Baaghi TV

Tag: الیکشن

  • ہمیں سب سے پہلے با اعتماد الیکشن کمیشن چاہیے، عمران خان کا مطالبہ

    ہمیں سب سے پہلے با اعتماد الیکشن کمیشن چاہیے، عمران خان کا مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ شفاف انتخابات ہے، شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورتحال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں۔

    عمران نیازی نے پاکستان کی عزت داؤ پر لگانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی،وزیراعظم

    عوام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے پاکستانیوں آج سب کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں، تین ماہ پہلے ہماری حکومت ہٹا کر کرپٹ لوگوں کو مسلط کیا گیا، ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جو تیس سال سے کرپشن کر رہے تھے، قوم کی توہین کی گئی، عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھا گیا، کسی کو بھی مسلط کردو کہ قوم خاموش ہو کر برداشت کرے گی، ہماری حکومت ہٹانے کے بعد ہماری جماعت کو دبانے کا پروگرام بنایا گیا، 25 مئی کو بیرونی سازش اور امپورٹڈ ٹولے کے خلاف پر امن احتجاج کی کال دی۔

     

    پرویز الہیٰ کی عمران خان سے ملاقات، سپیکر کون بنے گا نام پر ہوا اتفاق

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی توڑ پھوڑ کی تاریخ ہی نہیں ہے، لیکن 25 مئی کو ظلم کیا گیا، خواتین اور بچوں پر تشدد کیا گیا آج بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سمجھ رہے تھے قوم خاموش ہو کر گھروں میں بیٹھ جائے گی ایسا نہیں ہوا، عوام ایک قوم بن رہی ہے اور گھروں سے نکل رہی ہے، 2018ء کے الیکنش میں بھی عوام کو اس طرح نکلتے نہیں دیکھا، ضمنی الیکشن میں جس طرح عوام نکلے اس کی مثال نہیں ملتی، تشدد کر کے سمجھا گیا کہ ہمیں کچل دیں گے، پہلی مرتبہ قوم بنتے دیکھ رہا ہوں، حمزہ شہباز کو غیر قانونی طور پر بیٹھایا گیا، حکومتی وسائل استعمال کیے گئے، الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر ہمیں الیکشن ہرانے کی پوری کوشش کی گئی، زندہ قوم کھڑی تھی، زندہ قوم نظر آئی اس لیے یہ لوگ ناکام رہے، زندہ قوم نے جس طرح الیکشن لڑا سلام پیش کرتا ہوں، جس طرح آپ نے الیکشن لڑا اس پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

     

    دفتر پہنچنے سے پہلے ہی پرویز الہیٰ نے گوگی بچاؤ مہم شروع کر دی

     

     

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ ہمارے سارے معاشی اشاریے درست راستے پر چل رہے تھے، موجودہ حکومت نے اقتصادی سروے رپورٹ جاری کی، رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت 6 فیصد گروتھ کر رہی تھی، 17 سال بعد پاکستان کی معیشت میں اس قسم کی ترقی ہو رہی تھی، مشرف دور میں ڈالرز آرہے تھے اس لیے ترقی ہو رہی تھی، ہمارے دور میں زراعت 4.4 فیصد کیساتھ ترقی کر رہی تھی، ٹیکنالوجی سیکٹر کی مدد کرنے پر دو سال میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں 75 فیصد اضافہ ہوا، ہماری حکومت کی پوری توجہ ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر پر تھی، خوشی ہے ہم پاکستان کو پہلی بار فلاحی ریاست کی طرف لے جا رہے تھے، پاکستان میں صحت کارڈ متعارف کروایا ، غریب لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دی، بڑے ممالک ایسے ہیں جہاں صحت کارڈ یا ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں، صحت کارڈ شروع کرنے پر دنیا نے ہماری پالیسی کی تعریف کی، صحت کارڈ سے پہلی بار غریب لوگ پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروا رہے تھے۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے وہ ہے شفاف انتخابات، شفاف انتخابات نہیں ہوں گے تو بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دینا چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو۔۔ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں، موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں ہے، ای وی ایم لانے کی کوشش کی تو چیف الیکشن کمشنر نے اس کی مخالفت کی، جسٹس ناصر الملک کی قیادت میں دھاندلی سے متعلق کمیشن بنا تھا، کمیشن رپورٹ کے مطابق دھاندلی اس وقت ہوتی ہے جب پولنگ ختم ہوتی ہے، ای وی ایم کے ذریعے پولنگ ختم ہوتے ہی بٹن دبانے سے نتیجہ آ جاتا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے پوری سازش کی اور ای وی ایم لانے کی اجازت نہیں دی۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے ایک بااعتماد الیکشن کمیشن چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورتحال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں۔ قوم فیصلہ کر لے ہم نے قرضے اُتارنے ہیں تو قوم یہ کر سکتی ہے، قوم فیصلہ کر لے ہم نے ٹیکس دینا ہے تو قوم یہ کر سکتی ہے، قوم مل جائے تو دس سال میں پھرسے اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکتی ہے، قوم بن کر مسائل کا مقابلہ نہیں کرتے تو حل نہیں کر سکتے۔

  • ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے،بابر اعوان

    ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے،بابر اعوان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلیٰ پنجاب ہوتے۔

    اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے کہا کہ اگر دھاندلی نہ ہوتی تو ضمنی الیکشن میں 20 سیٹیں ہماری ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ اگر17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہ ہوتی تو پرویز الہٰی وزیر اعلی پنجاب ہوتے۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے آج سماعت کے دوران دوسرے فریق کو ایک اور موقع دیا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ دوسری سائیڈ کو موقع ملا ہے، وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں۔

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اور دیگر وزرا نے آج بدتمیزی کی۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) والے بچوں کی طرح رو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کے خلاف مہم چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، عدالت کو متنازع بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں اپنے فیصلے خود کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔

  • ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

    ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،مسلم لیگ ن

    پاکستان مسلم لیگ ن نے وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور کے لبرٹی چوک میں تقریب منعقد کی،جو جلسے میں بدل گئی.لبرٹی چوک میں منعقدہ تقریب میں مسلم لیگ ن کے رہنماوںخواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، رانا مشہود احمد خان ،عطاء اللہ تارڑ سمیت کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ لاہور پہلے بھی مسلم لیگ ن کا گڑھ تھا، ہے اور رہے گا،پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے نواز شریف اور لیگی کارکنوں کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ،نواز شریف ہمیشہ ملکی استحکام، سلامتی اور عوام کے لئے کھڑے ہوئے ،جب کبھی ملکی حالات خراب ہوئے تو نواز شریف نے قوم کو متحد کیا اور حالات بہتر کئے ،ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لگتا ہے تو ایک کھیل کھیلا جاتا ہے اور عمران خان جیسے پٹھو سامنے لائے جاتے ہیں ،نواز شریف نے ملکی سلامتی کو یقینی بنایا اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سے بات کی،اس دور میں بھارتی وزیراعظم خود پاکستان آ کر پاکستان کو تسلیم کر کے گیا ،آج پاکستان ایک دوراہے پر ہے اور ایک آزمائش ہے ،2018 میں ترقی اور خوشحالی والے پاکستان کو سلیکٹڈ کی نظر لگ گئی ،اس پاکستان پر ایسا شخص مسلط کر دیا گیا جس نے کرپشن کے بازار گرم کر دئیے، کشمیر کا سودا کر دیا، ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ،آج پاکستان کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے میدان میں آئی ہے

    مسلم لیگ ن کے رہنما کامران مائیکل نے کہا کہ آج لاہور جاگ گیا ہے، جب لاہور جاگتا ہے تو پاکستان جاگ جاتا ہے ،فتنہ سردار نے نفرت کے بیج بوئے ہیں،آج وقت آ گیا ہے سب اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ ہم نے ملک بچانا یے

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج ہم یہاں آئین، جمہورہت، ووٹ کی عزت اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں ،پراجیکٹ عمران 2011 میں لانچ کیا گیا ،آج بھی ریاستی اداروں میں موجود پراجیکٹ عمران کے سہولت کار آرام سے نہیں بیٹھے،2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر بھی ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدل کر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ،ہم نے نتائج تسلیم نہیں کئے اور لانگ مارچ کی بجائے اپنی بات کی ،ہماری قیادت کو جیلوں میں ٹھونسا گیا ،جنہوں نے ہمیں جیلوں میں ڈالا، وہ جواب دیں کہ انہیں ہماری کیا کرپشن ملی،کوئی کرپشن نہیں ملی، ہمارا جرم بات کرنا تھا ،ہم نے 2008 میں پیپلزپارٹی کا مقابلہ کیا اور اپوزیشن میں بیٹھ گئے ،2013 میں ہماری حکومت آئی تو پیپلزپارٹی نے ذمہ دارانہ اپوزیشن کی ،جمہوریت بعض لوگوں کو اچھی نہیں لگتی،سب سے غلیظ سیاست کرنے والے کو نہلا دھلا کر حاجی بنا کر ہم پر مسلط کیا گیا .

    سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم نے عدم اعتماد کا فیصلہ کر کے کیا گناہ کیا ،ہم نے دھرنے سے حکومت نہیں گرائی تاکہ دھرنوں سے حکومتیں نہ گرائی جائیں ،پراجیکٹ عمران کے سہولت کاروں کو چین نہ آیا ،وہ آج بھی منڈلا رہے ہیں ،ہمارے بولنے سے کچھ لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے ،ہماری 4 ماہ کی اس حکومت کو کام نہیں کرنے دیا گیا ،4 سال ملکی معیشت کو تباہ کرنے والا کہتا ہے کہ سازش ہوئی ،ہم نے کسی کی مدد نہیں لی، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوئی لیکن بعض لوگ نیوٹرل ہونے کو تیار نہیں ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آئین سے متصادم فیصلے آئے ہیں ،آئین بنانے کا حق عدالت کو نہیں بلکہ پارلیمان کو ہے ،63 اے پر معزز عدالت کی رائے آئین سے متصادم ہے ،اس پر نظرثانی کی اپیل کوئی سن نہیں رہا ،انوکھا لاڈلہ بچہ جمہورا ابھی تک گالیاں بھی نکالتا ہے اور کام بھی نکلواتا ہے ،ہم گالی نہیں دیتے تو ہمیں کیا پیغام دیا جا رہا ہے .

