Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    امریکی شہر لاس اینجلس میں حالیہ دنوں میں لگی آگ نے تباہی مچا دی ہے اور اب تک یہ دنیا کی سب سے بڑی آتشزدگیوں میں سے ایک بن چکی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، لاس اینجلس میں منگل سے شروع ہونے والی آگ تاحال بے قابو ہے، جس کے نتیجے میں شہر کی 12,000 سے زائد عمارتیں اور مکانات مکمل طور پر جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔حکام نے ابھی تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ آگ کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر، کم از کم 2 لاکھ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیسیفک پےلی سیڈس کا علاقہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہالی وڈ کے بڑے نام اور ارب پتی شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ آتشزدگی کے سبب کئی نامور ہالی وڈ سیلبریٹیز جیسے کم کارڈیشن، اپنے لاکھوں ڈالرز مالیت کے گھروں کو چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اسی دوران، بعض علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے پیلی سیڈس اور ایٹون کے علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔ فائرفائٹرز نے شدید دباؤ کے باوجود آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں، اور ہوا کا دباؤ کم ہونے پر انہیں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ریاست کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، گورنر نیوسم نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثرہ ریاست کا دورہ کرنے اور حالات کا خود جائزہ لینے کی دعوت دی ہے۔ گورنر نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، اور انہوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ آ کر ان مشکل حالات میں ریاست کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔آگ کے نتیجے میں ہونے والے اس بڑے پیمانے پر نقصان کے بعد شہر کی بازیابی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اور اس دوران امدادی ٹیموں کی کوششیں اور عوامی تعاون انتہائی ضروری ہو گا۔

    پالیسیڈز فائر جمعہ کی رات مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا، جس کے بعد لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فائر فائٹرز اب مینڈی وِل کینیئن کے علاقے میں آگ کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کپتان ایڈم وینگرپن نے سی این این کو بتایا، "آگ مینڈی وِل کینیئن کے علاقے میں ہے، اس لیے یہ 405 فری وے کے قریب آ رہی ہے۔””ہم نے شام 6 بجے کے قریب ریڈ فلیگ کی حالت سے نکل کر کچھ سکون محسوس کیا تھا، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم ان انتہائی ہوا کی حالت میں نہیں ہوتے، تب بھی آگ بہت تیزی سے اپنی سمت بدل سکتی ہے۔ اور ابھی یہ مشرق کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔”اس مشرق کی طرف بڑھنے سے، فائر فائٹرز اور طیارے بھی اس سمت میں منتقل ہو گئے ہیں۔ کپتان وینگرپن کے مطابق، 10 طیارے مینڈی وِل کینیئن کی طرف بھیجے گئے ہیں اور دو اضافی اسٹرائیک ٹیمیں بھی وہاں پہنچائی گئی ہیں۔

    ریڈ فلیگ وارننگ جو کہ تیز ہواؤں کے لیے جاری کی گئی تھی، آج شام ختم ہو گئی تھی، جس سے امید پیدا ہوئی کہ فائر فائٹرز بڑے آتشزدگیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مینڈی وِل کینیئن میں، "اب تک وہاں زیادہ ہوا نہیں ہے”، وینگرپن نے کہا، اور یہ بھی بتایا کہ اس علاقے کی آگ کی وجہ زمین کی بناوٹ ہے، نہ کہ انتہائی تیز ہوائیں۔

    کیلیفورنیا ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن کے مطابق، آئی-405 فری وے پر کئی آف ریمپس بند کر دی گئی ہیں، کیونکہ پالیسیڈز فائر مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ فری وے میٹرو لاس اینجلس کے مغربی حصوں کو آپس میں جوڑنے والا اہم راستہ ہے۔ ان بند ہونے والے آف ریمپس میں گیٹی سینٹر میوزیم جانے والا ریمپ شامل ہے، جو کہ جمعہ کی شام کے دوران ایویکوایشن آرڈر میں آ گیا تھا۔ میوزیم کے عملے نے سی این این کو بتایا کہ وہ صرف ایمرجنسی اسٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ایک اور آف ریمپ جو اسکیر بال کلچرل سینٹر کی طرف جاتا ہے، وہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اسکیر بال بھی ایک میوزیم اور لاس اینجلس کی اہم ثقافتی جگہ ہے۔

