این کا اطلاق ہوتا ہے

    پیپلز پارٹی کے حلقہ این اے 56 سے امیدوار میاں خرم رسول کی اپیل سماعت کیلئے منظور
    ریٹرننگ آفیسر نے بنک ڈیفالٹر اور نیب کیس سزا کی بنیاد کاغزات نامزدگی مسترد کئے تھے،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس مرزا وقاص رؤف نے اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیپلز پارٹی امیدوار کی سزا معطل ضمانت پر رہائی ہوچکی ۔امیدوار کسی مالیاتی ادارہ کا ڈیفالٹر نہیں ہے۔ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے ۔الیکشن ٹربیونل نے 6 جنوری کو ریٹرننگ آفیسر سے جواب اور ریکارڈ طلب کر لیا

    تحریک انصاف کے 2620 امیدوار،1996 کاغذات نامزدگی منظور،624 مسترد ہوئے
    تحریک انصاف کا ایک اورجھوٹ بےنقاب، صحافی وقار ستی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور اورصوبائی اسمبلیوں سے تحریک انصاف کےکل 2620امیدوارنےکاغذات نامزدگی جمع کروائےان میں سے1996امیدواروں کےکاغذات نامزدگی منظور جبکہ 624 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے۔جو76اشاریہ18فیصد ہے۔کئی دنوں سےشورتھاکہ80فیصد لوگوں کےکاغذات مستردکر دیےگئےہیں۔

    تحریک انصاف کے بلوچستان میں قومی اسمبلی کے لئے 39 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے جس میں سے17کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 22 کے منظور کیے گئے،بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کے لئے 90 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے، جس میں سے 37 منظور جبکہ 53 مسترد ہوئے ہیں

    تحریک انصاف کے پنجاب اور اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے لئے 389 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے،جن میں سے 127کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 262 منظور ہوئے،پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لئے تحریک انصاف کے 769 امیدواروں میں سے 601 کے کاغذات منظور جبکہ 168 کے مسترد کئے گئے،تحریک انصاف کے سندھ میں قومی اسمبلی کے لئے 181 امیدواروں میں سے 46 کے کاغذات نامزدگی مسترد اور 135 کے منظور کیے گئے،سندھ کی صوبائی اسمبلی کے لئے 423 امیدواروں میں‌سے 346 کے منظور اور77 کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے، خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے234 میں سے 55 امیدواروں کے کاغذات مسترد اور 179 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے،کے پی کی صوبائی اسمبلی کے لئے 495 امیدواروں میں سے 414 کے کاغذات منظور جبکہ 81 کے مسترد ہوئے ہیں.

    عمران خان کے میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل دائرکر دی گئی،اپیل کو 160/24 نمبر لگا دیا گیا۔ اپیل کی سماعت کل جسٹس چوہدری عبدالعزیز لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کریں گے۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی 1 نشست سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی۔

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری انتخابات کی دوڑ سے باہر
    قاسم سوری کی جانب سے آر اوز کے فیصلے کے خلاف ایپلٹ ٹربیونل میں درخواست جمع نہیں کرائی گئی،ایپلٹ ٹربیونل میں آج اپیل دائر کرانے کا آخری روز تھا،شام چار بجے تک پی ٹی آئی کی جانب سے قاسم سوری سے متعلق کوئی درخواست دائر نہیں ہوئی،قاسم سوری نے این اے 263پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے،جانچ پڑتال کے دوران آر اوز کی جانب سے انکے کاغذات مسترد کئے گئے تھے،قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے 2018 کے انتخابات میں قاسم سوری کامیاب ہوئے تھے،سال 2018 کے انتخاب میں پی کے میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی ان کے مدمقابل تھے

    مریم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل ٹریبونل میں دائر
    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے کاغذات کی منظوری کے خلاف ندیم شیروانی نے اپیل دائر کی ،اپیل میں این اے 119 کے ریٹرننگ افسر کو فریق بنایا گیا ،مؤقف اختیار کیا گیا کہ مریم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ،مریم نواز نے کاغذات میں درست حقائق بیان نہیں کیے ،اپیلیٹ ٹریبونل مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظوری کو کالعدم قرار دیا جائے.

    اشتہاری ملزم نے سرنڈر نہ کیا ہو تو اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟ ہائیکورٹ
    راولپنڈی ۔کاغذات نامزدگی مسترد خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی،ٹی ایل پی،پی پی سمیت کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ہم نے آئیں اور قانون کو دیکھنا ہے میرٹ پر چلیں گے۔اشتہاری ملزم ہو اور عدالت میں سرنڈر بھی نا کیا ہو۔اسے پارلیمنٹ جانے کی اجازت کیوں دیں؟کوئی سزا یافتہ ہے یا نہیں؟مگر اشتہاری ہے اور عدالت بھی پیش نہیں ہوا وہ نااہل ہوگا۔الیکشن ٹربیونل نے این اے 60 سے تحریک لبیک کے اشفاق اور این اے 89 میانوالی سے عامر خان کی اپیلیں خارج کر دیں،،الیکشن ٹربیونل جج چودہری عبدالعزیز نے فیصلہ سنا دیا

    کوئٹہ،آر او کے فیصلے کالعدم، متعدد امیدواروں کو الیکشن لڑنے کی ملی اجازت
    کوئٹہ؛ اپیلیٹ کورٹ میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے درخواستوں پر سماعت کی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 44 سے آزاد امیدوار سردار خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 42 آزاد امیدوار جمعہ خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی بی 49 سے پی ٹی آئی امیدوار سید عبدالحئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ میپ کے امیدوار علی پراچہ کی اپیل پر سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کو ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے امیدوار علی پراچہ کے کاغذات پی بی 42 سے مسترد ہوئے تھے،

    ریٹرننگ افیسران کے فیصلوں پر ٹربیونل نے اظہار برہمی کیا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جمہوریت میں ایسے فیصلے نہیں کئے جاتے، سیکوٹنی کے لئے اس ہی لئے وقت دیا جاتا کہ آر اوز چیزیں مکمل کرسکے،ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ہدایت کی کہ فوری طور پر متعلقہ آر او کو طلب کریں، حلقہ پی بی 41 سے مولانا محمد ایوب ایوبی کے کاغذات نامزدگی فارم منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،پی بی 42 سے اسلم رند ، پی بی 40 سے دوست محمد ،پی بی 39 سے عالمگیر خان ، پی بی 40 سے آزاد امیدوار خادم حسین کو انتخاب لڑنے کی اجازت مل گئی،جمعیت علماءاسلام کے امیدوار میر ظفر زہری کے 2 اپیلوں پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دئے گئے،میر ظفر زہری نے بی پی 18 اور پی بی 35 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل دائر کی تھی، بی پی 16 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار فائق جمالی کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیئے گئے،بی پی 36 سے بی اے پی کے امیدوار روبینہ عرفان کی اپیل پر فریقین کو کل کےلئے نوٹس جاری کر دیا گیا، این اے 266 سے پی ٹی آئی کے امیدوار عصمت اللہ کی کاغذات نامزدگی منظور،الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،این اے 263 سے بی این پی کے امیدوار میر مقبول لہڑی کی کاغذات نامزدگی منظور، الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،

    این اے 130، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور ہونےکیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
    این اے 130 ، نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی،اپیلیٹ ٹریبونل نے رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کردیا ،اپیلیٹ ٹریبونل نے اپیل پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ،ایپلیٹ ٹریبونل نے ریٹرنگ افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ،نواز شریف کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے خلاف اشتیاق احمد نے اپیل دائر کی ،اپیلیٹ ٹریبونل کے جسٹس رسال حسن سید نے اپیل پر سماعت کی.

