Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ پھر پاکستان کے قریب، بڑی پیش رفت,آرمی چیف کا دورہ برطانیہ، بڑی سفارتی فتح!

    امریکہ پھر پاکستان کے قریب، بڑی پیش رفت,آرمی چیف کا دورہ برطانیہ، بڑی سفارتی فتح!

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اس وقت برطانیہ کے دورے پر ہیں، جہاں عالمی اور علاقائی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت مزید اجاگر ہو رہی ہے۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار عبداللہ حمید گل کا اپنے وی لاگ میں کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی قربتیں امریکہ کے لیے باعثِ تشویش بن چکی ہیں، جبکہ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے بعد واشنگٹن، پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو دوبارہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس تناظر میں پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں، جس میں برطانیہ بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    عالمی اور مقامی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا پاکستان ایک بڑے سیاسی اور سفارتی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے؟ کیا موجودہ نظام میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے؟ اور کیا امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے؟

    مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی ایسے اسٹریٹجک مفادات ہیں جن کا تحفظ امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایک طرف ایران کھڑا ہے، جو ایک عرصے سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف رکھتا آیا ہے۔ حزب اللہ کی مکمل حمایت، حماس کی پشت پناہی، اور شام و عراق میں مختلف مسلح گروہوں کی مدد جیسے اقدامات نے خطے میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔

    اسی دوران، سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی سفارتی کوششوں سے پیدا ہونے والی قربتیں بھی امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کی، جس پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے سخت ردعمل دیا۔ اس بیان پر سعودی عرب نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے سفارتی آداب کے خلاف قرار دیا۔

    ان عوامل نے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کو مزید مستحکم کر دیا، جسے امریکہ کسی صورت قبول نہیں کر سکتا۔ اسی لیے، امریکہ نے سعودی عرب کو روس-یوکرین مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ مقام کے طور پر چنا ہے۔اس پس منظر میں، پاکستان کی اہمیت مزید اجاگر ہو رہی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی پر چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان اور ہتھیار اب طالبان اور دیگر گروہوں کے زیر استعمال ہیں۔ اس صورتحال نے امریکہ کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسرِ نو استوار کرے۔

    پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دورۂ برطانیہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں وہ برطانیہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ تاریخی طور پر، برطانیہ اکثر امریکہ کے لیے ایک سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اور اس بار بھی وہ پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔یہ دورہ پاکستان کے لیے سفارتی لحاظ سے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید بڑی خبریں متوقع ہیں۔ عالمی سیاست میں ایک نئی حکمت عملی تشکیل پا رہی ہے، اور پاکستان اس میں ایک کلیدی کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے۔

    اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی بیٹوں سے بات کرادی

    معروف مذہبی و سماجی رہنما محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کی وفات،نماز جنازہ ادا

  • امریکہ،ٹک ٹاک کو دوسری بارپابندی میں توسیع ملنے کا امکان

    امریکہ،ٹک ٹاک کو دوسری بارپابندی میں توسیع ملنے کا امکان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ٹک ٹاک کی پابندی کی مدت میں دوسری بار بھی اضافہ کردیں گے.

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ایک صحافی کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ بڑھائی گئی 75 دن کی مدت میں ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملے طے پا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی مسئلے کی وجہ سے ٹک ٹاک کی فروخت کی ڈیل نہیں ہوپاتی تو ان کے پاس مدت بڑھانے کا اختیار موجود ہے۔ ان کے پاس 90 دن تک ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت منسوخ کرنے کا اختیار ہے اور وہ دوسری بار بھی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن کی مدت میں توسیع کریں گے۔

    خیال رہے کہ پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کی منسوخی میں 75 دن کا اضافہ کر رکھا ہے جو کہ اپریل میں ختم ہوجائے گا۔ٹک ٹاک کو اپریل میں ہر حال میں اپنی امریکی سروسز کسی بھی امریکی شخص یا کمپنی کو فروخت کرنی ہوں گی، دوسری صورت میں اس پر امریکا میں پابندی عائد کردی جائے گی۔امریکی صدر کے پاس اختیار ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر پابندی کو 90 دن تک منسو کر سکتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی ٹک ٹاک کو 75 دن کی مہلت دے رکھی ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی صدر مزید 90 دن مہلت دینے کے مجاز ہوں گے یا نہیں۔