    جمعہ کی رات ایک نیا ایویکوایشن آرڈر جاری کیا گیا، جس میں آئی-405 فری وے کے حصوں اور اینسینو ریزرور پر ایویکوایشن کی ہدایات دی گئیں۔

    پریشان کن بات یہ ہے کہ آگ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے اور کم از کم 10,000 سے زیادہ جائیدادوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    اب تک کی صورت حال یہ ہے:
    پالیسیڈز فائر: 21,317 ایکڑ، 8% قابو پایا گیا
    ایٹن فائر: 14,117 ایکڑ، 3% قابو پایا گیا
    کینیٹھ فائر: 1,052 ایکڑ، 50% قابو پایا گیا
    ہرسٹ فائر: 771 ایکڑ، 70% قابو پایا گیا
    لِڈیا فائر: 395 ایکڑ، 98% قابو پایا گیا
    آرچر فائر: 19 ایکڑ، 0% قابو پایا گیا
    آگ کی وجہ سے 10,000 سے زیادہ عمارتوں کے نقصان یا تباہ ہونے کا خدشہ ہے، جو ابتدائی تخمینہ ہے اور بڑھ بھی سکتا ہے۔

    کیلیفورنیا کے حکام وفاقی امداد اور ملک بھر سے امدادی ٹیموں کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میکسیکو نے بھی آگ بجھانے والوں اور دیگر عملے کو لاس اینجلس بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کینیڈا بھی امریکی حکام کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہا ہے کہ کس طرح مزید مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔اب تک 12,000 سے زیادہ افراد، 1,150 فائر انجن، 60 طیارے اور 143 واٹر ٹینکرز آگ بجھانے کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں حالیہ ایام میں جنگلات میں لگنے والی تباہ کن آگ کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق جنگل میں ہونے والی آتشزدگی کی سب سے اہم وجہ بجلی کی تاروں کا گرنا ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہاں پہلے سے موجود خشک ایندھن نے آگ کو تیز تر پھیلنے کا موقع دیا۔کیلی فورنیا میں آگ کی شدت میں اضافے کا ایک اور اہم عنصر ’’سانتا اینا ونڈز‘‘ کا چلنا ہے۔ یہ خشک اور گرم ہوائیں جو عام طور پر خزاں کے موسم میں چلتی ہیں، اس بار سرمائی مہینوں میں بھی چلیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہواؤں کا وقت تبدیل ہو چکا ہے اور اب یہ شمال مشرق سے آ کر کیلی فورنیا کی سرزمین کو خشک اور گرم بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید خشک سالی کا سامنا ہوتا ہے۔ سانتا اینا ونڈز کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ ہوائیں اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے لگیں ہیں، جس سے نہ صرف زمین خشک ہو گئی ہے بلکہ آتشزدگی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

