Baaghi TV

Tag: امریکی صدر

  • ‏کیا امریکی صدر پاکستان کے وزیراعظم کو فون کریں گے؟صحافی کا وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری سے سوال

    ‏کیا امریکی صدر پاکستان کے وزیراعظم کو فون کریں گے؟صحافی کا وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری سے سوال

    واشنگٹن: سیکریٹری وائٹ ہاؤس جین ساکی نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مختلف سطح پر رابطے میں ہیں-

    باغی ٹی وی : صحافی نے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری سے سوال کیا کہ امریکی صدر پاکستان کے وزیراعظم کو فون کریں گے؟ وائٹ ہاوس پریس سیکریٹری نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ٹیلی فون کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتیں-

    بھارتی ،اور ترک صدر کی شہباز شریف کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد

    سیکریٹری وائٹ ہاوس نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مختلف سطح پر رابطے میں ہیں،امریکا آئینی اور جمہوریت اصولوں کی حمایت کرتا ہے، حکومت میں کوئی بھی ہو ان اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی امریکا کسی بھی ایک جماعت کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیتا-

    جین ساکی نے کہا کہ امریکا قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتاہے،پاکستان کے ساتھ دیرپا تعاون کی قدر کرتے ہیں جمہوری پاکستان امریکی مفادات کے لیے ناگزیر ہے –

    واضح رہے کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں اور وہ شام کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے نیا وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 342 نشستوں پر مشتمل نیشنل اسمبلی میں کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت تھی شہباز شریف کو 174 ارکان نے ووٹ دیا۔

    پی ٹی آئی نے ان کے مقابلے میں اپنے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار کھڑا کیا تھا تاہم قیادت کی ہدایات پر تحریک انصاف کے تمام اراکین ایوان سے اٹھ کر چلے گئے تھے اور کسی نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں کیا۔

    ا مید ہےپاکستان کی نئی حکومت چین کیساتھ دوستی کو یقینی بنائے گی،چین پاکستان تعلقات…

  • امریکی صدرکا پیوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے پر روس کا شدید ردعمل

    امریکی صدرکا پیوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے پر روس کا شدید ردعمل

    امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پیوٹن کو ”جنگی مجرم” کہنے پر روس نے سخت مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی کارروائی کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو”جنگی مجرم” قرار دیا ہے جس پر روس نے شدید ردعمل دیا ہے-

    امریکی صدر نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا

    ولادیمیر پیوٹن کے پریس سکریٹری دیمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر کی جانب سے صدر پیوٹن کو جنگی مجرم کہنا ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہے اور یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز یوکرین میں روس نے کیف کے ایک تھیٹر اور کھانا لینے کے لیے قطار میں کھڑے عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روسی افواج نے ماریوپول کے تھیٹر پر ایک بڑا بم گرایا جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تھیٹر میں کم از کم 500 افراد موجود تھے۔

    امریکہ کا یوکرین کیلئے مزید 80 کروڑ ڈالر،طیارہ شکن ہتھیار،ڈرون اور1 کروڑگولیاں دینےکا اعلان

    گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافیوں نے اسی تناظر میں امریکی صدر سے پوچھا کہ کیا پیوٹن جنگی مجرم ہیں جس پر انہوں نے پہلے تو کوئی جواب نہیں دیا تاہم دوبارہ پوچھنے پر صدر جوبائیڈن روسی صدر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہاں روسی صدر جنگی مجرم ہیں یہ ناقابل معافی ہے کہ کریملن امن مذاکرات کے دوران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے تاہم انہوں نے مزید کوئی وضاحت نہیں کی-

    اسرائیل کی 3 فلسطینیوں کو پھانسی،او آئی سی کی شدید مذمت

    بعدازاں وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان یوکرین میں ہسپتالوں سمیت دیگر سویلین عمارتوں پر روسی فوج کے میزائل حملوں کے پس منظر میں ہے ایک غیر ملکی ڈکٹیٹر کے ذریعہ دوسرے ملک میں بربریت اور ہولناک واقعات آپ دیکھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں ہسپتال تباہ ہورہے ہیں، حاملہ خواتین اور صحافی اور دوسرے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ صدر بائیڈن نے دراصل ایک براہ راست سوال کا جواب دیا-

    جین ساکی نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ یوکرین میں روس کے حملوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ آیا یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔

    روسی صدر کو لڑائی کا چیلنج ، چیچن سربراہ کی ایلون مسک کو نصیحت

  • امریکی صدر نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا

    امریکی صدر نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا

    امریکی صدرجوبائیڈن نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ایجسی کے مطابق یوکرین میں روس نے کیف کے ایک تھیٹر اور کھانا لینے کے لیے قطار میں کھڑے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روسی افواج نے ماریوپول کے تھیٹر پر ایک بڑا بم گرایا جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تھیٹر میں کم از کم 500 افراد موجود تھے۔

    یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی…

    امریکی صدر نے تھیٹر میں پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے پر روسی صدر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر جنگی مجرم ہیں یہ ناقابل معافی ہے کہ کریملن امن مذاکرات کے دوران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جا نب کیف میں امریکہ کے سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں نے کیف کے علاقے چرنیف میں کھانا حاصل کرنے کے لیے لائن میں کھڑے 10 افراد کو نشانہ بنایا۔

    تاہم روس کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی گئی ہے روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افواج نے عمارت پر حملہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت (عالمی عدالتِ انصاف) نے روس کو یوکرین کے خلاف فوجی چڑھائی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ماسکو کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال سے شدید تشویش کا شکار ہے –

    داہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے کہا تھا کہ روسی فیڈریشن کو اس کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک یوکرین کےعلاقے میں 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کو معطل کرنا ہوگا روس کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے زیرقبضہ یا اس کی حمایت یافتہ دیگر فورسز بشمول دونیسک اور لوہانسک کی فوجیں کیف کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو بند کردیں-

    روسی صدر کو لڑائی کا چیلنج ، چیچن سربراہ کی ایلون مسک کو نصیحت

    آئی سی جے نے اپنے بیان میں کہا کہ تھا روس کے یوکرین میں ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کے نتیجے میں لاتعداد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس سے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سمیت اہم مادی نقصان ہوا ہے حملے جاری ہیں اور شہری آبادی کے لیے جینے کے مشکل حالات پیدا ہورہے ہیں بہت سے افراد کوبنیادی غذائی اجزاء، پینے کے قابل پانی، بجلی، ضروری ادویہ یا سردی سے بچنے کے لیے مصنوعی تپش تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ انتہائی غیرمحفوظ حالات میں جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں-

    دوسری جانب زیلنسکی نے ٹویٹراس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کے خلاف اپنے مقدمے میں مکمل کامیابی حاصل کی ہے آئی سی جے نے روس کو فوری طور پر حملہ روکنے کا حکم دیا ہے یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک پابند حکم ہےروس کو فی الفوراس کی تعمیل کرنی چاہیے اس حکم کو نظراندازکرنے سے روس (دنیا میں) مزید تنہا ہوکررہ جائے گا۔

    بدھ کو امریکی کانگریس سے ورچوئل خطاب میں زیلنسکی نے یوکرین میں موت اور تباہی کی گرافک تصاویر پرمشتمل ویڈیو بھی دکھائی تھی انھوں نے کہا تھا کہ روس نے یوکرین کے آسمان کو ہزاروں لوگوں کی موت کا ذریعہ بنادیا ہے اس ہلاکت آفرینی کا اختتام ’’یوکرین کاآسمان بند کردو‘‘کے ساتھ ہوسکتا ہے۔

    یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    زیلنسکی نے یوکرین پر نو فلائی زون کے نفاذ اور گذشتہ ماہ سے جاری روسی حملوں کاجواب دینے کے لیے مزید طیاروں اور دفاعی نظام مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا انھوں نے صدرجوبائیڈن سے انگریزی میں براہ راست درخواست کے ساتھ اپنا خطاب ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ آپ دنیا کے رہنما بنیں دنیا کا رہ نما ہونے کا مطلب امن کا رہبربننا ہے-

    زیلنسکی نے اپنی تقریرمیں سنہ1941ء میں جزیرہ ہوائی میں پرل ہاربرپرجاپانی فورسزاور 2001ء میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے اغوا شدہ طیاروں کے ذریعے امریکا پر ماضی کے حملوں کا حوالہ دیا تھا انھوں نے جنوبی ڈکوٹا میں پہاڑوں کے کنارے واقع یادگارماؤنٹ رشمور کا بھی ذکر کیا تھا جس میں امریکا کے چارعظیم ترین صدور کے مجسم چہرے تھے۔

