Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • "تم چوربھی ہواورجھوٹے بھی”واشنگٹن ائیر پورٹ پر نامعلوم شخص کی اسحاق ڈار سے بدتمیزی، ویڈیو وائرل

    "تم چوربھی ہواورجھوٹے بھی”واشنگٹن ائیر پورٹ پر نامعلوم شخص کی اسحاق ڈار سے بدتمیزی، ویڈیو وائرل

    واشنگٹن: امریکی ایئر پورٹ پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ایک اوورسیز پاکستانی کی جانب سے تضحیک آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اوورسیز پاکستانی کی جانب سے سخت جملے کہے جس کے بعد اسحاق ڈار نے مذکورہ شخص کو کہا کہ ’تم جھوٹے ہو‘ جس پر اس شخص نے وفاقی وزیر کو چور اور جھوٹا کہہ کر پکارا۔

    https://twitter.com/Paknewsisbest/status/1580506577320042497?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1580506577320042497%7Ctwgr%5Ea5fd0926d6effa3c945b89245ea98ad0fbd0175b%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2385969%2F10

     

    میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان

    اسی اثنا میں اسحاق ڈار کے ہمراہ ایک شخص کو بھی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ جس نے اوورسیز پاکستانی کو دھمکی دی کہ ’تم مجھے نہیں جانتے‘۔ بعدازاں مذکورہ شخص اور اوورسیز پاکستانی کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

     

    واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا میں ہیں۔

    آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار

    پاکستان ملک میں تباہ کن سیلاب کے بعد بین الاقوامی قرض دہندگان سے نئی شرائط کا مطالبہ کرے گا۔ وزارت خزانہ کی پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ نے ایجنسیوں کو ملک میں ہونے والی تباہی کے بارے میں بریفنگ دی جس سے انفراسٹرکچر، فصلیں اور لوگوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے۔

    پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…

  • اعلیٰ امریکی حکام کی اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات

    اعلیٰ امریکی حکام کی اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات

    جو بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدایدارو ں نے قطر میں اہم افغان طالبان رہنما سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد اعلیٰ امریکی حکام نے طالبان سے پہلی ملاقات کی ہے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ہفتے کے روز طالبان وفد سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں ملاقات کی۔

    امریکا نے کویت کو جدید میزائل سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دیدی

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے اور امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے طالبان وفد سے دوحا میں ملاقات کی، طالبان حکومت کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق واثق بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    ایک حملے میں الظواہری کے مارے جانے کے بعد، امریکہ نے طالبان پر الزام لگایا کہ دوحہ معاہدے کی ر صریح خلاف ورزی ہے”، جو ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ثالثی کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہوتا ہے تو طالبان دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیں گے-

    امریکی ڈرون نے الظواہری پر مہلک ہیل فائر میزائل فائر کیے، امریکی حکام نے حقانی نیٹ ورک کے طالبان رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ الظواہری کے ٹھکانے کے بارے میں جانتے تھے جب کہ طالبان نے غصے سے اس کارروائی کی مذمت کی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے کو ٹیکس چوری اور اسلحہ خریداری کے مقدمات کا سامنا

    اس کے بعد سے، امریکہ نے طالبان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس میں امریکی شہری مارک فریچس کی رہائی پر بات چیت بھی شامل ہے۔ لیکن 31 جولائی کو الظواہری کی ہلاکت سے چند روز قبل سے سینئر حکام نے آمنے سامنے ملاقات نہیں کی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کو موجودہ افغان حکومت سے اچھےتعلقات قائم کرنے چاہیے، افغانستان میں طاقت کا استعمال کامیاب نہیں رہا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا امریکا خطے میں اپنے مفادات کے لیے استحکام چاہتا ہے تو اسے افغان حکومت سے مثبت تعلقات بنانے چاہئیں۔

    امریکہ نے ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کر دی

  • امریکا سے بھیجا جانے والا سائفر مکمل محفوظ ہے:ترجمان وزارت خارجہ

    امریکا سے بھیجا جانے والا سائفر مکمل محفوظ ہے:ترجمان وزارت خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ امریکا سے موصول سائفر وزارت خارجہ میں مکمل محفوظ ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران عاصم افتخار نے واضح کیا ہے کہ سائفر جیسے دستاویزات وزارت خارجہ میں احتیاط سے رکھے جاتے ہیں اور امریکا سے موصول سائفر بھی مکمل محفوظ ہے۔

