Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بہترین فائٹر قرار دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے لیے "جنگجو” اور "ایک اچھا فائٹر” ہونے کے الفاظ استعمال کیے ٹرمپ نے اماراتی صدر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی حمایت میں کھڑے رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’محمد (امیر متحدہ عرب امارات) ایک ناقابلِ یقین جنگجو ہیں گزشتہ ہفتے وہ بمباری کر رہے تھے میں نے پوچھا کہ آخر اتنے بم کون گرا رہا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ یو اے ای ہے۔ وہ ایک اچھے فائٹر ہیں،ٹرمپ نے شیخ محمد بن زاید کو ایک قابلِ احترام، باصلاحیت اور بہترین وژن رکھنے والا رہنما قرار دیا، انہوں نے اماراتی صدر کو ایک ایسا "جنگجو” کہا جو خطے کے استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرتا ہے-

    یہ غیر معمولی دعویٰ فرانس میں منعقد ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ کے موقع پر ایک پریس بریفنگ کے دوران سامنے آیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے مابین سٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعلقات انتہائی مستحکم ہیں۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کی جانب تھا یا انہوں نے یہ بات علامتی انداز میں کہی دوسری جانب تاحال متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی حالیہ اماراتی فضائی کارروائی کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیان کی مزید وضاحت سامنے آتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور علاقائی اتحادوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔

  • امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، امریکی وزیر دفاع

    امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا،، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے یا خرندنے کی اجازت نہیں ہوگی، امریکا خطے میں استحکام اور جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر دفاع نے نیٹو اتحادیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ کردار ادا کریں، انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر ایران جنگ کے دوران امریکا کو مطلوبہ سہولتیں اور فضائی رسائی فراہم نہ کرنے پر تنقید کی،ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ حتمی معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات میں متعدد اہم امور پر پیشرفت متوقع ہے، امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔

  • ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی۔

    صدرٹرمپ نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کے پاس بھی یہ میزائل مناسب تعداد میں ہونے چاہئیں اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ”متناسب سطح پر“ ایران کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہونا قابل قبول ہے امریکہ اپنی فوجی موجودگی خلیجی خطے میں فوری طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ امریکی افواج ”کچھ عرصے“ تک وہاں تعینات رہیں گی، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے باوجود خطے کی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کے پیش نظر امریکی فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہد ے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

  • افغانستان میں انخلا کے دوران  چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    افغانستان میں انخلا کے دوران چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا فوجی سازوسامان اب کچھ پرانا ہو چکا ہے، تاہم امریکا اسے واپس حاصل کرسکتا ہے۔

    فاکس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، جی 7 اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کو انتہائی افسوسناک قرار دیا صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس تمام امریکی سازوسامان کی واپسی چاہتے ہیں، جس کی مالیت کا تخمینہ اربوں ڈالرز لگایا گیا ہے کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ نے اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سامان افغانستان میں چھوڑ دیا تھا –

    ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انخلا کرتے تو اسے وقار اور منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتے اور تمام فوجی سازوسامان واپس لے جاتے ان کی حکومت افغانستان سے انخلا کے دوران ایک ایک چیز واپس لانے کا ارادہ رکھتی تھی اور فوجی کیمپوں کے خیمے تک اتارنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مستقبل میں افغانستان کو دی جا نے والی کسی بھی مالی امداد کو وہاں موجود امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ سامان قدرے پرانا ہو چکا ہے، لیکن اس کی واپسی اب بھی علامتی اور عملی طور پر اہمیت رکھتی ہے-

    امریکی صدر کے حالیہ بیان کو پاکستان کے اس مؤقف کی تائید بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد بارہا کہہ چکا ہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے جدید ہتھیار دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے ہاتھ لگے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ،پاکستانی دفتر خارجہ اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ افغانستان میں موجود جدید امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔

  • وزیراعظم پاکستان  نے  اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے

    وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشتپر بطور ثالث دستخط کردیے، اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں-

    اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے،اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    ،انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہےمعاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا، پاکستان شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی یاد میں باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔

    اس موقع پر شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک ایسے بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔

    وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خمینی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت، دور اندیشی اور امن کے لیے عزم کو سراہا گیا۔

    صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    وزیر اعظم نے اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومینی کی کوششوں کو بھی معاہدے کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا گیا بیان میں شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی تعمیری شمولیت اور سفارتی تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی ناگزیر اور انتہائی اہم قرار دیا گیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور پسِ پردہ سفارتی کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوئےاس امید کا اظہار کیاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی تفہیم، احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہوگی اور مستقبل میں امن و تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔

  • وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں،وفاقی وزیرِ پیٹرولیم

    وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں،وفاقی وزیرِ پیٹرولیم

    وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے-

    اپنے بیان میں علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں اور ایران و امریکا جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے پیٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے نئے شفاف فارمولے کی بدولت عوام قیمتو ں میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجوہات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے، جبکہ اس فارمولے کی تیاری تمام متعلقہ فریقین سے مکمل مشاورت کے بعد کی جائے گی۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں تیل کی سپلائی چین بلا تعطل برقرار رکھی گئی ہے اور حکومت توانائی سلامتی کے فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہےریاستی مفادات کے تحفظ اور توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد نئے اقدامات پر کام جاری ہے، جبکہ بحران کے دوران تعاون کرنے والے تمام شراکت داروں اور عوام کے شکر گزار ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

  • ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    ایران مثبت رویہ اختیارکرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

    صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان اور قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔

  • ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک مضبوط اور بااعتماد پوزیشن سے کر رہا ہے اور حالیہ عسکری کامیابیوں نے تہران کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا ہےموجودہ مذاکرات اور ماضی کے ادوار میں ہونے والی بات چیت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ آج ایران میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی پشت پناہی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں کسی بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دیتی جب تک اسے قانونی اور سیاسی معاہدوں کی شکل میں محفوظ نہ کیا جائے۔

    انہوں نے زور دیا کہ ایران کی حالیہ کامیابیوں کو ایسے سیاسی اور قانونی نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو ملک کے طویل المدتی مفادات کا تحفظ کر سکیں اگر جنگ میں حاصل ہونے والی فتوحات کو باضابطہ دستاویزات اور معاہدوں میں شامل نہ کیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کامیابیوں کے فوائد ضائع ہو سکتے ہیں ایران کی قیادت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ موجودہ کامیابیاں ملک کے سیاسی، سفارتی اور قومی مفادات کے لیے دیرپا ثمرات پیدا کریں۔

  • امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے صدور نے جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور ایران نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں،امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں، معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے تاہم ایک ثالث ملک کے سفارتکار اور ایک دوسرے ذریعے نے گزشتہ روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

    سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، تاہم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارسی اور انگریزی زبان میں موجود دستاویزات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں اور دوسرے فریق نے بھی اس یادداشت پر دستخط کیے ہیں معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا ایران کے منجمد فنڈز تک رسائی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا پابند ہوگا، آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کسی بھی حملے کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا 60 روزہ مدت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہےدونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ابتدائی اقدامات کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا،یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی عزم اور مذاکراتی عمل پر اعتماد نے ایک ایسے تنازع کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا،انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مسلسل کاوشوں نے معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دوراندیشی اور امن کے لیے عزم کو بھی خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے صبر، ثابت قدمی اور تعمیری مذاکراتی انداز نے اس معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا گیا، ان ممالک کی سفارتی معاونت اور تعمیری تعاون مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا۔

    شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششیں، غیر معمولی لگن اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات اس پیش رفت میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پورے خطے میں امن، باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گی انہوں نے دعا کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مستقل استحکام اور علاقائی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔

    ایرانی صدر نےدستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی دستخط موجود ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دو ملکوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ الیکٹرانک دستخط کے ذریعے ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تقریب جعمہ کو سوئزرلینڈ میں طے ہے جس میں امریکی، ایرانی وفود سمیت ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان سمیت سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے قائدین بھی شریک ہوں گے، معاہدے پر ایرانی اور امریکی دونوں صدور کی دستخط کے بعد سوئزرلینڈ میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کے حوالے سے فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