    لیگی رہنما نے کہا کہ اس کو کامیابی کے باوجود مرضی کا الیکشن کمشنر، مرضی کی عدالت چاہیئے ،ایسا نہیں ہو سکتا ،لاہور تمہیں بھگائے گا اور تمہیں مسترد کرے گا ،تم پنجابیوں کو سمجھتے کیا ہو ،تم نے پنجاب پر ایک نالائق مسلط کیا ،اگر ہم نے کچھ لوٹا ہوتا تو تم ہم پر کچھ ثابت کرتے حالانکہ عدالت اور نیب تمہاری تھی ،نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا، کیا یہ کرپشن تھی؟؟؟،ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا، ملک کو چلنے دیا جائے ،یہ کہتا ہے کہ ملک سری لنکا بنے گا، اس کے منہ میں خاک ،اگر کچھ لوگ غیرجانبدار نہیں ہوں گے تو ہمیں بتا دیں کہ ملک کون چلائے گا ،اگر ملک چلانا ہے تو پارلیمان سپریم ہے اور ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں،جب ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور صدر آئین کے پرخچے اڑا رہے تھے تو اس وقت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو کیوں نہیں بلایا گیا .

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکمران سیاسی اتحاد نے 63 اے پر عدالت کی رائے پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنا کر سننے کی اپیل پر غور کیا جائے ،یہ رائے غیرآئینی تھی ،ہم کسی الیکشن سے نہیں بھاگتے،تم سمجھتے ہو کہ ہم جائیں گے تو الیکشن آئے گا اور تم اپنے جھوٹے بیانئے کی بنیاد پر جیت جاو گے ،ہمیں دھکیل کر نکالا گیا تو الیکشن نہیں آئے گا ،استحکام دھینگا مشتی اور یکطرفہ فیصلے سے نہیں آئے گا ،ہم لڑائی کو جنگ میں نہیں بدلنا چاہتے ،یہ جھوٹی سازش کا بیانیہ بند کرنا پڑے گا ورنہ گلیوں میں رلوں گے لیکن منزل پر نہیں پہنچو گے ،اور اگر منزل پر پہنچنے لگو گے تو ہم تمہارا راستہ خراب کرینگے ،ہمیں دیوار سے لگانے کی سازش بند کی جائے ،الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے ،اگر قبل از وقت انتخابات کا کوئی فیصلہ ہوا تو اس کا فیصلہ سیاسی جماعتیں کرینگی .

    صوبائی وزیرعطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کا دوہرا معیار ہم نے برداشت کیا ،نواز شریف کا حوصلہ چٹان جیسا ہے وہ برداشت کر گیا،لیکن اب ہم برداشت اور معاف نہیں کرینگے ،ملک کو لوٹنے کا حساب ابھی ہم نے چکتا کرنا ہے ،اس عمران خان کو مرضی کے فیصلوں کی عادت پڑ گئی ہے ،یہ گالیاں دیتا ہے اور مرضی کا فیصلہ لیتا ہے ،عمران خان نے اپنی کشتی ڈوبتی دیکھ کر فرح گوگی کو باہر بھگا دیا ،عمران خان کی عادتیں ایسی ہیں کہ وہ جیل نہیں کاٹ سکتا ،ہمیں اللہ نے موقع دیا تو عمران خان کو جیل بھجوا کر دم لیں گے ،ہمارے راستے میں روڑے اٹکائے گئے ،ہمارے 25 لوگوں کو ڈی سیٹ کریں تو وہ صحیح ہے اور چوہدری شجاعت خط لکھیں تو ان کو کچھ نہیں کہا جاتا،لاڈلے کے لئے قانون اور اور مسلم لیگ ن کا قانون الگ ہے،آج ہم فیصلہ کر چکے کہ اس پر فل کورٹ بناو ورنہ ہم یہ فیصلہ نہیں مانیں گے ،چوہدری شجاعت کے فیصلے کے مقابلے میں آپ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کب اور کہاں ہوا ،ساجد بھٹی کو پارلیمانی پارٹی کا لیڈر کب بنایا گیا،وقت آیا تو توشہ خانہ، فرح گوگی کا حساب لینے بنی گالہ جائیں گے،حمزہ شہباز وزیراعلی تھے، ہیں اور رہیں گے.

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع ہو گئے

    فیصل شاہکار کو آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا راو سردار کو آئی جی ریلویز تعینات کر دیا گیا،اس ضمن میں نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

    فیصل شاہکار پاکستان پولیس سروس کے گریڈ 21 کے آفیسر ہیں۔ان کا تعلق 16 کامن سے ہے ،فیصل شاہکار نے 1988میں بطور اے ایس پی پاکستان پولیس سروس جوائن کی ،فیصل شاہکار نے لگ بھگ تین برس ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ساہیوال اور گوجرانوالہ میں ریجنل پولیس آفیسر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔

    فیصل شاہکار تین باراقوام متحدہ مشن پربوسنیا اور لائبریا سمیت دیگر ممالک میں بھی فرائض اداکر چکے ہیں۔فیصل شاہکار لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال، ملتان، پاکپتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ، تھرپارکر، ننکانہ اور گوجرانوالہ میں اہم عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔فیصل شاہکار اے آئی جی آپریشنز، سنٹرل پولیس آفس لاہور میں بھی فرائض ادا کر چکے ہیں۔ فیصل شاہکار ڈی آئی جی پولیٹیکل سپیشل برانچ کے عہدے پر بھی دو برس تعینات رہے۔فیصل شاہکار نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد اور ڈی آئی جی ویلفیئر پنجاب کے عہدے پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ان دنوں وفاق میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ فیصل شاہکار کو ملکی وعالمی سطح پر اہم عہدوں پر فرائض کی ادائیگی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ فیصل شاہکار کا شمار پاکستان پولیس کے انتہائی پروفیشنل، فرض شناس اور تجربہ کار پولیس افسران میں ہوتا ہے

