Baaghi TV

Tag: امریکا

  • سعودی انجینئر 21 سال بعد گوانتانا موبے سے رہا

    سعودی انجینئر 21 سال بعد گوانتانا موبے سے رہا

    امریکا نے سعودی انجینئر کو 21 سال بعد گوانتاناموبے سے رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے 48 سالہ سعودی انجینئر غثان الشبری کو گوانتاناموبے سے رہا کیے جانے کی تصدیق کی ہے،سعودی انجینئر الشربی تقریباً 21 سال سے گوانتاناموبے میں قید تھا –

    انڈونیشیا میں مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ،11 افراد ہلاک درجنوں لاپتہ

    سعودی انجینئر غثان الشبری کی سعودی عرب واپسی سے متعلق ریویو بورڈ نے گزشتہ ماہ فیصلہ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی قومی سلامتی کے تحفظ کو لے کر الشربی کو مزید قید میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع نے سعودی انجینئر کو واپس سعودب عرب بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    نیو گوادر ائیر پورٹ کا افتتاح ممکنہ طور پر 23 مارچ کو کیا جائے گا

    پینٹاگون ریویو بورڈ نے گزشتہ سال یہ تصدیق کی تھی کہ الشربی کی القاعدہ میں اب کوئی اہم ذمہ داری نہیں اور نہ ہی وہ اس کا سہولت کار ہے۔

  • سیاسی چیلنجزپرپاکستان کا شراکت دار بننےکو تیارہیں، امریکا

    سیاسی چیلنجزپرپاکستان کا شراکت دار بننےکو تیارہیں، امریکا

    واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہےکہ آئی ایم ایف فنڈنگ کی راہ کھولنےکے لیے بلآخر پاکستان کو ہی فیصلے کرنا ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کام جاری رکھے لیکن آئی ایم ایف فنڈنگ کی راہ کھولنےکے لیے بلآخر پاکستان کو ہی فیصلے کرنا ہوں گے۔

    بھارتی فوجی افسران کی سرکاری فنڈزپرعیاشیاں اور شاہ خرچیاں، نوجوان نالاں،عام فوجیوں سے امتیازی سلوک …

    نیڈ پرائس نے کہا کہ اصلاحات لانے سے پاکستانی کاروبار مزید مسابقتی ہو جائیں گے اور پاکستان کو بہترسرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملےگی جبکہ ضروری اقتصادی فیصلوں سے پاکستان پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اور امریکا کی مدد سےپاکستان پائیدار ترقی کی راہ پر آسکتا ہےپاکستان پائیدار ترقی کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کےساتھ کام کررہا ہے-

    متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار

    نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا، اقتصادی، سکیورٹی، سیاسی چیلنجزپرپاکستان کا شراکت دار بننے کو تیار ہے، ہم پاکستان کے شراکت دار ہیں، مستحکم، پرامن اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں پاکستانی عوام کو معاشی مشکلات سمیت زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔

  • ہیکرز نے تاوان  ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    روسی ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پر امریکی مریضہ کی برہنہ تصاویر شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق روسی ہیکرز نے 4 مارچ کو امریکی ریاست پینسلوینیا کے اسپتال لی ویلی ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈیٹا پر سائبر حملہ کیا جس کے بعد 6 مارچ کو اسپتال انتظامیہ نے سائبر حملے کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو آگاہی دی تاہم ہیکرز اسپتال کا ڈیٹا چرانے میں کامیاب رہے۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    ہیکرز نے اسپتال انتظامیہ کو ای میل کی گئی جس میں انہوں نے لکھا کہ لمبے عرصے سے ہم آپ کے نیٹ ورک میں موجود تھے اور آپ کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس آگیا ہے، جس میں مریضوں کی تفصیلات، ان کے پاسپورٹس کی مندرجات، سوال نامے، نجی معلومات اور برہنہ تصاویر شامل ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ڈارک ویب پر ڈیٹا جاری نہ کرنے کے بدلے میں ہیکرز کی جانب سے 15 لاکھ امریکی ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی فوج نے اپنے ہی گاؤں پر گولہ گرادیا ،3 دیہاتی ہلاک اور متعدد زخمی