    ایک اور اہم وجہ جس نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی، وہ جنگل میں ایندھن کی بڑی مقدار تھی۔ گزشتہ دو موسموں میں ہونے والی نمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں خود رو پودے اگ آئے تھے جو بعد میں شدید گرمی میں خشک ہو گئے، اور ان پودوں کی خشک حالت نے آگ کو بڑھاوا دیا۔ اس کے ساتھ ہی جنگلات میں بجلی کی لائنوں کی موجودگی نے بھی آگ لگنے کی رفتار کو تیز کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما میں جنگلات میں لگنے والی آگ زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں آگ تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس بار اس آگ کا پھیلاؤ غیر معمولی تھا کیونکہ عام طور پر اس وقت کے دوران کیلی فورنیا میں جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کم ہوتے ہیں، مگر ان تمام عوامل کے جمع ہونے کے سبب جنگلوں میں آگ لگ گئی اور اس نے شہری علاقوں تک پہنچنا شروع کر دیا۔کیلی فورنیا میں جنگلات کی آتشزدگی کی شدت گزشتہ چار دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2001 کے بعد سے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک تقریباً 60 ہزار چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    فائر سائنٹسٹ جون کیلے کا کہنا ہے کہ جنگلات کی آتشزدگی میں انسانوں کے پیدا کردہ عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے اور کیلی فورنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے جس کا براہ راست اثر آتشزدگی کے واقعات پر پڑ رہا ہے۔جون کیلے کا کہنا ہے کہ جب آبادی بڑھتی ہے تو بجلی کی فراہمی بڑھانے کے لئے مزید بجلی کی لائنوں کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہ لائنیں جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات کو بڑھاتی ہیں۔ مائیک فلینیگن، ایک ماہر محقق کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے سبب گرنے والی بجلی کی لائنیں جنگلات میں آگ بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 2016 اور 2017 میں کیلی فورنیا میں اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب بجلی کی لائنوں کی وجہ سے تباہ کن جنگلات کی آتشزدگی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں پیسیفک گیس اینڈ الیکٹرک کمپنی کو 30 ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑا تھا اور کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔یہ واقعات ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگلات کی آتشزدگی کا مسئلہ محض قدرتی نہیں، بلکہ انسانی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

  • 2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

    دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ، جو دنیا بھر میں سفر کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ قرار دیا گیا ہے، 2025 میں سنگاپور کے پاس ہے۔ سنگاپور اپنے پاسپورٹ کو دوبارہ سر فہرست رکھنے میں کامیاب ہوا ہے اور اب اس کے شہریوں کو 227 مقامات میں سے 195 پر ویزا کے بغیر داخلے کی سہولت حاصل ہے، جو کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے شہریوں سے زیادہ ہے۔

    جاپان دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے پاسپورٹ کے حامل افراد کو 193 مقامات پر ویزا فری داخلے کی اجازت ہے۔ جاپان نے چین کے ساتھ ویزا فری معاہدہ دوبارہ بحال کیا ہے، جس سے اس کی پوزیشن میں بہتری آئی ہے۔ چین کے ساتھ یہ معاہدہ کووِڈ-19 کی بندشوں کے بعد پہلی بار بحال ہوا ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک جیسے فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، فن لینڈ اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن پر ہیں، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 192 مقامات پر ویزا فری داخلہ حاصل ہے۔چوتھی پوزیشن یورپی یونین کے سات ممالک کے پاس ہے جن کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 191 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ ان ممالک میں آسٹریا، ڈنمارک، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن شامل ہیں۔پانچویں پوزیشن پر بیلجیم، نیوزی لینڈ، پرتگال، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ ہیں، جن کے پاسپورٹ ہولڈرز کو 190 مقامات پر ویزا فری رسائی حاصل ہے۔

    جہاں دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹس کے حامل ممالک کی فہرست نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کی، وہیں افغانستان 106ویں نمبر پر ہے، جہاں کے پاسپورٹ ہولڈرز کو صرف 26 مقامات تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ شام اور عراق کے پاسپورٹس بھی اس فہرست میں کمزور پوزیشن پر ہیں۔

    ہینلے اینڈ پارٹنرز کے چیئرمین کرسچن ایچ کیلن نے کہا کہ شہریوں کے حقوق اور ان کی نقل مکانی کی سہولت پر نئے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے غور و فکر کی ضرورت ہے، کیونکہ قدرتی آفات اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    یو اے ای نے 2015 سے اب تک 72 نئے ممالک کے لیے ویزا فری رسائی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا پاسپورٹ 32 درجے اوپر چلا گیا ہے اور اب یہ 10ویں نمبر پر ہے۔چین نے بھی اس فہرست میں بہتری دیکھی ہے اور 2015 میں 94ویں نمبر سے بڑھتے ہوئے اب 2025 میں 60ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