    پی ٹی آئی کا وزارت اعلیٰ کا مضبوط امیدوار ہونے کی وجہ سے کہا جا رہا تھا کہ افسران نے تبادلوں کے لئے کہا ہے، آئی جی پنجاب راو سردار علی نے اپنے عہدے پر مزید کام کرنے سے معذرت کی تھی جس پر انکا تبادلہ کر دیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب میں عمران خان کے انتقام کی وجہ سے تبادلے کروا رہے ہیں کیونکہ عمران خان جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ میں سب کو دیکھ لوں گا پنجاب میں افسران میں نے ہی لگائے تھے سب کے چہرے یاد ہیں، اب پنجاب میں پی ٹی آئی کی دوبارہ متوقع حکومت کے بعد ان افسران کے خلاف کاروائی متوقع تھی اسی لئے افسران تبادلوں پر غور کر رہے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”520972″ /]

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    ادھر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ ابھی تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    فرح خان کیس ،عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کو موخرکرنے کی کوئی درخواست نہیں دی،سعید غنی

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کے التواء کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو چیف سیکرٹری سندھ یا وزیر اعلیٰ سندھ نے یا کسی اور ادارے کو کوئی خط نہیں لکھا کہ الیکشن کو آگے بڑھایا جائے یہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری ایک ویڈیو بیان میں کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا ہے اس کا الزام کچھ سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر لگا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سب کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں اس کا خاتمہ ہوسکے۔

    سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ایسی کوئی درخواست نہیں بھیجی ہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے فیز کو موخر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن اور بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کو جواز بنا کر انتخابات کو موخر کرنے کی جو درخواست دائر کی تھی اس میں بھی پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو درخواست جمع کروائی گئی تھی اس کے جواب میں سندھ حکومت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ایک سلیکٹ کمیٹی سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کی بنائی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جی ڈی اے، جماعت اسلامی اور ٹی ایل پی شامل ہیں۔

    اس سلیکٹ کمیٹی میں سوائے جماعت اسلامی کے تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم تک انتخابات موخر کرنے کا کہا اور پیپلز پارٹی نے بطور سندھ حکومت ان تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہائی کورٹ کے سامنے رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی مرتبہ میں نے، سید ناصر حسین شاہ، مرتضیٰ وہاب اور دیگر نے بھی اپنی پریس کانفرنسز میں واضح طور پر کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی انتخابات کو آگے کرنے کی بات نہیں کی ہے اور آج بھی ہمارا یہی موقف ہے۔

    سعید غنی نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے بعد صوبائی الیکشن کمیشن کا ایک خط سامنے آیا، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی چیف سیکرٹری سندھ، مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز و دیگر سے مٹینگز ہوئی اور انہوں نے ان سے تفصیلات لی اور اس خط میں انہوں نے اپنے ڈسٹرکٹ کے فیلڈ آفیسرز کا بھی تذکرہ کیا ہے،۔ سعید غنی نے کہا کہ میری خود چیف سیکرٹری سندھ سے اس سلسلے میں بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کی صوبائی الیکشن کمیشن سے ریگولر مٹینگز ہوتی رہتی ہیں کیونکہ الیکشن میں  الیکشن کمیشن ساری لاجسٹک اور سپورٹ  ایڈمنسٹریشن کو فراہم کرنی پڑتی ہے۔اس 15 جولائی کو چیف سیکرٹری کے ساتھ الیکشن کمیشن کی ہونے والی مٹینگز میں بارشوں کے حوالے سے تو زیادہ بات نہیں ہوئی  تاہم 18 جولائی کے اجلاس میں بارشوں کا تذکورہ ضرور ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ ہمارے فیلڈ آفیسرز کی جانب سے جو رپورٹ ملی ہے، اس میں انہوں نے بارشوں کے باعث کچھ پولنگ اسٹیشن اور کچھ راستے خراب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں الیکشن کا انعقاد مشکل ہوجائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس رپورٹ میں ڈی سی دادو کی رپورٹ کا ذکر ہوا تھا، جس میں انہوں نے 9 یوسیز میں الیکشن کے انعقاد پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد بھی سیکرٹری الیکشن کمیشن اور صوبائی الیکشن کمیشن کا رابطہ چیف سیکرٹری سندھ سے رہا، لیکن چیف سیکرٹری نے کسی اور قطعی طور پر ان سے یہ درخواست نہیں کی کہ انتخابات کو آگے کردیا جائے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ الیکشن کمشنر نے جاری خط میں خود اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے میٹ آفس سے موسم کی رپورٹ لی اور اپنے فیلڈ آفیسرز سے رپورٹ لی،متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے جو رپورٹ دی ان تمام کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات 24 جولائی کو ہوجاتے تو یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم انتخابات سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ جو فیز ون ہوا ہے اس میں ہم نے تمام اضلاع میں کلین سوئپ کیا ہے  اور ان علاقوں اور شہروں میں بھی جہاں پیپلز پارٹی روائتی طور پر کمزوررہی ہے وہاں بھی ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکھر، نوابشاہ، میر پورخاص  کے شہری علاقوں میں کلین سوئپ کیا ہے اور اب فیز ٹو میں بھی اور جہاں انتخابات ہونا ہیں وہاں بھی حیدرآباد میں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے، جس کے 25 سے زائد چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوچکیں ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک جماعت جو پہلا فیز کلین سوئپ اور دوسرا فیز بھی کامیابیوں کو سامنے دیکھ رہی ہو تو وہ کیوں انتخابات سے بھاگے گی۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی 2015 کے مقابلے میں ہم اس سے بہتر پوزیشن میں ہیں اور ہم اس کے مقابلے کئی گنا زیادہ نشستیں جیت جانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تیاری بھرپور تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمارے کارکن اور امیدواروں میں انتخابات کے التواء سے مایوسی پھیلی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ ہم اس فیصلہ پر عدالت میں جائیں، جبکہ خود سلیکٹ کمیٹی میں پی ٹی آئی نے انتخابات کو موخر کرنے کا کہا تھا۔ اسی طرح ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور دوسری جماعتوں نے بھی انتخابات آگے کرنے کا کہا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے التواء کی وجوہات اپنے نوٹیفیکشن میں درج کردی ہیں، اب اس کو پیپلز پارٹی یا سندھ حکومت کے گلے میں ڈالنا سوائے سیاسی مفادات کے حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ انتخابات 24 جولائی کو ہی ہوتے تاہم اگر الیکشن کمیشن نے اس کو موخر کرکے آگے کیا ہے تو اس کا جواب وہ الیکشن کمیشن سے ہی لیں۔

