Baaghi TV

Tag: امریکا

  • امریکا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں فائرنگ، 3 ہلاک، متعدد زخمی

    امریکا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں فائرنگ، 3 ہلاک، متعدد زخمی

    امریکا میں ایک فاسٹ فوڈ چین میں فائرنگ کے واقعے میں 3 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست آئیڈاہو کے شہر ٹوئن فالز میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹرنٹ کے قریب فائرنگ کے واقعے میں تازہ اطلاعات کے مطابق 3 افراد ہلاک اور 7 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،فائرنگ ہفتے کی ایک مصروف شاپنگ ایریا میں ہوئی مشتبہ حملہ آور واقعے کے بعد مردہ پایا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے فوری خطرہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ حملے کا محرک تاحال معلوم نہیں ہو سکا،وفاقی ادارے بھی مقامی پولیس کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • امریکا میں فوڈ فیسٹیول کے دوران  فائرنگ، 3 افراد ہلاک

    امریکا میں فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ، 3 افراد ہلاک

    امریکی شہر سیئٹل میں مشہور سیاحتی مقام اسپیس نیڈل کے قریب فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق واقعہ اتوار کو پیش آیا جب شہر کے سیئٹل سینٹر میں سالانہ ”بائٹ آف سیئٹل“ فوڈ فیسٹیول جاری تھا،شہر سیئٹل فائر ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ فائرنگ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے ہوئی، واقعے میں دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ایک زخمی نے اسپتال میں دم توڑ گیا،چار زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم ہے، جبکہ ایک زخمی نے اسپتال جانے سے انکار کردیا۔

    سیئٹل کی میئر کیٹی ولسن نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہےمیں سیئٹل پولیس کے ان اہلکاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔

    سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس کے مطابق ایک دوسرا مشتبہ شخص جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا ہے جسے تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں مشتبہ افراد ایک دوسرے پر فائرنگ کر رہے تھےواقعے کے دوران کئی افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے اسپیس نیڈل کے اندر پناہ لی زخمیوں میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل ہے –

    سیئٹل پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں،اس کے علاوہ پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق ویڈیوز یا معلومات موجود ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کریں۔

    واشنگٹن کے گورنر باب فرگوسن اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بے مقصد تشدد قرار دیاگورنر باب فرگوسن نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ میری دعائیں متاثرین کے خاندانوں اور ان امدادی کارکنوں کے ساتھ ہیں جو لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر نئی درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد میں مبینہ کمزوریوں کا الزام لگاتے ہوئے کیا ہے نئی پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے یہ اقدامات عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو گیا تھا امریکی حکام کے مطابق نئی ڈیوٹیاں جمعہ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئیں، جبکہ راستے میں موجود سامان کو 28 جولائی تک رعایت دی گئی ہے۔

    امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابند ی کا قانون رکھتا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرح کے اقدامات کریں آج کا اقدا م انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو درست کرنے کی طرف ایک قدم ہے تاکہ دنیا بھر کے کارکنوں کی بہتری ممکن ہو سکے۔

    نئی ٹیرف پالیسی کے تحت ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے،یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ٹیرف کی شرح اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ ان کے پہلے سے موجود درآمدی ٹیکس شامل کرنے کے بعد مجموعی شرح تقریباً 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔

    دیگر 38 ممالک، جن میں ویتنام اور چین بھی شامل ہیں، کی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنکیا نگ کے ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے معاملات میں ملوث ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    چین کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نومبر 2025 میں ہونے والی تجارتی مفاہمت کے تحت چین پر عائد ٹیرف دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، تاہم اس سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نئے ٹیرف لگا دیے ہیں اور اس اقدام کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

    امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت امریکا ایسے ممالک جن میں جبری مشقت پر پابندی کے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور جن ممالک میں جبری مشقت پر پابندی کے قوانین بالکل نافذ نہیں ہیں، ان پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    کئی ممالک نے امریکی اقدام پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین ان نئے ٹیرف کو حیران کن سمجھتی ہے اور امریکا کی جانب سے دی گئی وجہ قابل قبول نہیں،اگر آپ ہمارے مزدور قوانین کا امریکا کے قوانین سے موازنہ کریں تو ہمارے پاس ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر کام کے حالات موجود ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں لگتا۔

    آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ناروے نے کہا کہ ان اقدامات کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں۔

    کینیڈا کے وزیر برائے امریکی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے ہفتوں میں امریکا کے ساتھ اس معاملے اور دیگر مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی سابق تجارتی مشیر کیلی این شا نے کہا کہ نئی ٹیرف پالیسی زیادہ تر انہی اقدامات کے مطابق ہے جن کا پہلے سے اندازہ تھا، تاہم کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں تقریباً 471 مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دینا شامل ہے میرے خیال میں معاشی اثرات کے لحاظ سے یہ صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ یورپی یونین جیسے شراکت داروں نے ٹیرف کی حد مقرر کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے، جس کی وجہ سے نئی شرحیں پہلے کے مقابلے میں کم رہیں گی۔

    امریکی حکام کے مطابق تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، طیارے اور ان کے پرزے، اہم معدنیات اور کچھ ایسی مصنوعات جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کے قوانین کے تحت ٹیرف عائد ہے، نئی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کےسکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع

    حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کےسکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع

    واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں،اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلوما ت میڈیا تک پہنچائیں، کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھےاس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی، میر ین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہےتاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

    تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہےسیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

  • کویت میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف احتجاج

    کویت میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف احتجاج

    عرب ممالک میں لوگوں نے امریکی اڈوں کے خلاف سڑکوں پہ احتجاج شروع کر دیا ہے،کویت میں امریکی اڈوں کے خلاف لوگوں نےاحتجاج کیا-

    کویت اور خلیجی خطے میں حالیہ عوامی احتجاج اور کشیدگی کا تعلق بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی جھڑپوں اور تہران کی جانب سے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر کیے جانے والے ڈرون و میزائل حملوں کے دعوؤں سے ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق،عوام میں خطے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے، اب ان شاہی خاندانوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ سوشل میڈیا کا دور ھے اور ان کی اپنی بادشاہتوں کے در ودیوار ہلنا شروع ہو گئے ہیں –

    ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے کویت میں کیمپ عریفجان، کیمپ دوحہ اور علی السالم ایئر بیس جیسے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر لوگ خطے کی جنگی صورتحال میں اپنے ممالک کے کردار اور غیر ملکی فوجی موجودگی پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں، کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں نے ملکی دفاع اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

  • ٹرمپ کی اثاثے ضبط کرنے کی دھمکی پر ایرانیِ وزیر خارجہ کا سخت انتباہ

    ٹرمپ کی اثاثے ضبط کرنے کی دھمکی پر ایرانیِ وزیر خارجہ کا سخت انتباہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، سامان یا دیگر املاک کو کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں اس کا معاوضہ امریکا کے قبضے میں موجود ایرانی رقوم سے ادا کیا جائے گا۔

    عباس عراقچی نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کرکے مستقبل میں سامنے آنے والے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کرنا ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرے گا جو لوگ ایسے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اس پر خوش ہوتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسرے ممالک کے اثاثے ضبط کرنے کو معمول بنا لیں گی تو پھر کسی کے بھی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے، اس کے بعد پیدا ہونے والا انتشار نہ خوشگوار ہوگا اور نہ ہی پُرامن۔

    عباس عراقچی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی ادائیگی امریکا کے قبضے اور کنٹرول میں موجود ایرانی رقوم سے کی جائے گی۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کن مخصوص ایرانی اثاثوں کی بات کر رہے ہیں۔ البتہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے اب بھی امریکا کے کنٹرول میں منجمد ہیں۔

    اس سے قبل ایکس پر جاری ایک اور بیان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بے سوچے سمجھے جارحانہ اقدامات کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں صدر ٹرمپ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی حقیقی صورتحال کے بجائے صرف 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے،امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ افراد نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جن کے نتائج خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی ممکنہ معاہدے یا امریکی اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکی پالیسیوں اور بیانات کو خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور جاری ہے، جو پہلے ہونے والی کارروائیوں سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔

    جمعرات کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہےمیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا۔

    رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی فوج کو نئی کارروائی کے لیے کوئی نیا حکم ملا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ کے اندر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ان کے بقول امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں، اگر اسرائیل اس کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، جس سے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کیا، ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،ایران نے ابھی تک اتنی تکلیف نہیں اٹھائی کہ وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے،

    رپورٹ کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک پیش کی گئی تازہ تجویز قبول نہیں کی۔ ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 روز کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارر و ائیوں میں اضافہ کیا ہے تاہم ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نظر نہیں آئے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں،نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر وہ واشنگٹن آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے-

  • امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج نے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملےکئے-

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پرکہا کہ ایران کے خلاف مسلسل 13ویں رات فضائی حملے کامیابی سے مکمل کیے، حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ حملے اس لیےکیے گئے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو ایران سے لاحق خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت سے تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزر رہے ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں نئے حملوں کا آغاز امریکی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 45 منٹ پر کیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا سنا گیا ہےایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے جنوبی شہر اہواز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ جزیرہ قشم میں بھی دھماکے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے نقصان کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں سے کی جائے گی، تمام نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گےآج سے جہازوں، ان کے کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ قبضہ اور کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا۔

  • ایران کا اردن میں امریکی ریڈار سسٹم اور ہیلی کاپٹر ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا اردن میں امریکی ریڈار سسٹم اور ہیلی کاپٹر ہینگر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد اہم عسکری آلات اور دفاعی نظام تباہ کر دیے ہیں-

    پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا حملے میں امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، سی ریم ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر کو تباہ کر دیا گیا یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم بیان میں حملے کے وقت، مقام یا ممکنہ جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام یا اردن کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر ایران کے اس دعوے کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

  • امریکا کی ایران کیخلاف مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع

    امریکا کی ایران کیخلاف مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع

    واشنگٹن: امریکا نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کردی۔

    امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، طبی عملہ اور اسلحہ بھیجنا شروع کر دیا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹر مپ کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے مزید مضبوط فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اپنے ملکی اڈوں سے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جبکہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور امریکی حکام بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں، لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن مشر قِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکا اور برطانیہ کے فوجی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں تیزی سے بڑھائی جا سکیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر جہنم کے دروازے کھولنے کا حکم دے دیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئےکہا ہےکہ ایران کو بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی، انہیں تباہ کیا جا رہا ہے، حملے جاری رہیں گے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی-