Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • سندھ ہائیکورٹ نے 9 حلقوں پر ضمنی الیکشن کے نوٹیفکیشن پرعملدرآمد روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے 9 حلقوں پر ضمنی الیکشن کے نوٹیفکیشن پرعملدرآمد روک دیا

    سندھ ہائیکورٹ نے 9 حلقوں پر ضمنی الیکشن کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں 16 مارچ کو 9 حلقوں پر ضمنی الیکشن کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد، لاہور، پشاور اور بلوچستان کے بعد سندھ ہائیکورٹ سے بھی پی ٹی آئی کو ریلیف مل گیا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو پی ٹی آئی کے 9 رکن قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کیخلاف اور ضمنی انتخابات رکوانے سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    سندھ ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے 9 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی جس دوران دلائل دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ لاہور، پشاور، اسلام آباد اوربلوچستان میں بھی ایسی ہی درخواستوں پرحکم امتناع مل چکا ہے۔اس دوران آزاد امیدوارقیس منصور شیخ نے فریق بننے کی درخواست کی جس پر عدالت نے نوٹس جاری کردیئے۔

    بعد ازاں عدالت نے سندھ میں 16 مارچ کو 9حلقوں پر ضمنی الیکشن کےنوٹی فکیشن پر عملدرآمد روک دیا اور سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی۔درخواست تحریک انصاف کے 9 رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

    سماعت کے بعد پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ 11 اپریل کو استعفے دیئے۔ 17 جنوری کو اسپیکر سے استعفے منظور کئے۔ اسپیکر نے اپنی حلف برداری سے قبل کے استعفے منظور کئے۔ اپوزیشن لیڈر کی باری آئی تو استعفے ممظور کرلئے۔ پارٹی نے حکومت پر زور دینے کے لئے استعفی دیئے لاہور، اسلام آباد سمیت دیگر ہائیکورٹس نے حکم امتناع دیا۔ اب سندھ ہائیکورٹ نے بھی حکم امتناع جاری کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے فیصلے انا کی بنیاد ہر نہیں ہوتے۔ انا پر فیصلے کرنے والے ملک کو ڈبو رہے ہیں۔ جن کو را کا ایجنٹ بتاتے تھے آج گلے میں ہاتھ ڈال کر گھوم رہے ہیں۔ ہم ایم کیو این کے ساتھ الیکشن میں اتحاد میں نہیں تھے۔ الیکشن کے بعد حکومت میں شامل ہوئے۔ ہم نے کسی کے کیسز ختم نہیں کئےعمران خان پر مقدمات کی سینچری ہونے والی ہے-

  • خواہش تھی کہ صدر مملکت اور میں ایک ہی متفقہ تاریخ دیتے، گورنرخیبرپختونخوا

    خواہش تھی کہ صدر مملکت اور میں ایک ہی متفقہ تاریخ دیتے، گورنرخیبرپختونخوا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے گورنر خیبرپختونخوا غلام علی کو انتخابات کے لیے خط گورنرہاوس خیبرپختونخوا کو موصول ہو گیا

    گورنرخیبرپختونخوا غلام علی کا کہنا ہے کہ خط سربمہر اور سیکریٹری کے نام ہے، میں کھولنے کا مجاذ نہیں، سیکریٹری چھٹی پر ہیں ، پیر کو آکر خود خط کھولیں گے خط کھولنے کے بعد ہی الیکشن کمیشن سے تاریخ کے حوالے سے بات کی جائیگی،دستیاب تاریخ میں الیکشن کروائینگے،انتظامات الیکشن کمیشن کا کام ہے، مجوزہ تاریخ وہ دینگے،میری خواہش تھی کہ صدر مملکت اور میں ایک ہی متفقہ تاریخ دیتے،صدر نے پنجاب انتخابات کا اعلان کیا، گزشتہ روز متفقہ تاریخ کیلئے رابطہ کیا تھا، صدر مملکت اعلان سے قبل متفقہ تاریخ کیلئے بلا لیتے تو اچھا پیغام جاتا،

