Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    باغی ٹی وی : ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات صرف الیکشن پر ہی ہو سکتے ہیں اور ان مذاکرات کا بھی وہ خود حصہ نہیں بنیں گے میں نے ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا، ہماری ٹیم بیٹھے گی لیکن بات صرف الیکشن کی ہے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بڑی بڑی باتیں چھوڑیں، پہلے تو آئیں الیکشن کے اوپر اگر آپ الیکشن ہی نہیں کروا سکتے تو کون سا ڈائیلاگ کرنا ہے کسی سے۔

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. امان اللہ کنرانی

    چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے اگر انتخابات 90 دن میں نہیں ہوتے تو پھر اکتوبر میں کیوں ہوں؟ پھر کہیں گے اگلے سال بھی کیوں ہوں؟ پھر تو جو طاقت ور فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔

    پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اطمینان کے اظہار پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا تاہم ساتھ ہی عمران خان نے ساتھ ہی قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر دینے کی تردید کر دی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا چلاتھا کہ شہبازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو توسیع کی پیشکش کر دی ہے تو میں نے کہا اگر وہ توسیع دے رہے ہیں تو ہم بھی آپ کو دے دیتے ہیں، جنرل باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا، ہر انسان غلطیاں کرتا ہے مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں یہ جھوٹ ہے کہ ہم نے جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیشکش کی –

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. …

    انہوں نے بتایا کہ اقتدار کے بعد میری ان سے دو میٹنگ ہوئیں جس کا مقصد الیکشن کرانا تھا، میں نے ان کو کہا کہ ملک نیچے جا رہا ہے سوائے الیکشن کے کوئی راستہ نہیں، جب انہوں نے ہمارے اتحادیوں کو لوٹے بنا کر دوسری طرف بھیجا تو میں نے الیکشن کا اعلان کر دیا سوموٹو ایکشن لیا گیا، 12 بجے عدالتیں کھلیں، ہمارے الیکشن کے اعلان کو رد کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ شروع میں جنرل باجوہ اور ہم خارجہ پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر ایک صفحے پر تھے، آخری 6 ماہ میں چینج آیا، خارجہ پالیسی میں بھی ایک دم تبدیل ہوگئے، ہم چاہتے تھے کہ یوکرین جنگ میں ہم نیوٹرل رہیں، ایک دم ان کو یہ ہوا کہ ہمیں روس کی مذمت کرنی چاہیے یہ ساری گیم اپنی توسیع کیلئے ہوئی تھی، شہباز شریف سے انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کو توسیع مل جائے گی۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی …

    عمران خان نے کہا کہ توسیع کے بعد جنرل باجوہ نے این آرو کی بات کی، پہلے کبھی نہیں کی ضمنی انتخابات میں عوام نے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی، واضح ہوگیا کہ 2018 کے الیکشن میں ہمیں عوام نے جتوایا تھاہمارے ورکرز پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ان چوروں کو قبول کر لیں۔

  • سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے.جسٹس یحیٰی آفریدی کا تفصیلی نوٹ جاری

    پنجاب اورخیبرپختونخوا انتخابات کیس میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے تفصیلی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے تفصیلی نوٹ میں کہا ہے کہ انتخابات کا معاملہ لاہوراور پشاور ہائیکورٹس میں زیر التوا ہے سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی کہ معاملہ ہائیکورٹ میں ہو تو مداخلت نہیں ہو سکتی انتخابات کیس میں فریقین سیاسی موقف تبدیل کرتے رہے ہیں سیاسی معاملہ عروج پر ہو تو عدالت کو مداخلت سے گریز کرنا چاہئے،ازخودنوٹس اور آئینی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، سپریم کورٹ کا از خود نوٹس خارج کیا جاتا ہے۔

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں یہ بھی کہا کہ ازخود نوٹس اور آئینی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں خود کو بینچ کا حصہ رکھنے کا معاملہ چیف جسٹس پر چھوڑتا ہوں

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

    واضح رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں الیکشن بارے سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا، کیس کی سماعت کے لئے نو رکنی بینچ تھا تا ہم آج کے دن میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل اور سیاسی جماعتوں نے فل کورٹ کی استدعا کی جو مسترد کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے پیر کو سیکرٹری دفاع، خزانہ کو طلب کر لیا

  • سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ، انتخابات کیس،بینچ پھر ٹوٹ گیا، جسٹس جمال مندوخیل الگ ہو گئے

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل دے دیا ہے.