    اسلام آباد میں زلزلے کے جھٹکے، لوگوں میں خوف و حراس

    ایلون مسک کی امریکی محکمہ خزانہ تک رسائی رک گئی

    اوباما اورمشعل میں طلاق کی خبریں ، اہلیہ نے مخالفین کے منہ بند کرادیئے

    گن شاٹ یا ایکسیڈنٹ ہو تو نجی اسپتال کے پیسے سندھ حکومت بھرے گی، شرجیل میمن

  • ٹرمپ کےپےدرپےبیانات،ایگزیکٹوآرڈرز، امریکا میں مہنگائی کی لہر

    ٹرمپ کےپےدرپےبیانات،ایگزیکٹوآرڈرز، امریکا میں مہنگائی کی لہر

    امریکامیں گزشتہ ماہ کے دوران کھانے پینے کی اشیا، گھریلو استعمال کی چیزوں، ایندھن اور پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکاکے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تین فی صد اضافہ ہوا ہے جب کہ پچھلے مہینے کے مقابلے میں یہ 2.9 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مہنگائی بڑھنے سے جہاں خاندانوں کی مشکلات بڑھی ہیں وہیں چھوٹے کاروباروں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔کنزیو پرائس انڈیکس گھریلو استعمال کی عمومی اشیا اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں رد و بدل کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے اجناس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔کنزیومر پرائس انڈیکس کی ستمبر 2023 میں شرح 2.4 فی صد تھی جوساڑھے تین سال کے دوران کم ترین شرح ریکارڈ ہوئی تھی۔امریکا میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں دسمبر 2024 کے مقابلے میں جنوری 2025 میں 0.5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافہ اگست 2023 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔

    اسی طرح گروسری یعنی گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتیں جب گزشتہ ماہ بڑھیں تو اس سے انڈوں کی قیمت میں بھی 15.2 فی صد اضافہ ہو گیا۔ یہ انڈوں کی قیمت میں جون 2015 کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔پرندوں میں برڈ فلو پھیلنے کے خدشات کے سبب انڈوں کے بیوپاری مرغیاں تلف کر رہے ہیں جس کے سبب انڈوں کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔امریکا میں انڈوں کی قیمت گزشتہ برس کے مقابلے میں 53 فی صد بڑھ چکی ہیں جب کہ انڈوں کی کمی کے سبب ملک بھر میں مارکیٹوں میں صارفین کو ان کی محدود خریداری کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اسی طرح ہوٹلوں میں انڈوں سے بنے پکوان اضافی قیمت میں فروخت ہو رہے ہیں۔

    لیبر ڈپارٹمنٹ کے حالیہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو نے سالانہ دو فی صد افراطِ زر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ لیکن امریکا میں لگ بھگ چھ ماہ سے افراطِ زر کی شرح اس سے بلند رہی ہے۔ اس سے قبل ڈیڑھ سال تک اس میں کمی آ رہی تھی۔مبصرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کے سبب ممکنہ طور پر امریکہ کا فیڈرل ریزرو فی الحال شرح سود میں مزید کمی نہیں کرے گا۔یو ایس فیڈرل ریزرو سسٹم بینکنگ کا مرکزی نظام ہے جو امریکا کے مالیاتی امور کو دیکھتا ہے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران عندیہ دیا تھا کہ وہ اشیا کی قیمتوں میں کمی لائیں گے۔

    البتہ بعض اقتصادی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے عائد کردہ ٹیرف یعنی مختلف ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر ڈیوٹی بڑھانے سے عارضی طور پر قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔مہنگائی بڑھنے کے سبب اس کے اثرات دوسرے سیکٹرز پر بھی پڑ رہے ہیں۔امریکا میں کاروں کی انشورنس مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں اس میں دو فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں گاڑیوں کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں بھی 1.8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔نیویارک اسٹاک ایکسچیج کے ڈاؤ فیوچر یعنی 30 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے جب کہ دیگر مارکیٹوں میں بھی مندی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    امریکا میں انڈوں کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ امریکا میں انڈوں کی قیمت 4.95 ڈالر فی درجن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے باعث یہ قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔ تازہ ترین کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق، جنوری میں امریکی شہروں میں درجن گریڈ اے انڈوں کی اوسط قیمت 4.95 ڈالر تک پہنچ گئی۔ جو دو سال قبل 4.82 ڈالر کے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

