Baaghi TV

Tag: امریکا

  • ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران ک ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہےماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گا دشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے، ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    جمعہ کو فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • ایران پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے،امریکی میڈیا

    ایران پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی سابقہ سخت شرائط میں نرمی اختیار کرلی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت کی بحالی کے بدلے میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ حملے روکنے کی ضمانت دی جائے جبکہ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر بات چیت کی پیشکش کی ہے تہران نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد جوہری امور پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں زیرِ غور لایا جائے، ایران آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے اگلے دور کے لیے آمادگی ظاہر کر چکا ہے، تاہم اس حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے نہ کوئی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہو چکا ہے، جس میں فریقین کسی نکتے پر متفق نہیں ہو سکے تھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے ساتھ فون پر بات چیت جاری ہے، 18 گھنٹے کا سفر کرکے ایسی باتیں کرنے کا فائدہ نہیں جن کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکے۔

  • آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار  کی علامت ہے،ایرانی صدر

    آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا-

    خلیج فارس کے قومی دن کے موقع پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے یہ طاقتیں خطے میں غیر ضروری مداخلت کرکے امن کو نقصان پہنچا رہی ہیں، ایران دشمن ممالک کو اس آبی راستے میں داخل نہیں ہونے دے گا-

    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، خودمختاری اور قومی وقار کی علامت ہے اس آبی گزرگاہ کی حفاظت ایران کے لیے انتہائی قومی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلےمیں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی ایران اپنی سرحدوں اور اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔

  • امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک ایسا نیا ہتھیار دنیا کے سامنے لانے والی ہے جس سے اس کے مخالفین شدید خوفزدہ ہیں۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ بہت جلد اپنے دشمنوں کا سامنا ایک ایسے ہتھیار سے کرے گا جو بالکل ان کے برابر میں موجود ہو گا،مجھے امید ہے اس ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد کو کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب ان کا یہ مفروضہ فوجی اکیڈمیوں میں ایک لطیفہ بن چکا ہے ایرانی افواج نے جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سات بار میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہاں سے طیاروں کی پروازیں عارضی طور پر رک گئیں۔

    شہرام ایرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر کم از کم 100 لہروں کی صورت میں جوابی حملے کیے ہیں ان کارروائیوں میں مغربی ایشیا کے وسیع جغرافیائی علاقے میں موجود حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے ابتدائی ناکامی کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور مزید تباہ کن بحری جہاز اور میزائل پلیٹ فارم تعینات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہے ہیں امریکا کی تمام تر کوششیں ابھی تک رکی ہوئی ہیں اور وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔

  • امریکا کا  جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا کا جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این-78) کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے-

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس جدید طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی کو اسٹریٹجک ترتیبِ نو کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی تعیناتی کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہےجیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں شمار ہوتا ہے اور اسے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ممکنہ سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کا تاثر بھی دیا جا سکتا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔

    بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا یران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔

  • ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق  درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں،جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر درست معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں۔

    ‘دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق جہاں پینٹاگون کے حکام صدر ٹرمپ کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں جے ڈی وینس ان دعوؤں کی حقیقت پر سوال اٹھا رہے ہیں جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی جانے والی جنگ کی خوش کن تصویر واقعی سچ ہے؟

    نائب صدر کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ پینٹاگون شاید امریکی میزائلوں کے ذخیرے میں ہونے والی بڑی کمی کو چھپا رہا ہےوہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا کا اسلحہ اسی طرح ختم ہوتا رہا تو مستقبل میں چین، شمالی کوریا یا روس جیسے بڑے حریفوں کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں امریکا کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

    جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر تو وزیر دفاع کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پیٹ ہیگستھ بہترین کام کر رہے ہیں، لیکن نجی محفلوں میں وہ بہت گہرے اسٹریٹیجک سوالات پوچھ رہے ہیں ہیگستھ کا ٹی وی پر کام کرنے کا تجربہ انہیں یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیا سننا چاہتے ہیں، اور وہ اکثر صبح آٹھ بجے بریفنگ دیتے ہیں جب صدر فاکس نیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایک سابق امریکی اہلکار نے بتایا کہ پیٹ اپنی ٹی وی مہارت کی وجہ سے خوب جانتے ہیں کہ صدر سے کس طرح بات کرنی ہے اور وہ کیا سوچتے ہیں جنگ کے نقصانات کے بارے میں بھی پینٹاگون اور انٹیلی جنس رپورٹس میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

    جہاں ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ایرانی فضائی حدود پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، وہیں خفیہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ تہران اب بھی اپنی دو تہائی فضائیہ اور میزائل داغنے کی بڑی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایران کی وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں بھی سلامت ہیں جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور عالمی تجارت کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہم ترین اسلحے کا آدھا حصہ پہلے ہی استعمال کر چکا ہے۔

    جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے ایران کے خلاف اس فوجی کارروائی کے مخالف تھے اور انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور علاقائی افراتفری کا باعث بنے گی ان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ کو اپنے وسائل گھر پر خرچ کرنے چاہئیں۔

    رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل اور 2028 کے صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے امکانات اس ایران جنگ کے نتیجے سے جڑے ہوئے ہیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں خود شرکت کی تھی تاکہ کسی طرح اس تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

  • 250ویں سالگرہ:امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر پر مشتمل پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف

    250ویں سالگرہ:امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر پر مشتمل پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف

    امریکا نے پاسپورٹ کا نیا ڈیزائن متعارف کرا دیا ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شامل کی گئی ہے،پاسپورٹ صرف واشنگٹن پاسپورٹ ایجنسی میں دستیاب ہوں گے۔

