Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • حکومتی اجلاس: پی ٹی آئی سےمذاکرات کےفائنل راؤنڈ کی حکمت عملی طے

    وزیراعظم کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس ختم،اجلاس میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کے فائنل راؤنڈ کی حکمت عملی طے کی گئی۔

    باغی ٹی وی: ماڈل ٹاؤن لاہور میں تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں نواز شریف اور مریم نواز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے اجلاس میں عطا تارڑ، ایاز صادق اور دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی اجلاس میں منگل کوہونے والے مذاکرات پر مشاورت کی گئی-

    حارث سہیل نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز سے باہر

    اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق بھی مشاورت ہوئی وزیراعظم کو اجلاس میں پی ٹی آئی سے مذاکرت پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ حکومتی ٹیم نے آئین کے اندر رہتے ہوئے مثبت تجاویز دیں اور فائنل راؤنڈ میں بھی یہی حکمت عملی اپنائیں گے۔

    اجلاس میں ممکنہ انتخابات کی تیاریوں، حلقوں کے مسائل پر غور کیا گیا اور الیکشن اور پی ٹی آئی سے مذاکرات پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے پر اتفاق کیا گیا اجلاس میں معاشی اور سیاسی صورتِ حال پر بریفنگ بھی دی گئی۔

    کراچی کی آبادی میں مزید اضافہ

    ن لیگی رہنماؤں نے تجویز دی کہ انتخابات سے قبل عوام کو بھرپور ریلیف دیا جائے، الیکشن سےقبل حلقوں کےمسائل حل کرنا ضروری ہیں جس پر وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، عوام کوجلدریلیف کی خوشخبری دیں گے۔

  • پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات،فنڈزفراہمی سے متعلق رپورٹ جمع

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات،فنڈزفراہمی سے متعلق رپورٹ جمع

    الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز کی فراہمی سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے رپورٹس رات کو جمع کروائی گئی، جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کو فنٍڈ نہیں ملے، الیکشن کمیشن کی رپورٹ دو صفحات پر مشتمل ہے،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا ہے کہ انتخابات کے لیے فنڈز نہیں مل سکے

    سپریم کورٹ نے فنڈز سے متعلق رپورٹ کے لیے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا،واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ طلب کر رکھی تھی، فنڈ جاری نہ ہوئے، کل سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی جس کے بعد سماعت کو ملتوی کر دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت ملتوی، مناسب حکم جاری کریں گے، چیف جسٹس

    انتخابات کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، بیرسٹر علی ظفر بھی عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل! ہمیں آپ کا اعتماد چاہئے، ‏شاہ محمود قریشی نے روسٹرم پر آنے کی کوشش کی جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قریشی صاحب! آپ بیٹھ جائیں،آپ کو سنتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ ایک تاریخ جو ہم نے دی ہے اس پر ایک پارٹی کے علاوہ سب متفق ہیں مذاکرات کرانا آپ کا کام ہے،ہم اس پر کوئی وضاحت نہیں چاہتے، ہم یہاں پر اس لئے ہیں کہ آپ ہمیں اس کا حل نکال کر بتائیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کے لئے وقت دیں، 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا، 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کیلئے با اختیار نہیں ہیں،گزشتہ روزحکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر اعتراض تھا لیکن راستہ نکالا گیا، چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں،چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد قیصرکے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کیلئے با اختیار ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کیلئے با اختیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کو کس حیثیت سے رابطہ کیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 19 اپریل کو چیمبر میں آپ سے ملاقات ہوئی ، ہمارے ایک ساتھی کی عدم دستیابی کے باعث چار بجے سماعت نہیں ہوئی تھی ، فاروق نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سہولت کاری کریں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نہ حکومت کے نمائندے ہیں نہ اپوزیشن کے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینٹ اجلاس بلائیں گے اس میں بھی وقت لگے گا ، فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ تمام حکومتی اتحادی جماعتیں پی ٹی آئی سے مذاکرات پر آمادہ ہیں،سینٹ واحد ادارہ ہے جہاں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے، ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف آئین پر عمل چاہتی ہے تا کہ تنازعات کا حل نکلے، عدالت کو کوئی وضاحت نہیں چاہیئے صرف حل بتائیں،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ‏پی ڈی ایم میں مذاکرات کے معاملے پر اختلافات ہیں،انگریزی نہیں اردو میں بات کروں گا، اس وقت تک جب میں عدالت میں کھڑا ہوں، پی ڈی ایم نے مذاکرات کے لئے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت کے اسرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی،پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا ،سپریم کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے صرف سینیٹرز کے نام مانگے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔مذاکرات سیاسی جماعتوں کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیںسیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسئلہ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ لگتا ہے حکومت صرف پاس پاس کھیل رہی ہے، ہم آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں کر سکتے، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ پارلیمان میں کہا گیا کہ ججز کو استحقاق کمیٹی میں بلایا جائیگا ،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی باتیں نہ کریں،ان کو چھوڑ دیں،ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ اب کیا چاہتے ہیں،عوام کی فلاح وبہبود اور ان کے ووٹ کے حق کے لئے کسی حل پر پہنچتے ہیں تو بہتر ہے، اگر کسی حل پر نہیں پہنچتے تو جیسا چل رہا ہے ویسے چلے گا،شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے موقع دیا، ہم نے اتفاق رائے کیلئے ایک صفحے پر جواب تیار کیا، وہ میڈیا کو نہیں دوں گا، عدالت چاہے تو اُسے دے دوں گا، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے ، قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی ، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی،

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ایک ماحول بنانا پڑتا ہے،ایسی باتیں نہ کی جائیں جس سے ماحول خراب ہوں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کام میں صبر اور تحمل چاہئے،اِن کو بھی یہی تلقین کرینگے کہ صبر و تحمل ہو،گزشتہ سماعت پر یہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ ایک دن الیکشن ہوں،مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم نہیں صرف تجویز ہے،تحریک انصاف والے چاہتے ہیں آج ہی مذاکرات ہوں ، ہم نے حکومت کو دیکھنا ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا کر رہی ہے، مذاکرات کیلئے نام دینے میں کیا سائنس ہے؟ کیا حکومت نے اپنے 5 نام دئیے ہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو 3 نام دے دے،پانچ لازمی دیں ،حکومت کے نام تین چار گھنٹے میں فائنل ہو جائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج توقع تھی کہ دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ دونوں کمیٹیوں کی آج پہلی ملاقات ہوجائے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ دونوں فریقین متفق تو حل نکل آئے گا، فواد چودھری ے کہا کہ سپریم کورٹ بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتی،سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں ملنا چاہیے،ایسے ہوا تو کوئی بھی حکومت الیکشن کیلئے فنڈز جاری نہیں کرے گی، پارلیمان اور عدالت نہیں سپریم صرف آئین ہے، سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،

    کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب حکم جاری کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کو علم ہے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، خدا کے واسطے آئین کے لئے اکٹھے بیٹھ جائیں،ہم اس کے بعد ایک آرڈر جاری کرینگے، عدالت کوئی ٹائم لائن نہیں دے گی، مناسب حکم جاری کریں گے،

    پاکستان تحریک انصاف کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں، اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم مزاکرات کے لیے ہر طرح سے تیار ہیں، یہ لوگ مزاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہے یہ عوام سے بھاگے ہوئے لوگ ہیں ،سینٹ کمیٹی کو تحریک انصاف نے مسترد کردیا ہے یہ معاملہ سینیٹ کا نہیں ہے اسلیئے ہمارا واضح موقف ہے کہ آج سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ دیکھنا ہے۔

    اس موقع پر سپریم کورٹ کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کیس: سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ آج ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ سماعت سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے اٹارنی جنرل کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کو اہم ہدایات جاری کیں، اٹارنی جنرل عدالت میں حکومتی موقف پیش کریں گے،

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی تجویز مسترد کر دی ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کے مطابق انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کرنے کی تجویز گزشتہ روز کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل نے دی تھی کابینہ کی رائے میں نظرثانی دائر کرنے کا مطلب فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا نظرثانی دائر کردی تو یہ فیصلہ 3-4 کا ہونے کے موقف کی نفی ہوگی ذرائع نے بتایا کہ کابینہ ارکان کی رائے کے مطابق اکثریتی فیصلے میں انتخابات کا حکم ہی نہیں تو نظرثانی کس بات کی؟

    علاوہ اذیں سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون 2023 کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ،درخواست میں وفاقی حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی، وزیر قانون، وزیراعظم اور صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست تحریک انصاف کے وکیل ایڈووکیٹ اظہرصدیق کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے ، دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون غیرآئینی و غیر قانونی ہے درخواست میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کوعدالتی فیصلہ تک معطل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو گزٹ نوٹیفکیشن کے لئے قانون پر دستخط سے روکا جائے، قانون کو کالعدم قراردیا جائے ،

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ،یہ لوگ زاتی مفادات کے لیئے عدالتوں پر حملہ آور ہیں آج توہین عدالت کی کاروائی شروع نہیں ہوئی تو بہت حیران کن بات ہوگیعمران خان کے خوف سے یہ لوگ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں کل اسمبلی میں غیر آئینی اجلاس ہوا

    واضح رہے کہ چار اپریل کو تین رکنی بینچ نے حکومت کو 27 اپریل تک انتخابات کے لیے 21 ارب روپےکے فنڈز فراہم کرنےکی رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا تھا الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کی تیسری مہلت بھی گزر گئی، سپریم کورٹ نے حکومت سے فنڈز جاری کرنےکی رپورٹ آج طلب کر رکھی ہے

  • اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    اسمبلی قانون پاس کرچکی،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان

    سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدالت کہہ رہی ہے کہ عمران خان سے بات کریں ، جس کو نااہل ہونا چاہیے تھا سپریم کورٹ اسے سیاست کا محور بنا رہی ہے

    مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی قانون پاس کر چکی ہے ،عدالت کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کا احترام کرنا ہوگا ہم انصاف کو مان سکتے مگر چیف جسٹس کے ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کر سکتے ،عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچائیت ہے ۔ اگر عمران خان کسی ایک تاریخ پر رضا مند ہے تو وہ تاریخ کورٹ کو قبول ہے یہ کیسی کورٹ ہے ۔ عدالت ہمیں جو دھونس دکھا رہی ہے وہ نہیں دکھا سکتی ۔ اسے پارلیمینٹ کا احترام کرنا ہوگا ۔ پہلے ہمیں بندوق کے زور پر کہا جاتا تھا – اب ہتھوڑے کے زور پر کہا جا رہا ہے کہ بات کرو ہم ججز کا ہتھوڑا قبول نہیں کریں گے ،ایک شخص کی محبت میں آپ پاکستان کی انتہائی معزز کرسی پر بیٹھ کر ہماری سیاست کی توہین کررہے ہیں ۔ ہم عمران خان کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ہم اس سے بات کریں ،اتحادیوں سے کہا بنچ پر پارلیمنٹ عدم اعتماد کرچکی ہے ،وزیر قانون اور اٹارنی جنرل ان کو بتا چکے ہیں کہ آپ پر اعتماد نہیں ، کیا اس بنچ کے سامنے پیش ہو کر یقین دہانیاں کراؤں ، آج عدالت کے سامنے پیش ہونے والے پارٹیوں نے پارلیمان کی توہین میں برابر کا حصہ ڈالا ہے سپریم کورٹ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے عدالت نے خود جبر کا فیصلہ کیا اب ہم سے راستہ مانگ رہی ہے ہم کیوں راستہ دیں اپنا فیصلہ خود واپس لیں ،عمران خان کے ساتھ بات چیت نہیں ہو سکتی ،عمران خان نے جرائم کیے وہ نااہل ہیں ،انصاف کو تسلیم کریں گے

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو ٹیلیفون کیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ، اور کہا کہ جلد بازی کے بجائے عدالت سے عید کے بعد کا وقت لیا جائے ، پی ٹی آئی کی سب باتیں ماننی ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے ،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں

  • جبر سےالیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ،قابل قبول نہیں ہوگا،سعید غنی

    جبر سےالیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ،قابل قبول نہیں ہوگا،سعید غنی

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ پنجاب میں جو جماعت اکثریت حاصل کرے گی، اس کا اثر چھوٹے صوبوں پر ہوگا،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ عدالتیں جب حالات کو دیکھ کر فیصلے کرتی ہیں، انہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے،اگر الیکشن ہونا ہے تو پورے ملک میں ایک ساتھ الیکشن ہونا چاہیئے اگر جبر سے الیکشن مسلط کیا گیا تو وہ ون یونٹ ہوگا۔ یہ سندھ کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا، سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کی آواز کو سپریم کورٹ کے ججز کو سننا چاہیئے ،غیر متنازع ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے، اگر متنازع ججز اور چیف جسٹس کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے، یہ تاثر کیوں ہے ملک میں جوڈیشل مارشل لاء ہے، الیکشن کمیشن عدلیہ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، چیف جسٹس نے اگر اسپیکر کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے، کوئی جج اور پارلیمنٹ ایسا نہیں کہہ سکتا ہے،

    سعید غنی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عدلیہ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، چیف جسٹس نے اگر اسپیکر کو کہا ہے کہ پارلیمنٹ اچھے قوانین بنائے، کوئی جج اور پارلیمنٹ ایسا نہیں کہہ سکتا ہے، سپریم کورٹ کو آئین کے تحت فیصلے کرنے کا اختیار ہے پنچائیت لگانے کا اختیار نہیں، میں سمجھتاہوں سپریم کورٹ کا اسرار کرنا کہ پنجاب میں انتخابات کروائے جائیں، ہمیں یہ منظور نہیں ،پنجاب کی قومی اسمبلی میں نشستیں اہمیت رکھتی ہیں، پنجاب میں کسی بھی جماعت کی حکومت بن جاتی ہے اس کے اثرات پڑیں گے،بلوچستان اور سندھ جب چاہتے ہیں کہ ملک میں انتخابات ایک دن ہی رکھے جائیں تو ضد کیوں، سپریم کورٹ میں بیٹھے ہوئے ججز کو ہمیں سننا پڑے گا ہرمسئلے کا حل فل کورٹ ہے،سیاستدانوں سے زیادہ معاملہ فہم کوئی نہیں ہوسکتا، ملک میں ہیجان اور بحران عدالتی فیصلے کی وجہ سے ہے سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں،عمران خان کا مزاج کسی بھی طور پر سیاسی نہیں، اس نے ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر ملک کو بحرانوں میں دھکیلا ہے،اگر کسی شخص کی سوچ یہ ہو تو ہم اس کو سیاستدان کیسے کہہ سکتے ہیں،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

  • اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےمزید وقت مانگ لیا ، اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ سیاسی قائدین کے درمیان مشاورت جاری ہے ،کچھ وقت مزید دیا جائے،

    سپریم کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت چار بجے ہونی تھی،تا ہم ابھی تک دوبارہ سماعت شروع نہیں ہو سکی،

    قبل ازیں انتخابات ایک ہی روز کرانے سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں،ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے،سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے عدالت اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی،صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے،قوم میں اضطراب ہے،سیاسی قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا،عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی قائدین افہام و تفہیم سے مسلہ حل کریں تو برکت ہو گی

    اٹارنی جنرل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شاہ خاور نے عدالت میں کہا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں، چیف جسٹس عمر رطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کا تشریف لانے پر مشکور ہوں،

    پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عدالت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں، شاہ محمود قریشی نے عدالت میں کہا کہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں ، ملک نے آئین کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،ہمیشہ راستہ نکالنے اور آئین کے مطابق چلنے کی کوشش کی،قوم نے آپ کا فیصلہ قبول کیا ہے، دیکھتے ہیں کی حکومت کا کیا نقطہ نظر ہے، ہماری جماعت آئین کے تحفظ پر آپ کے ساتھ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں ہوں، درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نظر ہوگیا،فاروق نائیک بھی چاہتے تھے لیکن بائیکاٹ ہوگیا،اخبار کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائد بھی مذاکرات کو سراہتے ہیں،ن لیگ نے بھی مذاکرات کی تجویز کو سراہا ہے، آج 29 ویں رمضان ہے، ہمارے سامنے ایک بریفنگ دی گئی ، درخواست گزار بھی ایک ہی دن میں الیکشن چاہتے ہیں ،وزارت دفاع نے بھی بہت اچھی بریفنگ دی ،فاروق ایچ نائیک نے بھی کہا تھا کہ ایک ساتھ انتحابات ہوں،آصف زرداری کے مشکور ہیں انھوں نے ہماری تجویز سے اتفاق کیا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق، قمر زمان کائرہ، طارق بشیر چیمہ بھی آئے ہیں،ایم کیو ایم سے صابر قائم خانی، ایاز صادق اور بی این ہی بھی موجود ہیں،حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے، عدالت دو مرتبہ 90دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے ،سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات کام شروع کر چکی ہے ،بلاول بھٹو نے اسی سلسلے میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، عید کے فوری بعد سیاسی ڈاٸیلاگ حکومتی اتحاد کے اندر مکمل کرینگے،پی ٹی آٸی سے پھر مذاکرات کرینگے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو ،ہماری کوشش ہوگی کہ ان ڈاٸیلاگ سے سیاسی اتفاق رائے پیداہو ،الیکشن جتنی جلدی مکمن ہو ایک ہی دن ہونے چاہیے ، ہم چاہتے ہیں کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر الیکشن ہونے چاہیں،

    ن لیگی رہنما، خواجہ سعد رفیق نے عدالت میں کہا کہ ہم قیادت کے مشورے کے آپ کے سامنے آئے ہیں، ملک میں انتشار اور اضطراب نہیں ہونا چاھیے، یقین رکھتے ہیں کہ ایک ہی دن الیکشن ہونے چاھیے، ہم مقابلے پر نہیں مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، ہم سیاسی لوگوں کو مزاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاھیے ہم نے عید کے بعد اتحادیوں کا اجلاسں بلایا ہے، اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ریاستی اداروں کا وقت ضائع کرنے کی بجائے سیاست دانوں کو خود بات کرنی چاہیئے، عدالت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بغلگیر ہوئے ہیں، میڈیا پر ہونے والے جھگڑے اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنے لگتے ہیں،

    ایاز صادق بی این پی منگل کی نمائندگی کے لئے روسٹرم پر آگئے ،اور کہا کہ بی این پی والے چاغی میں تھے اس لیئے مجھے پیش ہونے کا کہا گیا، پی ٹی آئی سے ذاتی حیثیت میں رابطہ رہتا ہے آئندہ بھی رہے گا،

    پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر ذمان کائرہ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی گفتگو سے مکمل اتفاق کرتا ہوں تلخی بہت زیادہ ہے، وجوہات سے پورا ملک آگاہ ہے، بطور سیاسی جماعت حکومتی اتحادی سے پہلے بات کا آغاز کیا، جب ملک میں تلخیاں بڑھیں تو بیٹھ کر سیاسی قوتوں کو حل نکالنا پڑا، پیپلز پارٹی کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں، کوشش ہے کہ جلد از جلد انتخابات پر اتفاقِ رائے ہوجائے، عدالت اور قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں ملک کیلئے بہتر فیصلے کریں گے،