    گلوبل پاسپورٹ پاور رینک 2025
    سنگاپور (195 مقامات)
    جاپان (193 مقامات)
    فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، فن لینڈ، جنوبی کوریا (192 مقامات)
    آسٹریا، ڈنمارک، آئرلینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے (191 مقامات)
    بیلجیم، نیوزی لینڈ، پرتگال، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ (190 مقامات)
    یونان، آسٹریلیا (189 مقامات)
    کینیڈا، پولینڈ، مالٹا (188 مقامات)
    ہنگری، چیکیا (187 مقامات)
    ایسٹونیا، امریکہ (186 مقامات)
    لتھونیا، لیٹویا، سلووینیا، متحدہ عرب امارات (185 مقامات)

    ہینلے اینڈ پارٹنرز کی جانب سے جنوری سے جون 2025 کے لیے جاری کی گئی عالمی پاسپورٹس کی طاقت کی فہرست کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کے 33 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس فہرست میں ویزا فری رسائی کو تین مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں "حقیقی ویزا فری سفر”، "ویزہ آن ارائیول” اور "الیکٹرونک ٹریول اتھارٹی” (ای ٹی اے) شامل ہیں۔

    حقیقی ویزا فری سفر: اس میں وہ ممالک شامل ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کو کسی قسم کا ویزا یا پیشگی انتظام کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    ویزہ آن ارائیول: ان ممالک میں پاکستانی شہریوں کو ان کے پہنچنے پر ویزا دیا جاتا ہے۔
    الیکٹرونک ٹریول اتھارٹی (ای ٹی اے): ان ممالک میں پاکستانی شہریوں کو الیکٹرانک طریقے سے ویزا یا اجازت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    پاکستانی پاسپورٹ کو جن 12 ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے، ان میں شامل ہیں
    بارباڈوس: یہ کیریبئین جزائر کا ایک ملک ہے جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    جزائر کک: جنوبی بحرالکاہل کا یہ ملک بھی پاکستانی شہریوں کو ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے۔
    ڈومینیکا: کیریبئین جزائر کا ایک چھوٹا ملک ہے، جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    ہیٹی: ایک اور کیریبئین جزیرہ نما ملک ہے، جہاں پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
    مڈغاسکر: افریقہ کا چوتھا سب سے بڑا جزیرہ اور دنیا کا مشہور سیاحتی مقام، یہاں بھی پاکستانی شہری بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔
    مائیکرو نیشیا: بحر الکاہل میں واقع یہ ملک پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری ہے۔
    مانٹسریٹ: یہ برطانیہ کے زیر انتظام جزائر ہیں، جہاں پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
    نیووے: جنوبی بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل یہ ملک بھی پاکستانیوں کو ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے۔
    روانڈا: یہ افریقی ملک پاکستانی شہریوں کو ویزا فری رسائی کی سہولت دیتا ہے۔
    سانٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز: یہ کیریبئین کا ایک چھوٹا سا ملک ہے، جہاں پاکستانی بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔
    ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو: کیریبئین کے اس ملک میں بھی پاکستانیوں کے لیے ویزا فری رسائی ممکن ہے۔
    وانواتو: یہ آسٹریلیا کے قریب واقع جزائر پر مشتمل ملک ہے، جہاں پاکستانی شہری بغیر ویزے کے قیام کر سکتے ہیں۔

    گرچہ پاکستانی پاسپورٹ کو ویزا فری رسائی حاصل ہے، مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان ممالک میں جانے کے لیے پاسپورٹ کی درست حالت اور مدتِ معیاد کا خیال رکھنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ، بعض ممالک میں دیگر ضروریات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ صحت کی حالت، مالی حیثیت یا پرواز کی بکنگ،پاکستانیوں کے لیے یہ ایک مثبت ترقی ہے کہ عالمی سطح پر ان کے پاسپورٹ کو ویزا فری رسائی حاصل ہے، جو بین الاقوامی سفر کے مواقع کو مزید وسیع کرتا ہے۔

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    نائیجیریا کا سب سے بڑا شہر موسم سرما کی پارٹی کی منزل

    دہلی ایئر پورٹ پر شہری گرفتار، سامان سے مگرمچھ کی کھوپڑی برآمد

    مرکزی مسلم لیگ کا یونین کونسلز کی سطح پر رکنیت سازی کیمپ لگانے کا فیصلہ

  • عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیوں کابل منظور

    عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیوں کابل منظور

    امریکی ایوان نمائندگان نے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا ایک اہم بل منظور کر لیا ہے۔ اس بل کا مقصد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس بل کو منظور کرنے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے یہ اقدام کیا ہے جس کا مقصد عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی کارروائیوں کو محدود کرنا اور اسرائیل کے خلاف جاری قانونی اقدامات کو روکنا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد عالمی انصاف کے عمل کو نقصان پہنچانا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت کا کردار عالمی سطح پر انسانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے اور ایسے فیصلے اس عدلیہ کی آزادانہ کارکردگی میں مداخلت ہیں۔

    واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں کیے گئے قتل عام کے حوالے سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ آئی سی سی نے ان دونوں رہنماؤں کو جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب قرار دیا تھا، جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بل منظور کیا ہے۔

    یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر بڑی تشویش کا باعث بن رہا ہے، اور کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس بل کو عالمی قوانین اور انصاف کے خلاف سمجھ رہی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کے اہلکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے نے عالمی سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر ان عدالتوں کی آزادانہ کارروائی پر اثر انداز ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بل سینیٹ میں کیسے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد عالمی سطح پر اس کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، جس سے عالمی عدلیہ کے آزادانہ کام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

  • لاس اینجلس میں  آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

    لاس اینجلس میں آگ نے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کروا دیا ہے، اور اب تک ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑ چکا ہے۔ اس آتشزدگی کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ شہریوں کے لیے انخلا کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں، اور شہر میں حالات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں۔ اس سانحہ کا شکار ہونے والوں میں بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور ڈانسر نورا فتیحی بھی شامل ہیں، جنہوں نے خود اپنی انسٹاگرام سٹوری پر اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، نورا فتیحی نے اپنی انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اور دیگر افراد کو فوری طور پر اپنے علاقے سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نورا نے ویڈیو میں کہا: "میں لاس اینجلس میں ہوں اور یہ جنگلاتی آگ واقعی پاگل پن ہے۔ میں نے پہلے کبھی ایسی چیز نہیں دیکھی۔ ہمیں پانچ منٹ پہلے انخلا کا حکم ملا۔ میں نے جلدی سے اپنا سامان پیک کیا اور یہاں سے نکل رہی ہوں۔ میں ایئرپورٹ کے قریب جا رہی ہوں کیونکہ میری آج فلائٹ ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ کینسل نہ ہو۔ یہ صورتحال بہت ڈراؤنی ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ سب محفوظ رہیں۔”

    نورا فتیحی نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں اس آگ کی شدت کو ظاہر کرتے ہوئے مزید لکھا، "لاس اینجلس کی آگ بہت خطرناک ہے، دعا ہے کہ سب محفوظ رہیں۔”

    اس کے علاوہ، بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی جنگلاتی آگ کے متاثرین کے لیے اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور فائرفائٹرز کی محنت اور قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، "رات بھر محنت کرنے والے فائرفائٹرز کا شکریہ، آپ کی خدمات قابل تعریف ہیں۔”

    لاس اینجلس کی جنگلاتی آگ نے اس وقت شہر کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، اور یہ صورتحال نہ صرف شہریوں بلکہ مشہور شخصیات کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن چکی ہے۔ انخلا کی ہدایات کے باوجود، اس آگ کی شدت اور پھیلاؤ نے لاکھوں افراد کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، اور سب دعا گو ہیں کہ اس قدرتی آفت کا خاتمہ جلد ہو تاکہ زندگی معمول پر آ سکے۔

