Baaghi TV

Tag: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

  • ٹرمپ سے ملاقات،شہباز شریف واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے

    ٹرمپ سے ملاقات،شہباز شریف واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف پاکستانی وفد کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کیلئے واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے.

    اینڈریوز ایئر بیس پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا ریڈ کارپٹ پر امریکی ایئر فورس کے اعلی عہدیدار نے استقبال کیا. وزیرِ اعظم کا موٹرکیڈ امریکی سیکیورٹی کے حصار میں ایئربیس سے روانہ.وزیرِ اعظم کچھ ہی دیر میں وائٹ ہاؤس پہنچیں گے. وزیرِ اعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ملاقات امریکی وقت کے مطابق شام ساڑھے 4 بجے اوول آفس میں ہوگی، جہاں صدر ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف کا خیر مقدم کریں گے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ اس دوران مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ اور مسئلہ کشمیر بھی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل نیویارک میں اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہوچکی ہے۔

    ایشیا کپ 2025 کا بڑا معرکہ، پاکستان اور بھارت پہلی بار فائنل میں آمنے سامنے

    پیٹرولیم ڈویژن کی قطر سے ایل این جی درآمد موخر کرنےکی تجویز

    برطانیہ، ہر بالغ کے لیے لازمی ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا اعلان متوقع

    گنڈاپور نے پی ٹی آئی جلسے سے قبل ساڑھے 9 کروڑ روپے خرچ کر دیے

  • روس سے تیل و گیس نہ خریدیں، ٹرمپ کا ترک صدر کو مشورہ

    روس سے تیل و گیس نہ خریدیں، ٹرمپ کا ترک صدر کو مشورہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روس سے تیل اور گیس نہ خریدیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ترک صدر واشنگٹن کے دورے پر پہنچے، جہاں ان کے ایجنڈے میں امریکا سے ایف-35 فائٹر جیٹ طیاروں کا حصول اہم ترین نکتہ ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت میں ترکی کو ایف-35 پروگرام سے اس وقت خارج کر دیا گیا تھا جب انقرہ نے روس سے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا تھا۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ اس سے ایف-35 کی صلاحیتوں کا ڈیٹا روس کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

    اوول آفس میں ملاقات کے دوران ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "انہیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، ہمیں کچھ چیزوں کی ضرورت ہے، اور ہم کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔”ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے اردوان ان چیزوں کو خریدنے میں کامیاب ہو جائیں گے جن کی انہیں ضرورت ہے۔یہ 2019 کے بعد وائٹ ہاؤس میں ترک صدر کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں اردوان کے ساتھ "بہت اچھے تعلقات” کا ذکر کیا تھا۔

    امریکی حکام برسوں سے ترکی کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور روس کے ساتھ تعلقات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ غزہ اور شام کے معاملات پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بھی بعض اوقات امریکا-ترکی تعلقات کو متاثر کرتی رہی ہے۔

    بھارت سے کشیدگی کی بڑی وجہ شیخ حسینہ کو پناہ دینا ہے، ڈاکٹر محمد یونس

    سلووینیا کی اسرائیلی وزیراعظم کے ملک میں داخلے پر پابندی

    اسرائیلی حملوں نے خطے کو خطرے میں ڈال دیا،شامی صدر

  • ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی خواہش پھر ادھوری، ماہرین نے امکان مسترد کر دیا

    ٹرمپ کی نوبیل امن انعام کی خواہش پھر ادھوری، ماہرین نے امکان مسترد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبیل امن انعام جیتنے کی خواہش ایک بار پھر پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