    اسپتال کی جانب سے تاوان کی رقم دینے سے انکار کے بعد ہیکرز نے کینسر کی مریضہ کی تفصیلات پر مبنی سات دستاویزات اور ریڈی ایشن اونکولوجی ٹریٹمنٹ لیتے ہوئے تین برہنہ تصاویر کے اسکرین شاٹس سمیت دیگر ڈیٹا ڈارک ویب پر اپلوڈ کر دیا۔

    ہیکرز نے کہا کہ ہمارے بلاگ کو دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے، کیس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی، اور آپ کے کاروبار کو کافی نقصان پہنچے گی-

    امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات نے جنوری میں کہا تھا کہ بلیک کیٹ نے 1.5 ملین ڈالر تک تاوان کا مطالبہ کیا ہےایلنٹاؤن، پنسلوانیا میں مقیم کمپنی نے کہا کہ مریض کا ڈیٹا شائع کرنا ‘قابل نفرت’ تھا۔

    کمپنی نے کہا، ‘یہ غیر ذمہ دارانہ مجرمانہ فعل کینسر کا علاج کروانے والے مریضوں کا فائدہ اٹھاتا ہے، اور LVHN اس نفرت انگیز رویے کی مذمت کرتا ہے-

    ہیلتھ کیئر کمپنی کے سی ای او برائن نیسٹر نے کہا کہ وہ ابھی تک اس واقعے میں ملوث معلومات کی شناخت کر رہے ہیں ہم ان لوگوں کو نوٹس فراہم کریں گے جن کی معلومات اس میں شامل تھیں۔

  • ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    بند ہونے والی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی بدھ کو دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے لندن سے امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد عارف نقوی نے عدالت کا یہ فیصلہ چیلنج کر دیا تھا-

    ٹوئٹر کے دفتر میں محافظ ہروقت یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی ایلون مسک …

    مقدمہ ہارنے کے بعد ایک وقت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ کے بانی کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی تاجر عارف نقوی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق عارف نقوی پبلک ریلیشنز فرم کے ذریعے ان الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔

    برطانوی جج جوناتھن سوئفٹ نے بدھ کو عارف نقوی کو ان کی امریکہ حوالگی کی 2021 کے مقدمے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    عارف نقوی کے وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے ایک روز قبل لندن کی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کو ممکنہ طور پر نیو جرسی کی جیل میں پرتشدد مجرموں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہےعارف نقوی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں اور حوالگی کی صورت میں ان کو خودکشی کا ’حقیقی خطرہ‘ لاحق ہے۔

    ہماری حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    تاہم امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا کہ عارف نقوی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ استغاثہ مقدمے کی سماعت سے قبل ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

    امریکی حکومت کے سرکاری وکیل مارک سمرز نے عدالتی فائلنگ میں کہا کہ عارف نقوی کے مقدمے کے امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس کپلان ہیں جنہوں نے ایف ٹی ایکس کے بانی سیم بینک مین فرائیڈ کی بھی ضمانت کی منظوری دی تھی جو ’مضبوط اشارہ‘ ہے کہ نقوی کو ضمانت مل جائے گی۔

    برطانوی جج سوئفٹ نے بدھ کو جاری فیصلے میں کہا کہ عارف نقوی کی حوالگی کی منظوری کے 2021 کے فیصلے کے بعد سے جیل کے حالات میں کوئی ’مادی تبدیلی‘ نہیں آئی ہے اگر عارف نقوی کو جیل میں رکھا گیا تو ان کی خودکشی کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد کرنے والے تین اہلکارمعطل

    عارف نقوی کے وکیل نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی اور ان کی فرم نے ابراج گروتھ مارکیٹس ہیلتھ فنڈ کے لیے رقم اکٹھی کی جنہوں نے تین سالوں میں امریکی خیراتی اداروں اور دیگر امریکی سرمایہ کاروں سے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی۔