    سعید غنی نے کہا کہ نہ ہی چیف سیکرٹری سندھ نے، نہ ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے الیکشن کمیشن کو کوئی خط نہیں لکھا ہے اور نہ ہی کسی اور ادارے کو کہ انتخابات کو آگے کروا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خالصتاً الیکشن کمیشن کا اپنا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوسرے فیز کو مکمل طور پر موخر کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے اور یہ پیپلز پارٹی کے حق میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ایک ماہ کی تاخیر سے امیدواروں پر مالی بوجھ کے ساتھ ساتھ ان کو مایوسی بھی ہوگی اور ووٹرز بھی اس فیصلے سے مایوس نظر آرہے ہیں۔

  • آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے،رانا ثناء اللہ

    آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے،رانا ثناء اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہےکہ پنجاب میں ضمنی الیکشن کے دوران مسلم لیگ ن جن امیدواروں کونامزدکیا ان پرگزشتہ حکومت کی کارکردگی کابوجھ تھا۔ پارٹی کے ووٹرز سے بھی امیدواروں کو مکمل سپورٹ نہ مل سکی، ن لیگ کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے۔

    لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک پاگل شخص جیت کربھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی، کیا 20کی 20سیٹیں جیتوگے توپھرشفاف الیکشن ہوں گے؟ اپنا گھٹیا پن اس سے چھپائے نہیں چھپتا، جب تم حکومت میں تھے تو تم نے الیکشن میں دھاندلی کروائی، جب تم حکومت میں تھے توتم نے الیکشن کا عملہ اغوا کروایا، ضمنی الیکشن میں کسی بھی الیکشن عملے کواغوا نہیں کیا گیا، اس کے باوجود تم الیکشن کمشنرکی ذات کونشانہ بنارہے ہو۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس مہم جوئی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتی ہے، تم اداروں سے دھونس، بلیک میلنگ کرکے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ اداروں کے خلاف گھٹیا گفتگو کی جا رہی ہے، ہم اس حوالے سے بھرپورجواب دیں گے، چیف الیکشن کمشنراوران کے تمام ممبران پر پوری قوم کو اعتماد اور انکے ساتھ کھڑے ہیں، ہم توہارنے کے باوجود الیکشن کمیشن پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، یہ تو جیت کر بھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ ہوا ہے، اس لیے ایسی گفتگو کر رہا ہے، آج اس نے بے معنی اورآوارہ قسم کی گفتگوکی گئی۔ یہ آدمی ہروقت اداروں کے خلاف الزام لگاتا ہے، اداروں کواس کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے، یہ تاریخ کا پہلا الیکشن ہے جس میں کوئی جانی ومالی نقصان نہیں ہوا۔ہم اس کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، ادارے جھوٹے بدمعاش کے چکروں میں نہ آئیں، جب اس کوسختی سے ہینڈل کیا گیا تو پھر ڈی چوک سے ہی تقریر کر کے چلا گیا تھا۔

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج سے 15 دن پہلے ایک خاتون کے خلاف ہم نے شواہد پیش کیے تھے، القادرٹرسٹ کی زمین پر50ارب کی رشوت وصول کی گئی، آپ کوتویہ بھی نہیں پتا آپ کے کتنے بچے کہاں،کہاں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنرسے چور دروازے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی، جب چیف الیکشن کمشنرنے ملاقات سے انکار کیا تو اس طرح کی گفتگو شروع کر دی۔ صاف شفاف ضمنی انتخابات قوم کے سامنے ہے، بیس حلقوں میں جن کوامیدوارنامزد کیا تھا ساڑھے تین سالوں کابوجھ ان کے سر پر تھا، پارٹی کے ووٹرزسے بھی امیدواروں کومکمل سپورٹ نہ مل سکی، مسلم لیگ(ن) کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے، پنجاب میاں نوازشریف کا تھا اوراگلے الیکشن میں ثابت کریں گے، نوازشریف نے ملک کوایٹمی قوت بنایا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو بھی اتحادی جماعتیں فیصلہ کریں گی وہی فیصلہ ہو گا، بعض دوستوں کی رائے تھی بدبخت، پاگل شخص کو بھی مبارکباد دی جائے، جس طرح آج گفتگوکی گئی اس کے بعد مناسب نہیں سمجھا، شہبازشریف نے ہمیشہ نوازشریف کواپنا قائد سمجھا، اگرعمران خان الیکشن کے لیے مخلص ہوتا تو پہلے وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا کی حکومت چھوڑتے، اگرہم کل کو الیکشن کا اعلان کردیتے ہیں تو پھریہ کہے گا پہلے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرو، یہ نوجوانوں کو گمراہ اورقوم کوتقسیم کرنا چاہتا ہے۔