    کیس پر سماعت جمعہ کے بعد دو بجے ہو گی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ دوپہر دو بجے دوبارہ سماعت کا آغاز کر ے گا، بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے ،الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بینچ سماعت کیلئے کمرہ عدالت میں آیا تو جسٹس جمال مندو خیل نے کیس سننے سے معذرت کی اور کہا کہ مجھے گزشتہ روز کے حکم نامے کا انتظار تھا عدالتی حکم نامہ مجھے کل موصول ہوا، میں نے الگ سے اختلافی نوٹ بھی لکھا ہے جسٹس مندو خیل نے اٹارنی جنرل کو اختلافی نوٹ پڑھنے کیلئے کہا جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں بینچ کا ممبر تھا تحلیل کرتے ہوئے مشاورت نہیں کی گئی میں کل بھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا فیصلہ لکھواتے وقت مجھے مشورے کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا میں سمجھتا ہوں کہ بینچ میں مس فٹ ہوں

    قبل ازیں پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے لئے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے چار رکنی بنچ تشکیل دیا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال ،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے سپریم کورٹ نے باقاعدہ کیس کی کاز لسٹ جاری کردی تھی پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی ہے تا ہم آج پھر بینچ ٹوٹ گیا،

    مقدمے میں پی ٹی آئی وکیل علی ظفر اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔اٹارنی جنرل ، نگران حکومتوں اور گورنرز کے وکلاء دلائل دیں گے۔اٹارنی جنرل، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی نے فل کورٹ کی استدعا کر رکھی ہے۔

    پنجاب اور کے پی عام انتخابات کا معاملہ ،وزیراعظم شہبازشریف نے تیسرے روز بھی اٹارنی جنرل منصور عثمان کو طلب کرلیا.وزیراعظم کی جانب سے اٹارنی جنرل کو مسلسل تین روز سے مشاورت کیلئے طلب کیا جا رہا ہے.اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوگئے اٹارنی جنرل وزیراعظم سے زیر سماعت مقدمے پر ہدایات لیں گے.چیف جسٹس نے گزشتہ روز اٹارنی جنرل کو وزیر اعظم سے معاملہ پر ہدایات لینے کا کہا تھا

    واضح رہے کہ ایک رو قبل سپریم کورٹ میں کے پی کے اور پنجاب میں انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والا 5 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا ہے،بینچ میں شامل شامل جج جسٹس امین الدین نے کیس سننے سے معذرت کرلی ہے-

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبرمیں شفاف انتخابات ہوسکیں گے، اسحاق ڈار

    دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبرمیں شفاف انتخابات ہوسکیں گے، اسحاق ڈار

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری اکہتر کی طرز پر کیا جارہا ہے، انتخابات کا معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے،اگر انتخابات ابھی ہوتے ہیں تو پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے، دو حکومتیں اب بن جائیں تو کیا اکتوبر میں شفاف انتخابات ہوسکیں گے، معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا،اس پرسیاست بند کرنی چاہیے آئی ایم ایف سے تکنیکی معاملات پر بات چیت ہورہی ہے پہلی مرتبہ ملکی ذخائر 10ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں کوشش ہے جون تک ذخائر 13ارب ڈالر تک لے جائیں،حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے پوری کوشش کررہی ہے

    پی ٹی آئی سینیٹر فیصل جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 10 مہینے پہلے معیشت کیوں بہتر چل رہی تھی؟ کس نے اچھی بھلی چلتی معیشت کو تباہ کیا، عمران خان کے دور میں تو معیشت گرو کررہی تھی،سینیٹ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹر فیصل جاوید کو معیشت پر مناظرے کا چیلنج کر دیا اور کہا کہ فیصل جاوید کی موازنہ کرنے کی تجویز اچھی ہے 2018 میں معیشت کیا تھی اور22 میں کیا تھی اورآج کیا ہے، موازنہ کیا جائے چیئرمین سینیٹ آئندہ ہفتے کوئی دن مقرر کرلیں اس پر بحث کیلئے تیار ہوں ،2013 میں بھی ملک تباہی کے دہانے پر تھا، کہا جاتا تھا کے ملک چھ مہینوں میں میں ڈیفالٹ ہوجائے گا، 2013 سے 2018 اور 2022 کی معیشت کا موازنہ کر لیتے ہیں،میرے بارے میں کہا گیا کہ میں 2020 میں مفرور تھا،آپ کو جو گارڈ فادر لائے تھے انہوں نے مجھ پر بے بنیاد کیس بنایا،

    سینیٹر زرقہ تیمور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ریمارکس پر الجھ پڑی،سینیٹر زرقہ تیمور نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نشست پر جاکر احتجاج کیا ، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ تھا ڈسلپین لانے پر مجھے سزا دی گئی،

    ڈیجیٹل مردم شماری کا معاملہ،سینیٹر ہدایت نے تجویزدی کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے سینیٹ کی کمیٹی آف دی ہول تشکیل دی جائے، چئیرمین سینیٹ نے اگلے ہفتے ڈیجیٹل مردم شماری پر بحث کے لئے کمیٹی آف دی ہول تشکیل دینے کی رولنگ دے دی

    سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ ڈیجٹل مردم شماری میں نادرا کو آن بورڈ لیا جائے، جتنے لوگ گنے گئے اس گھر کے سربراہ کو بتایا جائے، مردم شماری صرف نشستوں نہیں وسائل کی تقسیم کا معاملہ ہے،یہ کونسی خفیہ ڈاکومنٹ ہے جس کو چھپایا جائے، شفاف اور قابل قبول بنانے کیلئے سب سیاسی جماعتوں کو سنا جائے،متنازعہ مردم کو کوئی نہیں مانے گا،اربوں لگا کر اگر متنازعہ مردم شماری کی گئی تو کیا فائدہ،

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 2018 میں معاہدہ ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگلا الیکشن نئی مردم شماری پر ہوگا، اس کے ساتھ کوئی پچیسویں یا چھبیسویں ترامیم ہوئی تھی،پہلی ڈیجٹل مردم شماری جاری ہے ساتھ خانہ شماری بھی ہورہی ہے، اگر اس مردم شماری کے نتائج آجاتے ہیں اور حلقہ بندیاں ہوجاتی ہیں تو پھر اس مردم شماری پر انتخاب ہوگا،

  • حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب اورکے پی میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر سپریم کورٹ پہنچ گئے،الیکشن کمیشن کی قانونی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ،وفاقی کابینہ کے ارکان کی کمرہ عدالت آمد ہوئی،وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی عدالت میں موجود تھے،کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل لارجر بینچ نے کی،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں، فیصلہ چار کا تھا تین کا نہیں،چار ججز نے اس معاملے کو نمٹا دیا تھا، آرڈر اف کورٹ جاری نہیں ہوا تو الیکشن کمیشن کیسے عملدرآمد کرسکتا ہے، آرڈر اف کورٹ چار ججز کا بنتا ہے، اپنے فیصلے پر قائم ہوں، میرے بارے میں غلط تاثر دیا گیا، میرے کل سے منسوب بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سپریم کورٹ رولز سے متعلق میں نے کہا کہ وہ اندرونی معاملہ ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس جمال کو کہا کہ الیکشن کمیشن آرڈر کے بغیر کیسے عمل کررہا ہے،چار ججز میں سے 2 میرے بھی سینئر ہیں چلیں آپ کی وضاحت آ گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ میں نےابھی بات کرنی ہےفل کورٹ کیوں وہی 7 ججز بنچ میں بیٹھنے چاہیں،چار ججز نے پی ٹی آٸی کی درخواستیں خارج کی ،ہمارے حساب سے فیصلہ چار ججز کا ہے، ،چیف جسٹس نے آج تک آرڈر آف دی کورٹ جاری نہیں کیا، جب آرڈر آف کورٹ نہیں تھا تو صدر مملکت نے الیکشن کی تاریخ کیسے دی،جب آرڈر آف کورٹ نہیں توالیکشن کمیشن نے شیڈول کیسے دیا؟

    وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر اگئے اور کہا کہ پارٹی بننے کی درخواست دائر کردی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ کی درخواست پی ڈی ایم کی طرف سے ہے؟پہلے الیکشن کمیشن کے وکیل کو سنیں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے عرفان قادر عدالت میں پیش،کہا میری آج پہلی پیشی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے پہلے سواتی صاحب کمیشن کے وکیل تھے،ہم اس کیس کو اگے لے جانا چاہتے ہیں،

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے ماحول کو خراب نہ کیا جائے، سماعت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھائیں تو دیکھیں گے،وکیل پیپلز پارٹی نے کہا کہ آپ فریق بنیں گے تو ہم اعتراض اٹھائیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں تحمل کا ہی مظاہرہ کر رہا ہوں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر کرنے کے بعد شیڈول جاری کیا اور انتخابات کی تیاریاں شروع کردیآرٹیکل 218 کی زمہ داری کسی بھی قانون سے بڑھ کر ہے ،انتخابات کےلیے سازگار ماحول کا بھی آئین میں ذکر ہے، آرٹیکل 224 کےتحت الیکشن 90 روز میں ہونا ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے اچھی تیاری کی ہے،