  • صدر ٹرمپ کی سالگرہ تقریب  پر ڈرون حملے کے منصوبے کا انکشاف، 5 افراد گرفتار،مزید گرفتاریاں متوقع

    صدر ٹرمپ کی سالگرہ تقریب پر ڈرون حملے کے منصوبے کا انکشاف، 5 افراد گرفتار،مزید گرفتاریاں متوقع

    امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے ایک اور بڑا حملہ ناکام بنا دیا-

    امریکی خبررساں ادارے ’این بی سی نیوز‘ کے مطابق اتوار 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ‘یو ایف سی فریڈم 250’ کی تقریب پر بارود سے بھرے ڈرونز کے ذریعے حملے کی ایک انتہائی ہولناک سازش کو ناکام بنا دیا گیا یہ تقریب امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقد کی جا رہی تھی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سازش میں شامل افراد تقریب کے اوپر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرونز اڑانے اور اس کے بعد بھاگتے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

    ایف بی آئی نے مختلف ریاستوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر قتل کی سازش سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں ، عدالتی ریکارڈ کے مطابق تحقیقات کےدوران اسلحہ، گولہ بارود اور خفیہ پیغامات برآمد ہوئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 19 افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیا جا رہا ہے،مشتبہ افراد نے حملے سے قبل علاقے کے نقشے اور تصاویر بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیں اور کارروائی کے بعد فرار کے راستوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

    ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ادارے کو اس ممکنہ خطرے کی اطلاع ایونٹ سے چار روز قبل موصول ہوئی تھی، جس کے بعد متعدد ریاستوں میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ حملے کو ناکام بنایا گیا،امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے کہا کہ ان کی ایجنسی نے اس تحقیقات کے دوران ایف بی آئی کے ساتھ قریبی تعاون کیا، مشتبہ افراد کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں نے کئی روز تک مسلسل کام کیا۔

    یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں منعقد ہوئی تھی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ اور امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں یو ایف سی مقابلوں کا اہتمام کیا گیا تھا تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے گرفتار ہونے والوں میں اوہائیو سے تعلق رکھنے والا 19 سالہ ٹائسن پراپر بھی شامل ہے عدالتی دستاویزات کے مطابق اس کی والدہ نے مقامی پولیس کو اپنے بیٹے کے رویے، اسلحہ خریدنے اور نامعلوم افراد سے آن لائن رابطوں پر تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

    حکام کے مطابق پراپر کے گھر سے ہزاروں گولیاں، متعدد ہتھیار اور ایک اسالٹ طرز کی رائفل برآمد ہوئی اہل خانہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ حالیہ مہینوں میں انتہا پسندانہ خیالات کا اظہار کر رہا تھا اور سوشل میڈیا پر یہودی مخالف تبصرے بھی پوسٹ کر چکا تھا ایک اور ملزم، 32 سالہ ڈینیئل ایسکرج، پر الزام ہے کہ وہ گروپ کے ارکان کے لیے ایک ”محفوظ پناہ گاہ “ تیار کر رہا تھا اور اپنے شیڈ کے نیچے بنکر تعمیر کر رہا تھا۔

    تفتیشی حکام کے مطابق ایک اور مشتبہ شخص ابراہم ہرموسیلو الواریز نے ممکنہ اہداف کی ایک فہرست بھی شیئر کی تھی، جس میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور کاروباری شخصیت ایلون مسک کے نام مبینہ طور پر شامل تھے،مزید دو افراد، برائن عمر روا اور مائیکل ایلن تھامس، کو ریاست کیلیفورنیا سے گرفتار کیا گیا ان کے گھروں کی تلاشی کے دوران ایسے شواہد ملے جن سے ان کی مبینہ شمولیت ظاہر ہوتی ہے۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں حکام کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو یہ حالیہ برسوں میں امریکی دارالحکو مت میں ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں شمار ہو سکتا تھا۔