    امریکی استغاثہ نے سابق ایگزیکٹو پر مالیاتی بحران کے دوران فنڈز کی پوزیشن کے حوالے سے سچ چھپانے کا الزام بھی عائد کیا، جب کہ لاکھوں ڈالرز ان کے اپنے ہی خاندان کو چوری چھپے منتقل کیے گئے۔

    عارف نقوی دبئی میں قائم ابراج کے بانی تھے پاکستان میں بھی ابراج گروپ کے اثاثے موجود ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ابراج گروپ کی ملکیت ہے جب کہ اسلام آباد میں موجود ایک لیبارٹری میں بھی ابراج گروپ کے حصص موجود ہیں۔

    ماضی میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ عارف نقوی ایک وقت میں ان کی حکومت کو بے ضابطہ مشاورت فراہم کر رہے تھے۔

    اس کے علاوہ عارف نقوی سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کئی اجلاسوں میں بھی نظر آئے تھے اور برطانیہ کی عدالت میں ایک موقع پر جج یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’عارف نقوی کے پاکستان میں اعلیٰ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔

    ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں

    پاکستان کے احتساب ادارے نیب کے مطابق عارف نقوی تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کر چکے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں سال 2018 میں فرم کے خاتمے کے وقت ابراج ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقروض تھا۔

    امریکہ میں عارف نقوی پر فراڈ کے الزامات ہیں اور مبینہ متاثرین میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے 2019 میں برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    عارف نقوی کے کاروباری ساتھی عبدالودود کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا، اور استغاثہ کے وکلاء نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ہزاروں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا غلط استعمال کیا امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے عارف نقوی کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی نے عارف نقوی کے خلاف تحریری درخواست میں سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے دوران فراڈ اور منی لانڈرنگ کے 16 مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزمات لگائے تھے۔

    مبینہ بیٹی ظاہر نہ کرنےکا کیس:عمران خان کی متفرق درخواست سماعت غیر معینہ مدت تک …

    عدالتی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے مطابق ابراج گروپ کو جب 2014 میں مالی مشکلات پیش آنا شروع ہوئیں تو اس وقت مبینہ طور پر فراڈ شروع ہوا تھا۔ گروپ کی آمدنی روزمرہ کے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی پڑنے لگی تو مبینہ طور پر عارف نقوی اور اس کے ساتھ شامل کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر گڑ بڑ کرنا شروع کی۔

    کہا گیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کے دو طریقے تھے۔ پہلے طریقہ جو مبینہ طور پر اختیار کیا گیا وہ ابراج گروپ کی مالی مشکلات کو چھپانے کے لیے سرمایہ کاروں کا پیسہ ادھر سے ادھر کیا گیا یا جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اسے دوسری جگہوں پر استعمال کیا جانا شروع کیا گیا۔ دوسرا طریقہ گروپ کے اثاثوں کی قدر بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی۔ گروپ کی مالی حالت کے بارے میں سرمایہ کاروں کے سامنے غلط تصویر پیش کر کے ان سے مزید سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گروپ کے اندر جاری اس مبینہ بدعنوانی اور فراڈ سنہ 2017 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم ای میل پیغام سرمایہ کاروں کو موصول ہوا۔ اس پیغام میں کہا گیا ‘کیش’ کو ابراج کے ‘ورکنگ کیپٹل’ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ جو پیسہ ادھر اُدھر کیا جا رہا تھا اس کو ابراج گروپ کی مالی حالت کو چھپانے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا انھوں نے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنی میں اپنے شیئر کو فروخت کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک پاکستانی سیاست دان کو بھی رشوت دی۔

    ای سی سی نے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کرنے کی …

    عارف نقوی سنہ 1960 میں کراچی کےایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔

    سنہ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی اور اس کے ساتھ ابراج کے نام سے سرمایہ کار گروپ قائم کیا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والا پہلا گروپ تھاسنہ 2016 میں ابراج نے کریم کار میں بھی سرمایہ کاری کی اور دو سال کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال لیا۔

    ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ سنہ 2002 میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔

    پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں سنہ2017 کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بےاعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

    دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔ پاکستان کے سب سے گنجان آبادی والے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے اس ادارے کے 25 لاکھ صارفین ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف بجلی کی پیداوار کرتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور منتقلی بھی اسی کے ذمے ہےابراج گروپ نے جب کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تو اس وقت بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات: الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ اور خزانہ حکام کو طلب کر …

    عارف نقوی نے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرینش کے طلب علموں کی مالی معاونت کرتے اس کے علاوہ انھوں نے کراچی میں امن فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی ادارا قائم کیا ہے، جو نہ صرف جدید ایمبولینس کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی دیتا ہے۔ عارف نقوی کے ساتھ ان کی اہلیہ فائزہ نقوی بھی اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

    حکومت پاکستان نے سنہ 2011 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا۔ وہ انٹرپول فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن بھی ہیں۔

  • 6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

    6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

    تاشقند: ازبکستان میں 6 ممالک کے خارجہ کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مغربی ممالک پر افغانستان کے منجمد فنڈز کو فی الفور بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق اس اجلاس میں ترکمانستان کےنائب وزیرخارجہ ویپاحاجیئیف، تاجکستان کی وزارت خارجہ کےاہلکار وافو نیات بیک زودا، روس کےضمیر کابلوف، ازبکستان کےعصمت اللہ ارگاشیف، چینی اہلکاریو ژیاؤونگ، ایران کےحسن کاظمی قومی اور پاکستان کے نائب وزیر خارجہ سید رضا شاہ سید شاہ رضا شاہ نے شرکت کی۔

    تنخواہوں میں کٹوتی اور کپتانوں کےاستعفی کا معاملہ،پالپا کا موقف سامنے آ گیا

    اجلاس میں مغربی ممالک پرزور دیا گیا کہ جنگ زدہ ملک میں غربت کے خاتمے، اساتذہ اور ڈاکٹروں کی تنخواہوں کی ادائیگی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور تعمیر و ترقی کے لیے افغانستان کے منجمد فنڈز کو فی الفور بحال کریں۔

    یہ اجلاس روس اورافغانستان کی سرحد سےمتصل چھ ممالک روس، چین، ایران، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے افغانستان کے لیے قائم کیے گئے ایک کلب کی جانب سے کیا گیا-

    افتتاحی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے میزبان ملک ازبکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً 25 ملین لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اساتذہ اور ڈاکٹرز کی تنخواہیں تک پیسے نہیں۔

    پہلےعمران خان کو لیکرعدالت پہنچیں پھر سماعت ہو گی،ایڈیشنل رجسٹرارلاہورہائیکورٹ

    اجلاس کا شرکا کا کہنا تھا کہ غربت کے شکار ملک میں مسائل زیادہ اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دہائیوں سے جنگ زدہ ملک کی حالت فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے مزید ابتر ہوگئی ہے۔

    شرکا نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالرز کے اثاثہ جات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے سات ارب ڈالر کے اثاثہ جات میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر نائن الیون کے لواحقین و متاثرین کو دینے کا اعلان کیا ہے جس پر طالبان حکومت سمیت عالمی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔

    امریکی عدالت نے بھی صدر جوبائیڈن کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

    اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

  • امریکی بندرگاہوں میں دیوہیکل چینی کرینیں جاسوسی کے ٹولز ہیں، پینٹاگون

    امریکی بندرگاہوں میں دیوہیکل چینی کرینیں جاسوسی کے ٹولز ہیں، پینٹاگون

    امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر کی امریکی بندرگاہوں پر کام کرنے والی چینی ساختہ دیو ہیکل کرینیں بیجنگ کے لیے ایک ممکنہ جاسوسی ٹول بن سکتی ہیں۔ یہ کرینیں ایسے ٹول بن سکتی ہیں جو نظروں سے پوشیدہ ر ہیں گی۔