    پہلی پاکستان جونیئر لیگ رنگا رنگ افتتاحی تقریب کیساتھ شروع

    ترجمان کے مطابق فرانس کی میزبانی میں ڈونرز کانفرنس نومبر یا پھر رواں برس کے آخر میں ہوگی ۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ لوازمات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ڈونرزکانفرنس میں پوری تیاری اور منصوبہ بندی سے جائیں گے، عالمی بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    سیلاب سے 90 لاکھ تک پاکستانی غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک

    ترجمان کا کہنا تھا کہ یواین اپیل کے بعد سیلاب متاثرین کیلئے 355 ملین ڈالرز کے اعلانات ہوئے، یورپی یونین نے 3 کروڑ یورو کی انسانی امداد کا اعلان کیا۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے مزید 8 افراد کو شہید کیے جانے اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شدید مذمت کی ۔

    دین اسلام کی خاطر شوبز انڈسٹری چھوڑدی:اب آخرت کی فکرہے:عبداللہ قریشی

    عاصم افتخار نے کہا افغانستان میں پاکستانی کرنسی پر پابندی کو معطل کر دیا گیا ہے، امید ہے افغان انتظامیہ معاملے کو باہمی تجارتی مفاد کے تناظرمیں دیکھے گی۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کا خیبر پختونخوا کے علاقوں کو نیا نام دینا آئین پاکستان کے منافی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔

  • امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    واشنگٹن :امریکا کے صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ 1962 کے کیوبن میزائل کرائسز کے بعد پہلی بار جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ انتہا پر پہنچ چکا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر کا ڈیموکریٹس اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یوکرین میں بڑے سیٹ بیک کے بعد روس کے صدر ولادمیر جب ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں، بائیولوجیکل ہتھیاروں اور کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ مذاق نہیں کر رہے ہوتے، امریکا روسی صدر کے جوہری جنگ کے طریقے کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ 1962 کے کیوبن میزائل کرائسز کے بعد پہلی مرتبہ ہمیں براہ راست جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی گئی ہے، اگر چیزیں اسی طرح چلتی رہیں تو یہ استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل امریکا اور یورپی یونین نے کہا کہ تھا کہ روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کی نیوکلیئر دھمکیوں کو سنجیدہ لینا چاہیے۔تاہم امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلاوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا روس کی جانب سے جوہری حملوں کی دھمکیوں کے باوجود امریکا کو فوری طور پر اس قسم کے حملوں کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ روس جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یوکرین روس کی جانب سے 24 فروری کے بعد تسلط میں لیے گئے علاقے واپس لے رہا ہے جس میں ان ریجنز کے علاقے بھی شامل ہیں جنہیں روس نے ریفرنڈم کے ذریعے حال ہی میں اپنے ساتھ ملایا ہے۔

  • امریکی حکومت نے فلائٹ اٹینڈنٹ کےآرام کےدورانیےمیں اضافہ کردیا

    امریکی حکومت نے فلائٹ اٹینڈنٹ کےآرام کےدورانیےمیں اضافہ کردیا

    واشنگٹن:امریکی حکومت نے فلائٹ اٹینڈنٹ کے آرام کے دورانیے میں اضافہ کردیا ہے اس کا مقصد فضائی عملے کوزیادہ سے زیادہ آرام دے کران سے بہتر سےبہترخدمات لی جائیں ، اس حوالےسے معلوم ہوا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ فلائٹ اٹینڈنٹ کے لیے آرام کے لازمی اوقات میں 10 گھنٹے تک توسیع کردی ہے، یاد رہے کہ فضائی عملے کے اس شعبہ کوآرام کی مدت میں زیادہ راحت دینے کا یہ فیصلہ کانگریس نے 4 سال پہلے کیا تھا

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس امریکی ایئرلائنز کے اس شعبہ کو فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر بلی نولن کے دستخط کردہ منصوبے کے تحت 90 دنوں کے اندر نئے کیبن کریو کے آرام کی مدت، جو فی الحال آٹھ گھنٹے ہے، کو نافذ کرنا ہوگا۔جس کے بعد یہ دورانیہ 10 گھنٹے ہوجائے گا

