Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • بلاول بھٹوکا بحثیت وزیر خارجہ پہلا دورہ، 18 مئی کو امریکہ  روانہ ہوں گے

    بلاول بھٹوکا بحثیت وزیر خارجہ پہلا دورہ، 18 مئی کو امریکہ روانہ ہوں گے

    اسلام آباد: وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری دو روزہ دورے پر 18 مئی کو امریکہ روانہ ہوں گے وزیر خارجہ اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن کی دعوت پر یہ دورہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان دفترخارجہ کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بحیثیت وزیر خارجہ اپنے پہلے دورہ امریکہ میں 18 مئی کو منعقد ہونے والے گلوبل فوڈ سیکیورٹی کال ٹو ایکشن پر منعقدہ وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے-

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو 19 مئی کو عالمی امن اور سلامتی کی بحالی پر منعقدہ سلامتی کونسل کی بحث میں بھی شرکت کریں گے وزیر خارجہ منعقدہ اجلاسوں میں پاکستان کے نقطہ نظر اور پالیسی ترجیحات کو اجاگر کریں گے۔

    ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو معاشی ایمرجنسی لگانے کی تجویز دے دی

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق وزیر خارجہ امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے بھی ملاقات کریں گے، جس کے بعد بلاول بھٹو 21 مئی کو چین جائیں گے،جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کریں گے، وہاں سے بلاول بھٹو 23 مئی کو سوئٹزرلینڈ جائیں گے جہاں وہ ڈیوس میں ورلڈاکنامک فورم میں شریک ہوں گے۔

    ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی اور نفرت انگیز مواد نشر کرنے پر پیمرا کا نوٹس

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے پر امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے فون پر بلاول بھٹو کو مبارکباد دیتے ہوئے منعقد ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے ٹیلی فونک بات چیت میں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

    سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم  سے اسلام آباد میں جرمنی کے سفیر کی ملاقات

  • جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    جرمن چانسلر نے روسی مؤقف کو پاگل پن کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی اگرپاگل پن نہ کہیں تو کیا کہیں‌،ادھراطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ یوکرینی جنگ کے حوالے سے روسی مؤقف میں کوئی لچک دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ادھر روس نے خبردار کر دیا ہے کہ اگر نیٹو روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار نصب کرے گا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز نے یوکرین جنگ کو’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ماہ گزرنے کے بعد بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔

    جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو فورسز پیچھے نہیں ہٹی ہیں بلکہ مشرقی سرحدوں پر واقع اتحادی ممالک میں اس کی توجہ زیادہ ہو گئی ہے۔ ان کے بقول یوکرین جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد میں ایک نئی توانائی آئی ہے۔

    اپنے تازہ انٹرویو میں شولس کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین جنگ میں روسی افواج کو ہونے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سوویت یونین اور افغانستان کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں اسے اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا روس کو ان گیارہ مہینوں میں ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب، مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ برلن میں ایک ملاقات کر رہے ہیں، جس میں وہ یوکرین جنگ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اختتام ہفتہ پر ہونے والی ملاقات میں اس جنگ کی حکمت عملی کے علاوہ فن لینڈ اور سویڈن کے اس عسکری اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔

    تاہم روس نے بالخصوص ہمسایہ ملک فن لینڈ کے اس اتحاد کا ممبر بننے کی خواہش پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

    روس نے خبردار کیا ہے کہ روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار لانے کے نتیجے میں ماسکو حکومت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی۔ روسی نائب وزیر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سویڈن اور فن لینڈ کے خلاف روس کا کوئی مخالفانہ رویہ نہیں ہے اور یوں اس میں کوئی منطق نظر نہیں آتا کہ یہ ممالک نیٹو کی رکنیت اختیار کریں۔

    یاد رہے، روس کا کہنا ہے کہ اس کی سرحدوں کے قریب نیٹو فورسز کی تعیناتی اس کی قومی سلامتی کے منافی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یورپ کی مشرقی سرحدوں کی طرف نیٹو کی توسیع برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • امریکا میں لڑائی جھگڑے اورقتل وغارت عروج پر:ٹارگٹڈ فائرنگ سے10سیاہ فام شہری ہلاک