    شہزادہ ولیم کا کیٹ مڈلٹن کی 43ویں سالگرہ پر خصوصی پیغام

    کراچی: ٹریفک حادثات، 4 موٹر سائیکل سوار جاں بحق، شہریوں نے ٹینکر کو آگ لگادی

  • لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر   تباہ

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکی شہر لاس اینجلس میں لگی تاریخ کی بدترین آگ نے پورے علاقے میں تباہی مچادی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اس آگ نے 6 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کو مکمل طور پر جل کر راکھ میں تبدیل کر دیا ہے اور 32 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات اور وادیاں اجڑ چکی ہیں۔

    یہ آتشزدگی منگل سے شروع ہوئی تھی اور اب تک اس پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سانحے میں ہلاک افراد کی اصل تعداد کتنی ہوگی، لیکن آگ کی شدت کے پیش نظر بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ اس آتشزدگی کے باعث ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، شہر کے خالی گھروں میں ڈکیتوں کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس نے اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو گھروں میں لوٹ مار میں ملوث تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خشک اور تیز ہوائیں آگ کی شدت میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں، اور اگر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سانحہ امریکی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں شامل ہو سکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن کا امدادی اعلان
    امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں آگ سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 ماہ تک وفاقی حکومت 100 فیصد اخراجات اٹھائے گی، جن میں متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانا، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، اور ریسکیو ورکرز کی تنخواہوں کا انتظام شامل ہوگا۔ مزید یہ کہ، صدر بائیڈن نے تعمیراتی کام کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے لیے وہ کانگریس سے اپیل کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا گورنر کیلیفورنیا سے استعفیٰ کا مطالبہ
    اس دوران، امریکی سیاستدان اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر کیلیفورنیا گیون نیوسم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاس اینجلس کا خوبصورت ترین علاقے جل کر راکھ ہو گئے ہیں اور اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹ گورنر نیوسم پر عائد ہوتی ہے۔

    ہالی وڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو نقصان
    لاس اینجلس میں لگی آگ کا اثر صرف مقامی رہائشیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے ہالی وڈ کی معروف شخصیات کے گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مشہور اداکارہ اور گلوکارہ پیرس ہلٹن نے انسٹاگرام پر اطلاع دی کہ ان کا مالیبو میں واقع گھر آگ کی زد میں آ کر تباہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح، اداکار اسپینسر پراٹ اور ہیڈی مونٹگ نے بھی اپنے گھروں کے جلنے کی خبر دی۔اس کے علاوہ، اداکارہ اینا فیرس کا گھر مکمل طور پر راکھ میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ گیت نگار ڈیان وارن نے بھی اپنے تقریباً 30 سال پرانے بیچ ہاؤس کے جلنے کی تصدیق کی۔ فلم "ٹاپ گن میورک” کے اسٹار مائلز ٹیلر اور ان کی اہلیہ کا 75 لاکھ ڈالر مالیت کا گھر بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے۔

    لاس اینجلس کی اس آگ کی وجہ سے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد تقریبات منسوخ کر دی گئیں اور شہر کے شمالی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے پھیلنے والی آگ نے مشہور پیسیفک پیلیسیڈز جیسے علاقے میں مہنگے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس آتشزدگی کی وجہ سے آسکر کی نامزدگیوں کی تاریخ کو بھی آگے بڑھا کر 19 جنوری کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی فلموں کے پریمیئرز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    لاس اینجلس میں لگی اس تاریخ کی بدترین آگ نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے وسیع اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکام اور امدادی ادارے اس آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی مرکزی حکومت نے فوری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم کو عظیم خاتون قرار دے دیا

    ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم کو عظیم خاتون قرار دے دیا

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کو "عظیم خاتون” قرار دیا جب وہ فلوریڈا کے مار اےلاگو رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کرنے آئیں۔ٹرمپ نے وہاں موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "یہ بہت دلچسپ لمحہ ہے۔ میں یہاں ایک شاندار خاتون کے ساتھ ہوں، اٹلی کی وزیراعظم۔ وہ واقعی یورپ میں طوفان کی طرح آئی ہیں۔”

