Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • سانحہ نائين اليون کو21 برس بيت گئے

    سانحہ نائين اليون کو21 برس بيت گئے

    لاہور:نائن اليون حملوں کو اکيس برس بيت گئے، گیارہ ستمبر دو ہزار ايک ميں امریکا کے شہر نیویارک میں دہشت گردی کی وہ کارروائی ہوئی تھی جس نے دنیا کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔

    گيارہ ستمبر دو ہزار ايک وہ منگل کا دن تھا جب خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کر کے انہیں نیویارک اور واشنگٹن میں اہم عمارتوں سے ٹکرانے کے منصوبے پر عمل کیا۔

    تین طیارے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جب کہ ایک ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی گر کر تباہ ہوگیا۔ ان حملوں میں تین ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    اس واقعے کو نائن الیون حملوں کے نام سے یاد کيا جاتا ہے اور یہ حملے نہ صرف امریکیوں بلکہ پوری دنیا کے لیے اکيسويں صدی کے اذیت ناک ترین واقعات میں ایک قرار دیے جاتے ہیں۔

    11 ستمبر 2001ء صبح قریباً آٹھ بجے یہ حادثات پے در پے رونما ہوئے ۔ پہلے ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا اس کے اٹھارہ منٹ بعد ہی دوسرا بوئنگ 757 بھی دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا ۔ دو مسافر ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئے جن سے یہ عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اس کےٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک اور اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 بھی امریکی محکہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گان پر گرایا گیا جس سے پینٹا گان جزوی طور پر تباہ ہو گیا ۔ ۔ آدھے گھنٹے بعد ایک اور جہاز کے متعلق خبر آئی کہ جسے اغوا کر کے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جایا جا رہا تھا یہ بھی بوئنگ 757 تھا جسے پنسلوانیا کے مقام پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا ۔

    پہلے صبح 8 بج کر 46 منٹ پر سب سے پہلے 5 دہشت گردوں نے امریکن ہوابازی کا مسافر طیارہ فلائٹ -11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور -1 سے ٹکرا دیا ۔ اور اس کے کچھ دیر بعد 9 بج کر 30 منٹ پر ایک دوسرا طیارہ یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 175 کو بھی جنوبی ٹاور -2 سے ٹکرا دیا ۔ اور اسی وقت 9 بج کر 37 منٹ پر پینٹاگان کی عمارت سے بھی پانچ ہائی جیکروں کے ہاتھوں اغواہ شدہ طیارہ امریکی ایئرلائنز پرواز 77 گرایا گیا ۔ مزید تھوڑی دیر بعد تیسرا طیارہ جو یونائٹڈ ایئر لائن فلائٹ 93 تھا اس کو 4 ہائی جیکروں نے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جانے کی کوشش کی ۔ مگر شانکس ولی ، پنسلوانیا کے قریب لڑاکا طیاروں کے ذریعے اسے مار گرایا گیا ۔ یہ وقت تھا 10 بج کر 30 منٹ ۔ ان تمام حملوں میں جہازوں میں موجود تمام مسافر مارے گئے ۔ ختم ہونے سے پہلے کئی مسافروں نے اپنے اپنے موبائل سیل کے ذریعے اپنے مختلف جگہوں پر فون کر کے اطلاعات دیں ۔ ان تمام اطلاعات کو بعد میں منظم کیا گیا تا کہ اس حادثے میں ہونے والے اندرونی واقعات کو تفصیل سے جوڑا جا سکے ۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • امریکہ، پاکستان  میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    امریکہ، پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گا

    جوبائیڈن انتظامیہ پاکستان میں سیلاب زدگان کے لیے مزید 2 کروڑ ڈالر امداد دے گی۔

    امریکی رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے ہیوسٹن میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کیا اور اس موقع پر شیلا جیکسن نے کہاکہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد امریکی انتظامیہ کو صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں بائیڈن انتظامیہ نے مزید 20 ملین ڈالرز کی منظوری دے دی ہے۔