    طارق بشیر چیمہ بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، مجھے چوہدری شجاعت نے پیش ہونے کا حکم دیا تھا، پہلے دن سے مزاکرت کا عمل شروع ہو ، ملک میں ایک دن میں الیکشن ہونا چاہیئے۔ یہ بہت سے اختلافات کو ختم کردیگا ،یقین دلاتا ہوں کہ ایک دن الیکشن کرانے کی سپورٹ کرتے ہیں ، آپ فیصلہ کرینگے تو اس پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن اگر ہم کرینگے تو پھر سب کے لئے بہتر ہوگا ، عدالت کا فیصلہ کسی کو اچھا لگے گا کسی کو برا، سیاسی قائدین کا مشترکہ فیصلہ قوم کو قبول ہوگا،

    شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آگئے۔ اور کہا کہ کسی کی خواہش کا نہیں آئین کا تابع ہوں، سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، عدالت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ اور ائین کا تحفظ کیا تلخی کی بجائے اگے بڑھنے کیلئے آئے ہیں، سیاسی قوتوں نے ملکر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے،پارٹی کا نقطہ نظر ہیش کرچکا ہوں، ایک سیاسی پہلو ہے دوسرا قانونی،آئین 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے واضح ہے،مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے ، مذاکرات آئین سے بالا نہیں ہو سکتے ،عدالت نے زمینی حقائق کے مطابق 14 مئی کی تاریخ دی ،مذاکرات تو کئی ماہ اور سال چل سکتے ہیں، حکومت کا یہ تاخیری حربہ تو نہیں ہے۔ اعتماد کا فقدان ہے ،حکومت اپنی تجاویز دے جائزہ لیں گے ، عمران خان کی طرف سے کہتے ہیں کہ راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے ، عدالت نے 27 اپریل تک فنڈز فراہمی کا حکم دیا ، عدالتی حکم پر پہلے بھی فنڈز ریلیز نہیں کیئے گئے، پارلیمنٹ کی قرارداد آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتی، مناسب تجاویز دی گئیں تو راستہ نکالیں گے، انتشار چاہتے ہیں نہ ہی آئین کا انکار،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،

    سعد رفیق دوبارہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ عدالت کو ڈیبیٹ کلب نہیں بنانا چاہتے، مل بیٹھیں گے تو سوال جواب کریں گے، عدلیہ اور ملک کے لیے جیلیں کاٹی ہیں ماریں بھی کھائی ہیں، آئینی مدت سے ایک دن بھی زیادہ رہنے کے قائل نہیں ہیں ،۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں ٹاک شو یا مکالمہ نہیں کرنا چاہتے۔ ملک میں ایک ساتھ بھی الیکشن ہوئے اور مقررہ تاریخ سے اگے بھی گئے آئین بنانے والے اسکے محافظ ہیں ، آئین سے باہر جانے والوں کے سامنے کھڑے ہیں ،قمر الزمان کائرہ نے عدالت میں کہا کہ تلخ باتیں یہاں کرنا بہتر نہیں،شاہ محمود قریشی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جواب الجواب ہم بھی دے سکتے ہیں

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ قوم عدالتی فیصلوں کو سلام پیش کرتی ہے۔عدالت کا فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہوگا۔ یہ نہ ہو مذاکرات میں چھوٹی اور بڑی عید اکھٹی ہوجائے۔سیاستدان مذاکرات کا مخالف نہیں ہوتا۔ لیکن مذاکرات با معنی ہونے چاہیں ایک قابل احترام شخصیت نے آج بائیکاٹ کیا ہے ،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سپریم کورٹ میں کہا کہ قوم کی جانب سے عدالت کا مشکور ہوں کل پاک افغان بارڈر پر تھا، پوری رات سفر کر کے عدالت پہنچا ہوں، قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کاروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، مذاکرات کرنا آپشن نہیں اللہ کا حکم ہے ، آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں ایا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا یے،دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے، 1977 میں نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور احتجاج شروع ہوگیا، 1977 میں سعودی سفیر اور امریکی سفیر نے مذاکرات کی کوشش کی تھی،مذاکرات ناکام ہوئے تو مارشل لاء لگ گیا، 90 کی دہائی میں ن لیگ اور پی پی پی کی لڑائی سے مارشل لاء لگا، آج ہمیں اسی منظر نامے کا سامنا ہے،امریکہ ایران اور سعودی عرب اب پاکستان میں دلچسپی نہیں لے رہے،اپنا گھر خود سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، نیلسن منڈیلا کیساتھ ڈیکلار نے تیس سال لڑائی کے بعد مذاکرات کیے گئے ، نیلسن منڈیلا نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈیکلار رکھا ،پاکستان جہموری جدوجہد کے نتیجے میں بنا کسی جنرل نے نہیں بنایا ،آمریت نہ ہوتی تو ملک نہ ڈوبنا ، خیبر پختونخواہ میں کسی نے پی ٹی آئی سے استعفی دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا ، دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر عوام حیران ہے ، خیبر پختون خواہ والوں نے خلاف روایت دوسری مرتبہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا

    سراج الحق نے سپریم کورٹ میں اپنے موقف میں کہا کہ میں نے وزیراعظم اور عمران خان سے ملاقات کی،مسائل کا حل صرف الیکشن ہیں، اور کوئی راستہ نہیں، عمران خان کو کہا نہیں چاہتا ملک میں 10 سال مارشل لاء لگے،عمران خان نے کہا میری عمر اس سے زیادہ نہیں، میں بھی یہ نہیں چاہتا، کسی کی ذاتی خواہش پر الیکشن نہیں ہوسکتے،90 دن سے الیکشن 105 دن پر آ گئے، اگر 105 دن ہوسکتے ہیں تو 205 دن بھی ہوسکتے ہیں، میڈیا نے پوچھا کیا آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے اشارہ کیا ہے، میرا مؤقف ہے عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور ہونا چاہیے، ہر کسی کو اپنے مؤقف سے ایک قدم ہیچھے ہٹنا ہوگا، مسائل کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی نہیں ہوئے،سیاسی جماعتیں کبھی الیکشن سے نہیں بھاگتیں، ہمارا موقف کبھی ایک کو اچھا لگتا ہے کبھی دوسری جماعت کو،سیاسی لڑائی کا نقصان عوام کو ہے جو ٹرکوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ،ایک کلو آٹے کے لیے لوگ محتاج ہیں، ایک من آٹے کی قیمت 6500 ہو گئی ہےلوگوں کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو چکی ہے ہمیں نگران حکومتوں نے ڈسا ہے تو منتخب حکومت کیسے شفاف انتخابات کرا سکتی ہے؟

    سراج الحق نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پشتو میں جواب دیا کہ پشتو سمجھتا ہوں، ہم پر لیبل نہ لگائیں، ہم پاکستانی ہیں، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ گندم کی کٹائی اور حج کا سیزن گزرنے دیا جائے، بڑی عید کے بعد مناسب تاریخ پر الیکشن ہونا مناسب ہوگا، عدالت یہ معاملہ سیاست دانوں پر چھوڑے اور خود کو سرخرو کرے،عدالت پنجاب میں الیکشن کا شیڈول دے چکی ہے،

    عمران خان کے وکیل سلیمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عید کی چھٹیوں میں ذمان پارک میں آپریشن کا خطرہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کاروائی میں آپریشن کا معاملہ نہیں دیکھ سکتے،اپ نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے تاحال حکم جاری نہیں کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا حکم آ جائے گا، ایک تجویز ہے کہ عدالت کاروائی آج ختم کردے، تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے،آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے،آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی،
    الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا،13 دن کی تاخیر ہوئی تب عدالت نے حکم دیا، الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کے لیے بااختیار ہے، پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن رجوع کرے عدالت مؤقف سن لے گی

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دے دیا، عدالت نے عید کے بعد کا وقت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور سیاسی جماعتوں کو فوری طور پر بیٹھنے کا حکم دے دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، 1970 اور 71 کے نتائج سب کے سامنے ہیں، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے، سراج الحق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے،بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کوئی اور تھی، ہم 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے رہے ، 14 مئی کی تاریخ برقرار ہے اور رہے گی ،یاد رکھنا چاہیئے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے، یقین ہے کہ کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا، آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا، مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی ،دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، گزارش ہو گی کہ پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں، جولائی میں بڑی عید ہو گی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں،عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے

  • ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست،سیاسی رہنما پہنچے سپریم کورٹ

    ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کی درخواست پرسپریم کورٹ میں سماعت آج ہوگی،سیاسی جماعتوں کے قائدین سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،

    وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڈ, ایاز صادق اور طارق بشیر چیمہ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تاررڈ اور پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ پہنچ گئے ،بڑی تعداد میں وکلاء بھی موجود ہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔تمام سیاسی جماعتوں کو آج کی سماعت کے لیئے نوٹس جاری کیئے گئے تھے

    وفاقی وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اظہار یکجہتی کے طور پر آیا ہوں،سیاسی لوگ ہیں جن کے اپنے کچھ تحفظات ہیں مذاکرات سے کبھی پیچھے ہٹے ہیں نہ ہٹنا ہے،

    وفاقی وزیر پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت بھی مذاکرات سے مسائل کے حل کیخلاف نہیں،صبروتحمل سے ایک دوسرے کی بات سن کر آگے بڑھناہوگا،ہم نے مذاکرات کی بات کی ،عمران خان نے جارحانہ انداز اپنایا،سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر بڑے بڑے مسائل حل کیے ہیں، ہم پیپلز پارٹی والے عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے موجودہ حدت کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے، سیاست میں کبھی سونامی اور جنون کے الفاظ استعمال کیا جارہا ہے،

    امیرجماعت اسلامی سراج الحق بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی افراتفری اور آئینی بحران کی وجہ سے ہماری معیشت خراب ہو رہی ہے،سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اداروں سمیت غریب آدمی پر برا اثر پڑ رہا ہے،لوگوں کے پاس کھانے کے ذرائع ختم ہوگئے ہیں ،سیاست دانوں کی آپس کی لڑائی سے عوام متاثر ہورہی ہے الیکشن کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں ہے،ہم سب اس کے اسٹیک ہولڈرز ہیں،ہم ایک ایسی تاریخ چاہتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مخلصانہ تجویز دیتے ہیں کہ مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہوں، سیاسی جماعتیں مل کر تاریخ طے کریں

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

     

  • الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم پارلیمانی کمیٹی نے کیں منظور

    الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم پارلیمانی کمیٹی نے کیں منظور

    الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم پارلیمانی کمیٹی نے کیں منظور

    پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات نے مجوزہ ترامیم کی منظوری دیدی ہے جن کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان صدر کی بجائے چیف الیکشن کمشنر کر سکیں گے

    پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کا اجلاس ہوا جس میں چیف الیکشن کمشنر کی مجوزہ ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن ایکٹ کی شق 57 ون اور 58 میں ترامیم منظور کر لی ہیں۔ آئین میں ان ترامیم سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کا اختیار صدر کی بجائے چیف الیکشن کمشنر کے پاس چلا جائے گا

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی رہنما جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ مفتی عبدالشکور ایک بہادر انسان تھے ،زور وشور سے بات کی جاتی ہے کہ 90 میں الیکشن ہونے چاہیئے، کیا جسٹس منیر سے شروع ہونے والا سلسلہ جاری رہے، دو جونیئر ججز کو سپریم کورٹ کو بنانے کیلئے حکومت وقت اور طاقتور لوگوں نے کہا، اگر انصاف دینے فراہم کرنے والے میرٹ کے بغیر آئیں گے تو آج کس بات کا رونا ہے، کس بات کا رونا ہے کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا، وہ دو جج صاحبان جج بنے تو طاقتور لوگوں نے کونسی بات کی جو آج نہیں ہورہی،وزیر قانون صاحب کو یہ بتانا چاہیئے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

    علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس ہوا جس میں قومی احتساب ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کر دیا گیا،بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا اور کہا کہ میری گزارش ہے بل کو کمیٹی میں بھیجنے کی بجائے منظور کیا جائے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ میں اس بل کی مخالفت کرتا ہوں، اس بل کی منظوری کے بعد نیب میں کرپشن مزید بڑھے گی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مشتاق احمد صاحب گزارش ہے بل کو پڑھ کر آیا کریں،محض ٹی وی کی خبر کے لئے ایسا نہ کیا کریں، آپ قانون سازی کا مذاق اڑا رہے ہیں،عدالت نے شاید یہ سمجھ لیا کہ ان کے اختیارات ختم کردیے گئے،

    قومی احتساب ترمیمی بل 2023 ایوان سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کی منظوری کے خلاف اپوزیشن نے شورشرابہ کیا اور اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

  • قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ،پنجاب،کے پی الیکشن کیلئے فنڈ دینےکا بل مسترد

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ،پنجاب،کے پی الیکشن کیلئے فنڈ دینےکا بل مسترد

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے فنڈ دینےکا بل مسترد کردیا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا،وزارت خزانہ نے پنجاب الیکشن کے لیے فنڈز کی فراہمی سےمعذرت کرلی ،وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ملک کی مکمل مالی صورت حال آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ،ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں مالی خسارہ ہدف میں رکھنے کے پابند ہیں ، پیٹرولیم سبسڈی اسکیم تھی مگر اس کے عمل درآمد کا کوئی طریقہ کار نہیں ،آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ طریقہ کار تیار کریں گے تو اعتماد میں لیا جائے گا پاکستان آئی ایم ایف کے سخت پروگرام میں ہےہمیں فنڈ کی قلت اور بھاری خسارے کا سامنا ہے، ہمارے پاس مختص بجٹ کے علاوہ اضافی فنڈ دستیاب نہیں ہیں-

