Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا میں بھی اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    امریکا میں بھی اومی کرون کا پہلا کیس رپورٹ

    امریکا میں بھی کورونا کی اومی کرون ویرینٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس کے مطابق متاثرہ شخص جنوبی افریقہ سے 22 نومبر کو امریکا آیا تھا اومی کرون سے متاثرہ شخص ویکسین کا کورس مکمل کر چکا تھا، مریض کا علاج جاری ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ تمام ممالک پُرسکون رہ کر اومی کرون کے خلاف حقیقی اقدامات کریں۔

    کورونا کی نئی قسم، سعودی حکومت کیجانب سےعمرہ زائرین کے لیے نئی ہدایات جاری

    انہوں نے کہا کہ نئے ویرینٹ اومی کرون سے متعلق ابھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، تمام ممالک منطقی، متناسب اور خطرے میں کمی لانے والے اقدامات کریں۔

    اس سے قبل گزشتہ روز ہی امریکہ نے کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون سے نمٹنے کے لیے ہوائی اڈوں پر اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ کے 4بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نگرانی بڑھائی جائے گی امریکہ جانے والوں کو بورڈنگ سے ایک روز پہلے کورونا ٹیسٹ کرانا ہوگا۔

    امریکہ پہنچنے کے بعد تین سے پانچ روز میں دوبارہ ٹیسٹ کروانے کو لازمی قرار دینے پر بھی غور کیا جارہا ہےبائیڈن انتظامیہ بیرون ملک سے آنے والوں کو ایک ہفتے تک قرنطینہ میں رکھنے کے امکانات پر سوچ رہی ہے پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ لگانے کا آپشن بھی زیرغور ہے۔

    امریکہ نے فیصلہ مسافروں میں اومی کرون کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر کیا ہےامریکی صدر جو بائیڈن کل کورونا سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کریں گےجبکہ کورونا کی نئی قسم سامنے آنے پر امریکہ افریقی ممالک پر سفری پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

    "اومی کرون” نوجوانوں کو متاثر کررہا ہے ،افریقی ڈاکٹر

  • امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی

    امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی

    امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔
    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسےDimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگر Dimorphos کے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • امریکا،سکول میں فائرنگ 3 طالبعلم ہلاک،ٹیچر سمیت 6 افراد زخمی

    امریکا،سکول میں فائرنگ 3 طالبعلم ہلاک،ٹیچر سمیت 6 افراد زخمی

    امریکا میں اسکول کے اندر فائرنگ کے نتیجے میں 3 طلبا ہلاک اور ٹیچر سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ریاست مشی گن میں ایک 15 سالہ طالب علم نے منگل کو ایک ہائی اسکول میں مبینہ طور پر فائرنگ کی،فائرنگ ایک 15 سالہ طالب علم نے کی۔ہلاک ہونے والوں میں 16 سالہ لڑکا جبکہ 14 اور 17 سالہ دو لڑکیاں شامل ہیں۔


    واقعے کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے آکسفورڈ ہائی اسکول کو گھیر لیا، پولیس نے 15 سالہ طالبعلم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی فائرنگ آکلینڈ کاونٹی کے آکسفورڈ ہائی اسکول میں کی گئی، رپورٹ کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والی گن مشتبہ شخص کے والد نے 4 دن پہلے خریدی تھی۔

    کراچی میں ٹک ٹاکر لڑکی کے اغوا کا ڈراپ سین

    مشی گن کے گورنر نے فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی اسکول جانے سے ڈرنا نہیں چاہیئے۔

    سیکنڈ ائیر کے ایک طالب علم کو حراست میں لے لیا گیا اور ایک ہینڈگن ضبط کر لی گئی حملہ آور نے ان تین بچوں کو ہی ٹارگٹ کیا ہے یا اس کا کوئی اور مقصد تھا مشتبہ نوجوان نے حملے سے پہلے بندوق کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیں-

    ایک اور عثمان مرزا۔ نوجوان جوڑے پر جنسی عمل کیلیے تشدد٫ویڈیو وائرل

    لکی ون مال میں بیروزگار نوجوان نے کود کر خودکشی کرلی

    مقامی گورنر کا کہنا تھا کہ یہ والدین کے لیے ایک خوفناک خواب ہے، اور یہ مسئلہ امریکا میں بہت بڑھ چکا ہے، جس کو روکنے کے لیے جلد سخت احکامات اٹھانے ہوں گے۔

    2021کے دوران امریکا کے اسکولوں میں فائرنگ کے28واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، امریکی میڈیا کے مطابق اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات میں 9ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 46 ہے 2021 میں امریکا کی 19 مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے واقعات ہوئے۔