    عمران خان کے وکیل کے کاغذات مسترد ہونے پر نوٹس جاری
    ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی،ٹربیونل نے ریٹرننگ آفیسر کو نوٹس جاری کر دئیے،جسٹس راحیل کامران نے بطور ایپلٹ ٹربیونل سماعت کی ،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،استدعا

    این اے 89،90،بیرسٹر عمیر نیازی کے کاغذات مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں قائم الیکشن ٹربیونل جسٹس چوہدری عبد العزیز نے ریٹرننگ افسران کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی کے این اے 89 اور 90 میانوالی سے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے،جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی آر اوز نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر کاغذات کیوں مسترد کئے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ، الیکشن اپلیٹ ٹریبیونل کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی اپیل پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے خلاف مقدمہ درج ہے مگر مجھے معلوم نہیں، عدالت نے پیپلز پارٹی امیدوار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے مقدمے کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر کیا؟ وکیل نے کہا کہ یہ چوری کا کوئی گمنام مقدمہ ہے جس کا میرے سے کوئی تعلق نہیں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف امیدوار محمد امجد کی اپیل پر سماعت ہوئی ،وکیل نے کہا کہ میرے کاغذاتِ نامزدگی انکم ٹیکس کی وجہ سے مسترد ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ریٹرننگ افسر کے پاس ٹیکس ریٹرن کے حوالے سے اختیارات ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس اس طرح کا کوئی اختیار نہیں،ریٹرننگ افسر کا کام صرف کاغذات کی جانچ پڑتال کرنا ہے، وکیل درخواست گزار

    کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف فرزند حسین شاہ کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ لینڈ لائن کا 8 ہزار کا بل تھا جو جمع نہیں تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے، عدالت نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس تو یہ اختیار ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات کو خود کلئیر کریں،

    کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف جمشید محبوب کی اپیل پر سماعت ہوئی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دو گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے خلاف دو مقدمات درج تھے جن کا ہمیں پتہ نہیں تھا، اس وقت ہم دونوں مقدمات میں ضمانت پر ہیں،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف محمد رفیق کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹیکس ڈیمانڈ اور لینڈ لائن بل کا معاملہ تھا جس پر کاغذات مسترد ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے تینوں حلقوں سے یہی اعتراض ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی تینوں حلقوں میں بل اور ٹیکس ڈیمانڈ کا اعتراض ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف چوہدری واجد ایوب کی اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے پر بجلی بل جمع نہ کرنے کا اعتراض ہے،بجلی بل جمع کرایا، اور ٹیکس بھی جمع ہے، وکیل درخواست گزار

    امیدوار چوہدری آصف کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میری پراپرٹی تھی جو میں فروخت کرچکا ہوں، جس پراپرٹی کو بیچ چکا اسی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردئیے گئے،

    ملک نوید اعوان کا کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کا اعتراض یہ ہے کہ میں متعلقہ حلقے کا ووٹر نہیں،حالانکہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے خود مجھے این اے 48 کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا ہے،

    ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلوں پر الیکشن کمیشن کو نوٹسسز جاری کر دیئے گئے،اپلیٹ ٹریبیونل نےا الیکشن کمیشن کو آر آوز سے ریکارڈ اور پیراوائز کمنٹس جمع کرنے کی ہدایت کر دی،عدالت نے تمام اپیلوں پر سماعت 5 جنوری تک کے لئے ملتوی کردی

    شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیل پر فیصلہ محفوظ
    اسلام آباد:الیکشن ٹریبونل،پی ٹی آئی رہنما ایڈوکیٹ شعیب شاہین کے نامزدگی فارم مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹربیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ ریٹرنگ افسر نے آپ کو سنا نہیں ؟ شعیب شاہین نے کہا کہ میں نے میڈیا کی موجودگی میں کہا مجھ پر کوئی اعتراض ہے تو بتائیں ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کیا ریٹرنگ افسر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ امیدوار کو مناسب وقت دے گا ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے اپنی پچھلے 3 سال کی ٹیکس ریٹرن میں اپنے آپ کو پراپرٹی کا آنر ظاہر کیا ، عدالت نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں کوئی ایسی شق نہیں ہے ؟؟ جس میں آر او امیدوار کو وقت دے؟کوئی ایسی ججمنٹ ہے آرٹیکل 63 کے حوالے سے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نثار کھوڑو اور عمران نیازی کی ججمنٹ پر انحصار کر رہے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ 29 اور 30 دسمبر سکروٹنی کی آخرج تاریخ تھی؟ سیکورٹی کے اس سارے عمل سے کیا تعلق ؟شعیب شاہین نے کہا کہ 30 کو جب سکروٹنی کے لیے گیا تو تینوں آر اوز نے کہا کہ آپ کے خلاف کچھ نہیں ہے، مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس نہیں آیا ،عدالت نے کہا کہ ہم نے آپ کو سن لیا،وکیل الیکشن کمیشن ثمن مامون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر درخواست گزار کو ٹیکس ریٹرن یا دیگر بقایاجات کا نہیں پتہ تو کاغذاتِ نامزدگی مسترد نہیں ہوگی، اگر چھ ماہ سے زائد کے بقایاجات اگر جمع نہیں تو پھر کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہوگی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کے فارم میں موجود ہیں؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کاغذات نامزدگی سے متعلق تمام چیزیں فارم 17 میں موجود ہیں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا آپکو پتہ ہے ؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کا مجھے علم ہے مگر میں یہاں اس پر دلائل نہیں دونگی، درخواست گزار نے تین سالوں سے اس پراپرٹی کو اپنی ملکیت ظاہر کردی، درخواست گزار خود کہہ رہے ہیں کہ میں نے خود چیک کیا اور کہا کہ مجھے پتہ تھا،اب اگر کوئی تین سالوں تک ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کریں گے تو یہ انکا مسئلہ ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن ایکٹ میں ایسا کوئی قانون ہے کہ ریٹرننگ افسر درخواست گزار کو بقایاجات کلئیر کرنے کے لیے وقت دیں؟ آپ کے پاس آرٹیکل 62 ون ایف کے حوالے سے کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے؟ یعنی ہم یہ کہیں کہ درخواست گزار کو پتہ تھا کہ وہ ٹیکس نادہندہ ہے؟ عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل دینے والے عدالتی فیصلوں کو جمع کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی بقایاجات نہ ہو تو اس پر آپ کے کیا دلائل ہونگے؟ شعیب شاہین نے کہا کہ کہ مجھے ڈیفالٹ کا کوئی نوٹس آیا اور نہ ہی میں ڈیفالٹر ہوں، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت کی کہ جمعہ کو آپ ججمنٹس کے ساتھ آئیے گا ، شعیب شاہین کے حلقہ این اے 46 47 48 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوں گے یا نہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، جسٹس ارباب محمد طاہر فیصلہ سنائیں گے.

    اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟جسٹس ارباب محمد طاہر
    پی ٹی آئی رہنما سید ظفر علی شاہ کی درخواست پر سماعت ہوئی،سید ظفر علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ خود الیکشن لڑ رہے ہیں ؟سید ظفرعلی شاہ نے کہا کہ جی میں خود لڑ رہا ہوں، پوچھا گیا کس جماعت سے تعلق ہے، واضح لکھا ہے کہ پی ٹی آئی سے ہوں، عدالت نے کہا کہ آپ کے خلاف ایک گاڑی کے حوالے سے اعتراض ہے، سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ گاڑی میں نے 3 سال پہلے بیچ دی تھی ، عدالت نے کہا کہ آپ کوئی ایفیڈیوٹ یا ٹرانسفر لیٹر جمع کروائیں ،جمعہ کے لیے نوٹس کردیتے ہیں،جمعہ کو اس کیس کو میرٹ پر سنیں گے ،جن امیدواروں کے بلز یا دیگر ادائیگیاں نہیں ہوئیں ریٹرننگ افسر اُنہیں اعتراض دور کرنے کیلئے وقت دینے کا مجاز تھا. اختیار ہونے کے باوجود اعتراضات دور کرنے کیلئے وقت کیوں نہیں دیا گیا؟

    این اے 122، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کی اپیل دائر
    این اے 122 سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ،عمران خان نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ،اپیل میں‌مؤقف اپنایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ٹریبونل ریٹرنگ آفیسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کرے .