    عالمی امور کے ماہرین اور نوبیل پرائز سے وابستہ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ اور سابقہ اقدامات انہیں امن کے فروغ سے دور اور انعام کے معیار سے نیچے لے جاتے ہیں۔نوبیل انعام کی ماہر تاریخ دان آسلی سوین نے کہا کہ "ٹرمپ کا نوبیل امن انعام جیتنے کا کوئی امکان نہیں۔” ان کے مطابق غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوششوں نے ٹرمپ کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق نوبیل انعام دینے والی نارویجن کمیٹی ہمیشہ سیاسی دباؤ سے آزاد رہتی ہے اور کسی بھی امیدوار کی لابنگ یا عوامی مہم اس کے خلاف جا سکتی ہے۔ کمیٹی ان افراد یا اداروں کو ترجیح دیتی ہے جنہوں نے بین الاقوامی بھائی چارے اور امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے ہوں۔نینا گریگر، ڈائریکٹر امن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکا کو عالمی ادارہ صحت اور پیرس ماحولیاتی معاہدے سے الگ کیا، پرانے اتحادیوں کے ساتھ تجارتی جنگیں شروع کیں، یہ سب کسی پُرامن رہنما کی خصوصیات نہیں ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس سال نوبیل امن انعام ان بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو دیا جا سکتا ہے جو مشکل حالات میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جن میں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR)، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، ریڈ کراس اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز شامل ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ ان ہی ماحول میں کام کر رہی ہیں جنہیں ٹرمپ انتظامیہ کی امدادی کٹوتیوں نے مزید دشوار بنا دیا ہے۔

    سندھ ایمپلائز الائنس کی کال پر احتجاج، ٹھٹھہ اور کندھ کوٹ میں سرکاری ادارے بند، ریلیاں اور دھرنے

    ٹرمپ انتظامیہ کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش

    فلسطینی صدر کا جنرل اسمبلی سے خطاب، اسرائیلی اقدامات کو جنگی جرم اور نسل کشی قرار

  • ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

    ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات شاندار رہی، اور ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملاقات کے حوالے سے حوصلہ افزا بیان دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے رہنماؤں نے امریکی صدر کو غزہ مسئلے کا حل تجویز کیا ہے۔تجاویز کی تفصیلات فی الحال نہیں بتا سکتا، مگر اس مسئلے کے حل کا بیج ضرور بو دیا گیا ہے۔میری اطلاعات کے مطابق اس معاملے کے نتائج 5 سے 10 دن میں سامنے آئیں گے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک پر اسرائیل کو لگام ڈالنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔یورپ اور مغرب میں لاکھوں لوگ احتجاج کر رہے ہیں کہ اسرائیل کی منہ زوری کو روکا جائے۔اٹلی کی حکومت نے احتجاج روکنے کی کوشش کی تو مزید عوام باہر نکل آئے اور تشدد بڑھ گیا۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تاریخ میں تاریک کردار ہے اور لوگ اسے ہٹلر سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ صدر ٹرمپ غزہ تنازع کے حل کے خواہاں ہیں، لیکن امریکا کا عوامی بیانیہ اسرائیل کے حق میں ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ مسلم ممالک ضامن بن کر اس تباہی کو روکیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے، افواج پاکستان کی کامیابیاں، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ، قطر کا دورہ اور اسلامی سربراہی اجلاس میں مؤقف پیش کرنے سے پاکستان کو منفرد شناخت ملی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ نیویارک میں وزیراعظم شہباز شریف کو عالمی رہنماؤں سے پرتپاک استقبال مل رہا ہے، جس سے پاکستان کا سفارتی کردار مزید اجاگر ہوا ہے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے،شہباز شریف

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کراچی پہنچ گیا

    اسحاق ڈار کی جی77 اور چین کے وزارتی اجلاس میں شرکت

    مہاتیر محمدپاکستان سےتعلقات مزید مضبوط بنانے کے خواہشمند

  • ترکی کا امریکہ سے 20 سالہ ایل این جی معاہدہ

    ترکی کا امریکہ سے 20 سالہ ایل این جی معاہدہ

    ترکی نے امریکی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنے کے لیے سوئس ٹریڈنگ کمپنی مرکیوریا کے ساتھ 20 سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔

    معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپ پر روسی توانائی کی خریداری روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔یہ ڈیل ترک صدر رجب طیب ایردوان اور صدر ٹرمپ کی جمعرات کو متوقع ملاقات سے قبل طے پائی۔ اس وقت روس ترکی کا سب سے بڑا گیس سپلائر ہے، تاہم انقرہ نے حالیہ برسوں میں توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ رواں برس روس کے ساتھ گیس درآمدی معاہدوں کے تحت کم از کم 16 ارب مکعب میٹر کے سودے ختم ہو رہے ہیں، جن کی تجدید ابھی نہیں ہوئی۔

    ترک سرکاری کمپنی بوتاش (BOTAS) نے یہ معاہدہ نیویارک میں ایردوان کے دورے کے دوران کیا۔ معاہدے کے مطابق 2026 سے ترکی کو سالانہ 4 ارب مکعب میٹر ایل این جی فراہم کی جائے گی۔مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب مکعب میٹر گیس کی فراہمی ممکن ہوگی۔ترسیل امریکی لوڈنگ ٹرمینلز سے ہوگی اور گیس ترکی، یورپ اور شمالی افریقہ کے ریگیسیفیکیشن پلانٹس پر اتاری جائے گی۔

    وزیر توانائی الپارسلان بائرقدار نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا اور توانائی کے شعبے میں سپلائی سکیورٹی و تنوع کو مزید بڑھائے گا۔

    ایران کا پاک–سعودی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

    بھارتی علاقے لداخ احتجاجات میں تشدد،4 ہلاک، درجنوں زخمی

    ایشیا کپ ٹی20: بھارت نے بنگلادیش کو 169 رنز کا ہدف دے دیا

    امریکہ،ڈلاس میں دفتر پر فائرنگ، ایک ہلاک متعدد زخمی

  • فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، حماس کی کوئی گنجائش نہیں،امریکی صدر

    فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے، حماس کی کوئی گنجائش نہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست قائم ہونی چاہیے لیکن حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں خطاب کر کے خوشی محسوس کر رہا ہوں، سال پہلے امریکا کی حالت بری تھی لیکن میری قیادت میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ آج امریکا میں مہنگائی کو شکست دی جا چکی ہے، معیشت مضبوط ہے، فوج مضبوط ہے اور عالمی سطح پر نئی دوستیاں قائم ہو رہی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے 7 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرائی، اسرائیل اور ایران کی جنگ بھی روکی۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات چاہتا ہوں، لیکن سوچتا ہوں ہمیں اقوام متحدہ سے کیا ملا؟ امریکا اپنی خود مختاری اور سلامتی کا بھرپور دفاع کرے گا، غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو جیل جانا پڑے گا۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی اب ہونی چاہیے، فلسطینی ریاست قائم کی جائے مگر حماس امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، حماس اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے، فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے انعام ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ایٹمی اثاثوں کو امریکی جہازوں نے کامیابی سے نشانہ بنایا، ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔ یوکرین میں اموات روکنے کی کوشش کر رہا ہوں، پیوٹن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں مگر بھارت روسی تیل خرید کر پیوٹن کو مضبوط کر رہا ہے، روس سے مصنوعات کی خریداری بند ہونی چاہیے۔

    ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اہم باتیں کیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے نیو یارک میں ًٰ گفتگو کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ انھوں نے کئی ممالک کے درمیان جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ بند کرانے میں بھی ٹرمپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا اس کلیدی کردار پر امریکی صدر کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    امریکا: سیکریٹ سروس کا بڑا ایکشن، ایک لاکھ سے زائد سم کارڈز کا نیٹ ورک تباہ

    ایشیا کپ ٹی20: سری لنکا نے پاکستان کو 134 رنز کا ہدف دے دیا

    مستونگ میں دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، 4 زخمی

  • اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع، وزیراعظم  خطاب کریں گے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس شروع، وزیراعظم خطاب کریں گے

    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس نیویارک میں شروع ہوگیا، جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔ وزیراعظم جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

    فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے سعودی عرب اور فرانس کی سربراہی میں آج کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کریں گے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اجلاس کے سائیڈلائن پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کی پہلی ملاقات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ہوگی، اس کے بعد وہ پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، مصر، اردن اور انڈونیشیا کے سربراہان کے علاوہ یوکرین، ارجنٹائن اور یورپی یونین کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    ادھر نیویارک میں قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ کی میزبانی میں عرب اسلامی وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں اسحاق ڈار نے بھی شرکت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور ترکیے کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔

    مشاورت میں طے پایا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں فلسطین اور عالمی امور پر یکساں مؤقف اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ اسحاق ڈار نے اسلامی ملکوں کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات اور تعاون پر زور دیا۔

    چار بیویاں اور 100 سے زائد بچے،اماراتی محقق کے خطاب پر حاضرین حیران

    سویلین کے کورٹ مارشل کی اجازت، آرمی ایکٹ آئین کے مطابق قرار،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

    حنیف عباسی سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری پر گفتگو

    غیرقانونی ادویات اور اشتہارات کا الزام،حکیم شہزاد کی گرفتاری کا حکم

  • پیوٹن کی ٹرمپ کو ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے میں  توسیع کی پیشکش

    پیوٹن کی ٹرمپ کو ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے میں توسیع کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے والے معاہدے ’’نیو اسٹارٹ‘‘ میں ایک سال کی توسیع کی پیشکش کی ہے۔ یہ معاہدہ فروری 2026 میں ختم ہو رہا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیوٹن نے کہا کہ یہ اقدام عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور امریکا کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے، بشرطیکہ امریکا بھی اسی نوعیت کا طرزِ عمل اختیار کرے۔نیو اسٹارٹ معاہدہ دونوں ممالک کو اسٹریٹیجک جوہری وارہیڈز کی تعداد 1,550 تک محدود رکھنے کا پابند بناتا ہے۔ اگر اس میں توسیع نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ امریکا اور روس اپنی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے اس حد سے تجاوز کر سکتے ہیں، جو عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

    روس کی یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین جنگ، میزائل دفاعی نظام اور خلا میں ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی جیسے مسائل پر ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات کشیدہ ہیں۔صدر پیوٹن نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے میزائل شیلڈز یا خلا میں انٹرسیپٹرز نصب کیے تو روس اس کا مناسب جواب دے گا۔ دوسری جانب تاحال امریکی حکومت کی طرف سے اس پیشکش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    لندن میں فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ دے دیا گیا

    برطانوی وزیراعظم کا ہنر مندوں کے لیے ویزا فیس ختم کرنے پر غور

    ایشیا کپ: پاکستانی ٹیم ابوظبی پہنچ گئی، کل اہم میچ ہوگا

    ڈکی بھائی کے مینجر سبحان شریف جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

    اسحٰق ڈار کی دولتِ مشترکہ وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت

  • روسی دراندازی،پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کا دفاع کریں گے،ٹرمپ

    روسی دراندازی،پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کا دفاع کریں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر روس کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ ہوا تو وہ پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کا دفاع کریں گے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب روسی طیاروں نے ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ یورپی یونین کے رکن ممالک کا دفاع کریں گے، تو انہوں نے واضح جواب دیتے ہوئے کہا: ”ہاں، میں کروں گا۔ میں کروں گا۔جمعہ کو روس کے تین MiG-31 طیاروں نے خلیج فن لینڈ کے اوپر ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس پر یورپی یونین اور نیٹو نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا، تاہم ماسکو نے الزام مسترد کر دیا۔

    اطلاعات کے مطابق، نیٹو کے فضائی دفاعی مشن کے تحت تعینات اطالوی F-35 طیاروں نے سویڈن اور فن لینڈ کے لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر روسی طیاروں کو روکنے اور خبردار کرنے کے لیے پرواز کی۔ایسٹونیا نے اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تقریباً دو ہفتے قبل روس کے 17 ڈرونز نے پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس وقت صدر ٹرمپ نے اسے معمولی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”یہ ایک غلطی ہو سکتی ہے۔

    برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کا فلسطین کو تسلیم کرنا تاریخی پیش رفت ہے،حماس
    بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر وفاقی وزیر اطلاعات کا ردعمل آگیا

    ڈریپ کی ملک گیر کارروائیاں: جعلی ادویات کے 3 بیچز ضبط

    شام میں پارلیمانی انتخابات 5 اکتوبر کو ہوں گے

    غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج، جنگ بندی کا مطالبہ

  • ٹرمپ کی بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے پر افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی

    ٹرمپ کی بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے پر افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بگرام ایئر بیس کا کنٹرول امریکہ کو واپس نہ کرنے پر افغانستان کے ساتھ ‘بہت برا ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اگر افغانستان نے بگرام ایئر بیس اس کے معماروں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے حوالے نہیں کیا تو برے نتائج سامنے آئیں گے-

    جبکہ صحافیوں کیساتھ بات چیت کے دوران بگرام بیس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے امکانات سے انکار بھی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے رواں ہفتے 18 ستمبر کو دورہ برطانیہ کے دوران برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ طالبان سے بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اب تک ان خفیہ مذاکرات کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا تھا کہ اس اقدام کی ایک وجہ یہ ہےکہ بگرام بیس کے قریب ہی ایک مقام پر چین جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی انخلا کے دوران امریکا نے بگرام پر اپنا کنٹرول برقرار نہیں رکھا۔

    یہ بیس نائن الیوں حملوں کے بعد دہشتگردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے دوران امریکی فوج کے لیے دو دہائیوں تک مرکزی بیس رہا ہےبگرام سمیت دیگر بیسز پر افغان طالبان نے اس وقت قبضہ کیا تھا جب 2021 میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد کابل میں امریکی حمایت یافتہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا،دوسری جانب افغان حکام اپنے ملک میں امریکی تسلط کی بحالی کے خلاف سخت بیانات جاری کر چکے ہیں۔

    ادھرموجودہ اور سابق امریکی عہدیدار خبردار کرتے ہیں کہ اگر بگرام ایئر بیس کو دوبارہ کنٹرول میں لیا گیا تو اسے افغانستان پر دوبارہ حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے لیے 10 ہزار سے زائد فوجیوں کے ساتھ ساتھ جدید فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی ضروری ہوگی۔

    ٹرمپ، جنہوں نے پہلے بھی کہا ہے کہ امریکہ کو مختلف علاقوں جیسے پاناما کینال سے لے کر گرین لینڈ تک کے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہیے، سالوں سے بگرام پر توجہ دے رہے ہیںجب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بیس واپس لینے کے لیے امریکی فوج افغانستان بھیجیں گے تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے،تاہم انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم افغانستان سے بات چیت کر رہے ہیں، ہم اسے جلد سے جلد واپس لینا چاہتے ہیں، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آپ جان جائیں گے کہ میں کیا کرنے والا ہوں۔’

    طالبان کے عہدیدار نے بگرام ایئربیس امریکا کو دینے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بگرام ایئربیس کے معاملے پر بات کی ہے، وہ سیاست سے ہٹ کر ایک کامیاب تاجر اور سوداگر ہیں اور بگرام کو دوبارہ حاصل کرنے کا ذکر بھی ’ڈیل‘ کے ذریعے کر رہے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار ذاکر جلالی نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ افغانستان اور امریکا کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کےلیے افغانستان کے کسی حصے میں امریکی فوج کی موجودگی کی ضرورت نہیں ہے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اقتصادی اور سیاسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں، فوجی موجودگی کو افغانوں نے تاریخ میں کبھی قبول نہیں کیا اور یہ امکان دوحہ مذاکرات اور معاہدے کے دوران بھی مکمل طور پر رد کیا گیا تھا، مگر دیگر تعلقات کے لیے دروازے کھلے ہیں۔