    باغی ٹی وی : امریکی بندرگاہوں پر چینی فوج کے زیر استعمال کرینیں بھی موجود ہیں کچھ قومی سلامتی کے حکام اور پینٹاگون نے کہا ہے کہ چین میں قائم ’’ زید پی ایم سی‘‘ کی بنائی ہوئی کرینیں جوجہاز سے بندرگاہوں تک سامان لے جاتی ہیں وہ بہتر انداز میں بنی ہوئی ہیں اور نسبتاًسستی ہیں لیکن ان میں جدید ترین سینسرزہیں جو کنٹینرز کےمنبع اورمنزل کوریکارڈ اورٹریک کرسکتےہیں،اس صورتحال سے خدشات بڑھ رہے ہیں-

    چین کا دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافے کا اعلان

    امریکی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق دنیا بھر میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مدد کے لیےملک کےاندر یا باہر بھیجے جانے والے سامان کے بارے میں معلومات کو چرایا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ 2021 میں ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے زیڈ پی ایم سی کی کرینوں کو بالٹی مورکی بندرگاہ پر لےجانےوالےکارگوجہاز کی تلاشی لی اوران میں سےکچھ لوگوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس اکٹھا کرنے والا سامان جہاز میں ملا۔

    واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ایک نمائندے نے کرینوں کے بارے میں امریکی خدشات کو چین کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو روکنے کی ایک "بے وقوفانہ” کوشش قرار دیا۔

    حالیہ برسوں میں امریکی قومی سلامتی کے حکام اور پینٹاگون نے چین میں تیار کردہ آلات کی ایک رینج کی طرف اشارہ کیا ہے جو امریکہ میں نگرانی یا رکاوٹوں کو آسان بنا سکتے ہیں۔ ان آلات میں سامان کی جانچ کے نظام اور برقی ٹرانسفارمرز کو بھی شامل کیا گیا ہےچین کے ارد گرد کی بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کے بارے میں وسیع تر خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ سٹریٹجک سرمایہ کاری کے ذریعے چین دنیا کے تقریباً تمام نئے شپنگ کنٹینرز تیار کرتا ہے اور شپنگ ڈیٹا سروس کو کنٹرول کرتا ہے۔

    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

    اسی تناظر میں، بڑے جہاز سے بندرگاہ جانے والی کرینوں نے نئی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ دسمبر میں منظور ہونے والے 850 بلین ڈالر کے دفاعی پالیسی بل کے تحت محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے بحری عہدیداروں سے لے کر سیکرٹری دفاع اور دیگر کے ساتھ مشاورت کی گئی اور کہا گیا کہ اس سال کےآخر تک ایک غیرمرتب شدہ مطالعہ تیارکرنےکی ضرورت ہےکہ آیاغیرملکی ساختہ کرینیں سائبر خطرے کا باعث بنتی ہیں یا یہ کرینیں امریکی بندرگاہوں میں سیکورٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں یا نہیں۔

    بڑے سائزکی کرینیں عام طور پرامریکی بندرگاہوں تک پہنچائی جاتی ہیں جو مکمل طور پر بحری جہازوں پر جمع ہوتی ہیں اور چینی ساختہ سافٹ ویئرکےذریعےچلائی جاتی ہیں۔ امریکی حکام نےکہا کہ کچھ معاملات میں دوسالہ امریکی ویزے کےساتھ کام کرنےوالے چینی شہریوں کی مدد کی جاتی ہے۔ ان عوامل کو انہوں نے ممکنہ راستہ قرار دیا جن کے ذریعے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔

    ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی نے 2021 میں ایک درجہ بندی کی تشخیص کی جس میں پتہ چلا کہ بیجنگ بندرگاہ پر ٹریفک کو روک سکتا ہے یا فوجی سازوسامان بھیجےجانےکےبارے میں انٹیلی جنس اکٹھا کرسکتا ہےامریکی رکن کانگریس کارلوس جمنیز نے گزشتہ برس قانون سازی متعارف کرائی تھی تاکہ چینی کرینوں کی مستقبل میں امریکی خریداری پر پابندی لگائی جائے اور دیگر مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