    جورجیا میلونی، جو کہ اٹلی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت "برادرز آف اٹلی” کی رکن ہیں، اکتوبر 2022 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے تعلقات ٹرمپ کے متوقع انتظامیہ کے ساتھ خاص طور پر ایلون مسک کے ساتھ مضبوط ہیں۔جہاں فرانس اور جرمنی جیسے یورپی طاقتور ممالک اس وقت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، وہیں میلونی کی حکومت کی استحکام اور قدامت پسند پالیسیوں کی بنا پر وہ امریکہ کے آئندہ صدر کے لئے ایک قدرتی اتحادی ثابت ہوئی ہیں۔

    ٹرمپ اور میلونی کے ہمراہ سابقہ امریکی وزیر خارجہ کے امیدوار سینیٹر مارکو روبیو (رپبلکن، فلوریڈا) اور قومی سلامتی کے مشیر کے امیدوار نمائندہ مائیک والٹس (رپبلکن، فلوریڈا) بھی موجود تھے۔میلونی نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ایک تصویر "ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کی، جس کے ساتھ لکھا تھا: "اچھی شام @realDonaldTrump کے ساتھ، جن کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے خوش آمدید کہا – ہم ایک ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔” تاہم، یہ نہیں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں کون سی بات چیت ہوئی، حالانکہ اٹلی کی وزیراعظم، جیسے دیگر عالمی رہنما، ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    ایک ممکنہ موضوع جو ایجنڈے میں ہو سکتا ہے وہ ہے اٹلی کی صحافی سیسیلیا سالا کی گرفتاری، جو گزشتہ ماہ ایران میں گرفتار ہو گئی تھیں۔اٹلی کی وزارت خارجہ نے گزشتہ جمعہ کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ سیسیلیا سالا، جو اٹلی کے روزنامہ "ایل فوگلیو” کی رپورٹر ہیں، کو تہران میں گرفتار کیا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے پیر کو بتایا کہ سیسیلیا سالا کو 19 دسمبر کو "اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کی خلاف ورزی” پر گرفتار کیا گیا۔سالہ کی گرفتاری نے اٹلی کے لیے ایک سفارتی مسئلہ پیدا کر دیا ہے، اور اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اسے واپس لانے کے لیے "انتھک محنت” کر رہی ہے۔

    ٹرمپ اور میلونی کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک مثال اس بات سے بھی ملتی ہے کہ روم میں ایلون مسک کے اتحادی، سائبر سیکیورٹی کے ماہر اینڈریا اسٹرپپا نے "ایکس” پر ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی، جس میں میلونی ٹرمپ اور مسک کے ساتھ رومن سلطنت کے لباس میں دکھائی دے رہی ہیں۔میلونی اس ہفتے روم میں امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کریں گی، جہاں بائیڈن ان کا شکریہ ادا کریں گے کہ انہوں نے پچھلے سال جی7 کی قیادت کی، اور عالمی چیلنجز پر بات چیت کریں گے۔

    میلونی کا فلوریڈا کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب وہ پچھلے ماہ پیرس میں نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی دوبارہ افتتاحی تقریب کے دوران ٹرمپ اور مسک کے ساتھ عشائیہ کر چکی ہیں، جس کے بارے میں ٹرمپ نے بعد میں نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ یہ ایک مثبت تجربہ تھا۔ٹرمپ اور میلونی کے سیاسی نظریات میں کافی مماثلت ہے، تاہم دونوں کے عالمی مسائل پر ہر بات پر ایک جیسی رائے نہیں ہے۔ میلونی نے یوکرین کی جنگ میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ 12 مرتبہ ملاقات کی ہے اور وہ یوکرین کے حق میں مضبوط حمایت فراہم کرتی رہی ہیں۔