    الیکشن ٹریبونل نے این اے 214 سے تحریک انصاف کے امیدوار شاہ محمود قریشی اورزین قریشی کی اپیل پر الیکشن کمیشن،آر او اور دیگر سےجواب طلب کرلیا ،ٹریبونل نے این اے 238 سے پی ٹی آئی امیدوارحلیم عادل شیخ، این اے 241 پیپلزپارٹی امیدوارمرزا اختیار بیگ اور این اے 234 سے ایم کیو ایم امیدوار صادق افتخارکی اپیل پربھی ریٹرننگ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ،این اے 241 سے پی ٹی آئی امیدوار ارسلان خالد کی اپیل پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا ہے جب کہ الیکشن ٹریبونلز نے الیکشن کمیشن اور دیگر سے 5 جنوری تک جواب طلب کرلیا ،

    ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں قائم الیکشن ٹربیونل میں اپیلیں دائر کرنے کا آج آخری دن،بیشتر امیدواروں کی پہلے ہی سے اپیلیں دائر ہیں جن پر آج اور کئی کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ،شیخ رشید کے این اے 56/57 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی کی اپیل پر سماعت آج الیکشن ٹریبونل راولپنڈی میں ہوگی۔اسسٹنٹ ڈاِئریکٹر الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز عمیر نیازی سے متعلق ریکارڈ پیش کرنے کی آج تک کیلئے مہلت مانگی تھی ۔اٹک سے میجر طاہر صادق اور ایمان طاہر کی اپیلوں پر سماعت الیکشن ٹربیونل میں کل 4 جنوری کو ہوگی ۔سابق وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ کے این اے 55 سے کاغذات مسترد کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت کل 4 جنوری کو ہوگی ۔پی ٹی آئی سابق ایم پی اے راجہ راشد حفیظ اور پیپلز پارٹی کے بابر جدون کی اپیلوں پر کل 4 جنوری کو سماعت ہوگی ۔پی ٹی آئی کے تین امیدواروں کی اپیلوں پر سماعت کل چار جنوری کو ہوگی ۔اپیلیں دائر کرنے والوں میں این اے 55 اور پی پی 15 سے امیدوار زیاد خلیق، ایرج شاہنواز، انعم زاہد شامل ہیں،چوہدری پرویز الٰہی نے بھی الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کے منظور یا نامنظور ہونے بارے آج فیصلہ ہوگا ۔

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین سے ملاقات اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہوئی،ٹکٹوں کے معاملہ پر ابتدائی مشاورت ہوئی ہے،دو دن کی مشاورت کے بعد پراسس مکمل ہو جائے گا اور ٹکٹ فائنل کرلیں گے

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن اہم پراسس ہے فری فیئر پراسس میں جماعتوں کی شمولیت ضروری ہے ،ہمارے زیادہ تر امیدوروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،8فروری کو ہمارے مخالفین کو شکست اور جیت پی ٹی ائی کی ہو گی ،سپریم کورٹ نے ابزرویشن دی کہ الیکشن 8فروری کو ہوں گے ،عدلیہ سے درخواست ہے کہ آپ ہی کا رول ہے ایک پارٹی کو سنگل آوٹ کرکےنکالا جائے گا تو جمہوریت کا نقصان ہو گا اکانومی ڈوب جائے گی،سابق چیئرمین کی مشاورت سے کہا جن لوگوں نے پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کی ان کو ٹکٹوں پر غور نہیں کیا جائے گا،کسی صورت الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے،ہم انڈر 18اور انڈر 19ٹیم کے ساتھ بھی لڑیں گے،انکو کھلا گراونڈ نہیں دیں گے ،سپریم کورٹ میں درخواست دے چکے،درخواست کی کہ لیول پلینگ فیلڈ دی جائے،یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے،اگر کاغذات چھین لئے جائیں،لوگوں کو روکا گیا

