Baaghi TV

Tag: امریکہ

  • امریکہ اوربھارت نےشہبازشریف سے،پروفیسرحافظ محمدسعید ISI اورکشمیریوں کیخلاف مدد مانگ لی

    امریکہ اوربھارت نےشہبازشریف سے،پروفیسرحافظ محمدسعید ISI اورکشمیریوں کیخلاف مدد مانگ لی

    نئی دہلی : پٹھان کوٹ واقعہ:امریکہ اوربھارت نےشہبازشریف سے،کالعدم جماعت الدعوۃ پاکستان ، پاکستان کی سلامتی کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اورکشمیریوں کے خلاف مدد مانگ لی،اس سلسلے میں پچھلے 24 گھنٹوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور یہ بھی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اس پیغام سے پہلے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور سی آئی اے کے سربراہان کے درمیان بھی مشاورت ہوئی ہے ،

    ذرائع کے مطابق امریکہ اوربھارت نے بمبئی حملوں کے مبینہ ماسٹرمائینڈ یعنی جماعت الدعوہ کے بانی سربراہ پروفیسرحافظ محمد سعید، کشمیری جماعتوں اور کشمیرکے مسئلہ پرحمایت کرنے والی قوتوں کواس حملے کا ذمہ دارٹھہراتے ہوئے اورمبینہ دہشت گردی کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ "ناقابل واپسی اقدام” کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

    دونوں ممالک کی طرف سے ڈو مور کا یہ مطالبہ وزارتی ڈائیلاگ” کے اختتام پر ان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا جس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر جو بائیڈن کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ورچوئل میٹنگ ہوئی۔یہ بھی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی اور جوبائینڈن کےدرمیان ہونے والی بات چیت میں اس بات پراتفاق کیا گیا اوراس امید کا اظہارکیا گیا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جس کے وزیراعظم شہبازشریف ہیں وہ ضرور اس مطالبے پرعمل درآمد کرکے دکھائیں گے

    ذرائع کے مطابق پاکستان کو ڈومور کہنے کے حوالے سے 11 اپریل کو واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت کے شرکاء میں ریاستہائے متحدہ سے سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن اور سکریٹری دفاع لائیڈ جے آسٹن III اور ہندوستان سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر شامل تھے۔

    مشترکہ بیان میں بھارت اور امریکہ کے "وزراء نے دہشت گرد پراکسیوں اور سرحد پار دہشت گردی کے ہر قسم کے استعمال کی سختی سے مذمت کی اور 26/11 کے ممبئی حملے، اور پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔”

    امریکہ اوربھارت کے وزرا نے اپنے مشترکہ بیان میں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری، پائیدار اور ناقابل واپسی کارروائی کرے کہ اس کے زیر کنٹرول کوئی بھی علاقہ دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔”

    وزراء نے دہشت گرد گروپوں اور افراد کے خلاف پابندیوں اور عہدوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ جاری رکھنے، پرتشدد بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے، دہشت گردی کے مقاصد کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال اور دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت کا عزم کیا۔

    ذمہ دار ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اورامریکہ کی طرف سے شہبازشریف سے یہ بھی شکوہ کیا گیا ہے کہ پچھلی حکومت جس کے سربراہ عمران خان تھے وہ اندر سے خود کٹراسلام پسند تھے اوران کی ہمدردیاں ان قوتوں کے ساتھ تھیں جوبھارت اورامریکہ کومطلوب ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ "وزراء نے FATF کی سفارشات کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ پر بین الاقوامی معیارات کو برقرار رکھنے اور تمام ممالک کی طرف سے دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کی اہمیت پر بھی زور دیا،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت اور امریکہ نے اس مطالبے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی موجودہ حکومت کویہ یقین دہانی کروائی ہےکہ امریکہ اپنی حمایت جاری رکھے گا

    یاد رہے بھارتی حکومت نے پٹھان کوٹ واقعہ مرکزی منصوبہ ساز ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ا مسعود اظہر کو اس واقعے میں باقاعدہ طور پر ملزم نامزد کرتھا ۔ پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے میں سات بھارتی فوجی مارے گئے تھے اور بھارتی حکومت نے الزام عائد کیاتھا کہ بظاہر صرف عسکریت پسندوں کی طرف سے کیا جانے والا یہ حملہ اسلام آباد حکومت کی مبینہ مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔

    اس کے بعد بھارتی دفاعی ماہرین ، حکومتی اہلکار اوربھارتی میڈیا نے پٹھان کوٹ واقعہ کا الزامات پاکستان کی سلامتی کیے خفیہ ادارے آئی ایس آئی ، جماعتہ الدعوۃ اورکشمیری تنظیموں پرلگائے تھے ، جن کو بنیاد بنا کرامریکہ اوربھارت نے پاکستان کی موجودہ حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • شکریہ سازشیو :قوم کوپتہ چل گیا کہ پاکستان میں فیصلے کس کی مرضی سے ہوتے ہیں:بیرسٹرسیف

    شکریہ سازشیو :قوم کوپتہ چل گیا کہ پاکستان میں فیصلے کس کی مرضی سے ہوتے ہیں:بیرسٹرسیف

    پشاور: شکریہ سازشیو :قوم کوپتہ چل گیا کہ پاکستان میں فیصلے کس کی مرضی سے ہوتے ہیں:اطلاعات کے مطابق بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سازش میں اپنے لوگ شریک ہوئے۔

    بیرسٹرسیف نے کامران بنگش اور تیمورجھگڑا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل عمران خان تشریف لا رہے ہیں، بین الاقوامی سازش میں اپنے لوگ شریک ہوئے۔

    اس موقع پر تیمورجھگڑا نے کہا کہ پورے پشاور سے درخواست ہے کہ کل وہ نکلیں، رابطہ مہم کا آغاز پشاور سے ہو رہا ہے، کے پی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا۔

    دوسری جانب کامران بنگش نے کہا کہ حکومت کو بیرونی سازش کے تحت ہٹایا گیا ہے، کے پی میں صرف ایک غدار نکلا، کل عمران خان کے استقبال کے لیے پورا پشاور نکل آئے گا،

    انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کے اداروں کو کمزور نہیں کرنا، پاک فوج کا احترام ہم پر فرض ہے، ہمارا جھگڑا جن کے ساتھ ہے وہ سب کو پتا ہے۔

    عمران خان نے کہا ہے کہ قوم اپنی آزادی کی حفاظت خود کرتی ہے۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے پشاور جلسے کے لیے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اپنی قوم کی حفاظت، اپنی آزادی کی حفاظت ، قوم خود کرتی ہے، کوئی اور نہیں کرتا۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی باہرسے قوت قوم کی حفاطت نہیں کرسکتی، قوم اپنی آزادی کی حفاظت کرتی ہے ، اس کے لیے میں آپ کے پاس آرہا ہوں۔

     

  • پہلے مودی نوازاب امریکہ نواز:لندن میں نوازشریف کی رہائشگاہ کے باہرپاکستانیوں کا احتجاج:شدید نعرے بازی

    پہلے مودی نوازاب امریکہ نواز:لندن میں نوازشریف کی رہائشگاہ کے باہرپاکستانیوں کا احتجاج:شدید نعرے بازی

    لندن:پہلے مودی نوازاب امریکہ نواز:لندن میں نوازشریف کی رہائشگاہ کے باہرپاکستانیوں کا احتجاج:شدید نعرے بازی ،اطلاعات کے مطابق لندن کے علاقے ایون فیلڈ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائشگاہ کے سامنے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکن آمنے سامنے آگئے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے خلاف لندن میں پی ٹی آئی کارکنان نے ایون فیلڈ کے سامنے احتجاج کیا، اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ کے سامنے مارچ کیا، اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنان نے’ امپورٹڈ گورنمنٹ نامنظور’ کے نعرے لگائے۔

    ٔاس موقع پرناراض پاکستانیوں نے "پہلے مودی نواز اب امریکہ نواز”کے نعرے لگائے

    تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی خبر ملتے ہی مسلم لیگ ن کے کارکن بھی بڑی تعداد میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے ،پارک لین کے باہر لیگی کارکنوں نے جمع ہو کر نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے۔

    اس دوران لیگی حامیوں اور پی ٹی آئی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا، کسی بھی صورتحا ل سے نمٹنے کیلئے لندن پولیس بھی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر پہنچ گئی۔

    دوسری جانب اوورسیز پاکستانی عمران خان کی حمایت میں نکلنے لگے ، آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عمران خان کے حق میں احتجاج کیا گیا۔

     

    مظاہرے میں شریک اوورسیز پاکستانیوں نے ‘بھکاری حکمران بن گئے’ جیسی تحریروں پر مشتمل پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، بینرز پر بیرونی سازش نامنظور اور ہم عمران خان کے ساتھ ہیں کے نعرے بھی درج تھے۔

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد 174 ووٹوں سے کامیاب ہوگئی ہے۔

  • قوموں پرمشکل وقت آتا ہےمگرگھبرانا نہیں:اللہ ہمارے ساتھ ہے:وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام

    قوموں پرمشکل وقت آتا ہےمگرگھبرانا نہیں:اللہ ہمارے ساتھ ہے:وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام

    اسلام آباد: قوموں پرمشکل وقت آتا ہےمگرگھبرانا نہیں:اللہ ہمارے ساتھ ہے:وزیراعظم عمران خان کا قوم کے نام اہم پیغام ،اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر قوم کے نام اہم پیغام جاری کر دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے کل وفاقی کابینہ اجلاس طلب کرلیا ہے، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی کل طلب کرلیا ہے۔

     

    وزیر اعظم نے بتایا کہ کل شام قوم سے خطاب بھی کروں گا، قوم کے لیے پیغام ہےکہ میں پاکستان کے لیے آخری گیند تک لڑتا رہوں گا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نگراں حکومت کے قیام کے لیے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سےپہلےکی صورتحال بحال کر دی۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    عدالت نے تحریک عدم اعتماد پر 9 اپریل ہفتے کی صبح بجے 10 بجے ووٹنگ کرانے کا حکم دیا ہے، قومی اسمبلی تحلیل ہونےکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ججز نےآپس میں تفصیلی مشاورت کی ہے رولنگ سےمتعلق تفصیل بعدمیں دی جائے گی۔

  • پاکستانی بیرونی مداخلت قبول نہیں‌ کریں گے:یہی وقت احیا:ورنہ سزانسلیں بُھگتیں گی:وزیراعظم

    پاکستانی بیرونی مداخلت قبول نہیں‌ کریں گے:یہی وقت احیا:ورنہ سزانسلیں بُھگتیں گی:وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کہتاہوں کہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، بیرونی سازش کے خلاف سب کو احتجاج کرناچاہیے۔

    نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اس وقت پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے، قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے ہیں، ہمیں درست راستے کا انتخاب کرنا ہے، قوم نے آج فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو کس طرف لے کر جانا ہے، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھائی کےساتھ اور برائی کیخلاف کھڑے ہو، جو معاشرہ اچھائی کا ساتھ دیتا ہے وہ زندہ ہوجاتا ہے۔وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے جس میں اچھے اور برے کی تمیز ختم ہوجائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج بیرونی سازش کے تحت سیاستدانوں کی بکروں کی طرح نیلامی ہورہی ہے، اگر نوجوان چپ بیٹھیں گے تو وہ برائی کا ساتھ دیں گے، نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے مستقبل کیلئے احتجاج کریں ،

    عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کو کہتاہوں کہ خاموش رہنے کا وقت نہیں ہے، سازش کے خلاف سب کو احتجاج کرناچاہیے، نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے باہر آنا پڑے گا، کیا باہر کی قوت 15ارب روپے خرچ کرکے حکومت گرادے گی۔

    اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتمادغیرملکی سازش ہے،ضرور ناکام ہوگی، عوام ہمارے ساتھ ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق مشاورت کی گئی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتمادغیرملکی سازش ہے، ضرور ناکام ہوگی، عوام ہمارے ساتھ ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن عوام سے مسترد شدہ ہے، کے پی کے عوام نے تحریک عدم اعتماد کے خلاف فیصلہ سنادیا، ضمیر بیچنے والے عوام کے سامنے آگئے ہیں۔

  • میں رہوں یانہ رہوں امریکین ٹولےکوقوم پرمسلّط نہیں ہونےدیں گے:اللہ آسانیاں پیدا فرمائیں گے:عمران خان

    میں رہوں یانہ رہوں امریکین ٹولےکوقوم پرمسلّط نہیں ہونےدیں گے:اللہ آسانیاں پیدا فرمائیں گے:عمران خان