    اسی دوران ایلون مسک اور میلونی کے درمیان 2023 کی گرمیوں میں ایک مضبوط دوستی قائم ہوئی تھی، اور ایلون مسک نے میلونی کی سیاسی جماعت "برادرز آف اٹلی” کے کنونشن "اٹریجو” میں بطور ہیڈ لائنر شرکت کی تھی۔

    ارجنٹائن کے لبرل صدر جاویر میلے نے مار-اےلاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے پہلے عالمی رہنما تھے۔ اس کے بعد ہنگری کے وکٹر اوربان اور کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو بھی ٹرمپ سے ملنے والے عالمی رہنماؤں میں شامل ہو چکے ہیں۔

    شرجیل میمن کاصحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایات

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    نیو یارک: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو یارک کی عدالت نے 10 جنوری 2025 کو ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی کے مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی ہے۔ اس کیس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں جعلی معلومات فراہم کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔تاہم، ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو اس کیس میں جیل کی سزا ممکنہ طور پر نہیں سنائی جائے گی۔ اس کے بجائے، انہیں جرمانے یا دیگر سزائیں مل سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ٹرمپ کی ذمہ داری کی نوعیت کی وجہ سے جج نے یہ کہا کہ ان پر فرد جرم برقرار رکھی جائے گی، لیکن اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے گی، حالانکہ وہ مجرم قرار پائیں گے۔

    واضح رہے کہ 10 جنوری کے فیصلے کے بعد صرف چند دنوں میں، یعنی 20 جنوری 2025 کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے عہدے کے لیے حلف اٹھانا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدر کے طور پر حلف برداری کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ آئے گی یا نہیں، اور آیا وہ اس مقدمے کے باوجود امریکی صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے پائیں گے۔

    ٹرمپ کی ٹیم اور ان کے حامیوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے جو ٹرمپ کی صدارت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جائے گا، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھیں گے اور 2025 میں صدر کے طور پر اقتدار سنبھالیں گے، کیونکہ امریکی آئین میں کسی شخص کو صدر بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عدالتی مقدمات میں بے قصور ہو۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

  • پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    پی ٹی آئی رہنما کا امریکا سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مطالبہ

    امریکا میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عاطف خان نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اور اپنے اثرورسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔

    یہ بیان عاطف خان نے امریکی مصنف مائیکل کوگلمین کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں دیا۔ مائیکل کوگلمین نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ امریکا کی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننا چاہتے ہیں۔

    عاطف خان نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی کے خیالات جاننے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ امریکا نے ہمیشہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں اثرورسوخ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا پاکستان میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرے، تو اس سے پاکستان کے اندر حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

    https://x.com/akhan4pakistan/status/1873113993977757866

    عاطف خان نے اپنی گفتگو میں پاکستانی تارکین وطن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانیوں کو اپنے مخالفین کے بجائے اپنے اتحادی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق، پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے پاکستان میں بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کو اقتصادی، سیاسی، اور سماجی لحاظ سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔عاطف خان کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے یہ مطالبات بہت سادہ ہیں: پاکستانی عوام کا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کی جموکری ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہیں۔

    عاطف خان نے امریکہ کی عالمی سطح پر اثر و رسوخ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک طاقتور ملک ہے، اور اس کا اثر و رسوخ پاکستان میں تاریخی طور پر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس اثر و رسوخ کو دوبارہ سمت دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان میں پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کے خلاف جاری سیاسی بحران اور ان کی قید کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔عمران خان رہائی چاہتے ہیں، اسکے لئے مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے، حکومتی اور پی ٹی آئی کمیٹی کا ایک اجلاس ہو چکا ہے تا ہم ان مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور عدالتیں ہی عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ کریں گی،

    پی ٹی وی میں جعلی سند پر بھرتی خاتون گرفتار

    ٹھٹھہ: این جی اوز کی کارکردگی پر سوالات، مقامی نوجوانوں کو روزگار نہ ملنے پر تشویش