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مولانا کی پارٹی ملک کی پارٹی نہیں انکی جماعت کے پی اور بلوچستان تک ہے،انکی سیٹیں پنجاب اور سندھ میں نہیں ہوتیں،ہمارا کوئی موقف نہیں کہ الیکشن کسی صورت ملتوی ہوں،دعا ہے الیکشن خوش اسلوبی سے ہوں،پرامن ہوں،سسٹم پر اعتماد نہیں بھی ہے تو ہونا ہے،کیونکہ ہم نے الیکشن لڑنا ہے ،ہمارے پاس 70فیصد پاپولیرٹی ہے،جو حکومت ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں بن کر آتی ہے وہ کیسے ڈیلیور کر سکتی ہے،ہارس ٹریڈنگ سے بنی حکومت کبھی بھی ملک کو استحکام نہیں دے سکتی ،جہانگیر ترین کا وکیل انگیج کرکے پشاور ہائیکورٹ لے گئے،الیکشن کمیشن کو کہتے ہیں فری اور فیئر الیکشن کرانا آپکی ذمہ داری ہے،ایسی صورت حال میں الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن بعد میں کیا ہو گا،ہماری درخواست ہے کہ ہمیں کامن انتخابی نشان دے دیں،ہمارے سارے امیدوار آزاد نہیں ہونے چاہیئں، بلے کے علاوہ کوئی نشان ملتا ہے تو لیں گے لیکن بائیکاٹ نہیں کریں گے ،نگران سیٹ اپ سے کوئی مطمئن نہیں ہے،

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے پی کے 91 میں انتخابی عمل میں تعطل کے معاملے پر مذکورہ حلقے کے لیے نظرِ ثانی پروگرام جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے آرڈر 27دسمبر 2023 کی وجہ سے حلقہ PK-91 میں انتخابی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔آج معزز عدالت عظمٰی نے پشاور ہائیکورٹ کے الیکشن کے عمل کی معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے لہذا الیکشن کمیشن نے درج ذیل نظر ثانی شیڈول جاری کیا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کاآخری دن 5جنوری 2024 ہے،کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 9جنوری 2024 ہے، اپیلٹ ٹربیونل کی طرف سے اپیلوں پر فیصلے کی آخری تاریخ 16 جنوری 2024 ہے،امیدواروں کی Revised Listکی اشاعت 17جنوری 2024 ہے، کاغذات نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ 18جنوری2024 ہے، امیدواروں کی انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کی تاریخ 19جنوری 2024 ہے ۔تمام امیدواران حلقہ PK-91 مذکورہ بالا الیکشن پروگرام سے مطع رہیں

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    رپورٹ محمداویس، اسلام آباد

  • مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں  چیف جسٹس

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں کوہاٹ پی کے 91 ریٹرننگ افسران معطل کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں ،جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں ،ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا،پشاور ہائی کورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کنیسل کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائیکورٹ میں ریٹرنگ افسر تبدیلی کی پٹیشن فائل کرنے والے پٹشنر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں نوٹس کئے بغیر ہی اپوائٹمنٹ کنسیل کر دی،پشاور ہائی کورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ،سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن کو سنے بغیر کیسے عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے، کیا آپ چاہتے ہیں پورا الیکشن ہی رک جائے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا؟ بلاوجہ کی درخواستیں کیوں دائر کی جا رہی ہیں،ابھی آرڈر کر دیتے ہیں ریٹرننگ آفیسرز سکروٹنی جاری رکھے، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظورکر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی تھی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا دوسرا دن ہےکاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 132، شہبا ز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 132 سے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج کر دی گئی،
    شاہد اورکزئی کی جانب سے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں، شہباز شریف نے ہی ورکرز کے ذریعے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا، قانون کے مطابق انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شاہد اورکزئی نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور ٹریبونل تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے ووٹ منسوخ کرنے کا حکم دے.