    واضح رہے کہ گزشتہ روزالیکشن کمیشن نے صدرمملکت اور گورنر خیبرپختونخوا کو خط لکھا تھا ،چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدرمملکت کو خط ارسال کیا گیا چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن اور سیکریٹری نے شرکت کی، اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدر کوخط ارسال کر دیا، الیکشن کمیشن نے گورنر خیبر پختونخواہ کو مراسلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں آپ کے جواب کے منتظر ہیں

  • الیکشن کا خرچ کیوں نہ امیدوارسے لیا جائے؟ عدالت

    الیکشن کا خرچ کیوں نہ امیدوارسے لیا جائے؟ عدالت

    پشاورہائیکورٹ میں پی ٹی آئی ممبران کی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ اسپیکر نے خود کہا کہ ایک ایک ممبر کو بلا کر ویری فکیشن کے بعد استعفے منظور کریں گے، 14 جنوری کے بعد حالات تبدیل ہوئے تو پی ٹی آئی نے دوبارہ اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا، جسٹس ارشد علی نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا ممبران نے استعفے واپس لینے کے لیے اسپیکر سے رابطہ کیا؟ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ پارٹی چیئرمین نے میڈیا پر اعلان کیا کہ ہم اسمبلی واپس جارہے ہیں ،یہ کافی ہے، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمنٹ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، استعفیٰ منظور ہوئے تو ٹھیک،ورنہ واپس جائیں گے، بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمنی الیکشن ملتوی کیے، یہاں بھی ملتوی کیے جائیں،

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گیارہ ماہ میں واپس پارلیمنٹ نہیں گئے،استعفیٰ کے بعد اسپیکر سے رابطہ نہیں کیا ،جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا جارہا تھا ہمارا مقصد صرف حکومت پر پریشر ڈالنا تھا کہ وہ نئے انتخابات کرائے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ہونے جارہا ہے،انتظامات مکمل ہیں،درخواست گزار بھی امیدوار ہے، جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ آپ اتنے دیر سے عدالت کیوں آئے ہیں؟ضمنی الیکشن تو قریب ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تمام ممبران نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا لیکن عدالت نے کہا کہ آپ وہاں جائیں،جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن پر جو خرچ آرہا ہے کیوں نا ان ہی سے ہی وصول کیا جائے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ باقی جماعتوں نے انتخابات سے بائیکاٹ کیا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دیئے تھے جن کی منظوری تاخیر سے ہوئی تا ہم استعفے منظور ہو گئے،اسکے بعد پی ٹی آئی نے یوٹرن لیا اور استعفوں کی منظوری کے عمل کو عدالت میں چیلنج کردیا اوراعلان کیا کہ اب ہم اسمبلیوں میں جا کر بیٹھیں گے

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن ملتوی کردیئے عدالت نے 16 اور 19 مارچ کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا الیکشن شیڈول معطل کردیا عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی ،عدالت نے سماعت کے دوران فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے

    خیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کی 24 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونا تھے

  • پنجاب خیبر پختونخوا انتخابات،لاہور،پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

    پنجاب خیبر پختونخوا انتخابات،لاہور،پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

    پشاورہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا میں بروقت انتخابات کیس کی سماعت ہوئی ،جسٹس روح الامین اورجسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کی سماعت کی ،جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مقصد کیلئے فیصلے میں سپارک چاہتے ہیں وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آج بھی مقررہ وقت پر الیکشن ہو سکتے ہیں ، سپریم کورٹ نے گورنر کو ڈائریکشن دے دی تو ہم اس میں کچھ نہیں کر سکتے،انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہے جو تمام اداروں پر لاگو ہوتا ہے ،درخواست کو برخاست کر دیتے ہیں آپ عملدرآمد کیلئے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ صوبائی حکومت،گورنر انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دیں،پشاورہائیکورٹ نے سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں کیس نمٹا دی

    کراچی کو ایسے فرد کی ضرورت ہے جو اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر چلے۔