    :اسلام آباد:میں رہوں یا نہ رہوں امریکی ایجنٹوں کواقتدارنہیں ملےگا:مجھے اپنےرب کی رحمت پربڑا بھروسہ ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتوار کو بڑا سرپرائز دینگے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں رہوں یا نہ رہوں پاکستانیوں پرامریکی ایجنٹوں کوحکومت نہیں کرنی دی جائے گی اور طئے شدہ بات اصول ہے

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات کرنے والوں میں دنیا نیوز کے سینئر صحافی اجمل جامی اور کامران شاہد بھی شامل تھے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیگل پراسس کو استعمال کیا جا رہا ہے، ہر گیند تک لڑوں گا، اتوار کو بہت انجوائے کریں گے، تحریک عدم اعتماد ایک بہت بڑی بین الاقوامی سازش ہے، میری زندگی کو بالکل خطرہ ہے، اپوزیشن کی جانب سے کردار کشی کے حوالے سے کوئی آڈیو ٹیپ نکالی جاسکتی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے میری کردار کشی بھی کی جا سکتی ہے، اپوزیشن کا ایک ماضی ہے ججز کی بھی مختلف ٹیپ نکالتے رہتے ہیں، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، عدالتیں آزاد ہیں، خیبرپختونخوا کی عوام نے تحریک انصاف پراعتماد کیا۔ اوآئی سی کانفرنس کی وجہ سے لیٹر کو ہولڈ رکھا۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایک بڑا طاقتور ملک دورہ روس پر غصہ ہوگیا، کیا حکومت کو ہٹانے کیلئے کوئی ملک اس طرح دھمکی دے سکتا ہے، اچکنیں سلوانے والے کہتے ہیں امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہیے، ان لوگوں کی وجہ سے ملک اس حال کو پہنچا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں شاید ووٹ کیلئے ریاست مدینہ کی بات کرتا ہوں، ریاست مدینہ کی کامیابی تاریخ کا حصہ ہے، لوگوں کو ریاست مدینہ کا ماڈل ہی سمجھ نہیں آیا، ہم نے سکیورٹی سے متعلق کبھی بات نہیں کی، ہمارے دماغ میں ہمیشہ سکیورٹی کا مطلب فوج تھا، امیر اور غریب میں فرق سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، سکیورٹی ڈائیلاگ ملک کیلئے بہت اہم ہیں، تعلیم اور صحت کے نظام میں فرق پیدا کر دیا گیا، کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، ملک پر اشرافیہ نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی بڑی وجہ مجرموں کو سزائیں نہ ملنا ہے، کرپٹ لوگ غریب ملکوں کا پیسہ باہر لے جاتے ہیں، مخصوص طبقہ غریب عوام کو آگے نہیں بڑھنے دیتا، کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا نے پابندیوں کے باوجود ترقی کی، کرپٹ لوگ پیسہ چوری کر کے امیر ممالک میں رکھتے ہیں، خود مختار خارجہ پالیسی ملک کیلئے ضروری ہے، بہترین خارجہ پالیسی ملکی مفادات کو ترجیح دیتی ہے، ماضی میں افغان جنگ میں شراکت دار رہے، افغان جنگ میں شراکت داری مالی امداد کیلئے تھی یا افغانوں کی مدد کیلئے ؟ روس جانے پر نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، کیا کسی خود مختار آزاد ملک کو ایسی دھمکیاں دی جاسکتی ہیں؟۔

  • روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

    روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

    واشنگٹن : روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر نے کہا ہے کہ آج میں یہ اعلان کرسکتا ہوں کہ دستیاب معلومات کے تحت امریکی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ روسی افواج کے ممبران نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ احتیاط کے ساتھ عوامی اور خفیہ ذرائع سے حاصل معلومات کو جانچنے کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔جیسا کہ ہر مبینہ جرم پر ایک قانونی عدالت جس کا دائرہ کار اس جرم پر ہو وہ حتمی طور پر ذمہ دار ہے کہ مخصوص مقدمات میں صحتِ جرم کا تعین کرے۔

    گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے تبصرہ کرتے ہوئے روسی صدر پوتن کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیانات اعلیٰ سرکاری عہدیدار کو زیب نہیں دیتے جس سے روس اور امریکہ کے تعلقات ختم ہونے کے دہانے پر آگئے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ بلنکن کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے گھر کی عمارتیں، سکول، ہسپتال، اہم تنصیبات، سولین گاڑیوں، خریداری کے مراکزاور ایمبولینسوں کو تباہ کیا ہے جس سے ہزاروں معصوم سولین مارے گئے ہیں یا زخمی ہیں۔انہوں نے روس پر ایسی عمارتوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا جو واضح طور پر شہری عمارتوں کے طور پر پہچانی جا سکتی تھیں۔

    بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ پیوٹن کی افواج نے یہی طرز عمل گروزنی، چیچنیا، الیپو اور شام میں بھی اپنایا تھا جہاں انگوں نے لوگوں کی ہمت توڑنے کے لیے شہروں میں بمباری تیز کر دی تھی۔

    ہیومن رائٹس واچ کے اسلحہ ڈویژن کی سینئر ریسرچر بونی ڈوچرٹی نے گذشتہ ہفتے کانگرس میں اپنا تحریری بیان جمع کروایا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ روس نے کلسٹر بم استعمال کیے ہیں اور وسیع علاقے پر اثر کرنے والے دھماکہ خیز ہتھیار استعمال کیے جن کے یوکرین میں سولین اور سول تعمیرات پر تباہ کن اثرات پڑے ہیں۔

    انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا ہے کہ براہ راست اور دیر پا اثرات کے دستاویزی خاکے دیکھتے ہوئے گنجان آباد علاقوں میں وسیع علاقے پر اثر کرنے والے ہتھیاروں کا استعمال اس پریشانی کو بڑھاوا دیتا ہے کہ ایسے حملے اندھا دھند اور غیر متناسب طور پر کیے گئے جو کہ غیر قانونی تھے۔ وہ افراد جنھوں نے ایسے حملے مجرمانہ نیت سے کیے وہ جنگی جرائم کے ذمہ داری ہیں۔

  • افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ کےگرین سگنلز

    افغانستان میں لڑکیوں کےاسکول نہ کھولےتوتسلیم نہیں کریں گے:امریکہ اوراقوام متحدہ کےگرین سگنلز

    امریکا اور اقوام متحدہ نے افغان طالبان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں عالمی سطح پر شناخت کے حصول اور افغان معیشت کی تعمیر نو کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    طالبان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں بدھ سے ہائی اسکول میں لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھل جائیں گے لیکن بعد میں اپنے فیصلے کو یہ کہہ کر تبدیل کر دیا تھا کہ لڑکیوں کے لیے مناسب یونیفارم کا فیصلہ نہ ہونے تک اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اگر طالبان نے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا تو افغان عوام کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی ترقی کے امکانات اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے طالبان کے عزائم کو گہرا نقصان پہنچے گا۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ طالبان کا فیصلہ نہ صرف خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے، بلکہ یہ افغان خواتین اور لڑکیوں کی زبردست شراکت کے پیش نظر ملک کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

    تاہم اقوام متحدہ میں طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے عالمی برادری کو یقین دلایا کہ یہ تاخیر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے امریکا کے نیشنل پبلک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں لڑکیوں پر پابندی لگانے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف لڑکیوں کے اسکول یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔

    تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے طالبان حکمرانوں کو یاد دلایا کہ تعلیم ایک انسانی حق ہے اور امریکا اسکول کھولنے کے فیصلے کو تبدیل کرنے کے طالبان کے بہانے کو مسترد کرتا ہے انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک بھر میں بہت سی لڑکیوں کی سیکنڈری کلاسوں میں واپسی ہو رہی ہے لیکن انہیں تاحکم ثانی گھر جانے کو کہا گیا ہے۔

     

     

    انٹونی بلنکن کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ہم افغان لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو تعلیم کو افغان معاشرے اور معیشت کی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کرنے کی راہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر شدید افسوس ہے اور انہوں نے طالبان کو یاد دلایا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کا تمام طلبہ، لڑکیوں اور لڑکوں، ان کے والدین اور خاندانوں نے بے صبری سے انتظار کیا ہے۔

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ بار بار وعدوں کے باوجود چھٹی جماعت اور اس کے بعد کی جماعتوں کی لڑکیوں کے لیے اسکول دوبارہ کھولنے میں افغان حکام کی ناکامی گہری مایوسی کو جنم دیتی ہے اور افغانستان کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ انہوں نے طالبان حکام سے اپیل کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے تمام طلب کے لیے اسکول کھول دیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے اپنے حالیہ دورہ کابل کے حوالہ دیا جس میں خواتین نے ان کو بتایا تھا کہ وہ خود طالبان سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان کی نصف آبادی کو طاقت سے محروم کرنا غیر منصفانہ ہے، اس طرح کا امتیازی رویہ ملک کے مستقبل کی بحالی اور ترقی کے امکانات کے لیے بھی شدید نقصاندہ ہے۔

     

     

  • امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    پیانگ یانگ:امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی،اطلاعات کےمطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ طویل مدت کی جنگ کے لیے تیار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ طویل المدت تصادم کے لیے تیار ہیں۔

    کم جونگ اُن نے بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کی جگہ کا دورہ کیا تھا، اس موقع پر انھوں نے کہا شمالی کوریا کا نیا اسٹریٹجک ہتھیار ایک بار پھر پوری دنیا کو ہماری مسلح افواج کی طاقت سے واضح طور پر آگاہ کر دے گا۔

    کِم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی قومی دفاعی افواج بہت اچھی فوجی اور تکنیکی صلاحیت کی حامل ہیں، اور جو بھی طاقت ہماری ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گی، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    واضح رہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا نے یہ خبر دی تھی کہ شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جاپانی حکام کے مطابق شمالی کوریا کا میزائل فضا میں تقریباً ایک گھنٹے تک رہا اور 1100 کلومیٹر دور جاپان کے جنوبی سمندر میں جا کر گرا۔

    رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کا یہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل2017 کے میزائل کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہے، جو 6 ہزار کلو میٹر سے زیادہ بلندی تک پہنچتا ہے۔

    شمالی کوریا نے 2017 کے بعد کئی مرتبہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، امریکا نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    امریکا کا مؤقف ہے کہ اس تجربے سے خطے میں بلا ضرورت تناؤ میں اضافہ ہوگا اور صورت حال غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔

  • روس یوکرین جنگ:امریکہ کاروس کوجی20سےنکالنے کا مطالبہ:روس سخت غُصّےمیں‌ آگیا

    روس یوکرین جنگ:امریکہ کاروس کوجی20سےنکالنے کا مطالبہ:روس سخت غُصّےمیں‌ آگیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس کو جی 20 کی بڑی معیشتوں کے گروپ سے نکال دینا چاہیے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بائیڈن نے برسلز میں جاری عالمی رہنماؤں کی ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ روس کو جی 20 نکال دینا چاہیے تاہم، یہ جی 20 پر منحصر ہےلیکن اگر انڈونیشیا اور دیگر ممالک روس کو ہٹانے پر متفق نہیں ہیں تو ان کے خیال میں یوکرین کو اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینیوں کو امن حاصل کرنے اور روسی بمباری کو روکنے کی ضرورت ہے جس نے لاکھوں افراد کو پولینڈ جیسے ملک میں نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا ہے جہاں امریکی صدر جو بائیڈن دورہ کر کے بحران کا مشاہدہ کرنے والے ہیں۔

    جمعرات کو برسلز میں نئی ​​فوجی اور انسانی امداد کے اعلان کرنے کے بعد مغربی رہنماؤں نے روس کے حملے کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے روس پر پابندیوں کو نئے اہداف تک بڑھادیا۔

    قبل ازیں، واشنگٹن نے درجنوں روسی دفاعی کمپنیوں، پارلیمنٹ کے سینکڑوں ارکان اور ملک کے سب سے بڑے بینک کے چیف ایگزیکٹو پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ہمارا مقصد ان مراعات اور فوائد کو ختم کرنا ہے جو روس نے کبھی بین الاقوامی اقتصادی نظام میں حصہ لینے والے کے طور پر حاصل کیےتھے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق روسی حملے جسے صدر ولادیمیر پوتن ایک خصوصی آپریشن کہتے ہیں، نے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا جبکہ 36 لاکھ افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