Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ نے یوکرین کو جدید ترین راکٹ سسٹم فراہم کےفیصلہ کرلیا

    امریکہ نے یوکرین کو جدید ترین راکٹ سسٹم فراہم کےفیصلہ کرلیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو جدید راکٹ سسٹم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو لمبے فاصلے تک مار کرنے والے روسی اہداف پر کامیابی کے ساتھ حملہ کر سکتے ہیں جس کے ایک حصے کے طور پر 700 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کے پیکیج کی بدھ کو ایک تقریب کے ذریعے متوقع ہے۔

    یوکرین کے حوالے سے ہونے والے اس فیصلے کے بارے میں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ یوکرین کی طرف سے "یقین دہانی” دینے کے بعد امریکہ یوکرین کو ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم فراہم کر رہا ہے جو 80 کلومیٹر (50 میل) تک کے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔اسی حوالے سے کل منگل کو شائع ہونے والے نیویارک ٹائمز کے ایک آپشن ایڈ میں، بائیڈن نے کہا کہ یوکرین پر روس کا حملہ سفارت کاری کے ذریعے ختم ہو جائے گا لیکن یوکرین کو مذاکرات کی میز پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے امریکہ کو اہم ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنا چاہیے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے حوالےسے کہا ہےکہ، ’’اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم یوکرین کے باشندوں کو مزید جدید راکٹ سسٹم اور جنگی سازوسامان فراہم کریں گے جو انہیں یوکرین میں میدان جنگ میں اہم اہداف کو زیادہ درست طریقے سے نشانہ بنانے کے قابل بنائیں گے۔‘‘

    حکام نے بتایا کہ پیکج میں گولہ بارود، کاؤنٹر فائر ریڈار، متعدد فضائی نگرانی کے ریڈار، اضافی جیولن اینٹی ٹینک میزائل کے ساتھ ساتھ اینٹی آرمر ہتھیار بھی شامل ہیں۔یوکرین کے حکام اتحادیوں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹم کے لیے کہہ رہے ہیں جو کہ سینکڑوں میل دور راکٹوں کے ایک بیراج کو فائر کر سکتے ہیں، اس امید میں کہ تین ماہ سے جاری جنگ کا رخ موڑ دے گا۔

    اس نے ہتھیاروں کا کوئی مخصوص نظام فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا، بلکہ اس کے بجائے یہ شرائط پیش کرتے دکھائی دیے کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بائیڈن اپنے دفاع میں یوکرین کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ایسے ہتھیار فراہم کرنے کے مخالف رہے ہیں جنہیں یوکرین روس پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کام جاری ہے،اسرائیلی وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک لمبا اور انتہائی محتاط عمل ہے تا ہم ایسا ممکن ہے، تعلقات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے اگر کسی معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ حیرت انگیز اعلان نہیں ہوگا جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ہونے والے سابقہ معاہدوں کے وقت ہوا تھا ہ اسرائیل امریکا اور خلیجی ممالک سے مل کر سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالہ سے کام کر رہا ہے،ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ابراہیم معاہدے کے بعد یہ اگلا قدم ہے

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل اپنے اتحادی امریکا اورخلیجی ملکوں سے مل کرسعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے پرکام کررہا ہے

    اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لاپڈ نے تجویز پیش کی کہ ریاض کو اسرائیل، امریکہ اور کئی خلیجی عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالہ سے کام جاری ہے،

    چار عرب ریاستوں – بحرین، مراکش، سوڈان اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں نام نہاد ابراہم معاہدے پر دستخط کیے تھے ریاض نے معاہدوں کی حمایت کی تھی لیکن اس وقت کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو صرف اسی صورت میں معمول پر لائے گا جب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی طرف "اہم پیش رفت” ہوتی ہے۔