    ، جماعت اسلامی کو چاہیے پیپلزپارٹی کی اکثریت کو مانے

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کی تاریخ کیلئے صدر کو ہدایت جاری کرنے سے متعلق درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی ،لاہورہائیکورٹ میں الیکشن کی تاریخ کیلئے صدر کو ہدایت جاری کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس مزمل اختر شبیراورجسٹس چودھری محمد اقبال پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس چودھری محمد اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی پیش کی سپریم کورٹ نے فیصلے کے پیرا 14 میں صدر کو ہدایت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر نمٹائی جاتی ہے

  • حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے،پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے لیکن پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانےکا اختیار نہیں ہےٹھوس وجوہات کا جائزہ لےکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاشی مشکلات کا ذکر1988 کے صدارتی ریفرنس میں بھی تھا آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، قدرتی آفات یا جنگ ہو تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن بروقت نہ ہوئےتواستحکام نہیں آئےگا،حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہےآج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردےگا لیکن پہلی بارایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ۔

    عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

    فاروق ایچ ناٸیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں ،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

    عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

  • جب بھی حکم ملےگا الیکشن کرا دیں گے، محسن نقوی

    جب بھی حکم ملےگا الیکشن کرا دیں گے، محسن نقوی

    لاہور: نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہےکہ جب بھی حکم ملےگا الیکشن کرا دیں گے۔

    باغی ٹی وی : نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ میں نے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی، ہمارا خیال تھا کہ گرفتاریاں دینے والے بہت زیادہ ہوں گے، بہت زیادہ گرفتاریوں کے پیش نظرکچھ لوگوں کو دیگر شہروں کی جیلوں میں بھیجا گیا۔

    الیکشن کرانے سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ہمیں جب بھی حکم ملے گا، الیکشن کرا دیں گے۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں لاہورکا رہنے والا ہوں، لاہورکا کوئی پروجیکٹ نہیں رکنے دیں گے، جاری پروجیکٹس کی تکمیل ترجیح ہے، جو پروجیکٹ کم وقت میں مکمل ہو سکتے ہیں، مکمل کرائیں گے۔

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پی سی بی سے معاہدہ ہوگیا ہے، پی سی بی لائٹس خریدےگا، لائٹس کرائے پر نہیں لیں گے، صرف لائٹس کےکرائےکی مد میں گزشتہ سال 60 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، رواں سال بھی لائٹس کے کرائے کا خرچ 50 کروڑ روپے تھا۔

  • ضمنی انتخابات:راجن پورحلقہ این اے 193  میں پولنگ جاری

    ضمنی انتخابات:راجن پورحلقہ این اے 193 میں پولنگ جاری

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 راجن پور میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں ووٹنگ کیلئے 237 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔

    ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے محسن لغاری، (ن) لیگ کے عمار اویس لغاری، پیپلز پارٹی کے اختر حسن گور چانی اور دیگر کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حساس پولنگ اسٹیشنز کی سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر جدید آلات سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس، ایلیٹ فورس، فوج اور رینجرز کی خدمات بھی طلب کی گئی ہیں۔

    قومی اسمبلی کی یہ نشست پی ٹی آئی کے رکن سردار جعفر لغاری کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے این اے 193 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی پنجاب حکومت نے امن و امان کی صورتحال اورتھریٹس کےپیش نظر درخواست کی الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی ضمنی انتخاب ملتوی کرنےکی درخواست مسترد کردی تھی۔

  • پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    پنجاب اورکے پی انتخابات،ازخود نوٹس پر کیس کی سماعت آج ہوگی، حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے

    اسلام آباد: پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت آج ہو گی تاہم حکومت نے بینچ میں 2 ججز کی شمولیت پر تحفظات اٹھا دیئے۔

