Baaghi TV

Tag: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

  • صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

    صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتےعوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی، یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی، اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا،بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا،اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی۔

    اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کوششوں‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ ہونے والا حالیہ ٹیلیفونک رابطہ انتہائی مفید اور مثبت رہا،انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جلد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی کی انہوں نے امن عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کرلی انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ممکن ہوا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم بات چیت تعطل کا شکار بھی نہیں ہوئی تھی۔

    بعدازاں صدر ٹرمپ نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کردیا تھا، جہاں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا۔ تاہم انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کردی تھی۔

    تازہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں محدود وقت کے اندر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی اسی ہفتے کے اختتام پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ اس معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    دریں اثنا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز تہران کا اعلیٰ سطحی دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں ’حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مسلسل ان سے رابطے میں ہے اور امریکی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو ’قابلِ تعریف‘ قرار دیا۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات اب محض سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر تفصیلی امور پر بات چیت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں پاکستان نے مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ کو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ تہران بھیجا گیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر، اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔

  • عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے-

    امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی بغیر توسیع کے بھی ختم ہو سکتی ہے، تاہم ان کے نزدیک ایک مستقل معاہدہ زیادہ موزوں ہے، یہ کسی بھی طرح ختم ہو سکتی ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدہ بہتر ہے کیونکہ اس کے بعد وہ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں اس سے قبل ہونےوالےپہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام کےمعاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی، جو وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

    آئندہ مذاکرات کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے جوناتھن کارل سے گفتگو میں کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ اگلے دو دنوں میں حیران کن پیشرفت دیکھیں گے امریکی صدر نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران میں مؤثر طور پر حکومت میں تبدیلی آ چکی ہے اور ان کے بقول ’شدت پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہےاب وہاں ایک مختلف حکومت ہے، ہم نے شدت پسندوں کو ہٹا دیا ہے، وہ اب موجود نہیں ہیں۔

  • ایرانی مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

    ایرانی مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مریکا ایران میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مدا خلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِ عمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل نا قابلِ تصور تھا، اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا وینزویلا کے تیل پر قبضہ نہ کرتا تو روس اور چین اس پر کنٹرول حاصل کر لیتے امریکا وینزویلا میں تیل کے شعبے میں سو ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہےصدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ روس اور چین اگر چاہیں تو امریکا سے تیل خرید سکتے ہیں، تاہم وینزویلا میں کون سی تیل کی کمپنیاں کام کریں گی، اس کا فیصلہ امریکا خود کرے گا،وینزویلا میں کام کرنے والی کمپنیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    مقابلے کے امتحان سی ایس ایس 2026 کی باقاعدہ ڈیٹ شیٹ جاری

    جبکہ امریکا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ایکسن موبل نے وینزویلا کو سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ملک قرار دے دیا ہے، جس سے وہاں مستقبل کی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کو پُرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    باجوڑ: وزیرِ مملکت کے گھر پر دستی بم سے حملہ

    رپورٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی قدر میں کمی اور مغربی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔

  • واشنگٹن حملہ، امریکا کا 30 ممالک پر سفری پابندیوں پر غور

    واشنگٹن حملہ، امریکا کا 30 ممالک پر سفری پابندیوں پر غور

    واشنگٹن میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن پالیسی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے 30 ممالک پر نئی سفری پابندیوں پر غور شروع کر دیا ہے۔

    امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ موجودہ سفری پابندیوں کی فہرست کو 19 سے بڑھا کر 30 ممالک تک توسیع دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس وقت 12 ممالک پر مکمل جبکہ 7 ممالک پر جزوی پابندیاں عائد ہیں۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ نئے ممالک کی فہرست جلد جاری کی جائے گی۔ یہ پیش رفت واشنگٹن میں گزشتہ ہفتے نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔حملہ آور کی شناخت 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکانوال کے طور پر ہوئی، جو 2021 میں امریکا پہنچنے سے قبل امریکی افواج کے ساتھ افغانستان میں کام کر چکا تھا۔

    واقعے کے بعد صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے سابق صدر جو بائیڈن کی امیگریشن پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ملک میں داخلے کے قوانین سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔ٹرمپ نے مزید اقدامات کا بھی اشارہ دیا ہے، جن میں بعض ممالک سے داخلے پر مکمل پابندی، تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کرنے اور غیر ملکی شہریوں کے لیے وفاقی فوائد روکنے جیسے منصوبے شامل ہیں

    سری لنکن صدر کا شہباز شریف سے رابطہ

    سندھ، بلوچستان ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں اہم تقرریوں کی منظوری

    یورپی رہنماؤں کی یوکرین کے بغیر امن معاہدے کی تجویز مسترد

  • 8 جنگیں رکوائیں، روس۔یوکرین جنگ نویں ہوگی،ٹرمپ کا دعویٰ

    8 جنگیں رکوائیں، روس۔یوکرین جنگ نویں ہوگی،ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کا تنازعہ انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کا حل آسان نہیں۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اب تک وہ 8 جنگیں رکوانے میں کردار ادا کر چکے ہیں، جبکہ روس۔یوکرین جنگ نویں ہو سکتی ہے جس کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر وہ روس۔یوکرین جنگ رُکوا دیں تو انہیں نوبیل انعام دیا جائے گا، تاہم ان کے مطابق یوکرین کا معاملہ بہت الجھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سمیت کئی تنازعات میں انہوں نے شدت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہر جنگ رکوائے جانے پر وہ نوبیل انعام کے حق دار ہیں، مگر وہ لالچ نہیں رکھتے اور ان کے لیے سب سے اہم انسانی جانوں کا بچاؤ ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک نوبیل انعام یافتہ خاتون نے بھی ان کی امن کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔مزید برآں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لوزیانا اور نیو اورلینز میں قومی گارڈز تعینات کیے جائیں گے، جو آئندہ دو ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔

    یورپی رہنماؤں کی یوکرین کے بغیر امن معاہدے کی تجویز مسترد

    الیکشن کمیشن، طلال چوہدری کے خلاف کیس کا حکم نامہ جاری

    لندن میں ایمبولینس کالز میں ریکارڈ اضافہ، فلو سیزن بدترین قرار

    یورپ نے جنگ چھیڑی تو کوئی نہیں بچے گا: پیوٹن

  • وینیزویلا کی فضائی حدود مکمل طور پر بند تصور کی جائیں،ٹرمپ

    وینیزویلا کی فضائی حدود مکمل طور پر بند تصور کی جائیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینیزویلا اور اس کے اطراف کی فضائی حدود کو ’’مکمل طور پر بند‘‘ سمجھا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے اس اعلان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق واشنگٹن صدر نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ کے ذریعے کہا کہ ’’تمام ایئرلائنز، پائلٹس، منشیات اور انسانی اسمگلرز وینیزویلا کے اوپر اور اس کے آس پاس کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند تصور کریں۔رپورٹ کے مطابق وینیزویلا کی وزارتِ اطلاعات نے ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے بھی اس معاملے پر کوئی فوری ردعمل نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ کیریبین میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے خلاف امریکی کارروائیاں کئی ماہ سے جاری ہیں اور خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ پہلے ہی وینیزویلا میں سی آئی اے کی خفیہ کارروائیوں کی منظوری دے چکے ہیں۔صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے فوجی اہلکاروں سے گفتگو میں کہا تھا کہ امریکا بہت جلد وینیزویلا سے تعلق رکھنے والے مشتبہ منشیات اسمگلرز کے خلاف زمینی کارروائیاں بھی شروع کرے گا

    فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجگور حملہ کی خبر بے بنیاد قرار

    دل کی مسافتیں اور خواہش کی شکست،تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان سے بدترین شکست،بھارت کا 300 نئے میزائل خریدنے کا فیصلہ

  • ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کو جی20 دعوت منسوخ کر دی

    ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کو جی20 دعوت منسوخ کر دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کو اگلے سال میامی میں ہونے والے جی20 اجلاس کی دعوت منسوخ کر رہے ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق جنوبی افریقہ کسی عالمی فورم کی رکنیت کے قابل نہیں، اسی لیے امریکا اس ملک کے لیے تمام مالی معاونت بھی فوری طور پر روک دے گا۔ٹرمپ طویل عرصے سے جنوبی افریقہ میں زمین سے متعلق قانون اور سفید فام کسانوں کے خلاف مبینہ مظالم کے دعوؤں پر تنقید کرتے رہے ہیں، جنہیں جنوبی افریقی حکومت ثبوت سے عاری قرار دیتی ہے۔ اس سے قبل امریکا نے جوہانسبرگ میں ہونے والے جی-20 اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کیا تھا۔

    جنوبی افریقہ نے ٹرمپ کے الزامات کو ’’نسلی خوف پھیلانے‘‘ اور سیاسی فائدے کے لیے غلط بیانی قرار دیا ہے۔ جنوبی افریقی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ امریکا اجلاس میں شامل نہ ہونے کے باوجود جی-20 صدارت کی دستاویزات امریکی سفارتخانے کے نمائندے کو باقاعدگی سے فراہم کی گئیں۔ حکومت نے کہا کہ وہ بطور بانی اور فعال رکن اپنا کردار جاری رکھے گی

    انگلینڈ میں 50 ہائر ایجوکیشن ادارے دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار

    ایکس کا نیا فیچر؛ پاکستان مخالف بیرونی پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب

    سوشل میڈیا پر جھوٹی آف لوڈنگ معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی شروع

    بابر اعظم کا ٹی20 میں ناپسندیدہ ریکارڈ برابر

  • شی جن پنگ اور ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ، تائیوان سمیت اہم امور پر گفتگو

    شی جن پنگ اور ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ، تائیوان سمیت اہم امور پر گفتگو

    چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی مسائل پر بات چیت کی گئی۔

    چینی میڈیا کے مطابق صدر شی نے تائیوان کے مسئلے پر چین کا واضح ریاستی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی چین میں واپسی پوسٹ وار انٹرنیشنل آرڈر کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کو تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔شی جن پنگ نے زور دیا کہ چین–امریکا تعلقات میں موجود مثبت رفتار برقرار رہنی چاہیے اور دوسری جنگ عظیم کی فتوحات کو مشترکہ طور پر محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

    ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں صدور نے یوکرین تنازع پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں شی جن پنگ نے کہا کہ تنازع کے فریقین کو اختلافات کم کرنے چاہییں

    بچوں پر تشدد ، پنجاب میں 4150 سے زائد واقعات رپورٹ

    لاہور ، پشاور اور کوئٹہ کے پی ایس ایل معاہدوں میں مزید 10 سال کی توسیع

  • ٹرمپ کے 28 نکاتی امن منصوبے پر یورپی رہنماؤں کی مشاورت تیز

    ٹرمپ کے 28 نکاتی امن منصوبے پر یورپی رہنماؤں کی مشاورت تیز

    جی20 سمٹ کے موقع پر یورپی اور مغربی رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے پر غور کرتے رہے کہ یوکرین روس کے ساتھ ان کا 28 نکاتی امن منصوبہ جمعرات تک قبول کرے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق ای تھری (فرانس، برطانیہ، جرمنی) کے سکیورٹی مشیر اتوار کو جنیوا میں یورپی یونین، امریکا اور یوکرین کے حکام سے مزید بات چیت کریں گے، جبکہ اٹلی بھی شریک ہوگا۔امریکی منصوبہ روس کے بعض مطالبات کی تائید کرتا ہے جس پر کئی یورپی ممالک تنقید کر رہے ہیں۔یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ منصوبے میں امن کے لیے اہم نکات موجود ہیں، مگر مزید کام ضروری ہے۔

    یہ مشاورت اس وقت تیز ہوئی جب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ یا تو ہم اپنی آزادی کھو دیں یا واشنگٹن کی حمایت۔جرمن چانسلر فریڈرش مرٹس نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین جنگ ہار گیا تو اس کے اثرات پوری یورپی سیاست پر پڑیں گے۔صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر زیلنسکی نے منصوبہ قبول نہ کیا تو جنگ جاری رہے گی، اور ان کے مطابق خونریزی ختم کرنے کے لیے وقت کم رہ گیا ہے

    یمن: حوثی عدالت کا 17 افراد کو سزائے موت کا حکم

    سندھ میں ڈینگی کے ایک دن میں 109 مریض، ایک جانبحق

    افغانستان کا اصل چہرہ دکھانے آئے یوٹیوبر کی سیر خوف میں بدل گئی