    سعودی عرب نے بھی اکثریتی عرب ریاستوں کی طرح اصرار کیا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔معاہدوں پر دستخط ہونے کے دو سالوں میں اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں پر اپنے پرتشدد حملوں کو روکنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    گزشتہ ہفتے،ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی بائیڈن انتظامیہ مصر، اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان خاموشی سے ثالثی کر رہی ہے تاکہ ریاض کو تعلقات معمول پر لانے کی ترغیب دی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اور محکمہ خارجہ کے توانائی کے ایلچی آموس ہوچسٹین سینئر سعودی حکام سے بات چیت کے لیے گزشتہ ہفتے ریاض پہنچے تھے۔ یہ ملاقات اگلے ماہ کے آخر میں بائیڈن کے خود سعودی عرب کے ممکنہ دورے کا پیش خیمہ ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات کی عدم موجودگی کے باوجود 2020ء میں اسرائیل اور یواے ای کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے اتفاق کیا تھا ۔اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ایل آل اسرائیل ایئرلائنز کے طیارے نے  ابوظبی جانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود ہی سے پرواز کی تھی

    محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا،سعودی عرب دنیا میں تنہا، سعودی معیشت ڈوبنے لگی، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    دنیا بحران کی جانب گامزن.ٹرمپ کی چین کو نتائج بھگتنے کی دھمکی، مبشر لقمان کی زبانی ضرور سنیں

    سعودی عرب میں طوفان ابھی تھما نہیں، فوج کے ذریعے تبدیلی آ سکتی ہے،سعودی ولی عہد کو کن سے ہے خطرہ؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    سعودی شاہی خاندان کو بڑا جھٹکا،بادشاہ اورولی عہد جزیرہ میں روپوش، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    سعودی شاہی خاندان میں بغاوت:گورنرہاوسز،شاہی محل فوج کے حوالے،13شہزادےگرفتار،حرمین شریفین کواسی وجہ سےبندکیا : مبشرلقمان

    سعودی ولی عہد کے خلاف بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے 20 مزید افراد گرفتار

    سعودی عرب میں بغاوت ، کون ہوگا اگلا بادشاہ؟ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نےبتائی اندر کی بات

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    یواے ای کے ولی عہد کی اسرائیلی صدر کو دورے کی دعوت

  • روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    ماسکو:جیسے جیسے امریکہ اور روس کے درمیان حالات کشیدہ ہورہے ہیں امریکہ کی طرف سے سخت پابندیوں کی دھمکیاں بھی بڑھ رہی ہیں امريکا کی جانب سے شمالی کوريا کے خلاف نئی پابندياں، 2 روسی بینک بھی شامل،اطلاعات کے مطابق امریکہ نے شمالی کوريا کے حالیہ میزائل تجربات کے ردعمل میں اس کے خلاف نئی پابندياں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان دھمکیوں کے اثرات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہےکہ امریکہ اس وقت روس اور شمالی کوریا کے خلاف سخت اقدامات کرنا چاہتا ہے، یہ وجہ ہےکہ تازہ امريکی پابندیوں کی زد میں دو روسی بينک، ايک شمالی کوریائی کمپنی اور ايک شخص آيا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے شمالی کوريا کے ہتھياروں کے پروگرام ميں معاونت فراہم کی ہے۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کہاگیا ہے کہ اس حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کی پابنديوں کے زمرے ميں آنے والے روسی بينکوں کے نام بينک اسپٹنک اور فار ايسٹرن بينک ہيں روس کے بینکوں کے ساتھ ساتھ شمالی کوريائی کمپنی کا نام ايئر کاريو ٹريڈنگ کارپوريشن ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہےکہ شمالی کوریا کے خلاف امریکہ نے جونگ یونگ نام نامی جس شمالی کوریائی باشندے پر پابندياں عائد کی ہيں اس پر الزام ہے کہ اس نے بيلسٹک ميزائل کی تياری سے منسلک کمپنيوں کے ساتھ تعاون کيا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کی یہ نئی پيش رفت اقوام متحدہ کی شمالی کوریا پر مزيد پابنديوں کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر رائے شماری کے ايک دن بعد سامنے آئی ہے۔
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو شمالی کوریا کے خلاف پیش کی گئی امریکی قرارداد کو روس اور چين نے ويٹو کر ديا تھا جس پر امریکہ کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ شمالی کوریائی عالمی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے رواں برس کے آغاز سے اب تک 16 مختلف میزائل اور جاسوس سیٹلائٹ تجربات کر چکا ہے۔ ان میزائلوں میں امریکہ تک مار کرنے والے بلیسٹک میزائل بھی شامل ہیں جن کی وجہ سے امریکہ پر خوف کے سائے ہیں اور امریکہ نے انہیں خطرات کے پیش نظر اب روس اور شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے

     

     

  • روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا

    روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا

    ماسکو:روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں سے متعلق سخت ترین فیصلے کرلئے گئے

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روس ایک نئے قانون کو پاس کرنے پر غور کررہا ہے جس کی مدد سے وہ مغربی کمپنیوں کے مقامی کاروبار کو اپنے کنٹرول میں لے سکا گا جو یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کررہی ہیں۔

     

     

    اس نئے قانون کی وجہ سے روس سے نکلنے کی کوشش کرنے والی مغربی کثیرالقومی کمپنیوں کے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے، یہ قانون جو آئندہ ہفتے لاگو ہوسکتا ہے، روس کو مداخلت کے وسیع اختیارات دے گا جہاں مقامی ملازمتوں یا صنعت کو خطرہ ہو۔

     

     

    اس قانون کے بعد مغربی کمپنیوں کے لئے خود کو نقصان سے بچانا مزید مشکل ہوجائے گا جس سے وہ بڑا مالی نقصان اٹھاسکتی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے قانون کی تجویز مغربی کمپنیوں جیسے کہ میکڈونلڈ، اسٹاربکس اور بریور اے بی انبیو کے اخراج کے بعد سامنے آئی ہے۔

     

     

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی معیشت پر مغربی پابندیوں کی وجہ سے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی،گوکہ دنیا کا سب سے بڑا فرنیچر برانڈ آئیکا، فاسٹ فوڈ چین برگر کنگ اور سینکڑوں چھوٹی فرم کا اب بھی روس میں کاروبار جاری ہے، لیکن نئے قانون کی منظوری کے بعد کوئی بھی کمپنی روس چھوڑنے کی کوشش کریگی تو اسے سخت لکیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     

    ادھر روسی فیصلے کے بعد آئیکا نے روس میں تمام امور کو معطل کردیا ہے، کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پابندیوں سے متعلق نئے روسی فیصلے کو قریب سے دیکھا جارہا ہے اور تمام آپشنز پر غور جاری ہے، برگر کنگ نے فوری تبصرے سے انکار کیا ہے۔

  • دیکھا مسلمانوں کا حشرنشرکردیا:بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے

    دیکھا مسلمانوں کا حشرنشرکردیا:بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے

    نئی دہلی :بی جے پی وزرامسلم دشمن اقدامات کو اپنا کارنامہ قرار دینے لگے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں پچھلے چند ہفتوں سے شدت آگئی ہے اور اس نفرت کو بھی ہندوانتہا پسند اپنا کارنامہ قراردینے لگے ہیں ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت کی ایک تقریب کے دوران بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کے وزراء اعلیٰ نے مسلم مخالف پالیسیوں اور مسلم دشمنی پر مبنی کارروائیوں کو اپنے اپنے کارنامے کے طور پر پیش کیا ہے۔

     

    ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے ہفت روزہ ہندی اور انگریزی اخبارات کے 75 برس مکمل ہونے پر دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا اور اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اپنی اپنی ریاستوں میں مسلم مخالف اقدامات کو بڑے فخریہ انداز میں پیش کیا۔

    یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے سابقہ حکومتوں سے اپنی حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ مذہبی تہواروں کے دوران کئی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے لیکن اترپردیش میں کوئی فساد نہیں ہوا۔

     

    ادیتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ 2012ء سے 2017ء کے درمیان اترپردیش میں 700 فسادات ہوئے لیکن پچھلے پانچ برسوں کے دوران اترپردیش میں کوئی فسادات نہیں ہوئے۔

    یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رام نومی کا تہوار اور ہنومان جینتی کی تقریبات بھی شاندار اور پرامن طور پر گزریں جبکہ پہلی مرتبہ رمضان میں جمعتہ الوداع اور عید الفطر کی نمازیں سڑکوں پر نہیں ہوئیں اور مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر پوری طرح غائب ہو چکے ہیں۔انہوں نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، بنارس میں کاشی وشوا ناتھ مندر کمپلیکس کی تزئین نو اور ریاست میں غیر قانونی ذبیحہ خانوں کو بند کیے جانے کو بھی اپنا کارنامہ قرار دیا۔

    آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا نے کہا کہ لفظ مدرسہ کو ہی مٹا دینا چاہیے کیونکہ جب تک یہ لفظ باقی رہے گا اس وقت تک کوئی بچہ نہ تو ڈاکٹر او رنہ ہی انجینئر بن سکے گا۔ مدارس میں بچوں کو داخل کرانا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی تعلیمات پر اخراجات بند کر دیے گئے ہیں۔ تمام مسلمان دراصل ہندو ہیں، اس دھرتی پر کوئی بھی مسلمان نہیں آیا اس لیے اگر کوئی مسلم بچہ قابل تعریف کام کرتا ہے تو اس کا سہرا اس کے ہندو ماضی کو جاتا ہے۔

    اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے، دراندازوں کی شناخت کے لیے خصوصی مہم چلانے اور تبدیلی مذہب کے خلاف قانون کو سخت بنانے کے اپنے کارناموں کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر ریاستیں بھی ان کے اس اقدام کی پیروی کریں گی۔

    بھارت کے مسلم رہنماؤں نے بی جے پی کے وزراء اعلیٰ کے بیانات کی سخت مذمت اور اُن پر تنقید کرتے ہوئے انہیں اسلاموفوبیا کا بدترین نمونہ قرار دیا ہے۔

  • پیوٹن کی حکمت عملی کامیاب رہی:روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کےمقابلے میں ریکارڈ اضافہ

    پیوٹن کی حکمت عملی کامیاب رہی:روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کےمقابلے میں ریکارڈ اضافہ

    ماسکو:روسی صدرامریکی سازشوں کے مقابلے میں ڈٹ کرکھڑے ہوگئے،اطلاعات ہیں کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی زبردست حکمت عملی سے روس کی کرنسی روبل کی قیمت میں یورو اور ڈالر کے مقابلے میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔

    درحقیقت روبل کی قیمت میں یہ 5 سال کے دوران ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے اور ایسا یورپی کمپنیوں کی جانب سے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے سے ہوا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یکم اپریل سے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیرملکی کمپنیوں نے ادائیگیاں نہیں کیں تو معاہدے روک دیے جائیں گے۔

    20 مئی کو روبل کی قیمت میں یورو کے مقابلے میں 9 فیصد جبکہ ڈالر کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ہوا ، جس کے بعد روسی کرنسی کو 2022 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔اب ایک یورو کی قیمت 61.10 روبل ہوگئی ہے اور یہ سطح جون 2015 میں دیکھی گئی تھی جبکہ ایک ڈالر 59.10 روبل کا ہوگیا ۔

    2022 کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی اس وقت جب روس کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے ۔روس نے 19 مئی کو کہا تھا کہ اس کی گیس کمپنی گیس پروم کے 54 صارفین نے گیس پروم بینک میں اکاؤنٹس کھولے ہیں اور یورپین کمپنیوں کی جانب سے گیس سپلائی کے لیے ادائیگیوں کو بروقت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    روبل پر حکومتی کنٹرول، درآمدات میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے روبل کی قیمت میں یوکرین کے حملے بعد سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں جرمنی اور اٹلی نے اپنی کمپنیوں کو روسی گیس کی ادائیگی کے لیے روبل اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی تھی۔جرمنی اور اٹلی نے برسلز سے مشاورت کے بعد اہم تجارتی فیصلہ کیا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کی کمپنیوں کو روسی گیس کی ادائیگی کے لیے روبل اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    31 مارچ 2022 کو روبل میں ادائیگیوں کے احکامات جاری کرتے ہوئے روسی صدر نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ امریکا دوسروں کے خرچے پر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گا اور عالمی عدم استحکام سے منافع کمائےگا۔

    پیوٹن نے کہا کہ روس کے خلاف معاشی جنگ سالوں قبل شروع ہوگئی تھی، روس کے خلاف پابندیوں کا مقصد اس کی ترقی کو نقصان پہنچانا ہے، مغربی پابندیاں پہلے سے تیارکی گئی تھیں اور اب مغرب پابندیوں کی نئی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرےگا۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک روس پر معاشی پابندیوں کا اعلان کر چکے ہیں مگر روس سے گیس کی خریداری میں کوئی کمی نہیں۔گیس پروم کے 50 سے زیادہ بین الاقوامی خریداری میں سے متعدد پہلے ہی روبل اکاؤنٹس کھلو اچکے ہیں ۔

  • میں نفرت، تقسیم اور پولرائزیشن کی سیاست کیخلاف ہوں:بلاول بھٹوکا امریکی خبر ایجنسی کوانٹرویو

    میں نفرت، تقسیم اور پولرائزیشن کی سیاست کیخلاف ہوں:بلاول بھٹوکا امریکی خبر ایجنسی کوانٹرویو

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات مثبت، نتیجہ خیز اور حوصلہ افزا رہی جبکہ میں نفرت، تقسیم اور پولرائزیشن کی سیاست کے خلاف ہوں۔

    دورہ چین پر روانگی سے قبل امریکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں بلاول کا کہنا تھاکہ ہم سمجھتے ہیں پاکستان کو ہرسطح پرامریکا سے روابط جاری رکھنا چاہیے اور امریکا و پاکستان کو افغانستان پر ماضی کی کشیدگی سے آگے بڑھنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھاکہ وقت آگیا ہےکہ آگےبڑھ کروسیع تر،گہرے اورزیادہ بامعنی تعلقات بنائیں، افغانستان کے انسانی بحران اورتباہ حال معیشت سے فوری طورپر نمٹنے کی ضرورت ہے۔

    وزیرخارجہ کا کہنا تھاکہ افغان معیشت کی مکمل تباہی افغانوں، پاکستان اورعالمی برادری کیلئے تباہی ہوگی، افغان انسانی معاشی بحران میں کمی سے ہی خواتین کے حقوق لیے جا سکتے ہیں، افغان انسانی معاشی بحران میں کمی سے دہشتگردی کیخلاف کامیابی کے امکان زیادہ ہونگے۔

    انہوں نے کہا کہ میں خاص طور پر نفرت، تقسیم اور پولرائزیشن کی سیاست کا مخالف ہوں، ہمیں یقین ہے کہ دنیا پاکستان اور بھارت دونوں کیلئے کافی بڑی ہے۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ والدہ بینظیربھٹو، نانا ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کی اہم شخصیت ہیں، انکے نامکمل مشن کا حصول مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے، امید کرتا ہوں کہ ہم پاکستانی عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے

  • سابق امریکی صدر کی زبان پھسل گئی ،ویڈیو وائرل

    سابق امریکی صدر کی زبان پھسل گئی ،ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر جارج بش کی زبان پھسل گئی جس کی ویڈیو وائرل ہو گئی

    سابق امریکی صدر جارج بش کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کہنا کچھ چاہتے تھے اور کہہ کچھ گئے، غلطی سے کہا یا جان بوجھ کر؟ تا ہم بعد میں وضاحت دے دی، غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر جارج بش ٹیکساس میں تقریر کے دوران روسی صدر پیوٹن پر تنقید کرتے ہوئے یوکرین کو عراق کہہ گئے،انہوں نے عراق پر حملے کو ظالمانہ کہا تا ہم بعد میں انہیں احساس ہوا کہ عراق نہیں بلکہ یوکرین کہناتھا، سابق امریکی صدر کو غلطی کا احساس ہوا تو مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب یوکرین ہے

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بدھ کو امریکی ریاست ڈیلاس میں تقریر کے دوران سابق صدر کی زبان لڑکھڑانے سے امریکی لطف اندوز ہوئے لیکن اس سے عراقیوں کا غصہ بڑھے گا امریکہ نے 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت گرا دی تھی 2011 میں امریکہ کے فوجی انخلا تک ایک لاکھ عراقی شہری جبکہ 45 سو امریکی ہلاک ہوئے

    جارج ڈبلیو بش کی زبان پھلسنے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، امریکی کانگریس کے رکن الہان ​​عمر نے ٹویٹر پر کہا کہ سابق صدر کی پھسل جانا ان کا مجرم ضمیر پکڑنا تھا آخر کار اعتراف کر لیا گیا لیکن کوئی بھی اسے اسکا جواب نہیں مانگ سکتا،

    واضح رہے کہ امریکہ نے عراق پر مارچ 2003 میں حملہ کیا تھا اور صدام حسین کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں جو بعد ازاں نہیں مل سکے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد صدر اور وزیر اعظم کو فورا مستعفی ہوجانا چاہئے، احسن اقبال

  • وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات:مشترکہ اعلامیہ جاری

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات:مشترکہ اعلامیہ جاری

    واشنگٹن :وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ کی طرف سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں سکریٹری بلینن کی طرف سے وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کے دورہ امریکہ پرخوشی کااظہارکیا گیا ، اس موقع پر سیکرٹری بلینن کا کہنا تھا کہ آپ سب سے مل کر اچھا لگا۔ خاص طور پر وزیر خارجہ کو دیکھ کر اچھا لگا۔ آمنے سامنے ملنے کا یہ ہمارا پہلا موقع ہے۔ ہم نے فون پر بات کی۔ ہم پاکستان میں نئی ​​حکومت کے ساتھ وزیر خارجہ کے ساتھ کام کرنے پر بہت خوش ہیں۔

    امریکی وزیرخارجہ سیکرٹری بلینن نے کہا کہ یہاں دونوں کا خیرمقدم ہے، یقیناً، خوراک کی حفاظت پر آج تھوڑی دیر بعد وزارتی میٹنگ کی پہلی اور اہم ترین میٹنگ ہے جس میں دونوں وزرائے خارجہ کا شامل ہونا ایک پیش رفت ہے ، امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو دنیا بھر میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک پہلے سے موجود حالت تھی،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت اوربلاول کےساتھ مل کرکام کرنے پرخوشی ہے، بلاول سے فوڈ سکیورٹی کے مسئلے پر بات ہوگی، یہ اہم چیلنج ہےجسے پوری دنیاکو سامنا ہے۔

    لہٰذا اکٹھے ہو کر پاکستان کی شرکت پر شکر گزار ہوں کہ ہم خوراک کی عدم تحفظ کے مسائل کو حل کرنے، دنیا بھر میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن اس سے آگے، یہ ہمارے لیے بہت سے مسائل کے بارے میں بات کرنے کا ایک اہم موقع ہے جہاں سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم اپنے کام کو امریکہ اور پاکستان کے درمیان اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ یقیناً علاقائی سلامتی پر توجہ دیں۔ اور پاکستان اب G77 کی سربراہی میں ہے اور امریکہ G77 کے ساتھ ہمارے اپنے تعلقات اور بات چیت اور رابطے کو مضبوط بنانے کا منتظر ہے۔ میں اس بارے میں وزیر خارجہ سے بات کرنے کا بہت منتظر ہوں۔