    سجیل سواتی نے کہا کہ عدالتی آرڈر میں لکھا ہے کہ فیصلہ 3/2 سے ہے، 3/2 والے فیصلے پر پانچ ججز کے دستخط ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن نے فیصلہ کے پیراگراف 14 اور ابتداء کی سطروں کو پڑھ کرعمل کیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ نے مختصر حکم نامہ دیکھا تھا ، سجیل سواتی نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا مختصرحکمنامے میں لکھا ہے کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ اسی بات کو دیکھ کر عدالتی حکم پر عمل کیا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کے اختلافی نوٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ فیصلہ 4/3 کا ہے،اختلاف رائے جج کا حق ہے،یہ اقلیت کسی قانون کے تحت خود کو اکثریت میں ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی، کھلی عدالت میں پانچ ججز نے مقدمہ سنا اور فیصلے پردستخط کیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا، مختصرحکم نامے میں لکھا ہے کہ اختلافی نوٹ لکھے گئے ہیں، اختلافی نوٹ میں واضح لکھا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی اور اطہرمن اللہ کے فیصلے سے متفق ہیں،کیا جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے ہوا میں تحلیل ہو گئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو معاملہ ہمارے چیمبرز کا ہے اسے وہاں ہی رہنے دیں، اٹارنی جنرل اس نقطہ پر اپنے دلائل دیں گے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے،سجیل سواتی نے کہا کہ 4/3 کے فیصلے پر الیکشن کمیشن سے ہدایات نہیں لیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ججز کا احترام ہے مگر اقلیتی فیصلہ اکثریتی فیصلے پرغالب نہیں آ سکتا، قانون واضح ہے کہ اقلیتی فیصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،جسٹس منصور اور جسٹس جمال خان کا فیصلہ اقلیتی ہے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آٹھ فروری کے لیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں ، عدالت نے یکم مارچ کو اپنا فیصلہ دیا، کیا آپ کو فروری میں خیال تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کروانا ہے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے انحراف کا سوچ نہیں سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ بہت سارے سوالات ہیں، جسٹس منیب اختر کے سوالات نوٹ کر لیں، آپ دلائل دیں پھر سوالوں کے جواب دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے فوج کے جوان دینے سے انکار کیا گیا ،آئین کا آرٹیکل 17 پرامن انتخابات کی بات کرتا ہے، آئین کے مطابق انتخابات صاف شفاف پرامن سازگار ماحول میں ہوں ،ایجنسیوں نے الیکشن کمیشن کو خفیہ رپورٹس دیں ،عدالت کہے گی تو خفیہ رپورٹس بھی دکھا دیں گے،رپورٹس میں بھکر میانوالی میں مختلف کالعدم تنظیموں کی موجودگی ظاہر کی گئی،الیکشن کے لیے چار لاکھ بارہ ہزار کی نفری مانگی گئی تھی،دو لاکھ ستانوے ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، پس منظر کے طور پر ان رپورٹس کا حوالہ دیا،الیکشن کمیشن نے فیصلہ 22 مارچ کو کیا،اس سے پہلے یہ گراؤنڈز دستیاب تھے، اس کے بعد انتخابات کے حوالے سے میٹنگز ہوئیں،وزارت داخلہ نے بھی 8 فروری کے خط میں امن و امان کی خراب صورتحال کا زکر کیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں 20 ارب کا ذکر ہے لیکن کل عدالت کو 25 ارب کا بتایا گیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پانچ ارب روپے پہلے ہی الیکشن کمیشن کو جاری ہو چکے ہیں، وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہیں کر سکتے،پنجاب کیلئے 2لاکھ 97 ہزار سیکورٹی اہلکاروں کی کمی کا بتایا گیا،جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا الیکشن کیلئے قومی اسمبلی نے فنڈز کی منظور دی ہوئی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزارت خزانہ اس بات کا تفصیل سے جواب دے سکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ الیکشن تو ہر صورت 2023 میں ہونا تھے، کیا بجٹ میں 2023 الیکشن کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی تھی؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ انتخابات کیلئے بجٹ آئندہ مالی سال میں رکھنا ہے، قبل ازوقت اسمبلی تحلیل ہوئی اس کا علم نہیں تھا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر انتخابات پورے ملک میں ایک ساتھ ہوں تو کتنا خرچ ہوگا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ملک بھر میں ایک ہی دفعہ انتخابات ہوں تو 47ارب روپے خرچ ہوں گے،انتخابات الگ الگ ہوں تو 20 ارب روپے اضافی خرچ ہوگا، وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ سپیشل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ سیاسی شخصیات کو سیکورٹی خطرات ہیں، وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی خطرات صرف الیکشن کے روز نہیں الیکشن مہم کے دوران بھی ہوں گے،الیکشن کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے بغیر الیکشن کو سکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہو گا، سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ ان حالات میں پرامن انتخابات کا انعقاد نہیں ہو سکتا، سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی نے بتایا کہ کے پی کے میں کالعدم تنظیموں نے متوازی حکومتیں بنا رکھی ہیں، خفیہ رپورٹس میں بتایا گیا کہ دو مختلف دہشتگرد تنظیمیں متحرک ہیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیڈو حکومتیں قائم ہیں ،2023 میں سکیورٹی کے 443 تھریٹس کے پی کے میں موصول ہوئے، کے پی کے میں رواں سال دہشگردی کے 80 واقعات ہوئے، 170 شہادتیں ہوئیں، خفیہ رپورٹس کے مطابق ان خطرات سے نکلنے میں چھ سے سات ماہ لگیں گے، رپورٹس کے مطابق عوام میں عدم سکیورٹی کا تاثر بھی زیادہ ہے،خیبرپختونخوا کے 80 فیصد علاقوں سکیورٹی خطرات زیادہ ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہیں ، دو اسمبلیاں تحلیل ہو چکی ہیں ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ خفیہ اداروں کی رپورٹس میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی طریقہ کار ہے الیکشن کمیشن ان رپورٹس کی تصدیق کروا سکے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایشو تو ہے !بیس سال سے ملک میں دہشتگردی کا مسئلہ ہے، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ 90کی دہائی میں تین دفعہ الیکشن ہوئے، 90 کی دہائی میں ملک میں فرقہ واریت اور دہشگردی عروج پر تھی،58/2 بی کے ہوتے ہوئے ہر تین سال بعد اسمبلی توڑ دی جاتی تھی، پنجاب میں دہشتگردی کے پانچ واقعات ہوئے ، آخری واقعہ سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملہ تھا،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صدر مملکت کو یہ حقاٸق بتائے بغیر آپ نے الیکشن کی تاریخیں تجویز کر دیں، صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پرالیکشن کمیشن کو خط نہیں لکھا ،صدر مملکت نے تاریخ کی تبدیلی پر وزیراعظم کو خط لکھ دیا ، جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ادارے آپکو معاونت فراہم کریں تو کیا آپ الیکشن کروائینگے؟ بظاہر الیکشن کمیشن کا سارا مقدمہ خطوط پر ہے، الیکشن کمیشن کا مسٸلہ فنڈزکی دستیابی کا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مقصد سیاسی نظام کو چلنے رہنے دینا ہے۔ سیاسی جماعت بھی سیاسی نظام کو آگے بڑھانے کی مخالفت نہیں کرتی، ایک مسئلہ سیاسی درجہ حرارت کا ہے، علی ظفر اور اٹارنی جنرل کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے پر ہدایت لیکر آگاہ کرنے کا کہا تھا، سیاسی درجہ حرارت کم ہونے تک انتحابات پر امن نہیں سکتے، کسی فریق نے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کو مکمل یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ یقین دہانی کس کی طرف سے ہے؟ وکیل عی ظفر نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے تحریری یقین دہانی کروائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پارٹی کی باری آئے گی تو ان سے بھی اس حوالے سے بات کریں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں مسئلہ زیادہ ہے اس ضلع میں انتحابات موخر بھی ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کچے کے آپریشن کیوجہ سے پورے پنجاب میں الیکشن ملتوی کردیا ۔کے پی کے میں الیکشن کیُ تاریخ دیکر واپس لی گئی۔ اٹھ اکتوبر کی تاریخ پہلے سے مقرر کی گئی ،آٹھ اکتوبر کو کونسا جادو ہو جائے گا جو سب ٹھیک ہو جائے گا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ عبوری جائزے کے بعد دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عبوری جائزے کا مطلب ہے کہ انتحابات مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔عدالت کو پکی بات چاہیے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے،ورکرز پارٹی فیصلہ کے مطابق صاف شفاف انتخابات کے لئے وسیع اختیارات ہیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اداروں سے معاونت نہیں مل رہی،الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتا ہے؟ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے انتخابی شیڈول پر عملدرآمد شروع ہوگیا تھا، اگر کوئی مشکل تھی تو عدالت آ جاتے، الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ انتخابات 6 ماہ آگے کیوں کردیئے؟ کیا ایسے الیکشن کمیشن اپنیذمہ داری پورے کریگا؟ کیا انتخابات میں 6 ماہ کی تاخیر آئینی مدت کی خلاف ورزی نہیں؟