    کراچی: تیزرفتار ڈمپر نے ایک اور موٹرسائیکل سوار کچل دیا

    واٹس ایپ گروپ چیٹس کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    شہاب علی شاہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا تعینات

    ترک صدر کا آصف زرداری اور شہباز شریف کو شاندار تحفہ

    پاک نیوزی لینڈ فائنل، ٹکٹوں کی مانگ بڑھ گئی

    شادی کی تقریب میں چیتا گھس گیا، باراتیوں کی دوڑیں

    شادی کی تقریب میں چیتا گھس گیا، باراتیوں کی دوڑیں

  • وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    وائٹ ہاؤس نے تمام وفاقی گرانٹس ، قرضوں کی تقسیم روک دی

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کی تقسیم روک دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کو روکنے کا حکم دیا ہے۔وائٹ ہاؤس آفس آف مینجمنٹ اور بجٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر میتھیو ویتھ نے میمورنڈم میں کہا کہ وفاقی ایجنسیوں "تمام وفاقی گرانٹس یا تقسیم سے متعلق تمام سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دے۔اس کے علاوہ نئی گرانٹس کے اجراء کو بھی روک دیا گیا ہے۔میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا ثر سوشل سیکیورٹی یا میڈیکیئر کے فوائد، اور "افراد کو براہ راست فراہم کردہ امداد” پر نہیں ہوگا۔

    وفاقی امداد پر پابندی شام 5 بجے سے نافذ العمل ہو گی۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی فنڈنگ ​​پر کنٹرول کے لیے تازہ ترین اقدام ہے۔میمو کے مطابق، بجٹ آفس "وفاقی ایجنسیوں کو کیس کی بنیاد پر نئے گرانٹس جاری کرنے یا دیگر اقدامات کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔میمو میں ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 10 فروری تک "کسی بھی پروگرام، پروجیکٹ یا سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات او ایم بی ( OMB )کو جمع کرائیں۔

  • امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امداد کی معطلی کی تصدیق

    دنیا کے دیگر ممالک کی طرح، امریکہ نے پاکستان کے لیے امداد بند ہونے کی تصدیق کردی ہے اور کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ دنوں امریکہ نے عالمی سطح پر تقریباً تمام غیر ملکی امدادی پروگراموں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان معطل شدہ پروگراموں میں یوکرین، تائیوان اور اردن کی امداد شامل تھی، اور ابتدائی طور پر یہ معطلی 90 دنوں کے لیے کی گئی ہے۔امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے تمام سفارتی اور قونصلر مشنز کو ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ فوراً اپنے امدادی پروگراموں کو معطل کریں اور اس سلسلے میں تمام سرگرمیاں روک دی جائیں۔ اس حکم کے بعد، امریکی قونصل خانے کے اہلکار نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد بھی فی الحال معطل کردی گئی ہے۔

    امریکہ کے فیصلے کے تحت مختلف شعبوں میں چلنے والے متعدد اہم منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس میں ایمبیسڈر فنڈ برائے ثقافتی پریزرویشن کے تحت جاری منصوبے بھی عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، توانائی کے شعبے میں پانچ منصوبے بند ہو گئے ہیں، اقتصادی ترقی کے سلسلے میں چار پروگراموں پر اثر پڑا ہے، اور زراعت کے شعبے میں پانچ منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت، انسانی حقوق، اور گورننس کے حوالے سے بھی فنڈز عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔تعلیمی شعبے میں چار پروگرام اور صحت کے شعبے میں بھی چار منصوبے اس امریکی فیصلے کے تحت متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ معطلی پاکستان میں ترقیاتی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امدادی پروگراموں کی معطلی ایک عارضی فیصلہ ہے اور ان پروگراموں کے دوبارہ شروع ہونے کا فیصلہ ازسرنو جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ تاہم، اس بات کا ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا کہ آیا یہ پروگرام دوبارہ شروع ہوں گے یا نہیں، خاص طور پر ان پروگراموں کا جن پر لاکھوں ڈالر کی رقم خرچ کی جاتی ہے۔

    یہ معطلی امریکی حکام کی جانب سے مختلف امدادی پروگراموں کی کارکردگی اور اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی ہے، جس کے بعد مستقبل میں ان پروگراموں کے جاری رہنے یا ختم ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا پاکستان کے اقتصادی اور سماجی شعبوں پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے۔

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

  • امریکہ نے 500 تارکین وطن کو اُن کے ملک روانہ کردیا

    امریکہ نے 500 تارکین وطن کو اُن کے ملک روانہ کردیا

    نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن شروع کردیا گیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ تاریخ کے سب سے بڑی کریک ڈاؤن میں 538 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا ہے۔کیرولین لیویٹ نے مزید بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک دہشت گرد، ٹرین ڈی آراگوا گینگ کے 4 کارندے اور نابالغوں کے خلاف جنسی جرائم کے مرتکب متعدد تارکین وطن بھی شامل ہیں۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ان غیر قانونی تارکین وطن کو امریکی فوج کے سیکڑوں ہوائی جہازوں میں بھر کر ملک بدر کردیا گیا۔

    یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھاتے ہی اپنی سخت اور متنازع امیگریشن پالیسی کے نفاذ کے لیے ایگزیکیٹو حکم نامہ جاری کیا تھا۔جس کے بعد 23 جنوری کو امریکی کانگریس نے غیر قانونی طور پر امریکا میں رہنے والے تارکین وطن کی حراست اور ملک بدر کرنے کا بل منظور کیا تھا۔

    سعود شکیل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان مقرر

    سندھ پولیس کے آئی جی پی شکایتی شعبے کو ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ

    تنخواہ لینے آئی دوشیزہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن گئی

    وزیراعلی سندھ کا جامعات کی قانون سازی واپس نہ لینے کا اعلان

    پاکستان کا دوسرے ٹیسٹ میچ کیلئے پلیئنگ الیون کا اعلان

  • بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کے ایک اہم حکم کو منسوخ کرتے ہوئے امریکی فوج میں ٹرانس جینڈرز کی بھرتی پر پابندی لگا دی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ملک کی فوجی حکمت عملی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 9 ہزار سے 14 ہزار ٹرانس جینڈرز امریکی فوج کا حصہ ہیں۔بدھ کے روز، ٹرمپ نے بائیڈن کے دور میں جاری کردہ حکمنامہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت ٹرانس جینڈرز کو امریکی فوج میں بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں ٹرانس جینڈرز افراد کی فوج میں ملازمت کرنے کی راہ بند ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ میں صرف دو جنسوں کو تسلیم کیا جائے گا، یعنی مرد اور عورت۔

    اسی دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ خارجہ کے ذریعے امریکی سفارتخانوں میں پرائیڈ اور بلیک لائیوز میٹر پرچم لہرانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اب صرف امریکی پرچم لہرایا جا سکے گا، جبکہ دیگر کسی بھی نوعیت کے پرچم کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کوسٹ گارڈ کی پہلی خاتون کمانڈنٹ، ایڈمرل لنڈا فیگن کو بھی برطرف کر دیا۔ ایڈمرل فیگن کوسٹ گارڈ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ان کی برطرفی پر مختلف حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز کرتے ہوئے میکسیکو بارڈر پر اضافی فوجی اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 1500 اضافی فوجیوں کو میکسیکو بارڈر پر تعینات کیا جائے گا، اور ان کے ساتھ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس تجزیہ کار بھی روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنا ہے۔مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے بارڈر پر گراؤنڈ فورسز کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، اور پینٹاگون نے کیلی فورنیا اور ٹیکساس سے 5 ہزار غیر قانونی تارکین کو بے دخل کرنے کے لیے طیارے فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، میکسیکو بارڈر پر باڑ لگانے کے لیے بھی پینٹاگون معاونت فراہم کرے گا۔

    یہ تمام اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں اپنے جارحانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے، اور ان کے فیصلے ان کے سیاسی نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