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کے حوالے سے بینچ تشکیل دیا جہاں ہم اپنے تحفظات معزز عدلیہ کے سامنے رکھیں گے خوشی ہے سپریم کورٹ نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیا ہے، بینچ کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں تاہم کچھ تحفظات کا ہم نے پہلے اظہار کیا ہوا ہے، اگر وہ دو جج صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی بھی بینچ کا حصہ ہیں تو ہم اپنے تحفظات رکھیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تمام بار کونسلز کا متفقہ مطالبہ ہے یہ دونوں ججز عہدہ چھوڑ دیں بلکہ وہ تو ان کے خلاف ریفرنسز لانے کا بھی عندیہ دے چکی ہیں، کیسے ممکن ہے وہ ججز جن کیخلاف ریفرنسز ہوں وہ بنچ کا حصہ ہوں نوججز میں سے دو ججز بنیاد پر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف ہیں البتہ ہم نے اُن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، مجھے امید ہے وہ ججز ہمارے اعتراض کرنے سے پہلے یا اعتراض کرنے کے بعد بنچ سے الگ ہو جائیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے ایماندار ہونے میں کوئی شک نہیں، وہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے، انہوں نے ہمیشہ ایسے کام کئے جن میں کوئی مشکل نہ ہو، ہر جگہ جہاں لوگوں کے کام ہوتے ہیں وہاں دباؤ تو ہوتا ہی ہے، چیئرمین نیب کو آئینی سیکیورٹی حاصل ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی بینچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ایڈوکیٹ ہارون رشید نے کہا بہتر ہوتا کہ فل کورٹ تشکیل دی لیکن اگر فل۔کورٹ نہیں بھی تشکیل دی جاتی تو کم از کم دو ججز کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    انہں نے کہا کہ دونوں جج صاحبان پر اعتراضات بھی سامنے آچکے تھے، اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب دونوں جج صاحبان غلام محمود ڈوگر کیس میں اپنا مائنڈ بھی سامنے لا چکے ہیں اور اتنخابات کے انعقاد کو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار دے چکے ہیں از خود نوٹس میں فریق بننے کا فیصلہ مشاورت سے کریں گے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رض پاشا نے کہا اعتراضات سے بچنے کیلئے بہتر تھا کہ سینئر 9 ججز کو شامل کرلیا جاتا ہماری کوشش ہے کہ سیاسی معمالات میں فریق نہ بنیں، سیاسی مقدمات میں بینچ کی تشکیل میں پسند نہیں ہونا چاہیے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لے لیا، جس پر نو رکنی بینچ آج 2 بجے سماعت کرے گا۔

    9 رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان کریں گے جبکہ بینچ کے دیگر ممبران میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ خان آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی ،جسٹس جمال خان مندو خیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    9 رکنی بینچ کی جانب سے از خود نوٹس میں مندرجہ ذیل سوالات کا جائزہ لیا جائے گاکہ عام انتخابات کے حوالے سے آئینی ذمہ داری کس کی ہے؟،عام انتخابات کی ذمہ داری کب اور کیسے ادا کی جائے گی؟،3۔ عام انتخابات کے حوالے سے وفاق اور صوبے کی ذمہ داری کیا ہے؟،اسمبلی ختم ہونے کے بعد انتخابات کی تاریخ دینا کس کی آئینی ذمہ داری ہے؟

  • مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا  جائے،شاہد خاقان عباسی

    مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے-

    باغی ٹی وی : رہنما مسلم لیگ ن اور سابق وازیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مریم نوازچھوٹی بہن ہیں،سیاست میں آئی ہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے مریم نواز کی اس بات سے کہ حکومت ہماری نہیں سے اتفاق نہیں کرتا حکومت ہماری ہے ،ہم اون کرتے ہیں الگ بات ہے میں اس کا حصہ نہیں ہوں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاستدانوں کو اغوا کرنے کے حق میں بھی نہیں ،نظام میں درستگی کی ضرورت ہے۔ سیاستدانوں کو گرفتاری کی حمایت نہیں کرتا۔جیل بھرو تحریک سے مسائل کا حل نہیں ہوگا۔کیا پتہ جیل بھرو تحریک پر کوئی گرفتار ہی نہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آئین پڑھ لیں، الیکشن کی تاریخ دینا یا الیکشن کروانا صدر کا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے،لیکشن کمیشن ہی فیصلہ کرے گا الیکشن کب ہوں گے، آئین میں لکھا ہے کہ الیکشن نوے دن کے اندار کروانے ہیں، اگر وہ نہیں کروا سکیں گے تو پھر انہیں عدالت میں جواب دینا پڑے گا، حکومت بھی الیکشن نہ روک سکتی ہے نہ کروا سکتی ہے، موجودہ نظام کے پاس معاشی مسائل حل کرنے کی اہلیت ہے، نہ قابلیت اور نہ ہی نیت ہے۔