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کرانے کا اختیار کس دن سے شروع ہوتا ہے؟ انتخابی تاریخ مقرر ہونے سے اختیار شروع ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تاریخ مقرر ہوجائے تو اسے بڑھانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف پولنگ کا دن نہیں پورا الیکشن پروگرام موخر کیا ہے،الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کرسکتا ہے تاریخ نہیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن ٹھوس وجوہات پر الیکشن پروگرام واپس لے سکتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ گورنر اور صدر کی دی گئی تاریخ الیکشن کمیشن کیسے تبدیل کر سکتا ہے!آئین میں واضح ہے کہ پولنگ کی تاریخ کون دے گا !کیا الیشکن ایکٹ کا سیکشن 58 آئین سے بالا تر ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قائل کرنا چاہئے تھا الیکشن کمیشن کو موقع ہے آج بھی عدالت کو قائل کرسکتا ہے، کیا 8 اکتوبر کوئی جادوئی تاریخ ہے جو اس دن سب ٹھیک ہوجائے گا ،8 اکتوبر کی جگہ 8 ستمبر یا 8 اگست کیوں نہیں ہوسکتی؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 6 ماہ کا وقت مکمل ہونے کے بعد 8 اکتوبر کو پہلا اتوار بنتا ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا پولنگ کی تاریخ الیکشن پروگرام کا حصہ ہوتی ہے؟ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ صدر کی تجویز کردہ تاریخ کمیشن کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، صدرکو فروری میں ہونے والے اجلاسوں سے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ جب معلوم تھا کہ 30 اپریل کو الیکشن نہیں ہوسکتے تو تاریخ تجویز ہی کیوں کی گئی؟ عدالت نے صدر کو آگاہ کرنے سے نہیں روکا، الیکشن شیڈول پر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہوا جب آج پھر عدالت میں کھڑے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر تاریخ کا اعلان کردیں تو کیا الیکشن کمیشن اختیار استعمال کرکے انتخابات سے انکار کرسکتا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پرانا شیڈول ختم کرکے نیا شیڈول جاری نہیں کیا،الیکشن شیڈول کی بجائے الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر کو جھنڈا لگا دیا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیکشن 58 الیکشن کمیشن کو تاریخ بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں عدالت 8 اکتوبر کی تاریخ پر مہر لگائے، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف اپنے حکم کا دفاع کرنا ہے،عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں یہ درخواست گذار نے ثابت کرنا ہے،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات سے معذوری ظاہر کر سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کیلئے حکومت پر انحصار کرتا ہے، حکومت نے بتانا ہے کہ وہ مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں، کیا الیکشن کمیشن حکومت کی بریفنگ پر مطمئن ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر پیسے اور سکیورٹی مل جائے تو 30 اپریل کو انتخابات ہو سکتے ہیں؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن راستہ نہیں ڈھونڈ سکتا تو ہم ڈھونڈیں گے، 1988 میں بھی عدالت کے حکم پر الیکشن تاخیر سے ہوئے تھے، 2008 میں حالات ایسے تھے کہ کسی نے انتخابات ملتوی کرنے پہ اعتراض نہیں کیا، اللہ کرے 2008 والا واقعہ دوبارہ نہ ہو، بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین کی تشریح ہو گئی ہے، آرٹیکل 218-3 ارٹیکل 224 سے بالاتر کیسے ہوسکتا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آرٹیکل 218-3 شفاف منصفانہ انتحابات کی بات کرتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتحابات نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن شفاف نہ ہوں تو جہموریت نہیں چلے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساز گار ماحول کا کیا مطلب ہے کہ کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے، چھوٹی موٹی لڑائی جھگڑے تو ہر ملک میں ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلحہ کا استعمال نہ ہو،اگر معمولی جھگڑا بھی نہیں چاہتے تو ایسا نظام بنائیں لوگ گھر سے ہی ووٹ کاسٹ کریں،سمندر پار پاکستانی ووٹ کا حق مانگتے ہیں سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود ہے،الیکشن کمیشن نے ابھی تک سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے لیے کچھ نہیں کیا،حکومت سے پوچھتے ہیں کہ چھ ماہ کا عرصہ کم ہو سکتا ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دلائل شروع ہو گئے ، عدالت میں کہا کہ گورنر کے پی نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ نہیں دی، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ نگران حکومت نے گورنر کو تاریخ دینے کا کیوں نہیں کہا؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی معاونت کے لئے تیار ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا گورنر کے پی نے تاریخ کا اعلان کیا ہے؟ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تاریخ سے آگاہ کردیا ہے، گورنر نے 28 مئی کی تاریخ دی تھی،ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ دی ہے،گورنر کا خط کل موصول ہوا ہے ہدایات کےلئے وقت دیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فوری اور جلد از جلد تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے 8 اکتوبر کی تاریخ کس بنیاد پر دی ہے؟اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز 30 اپریل کو پورے ہورہے ہیں،90 دن سے کم سے کم آگے کی تاریخ 28 مئی کیسے دی گئی؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ کل گورنر کے پی سے ہدایات لیکر آگاہ کرونگا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کمرہ عدالت میں سو گئے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر رانا ثنا اللہ کو نیند سے جگایا ،وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور بھی کمرہ عدالت میں سو گئے