    پی ٹی آئی رہنما عاطف خان، محمود جان، شہرام ترکئی، افتخار مشوانی اور عبدالسلام آفریدی سمیت 50 امیدواروں کی کاغذات نامزدگی مسترد یا منظوری کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لی گئیں،الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس شکیل 4 جنوری سے سماعت کرینگے

    ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی،ظفر علی شاہ، سہیل احمد ودیگر کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں سماعت کیلیے مقرر
    اسلام آباد کے حلقوں این اے 46,47,48 سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی کی اپیل کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ظفر علی شاہ اور سہیل احمد کی اپیلیں بھی کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئیں،پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی ریٹرننگ آفسر کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر کل اپیلوں پر سماعت کریں گے

    کوئٹہ،پی بی 42سے عبدالخالق ہزارہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی،آر او نے کاغذات نامزدگی کے بینک اسٹیٹمنٹ نہ لگانے کااعتراض کیاتھا

    زرتاج گل وزیر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ملتوی کر دی گئی،آر پی او ڈیرہ غازی خان اور اینٹی کرپشن سے رپورٹ طلب کرلی اگلی سماعت 4 جنوری کو ہوگی

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کے وکیل نے کی اپیل دائر
    ‏ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ لاہور ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،

    کاغذات نامزدگی منظوری اور منسوخی کیخلاف الیکشن ایپلٹ ٹربیونل میں اپیلیں دائر ہونے کا سلسلہ جاری ہے،این اے 99 اور پی پی 107 کے امیدوار عمر فاروق نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائرکر دی، اپیل میں مؤقف اپنایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے امیدوار ہوں،ریٹرننگ آفیسر نے سیاسی بنیادوں پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ریٹرننگ نے امیدوار کے موجود نہ ہونے پر کاغذات مسترد کیے،دستخط شناختی کارڈ کے مطابق نہ ہونے کا الزام لگایا،کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی تصدیق شدہ نہ ہونے کا الزام لگایا،ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں،تمام الزامات کے تحریری ثبوت درخواست کے سات منسلک کر دئیے ہیں،عدالت ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے الزام کو کالعدم قرار دے،

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف شعیب شاہین کی درخواست پر نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ ، الیکشن ٹربیونل ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کی اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے الیکشن کمیشن کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دئیے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے آپ نے ایک پراپرٹی کا ٹیکس جمع نہیں کرایا ؟65 ہزار روپے ٹیکس آپ کے ذمہ تھا ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پراپرٹی میرے نام ابھی ٹرانسفر نہیں ہوئی ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے سماعت کل تک ملتوی کردی ،شعیب شاہین کے اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی نشستوں سے کاغذات مسترد ہوئے ہیں

    این اے 236،پی ٹی آئی امیدوار عالمگیر خان نے ریٹرننگ افسر کے خلاف اپیل دائر کردی،ریٹرننگ افسر نے عالمگیر کے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

    این اے 112، رانا جمیل نے اپیل دائر کر دی
    پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا معاملہ ،پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ، اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی کا امیدوار ہوں.کاغذات نامزدگی پر کسی نے اعتراض عائد نہیں کیا ،ریٹرنگ آفیسر نے خود سے کاغذات نامزدگی میں اعتراضات عائد کر کہ کاغذات نامزدگی مسترد کردیے،ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں،

    این اے 47، نیازاللہ نیازی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل دائر کر دی
    تحریک انصاف کے رہنما نیاز اللہ نیازی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،نیاز اللہ نیازی نے این اے 47سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کا فیصلہ ایپلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کردیا ،نیاز اللہ نیازی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغزات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کردی ،نیاز اللہ نیازی کے این اے 47 اسلام آباد سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی دور حکومت میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد تعینات رہ چکے ہیں

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    پشاور: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس،الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز خان نے اپیل پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند نے دلائل دیئے، الیکشن کمیشن وکیل نے جسٹس کامران حیات کا فیصلہ عدالت میں پڑھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چھٹیوں کے دوران اس عدالت کے جج نے فیصلہ معطل کیا، پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کا انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،ہائیکورٹ کا فیصلہ یکطرفہ کارروائی ہے، الیکشن کمیشن کو نہیں سنا گیا، الیکشن کمیشن کیس کا بنیادی فریق ہے، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سنا جو صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں،

    جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی ایسا آرڈر دیا کہ کیا ایک ہائیکورٹ کا حکم پورے ملک کیلئے ہوتا ہے، اخبار میں پڑھا تھا، کیا ایسے کوئی حکم ہے بھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل سپریم کورٹ نے آر اوز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا تھا، پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ یکطرفہ کارروائی کے تحت فیصلہ معطل کیا گیا، دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیس میں اصل درخواستگزار کہاں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھ ےمعلوم نہیں، شاید وہ خود پیش نہیں ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نہیں کہہ رہا ہے کہ کوئی فیصلہ دیا جائے، صرف معطلی کا فیصلہ واپس لیا جائے، کیس پر پھر ڈویژن بنچ کے سامنے دلائل دینگے، 9 جنوری تک معطلی کا واپس لیا جائے،ڈویژن بینچ قائم کیا جائے تاکہ کیس کی سماعت صحیح طریقے سے ہو سکے، دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے

    ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے، ہماری نگراں صوبائی حکومت ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں اس کیس سے نکالا جائے، اگر ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو پھر عدالت کی معاونت کریں گے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا بھی یہی مؤقف ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہمارا بھی یہی مؤقف ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ صرف صوبے تک فیصلہ کر سکتی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہوئے ہیں،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

  • ریٹرننگ افسران کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے ویب سائٹ پر جاری کریں ،فافن

    ریٹرننگ افسران کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے ویب سائٹ پر جاری کریں ،فافن

    اسلام آباد: فافن نے الیکشن کمیشن سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے متعلق فیصلے پبلک کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹرننگ افسران امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے متعلق فیصلے ویب سائٹ پر جاری کریں تفصیلی فیصلوں کا اجراکاغذات مسترد کرنے کی وجوہات جاننے کیلئے ضروری ہے۔

    فافن نے کہا ہے کہ ریٹرننگ افسران ایک مخصوص ضابطے کے تحت ہی کاغذات مسترد کرسکتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن ضوابط کے خلاف کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپنے اختیارات کے استعمال کا حق رکھتا ہے،الیکشن 2024 میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی شرح 12.4 فیصد رہی ہے جو 2018ء میں 10.4 جبکہ 2013ء میں 14.6 فیصد تھی الیکشن کمیشن امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات اور مسترد کرنے کے حوالے سے ریٹرننگ افسران کے فیصلے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے یہ اقدام انتخابی عمل کی شفافیت کو تقویت دے گا۔

    ادارہ شماریات نے مہنگائی کے نئےاعداد و شمار جاری کر دیئے

    پنجاب کو فنڈ کی ضرورت نہیں یہ کماؤ پتر ہے،نگران وزیراعظم

    نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں،نیب نے عدالت سے رجوع کر …

  • پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان دیےجانے کا معاملہ،پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل کی سماعت ڈویژن بینج سےکرانےکیلئے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقررکر دی گئی

    جسٹس اعجاز خان کل درخواست کی سماعت کریں گے ،الیکشن کمیشن نے پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے ،الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل کی سماعت ہائیکورٹ کےڈویژن بینج سے کرانے کی درخواست بھی دائر کی ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ میں دو الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، ایک درخواست تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق ہے جس میں الیکشن کمیشن نے عدالت سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے،الیکشن کمیشن نے ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ چھٹیوں کے دوران ہی ڈویژنل بینچ بناکر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیاجائے

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

  • انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

    letter

    الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
    قومی میڈیا میں پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز شامل ہیں،جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری اور سیکورٹی کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا،ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا،کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہو گا جو کسی امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد پر زاتی حملہ ہو، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہو گی،ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی،پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا، امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے،قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی،ووٹرز کی اگہی کے پروگرام چلائے جائیں گے ، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی،الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو،صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائیں گی،میڈیا نمائندگان گنتی کا بغیر کیمرا کے مشاہدہ کریں گے،میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا،نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا میڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش