پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد کا وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا
اجلاس میں پیپلزپارٹی اوردیگر اتحادی جماعتیں شریک تھیں آفتاب شیرپاؤ،محمود اچکزئی ،کشور زہرہ شریک تھے خورشید شاہ،فیصل کریم کنڈی،پلوشہ بہرام اور فاروق نائیک شریک تھے ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز بھی پی ڈی ایم اجلاس میں شریک تھیں مریم اورنگزیب،اعظم نذیرتارڑ،رانا تنویر نے بھی شرکت کی ،اجلاس میں الیکشن کمیشن فیصلے پرعمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور کیا گیا پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کیخلاف کارروائی شروع ہوگی پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے عمران خان کیخلاف الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی ہو گی،عمران خان کی نااہلی کیلئے قانونی کارروائی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا
نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری اورقانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، پی ٹی آئی سینٹرل سیکریٹریٹ کے4 ملازمین کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کیخلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی،
دوسری جانب پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف فرد جرم آچکا ہے،عمران خان ایک ملزم نہیں بلکہ اب مجرم بھی قراردیا جا رہا ہے .ثابت ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ ہوئی ہے ,عمران خان الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد صادق اور امین نہیں رہے عمران خان نے 5سال تک الیکشن کمیشن کے سامنے جھوٹ بولاعمران خان کا بیانیہ ہر دن تبدیل ہوتارہا ہے،الیکشن کمیشن میں جھوٹے سرٹیفکیٹ اور حلف نامہ جمع کیا گیا،ممنوعہ فنڈنگ کیس عمران خان کے خلاف فرد جرم ہے،اب آئین اور قانون کے مطابق کارروئی کی جائے گی،عمران خان عملی طور پر پاکستان کے نااہل ترین حکمران ثابت ہوئے،اس نے اسرائیل اور ہندوستان سے فنڈنگ لی ہے،عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا،16 بینک اکاونٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے، ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آگیا،عمران خان نے متعدد غیرملکی کمپنیوں اور غیرملکی شہریوں سے فنڈنگ لی،الیکشن کمیشن کو بلیک میل کیا جا رہا ہے،پی ٹی آئی کی 2013کے بعد کی فنڈنگ کا بھی حساب لیا جائے،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پران کیخلاف کارروائی کرے، ڈاکٹر عارف علوی کو فوری طور پر عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے،فوری طور پر ان کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں جن کے نا م پر اکاونٹس کھولے گئے ہیں ان کو بھی گرفتار کر کے تحقیقات کی جائیں
قبل ازیں ن لیگی رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ پی ٹی آ ئی والوں نے فیصلہ رکوانے کی کوشش کی ،ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ درخواست اکبر ایس بابر نے دی تھی جو پی ٹی آئی کے ہی رکن ہیں،ہم سمجھے تھے کہہ یہ لوگ تھوڑا بہت شرمندہ ہونگے مگر نہیں ،اگر کوئی مسئلہ نہیں تھا تو 8 سال سے رکوانے کی کوشش کیوں کی ،پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ کیس کی رپورٹ سامنے نہ آنے کیلئے دباؤ ڈالا، پی ٹی آئی والے انگلی اٹھا اٹھا کر پچھلے 10 سال سے ہر ایک پر الزام لگاتے رہے،پی ٹی آئی سپورٹرز 7 صفحے پڑھ لیں ، عمران خان اور پی ٹی آئی سے سوال کریں ،عارف نقوی نے 2012 میں کوئی غلط کام نہیں کیا،آج فواد چودھری نے کہا عارف نقوی پرتو کوئی کیس ہی نہیں،
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے میرے موقف کی تصدیق کردی۔ایک بیان میں مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے 2010ء سے میرے موقف پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
