Baaghi TV

Tag: الیکشن کمیشن

  • ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین سے ملاقات اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہوئی،ٹکٹوں کے معاملہ پر ابتدائی مشاورت ہوئی ہے،دو دن کی مشاورت کے بعد پراسس مکمل ہو جائے گا اور ٹکٹ فائنل کرلیں گے

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن اہم پراسس ہے فری فیئر پراسس میں جماعتوں کی شمولیت ضروری ہے ،ہمارے زیادہ تر امیدوروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،8فروری کو ہمارے مخالفین کو شکست اور جیت پی ٹی ائی کی ہو گی ،سپریم کورٹ نے ابزرویشن دی کہ الیکشن 8فروری کو ہوں گے ،عدلیہ سے درخواست ہے کہ آپ ہی کا رول ہے ایک پارٹی کو سنگل آوٹ کرکےنکالا جائے گا تو جمہوریت کا نقصان ہو گا اکانومی ڈوب جائے گی،سابق چیئرمین کی مشاورت سے کہا جن لوگوں نے پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کی ان کو ٹکٹوں پر غور نہیں کیا جائے گا،کسی صورت الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے،ہم انڈر 18اور انڈر 19ٹیم کے ساتھ بھی لڑیں گے،انکو کھلا گراونڈ نہیں دیں گے ،سپریم کورٹ میں درخواست دے چکے،درخواست کی کہ لیول پلینگ فیلڈ دی جائے،یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے،اگر کاغذات چھین لئے جائیں،لوگوں کو روکا گیا

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مولانا کی پارٹی ملک کی پارٹی نہیں انکی جماعت کے پی اور بلوچستان تک ہے،انکی سیٹیں پنجاب اور سندھ میں نہیں ہوتیں،ہمارا کوئی موقف نہیں کہ الیکشن کسی صورت ملتوی ہوں،دعا ہے الیکشن خوش اسلوبی سے ہوں،پرامن ہوں،سسٹم پر اعتماد نہیں بھی ہے تو ہونا ہے،کیونکہ ہم نے الیکشن لڑنا ہے ،ہمارے پاس 70فیصد پاپولیرٹی ہے،جو حکومت ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں بن کر آتی ہے وہ کیسے ڈیلیور کر سکتی ہے،ہارس ٹریڈنگ سے بنی حکومت کبھی بھی ملک کو استحکام نہیں دے سکتی ،جہانگیر ترین کا وکیل انگیج کرکے پشاور ہائیکورٹ لے گئے،الیکشن کمیشن کو کہتے ہیں فری اور فیئر الیکشن کرانا آپکی ذمہ داری ہے،ایسی صورت حال میں الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن بعد میں کیا ہو گا،ہماری درخواست ہے کہ ہمیں کامن انتخابی نشان دے دیں،ہمارے سارے امیدوار آزاد نہیں ہونے چاہیئں، بلے کے علاوہ کوئی نشان ملتا ہے تو لیں گے لیکن بائیکاٹ نہیں کریں گے ،نگران سیٹ اپ سے کوئی مطمئن نہیں ہے،

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    پی کے 91،الیکشن کمیشن کا نظر ثانی شیڈول جاری

    الیکشن کمیشن نے پی کے 91 میں انتخابی عمل میں تعطل کے معاملے پر مذکورہ حلقے کے لیے نظرِ ثانی پروگرام جاری کر دیا ہے

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے آرڈر 27دسمبر 2023 کی وجہ سے حلقہ PK-91 میں انتخابی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔آج معزز عدالت عظمٰی نے پشاور ہائیکورٹ کے الیکشن کے عمل کی معطلی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے لہذا الیکشن کمیشن نے درج ذیل نظر ثانی شیڈول جاری کیا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کاآخری دن 5جنوری 2024 ہے،کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آخری تاریخ 9جنوری 2024 ہے، اپیلٹ ٹربیونل کی طرف سے اپیلوں پر فیصلے کی آخری تاریخ 16 جنوری 2024 ہے،امیدواروں کی Revised Listکی اشاعت 17جنوری 2024 ہے، کاغذات نامزدگی کی واپسی کی آخری تاریخ 18جنوری2024 ہے، امیدواروں کی انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کی تاریخ 19جنوری 2024 ہے ۔تمام امیدواران حلقہ PK-91 مذکورہ بالا الیکشن پروگرام سے مطع رہیں