    ترکی نے مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے، وزیراعظم

    فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے قائم مقام ایڈمنسٹریٹر بلی نولن کہا”میں آپ کو پہلے ہی بتا سکتا ہوں کہ اچھی طرح سے آرام کرنے والے عملے کے ارکان حفاظت کے لیے اہم ہیں۔” "فلائٹ اٹینڈنٹ کیبن سیفٹی سے شروع ہونے والے ہوا بازی کے حفاظتی کلچر کی بنیاد ہیں۔”اگران کو ہی آرام نہ مل سکا توپھرفضائی سفر کرنے والے کیسے بے فکر کرسفر کریں گے

    سارہ نیلسن، ایسوسی ایشن آف فلائٹ اٹینڈنٹس کا کہنا تھا کہ توسیعی آرام کی مدت فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے چند سالوں کے چیلنج کے بعد آتی ہے۔ وبائی امراض کے دوران ریاستہائے متحدہ میں پروازوں میں بے قابو مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا کیونکہ لوگوں نے ماسک مینڈیٹ اور دیگر فلائٹ سیفٹی قواعد پر اعتراض کیا۔ جبکہ حالیہ مہینوں میں واقعات میں کمی آئی ہے،

    امریکی فلمی اداکار ، ہدایتکار ، پروڈیوسر ، کمپوزر۔ہرفن مولا کلنٹن ایسٹ ووڈ…

    سارہ نیلسن، ایسوسی ایشن آف فلائٹ اٹینڈنٹس کا کنا تھا کہ "ایوی ایشن کے پہلے جواب دہندگان اور دفاع کی آخری لائن کے طور پر، یہ ضروری ہے کہ ہم اچھی طرح آرام کریں اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے تیار ہوں۔” "کووڈ نے طویل ڈیوٹی والے دن، مختصر راتوں اور طیاروں پر جنگی حالات کے ساتھ حفاظتی فرق کو بڑھا دیا ہے۔”

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا توسیعی آرام کی مدت کا ایئر لائن کے افرادی قوت پر کوئی اثر پڑے گا، جو موسم گرما کے سفر کے دورانیے میں تناؤ کا شکار تھے۔ تاہم، فلائٹ اٹینڈنٹ کے عملے کو شاذ و نادر ہی ایک مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اور نئے اصول کو سردیوں کے سست موسم کے دوران لاگو کیا جائے گا

    سہ فریقی سیریز؛ قومی ٹیم نیوزی لینڈ پہنچ گئی

    یاد رہے کہ چار سال قبل امریکی کانگریس نے فلائٹ اٹینڈینٹس کے آرام کی مدت میں 2 گھنٹے کا اضافہ کرکے 8 سے دس گھنٹے کردی تھی لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس قانون کا اطلاق نہیں کیا تھا ،جسے اب بائیڈن انتظامیہ نے نافذ العمل کردیا ہے

  • امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے

    امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے

    امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی معاہدہ طے پا گیا-

    باغی ٹی وی: "العربیہ” کے مطابق ایرانی نور نیوز ایجنسی کے مطابق میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہےکہ خطے کے ایک ملک نے قیدیوں بیک وقت رہائی کے لئے ایران اور امریکہ کےدرمیان ثالثی کرائی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی اور امریکی قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک علاقائی ملک کی ثالثی میں گہری بات چیت ہوئی ہے۔

    ٹیسلا کا تیار کردہ انسان نما روبوٹ متعارف

    محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں آج اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ایران نے باقر نمازی پر عائد سفری پابندی ہٹا دی ہے محکمہ خارجہ شکر گزار ہے کہ سیاماک نمازی کو انسانی بنیادوں پر اپنے والد باقر کے ساتھ رہنے کے لیے اجازت دی گئی ہے۔

    خیال رہےایران نے 2016 میں 85 سالہ باقر نمازی کو ایک دشمن حکومت کے ساتھ تعاون کا مجرم قرار دیا اور 10 سال قید کی سزا دی تھی۔ ایرانی حکام نے 2018 میں باقر کو طبی بینادوں پر رہا کیااور 2020 میں اس کا مقدمہ بند کردیا اوراس کی سزا کو بھی جیل میں گزارے گئے وقت تک محدود کردیا تھا۔ تاہم ایران نے باقر کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی تھی ۔

    باقر کا 51 سالہ بیٹا سیامک 2015 سے جیل میں ہے ۔ اسے بھی 2016 میں والد کی طرح کی سزا سنائی گئی ۔ اس وقت امریکہ نے دونوں پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

    مہینوں پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان غیر معمولی قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مشترکہ حل تک پہنچنے کی کوشش شروع کی گئی تھی۔ یہ مذاکرات بالواسطہ تھےاور 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کے لیے ہوئے تھے اعداد و شمار کے مطابق 16 ایرانی امریکہ میں قید ہیں یا انہیں وفاقی جرائم کے ثابت ہونے پر مقدمہ سے پہلے ہی رہا کردیا گیا۔

    قابل ذکر ہے کہ ان ایرانی نژاد امریکیوں کی شہریت کو تہران تسلیم نہیں کرتا اور یہی ایرانی نژاد امریکی دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات میں یرغمالیوں کی طرح ہوتے ہیں ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہےکہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے اربوں ڈالر بیرون ملک منجمد ہیں۔ ایران کے یہ ڈالر چین، بھارت ، جنوبی کوریا، عراق اور جاپان اور دیگر ملکوں میں پڑے ہیں ۔

    انڈونیشیا میں زلزلے کے شدید جھٹکے، 2 افراد ہلاک، 15 زخمی،درجنوں گھر تباہ

    کئی ماہ قبل تہران نے ان اثاثوں کو جاری کرانے کیلئے مذاکرات کا قدم اٹھایا تھا کیونکہ اسے اپنی کرنسی کے خاتمے اور امریکی پابندیوں کے باعث معیشت کی مکمل ناکہ بندی اور زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا تھا۔

  • روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے 4 خطوں کو اپنے ملک کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ماسکو سے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تقریب میں روسی صدر نے یوکرین کے 4 خطوں کے روس کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ‘یہ لاکھوں افراد کی مرضی ہے اور اب یہ چاروں روس کے نئے خطے بن چکے ہیں’۔یہ اعلان یوکرین کے ان خطوں میں ایک ریفرنڈم کے بعد کیا گیا جس کے نتائج میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 99 فیصد عوام روس کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔پانچ روز جاری رہنے والی پولنگ کے نتائج کو یوکرین اور مغربی ممالک نے مسترد کر دیا تھا۔

    روسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ڈونیٹسک،لوہانسک، خیرسون اور زاپورزیا خطوں کے عوام اب ہمارے ہم وطن بن گئے ہیں’۔انہوں نے یوکرین پر فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر زور دیا۔اس الحاق کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب یہ جنگ اس سرزمین پر لڑی جارہی ہے جسے روس نے اپنا قرار دیا ہے۔

    گزشتہ دنوں روسی صدر نے کہا تھا کہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ضرورت ہوئی تو ہم جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کی حکومت نے روس کے قبضے میں چلے جانے والے مقامات کو دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ان خطوں کے الحاق کا فیصلہ مذاکرات کے امکان کو ختم کردے گا۔

     

    یوکرین میں سویلین قافلے پر روسی حملے میں 23 افراد ہلاک ہوگئے۔امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق یہ حملہ یوکرین کے جنوبی ریجن زاپوریزیا میں کیا گیا جس میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔

    یہ تمام افراد مشترکہ طور اسی ریجن میں روس کے زیر قبضہ علاقے میں پھنسے ہوئے اپنے رشتہ داروں کو نکالنے جارہے تھے۔روس کی جانب سے سویلین قافلے پر ایس 300 سسٹم سے 16 میزائل داغے گئے۔یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب روسی صدر پیوٹن بہت جلد یوکرین کے اس خطے سمیت دو علاقوں خرسون اور زاپوریزیا کو خودمختار حیثیت قرار دینے کی دستاویز پر دستخط کرنے والے ہیں۔

     

     

    ان علاقوں میں روس نے ایک متنازع ریفرنڈم کا انعقاد کرایا تھا جس پر یوکرین اور مغربی ممالک نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل روس فروری میں ڈونسٹک اور لنشک کو بھی خودمختار علاقے قرار دینے کا اعلان کرچکا ہے۔