    دوسری جانب میئر ہیوسٹن اور رکن کانگریس ایل گرین کا کہنا تھا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں پاکستانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، عالمی برادری پاکستان کی مدد کرے۔

    قبل ازیں امریکا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے 3 کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان کیا تھا۔اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے کے مطابق پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہی سے افسردہ ہیں۔

    امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا تھا کہ یوایس ایڈ کے ذریعے انسانی امداد میں مزید 3 کروڑ ڈالرز (6 ارب پاکستانی روپے سے زائد) دیں گے۔امریکی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ امداد کیلئے مقامی شراکت داروں اورحکام کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور امداد کا مقصد متاثرین کوفوری خوراک، صاف پانی، مالی مدد اورپناہ گاہ دینا ہے۔

    دوسری جانب امریکا میں تعینات پاکستان کے سفیر مسعود خان نے امریکا کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 3 کروڑ ڈالر امداد پر اظہار تشکر کیا تھا.ان کا کہنا تھاکہ انسانی بنیادوں پر3 کروڑ ڈالر امداد پر امریکا کے شکر گزار ہیں، اس آفت کے دوران امریکا کے پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو سراہتے ہیں۔

  • امریکہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 35 میں چین کے بنے ہوئے پرزے سے خائف

    امریکہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 35 میں چین کے بنے ہوئے پرزے سے خائف

    واشنگٹن:امریکہ اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 35 میں چین کے بنے ہوئے پرزے سے خائف ،اطلاعات کے مطابق امریکی پینٹاگون کوفائیٹر طیارے بنانے والی کمپنی نے اب تک جتنے بھی ایف 35 طیارے فراہم کیے ہیں ان میں استعمال کردہ ایک پرزہ چین کا بنا ہے۔ امریکی افواج کے استعمال میں آنے والے ان جنگی طیاروں کی مانیٹرنگ کے ذمہ دار ادارے کا کہنا ہے یہ چیز امریکی قانون کے علاوہ پینٹا گون کے قواعد کے مطابق بھی ممنوعہ ہے۔

    اس پرزے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک مقناطیس ہے جو طیارے کی رفتار کو تیز کرنے اور طاقت دینے کے لیے کام آتا ہے۔ یہ ڈیوائس ہنی ویل انٹر نیشنل کی طرف سے طیارہ ساز کمپنی مارک ہیڈ کو فراہم کی جاتی ہے۔ طیاروں کی ساخت میں یہ پرزہ 2003 سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس لیے پینٹاگون نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ نئے ایف 35 طیاروں کی اپنے لیے نئی ڈلیوری پر پابندی لگا دی ہے تاکہ یہ یقینی بنا سکے کہ اس چیبی ساختہ ڈیوائس کا ممنوعہ استعمال اب نہیں کیا جا رہا ہے اور قواعد کی پابندی کی جارہی ہے۔

    بتایا گیا کہ ان طیاروں سے متعلق معاملات کی نگرانی کرنے والے ایف 35 پروگرام کو تقیبا 3300 طیاروں کی ڈلیوری ممکن بنانے کے لیے پینٹا گون سے اجازت لینا ہو گی کہ ان طیاروں کو اس پابندی سے محفوظ بنا دیا جائے۔

    ایف 35 پروگرام نہیں دیکھتا کہ پہلے سے فراہم کر دیے گئے ان طیاروں کے یہ ممنوعہ پرزہ تبدیل کیا جا سکے گا۔ اس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس پرزے کی تبدیلی ایک مہنگی چیز بھی ہو گی اور اس میں وقت بھی کافی لگ جائے گا۔مزید کہا گیا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات کی جاری ہیں کہ امریکی قانون کا اس سلسلے میں کیوں خیال نہیں رکھا جا سکا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ پرزہ چین ، ایران، شمالی کوریا روس میں بطور خاص بنایا جاتا ہے۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کے بارے میں دس سال پہلے بتا دیا گیا تھا۔ جبکہ 19 اگست کو پچھلے ماہ ایف 35 پروگرام آفس نے نشاندہی کی تھی۔ لیکن یہ کمپنی جو پہلے ہی تاخیر کر رہی ہے اور طیاروں کی لاگت بڑھتے جانے کا رونا روتی رہتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مزید سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔اگرچہ یہ سوال سپلائی چین سکیورٹی کہ کیا وجہ تھی کہ ہنی ویل کو امریکی قانون کے بارے میں بے خبر رہی۔ حالانکہ چین امریکہ کے لیے عالمی سطح پر سب سے بڑا خطرہ ہے۔

    جب پینٹا گون کی طرف سے بدھ کے روز اس امر کا اعلان کیا گیا تو ہنی ویل نے کہا وہ پینٹا گون اور لاک ہیڈ کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں کمٹڈ ہے کہ اس نے اعلی ترین معیارکی مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ ترجمان ایڈم کریس نے کہا کمپنی اس کے علاوہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • آرمی چیف اور امریکی وزیر دفاع کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، آئی ایس پی آر

    آرمی چیف اور امریکی وزیر دفاع کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور امریکی وزیردفاع لیوڈ آسٹن کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ آرمی چیف اور امریکی وزیر دفاع کا باہمی دلچسپی، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف اور امریکی وزیر دفاع کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی استحکام اور دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے سیلاب سے پیدا ہونی والی صورت حال پر دلی صدمے کا اظہار کیا ہے جب کہ امریکی وزیر دفاع نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق امریکی وزیر دفاع نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے جب کہ انہوں نے پاک فوج کی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے ہر سطح پر پاکستان سے تعاون کے فروغ پر کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

  • روس کو ڈرونز طیارے فراہم کرنے پر واشنگٹن کی کارروائی:امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں

    روس کو ڈرونز طیارے فراہم کرنے پر واشنگٹن کی کارروائی:امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں

    واشنگٹن:روس، کو ڈرونز طیارے فراہم کرنے پر واشنگٹن کی کارروائی:امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں امریکا نے روس کو ڈرون طیارے فراہم کرنے کی پاداش میں ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں، جس میں بالخصوص ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکا، یوکرین میں فوجی آپریشن میں روس کو جنگی ڈرون فراہم کرنے میں ملوث ہونے پر ایرانی پاسداران انقلاب اور متعدد ایرانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے گا۔

    وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پابندیاں بنیادی طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنائیں گی، یہ ادارہ “دہشت گرد تنظیموں” کی امریکی فہرست میں شامل ہے، جو بنیادی طور پر ایرانی جوہری پروگرام میں اس کے کردار کی وجہ سے واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا حصہ ہے۔

    اسسٹنٹ سیکریٹری برائے خزانہ برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن کا کہنا ہے کہ امریکا روس کے ساتھ ساتھ ایران کیخلاف اپنی تمام پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ان لوگوں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہتا ہے جنہوں نے ایران کی طرح یوکرین کیخلاف روسی جارحیت کی حمایت کا انتخاب کیا۔

    امریکی پابندیوں میں ایرانی ڈرونز کی تحقیق، ترقی اور پیداوار میں شامل کئی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا اور ساتھ ہی ان ڈرونز کو روس منتقل کرنے کی ذمہ دار ایرانی کمپنی پر بھی پابندی عائد کی جائے گی۔

  • امریکہ فی الفورتائیوان کی فوجی مدد کرنےسے بازآجائے:چین کی امریکہ کوسخت وارننگ

    امریکہ فی الفورتائیوان کی فوجی مدد کرنےسے بازآجائے:چین کی امریکہ کوسخت وارننگ

    بیجنگ:چین نے امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی ممکنہ فروخت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جزیرے کے ساتھ اپنا فوجی رابطہ فوری طور پر بند کر دے۔

    حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے تائیوان کو 1.1 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکج کی فروخت کی تجویز دینے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں 60 اینٹی شپ میزائل اور 100 فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل شامل ہیں۔

    چینی وزارت قومی دفاع کے ترجمان، سینئر کرنل تان کیفی نے تائیوان کے ساتھ امریکی فوجی رابطے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ چینی فوجی دستے بیجنگ کے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔

    انہوں نے کہا، "چین کے تائیوان کے علاقے کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت ایک چین کے اصول اور تین چین امریکہ مشترکہ اعلامیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”

    چین نے تائیوان کو 1.1 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ برآمد کرنے کے امریکی حکومت کے نئے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود مختار جزیرے کے ساتھ کوئی بھی فوجی رابطہ "ایک چین” کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
    ترجمان نے امریکی فریق پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اسلحے کی فروخت کو منسوخ کرے اور تائیوان کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات ختم کرے۔

    تان نے کہا، "تائیوان چین کا تائیوان ہے، اور تائیوان کے سوال میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں ہے۔ کوئی اور کوئی طاقت مادر وطن کے مکمل دوبارہ اتحاد کے تاریخی رجحان کو نہیں روک سکتی۔انہوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کا ہتھیار خرید کر آزادی حاصل کرنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔

    دریں اثنا، چین اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ کے اوائل میں ہاؤس سپیکر نینسی پیلوسی کے تائی پے کے متنازعہ دورے کے بعد سے کشیدگی برقرار ہے۔

    امریکی بحریہ کے دو جنگی بحری جہاز آبنائے تائیوان میں داخل ہوئے ہیں جو کہ ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے خود ساختہ جزیرے کے دورے کے بعد سے امریکہ کی پہلی بحری راہداری ہے۔

    پانچ فرانسیسی قانون سازوں اور امریکی کانگریس کے ایک اور گروپ کا ایک وفد اس ہفتے تائیوان کا دورہ کرے گا۔ فرانسیسی وفد کا یہ دورہ امریکی حکام اور قانون سازوں کے مسلسل دوروں کے بعد اعلیٰ سطحی یورپیوں کا پہلا دورہ ہوگا جس نے چین کو ناراض کیا ہے۔

    تائیوان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ فرانسیسی وفد بدھ کو 4 روزہ دورے پر پہنچے گا۔ اس میں کہا گیا کہ وفد نائب صدر ولیم لائی سے ملاقات کرے گا۔

    دریں اثنا، تائیوان کی منصوبہ بند ملاقاتوں سے واقف ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ فلوریڈا کی ڈیموکریٹ امریکی نمائندہ سٹیفنی مرفی کی قیادت میں دو طرفہ ایوان کا وفد بھی بدھ کے روز تائیوان کے 2 روزہ دورے پر آنے والا تھا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مغرب کی طرف سے ماسکو پر عائد پابندیوں کو "کم نظری” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔پوتن کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے

    پیوتن نے یہ ریمارکس بدھ کو ملک کے مشرق بعید کے بندرگاہی شہر ولادی ووستوک میں ایسٹرن اکنامک فورم سے خطاب کے دوران کہے اور کہا کہ مغرب نے پوری دنیا پر اپنا تسلط مسلط کرنے کی "جارحانہ” کوشش سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

    "وبائی بیماری کی جگہ عالمی نوعیت کے نئے چیلنجز نے لے لی ہے، جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے، میں مغرب میں پابندیوں کے رش کے بارے میں بات کر رہا ہوں اور مغرب کی جانب سے دوسرے ممالک پر اپنا طریقہ کار مسلط کرنے کی صریح جارحانہ کوششوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ ان کی خودمختاری کو دور کرنا، انہیں ان کی مرضی کے تابع کرنے کے لیے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    پوتن نے کہا کہ مغرب بین الاقوامی تعلقات میں "ناقابل واپسی ٹیکٹونک تبدیلیوں” کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے اور یہ کہ ایشیا پیسیفک خطہ انسانی وسائل، سرمائے اور پیداواری صلاحیتوں کے لیے مقناطیس بن گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مغربی ممالک پرانے عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا فائدہ انہیں ہی پہنچا۔

    روسی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین میں اس کے فوجی حملے کے جواب میں مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد روس نے مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں داخل ہونے کے مزید مواقع دیکھے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ روس کو تنہا کر کے کوئی نہیں جیت سکے گا، یہ ناممکن ہے۔

    پوتن نے یہ بھی اصرار کیا کہ یوکرین میں فوجی کارروائیوں کا مقصد روس کی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ یوکرین جاری جنگ کے دوران اناج برآمد کرنے کے قابل ہو۔

    روسی صدر نے یہ بھی متنبہ کیا کہ خوراک کی عالمی منڈی میں مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایک انسانی تباہی آنے والی ہے۔

    24 فروری کو یوکرین میں روس کے "خصوصی فوجی آپریشن” کے آغاز کے بعد سے، امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے ماسکو پر بے مثال پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    جاری جنگ اور یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نے یوکرین کو اپنی زرعی مصنوعات کی ترسیل سے روک کر عالمی خوراک کی فراہمی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جولائی میں، روس اور یوکرین نے اقوام متحدہ اور ترکی کے ساتھ اناج کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے پر ایک معاہدہ کیا تھا۔

    روس اور یوکرین مل کر گندم کی عالمی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔خوراک کے بحران کے علاوہ مغرب کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے بھی یورپ میں توانائی کے بدترین بحران کو جنم دیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • امریکہ،یورپ اوردیگردنیاکےسائنسدانوں کی ایسی تحقیق جس پرعمل کرناپاکستانیوں کےلیےبھی ضروری

    امریکہ،یورپ اوردیگردنیاکےسائنسدانوں کی ایسی تحقیق جس پرعمل کرناپاکستانیوں کےلیےبھی ضروری

    واشنگٹن:لندن:استنبول:الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال آنتوں کے کینسرسمیت امراض قلب اور قبل از وقت موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    یہ انتباہ 2 نئی طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آیا۔

    الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

     

    ایک تحقیق امریکا میں ہوئی جس میں 2 لاکھ مردوں اور خواتین کی غذائی عادات کا جائزہ 28 سال تک لیا گیا اور دریافت ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں اور آنتوں کے کینسر کے درمیان تعلق موجود ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر طرح کی الٹرا پراسیس غذائیں کینسر کا شکار بنانے میں کسی حد تک کردار ادا کرتی ہیں۔

     

     

    امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی کی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذائیں کھانے والے مردوں میں کینسر کا خطرہ 29 فیصد بڑھ جاتا ہے۔البتہ خواتین میں یہ خطرہ دریافت نہیں ہوسکا جس کی وضاحت محققین نہیں کرسکے۔

     

     

    دوسری تحقیق میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے افراد کی غذائی عادات کا تجزیہ 12 سال تک کیا گیا۔برٹش میڈیکل جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض سے جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

     

     

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ امراض قلب اور جلد موت کا خطرہ ان غذاؤں کو پراسیس کرنے کی وجہ سے بڑھتا ہے۔

     

     

    اس سے قبل جولائی میں یورپین جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے بالخصوص درمیانی عمر کے افراد کے لیے۔

     

     

    اس تحقیق میں 2700 سے زیادہ افراد کو شامل کرکے ان کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا تھا۔نتائج سے عندیہ ملا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کم کرکے لوگ متاثرہ دماغی افعال کی کارکردگی بہتر بنا سکتے ہیں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    واشنگٹن: چین اور تائیوان کے تنازعے میں اب امریکہ کے کردار میں نئی صورتحال پیدا کردی ہے _معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا پیدا ہو گیا ہے _ امریکہ کا یوں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چین کو سخت ناگوار گزرا ہے اب جبکہ امریکہ نے طالبان کو ہتھیار مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے کہ چین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بڑے صاف لفظوں میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے –

    امریکی وزارت خارجہ نے جمعے کو تائیوان کو ممکنہ طور پر 1.1 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ چین نے اس امریکی اعلان کے بعد جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ان ہتھیاروں میں 60 بحری جہاز شکن میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے 100 میزائل شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تائیوان کے اردگرد کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی مشقوں کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے پیکج کا اعلان کیا۔

    اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ حالیہ سالوں میں کسی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ تھا۔ پینٹاگون کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے ) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو فروخت کیے جانے والے اسلحے میں سائیڈ وائینڈر میزائل بھی شامل ہیں، جو فضا سے فضا اور زمین پر حملے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    ان میزائلوں کی قیمت تقریباً آٹھ کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے۔ اینٹی شپ ہاروپون میزائل کی قیمت تقریباً 35 کروڑ 50 لاکھ ہے جبکہ تائیوان کے ریڈار نظام میں معاونت کی مالیت 66 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیوپنگیو نے کہا ہے کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی ممکنہ فروخت کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات کو ’سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘ اطلاعات کے مطابق چینی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین صورت حال میں تبدیلی کی روشنی میں سختی کے ساتھ قانونی اور ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔‘

    دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت کا پیکج کچھ عرصے سے زیر غور تھا اور امریکی قانون سازوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی سینیئر ڈائریکٹر برائے چین اور تائیوان لورا روزن برگر نے ایک بیان میں کہا: ’جیسا کہ چین تائیوان پر دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے، جس میں تائیوان کے ارد گرد زیادہ فوجی اور بحری موجودگی بھی شامل ہے اور آبنائے تائیوان میں پہلے سے موجود صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم تائیوان کو وہ کچھ فراہم کر رہے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنی دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھ سکے۔‘

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت

    یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت

    کیف:یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت ,اطلاعات کے مطابق امریکی اور مغربی عہدیداروں اور یوکرائنی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ موجودہ یوکرائنی جوابی کارروائی کی تیاری میں واشنگٹن نےکیف پر زور دیا کہ وہ آپریشن کو اپنے مقاصد اور اس کے جغرافیہ دونوں میں محدود رکھے تاکہ متعدد محاذوں پر حد سے زیادہ توسیع اور الجھنے سے بچ سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ان مباحثوں میں کیف کے ساتھ "جنگی کھیل” میں شامل ہونا شامل تھا – تجزیاتی مشقیں جن کامقصد یوکرائنی افواج کو یہ سمجھنےمیں مددکرنا تھا کہ مختلف منظرناموں میں کامیاب ہونے کے لیےانہیں کس طاقت کی سطح کواکٹھا کرنا ہوگا۔امریکی اوریوکرائنی حکام نے بتایا کہ یوکرینی ابتدائی طور پر ایک وسیع تر جوابی کارروائی پر غورکر رہے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں، کھیرسن کےعلاقے میں، جنوب تک اپنے مشن کو محدود کر دیا۔

    سپریم کورٹ ،نیب قانون میں ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پرہوئی سماعت

     

    پینٹاگون کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نےسی این این کو بتایا کہ "امریکہ کا یوکرین کے ساتھ متعدد سطحوں پر معمول کے مطابق ملٹری ٹو ملٹری ڈائیلاگ ہے۔ ہم ان مصروفیات کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔عام طورپرہم یوکرین کے باشندوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ انہیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے۔ وہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور روسی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ بالآخر، یوکرینی اپنی کارروائیوں کے حتمی فیصلے کر رہے ہیں۔”

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    حکام کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اب یوکرین اور روسی فوجوں کے درمیان برابری بڑھ گئی ہے۔ لیکن مغربی حکام نوزائیدہ یوکرائنی آپریشن کو – جو پیر کو جنوبی صوبے خرسن میں شروع ہوا تھا – کو ایک حقیقی "جوابی کارروائی” کا نام دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    تازہ ترین انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ یوکرین کے کھوئے ہوئے علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے میں کتنا کامیاب ہونے کا امکان ہے یہ ایک کھلا سوال ہے۔ یوکرائنی حکام پہلے ہی نوٹ کر چکے ہیں کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ایک سست کارروائی ہو گی، اور سزا کے طور پر سردی کا موسم آنے والا ہے اور پھر موسم بہار کی ابتدائی کیچڑ، یہ دونوں لڑائی کو روکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