    سماعت کے آغاز سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کی جانب سے انتخابات ملتوی کیس میں فریق بننے کی درخواست وصول کرلی،قبل ازیں رجسٹرار آفس نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف کی پارٹی بننے کی متفرق درخواست لینے سے انکار کر دیا تھا، رجسٹرار آفس نے تینوں سیاسی جماعتوں کو پارٹی بننے کی درخواست دوران سماعت عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی مگر بعد میں رجسٹرار آفس نے درخواست وصول کر لی،

    گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایمرجنسی لگا کر ہی الیکشن ملتوی کیے جا سکتے ہیں سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں، اگر الیکشن کمیشن کا اختیار ہوا تو بات ختم ہوجائے گی

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو کمیٹی میں بھجوایا گیا سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا 184(3) کے دائر اختیار کو زیر بحث لایا جائے بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں نظام کو بہتر بنانے کی بات ھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اٹارنی جنرل کا بڑا عہدہ ہوتا ہے، مجھے نا کبھی شوق ہوا نا آفر ہوئی،جتنے اٹارنی جنرل آئے ہیں سب اچھے پائے دار وکیل تھے ،مجھے اٹارنی جنرل بننے کا کوئی شوق نہیں

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضر ہوئے کہ عدالت عظمی سے انصاف چاہتے ہیںملک میں رواداری رول آف لاء میں عدالت عظمی اپنا کردار ادا کرے ،بد قسمتی سے ایسے فیصلے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں ان بیلنس ہوا،ان فیصلوں پر لوگوں کو شکوک و شبہات ہے، کہا جارہا ہے یہ تین دو کا فیصلہ کیا، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ چار ایک کا فیصلہ ہے، یہ معاملات ختم ہونے چاہئیے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اندرونی معاملہ نہیں ہوسکتا ،یہ ابہام فل کورٹ ہی ختم کرسکتا ہے،کل پارلیمنٹ میں سوموٹو نوٹس کے متعلق ایکٹ قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے ، امید ہے وہ آج پاس ہوجائے گا،بابا رحمتے بعد میں بابا زحمتے ثابت ہوا ، کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں،ملک میں رول آف لاء میں عدالت عظمی کا کرادر چاہتے ہیں،اس سے پہلے جو ناانصافیاں ہوئی لوگوں کو اس پر اعتراض ہے،ججز بھی کہہ رہے ہیں فیصلہ 4 تین سے تھا،آج بھی استدعا ہے سوموٹو کو فل کورٹ کی طرف لے جایا جائے،سپریم کورٹ آف پاکستان قوم کی رہنمائی کرے گی،سپریم کورٹ کے پاس مارل اتھارٹی ہے،جب سپریم کورٹ کے ججز آمنے سامنے ہوں اس وقت پارلیمنٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے،

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • ترک پارلیمنٹ کے حجام کا الیکشن لڑنے کا اعلان

    ترک پارلیمنٹ کے حجام کا الیکشن لڑنے کا اعلان

    ترک پارلیمنٹ کے حجام ممتاز ارسلان نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی جانب سے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے امیدواری کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : ترکی میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات 14 مئی کو ہوں گے، ملک کے صدر رجب طیب اردوان نے باضابطہ اعلان کیا اردگان نے جمعہ کو انتخابی فیصلے پر دستخط کرنے کے بعد ایک تقریر میں کہا کہ "ہماری قوم 14 مئی کو اپنے صدر اور اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے انتخابات میں جائے گی۔

    "العربیہ” نے ترکیہ کے حزب اختلاف کے اخبار "زمان” کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 20 سال حجامت کے پیشے سے وابستہ رہنے والے ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی میں حجاموں کے سربراہ ممتاز ارسلان نے ایک پریس بیان میں کہا میں سیاست کے دل میں ہوں کیونکہ میں پارلیمنٹ کا حجام ہوں

    ممتاز ارسلان کے مطابق انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 12 سال کی عمر میں کیا اور 23 سال کی عمر میں 2003 میں پارلیمنٹ میں حجام بنا ممتاز ارسلان چیف حجام کے عہدے پر بھی فائز رہے جہاں انہوں نے سلیمان ڈیمیرل، بلنٹ ایکویٹ، نیکمٹن ایرباکان اور بہت سی مشہور ترک سیاسی شخصیات کا شیو کیا۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے 1984 میں "ویلفیئر” پارٹی میں سیاسی کام شروع کیا تھا ۔ ہم نے محلے کی تنظیموں سے سفر کا آغاز کیا اور گلیوں میں کام کیا۔ میرے استاد اربکان نے جو بھی کام دیا میں نے بہترین طریقے سے اسے انجام دیا۔ ہم سیاست میں آئے اور ہم قومی رائے کے ساتھ پروان چڑھے ہیں۔ میری سیاست اور سیاسی زندگی جاری ہے۔ میں حجام ہوں تو اس سے میری سیاست ختم نہیں ہوجاتی۔ اس کا مطلب ہے کہ میں اب بھی سیاست میں ہوں۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ لوگوں کے مسائل حل کریں اور میری خواہش ہے کہ اگر میں پارلیمنٹ کا رکن بنوں گا تو لوگوں کے مسائل سے نمٹ سکتا ہوں۔

    ممتاز ارسلان نے نشاندہی کی کہ حجام کی دکانوں کے مالکان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ تربیت یافتہ ہوں، کارکن ہوں یا دکان کے مالکان ہوں جب میں ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں آؤں گا تو میں ان کے تمام مسائل کو بہترین طریقے سے حل کروں گا اور ان کی مدد کروں گا۔ میں پارلیمان میں حجاموں کی بھی بہترین طریقے سے نمائندگی کروں گا۔

  • پنجاب اسمبلی کے انتخابات :حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

    لاہور: پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔

    باغی ٹی وی: پنجاب اسمبلی کے انتخابات 30 اپریل کو ہوں گے جس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے بھی پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے 3 حلقوں سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، حمزہ شہباز نے پی پی 146، پی پی 147 اور پی پی 163 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز بھی پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے لاہور سے الیکشن لڑیں گی۔

    خیال رہےکہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیےکاغذات نامزدگی جمع کرانےکا سلسلہ جاری ہے قبل ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما بلال یاسین نے پی پی 173 سے کا غذات جمع کرائے ہیں، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو بھی اس حلقے سے الیکشن لڑنےکی دعوت دی ہے، مریم نواز نے اس حلقے سے کاغذات حاصل کیے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم

    واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے پنجاب کے انتخابات کے لیے 30 اپریل کی تاریخ کی منظوری دی ہے

    الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو پنجاب میں الیکشن کےلیے 30 اپریل سے 7 مئی تک کی تاریخیں تجویز کی تھیں صدر مملکت نے پنجاب میں الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کے بعد 30 اپریل کی تاریخ کی منظوری دی۔

    الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں صدر مملکت اور گورنر کے پی کو مراسلہ جاری کیا تھا جس میں کے پی کے میں الیکشن کے لیے گورنر سے جواب مانگا گیا ہے۔

    آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،وزیراعظم

  • آئین شکنی سے متعلق پی ٹی آئی لیگل نوٹس نہیں ملا،گورنر خیبرپختونخوا

    آئین شکنی سے متعلق پی ٹی آئی لیگل نوٹس نہیں ملا،گورنر خیبرپختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا غلام علی کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے الیکشن کمیشن کو خط کے ذریعے آگاہ کیا،نگراں صوبائی حکومت نے مشاورت کے بعد مجھے ایک خط بھیجا،

    گورنر خیبرپختونخوا غلام علی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سب سے پہلے میں مانوں گا، نگران صوبائی حکومت کے تحفظات سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا، الیکشن کمیشن کو رائے دینا میرا اور نگران صوبائی حکومت کا حق ہے، میں نے تاریخ بھی دینی ہے اور تمام ذمہ داریاں بھی پوری کرنی ہیں، اگر عمران خان کا 25 سالہ تجربہ ہے تو میں 40 سال سے منتخب ہوتا آ رہا ہوں، آخری دم تک کوشش ہو گی کہ پرامن اور منصفانہ انتخابات کرا دوں، صدر کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی سے گریز کرنا چاہیے، ملکی صورتحال صدر کے خلاف کارروائی کرنے کی متحمل نہیں ہے،آئین شکنی سے متعلق پی ٹی آئی لیگل نوٹس نہیں ملا،میڈیا کے ذریعے پتہ چلا ،

    واضح رہے کہالیکشن کمیشن نے صدرمملکت اور گورنر خیبرپختونخوا کو خط لکھا تھا ،چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدرمملکت کو خط ارسال کیا گیا چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن اور سیکریٹری نے شرکت کی، اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدر کوخط ارسال کر دیا، الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختونخواہ کو مراسلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں آپ کے جواب کے منتظر ہیں

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    زمان پارک بارے آڈیو لیک،مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے

    گاڑی کی بیک سیٹ پر ظل شاہ کا خون بھی موجود ہے

  • پشاور ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کر دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کر دیا

    بلدیاتی نمائندوں کی معطلی کیخلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے بلدیاتی نمائندوں کو بحال کردیا، عدالت نے کیس نمٹا دیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنے کے اختیارات ہیں، یہ پہلی دفعہ ہوئے، 2018 میں بھی بلدیاتی نمائندوں کو معطل کیا گیا تھا، انتخابات کے دوران اسے پھر معطل کیا جائے گا، جسٹس روح الامین نے استفسار کیا کہ کن بلدیاتی انتخابات کے دوران صوبائی اسمبلیوں کو معطل کیا گیا تھا، کیاصرف بلدیانی نمائندے ہی معطل ہوں گے؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اعلامیہ معطل، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا،

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، گزشتہ سماعت پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کی موجودگی میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے تو یہاں پر وفاق کے نمائندے بھی بیٹھے ہیں،گورنر، چیف سیکرٹری ، آئی جی وفاقی نمائندہ، کیا ان کو بھی معطل کرینگے؟ اگر کسی پر ٹرسٹ نہیں ہے تو پھر ان کے خلاف کاروائی کریں اور ہٹا دیں چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھ سکتے تو ریزائن کریں کہ ہمارے بس کی بات نہیں،بلدیاتی نمائندوں کے پاس تو 30 فیصد فنڈ تھا،ان کو معطل کیا؟ ترقیاتی کام جس کے پاس ہے وہ تو ابھی کام کررہے ہیں ،قومی اسمبلی ممبرز پر تحفظات آئے تو آپ قومی اسمبلی کو بھی معطل کرینگے؟نگران حکومت بلدیاتی نمائندوں پر کنٹرول رکھ سکتی ہے،عدالت نے کہا کہ جو خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ والی آنٹیاں ایسے نعرے کہیں اور لگا کر دکھائیں …تو کیا ہوگا ؟

    باغی ٹی وی”عوام کو”عورت مارچ” کےفوائد نہیں بتاتا:ہمیں یہ منظورنہیں:”عورت مارچ "کی آرگنائزرکاموقف دینے سے انکار،

    میرے ساتھ ایک عورت کی موجودگی میں اس کے خاوند نے جنسی زیادتی کی:وہی عورت اب عورت مارچ کی روح رواں

    عورت مارچ کے لیے فنڈریزنگ شروع:حکومت مخالف قوتیں دل کھول کرفنڈدینے لگیں‌