    فوکس نیوز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ محدود تعداد میں یادگاری پاسپورٹس جاری کیے جائیں گے جن میں صدر ٹرمپ کا پورٹریٹ شامل ہوگا یہ اقدام امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جولائی میں کیا جا رہا ہے، ان پاسپورٹس میں جدید اور منفرد ڈیزائن کے ساتھ سیکیورٹی فیچرز بدستور برقر ار رہیں گے، جاری کردہ نمونوں میں پاسپورٹ کے ایک صفحے پر ٹرمپ کی تصویر جبکہ سامنے 1776 میں اعلانِ آزادی پر دستخط کا منظر دکھایا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ شہریوں کو اس یادگاری پاسپورٹ کے حصول سے انکار کا اختیار ہوگا یا نہیں، تاہم اس کے لیے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی،اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مختلف سرکاری اشیا اور منصوبوں پر صدر کا نام یا تصویر شامل کی جا چکی ہے، جن میں یادگاری سکے، کرنسی پر دستخط، اور دیگر سرکاری اقدامات شامل ہیں۔

  • برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،کنگ چارلس

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا،بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا-

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے شاہ چارلس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک اپنے عوام کے تحفظ اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے متحد ہیں، اس موقع پر ملکہ کمیلا بھی ان کے ہمراہ تھیں،خطاب کے دوران کنگ چارلس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید، یوکرین جنگ میں امریکی حمایت کی اہمیت اور تنہائی پسندی کے خطرات کا بالواسطہ حوالہ دیا۔

    شاہ چارلس نے کہا کہ یورپ اور امریکا کی شراکت داری کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم قرار دیا اور کہا کہ جو اتحاد نائن الیون کے بعد نظر آیا اس کی آج یوکرین کے دفاع کیلئے ضرورت ہےبرطانیہ اور امریکا کا تعلق محض ماضی کی کامیابیوں پر قائم نہیں رہ سکتا، بلکہ بدلتے حالات کے مطابق اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، یوکرین میں قیامِ امن کے لیے یورپی اتحاد کا برقرار رہنا نہایت ضروری ہے موجودہ جنگ دراصل نیٹو کے عزم کا امتحان ہے اور اس صورتحال میں یوکرین کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہے-

    شاہ چارلس نے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوران پیش آنے والے حملے کی بھی سخت مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا یہ عمل کبھی کامیاب نہیں ہوگا اور جمہوری ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے خطاب کے دوران انہوں نے ماحولیاتی تحفظ، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے احترام کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہا کہ موجودہ غیر یقینی دور میں رواداری، آزادی اور دیگر جمہوری اقدار کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کنگ چارلس بھی اس مؤقف سے متفق ہیں، تاہم بادشاہ نے اپنے خطاب میں ایران یا جاری جنگ پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا،یہ خطاب ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور برطانیہ کے تعلقات میں ایران سے متعلق جنگ کے معاملے پر تناؤ پایا جاتا ہے، اور امریکی صدر کیئر اسٹارمر پر تعاون نہ کرنے کی تنقید کرتے رہے ہیں۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • میری والدہ کو  کنگ چارلس پر کرش تھا،صدر ٹرمپ

    میری والدہ کو کنگ چارلس پر کرش تھا،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بادشاہ چارلس کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ میری والدہ کنگ چارلس کے بچپن سے ہی انہیں پسند کرتی تھیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی بادشاہ چارلس سوم اہلیہ ملکہ کامیلا کے ہمراہ 4 روزہ سرکاری دورے پر امریکا پہنچے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی، برطانیہ کے شاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا کی تقریب میں آمد پر فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترا نے بجائے جب کہ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سلامی پیش کی اور شاہ چارلس ان کے ہمراہ اسٹیج پر موجود رہے جب کہ امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ بھی شاہی جوڑے کے استقبال کے لیے موجود تھیں تقریب میں آمد پر شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا نے امریکی کابینہ کے اہم اراکین سے مصافحہ کیا، جن میں نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے بعد ازاں ٹرمپ، میلانیا، شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے مشترکہ تصاویر بھی بنوائیں۔

    تقریب کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں بارش کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے اسے برطانوی موسم قرار دیا جس پر شرکا نے قہقہے لگائے، انہوں نے اپنے گزشتہ دورہ ونڈسر کاسل کو بھی یاد کیا اور شاہی خاندان کی میزبانی کو سراہا۔

    وائٹ ہاؤس میں بادشاہ چارلس کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکیوں کے لیے سب سے قریبی دوست برطانیہ کے سوا کوئی اور ملک نہیں ہے صدر ٹرمپ نے برطانوی قوم کے اعلیٰ کردار اور مشترکہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی آزادی کی جدوجہد صدیوں پر محیط مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔

    امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ میری والدہ کنگ چارلس کے بچپن سے ہی انہیں پسند کرتی تھیں مجھے یاد ہے کہ والدہ واضح طور پر کہا کرتی تھیں کہ چارلس بہت پیارے ہیں، میری والدہ کو چارلس پر کرش تھا، کیا آپ یقین کریں گے،ان کی والدہ کو بادشاہ چارلس کی والدہ بھی پسند تھی، جب بھی وہ انہیں ٹی وی پر دیکتھی تھیں مجھے مخاطب کرکے کہتی تھیں کہ دیکھو ڈونلڈ وہ کتنی خوبصورت ہیں۔ میری والدہ کو چارلس پر کرش تھا! کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں وہ اس وقت کیا سوچ رہی ہوں گی۔

    صدر ٹرمپ کے اس جملے پر تقریب میں موجود مہمانوں نے قہقہے لگائے، جبکہ کنگ چارلس بھی مسکراتے ہوئے دکھائی دیے اور انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اس تبصرے کا جواب دیا۔