    پریس کانفرنس کے دوران میاں جاوید لطیف کی پریس کانفرنس کے دوران رانا ثناء اللہ نے جواب دینے سے گریز کیا اور اتنا کہہ دیا چھوڑو یار کوئی اور بات کرو۔

    انہوں نے کہا کہ فری اینڈ فیئرالیکشن کرانا (ن) لیگ کی جیت ہے، آئندہ بھی الیکشن شفاف ہوگا، کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔

  • پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے  شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے،سپریم کورٹ بار

    پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے،سپریم کورٹ بار

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایڈیشنل سیکریٹری چوہدری ریاست علی گوندل نے کہا ہے کہ بقول تھامس جیفرسن کسی بھی حکومت کی قانونی مضبوطی کا انحصار عوام کی رائے پر ہوتا ہے.

    چوہدری ریاست علی گوندل کا کہنا ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے عیاں ہے کہ حکومت اپنی حیثیت کھو چکی ہے اور پاکستان کو آگے لیجانے کیلئے صاف اور شفاف انتخابات ہی واحد آئینی حل ہے. تمام اداروں کو پاکستان کے اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا.

    چوہدری ریاست علی گوندل نے کہا کہ ابراہیم لنکن نے کہا تھا کہ عوامی حکومت ہی جمہوریت ہے جو عوام سے ہوتی ہے اور عوام کیلئے ہوتی ہے.

    انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان اپنا کردار ادا کرےگی.

  • این اے 245 کا ضمنی الیکشن،فاروق ستار بھی میدان میں آگئے

    این اے 245 کا ضمنی الیکشن،فاروق ستار بھی میدان میں آگئے

    سربراہ ایم کیو ایم بحالی کمیٹی فاروق ستار نے این اے 245 کا ضمنی الیکشن تالے کے نشان پر لڑنے کا اعلان کردیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مجھے ایم کیو ایم سے الگ کیا گیا لیکن میں نے ایم کیو ایم پاکستان میں جانے کا پکا ارادہ کیا تھا۔

    فاروق ستار نے کہا کہ خالد مقبول سے میری تین ملاقاتیں ہوئیں، نیک نیتی سے کوشش کی کہ میں اور خالد مقبول ساتھ کھڑے ہوں۔انہوں نے بتایا کہ این اے 245 کے ضمنی اور بلدیاتی الیکشن کے لیے انتخابی دفتر قائم کردیا ہے۔

    فاروق ستار نے آزاد حیثیت میں بلدیاتی الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی سے 75 اور 30 امیدوار حیدرآباد سے کھڑے کیے ہیں۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر خالد مقبول میرے گھر آئے اورملاقات کی، 3 جولائی کو دودھ میں مینگنی ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا، میں نے کوئی ڈیمانڈ نہیں کی لیکن میرے باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ حمایت حاصل کرنے مصطفیٰ کمال اور آفاق احمد کے پاس جاؤں گا، کیا خالد مقبول صدیقی میری حمایت کریں گے؟فارو ق ستار نے کہا کہ خالد بھائی اب بھی وقت ہے، یہ الیکشن یکجہتی کا ہے، میرا ہاتھ تھامیں اور اس دلدل سے نکلیں۔

  • چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں،فی الفورالیکشن کرائے جائیں،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتاہوں،جس تعداد میں خواتین اور نوجوان نکلے میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،خواتین کو بھی ضمنی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارکباد دیتاہوں،یہ آج میرے اور ملک کے لیے ایک اچھی بات ہے،کبھی بھی قوم نظریے کے بغیر نہیں بنتی،ایک بیرونی سازش کے تحت ہم پر امپورٹڈ حکو مت مسلط کی گئی،ہم کسی اور کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہیں.

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آج ہم ایک قوم بننے جارہے ہیں،جب ہم ایک قوم بنیں گے تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے،قوم نے بتا دیا کہ ہم کسی اور کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہیں،میں پہلی بار اس قوم میں بیداری دیکھ رہا ہوں ،اشرافیہ نے لندن میں جائیداد خریدی ہوئی ہے،ملک سے محبت کرنے والے سیاستدان علاج،شاپنگ اور عید بیرون ملک کرتےہیں،ایک سیاسی بحران پیدا کیا گیا،کورونا کے باوجود ہم نے ریکارڈ روزگار دیا تھا،ہمارے دور کے آخری2 سالوں میں ملک کی گروتھ اور ایکسپورٹ بڑھی تھیں،زراعت بھی صحیح راستے پر تھی.

    چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ کسانوں کو ہم نے پیسے دلوائے،ہمارے دور میں سب سے زیادہ ملک میں ڈالرز آرہے تھے،دوسالوں میں 75فیصد ہماری ایکسپورٹس بڑھی تھیں،دوسالوں میں 75فیصد ہماری ایکسپورٹس بڑھی تھیں،سازش کر کے ہماری حکومت گرائی گئی،ہم گھر بنانے کیلئے سود کے بغیر قرضے دے رہے تھے ،آتے ہی انہوں نے اپنے کرپشن کیسز معاف کروائے،ہماری حکومت کے دورمیں مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیاگیا،آج جو معاشی بحران ہے اس کی وجہ سیاسی بحران ہے جوانہوں نے پیدا کیا،تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کرائے جائیں،پاکستان میں بحران کا واحد حل فی الفور شفاف انتخابات کرانا ہے.

    چیف الیکشن کمشنر میں اہلیت نہیں ،انہوں نے ن لیگ کو جتوانے کیلئے پوری کوشش کی ،کھلے عام پیسے دیتے ہوئے تصویریں آئیں،الیکشن کمیشن کے تمام فیصلے تحریک انصاف کیخلاف آتے تھے،قوم اپنی آزادی کے لئے باہر نکلی ہے الیکشن کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں ہے ،عوام کو فیصلہ کرنے دیں شفاف الیکشن اس الیکشن کمیشن کے زیر انتظام نہیں ہو سکتے ،الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں، ہمیں اس پر اعتماد نہیں ہے.

    عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے ضمنی الیکشن کے نتائج اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے قوم کو ضمنی الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی.اجلاس میں ضمنی الیکشن میں کی جانیوالی دھاندلی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا.

    میڈیا کی آزادی سے متعلق عمران خان کے بیان کو پی ایف یو جے نے حقائق کے منافی قرار دے دیا

    عمران خان نے کہا کہ قوم جاگ اٹھی ہے،پوری ٹیم نے پنجاب الیکشن میں بھرپور محنت کی، پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے، نوجوانوں نے دھاندلی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ عوام نے پہلے کی طرح اب بھی ان چوروں کو مسترد کردیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کا جواب عوام نے اپنے ووٹوں سے دیا ہے۔ضمنی الیکشن کے نتائج نے امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر دیا،

    لانگ مارچ، جلاؤ گھیراؤ کیس: عمران خان کی 5 مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظورhttps://login.baaghitv.com/torr-phorr-case-ik-ki-5-cases-me-zamanat-qabl-az-girftari-manzur/

     

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی اپنا بیانیہ جارحانہ انداز سے جاری رکھے گی.اجلاس میں پولیس کی جانب سے پی تی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مزمت کی گئی.

  • ضمنی الیکشن:پی ٹی آئی16سیٹوں پرکامیاب،ن لیگ کی 3نشستیں،جبکہ ایک آزادامیدوارکامیاب

    ضمنی الیکشن:پی ٹی آئی16سیٹوں پرکامیاب،ن لیگ کی 3نشستیں،جبکہ ایک آزادامیدوارکامیاب

    لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ جیت گیا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 20 میں سے 16سیٹوں پر پی ٹی آئی، 3 پر مسلم لیگ ن جبکہ ایک پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔ ایک پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔

    ان 20 نشستوں میں لاہور کی 4، راولپنڈی کی ایک، خوشاب کی ایک، بھکر کی ایک، فیصل آباد کی ایک، جھنگ کی 2، شیخوپورہ کی ایک، ساہیوال میں ایک، ملتان میں ایک، لودھراں میں 2، بہاولنگر میں ایک، مظفر گڑھ میں 2، لیہ میں ایک اور ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست شامل ہے۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج

    پی پی 7 راولپنڈی:

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کرنل (ر) شبیر اعوان 68902 ووٹ لیکر آگے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے راجہ صغیر احمد 68744 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

     

     

    2018ء کے عام انتخابات میں راجہ صغیر احمد نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کی اور بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے ن لیگ اور پی ٹی آئی کے راجہ محمد علی اور غلام مرتضیٰ ستی کو شکست دی تھی۔

    پی پی 83 خوشاب:

    پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن کے دوران پی پی 83 کی نشست بھی جیت لی۔

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 83 خوشاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار حسن اسلم نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 48475 ووٹ حاصل کیے۔

    آزاد امیدوار اسلم بھاء نے 41752 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    2018ء کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار ملک غلام رسول سنگھا کامیاب ہوئے تھے اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد آصف ملک، آزاد امیدوار ملک ظفر اللہ خان بگٹی اور تحریک انصاف کے گل اصغر خان کو زیر کیا تھا۔

    پی پی 90 بھکر:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے عرفان اللہ نیازی 68982 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سعید اکبر نوانی 59856 لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار سعید اکبر خان نوانی نے فتح حاصل کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، انہوں نے ن لیگ کے عرفان اللہ خان نیازی اور پی ٹی آئی کے احسان اللہ کو شکست دی تھی۔

    پی پی 97 فیصل آباد:

    غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی افضل ساہی 44550 ووٹ لیکر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد اجمل چیمہ 37016 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے جنرل انتخابات میں انہی امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا، اجمل چیمہ نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    پی پی 125 ، 127جھنگ:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اعظم چیلہ نے 82382 ووٹ حاصل کیے اور فتح حاصل کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے 52128 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    پی پی 127 میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار مہر نواز بھروانہ نے 69986 ووٹ حاصل کر کے فتح کو گلے لگایا جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر اسلم بھروانہ نے 46825 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء کے جنرل انتخابات میں پی پی 125 سے آزاد امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے فتح سمیٹی تھی اور میاں اعظم چیلہ کو شکست دی تھی جبکہ پی پی 127 سے بھی آزاد امیدوار مہر محمد اسلم بھروانہ نے مہر محمد نواز بھروانہ کو پچھاڑا تھا۔