    امریکا میں لڑائی جھگڑے اورقتل وغارت عروج پر:ٹارگٹڈ فائرنگ سے10سیاہ فام شہری ہلاک

    نیویارک: امریکی ریاست نیویارک میں سفید فام حملہ آور کی ٹارگٹڈ فائرنگ سے 10 سیاہ فام شہری ہلاک ہو گئے، واقعے میں 3 شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ بفیلو شہر میں پیش آیا جہاں فوجی یونیفارم پہنے مسلح شخص نے سپر مارکیٹ میں گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، حملہ آور نے 13 افراد کو گولیاں ماریں جن میں 11 سیاہ فام شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق ملزم کی عمر صرف 18 سال ہے اور وہ نسلی تعصب سے متاثر ہے، ملزم سے نفرت انگیز جرائم کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے، حملہ آور نے لوگوں پر فائرنگ کے مناظر کو سوشل میڈیا پر لائیو دکھایا۔

    ادھر چند دن پہلے مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سینا سے متصل نہرسویز زون میں دہشتگردی کے حملے میں 11 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مصری فوج نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ فوجیوں نے انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کا مرکز علاقے میں ان کے دہشت گردی کے حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ خود اس میں کام آگئے ہیں۔

    مصری فوج اسرائیل اور غزہ کی سرحد کے ساتھ واقع سیناء اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ایک طویل عرصے داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف نبردآزما ہے۔اس مہم میں مصری فوج کوگذشتہ برسوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ نہرسویز کے سیناء میں واقع مشرقی کنارے کے علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔سکیورٹی فورسزاب دہشت گردوں کا پیچھا کررہی ہیں اورانھیں سیناء کے ایک الگ تھلگ علاقے میں محصور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

    مصر کو جزیرہ نما سینا میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مسلح جنگجوؤں کی بغاوت کاسامنا ہے۔2013 میں سابق صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد داعش سے وابستہ مقامی جنگجوؤں نے اپنی تخریبی سرگرمیاں اور سکیورٹی فورسز پر حملے تیزکردیے تھے۔ان کا قلع قمع کرنے کے لیے مصری فوج نے کئی ایک کارروائیاں کی ہیں۔فروری 2018 میں فوج اور پولیس نے شمالی سیناء میں صدر عبدالفتاح السیسی کے حکم پرعسکریت پسندوں کے خلاف ایک وسیع کارروائی شروع کی تھی۔

    مصری حکومت کے فراہم کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان کارروائیوں کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ مشتبہ عسکریت پسند اور درجنوں سکیورٹی اہلکارہلاک ہو چکے ہیں۔

  • پاک امریکا تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پرہی مضبوط ہوسکتے ہیں:احسن اقبال

    پاک امریکا تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پرہی مضبوط ہوسکتے ہیں:احسن اقبال

    اسلام آباد:پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر ہیں ،اس حوالے سےگفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک امریکا تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پرہی مضبوط ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال سے امریکی ناظم الامورانجیلا ایگلرکی الوداعی ملاقات ہوئی ہے۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اقتصادی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی جامعات کا ترقی کے شعبے میں کردارانتہائی اہم ہے۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ امریکی جامعات میں پاک امریکا نالج کوریڈور شروع کیا ہے، پاکستانی طالب علموں کے لئے امریکی ویزوں کی سہولت بڑھنی چاہیے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پرہی مضبوط ہوسکتے ہیں، ہماری ترجیح ٹیکنالوجی کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری حاصل کرنا ہے۔

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان کی ہونہارافرادی قوت کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔اس موقع پر امریکی ناظم الامورانجیلا ایگلر نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مزید تعاون کا خیرمقدم کریں گے۔