    وجیہہ قمر نے کہا کہ اس وقت خزانہ کی صورتحال عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے ، سید حسین طارق نے کہا کہ وزارت خزانہ قائمہ کمیٹی کو بتائے کہ کیا وہ پیسے فراہم کر سکتی ہے ، خالد مگسی نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث سیلاب سے متاثرہ بلوچستان اور سندھ کو امداد نہیں ملی ،چیئرمین قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران میں گزر رہاہے ، اگر وزیر خزانہ نہیں آتے تو میں چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دوں گا ،گزشتہ ایک سال سے نیشنل بینک اور زرعی ترقیاتی بینک کا سربراہ نہیں لگایا گیا جو 13 فیصد پر ہاٹ منی ڈالر آئے اس سے فائدہ اٹھانے والے کون تھے ؟ اختیارات وزیر خزانہ کے پاس ہیں وہ آ کر کمیٹی کو اصل صورتحال بتائیں، علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیر مملکت خزانہ بتائیں کہ کیا حکومت یہ رقم دے سکتی ہے کہ نہیں ،

    عدالت نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا

    وزیر مملکت خزانہ کا کہنا تھا کہ اضافی فنڈ فراہم کیے تو یہ آئی ایم ایف پروگرام سے تجاوز ہوگا، آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ خسارے تک محدود رہنا چاہتے ہیں،ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، مالی خسارہ ہدف میں رکھنے کے پابند ہیں، آئی ایم ایف کوبتایا ہے جب وزارت پیٹرولیم قابل عمل طریقہ کار تیار کرلےگی تو انہیں بھی اعتماد میں لیا جائےگا۔

    ممبر کمیٹی خالد مگسی نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث سیلاب سے متاثرہ بلوچستان اور سندھ کو امداد نہیں ملی ، انتخابات کے لیے اتنی بڑی رقم سے دونوں صوبوں میں مایوسی پھیلےگی۔سیکرٹری الیکشن کمیشن عمرحمید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 21 ارب کی فنڈنگ پر جواب دینا ہے، الیکشن کے لیے بجٹ میں صرف 5 ارب روپے جاری ہوئے۔

    عبوری ضمانت کیلئےعثمان بزدار کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم

    ممبر کمیٹی برجیس طاہر نے کہا کہ ہمارے تحفظات ضرور ہیں وزیر خزانہ ممبران کمیٹی کو اعتماد میں لیں ،بل ابھی پاس نہیں ہوا ، سپریم کورٹ میں آٹھ جج بیٹھ گئے ہیں ،حکومت کو کہتے ہیں کہ بلیک میلنگ پر کوئی رقم نہ دیں ہم الیکشن کمیشن کو ان حالات میں پیسے نہیں دے سکتے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آپ سن لیں آپ کے لیے پیسے نہیں ہیں، الیکشن ایک وقت میں کرائیں ورنہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھےگا، صرف پنجاب میں الیکشن ملک اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں، سپریم کورٹ کے 8 ججز کو صرف پنجاب کے الیکشن کی فکر ہے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حیات نے کہا کہ ہمیں بھی فنانس ڈویژن کے حالات معلوم ہیں،ہم نے کل سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرنا ہے ، وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں مالی خسارہ نہیں بڑھا سکتے ،چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ کیا ماضی میں بھی ایسا منی بل آیا؟ اس کی اب کیوں ضرورت پیش آئی؟ اس پر حکام وزارت قانون نے بتایا کہ منی بل پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پیش ہو جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی …

    خالدجاوید نے کہا کہ اس بل کو مسترد کریں ، برجیس طاہر نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کیلئے فنڈز کی فراہمی کو مسترد کرتے ہیں ،

  • کراچی بلدیاتی الیکشن،عدالت کا چھ یونین کونسلز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا عندیہ

    کراچی بلدیاتی الیکشن،عدالت کا چھ یونین کونسلز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا عندیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، جماعت اسلامی کی کراچی کی چھ یونین کونسلز میں دوبارہ گنتی روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے چھ یونین کونسلز میں دوبارہ پولنگ کا حکم دینے کا عندیہ دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوبارہ پولنگ کا حکم دینے سے قبل مدمقابل امید واروں کو بھی سن لیتے ہیں ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو چھ امیدوار مقابلے میں تھے انھیں نوٹس کردیتے ہیں ، آئیندہ سماعت 19 اپریل تک دوبارہ گنتی روکنے کے عدالتی حکم میں توسیع کر دی گئی ،جماعت اسلامی کی جانب سے وکیل قیصر امام، حسن جاوید شورش پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کی جانب سے سعد حسن عدالت کے سامنے پیش ہوئے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی

    وکیل قیصر امام نے کہا کہ کراچی کی چھ یونین کونسلز میں ووٹوں کے تھیلے کھل چکے تھے ،فارم 12 بھی فراہم نہیں کیا گیا ، دھاندلی کے واضح شواہد موجود ہیں ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو الیکشن کمیشن کو دوبارہ پولنگ کی جانب جانا چاہیئے تھا ، صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے عدالت نے چھ یونین کونسل میں مخالف امیدواروں کو نوٹس جاری کردیا ،کیس کی مزید سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

    حلقہ بندیوں میں تحفظات کے باوجود بھی ہم الیکشن میں گئے،