فارن فنڈنگ کیس: کیا آرٹیکل 62 کے تحت عمران خان نااہل بھی ہوسکتے ہیں؟
پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ عمران خان اور اس کی پارٹی غیر ملکی طاقتوں کے ایجنڈے پر ہے، ان ہی کے فنڈز پر یہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آج اپنے فیصلے کے ذریعے اس کو عالمی چور، منی لانڈرر، جھوٹا اور بددیانت ثابت کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو فوری عمران خان کی تاحیات نا اہلی اور پی ٹی آئی پر پابندی کی کارروائی شروع کرنی چاہیے۔
علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے نے بیرونی سازش کا پول کھول دیا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ 8 سالہ طویل انتظار کے بعد ممنوعہ فنڈنگ کے فیصلے سے بیرونی سازش کا پول کھل گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اُس بیرونی ساز ش کی محض 2013ء تک کی تفصیلات ہیں، پوچھنا تھا کہ عمران نیازی نے اس کے بعد ملک سے کھلواڑ کرنے کے لئے کن ممالک سے پیسے پکڑے؟ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ عمران نیازی نے امریکا، بھارت اور دیگر ملکوں کے شہریوں اور کمپنیوں سے پیسے لےکر فتنہ اور فساد برپا کیا، بیرونی فنڈنگ سے معصوم ذہنوں میں زہر گھولا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ عدالتی صادق و امین کو باقاعدہ ثبوتوں نے جھوٹا اور منی لانڈرر ڈیکلیئر کر دیا، عمران خان نے اس فنڈنگ سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کیں۔حمزہ شہباز نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے سی پیک کے کام کو ٹھپ کرکے ملکی معیشت اور ترقی کی کمر توڑ دی۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلہ پر الیکشن کمیشن کو خراج تحسین کی قرارداد یں پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئیں.قراردادوں میں چیف الیکشن کمشنر کو خراج تحسین پیش کیا گیا.
قراردادیں مسلم لیگ (ن) کی رکن حناپرویز بٹ،سعدیہ تیمور، سمیرا کومل اوررابعہ فاروقی کی جانب سے جمع کروائی گئیں.قراردادوں کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان چیف الیکشن کمشنر کو تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا حقائق کے مطابق فیصلہ سنانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے تحریک انصاف کے دباﺅ کو مسترد کردیا،پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر پر گھٹیا الزامات لگائے.
قراردادوں میں مذید کہا گیا کہ عمران خان کے چیف الیکشن کمشنر پر گھٹیا الزامات کےباوجود چیف الیکشن کمشنر نے صبر و تحمل کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو سرانجام دیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق و امین بھی نہیں رہے،عمران خان الیکشن کمیشن سے غلط بیانی کرنے پر آرٹیکل 62کے مرتکب قرار پائے ہیں.
قراردادوں میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،الیکشن کمیشن نے تمام تر دباو کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقائق پر مبنی فیصلہ دیا ہے ،عمران خان نے الیکشن کمیشن میں غلط ڈیکلریشن جمع کروا کر بددیانتی کا ثبوت دیا ، پوری قوم پر عمران خان کا مکروہ چہرہ عیاں ہو گیا ہے، صادق اور امین کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو اپنے منہ کی کھانا پڑی.
قراردادون میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو تاحیات نا اہل قرار دیا جائے اور تحریک انصاف پر پابندی عائد کی جائے، ممنوعہ فنڈنگ کے ذریعے تحریک انصاف نے بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کی اور ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالا .
ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا
الیکشن کمیشن نے متفقہ فیصلہ سنایا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے فیصلہ پڑھ کر سنایا،فیصلے میں کہا گیا کہ ممنوعہ فنڈز تحریک انصاف نے لئے ہیں 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن سے فنڈز لئے گئے ہیں، اکاؤنٹس چھپانا آئین کی خلاف ورزی ہے،آرٹیکل 17 کی شق تین کی خلاف ورزی کی گئی پی ٹی آئی چیئرمین نے فارم ون جمع کروایا جو غلط تھا، ،امریکہ ،آسٹریلیا سے عطیات لئے گئے، امریکی کاروباری شخصیت سے بھی فنڈز لئے گئے پی ٹی آئی نے شروع میں 8 اکاونٹس کی تصدیق کی
الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، جس میں کہا گیا کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لئے جائیں ، الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی اکاؤنٹس کے حوالہ سے دیا گیا بیان حلفی جھوٹا ہے، سیاسی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 کے حوالہ سے ممنوعہ فنڈنگ ہے یہ کمیشن مطمئن ہے کہ جو ڈونیشن وصول ہوئی ابراج گروپ، ای پی آئی یوایس آئی سے لی گئی پی ٹی آئی کینیڈا کارپوریشن سے بھی فنڈنگ وصول کی گئی،34غیر ملکیوں سے بھی ڈونیشن وصول کی گئی تحریک انصاف نے 16 اکاونٹس کے حوالے سے وضاحت نہیں دی،ووٹن کرکٹ کلب سے فنڈ ریزنگ کے نام پر ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی،پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت 34 کمپنیوں سے فنڈنگ ملی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 2008 سے2013 تک مس ڈکلیئریشن کیں 16بینک اکاونٹس چھپانا آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے کے مطابق امریکہ میں مقیم انڈین شہری رومیتا شیٹھی نے بھی پی ٹی آئی کو کئی ہزار ڈالر کی غیرقانونی فنڈنگ کی ۔
پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس تحریری فیصلہ کے مطابق برسٹل سروسز والی فنڈنگ بھی ممنوعہ قرار دی گئی، پی ٹی آئی امریکہ، کینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قراردی گئی،رومیتا سیٹھی سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قراردی گئی 351غیرملکی کمپنیوں سے ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی،پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر متحدہ عرب امارات کی کمپنی برسٹل انجینئرنگ سے ممنوعہ فنڈنگ لی ،سوئیزرلینڈ کی ای پلینٹ ٹرسٹیز کمپنی، برطانیہ کی ایس ایس مارکیٹنگ کمپنی سے ممنوعہ فنڈنگ لی گئی پی ٹی آئی یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی،
تحریری فیصلہ کے مطابق ووٹن کرکٹ کلب سے 21 لاکھ 21 ہزار 500 ڈالرلیے گئے،ووٹن کرکٹ کلب ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی ملکیت ہے برسٹل انجینئرنگ سے 49 ہزار 965 ڈالرفنڈز لیے گئے، برسٹل انجینئرنگ متحدہ عرب امارات کی کمپنی ہے سوئٹزر لینڈاوربرطانوی کمپنیوں سے 10 لاکھ ایک ہزار 741 ڈالرزلیے گئے،امریکاکی 2 ایل ایل سی کمپنیوں سے 25 لاکھ 25 ہزار 500 ڈالرمنتقل ہوئے،کینیڈا کارپوریشن سے 2 لاکھ 79 ہزار 822 ڈالرفنڈزمنتقل ہوئے،برطانیہ کی کمپنی سے 7 لاکھ 92 ہزار 265 پاؤنڈزمنتقل ہوئے،آسٹریلوی کمپنی ڈنپیک پرائیوٹ لمیٹڈ سے فنڈزلیے گئے،
فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائے جانے سے قبل الیکشن کمیشن کے باہر سیکورٹی سخت کی گئی تھی الیکشن کمیشن عمارت کے باہر سیکورٹی کے تین سرکل تعینات کئے گئے ہیں،پہلے سرکل میں پولیس دوسرے میں رینجرز اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال لی تیسرے سرکل میں ایف سی کے اہلکار کی بھی تعینات ہیں، الیکشن کمیشن آفس جانے والے راستے بند تھے ، قیدیوں کی وین بھی الیکشن کمیشن کے باہر موجود تھی
ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق فیصلہ الیکشن کمیشن کے تین رکنی بنچ نے سنایا، بنچ میں چیئرمین الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ، نثار احمد راجہ اور شاہ محمد جتوئی شامل تھے ،فیصلہ سنائے جانے سے الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اہم اجلاس بھی ہوا،
ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا، اتحادی جماعتیں بار بار مطالبہ کر رہی تھیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے کس کس غیرملکی کمپنی سے کتنے پیسے وصول کئے ۔ واضح رہے کہ یہ صرف 2018 سے 2003 تک سکروٹنی ہے ۔ اندازہ کریں اس کے بعد کے سالوں میں کیا ہوا ہوگا
فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف پر کسی اور نے نہیں بلکہ بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیا،بقول اکبر ایس بابر انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ بارے عمران خان کو آگاہ بھی کیا تھا ایسے فنڈز لئے گئے جنکی پاکستان کا قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان نے کوئی ایکشن نہ لیا جس کی بنا پر وہ الیکشن کمیشن گئے
حالیہ ضمنی الیکشن میں شفاف ترین الیکشن کے باوجود اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسکی اصل وجہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو مزید تاخیر کا شکار کروانا تھا
جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کا کہنا ہے کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کو آٹھ سال لٹکا کر عمران خان کو فائدہ دیا گیا۔ آج ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ خواہ جو بھی آئے، اس سے بھی بالآخر عمران خان کو ہی فائدہ پہنچایا جائے گا
فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر نے فیصلے سے قبل الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ا لیکشن کمیشن میں آج تاریخی فیصلہ ہوگا،دیکھنا ہوگا کہ وہ کیچ یا کلین بولڈ ہوتے ہیں،پر امید ہوں کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا،گھر سے 2 رکعت نفل پڑھ کر آیا ہوں،
اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خبردار:واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آج جوفیصلہ سنانےجارہی ہےوہ صرف 2009 سے 2013 کے پانچ سالہ ریکارڈ کا احاطہ کرے گی۔ پی ٹی آئی کو اصل عروج اسکےبعدحاصل ہوا۔اقتدار اسکے بعد ملا۔بشریٰ بی بی اورمانیکا خاندان اسکے بعد دخیل ہوئے۔ اصل واردات اسکے بعد کے سالوں میں ہوئیں جواس سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں۔
خبردار: واضح رہےکہ الیکشن کمیشن آج جوفیصلہ سنانےجارہی ہےوہ صرف 2009 سے 2013 کےپانچ سالہ ریکارڈکااحاطہ کرےگی۔ پی ٹی آئی کو اصل عروج اسکےبعدحاصل ہوا۔اقتداراسکےبعدملا۔بشریٰ بی بی اورمانیکا خاندان اسکےبعد دخیل ہوئے۔ اصل واردات اسکےبعد کےسالوں میں ہوئیں جواس سےکئی گنازیادہ سنگین ہیں۔
سابق وزیراعظم، ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ فیصلہ سے عوام کو عمران خان کی کرپشن کا پتا لگے گا عمران خان نے 8 سال میں ایک دستاویز بھی پیش نہیں کی الیکشن کمیشن سے ایسا فیصلہ آنا چاہئے تاکہ حق اور قانون کا بول بالا ہو
ممنوعہ فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کا ردعمل بھی آ گیا
تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے فیصلہ آنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے علم میں ہے کہ یہ باتیں سننے آئے ہیں کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ ہے الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ پر تحریک انصاف پر پابندی لگانے جا رہے ہیں یہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے غیر ملکی فنڈنگ ثابت نہیں ہوئی نہ ہی پابندی لگی ہے ایک نوٹس موصول ہوا ہے اس کا جواب دیں گے، کنول شوذب کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ آگے بڑھایا گیا، جانبدار الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا، آئینی ادارہ ایک ہی جماعت پر اس قانون کو لاگو کر رہا ہے، سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹس کیوں منظر عام پر نہیں آئیں. الیکشن کمیشن کا آج کا فیصلہ درست نہیں ہے اسے ہم چیلنج کریں گے،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے فیصلہ آنے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے ڈکلئیرڈ "صادق و امین” الیکشن کمیشن میں "جھوٹے” نکل آئے۔
سپریم کورٹ کے ڈکلئیرڈ "صادق و امین" الیکشن کمیشن میں "جھوٹے" نکل آئے۔
سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے فیصلہ آنے کے بعد ردعمل میں کہا کہ سرمایہ دار سارے پارٹیوں کو فنڈز دیتے ہیں سرمایہ داروں سے اس لیے تعلق نہیں رکھتا،گواہی دینے کو تیار ہوں انہوں نے اسامہ بن لادن سے پیسے لیے ،انہوں نے پوری قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے،
تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شوق پورا کر لیا الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس پر فیصلہ سنا کر. اب قوم جواب مانگتی ہے کے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ رپورٹ کیوں نہیں جاری ہو رہی؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایت کو پامال کر کے الیکشن کمیشن پی ڈی ایم جماعتوں کو پناہ دے رہی ہے
شوق پورا کر لیا الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس پر فیصلہ سنا کر. اب قوم جواب مانگتی ہے کے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ رپورٹ کیوں نہیں جاری ہو رہی؟ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی ہدایت کو پامال کر کے الیکشن کمیشن پی ڈی ایم جماعتوں کو پناہ دے رہی ہے
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف قراردادیں فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے ہیں۔
چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد مقررہ وقت پر انتخابات ہونگے،عمران خان اس ملک کی ایک بڑی برائی ہے جس کو جڑ سے نکالنا چاہئے، عمران اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پی ٹی آئی چیئرمین نے پنجاب ضمنی الیکشن میں کامیابی پر الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کیا تھا، اسی الیکشن کمیشن کے خلاف پنجاب اور کے پی اسمبلی سے قراردادیں منظور کروائیں، الیکشن کمیشن کے خلاف قراردادیں فارن فنڈنگ کیس پر اثر انداز ہونے کے لئے ہیں۔
پی ڈی ایم کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر اعتراض نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر اعتراض ہے، اداروں کے سربراہان بھی انسان ہوتے ہیں جن سے غلطیاں ہوتی ہے، سپریم کورٹ سے بھی بعض فیصلوں میں غلطیاں ہوئی ہے، سپریم کورٹ کے ججز کی عدم دستیابی کی وجہ سے چیف جسٹس نے فل کورٹ بنانے سے انکار کیا، دو روز بعد سپریم کورٹ کے ججز کے انتخاب کے لئے چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلا س بلا لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چار سال تک ملک پر مسلط ٹولے نے معیشت کو تباہ و برباد کردیا، پاکستان کی معاشی صورتحال ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا، عمران خان ٹولے کا صرف ایک کام باقی تھا اور وہ ریاست توڑنا تھی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان ،تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس سے متعلق فیصلہ آج سنائے گا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کیلئے کازلسٹ جاری کردی ہے۔ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس ، تحریک انصاف کا کوئی رہنما الیکشن کمیشن تاحال نہ پہنچ سکا
فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر نے فیصلے سے قبل الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ا لیکشن کمیشن میں آج تاریخی فیصلہ ہوگا،دیکھنا ہوگا کہ وہ کیچ یا کلین بولڈ ہوتے ہیں،پر امید ہوں کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا،
ن لیگی رہنما، رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو عمران خان اور پی ٹی آئی کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دینا چاہئے، چاہے عمران خان نااہل ہوں یا پی ٹی آئی پر پابندی لگے۔۔۔
الیکشن کمیشن کو عمران خان اور پی ٹی آئی کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دینا چاہئے، چاہے عمران خان نااہل ہوں یا پی ٹی آئی پر پابندی لگے۔۔۔
سابق وزیراعظم، ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
فارن فنڈنگ فیصلہ سے عوام کو عمران خان کی کرپشن کا پتا لگے گا عمران خان نے 8 سال میں ایک دستاویز بھی پیش نہیں کی الیکشن کمیشن سے ایسا فیصلہ آنا چاہئے تاکہ حق اور قانون کا بول بالا ہو
اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ خبردار:واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آج جوفیصلہ سنانےجارہی ہےوہ صرف 2009 سے 2013 کے پانچ سالہ ریکارڈ کا احاطہ کرے گی۔ پی ٹی آئی کو اصل عروج اسکےبعدحاصل ہوا۔اقتدار اسکے بعد ملا۔بشریٰ بی بی اورمانیکا خاندان اسکے بعد دخیل ہوئے۔ اصل واردات اسکے بعد کے سالوں میں ہوئیں جواس سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں۔