    وزیر خارجہ زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ میں یہاں آنا بہت خوشی کی بات ہے، اور جہاں میں عالمی غذائی تحفظ سے متعلق واقعات کے اس سلسلے میں شامل ہونے کا منتظر ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی واقعات نے واقعتاً صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے، اور پاکستان جیسے ممالک کو پہلے ہی غذائی تحفظ، پانی کی حفاظت، توانائی کے عدم تحفظ کے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے پڑوس میں موسمیاتی تبدیلی سے لے کر مسائل تک کے بہت سے مسائل ہیں۔ لہٰذا یہ خاص اقدام انتہائی خوش آئند اور اہم ہے۔

     

    میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی مصروفیت کا بھی منتظر ہوں، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے اور امریکی سرمایہ کاروں، پاکستانی سرمایہ کاروں، پاکستانی تاجروں اور امریکیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے اپنے اور آپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ مل کر کام کرنا اور میں واقعی ان دونوں مسائل پر آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔

  • امریکا اپنی ہی لگائی آگ میں خود بھی جلنے لگا

    امریکا اپنی ہی لگائی آگ میں خود بھی جلنے لگا

    واشنگٹن :امریکا ان دنوں تشدد، خودکشی اور قتل جیسے واقعات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قتل کے اکثر واقعات میں امریکیوں نے آسانی سے چلنے والی سیمی آٹومیٹک اسالٹ رائفلیں استعمال کیں جو انہیں مارکیٹ سے انتہائی کم قیمت پر اور با آسانی میسر آئیں۔

    امریکی محکمہ انصاف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں 2000ء میں سالانہ 39 لاکھ کمرشل استعمال کی بندوقیں تیار ہوتی تھیں جن کی تعداد 20 برسوں میں بڑھ کر ایک کروڑ تیرہ لاکھ تک پہنچ گئی۔ صرف 2020ء میں ساڑھے 55 لاکھ پستول اور تقریباً 10 لاکھ ریوالور تیار کیے گئے۔

    رپورٹ کے مطابق 2000ء کے بعد امریکا کی کمرشل مارکیٹ کے لیے 13 کروڑ 90 لاکھ بندوقیں تیار کی گئیں جبکہ اسی عرصے میں 71 ملین بندوقیں درآمد بھی کی گئیں۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل لیزا موناکو کا کہنا ہے کہ امریکا میں تشدد کی لہر میں حالیہ اضافے کو صرف اسی صورت میں روکا جا سکتا ہے جب دستیاب معلومات کی بنیاد پر مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے رپورٹ کو بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ انصاف تمام ضروری ڈیٹا اکٹھا کرے گا جو تشدد کے اس قسم کے واقعات کا محرک بنتا ہے۔

    خیال رہے کہ 14 مئی بروز ہفتہ امریکی ریاست نیویارک کے شہر بفلو میں 18 سالہ پیٹن جینڈرون نامی نوجوان نے ایک سپرمارکیٹ میں فائرنگ کرکے 10 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے اگلے ہی روز اتوار کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک گرجا گھر میں ایک حملہ آور نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا۔

    امریکی سنٹرز آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے گزشتہ ہفتے بتایا کہ امریکا میں 2020ء میں اسلحے کے ذریعے قتل کے واقعات میں بڑا اضافہ دیکھا گیا۔ 2020ء میں قتل کے ایسے 19350 واقعات پیش آئے جو 2019ء کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ تھے۔ 2020ء میں اسلحے کے ذریعے خودکشی کے 24245 واقعات پیش آئے جو 2019ء کی نسبت ڈیڑھ فیصد زیادہ تھے۔

    محکمہ انصاف کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میں حکام نے 19244 ہتھیار ضبط کیے جبکہ گزشتہ پانچ برسوں میں صرف 1758 ہتھیار قبضے میں لیے گئے تھے۔