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    رپورٹ محمداویس، اسلام آباد

  • مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں  چیف جسٹس

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں کوہاٹ پی کے 91 ریٹرننگ افسران معطل کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں ،جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں ،ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا،پشاور ہائی کورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کنیسل کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائیکورٹ میں ریٹرنگ افسر تبدیلی کی پٹیشن فائل کرنے والے پٹشنر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں نوٹس کئے بغیر ہی اپوائٹمنٹ کنسیل کر دی،پشاور ہائی کورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ،سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن کو سنے بغیر کیسے عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے، کیا آپ چاہتے ہیں پورا الیکشن ہی رک جائے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا؟ بلاوجہ کی درخواستیں کیوں دائر کی جا رہی ہیں،ابھی آرڈر کر دیتے ہیں ریٹرننگ آفیسرز سکروٹنی جاری رکھے، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظورکر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی تھی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپیلوں کا دوسرا دن

    عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج اپیلیں دائر کرنے کا دوسرا دن ہےکاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا،اپیلیں جمع کروانے کے لئے ہائی کورٹس میں امیدواروں کی اپیلوں کی وصولی کے لئے خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی طرف سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے تحریری مصدقہ فیصلے جاری کردیے گئے ہیں ۔ ہائی کورٹ ٹربیونلز دس جنوری تک تمام اپیلوں کے فیصلے کریں گے۔

    این اے 132، شہبا ز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج
    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 132 سے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی منظوری چیلنج کر دی گئی،
    شاہد اورکزئی کی جانب سے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں، شہباز شریف نے ہی ورکرز کے ذریعے سپریم کورٹ پر حملہ کروایا، قانون کے مطابق انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،شاہد اورکزئی نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا کاغذات نامزدگی منظور کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور ٹریبونل تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے ووٹ منسوخ کرنے کا حکم دے.

    پی ٹی آئی رہنما عاطف خان، محمود جان، شہرام ترکئی، افتخار مشوانی اور عبدالسلام آفریدی سمیت 50 امیدواروں کی کاغذات نامزدگی مسترد یا منظوری کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لی گئیں،الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس شکیل 4 جنوری سے سماعت کرینگے

    ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی،ظفر علی شاہ، سہیل احمد ودیگر کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیلیں سماعت کیلیے مقرر
    اسلام آباد کے حلقوں این اے 46,47,48 سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ایڈووکیٹ نیاز اللہ نیازی کی اپیل کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کے ظفر علی شاہ اور سہیل احمد کی اپیلیں بھی کل سماعت کے لئے مقرر کر دی گئیں،پیپلز پارٹی کے امیدوار سید سبط الحیدری بخاری کی ریٹرننگ آفسر کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر کل اپیلوں پر سماعت کریں گے

    کوئٹہ،پی بی 42سے عبدالخالق ہزارہ کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی،الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی،آر او نے کاغذات نامزدگی کے بینک اسٹیٹمنٹ نہ لگانے کااعتراض کیاتھا

    زرتاج گل وزیر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ملتوی کر دی گئی،آر پی او ڈیرہ غازی خان اور اینٹی کرپشن سے رپورٹ طلب کرلی اگلی سماعت 4 جنوری کو ہوگی

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر عمران خان کے وکیل نے کی اپیل دائر
    ‏ایپلٹ ٹربیونل لاہور ہائیکورٹ لاہور ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار نے این اے 82 پی پی 71,80 سے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے،ریٹرننگ آفیسر نے گاڑی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،مذکورہ گاڑی کو فروخت کر چکا ہوں،خریدار کی جانب سے اپنے نام نہ کروانے پر ریکارڈ میں میرے نام سے ظاہر ہو رہی ہے، ریٹرننگ آفیسر کو گاڑی فروخت کرنے کا ریکارڈ بھی فراہم کیا،عدالت ریٹرننگ آفیسر کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دے،عدالت کاغذات نامزدگی منظور کر کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کا حکم دے،