  • ڈونلڈ ٹرمپ  امریکہ کے سب سے معمر صدر  بن گئے

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے معمر صدر بن گئے

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا, امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کےلیے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق 78 سالہ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کررہے ہیں، اور اس عہدے پر فائز ہونے والے سب سے معمر شخص بن گئے ہیں۔امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے حلف لیا۔اس سے پہلے یہ ریکارڈ رخصت ہونے والے صدر جوبائیڈن کے پاس تھا ، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ حلف کے دن کی عمر کے حساب سے ان سے پانچ ماہ بڑے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 1946 کو کوئنز نیویارک میں پیدا ہوئے، وہ دوسری جنگ عظیم کے ختم ہونے کے ایک سال بعد پیدا ہوئے تھے، سنہ 2017 میں 70 سال کی عمر میں ٹرمپ نے امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف لیا تھا اور اس وقت وہ رونالڈ ریگن سے بڑے تھے، جو 1981 میں تقریباً 70 سال کی عمر میں صدر بنے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدور کی اوسط عمر عہدہ سنبھالتے وقت 57 سال ہے، جس کا آغاز 1789 میں پہلے صدر جارج واشنگٹن سے ہوا تھا، جو اس وقت 57 سال کے تھے۔ امریکی تاریخ میں سب سے کم عمر صدر تھیوڈور روزویلٹ تھے جو 1901 میں صدر ولیم میک کینلی کے قتل کے بعد صرف 42 سال کی عمر میں صدر بنے تھے۔

    کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    کراچی انٹر بورڈ میں غنڈہ عناصر سرگرم، طلبا سے رقم لیکر کام کرانے لگے،

  • بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    بل گیٹس کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی حلف برداری سے چند دن قبل، مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے انکشاف کیا کہ انہوں نے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تین گھنٹے کا عشائیہ کیا، جسے انہوں نے "دلچسپ” اور "اثرانداز” قرار دیا۔

    بل گیٹس نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا، "میرے پاس تقریباً دو ہفتے پہلے ٹرمپ کے ساتھ ایک طویل اور حقیقتاً دلچسپ عشائیہ کرنے کا موقع آیا تھا۔” ان کی بات چیت، جسے گیٹس نے "وسیع پیمانے پر” قرار دیا، مختلف موضوعات پر مرکوز تھی جن میں ایچ آئی وی، پولیو اور کووڈ-19 وبا شامل تھے۔بل گیٹس نے کہا کہ ، "میں نے ایچ آئی وی کے بارے میں بہت بات کی اور گیٹس فاؤنڈیشن اس کا علاج تلاش کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ہم ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔”بل گیٹس نے خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی توانائی اور جدیدیت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان سے متاثر ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ۔ "مجھے لگا کہ وہ پرجوش ہیں ،میں حقیقت میں اس بات سے متاثر ہوا کہ انہوں نے ان مسائل میں گہری دلچسپی دکھائی جو میں نے اٹھائے تھے۔”

    بل گیٹس نے مزید کہا کہ کووڈ-19 کی وبا کے دوران تیز رفتار ویکسین کی ترقی اور ایچ آئی وی کی تحقیق میں ممکنہ ترقی کے بارے میں بات چیت کی۔ دونوں نے پولیو کے خلاف جاری جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔گیٹس نے کہا کہ "ہم اس کام کو مکمل کرنے کے قریب ہیں، لیکن اگر آپ رکے تو یہ پھر پھیل سکتا ہے،” منتخب صدر نے اس بات میں دلچسپی ظاہر کی کہ وہ کیا کر سکتے ہیں تاکہ اگلے چار سالوں میں اس سنگ میل کو حاصل کیا جا سکے۔

    اس عشائیے میں آئندہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور بل گیٹس کے ایک اسٹاف ممبر بھی شریک تھے۔ بل گیٹس حالیہ دنوں میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے آخر ی ارب پتی ہیں، اس سے پہلے دیگر کاروباری رہنماؤں جیسے میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس بھی مارا-لاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کر چکے ہیں۔

    بل گیٹس نے 2016 میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جب وہ پہلی بار صدارت کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ

  • ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    ٹرمپ کی حلف برداری،بلاول کو ٹرمپ کےناشتے میں بھی دعوت مل گئی

    پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے صاحبزادے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ناشتے میں شرکت کریں گے۔ بلاول بھٹو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

    شہلا رضا کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لیے سب سے اہم پاکستان کی سلامتی اور وقار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سیاسی اور سفارتی آداب سے بخوبی واقف ہیں اور وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر ملکی اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔موجودہ پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو پاکستان کے معاشی اور اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا عالمی سطح پر اثرورسوخ اور ان کی سفارتی مہارت پاکستان کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، بلاول بھٹو زرداری کو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب اور دیگر متعلقہ تقریبات میں شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو ذاتی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب 20 جنوری کو ہوگی،

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کا تقرر کردیا