    اسمبلی احاطہ سے شراب کی بوتلیں برآمد،وزیراعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ

    کراچی: تین ہٹی کے قریب جھگیوں میں آگ کیسے لگی؟ پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی

    اسلام آباد میں آئی جی کے گھر کے سامنے ڈکیتی، ملزمان گرفتار نہ ہو سکے

  • نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    نائن الیون متاثرین کا افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بطور معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ

    نائن الیون کے متاثرہ خاندان نے امریکا کے پاس موجود افغانستان کے 7 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کے طور پردینے کا مطالبہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق جو بائیڈن انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے وہ وفاقی عدالت کو کابل کو رقم واپس دینے یا اسے متاثرین کے اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے سے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے آگاہ کرے گی۔

    جوبائیڈن کا 9/11 حملوں سے متعلق خفیہ دستاویزات جاری کرنےکا حکم

    رپورٹ کے مطابق ’امریکا کا محکمہ انصاف نائن الیون مدعیان کے وکلا کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ اگر حکومت افغانستان کو رقم واپس نہ کرے تواسے متاثرین میں تقسیم کرنے کا معاہدہ کیا جاسکے تجویز پر غور کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل، حکومت کے اداروں سے رابطہ کر رہی ہے-

    نائن الیون کا سب سے زیادہ نقصان افغانستان ،پاکستان کو ہوا، رحمان ملک

    واضح رہے کہ 20 سال قبل 9/11 کے واقعے کے بعد کم و بیش 150 متاثرہ خاندانوں نے اپنے نقصان کے معاوضے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا، واقعے میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھےاس قانونی دعویٰ میں القاعدہ اور طالبان کو نامزد کیا گیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کی اس لیے انہیں معاوضے کی بھی ادائیگی کرنی چاہیے۔

    نائن الیون کے سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہوں آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ…

    برسبین میں جہاز نے شہریوں کو نائن الیون یاد کرا دیا

    ایک دہائی قبل عدالت نے مدعا علیہان کو واقعے میں ملوث پایا اور انہیں 7 ارب ڈالر مالیت کا زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فیصلہ علامتی ظاہر ہوا کیونکہ نائن الیون کے فوری بعد امریکا نے افغانستان پرحملہ کیا اور طالبان کا تخت الٹتے ہوئے القاعدہ کو ختم کردیا تھا۔

    رواں سال 15 اگست کو طالبان واپس اقتدار میں آئے اور دعویٰ کیا کہ نیویارک میں امریکی وفاقی ذخائر میں منجمد افغان مرکزی بینک کے تقریباً 7 ارب ڈالرز کے اثاثوں پر ان کا حق ہے۔

    امریکی جیل میں 43 سال سے قید بے گناہ شخص کو رہائی مل گئی

  • ڈینیل پرل کیس میں عمر شیخ کی رہائی کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں کی گئی

    ڈینیل پرل کیس میں عمر شیخ کی رہائی کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں کی گئی

    اسلام آباد: 2 مارچ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے امریکہ کی قائم مقام سفیر انجیلا پی ایگلر (Angela P Aggeler)کی ملاقات ہوئی۔ پاکستان امریکہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گیی۔ نئی امریکی انتظامیہ اور افغانستان میں پائیدار امن کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی صحافی ڈینیل پرل کیس میں ملوث ملزمان کےحوالے سے اعلی عدلیہ میں جاری اپیل پر گفتگو کی۔ شیخ رشید احمدکا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہت دیرینہ ہیں۔امید ہے نئی امریکی انتظامیہ سے پاک امریکہ تعلقات میں نمایاں بہتری آئیگی۔ نئی امریکی انتظامیہ انتظامیہ سے امریکہ تعلقات میں بہتری کے لئے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ قائم مقام امریکی سفیر نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ مقصد ہے۔ پاکستان نے افغانستان امن کے لئے بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لئے نئی امریکی انتظامیہ سے بھر پور تعاون جاری رکھیں گے۔ افغانستان پائیدار امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سفیر امریکی شہری اور صحافی ڈینیل پرل کے کیس میں پاکستانی عدالت سے انصاف کی توقع ہے۔ ڈینیل پرل کا خاندان انصاف کا منتظر ہے۔ ڈینیل پرل کیس میں عمر شیخ کی رہائی کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ میں ہیں۔
    پاکستان میں عدالتیں آزاد ہیں۔یقین ہے کہ اعلی عدلیہ کا فیصلہ انصاف اور قانون کے مطابق ہوگا۔ قائم مقام امریکی سفیر نے پاکستان کے کرونا وائیرس کنٹرول کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔ ملاقات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر بھی موجود تھے۔