    کاغذات نامزدگی منظوری اور منسوخی کیخلاف الیکشن ایپلٹ ٹربیونل میں اپیلیں دائر ہونے کا سلسلہ جاری ہے،این اے 99 اور پی پی 107 کے امیدوار عمر فاروق نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائرکر دی، اپیل میں مؤقف اپنایا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے امیدوار ہوں،ریٹرننگ آفیسر نے سیاسی بنیادوں پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے،ریٹرننگ نے امیدوار کے موجود نہ ہونے پر کاغذات مسترد کیے،دستخط شناختی کارڈ کے مطابق نہ ہونے کا الزام لگایا،کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی تصدیق شدہ نہ ہونے کا الزام لگایا،ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں،تمام الزامات کے تحریری ثبوت درخواست کے سات منسلک کر دئیے ہیں،عدالت ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے الزام کو کالعدم قرار دے،

    کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف شعیب شاہین کی درخواست پر نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ ، الیکشن ٹربیونل ،کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف پی ٹی آئی وکیل شعیب شاہین کی اپیلوں پر سماعت ہوئی،الیکشن ٹریبونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے الیکشن کمیشن کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دئیے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ آپ پر اعتراض ہے آپ نے ایک پراپرٹی کا ٹیکس جمع نہیں کرایا ؟65 ہزار روپے ٹیکس آپ کے ذمہ تھا ، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پراپرٹی میرے نام ابھی ٹرانسفر نہیں ہوئی ، عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے سماعت کل تک ملتوی کردی ،شعیب شاہین کے اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی نشستوں سے کاغذات مسترد ہوئے ہیں

    این اے 236،پی ٹی آئی امیدوار عالمگیر خان نے ریٹرننگ افسر کے خلاف اپیل دائر کردی،ریٹرننگ افسر نے عالمگیر کے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

    این اے 112، رانا جمیل نے اپیل دائر کر دی
    پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا معاملہ ،پی ٹی آئی امیدوار رانا جمیل حسن نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ، اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ پی پی 135 اور این اے 112 سے پی ٹی آئی کا امیدوار ہوں.کاغذات نامزدگی پر کسی نے اعتراض عائد نہیں کیا ،ریٹرنگ آفیسر نے خود سے کاغذات نامزدگی میں اعتراضات عائد کر کہ کاغذات نامزدگی مسترد کردیے،ریٹرنگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر کاغذات نامزدگی منظور کیے جائیں،

    این اے 47، نیازاللہ نیازی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل دائر کر دی
    تحریک انصاف کے رہنما نیاز اللہ نیازی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،نیاز اللہ نیازی نے این اے 47سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کا فیصلہ ایپلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کردیا ،نیاز اللہ نیازی نے ریٹرننگ افسر کی جانب سے کاغزات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف اپیل دائر کردی ،نیاز اللہ نیازی کے این اے 47 اسلام آباد سے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،نیاز اللہ نیازی پی ٹی آئی دور حکومت میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد تعینات رہ چکے ہیں

    واضح رہے کہ آر او نے عمران خان، پرویز الہی، سمیت پی ٹی آئی کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے،

  • بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    بلے کا نشان کیس، فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے،جسٹس اعجاز خان

    پشاور: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس،الیکشن کمیشن کی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز خان نے اپیل پر سماعت کی، الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر مہمند نے دلائل دیئے، الیکشن کمیشن وکیل نے جسٹس کامران حیات کا فیصلہ عدالت میں پڑھا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چھٹیوں کے دوران اس عدالت کے جج نے فیصلہ معطل کیا، پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، پی ٹی آئی کا انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،ہائیکورٹ کا فیصلہ یکطرفہ کارروائی ہے، الیکشن کمیشن کو نہیں سنا گیا، الیکشن کمیشن کیس کا بنیادی فریق ہے، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سنا جو صوبائی و وفاقی حکومت کے نمائندے ہیں،