    پی پی 140 شیخوپورہ:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خرم شہزاد ورک نے 49 ہزار 734 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں خالد محمود نے 32 ہزار 812 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میاں خالد محمود نے مسلم لیگ ن کے امیدوار یاسر اقبال کو شکست دی تھی۔

    پی پی 158لاہور

    پی پی 158 سے پاکستان تحریک انصاف کے اکرم عثمان نے 37463 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی، ن لیگ کے امیدوار رانا احسن شرافت 13906 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 167لاہور

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 167 سے امیدوار چودھری شبیر گجر نے فتح حاصل کی، انہوں نے 40206 ووٹ حاصل کیے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان 26535 ووٹ حاصل کر سکے۔

    پی پی 168لاہور

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 168 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک اسد کھوکھر 25685 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار 15 ہزار 81 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 170 لاہور

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر نے 23969 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد امین ذوالقرنین نے 14916 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء میں صوبائی دارالحکومت لاہور کے چار حلقوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا جوڑ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے پڑے گا۔ چاروں حلقوں میں پی ٹی آئی نے فتح حاصل کی تھی، تاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی پاداش میں تمام امیدوار ڈی سیٹ ہو گئے ہیں۔

    پی پی 202 چیچہ وطنی

    پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میجر (ر) غلام سرور نے 61 ہزار 989 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار نعمان لنگڑیال نے 59167 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک نعمان لنگڑیال نے ن لیگ کے شاہد منیر کو 13 ہزار کی ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    پی پی 217 ملتان

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 122 پولنگ سٹیشنوں میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے امیدوار مخدوم زین قریشی نے 46427 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد سلمان نعیم 40285 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    واضح رہے کہ فاتح امیدوار زین قریشی سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔

    محمد سلمان نعیم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن تھے اور جہانگیر ترین گروپ کے حصے ہونے کے باعث وزارتِ اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے باعث ڈی سیٹ ہوئے تھے۔

    خیال رہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں بطورِ آزاد امیدوار محمد سلمان نعیم نے تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی اور جہانگیر ترین کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن تھے تاہم ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے باعث یہ آزاد امیدوار میدان میں اُترے تھے۔

    پی پی 224، 228 لودھراں:

    پی پی 228 لودھراں میں آزاد امیدوار رفیع الدین بخاری نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 42719 ووٹ حاصل کیے۔ پی ٹی آئی کے کیپٹن (ر) عزت جاوید 34 ہزار 635 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ مسلم لیگ ن کے نذٰیر احمد بلوچ 30 ہزار 841 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 224 لودھراں سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عامر اقبال شاہ 69265 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار زوار حسین وڑائچ 55748 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں دونوں حلقوں زوار حسین وڑائچ نے ن لیگ کے رہنما محمد عامر اقبال شاہ اور نذیر احمد خان نے مسلم لیگ ن کے سیّد محمد رفیع الدین بخاری کو پچھاڑا تھا، پی ٹی آئی کے دونوں فاتح امیدوار اب ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لے رہے ہیں۔

    پی پی 237 بہاولنگر:

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فدا حسین وٹو نے 61248 ووٹ حاصل کیے اور کامیابی کو گلے لگایا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیّد آفتاب رضا نے 25227 ووٹ حاصل کیے۔۔

    2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار فدا حسین نے پاکستان تحریک انصاف کے محمد طارق عثمان کو شکست دی تھی، اور بعد میں جہانگیر ترین خان کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔

    پی پی 272، 273 مظفر گڑھ:

    پی پی 272 میں پاکستان تحریک انصاف کے معظم جتوئی 49823 ووٹ لیکر فاتح ٹھہرے جبکہ زہرہ باسط بخاری 42995 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پی پی 273 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سبطین رضا 21795 ووٹ لیکر آگے تحریک انصاف کے یاسر عرفات جتوئی 21625 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے بائی الیکشن کے دوران زہرہ بتول نے کامیابی حاصل کی تھی، انہوں نے آزاد امیدوار سیّد ہارون احمد بخاری کو ہرایا تھا جبکہ پی پی 273 میں پاکستان تحریک انصاف کے سبطین رضا بخاری نے آزاد امیدوار رسول بخش کو پچھاڑا تھا۔

    پی پی 282 لیہ:

    پاکستان تحریک انصاف کے قیصر عباس مگسی 43922 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے جبکہ لالہ طاہر رندھاوا 29715 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

    2018ء کے الیکشن میں آزاد امیدوار لالہ طاہر رندھاوا نے پی ٹی آئی کے قیصر عباس خان کو شکست دیکر فتح حاصل کی تھی۔

    پی پی 288 ڈی جی خان :

    ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کو پچھاڑ دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیف الدین کھوسہ نے 56 ہزار 857 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار عبد القادر کھوسہ نے 33 ہزار 254 ووٹ حاصل کیے۔

    2018ء کے جنرل الیکشن کے دوران اس حلقے میں محسن عطاء خان کھوسہ نے بطورِ آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی اور پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