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سے ملاقات

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سے ملاقات

    اسلام آباد/واشنگٹن۔:وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رابرٹ مینینڈیز سے واشنگٹن میں ملاقات کی۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق انہوں نے سیلاب سے ہونے والی تباہی کی شدت سے نمٹنے کے لیے امریکا کی امداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیرپا اور طویل مدتی تعاون کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے چیئرمین مینینڈیز کو سیلاب سے ہونے والی تباہی کے اثرات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ یہ انسانی صحت، خوراک کی حفاظت اور اقتصادی جہتوں کا ایک پیچیدہ بحران ہے۔ انہوں نے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین پر زور دیا کہ وہ امریکی کانگریس میں حمایت کو متحرک کریں، جو تاریخی طور پر اس طرح کی قدرتی آفات کے دوران پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین نے سیلاب سے ہونے والی تباہی پر پاکستان کے عوام اور حکومت سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کو اس چیلنج پر قابو پانے کے قابل بنانے میں اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ ایک اہم سنگ میل ہے، دونوں ممالک نے مل کر کام کر کے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ سینیٹر رابرٹ مینینڈیز نے پاکستان امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں پاکستانی تارکین وطن کے کردار کی تعریف کی۔ ملاقات میں افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس سے پہلے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکی سفارتخانے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، باہمی اعتماد، احترام اور ہم آہنگی کی بنیاد پر دوستانہ روابط کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، امریکہ نے مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کی ہے، پاک۔امریکہ تعلقات کو چین اور افغانستان کے تناظر سے نہیں دیکھنا چاہئے، ملک میں حالیہ سیلاب سے تباہی دستیاب وسائل سے بہت زیادہ ہے، سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری ہمارے ساتھ کھڑی ہو اور مدد کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاک۔امریکہ تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

     

     

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات کی تقریب میں شرکت پر خوشی ہوئی ہے، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات 75 سال پر محیط ہیں، دونوں ممالک کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں، امریکہ پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہے، دونوں اطراف سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کیا جاتا رہا ہے، امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، پاک۔امریکہ تعلقات کو چین اور افغانستان کے تناظر سے نہیں دیکھنا چاہئے،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • پی ٹی آئی کی وجہ سےپاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے:شہبازشریف کا امریکی خبررساں ادارے کوانٹرویو

    پی ٹی آئی کی وجہ سےپاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے:شہبازشریف کا امریکی خبررساں ادارے کوانٹرویو

    نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کی گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا۔

    امریکی خبررساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بار پھر عالمی برادری سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں بہت تباہی ہوئی عالمی مدد سے سیلاب متاثریں کی بحالی ممکن ہوگی، جن ممالک کے پاس وسائل ہیں اور انہیں اللہ نے استطاعت دی ہے انہیں آگے بڑھنا چاہیے اور ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں حصہ ملانا چاہیے، یہ بہت ضروری ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے۔ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بہت زیادہ ہیں، سیکڑوں بچوں سمیت 1600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، چالیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا، ان کی زندگی کی جمع پونجی ختم ہوگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، ریلوے پل، ریلوے ٹریک، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس سب کی بحالی کیلئے فنڈز درکار ہیں۔ پاکستان عالمی حدت کا سبب بننے والے عالمی حدت کا ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ جون کے وسط میں سیلاب شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں اناج کی قلت اور خام تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا تھا جو بنیادی طور پر روس یوکرین تنازع کی وجہ سے ہواتھا۔ آسمان کو چھوتی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس کی درآمد ہماری استعداد سے باہر ہوگئی تھی، بڑے پیمانے پر سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ان چیلنجز کو مزید بڑھا دیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے ملنے والی امداد کو انتہائی مضبوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جائے گا جب کہ بین الاقوامی معروف کمپنیوں کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اعلی حکام سے ملاقات میں سیلاب کی صورت حال بہتر ہونے تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور دیگر شرائط کو موخر کرنے کی اپیل کی۔ اس کے پاکستان کی معیشت اورعوام پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ بہت معاون لگ رہے تھے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پر امن پڑوسی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر کا تنازع مذاکرات سے حل کرسکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھلانے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ تعلیم کے لیے، نوکریوں کے مواقع دینے کے لیے، طبی سہولیات دینے کے لیے، بھارت اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلحے اور دفاعی سامان کی خریداری پر پیسہ خرچ کرے پاکستان بھی (متحمل) نہیں ہوسکتا۔

    کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو سمجھنا چاہئے کہ جب تک کشمیر کا سلگتا ہوا تنازع پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا ہم امن سے نہیں رہ سکتے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کا نادر موقع ہے ، افغانستان میں پرامن حالات پاکستان میں بھی امن کی ضمانت ہیں۔ طالبان کے پاس دوحہ معاہدے کی پاسداری کرکے لوگوں کیلئے امن اورترقی کو یقینی بنانے کا ایک سنہری موقع ہے، افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاک امریکا تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کی گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا، یہ سب کچھ پاکستان کے عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