خبردار: واضح رہےکہ الیکشن کمیشن آج جوفیصلہ سنانےجارہی ہےوہ صرف 2009 سے 2013 کےپانچ سالہ ریکارڈکااحاطہ کرےگی۔ پی ٹی آئی کو اصل عروج اسکےبعدحاصل ہوا۔اقتداراسکےبعدملا۔بشریٰ بی بی اورمانیکا خاندان اسکےبعد دخیل ہوئے۔ اصل واردات اسکےبعد کےسالوں میں ہوئیں جواس سےکئی گنازیادہ سنگین ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے موقع پر اسلام آباد کی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کردیے گئے، پولیس اور ایف سی کے ایک ہزار جوان ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔ ذرائع کےمطابق غیر متعلقہ افراد کو الیکشن کمیشن میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، میڈیا سمیت ریڈ زون دفاتر جانے والوں کو شناخت کے بعد جانے کی اجازت ہو گی۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے رینجرز کو اسٹینڈ بائے رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس ہوا ہے۔
اجلاس میں الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کے حکام نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس پر تیاری سے متعلق حتمی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے دوران اجلاس متعلقہ حکام کو کیس کے متعلق تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی، سکندر سلطان راجا نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے کے موقعے پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال بعد آج سنایا جائے گا،فیصلہ 21 جون کو محفوظ کیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس 2014 سے چلتا آ رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی کی اندرونی مالی بے ظابطگیوں کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ پارٹی کو ممنوعہ ذرائع سے فنڈز موصول ہوئے اور مبینہ طور پر دو آف شور کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں ملین ڈالرز ہنڈی کے ذریعے پارٹی کے بینک اکاونٹس میں منتقل کیے گئے۔
اس درخواست میں انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف نے بیرون ملک سے فنڈز اکٹھا کرنے والے بینک اکاونٹس کو بھی الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھا۔
واضح رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور حکومتی اتحادیوں نے چند روز قبل ببانگ دہل مطالبہ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی فارنگ فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنایا جائے۔
عمران خان کے بچے باہر انہیں پاکستان کی ترقی سے کوئی غرض نہیں،شازیہ مری
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر، پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ ایک انسان نے فارن فنڈنگ کے بل بوتے پر معاشرے کو تباہ کیا
شازیہ مری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان فارن ممنوعہ فنڈنگ میں رنگے ہاتھ پکڑا گیا ہے، عمران خان دوسروں پر الزام وہ لگا رہا جو خود ہر برائی اور فراڈ میں ملوث ہے، عمران کوپاکستان کی فلاح اور ترقی سے کوئی غرض نہیں ہے کیا الیکشن کمیشن دباؤ کا شکار ہے؟ عمران خان کے بچے باہر ہیں انہیں پاکستان کی ترقی سے کوئی غرض نہیں عمران خان نے فارن فنڈنگ کے ذریعے پاکستان کے معاشرے اور معیشت کو تباہ کیا، الیکشن کمیشن کو فیصلہ سنانے سے روکنے کیلئے عمران دباؤ کا حربہ استعمال کر رہا ہے بھارتیوں کی فنڈنگ کی وجہ سے عمران خان مودی کی جارحیت پر خاموش رہا،الیکشن کمیشن ڈر اور پریشر سے باہر آکر ملک اور قوم سے انصاف کرے
ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا، الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، تا ہم ابھی تک فیصلہ سنایا نہیں گیا، اتحادی جماعتیں بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے
فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف پر کسی اور نے نہیں بلکہ بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیا،بقول اکبر ایس بابر انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ بارے عمران خان کو آگاہ بھی کیا تھا ایسے فنڈز لئے گئے جنکی پاکستان کا قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان نے کوئی ایکشن نہ لیا جس کی بنا پر وہ الیکشن کمیشن گئے
حالیہ ضمنی الیکشن میں شفاف ترین الیکشن کے باوجود اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسکی اصل وجہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو مزید تاخیر کا شکار کروانا
اسلام آباد:شیخ رشید نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹوں کے حق کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دی جس پر رجسٹرار آفس سے اعتراضات عائد کردیئے گئے۔
رجسڑار سپریم کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کے لئے لکھی گئی شیخ رشید کی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی ہے۔
رجسٹرار آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کرنے کی وضاحت نہیں کی گئی، درخواست گزار نے براہ راست سپریم کورٹ انے کی وجہ بھی نہیں بتائی۔
اعتراض کیا گیا ہے کہ سمندرپار پاکستانیوں کے ووٹنگ حق کے مقدمات ماتحت عدالتوں میں زیرالتواء ہیں، درخواست کے ساتھ منسلک کئے گئے سرٹیفکیٹس بھی قانون کے مطابق نہیں، دائر کردہ درخواست پر درخواست گزار کے وکیل کے دستخط بھی موجود نہیں۔
یاد رہے کہ چند دن پہلے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے الیکشن ایکٹ میں تارکین وطن کے ووٹ دینے کے حق سے متعلق نئی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج تھا،
درخواست گزار نے بدھ کے ر وز آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت،وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا کہ تارکین وطن پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں ووٹ کے بنیادی حق سے محروم کرنا خلاف آئین ہے، حکومت تارکین وطن کو ووٹ کے حق سے محروم کررہی ہے، حکومت کی الیکشن ایکٹ میں کی گئی ترامیم آرٹیکل 218، 219 اور 222 سے متصادم ہے۔
تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہے
قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ اور سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے 350غیر ملکیوں سے فنڈنگ لی تحریک انصاف نے بھارت اور اسرائیل سے بھی فنڈنگ وصول کی گزشتہ 8 سال تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس التواء کا شکار ہے جبکہ عمران خان نے 60 بار مختلف موقعوں پر عدالتوں سے التواء لیا چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈ نگ کا محفوظ فیصلہ حقائق کے مطابق سنایا جائے
ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا، الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، تا ہم ابھی تک فیصلہ سنایا نہیں گیا، اتحادی جماعتیں بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے
فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف پر کسی اور نے نہیں بلکہ بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیا،بقول اکبر ایس بابر انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ بارے عمران خان کو آگاہ بھی کیا تھا ایسے فنڈز لئے گئے جنکی پاکستان کا قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان نے کوئی ایکشن نہ لیا جس کی بنا پر وہ الیکشن کمیشن گئے
حالیہ ضمنی الیکشن میں شفاف ترین الیکشن کے باوجود اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسکی اصل وجہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو مزید تاخیر کا شکار کروانا ہے
اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم عمران خان کےبیان کا نوٹس لے لیا،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف الیکشن کمشنر سے متعلق گزشتہ روز ریمارکس کا نوٹس لے لیا،
عمران خان کی کل لاہور سے نشر ہونے والی تقریر کا ٹرانسکرپٹ چئیرمین پیمرا سے منگوا لیا گیا ہے۔ وقت بتائے گا بد دیانت کون ہے۔#ECP
عمران خان کے کل لاہور سے نشر تقریر کا ٹرالسپکرپٹ پیمرا سے منگولیا گیا، ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ وقت بتائیے گا بدیانت کون ہے؟،
یاد رہے کہ چند دن پہلے بھی عمران خان نے الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کیئے تھے ،الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم عمران خان کے کمیشن مخالف بیانات کا نوٹس لیا تھا الیکشن کمیشن نے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ، خرم شیر زمان اور سینیٹر اعجاز چوہدری کے بیانات کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر مسلسل جانبداری کے الزامات عائد کرکے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں جب کہ گزشتہ روز ورکرز کنونشن سے خطاب میں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو (ن) لیگ کا ایجنٹ قرار دیا۔