  • روسی گيس کی اچانک بندش:یورپ میں مندی کا سبب بنے گی:رپورٹ

    روسی گيس کی اچانک بندش:یورپ میں مندی کا سبب بنے گی:رپورٹ

    پیرس :يورپی بينک برائے تعمیر نو و ترقیات (يورپی بينک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈيولپمنٹ) نے آج بروز منگل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں روس کی جانب سے کسی ممکنہ گیس برآمدات کی بندش کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    بینک نے جاری کردہ اپنی رپورٹ ميں خبردار کيا ہے کہ اگر روس نے گيس کی برآمدات اچانک روک دیں تو اس اقدام کی وجہ سے يورپ، وسطی ايشيا اور شمالی افريقا کے کئی ممالک کی معيشتيں کورونا کی عالمی وبا کے دور جيسی ہو سکتی ہيں۔

    بينک کے مطابق ايسے کسی ممکنہ روسی اقدام سے ان ممالک کی مجموعی قومی پيداوار میں رواں سال دو اعشاريہ تين فيصد اور آئندہ برس دو فيصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ يورپی بينک برائے تعمیر نو و ترقیات (يورپی بينک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈيولپمنٹ) کے آپريشنز چاليس ممالک تک پھيلے ہوئے ہيں۔ بینک کے مطابق پچھلے سال بيشتر ملکوں ميں 6.7 کی اقتصادی نمو ديکھی گئی۔

    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن امریکا اپنے اتحادیوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے صلاح و مشورے کر رہا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن کے نواح میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے خاصے فکر مند ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے پاس یوکرین کی جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ صدر پیوٹن کے لیے کوئی راستہ نکالنے کے مقصد سے امریکی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں,

  • دنیا کی90بندرگاہوں پرچین کا قبضہ

    دنیا کی90بندرگاہوں پرچین کا قبضہ

    نئی دہلی : دنیا کی 90 بندرگاہوں پر چین کا قبضہ:بھارت اوردیگرمخالفین پریشان،اطلاعات کے مطابق چین کے مخالف ملکو‌ں پر اس وقت ایک خوف طاری ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک اب چین کی بالادستی قبول کرنے کےلیے تیار بھی نہیں اور اس بالادستی کوچیلنج کرنے کےلیے خفیہ منصوبے بھی تشکیل پارہےہیں‌،

    اس حوالے سے چین کے مخالف ملکوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس وقت چین ایشیا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں تیزی سے اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے ملک سولومن میں چینی فوجی اڈے کے قیام کی حالیہ خبروں نے امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تناؤ بڑھا دیا ہے۔ جزائر سولومن سے گواڈیلوپ کی ایک نہر بحر الکاہل سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا کے راستے نیوزی لینڈ تک جاتی ہے، اس لیے امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا کو جوہری آبدوزیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا، آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے پیر کو کہا کہ وہ جنوب مغربی بحرالکاہل کے علاقے میں چین کے عزائم سے آگاہ ہیں اور چین کے خطرناک عزائم سے بھی آگاہ ہیں۔

    چین مخالف قوتوں کا کہنا ہے کہ درحقیقت چین اپنے عالمی مفادات کی آڑ میں ایشیا اور امریکی فوجی تسلط کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ دنیا پر حکمرانی کرنے کے ارادے کی وجہ سے چین نے دنیا کی 90 سے زائد بندرگاہوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ جہازوں کی رہائش اور تجارت کے لیے انھیں استعمال کرتا ہے لیکن چین انھیں کسی بھی وقت فوجی اڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ سولومن چین معاہدے کے بعد آسٹریلیا کو خدشہ ہے کہ چین نے جزائر سولومن پر فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جزائر سولومن کی آبادی 6.87 ملین ہے۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس میں افریقہ کے جبوتی میںچین کا ایک اعلان کردہ فوجی اڈہ ہے۔ اسے 2017 میں بحریہ کی سہولت کے طور پر بنایا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ جزائر سولومن میں امن و استحکام اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ چین اپنے عالمی مفادات کے نام پر ایشیا میں امریکی فوجی تسلط کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔

    ارجنٹائن سے سری لنکا تک چین کے یہ ہیں اہم فوجی اڈے ہیں ، جن میں سے چند بڑے یہ ہیں پیٹاگونیا، ارجنٹائن میں فوجی اڈہ افریقہ میں جبوتی بیسمیانمار میں عظیم کوکو جزیرے پر بحری اڈہگورن بدخشاں، تاجکستان میں نیول بیس مالدیپ، میانمار اور کیاوپو بندرگاہوں پر قبضہ کر لیا گیا۔جزائر انڈمان اور نکوبار کے قریب کوکو جزیرہسری لنکا میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ 99 سال کے لیے لیز پر ہے پاکستان کی گوادر بندرگاہ ایک طرح سے چین کی ملکیت ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے آسٹریلیا کے ساحل سے 2000 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر چینی بحری اڈہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم موریسن نے کہا کہ ان کی حکومت بندرگاہ کی فیریز، سب میرین آپٹیکل کیبلز، جہاز رانی اور جہاز کی مرمت سے متعلق مبینہ معاہدے کے مسودے سے حیران نہیں ہے۔

    انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بحرالکاہل میں چینی حکومت کے عزائم کیا ہیں، چاہے وہ ایسی سہولیات کے حوالے سے ہو یا بحری اڈوں یا بحرالکاہل میں فوجی موجودگی کے حوالے سے”۔موریسن نے کہا، "بحرالکاہل کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح، میں بھی ایسے انتظامات میں چینی حکومت کی مداخلت اور دخل اندازی پر گہری تشویش میں ہوں اور اس کا جنوب مغربی بحرالکاہل کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے کیا مطلب ہو سکتا ہے۔

    قبل ازیں آسٹریلوی اخبار نے جزائر سولومن میں گودی، گھاٹ اور پانی کے اندر کیبل بچھانے کے چین کے منصوبوں کی خبر شائع کی تھی۔ آسٹریلوی اخبار نے چین اور جزائر سولومن کے درمیان اس سال کے سمندری تعاون کے معاہدے کو شائع کیا۔ اخبار نے چار صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کی تھی۔ چین اور سولومن نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک علیحدہ سیکورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

  • امریکا میں ہیپاٹائٹس کا پراسرار حملہ،5 بچے ہلاک،100 سے زائد بیمار

    امریکا میں ہیپاٹائٹس کا پراسرار حملہ،5 بچے ہلاک،100 سے زائد بیمار

    امریکا میں جگر کی پراسرار بیماری کے پھیلاؤ نے طبی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا ہے جس نے اب تک پانچ بچوں کی جان لے لی اور سو سے زائد کو شدید بیمار کر رکھا ہے۔ زیادہ تر بچے ایک سے تین سال کی عمر کے ہیں۔

    امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق گزشتہ سات ماہ کے دوران 25 ریاستوں میں اس بیماری کے 109 کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے آٹھ بچوں کی جگر کی پیوندکاری کی گئی۔سی ڈی سی میں متعدی بیماریوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جے بٹلر نے گزشتہ ہفتے ایک کانفرنس کال میں ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ جگر کی بیماری کے کیسز پر نظر رکھیں۔

    ڈاکٹر بٹلر کے مطابق نصف سے زائد متاثرہ بچوں کو اڈینو وائرس سے بھی انفیکشن ہوا جو کامن کولڈ کی وجہ بنتا ہے تاہم بیماری کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    اس بیماری کا حالیہ پھیلاؤ سب سے پہلے نومبر میں الاباما میں سامنے آیا جب ریاستی طبی اہلکاروں نے نو بچوں میں شدید ہیپاٹائٹس کی تحقیقات شروع کیں تاہم ٹیسٹ کرنے پر ہیپاٹائٹس وائرس کی بجائے اڈینو وائرس پایا گیا۔

    الاباما کے علاوہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، ڈیلاویئر، فلوریڈا، جارجیا، آئیڈاہو، ایلانوئے، انڈیانا، لوزیانا، مشیگن، منیسوٹا، مزوری، شمالی کیرولائنا، شمالی ڈکوٹا، نبراسکا، نیو یارک، اوہائیو، پینسلوانیا، ٹینیسی، ٹیکساس، واشنگٹن اور وسکانسن میں بھی مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ پورٹوریکو میں بھی ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کے 20 ممالک میں 300 کے قریب بچوں میں شدید ہیپاٹائٹس کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔

    برطانیہ میں 163 بچوں میں یہ بیماری پائی گئی ہے اور طبی حکام اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کہیں اس کا تعلق پالتو کتوں سے تو نہیں ہے۔ یو کے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق 92 میں سے 64 کیسز کا رابطہ کتوں سے ہوا تھا تاہم برطانیہ میں اب تک اس بیماری سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔

  • روس کے مقابلےکے لیے امریکہ کی یوکرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان

    روس کے مقابلےکے لیے امریکہ کی یوکرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان

    واشنگن :روس کے مقابلےکے لیے امریکہ کی یوکرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق صدر جو بائیڈن سے توقع ہے کہ جمعے کے روز یا اس ہفتے کے آخر میں یوکرین کے لیے کم از کم 100 ملین ڈالر کے ایک نئے ہتھیاروں کے پیکج پر دستخط کریں گے۔

    24 فروری کو روس کے حملے کے بعد سے امریکہ نے یوکرین کو 3.4 بلین ڈالر مالیت کے ہتھیار بھیجے ہیں جن میں ہووٹزر، طیارہ شکن اسٹنگر سسٹم، ٹینک شکن جیولن میزائل، گولہ بارود اور باڈی آرمر شامل ہیں۔

    عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ تازہ ترین پیکج میں ممکنہ طور پر ہووٹزر جیسے سسٹمز کے لیے مزید جنگی سازوسامان شامل ہوں گے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی تقریباً 184,000 توپ خانے بھیجے ہیں۔

    دو عہدیداروں نے بتایا کہ اعلان اگلے 24 گھنٹوں کے اندر جلد ہی آسکتا ہے۔

    ہتھیاروں کی منتقلی کی نئی قسط صدارتی ڈرا ڈاؤن اتھارٹی میں بقیہ $250 ملین سے آئے گی، جو صدر کو کسی ہنگامی صورت حال کے جواب میں کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکی اسٹاک سے اضافی ہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت دیتا ہے۔

    پچھلے مہینے بائیڈن نے یوکرین کے لیے 33 بلین ڈالر کے امدادی پیکج کی تجویز پیش کی تھی، جس میں 20 بلین ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد بھی شامل تھی۔

    ادھریوکرین کے وزیر اعظم ڈینس شمٹ نے جمعرات کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں یوکرین کے لیے امداد سے متعلق ایک بین الاقوامی اجلاس کی صدارت کی، جس میں عطیہ دہندگان نے 6.5 بلین دینے کا وعدہ کیا۔

    اجلاس کا مقصد یوکرین کو فوری مدد فراہم کرنا تھا جو جنگ کے بعد اب بھی ملک کی تعمیر نو کا عمل جاری ہے جس کے لیے منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔

    بعد ازاں پولینڈ کے وزیراعظم ماتوز موراؤک نے مختلف ممالک اور کاروباری اداروں کی جانب سے عطیات کے وعدوں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سویڈن کی وزیر اعظم میگڈالینا اینڈرسن کا کہنا تھا کہ آج توقع سے زیادہ عطیات جمع ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یوکرائن کو روزانہ کی بنیاد پر 12 ہزار ٹن امداد کی ضرورت ہے جب کہ اس وقت صرف 3 ہزار ٹن امداد دستیاب ہے۔

  • بلاول بھٹو زرداری امریکہ کا دورہ کریں گے

    بلاول بھٹو زرداری امریکہ کا دورہ کریں گے

    لاہور:بلاول بھٹو زرداری امریکہ کا دورہ کریں گے,اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری رواں ماہ امریکہ کا دورہ کریں گے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری 12 مئی سے 18 مئی تک امریکہ کا دورہ کریں گے۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ امریکہ کا دورہ امریکی وزیر خارجہ کی دعوت پر کر رہے ہیں، بلاول 12 مئی کو امریکہ میں دوسری عالمی کوویڈ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

     

    سفارتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر خارجہ 18 مئی کو عالمی تحفظ خوراک بین ا لوزراتی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

    سفارتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دورہ امریکہ کے دوران وزیر خارجہ امریکی ہم منصب سمیت متعدد امریکی حکام سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ دورہ امریکہ میں وزیر خارجہ کے ہمراہ وزیر مملکت برائے امورخارجہ حنا ربانی کھر کے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے مجھے فون کیا اور وزارت خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کی مبارک باد دی جبکہ امریکی وزیر خارجہ سے باہمی مفاد پر مبنی وسیع البنیاد تعلقات کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ امریکی وزیرخارجہ سے بات چیت کے دوران امن، ترقی اور سلامتی کے فروغ پر اتفاق کیا گیا، جبکہ امریکی وزیرخارجہ سے گفتگو کے دوران باہمی احترام کے ساتھ آگے کے سفر پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    امریکی وزیر خارجہ کا بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلیفونک رابطہ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ امریکی وزیر خارجہ نے ٹیلیفون کیا ہے، عہدہ سنبھالنے پر انہوں نے مجھے مبارکباد دی جس پر ان کا مشکور ہوں۔

    وزیر خارجہ نے مزید لکھا کہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران باہمی، وسیع البنیاد تعلقات کو مضبوط بنانے، امن، ترقی اور سلامتی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ امریکی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران اتفاق ہوا کہ باہمی احترام کے ساتھ ملکر کام کرنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

    دوسری طرف آصف زرداری نے کہا ہے کہ اپنےحلقہ انتخاب کے عوام کی خدمت ہمیشہ میری اولین ترجیح رہی ہے۔سابق صدر آصف زرداری سے سکرنڈ اور قاضی احمد کے معززین اور پارٹی کارکنان کی ملاقات ہوئی ہے۔

    اس موقع پر آصف زرداری نے کہا کہ اپنےحلقہ انتخاب کے عوام کی خدمت ہمیشہ میری اولین ترجیح رہی ہے، مجھے اور آپ کو دنیا کی کوئی طاقت دور نہیں کرسکتی۔

    سابق صدر آصف زرداری نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ مثبت سیاست کی جبکہ مخالفین نےجیلوں میں ڈالنےکی سیاست کی۔

  • امریکا:مجوزہ اسقاطِ حمل قانون کیخلاف مظاہرے:ہزاروں خواتین سڑکوں پر

    امریکا:مجوزہ اسقاطِ حمل قانون کیخلاف مظاہرے:ہزاروں خواتین سڑکوں پر

    امریکا میں مجوزہ اسقاطِ حمل قانون کا مسودہ منظرعام پر آنے کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر آ گئے۔ خیال رہے کہ امریکا میں چند ماہ بعد کانگریس کے وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔

    صدر جو بائیڈن نے 1973ء کے قانون کی جگہ مجوزہ نئے قانون کو قدامت پسندی قرار دیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے مسودہ قانون افشاء ہونے پر انکوائری کا حکم دے دیا۔

    گزشتہ روز نیو یارک میں ہوئے مظاہرے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اٹلانٹا، فلاڈیلفیا، ڈینوور اور لاس اینجلس سمیت دیگر شہروں میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے جن کا اہتمام خواتین تنظیموں نے کیا تھا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسقاطِ حمل ان کا حق ہے۔ نیو یارک کے مظاہرے میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اُنہیں امید ہے کہ ان مظاہروں کا اثر وسط مدتی انتخابات پر پڑے گا۔

    یہ مجوزہ قانون اسقاط حمل کے 1973ء کے قانون کی جگہ لے گا جس کے تحت ملک بھر میں اسقاط ِ حمل کو جائز اور خواتین کا حق قرار دیا گیا تھا۔

    پیر کے روز ایک میڈیا ادارے پولیٹیکو نے اس قانون پر سپریم کورٹ کی رائے کو افشا کردیا تھا۔ اخبار کے مطابق سپریم کورٹ کی دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ 1973ء کے رو بنام ویڈ کیس میں دیے گئے تاریخی فیصلے کو ختم کر سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مسودہ ججوں کے اس حتمی فیصلے کی نمائندگی نہیں کرتا جس کا اعلان جون میں کیا جائے گا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ اس مسودے کی اشاعت سنگین اعتماد شکنی کے مترادف ہے جس کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر یہ مسودہ درست ہے تو یہ ایک قدامت پسندانہ فیصلہ ہے اور اس سے دیگر حقوق کے بارے میں بھی سوال اٹھے گا جس میں ہم جنس پرست شادیاں شامل ہیں جنہیں عدالت نے 2015ء میں تسلیم کیا تھا۔