    جسٹس اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی ایسا آرڈر دیا کہ کیا ایک ہائیکورٹ کا حکم پورے ملک کیلئے ہوتا ہے، اخبار میں پڑھا تھا، کیا ایسے کوئی حکم ہے بھی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل سپریم کورٹ نے آر اوز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کیا تھا، پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ یکطرفہ کارروائی کے تحت فیصلہ معطل کیا گیا، دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ انٹرم ریلیف اور حتمی استدعا ایک ہی ہے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ کیس میں اصل درخواستگزار کہاں ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھ ےمعلوم نہیں، شاید وہ خود پیش نہیں ہوئے، جسٹس اعجاز خان نے کہا کہ اس کیس میں ہم فیصلہ نہیں کرسکتے،9 جنوری کو ڈویژن بنچ کیلئے لگا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں نہیں کہہ رہا ہے کہ کوئی فیصلہ دیا جائے، صرف معطلی کا فیصلہ واپس لیا جائے، کیس پر پھر ڈویژن بنچ کے سامنے دلائل دینگے، 9 جنوری تک معطلی کا واپس لیا جائے،ڈویژن بینچ قائم کیا جائے تاکہ کیس کی سماعت صحیح طریقے سے ہو سکے، دونوں پارٹیوں کو سننے کے بعد فیصلہ کیا جائے

    ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم اس کیس میں فریق نہیں بننا چاہتے، ہماری نگراں صوبائی حکومت ہے، ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں اس کیس سے نکالا جائے، اگر ہمیں نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو پھر عدالت کی معاونت کریں گے،جسٹس اعجاز خان نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا بھی یہی مؤقف ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہمارا بھی یہی مؤقف ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ صرف صوبے تک فیصلہ کر سکتی ہے، انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہوئے ہیں،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

  • ریٹرننگ افسران کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے ویب سائٹ پر جاری کریں ،فافن

    ریٹرننگ افسران کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے ویب سائٹ پر جاری کریں ،فافن

    اسلام آباد: فافن نے الیکشن کمیشن سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے متعلق فیصلے پبلک کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹرننگ افسران امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے سے متعلق فیصلے ویب سائٹ پر جاری کریں تفصیلی فیصلوں کا اجراکاغذات مسترد کرنے کی وجوہات جاننے کیلئے ضروری ہے۔

    فافن نے کہا ہے کہ ریٹرننگ افسران ایک مخصوص ضابطے کے تحت ہی کاغذات مسترد کرسکتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن ضوابط کے خلاف کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر اپنے اختیارات کے استعمال کا حق رکھتا ہے،الیکشن 2024 میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی شرح 12.4 فیصد رہی ہے جو 2018ء میں 10.4 جبکہ 2013ء میں 14.6 فیصد تھی الیکشن کمیشن امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات اور مسترد کرنے کے حوالے سے ریٹرننگ افسران کے فیصلے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے یہ اقدام انتخابی عمل کی شفافیت کو تقویت دے گا۔

    ادارہ شماریات نے مہنگائی کے نئےاعداد و شمار جاری کر دیئے

    پنجاب کو فنڈ کی ضرورت نہیں یہ کماؤ پتر ہے،نگران وزیراعظم

    نیب سزا یافتہ کی 10سال نااہلی کی مدت بحال کریں،نیب نے عدالت سے رجوع کر …

  • پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان دیےجانے کا معاملہ،پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل کی سماعت ڈویژن بینج سےکرانےکیلئے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقررکر دی گئی

    جسٹس اعجاز خان کل درخواست کی سماعت کریں گے ،الیکشن کمیشن نے پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے ،الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل کی سماعت ہائیکورٹ کےڈویژن بینج سے کرانے کی درخواست بھی دائر کی ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ میں دو الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، ایک درخواست تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق ہے جس میں الیکشن کمیشن نے عدالت سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے،الیکشن کمیشن نے ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ چھٹیوں کے دوران ہی ڈویژنل بینچ بناکر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیاجائے

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

  • انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم، الیکشن کمیشن نے پیمرا کو ہدایت دے دی

    الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین پیمرا کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا کے خلاف ایکشن لیا جائے,بعض چینلز پول سروے نشر کر رہے ہیں، ضابطہ اخلاق کے مطابق اسکی ممانعت ہے ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پولنگ اسٹیشن اور حلقوں سے سروے اور پول کرانے سے روکا گیا ہے ،یہ سرگرمیاں ووٹر پر اثر انداز ہوتی ہیں اور الیکشن عمل میں خلل ڈالتی ہیں، پیمرا ایسے چینلز کے خلاف فوری ایکشن لے کر رپورٹ جمع کرائے

    letter

    الیکشن کمیشن نے قومی میڈیا کے لیے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کر دیا
    قومی میڈیا میں پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلونسرز شامل ہیں،جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن مہم کے دوران قومی میڈیا پاکستان کے نظریات، خودمختاری اور سیکورٹی کے خلاف تعصب پر مبنی رائے کی عکاسی نہیں کرے گا،ایسے بیانات یا الزامات جن سے قومی اتحاد، امن و امان کی صورت حال کا خطرہ ہو کو نشر نہیں کیا جائے گا،کوئی ایسا مواد شامل نہیں ہو گا جو کسی امیداوار، سیاسی جماعت پر صنف، مذہب، برادری کی بنیاد پر زاتی حملہ ہو، خلاف ورزی پر قانونی کاروائی ہو گی،ایک امیدوار کے دوسرے امیدوار پر الزام پر دونوں اطراف سے بیان اور تصدیق کی جائے گی،پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائبر ڈیجیٹل ونگ سیاسی جماعتوں اور امیداروں کو دی گئی کوریج مانیٹر کرے گا، امیداور اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے ادائیگی کی تفصیلات پولنگ ڈے کے 10 دن کے اندر دے گا، پیمرا، پی ٹی اے، پی آئی ڈی،وزارت اطلاعات کا سائیبر ڈیجیٹل ونگ ضابطہ اخلاق پر عملدرامد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گا،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے میڈیا نمائندوں اور ہاوسز کو تحفظ فراہم کریں گے،قومی خزانہ سے کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی مہم نہیں چلائی جائے گی،ووٹرز کی اگہی کے پروگرام چلائے جائیں گے ، الیکشن کے دن سے 48 گھنٹے قبل الیکشن میڈیا مہم ختم کر دی جائے گی،الیکشن عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی،انٹرنس ایگزٹ پولز، پولنگ اسٹیشن یا حلقے میں سروے سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ووٹر متاثر ہو،صرف تسلیم شدہ میڈیا نمائندگان ایک دفعہ کیمرے کے ساتھ پولنگ عمل کی ویڈیو بنانے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوں گے، خفئہ بیلٹ کی ویڈیو نہیں بنائی جائیں گی،میڈیا نمائندگان گنتی کا بغیر کیمرا کے مشاہدہ کریں گے،میڈیا نمائندگان الیکشن سے قبل، دوران یا بعد میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے تک نتیجہ نشر نہیں کیا جائے گا،نتائج نشر کرتے وقت بتایا جائے گا کہ یہ غیر سرکاری، نامکمل نتائج ہیں جنھیں آر او کی جانب سے اعلان تک حتمی نہ سمجھا جائے،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر صحافی یا میڈیا ادارے کی ایکریڈیشن ختم کی جا سکتی ہے،

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

  • لیول پلیئنگ فیلڈ ،تحریک انصاف کے وکیل چیف جسٹس کے سامنے پیش

    لیول پلیئنگ فیلڈ ،تحریک انصاف کے وکیل چیف جسٹس کے سامنے پیش

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے،سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ درخواست پر 3 جنوری کو سماعت کرے گا

    تحریک انصاف کے وکیل انتظار حسین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہماری لیول پلئینگ فیلیڈ میں توہین عدالت کی درخواست تین جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کر ہی دی ہے

    سپریم کورٹ،پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا معاملہ،پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش ہو گئے

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں،لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کیلئے توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وقفہ کے بعد آجائیں آپکو سن لیتے ہیں،

    پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم وقفے کے بعد کمرہ عدالت سے غائب ہو گئی،بینچ وکلاء کی عدم موجودگی کے باعث اٹھ کر چلا گیا،بعد میں‌پی ٹی آئی وکلاء کی رجسٹرار سے ملاقات ہوئی،ایڈوکیٹ شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ ہماری رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے، رجسٹرار نے درخواست سماعت کیلئے مقرر کرنے کی یقین دہائی کرا دی ہے،آج یا کل ہماری درخواست سماعت کیلئے مقرر ہو جائیگی،ہماری عدلیہ واحد امید ہے، عدلیہ نے مثبت کردار ادا نہ کیا تو ذمہ داری عدلیہ پر ہی آئے گی،نو مئی کو الیکشن ہو جاتے تو یہ حال نہ ہوتا، سپریم کورٹ کے فیصلوں‌پر عمل ہونا چاہئے تھا، اب آٹھ فروری کا حکم ہے تو صاف شفاف الیکشن ہو،ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی، جمعرات جمعہ کو سپریم کورٹ کی چھٹی ہو گئی، اب ہم یہ استدعا کرنا چاہتے ہیں کہ آج یا کل اس درخواست کو سنیں، جس طرح کی صورتحال ہے اس میں پھر الیکشن نہ کروائیں،سیدھا وزیراعظم بنا دیں، تماشے بند کریں، ہمیں عدلیہ سے امید اسلئے کہ کاغذوں میں آئین موجود ہے،میں پی ٹی آئی کا ترجمان ہوں، ہمیں کتنی تکلیفیں پہنچیں، متعصب جج دیکھ لیں، لیکن ہماری طرف سے کوئی گفتگو نہیں کی گئی، پی ڈی ایم کی پچھلے ہفتے کی گفتگو دیکھ لیں انہوں نے کیاکہا، ہمارا عدلیہ کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے،

    واضح رہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کے احکامات پرعملدرآمد نہ ہونے پر تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکررکھی ہے،تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ میں‌ دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ 22 دسمبرکے احکامات پرعملدرآمد یقینی بنائے، پی ٹی آئی امیدواروں اوررہنماؤں کوگرفتاریوں اورحراساں کرنے سے بھی روکا جائے.

    گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق شکایت پر الیکشن کمیشن اور حکومت کو فوری ازالے کی ہدایت کرتے ہوئے قراردیا تھا کہ بظاہر پی ٹی آئی کا لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملنے کا الزام درست ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصفانہ انتخابات منتخب حکومت کو قانونی حیثیت فراہم کرتے ہیں، شفاف انتخابات جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھتے ہیں، انتخابات جبری کی بجائے عوام کی رضا کے حقیقی عکاس ہونے چاہییں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد نتائج سے زیادہ اہم ہے الیکشن کمیشن جمہوری عمل میں میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے انتخابات کو بدعنوانی سے بچائے، آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

  • کاغذات نامزدگی مسترد ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    کاغذات نامزدگی مسترد ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ جانے کا اعلان

    پی ٹی آئی نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے

    تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ڈاکٹر بابر اعوان نےاسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آئین کسی کو بھی الیکشن لڑنے سے نہیں روکتا،یہاں لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے، 300 سے زائد کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں، ہم ان ہتھکنڈوں کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں، ہر حال میں ہر قیمت پر پاکستان تحریک انصاف الیکشن لڑے گی، یہی ہماری سٹریٹجی تھی کہ ہر حلقے سے اپنا امیدوار کھڑا کیا جائے، ہائی کورٹ نے اجازت دے دی ہے عمران خان خود ٹکٹ جاری کریں گے، امید ہے سپریم کورٹ اف پاکستان سے ہمیں انصاف ملے گا،

    واضح رہے کہ عام انتخابات 2024، سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کےبعد کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف آج سے اپیلیں سنی جائیں گی، کاغذات نامزدگی مسترد ہونے یا ان کی منظوری کے خلاف اپیلیں 3 جنوری تک دائر کی جاسکتی ہیں، الیکشن ٹربیونل اپیلوں پر 10 جنوری تک فیصلہ کرے گا

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