    سعودی عرب کا ترکیہ کے مرکزی بینک میں 5 ارب ڈالر جمع کرانے کا معاہدہ

  • کورونا وائرس کی وبا چین میں لیبارٹری سے لیک ہوئی، امریکی محکمہ توانائی بھی متفق

    امریکی محکمہ توانائی کا بھی کہنا ہے کہ چین میں لیبارٹری کا اخراج ممکنہ طور پر کوروناوبا کا سبب بنا،جبکہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس وائرس کی ابتدا کے حوالے سے اب تک منقسم رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اتوار کے روز کہا کہ محکمہ توانائی کا کہنا ہے کہ چین میں لیبارٹری سے حادثاتی طور پر لیک ہونے کی وجہ سے ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی وبائی بیماری پھیلی-

    وال اسٹریٹ کے مطابق تازہ ترین خفیہ رپورٹ کا یہ فیصلہ نئی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پیدا ہوا لیکن یہ دعویٰ کم اعتماد کے ساتھ کیا گیا ہے، امریکی توانائی کے محکمے کے نقطہ نظر میں تبدیلی نئی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی جبکہ پہلے یہ فیصلہ نہیں کیا گیا تھا کہ وائرس کیسے ابھرا۔

    حکام نے اس انٹیلی جنس نتائج کی وضاحت کرنے سے انکار کر دیا جس نے محکمہ کو اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ محکمہ توانائی نے اب فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی رائے کی تائید کی ہے کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس لیبارٹری میں ہونے والے حادثے کے بعد پھیلا۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس پہلی بار وسطی چینی شہر ووہان میں 2019 کے آخر میں سامنے آیا اور تیزی سے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ اب تک وبائی بیماری سے تقریباً 7 ملین افراد ہلاک ہو چکے ہیں،ایف بی آئی نے 2021 میں "اعتدال پسند اعتماد” کے ساتھ یہ نتائج جاری کیے تھے کہ کورونا لیبارٹری لیک سے پھیلا تاہم اس وقت محکمہ توانائی اس سے متفق نہیں تھا۔

  • فضا میں امریکی و چینی طیاروں کا خطرناک آمنا سامنا

    فضا میں امریکی و چینی طیاروں کا خطرناک آمنا سامنا

    بحیرہ جنوبی چین میں چین کے جنگی طیاروں اور امریکی بحریہ کے ہوائی جہاز کا خطرناک آمنا سامنا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی بحریہ کا جاسوسی جیٹ جنوبی بحیرہ چین کے اوپر 21,500 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا رہا جزائر سے 30 میل دور، تقریباً 130 چھوٹے ایٹولز کا ایک گروپ، جن میں سے سب سے بڑے چینی فوجی اڈے ہیں۔

    چین کے جنگی طیارے نے امریکی بحریہ کے ہوائی جہاز کو وارننگ دی کہ ’خبردار، آپ چینی حدود سے 12 ناٹیکل میل دور ہیں،آگے مت بڑھنا ورنہ ذمے دار خود ہوگے۔‘

    امریکی پائلٹ نے جواب دیا وہ محفوظ فاصلے پر ہے اور مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    چند منٹوں میں، ایک چینی لڑاکا طیارہ ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس امریکی طیارے کو روکا، جو اس کی بندرگاہ کی طرف صرف 500 فٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔

    فضا پر دونوں طیارے 500 فٹ کے فاصلے پر آگئے۔ میزائل سے لیس چینی جنگی جہاز نے امریکی پائلٹ کو جواب نہیں دیا جس کے بعد امریکی جہاز مغرب کی جانب نکل گیا۔

    امریکی جہاز میں موجود امریکی نشریاتی ادارے کے عملے نے واقعے کی ویڈیو بھی بنالی،امریکی جیٹ پر سوار سی این این کے عملے کے لیے، یہ بحیرہ جنوبی چین اور امریکا اور چین کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کا واضح ثبوت ہے۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،امریکا