    ن لیگی رہنما نے کہا کہ الیکشن ہونے چاہییں ،نتیجہ جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا۔بدقسمتی ہے الیکشن بھی قومی مسائل کا حل نہیں۔ملکی مسائل کا واحد حل ملکر بیٹھنے میں ہیں،نئی جماعت بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں نہ ہی مقصد ہے۔

    انہوں نے چیئر مین نیب کے مستعفی ہونے پر کہا ہے کہ آفتاب سلطان بہت محنتی اور ایماندار انسان ہیں، جو وجوہات ہوں گی وہ درست ہی ہوں گی میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ نیب کو ختم کر دینا چاہیےیہ ادارہ اتنا خراب اور کرپٹ ہو چکا ہے کہ اپنی خرابیوں کو چھپانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اگر انہوں نے کام میں مداخلت کا کہا ہے تو بتائیں کہ کس نے اور کیا مداخلت کی ہے۔ میں بھی حکومتی جماعت کا رکن ہوں، میرے خلاف دو کیس چل رہے ہیں جن کا نہ سر ہے نا پاوں ہے، اگر مداخلت ہوتی تو یہ ختم ہو چکے ہوتے مداخلت اسٹیبلشمنٹ اور عدالتوں کی طرف سے بھی ہو سکتی ہےنیب کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہےملک میں معاشی بدحالی کی بڑی وجہ نیب ہے۔

  • 30اپریل تک عمران خان پر ایک اور حملہ ہوسکتا ہے،شیخ رشید کادعویٰ

    30اپریل تک عمران خان پر ایک اور حملہ ہوسکتا ہے،شیخ رشید کادعویٰ

    راولپنڈی: سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ 30اپریل تک عمران خان پر ایک اور حملہ ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : شیخ رشید نے کہا کہ یہ عمران خان کے ساتھ الیکشن لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں،صدر مملکت الیکشن کی تاریخ دینے کااختیار رکھتے ہیں،صدر علوی کو کہتا ہوں پیر کو الیکشن کی تاریخ دیں یا استعفیٰ دیں-

    شیخ رشید نے کہا کہ خواجہ آصف نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کوبحران میں دھکیلنے میں الیکشن کمیشن نے عزت ہیں کمائی ملک ڈیفالٹ ہوچکا ہے، یہ کہتے تھے اسٹیٹ کو ڈیفالٹ کہنے والا غدار ہے، مریم نواز نے کہا یہ میری حکومت نہیں ہے، تو بتائیں کس کی حکومت ہے؟-

    سربراہ عوامی لیگ کا کہنا تھا کہ آدھا سامان جیل مین چھوڑ کر آیا ہوں، عمران خان کہے گا تو سب سے پہلے گرفتاری دوں گا،20سے 30 تاریخ تک فیصلہ ہوجائےگا،پہلے ایف آئی آر لکھوائی ہے کہ آصف زرداری سمیت 5 میرے مجرم ہوں گے،گرفتاری اور ضمانت کے بعد ایک نیا شیخ رشید سامنے آیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ ان قیمتوں کو بڑھانے پر آئی ایم ایف خوش نہیں ،انہیں علم ہے یہ سب چور ہیں،قوم سے پوچھتا ہوں 10ماہ گزر گئے نوازشریف کیوں وطن واپس نہیں آرہے-

    سابق وزیر داخلہ نے دعوی کیا کہ صوبوں اور مرکز کے انتخابات اکٹھے ہوں گے-