امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے تقریباً 80 روز بعد امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ سے متعلق اس قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ جاری نہیں رکھ سکیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے، 4 ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا،پینسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ چند ری پبلیکن ارکان نے اس کی حمایت کی۔
اس پیشرفت کو ان قانون سازوں کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو کہتے ہیں کہ آئین کے مطابق جنگ چھیڑنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ صدر کے، اگرچہ یہ صرف ابتدائی منظوری ہے، تاہم قرارداد کو مکمل قانون بننے کے لیے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظوری درکار ہوگی جبکہ صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کو ختم کرنے کے لیے 2 تہائی اکثریت بھی ضروری ہوگی۔
قرارداد پیش کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی کانگریس کے سامنے رکھیں صدر کو ایران کی جانب سے امن تجاویز موصول ہوئی ہیں لیکن وہ انہیں قانون سازوں سے شیئر نہیں کر رہے۔
1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے مطابق صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ سے پہلے کانگریس کی منظوری ضروری ہے، کیونکہ امریکی آئین جنگ کا اختیار صرف کانگریس کو دیتا ہے۔