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی وزارت خارجہ کے مشیر خاص اور قونصلر ڈیرک شیلٹ نے وائس آف آمریکا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا ہے جس پر امریکا پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ امریکا نے دہشت گردی کے نئے خطرے کا اندازہ لگایا ہے۔

    ڈیرک شیلٹ نے مزید کہا کہ ہم یہ سمجھنے اور جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کی اس نئی لہر کا سامنا کیوں ہے اور یہ خطرہ کیوں بڑھتا جا رہا ہے، ایسے واقعات بار بار کیوں ہو رہے ہیں۔

    ڈیرک شیلٹ نے بتایا کہ پشاور اورکراچی پولیس پر حملوں پر ہونے والی پاکستانی تحقیقات سے حاصل معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ان حملوں کو انجام دینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    ڈیرک شیلٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ان کی ضروریات اور امریکا کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد سے متعلق بات کی ہے۔

    تاہم انھوں نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے میں مدد سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔

    پانچ ماہ میں دوسری بار پاکستان کا دورہ کرنے والے کاؤنسلر ڈیرک نے اس سوال پر کہا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں معاونت کی نوعیت سے متعلق میں قیاس آرائیوں میں نہیں پڑوں گا کہ ہم کس چیز کی حمایت کریں گے اور کس کی نہیں،عوامی طور پرفرضی حالات میں یہ کس طرح لاگو ہوگا-

    اس کے بجائے، مسٹر چولیٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ان کی ضروریات اور واشنگٹن فراہم کی جانے والی مدد کے بارے میں بات کی، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال بھی واشنگٹن کے لیے "پریشان کن” ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا چین پر واجب الادا قرض دنیا بھر میں تشویش کا باعث ہے لیکن امریکہ پاکستان سے بیجنگ اور واشنگٹن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو نہیں کہہ رہا ہے۔

    پاکستان کے معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود مسٹر شیلٹ نے کہا کہ ملک کے ساتھ تعلقات اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر اتحادی، پارٹنر برابر نہیں ہوتا، لیکن ہمارے تمام تعلقات اہم ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کراچی میں جمعہ کو ہونے والے حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کراچی پولیس آفس پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہےہم اس دہشت گردانہ حملے میں پاکستانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ تشدد اس کا جواب نہیں ہے اور اسے رکنا چاہیے۔

  • پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے پاکستانی وفد واشنگٹن روانہ

    پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے پاکستانی وفد واشنگٹن روانہ

    اسلام آباد: پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے پاکستانی وفد واشنگٹن روانہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک ایگریمنٹ (ٹیفا) کے تحت مذاکرات کیلیے پاکستانی وفد وفاقی وزیر تجارت نوید قمر وفد کے ہمراہ واشنگٹن روانہ ہو گیا جو 23 فروری کو واشنگٹن میں ہوں گے۔

    سیاسی بحران نےمعاشی بحران کو جنم دیا ہےاگلے 3 ماہ بعد اس سے بھی زیادہ حالات خراب ہوں گے،اسد عمر

    نوید قمر نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹیفا مذاکرات 8 سال بعد ہونے جا رہے ہیں، مذاکرات پاک امریکا تجارتی و سرمایہ کاری بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔

    وزارت تجارت کے مطابق ٹیفا مذاکرات سے پہلے وفاقی وزیر تجارت امریکی نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    مذاکرات میں وزیرتجارت سید نوید قمر پاکستانی وفد کی قیادت جبکہ امریکی وفد کی قیادت یوایس ٹی آر کیتھرائن تائی کریں گے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت سےعمران خان کوبڑا ریلیف مل گیا

    خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے جون 2003 میں ٹیفا پر دستخط کیے تھے، مارچ 2022 میں، انہوں نے سامان اور خدمات دونوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے ٹیفا کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