Baaghi TV

Tag: امریکی سینیٹ

  • امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور ،ٹرمپ کے ساتھی بھی ساتھ چھوڑنے لگے

    امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور ،ٹرمپ کے ساتھی بھی ساتھ چھوڑنے لگے

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے دوران امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور کی گئی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوج کی کسی بھی قسم کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیں۔

    امریکی تاریخ میں 1973 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان (کانگریس) نے متفقہ طور پر ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جو صدر کو اپنی مرضی سے جنگ کرنے سے روکتا ہے،واں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ پر خود صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے، سینیٹ میں ہونے والی اس ووٹنگ میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس بل کی حمایت میں کہا کہ ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا حق آئین نے پارلیمنٹ کو دیا ہے نہ کہ صدر کو، اور پارلیمنٹ کو اب اپنی یہ ذمہ داری خود اٹھانی ہو گی۔ نیویارک کے نمائندے گریگوری میکس نے کہا کہ میرے نزدیک یہ قانون صدر پر ہر صورت لاگو ہوتا ہے اور حکومت کو اس کا پابند بنانے کے لیے ہم ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے،سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر جان تھون نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر حکومت ایران کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کرتی ہے تو پارلیمنٹ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اس پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی۔

    یہ ووٹنگ اگرچہ علامتی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جنہیں اب تک اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کی طرف سے اندھی حمایت حاصل تھی، مگر اب نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن کے خوف سے ان کے اپنے ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں اس قانون کی منظوری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ حکومت اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے اربوں ڈالر کا نیا فنڈ مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری طرف امریکی عوام بھی اس جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کرنا ایک درست فیصلہ تھا۔

    سینیٹ کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ووٹنگ انتہائی غلط وقت پر کی گئی ہے اور بالکل بے معنی ہے، ایسا کرنے والوں نے ایران کو فائدہ پہنچایا ہے اور میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔

  • امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری  جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جاری جنگ سے متعلق قراداد آگے بڑھانے کی منظوری

    امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 روز بعد امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے، 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا،پینسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چند ری پبلیکن ارکان نے اس کی حمایت کی۔

    اس پیشرفت کو ان قانون سازوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ چھیڑنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے، اگرچہ یہ صرف ابتدائی منظوری ہے، تاہم قرارداد کو مکمل قانون بننے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظوری درکار ہوگی جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے 2 تہائی اکثریت بھی ضروری ہوگی۔

    قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کانگریس کے سامنے رکھیں صدر کو ایران کی جانب سے امن تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں قانون سازوں سے شیئر نہیں کر رہے۔

    1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، کیونکہ امریکی آئین جنگ کا اختیار صرف کانگریس کو دیتا ہے۔

  • فائرنگ کی روک تھام، امریکی سینیٹ سے گن کنٹرول کا بل منظور

    فائرنگ کی روک تھام، امریکی سینیٹ سے گن کنٹرول کا بل منظور

    فائرنگ کی روک تھام، امریکی سینیٹ سے گن کنٹرول کا بل منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں فائرنگ کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے لئے امریکی سینیٹ میں گن کنٹرول بل منظور کیا گیا ہے

    امریکی سینیٹ میں گن کنٹرول بل کی منظوری کو 30 سالوں میں سب سے اہم قانون سازی کہا جا رہا ہے ، امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو ا س بل کی منظوری کے لئے 15 ریپبلکنز کی حمایت بھی حاصل تھی جس کی وجہ سے یہ قانون سازی 65 ووٹوں سے منظور ہوئی، اس بل کی مخالفت میں 33 ووٹ ایوان میں پڑے ،امریکی سینیٹ سے گن کنٹرول بل کو کانگریس کی منظوری کے بعد ایوان نمائندگان سے بھی پاس ہونا ہو گا جس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن اس پر دستخط کریں گے اور یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا

    دوسری جانب امریکی سپریم کورٹ نے اسلحہ رکھ کر عوام کے درمیان جانے کے حق میں فیصلہ سنا دیا، امریکی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ذاتی دفاع کیلئے شہریوں کواسلحہ لے جانے کا حق ہے عوام میں اسلحہ لے کر جانا امریکیوں کا بنیادی حق ہے امریکی آئین اسلحہ رکھنے اورعوام میں لے جانے کے حق کی ضمانت دیتا ہے

    امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پرامریکی صدر جوبائیڈن نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلحےسے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی ہوئی امریکی ریاستیں اسلحہ سے متعلق قانون سازی کرکے نفاذ کریں۔

    واضح رہے کہ تین روز قبل بھی امریکی ریاست الاباما کے شہر ویسٹاویا ہلز کے چرچ میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 2 افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا، امریکا میں 2022 میں فائرنگ کے واقعات میں 18 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتے اسکول ، یونیورسٹی اور اسپتال میں فائرنگ سے کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    خواتین نرسزکی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالے ملزم کی ضمانت پر ہوئی سماعت

    ہنی مون پر گئے نوجوان نے موبائل فون خریدنے کیلئے بیوی کو فروخت کر دیا