    واضح رہے کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے علاوہ جو بائیڈن اور بہت سے امریکی قانون سازوں نے ان خدشات کے پیش نظریوکرین میں نو فلائی زون کی مزاحمت کی ہے کہ اس سے جوہری ہتھیاروں سے لیس روس کے ساتھ تنازع بڑھ جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اب تک روسی ساختہ مِگ جنگی طیاروں کو یوکرین میں منتقل کرنے میں مدد کی تجویز کی حمایت نہیں کی ہے حالانکہ کانگریس کے بعض ارکان اس تجویز کے حامی ہیں۔

    زیلنسکی نے واشنگٹن میں امریکی قانون سازوں سے خطاب سے قبل کینیڈا کی پارلیمان سے روس پرمزید مغربی پابندیوں اور یوکرین پرنو فلائی زون کے نفاذ کی درخواست کی تھی۔

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    زیلنسکی نے اس سے قبل ایک ترجمان کے ذریعے تقریر میں کہا تھا کہ اس وقت ہمارے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔یوکرین کو ایسی دہشت گردی کا سامنا ہے جس کا تجربہ یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں کیا تھا زیلنسکی نے امن کے تحفظ اور قدرتی اور انسانی وجہ سے آنے والی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

    انھوں نے حالیہ ہفتوں میں یورپی اور برطانوی پارلیمانوں سمیت غیر ملکی سامعین سے مختلف تقریروں میں اپنے ملک کے خلاف روس کی جنگ کے مقابلے میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ری پبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں نے منقسم کانگریس میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہےدونوں جماعتوں کے کچھ قانون سازوں نے بائیڈن پر زوردیا ہے کہ وہ یوکرین کی مدد میں مزید آگے بڑھیں اور اس کوجنگی طیارے مہیا کیے جائیں-

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    قبل ازیں صدربائیڈن نے منگل کے روز یوکرین کومزید ہتھیاروں کے حصول اور انسانی امداد کے لیے 13.6 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کے قانون پردست خط کیے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن آج امریکی امداد سے متعلق تبصرے میں یوکرین کو 80 کروڑڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کریں گے۔

    منگل کو امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پرروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جنگی مجرم قراردینے کے لیے ایک مذمتی قرارداد منظور کی تھی اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ روس کے حملے کے بعد قریباً 30 لاکھ افراد یوکرین سے اپنا گھربارچھوڑ کرجاچکے ہیں ۔ان میں زیادہ ترخواتین اور بچے ہیں اور وہ پڑوسی ممالک، بالخصوص پولینڈ میں محفوظ پناہ کے خواہاں ہیں۔

    میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    خیال رہے کہ جنگ کے دوران غیرملکی رہنماؤں کا امریکی کانگریس سے خطاب شاذونادر ہی ہوتا ہے اس سے قبل1941ء برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پرل ہاربرپر جاپان کے حملے کے بعد کانگریس میں گفتگو کی تھی۔اس کے چند ہفتے کے بعد ہی امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوگیا تھا۔چرچل نے خبردارکیا تھاکہ بہت سی مایوسیاں اور ناخوشگوارحیرتیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔

    سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سابق روسی صدر بورس یلسن نے 1992ء میں کانگریس سے خطاب کیا تھا۔ یلسن نے اس حوصلہ افزا تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ہم اس دور کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں جب امریکا اورروس بندوقوں کی نالیوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا کرتے تھے اور کسی بھی وقت ٹریگر کھینچنے کوتیار تھے-

    لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس پر عاید کردہ حالیہ پابندیوں اور یوکرین کی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے اقدامات نے ایک مرتبہ پھر تاریخ دُہرائی ہے اور امریکااورسابق سوویت یونین کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری سرد جنگ کی یادیں تازہ کردی ہیں بورس یلسن نے اپنی مذکورہ تقریر میں اسی سردجنگ کا حوالہ دیا تھا۔

    یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت…

  • امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان نے امریکی صدر جوبائیڈن سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

    باغی ٹی وین: "دی گارجئین” کے مطابق یہ بڑا دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے کیا گیا ہے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان سےٹیلی فون پر رابطے کی کوشش کی ، دونوں سربراہان نے امریکی صدر کی کال لینے سے انکار کر دیا، کوشش ایسے وقت پر کی گئی جب امریکہ یوکرین کے لیے عالمی سطح پر حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ٕ

    روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر بم گرا دیا،2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک

    ایک امریکی اہلکار نے سعودی شہزادہ محمد اور بائیڈن کے بات کرنے کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ "فون کال کی کچھ توقع تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔” "یہ سعودی تیل کے سپیگوٹ کو آن کرنے کا حصہ تھا۔”

    امریکی اخبار نے مزید انکشاف کیا کہ جوبائیڈن تیل کی عالمی قیمت کو قابو میں رکھنے کے لیے کوشاں ہیں، سعودی عرب کے امریکا سے کچھ مطالبات ہیں، یمن جنگ میں امریکی مدد، سویلین جوہری پروگرام میں مدد مطالبات میں شامل ہیں۔

    گزشتہ ہفتے، OPEC، جس میں روس بھی شامل ہے، نے مغربی درخواستوں کے باوجود تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب بائیڈن انتظامیہ منگل کو روسی تیل کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے بعد تیل کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جو 14 سالوں میں بلند ترین سطح ہے۔

    روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

    خلیجی خطے میں امریکی پالیسی پر بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔

    شہزادہ محمد کے لیے امریکہ میں قانونی استثنیٰ بھی مطالبات میں شامل، اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد کو امریکہ میں چند مقدمات کا سامنا ہے، جو چار سال قبل استنبول کے قونصل خانے میں سعودی ہٹ ٹیم کے ہاتھوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمہ بھی ہے-

    انتخابی مہم میں بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خمیازہ ادا کرنے پر مجبور کریں گے، متحدہ عرب امارات کو بھی خوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں امریکی ردعمل پر خدشات ہیں۔

    مسائل میں ایران جوہری معاہدے کی بحالی شامل ہے۔ یمن کی خانہ جنگی میں سعودی مداخلت کے لیے امریکی حمایت کا فقدان اور حوثیوں کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے سے انکار؛ سعودی سویلین جوہری پروگرام میں امریکہ کی مدد بھی شامل ہے-

    فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا

    اس ہفتے کے شروع میں، وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ بائیڈن اور شہزادہ محمد کے درمیان جلد بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور صدر کے ریاض جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تصدیق کی۔ "آج، ہم تناؤ کے امتحان سے گزر رہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم اس سے نکل کر ایک بہتر مقام پر پہنچ جائیں گے،” العتیبہ نے پیش گوئی کی۔

    دونوں خلیجی ممالک قیمتوں میں اضافے کو کم کرنے کے لیے زیادہ تیل پمپ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے واحد عالمی سپلائرز کے طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔

    تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے، روس کی دھمکی

  • بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    امریکی صدر نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانا شروع کر دیں-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی خبررساں ادارے "الجزیرہ” کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا دوبارہ شروع کر دیں۔ انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں نافذ کیا تھا۔

    ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب ،یواے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے جمعہ کو ایران کی پابندیوں سے استثنیٰ کو بحال کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی پر بالواسطہ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔

    تاہم اہلکار نے کہا کہ استثنیٰ کو بحال کرنا اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ واشنگٹن معاہدے پر واپسی کے لیے سمجھوتہ کرنے کے قریب ہے پابندیوں سے اس چھوٹ کے بغیر تیسرے فریق کے ساتھ ذخیرے کو ٹھکانے لگانے اور عدم پھیلاؤ سے متعلق دیگر سرگرمیوں پر تفصیلی تکنیکی بات چیت کرنا ممکن نہیں ہے۔

    دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    اس استثنیٰ میں اراک میں ایران کے بھاری پانی کے تحقیقی ری ایکٹر کی تبدیلی، تہران کے تحقیقی ری ایکٹر کو افزودہ یورینیم کی فراہمی اور صرف شدہ ایندھن کی بیرون ملک منتقلی شامل ہے ٹرمپ کے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور دوبارہ سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران نے بتدریج معاہدے میں طے کی گئی جوہری پابندیوں کی خلاف ورزی شروع کر دی۔

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

  • امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر

    امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر

    امریکی حملے میں داعش سربراہ ہلاک،امریکی صدر
    شمالی شام میں امریکی حملے میں داعش کا سربراہ ہلاک ہو گیا ہے

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ کمانڈوآپریشن میں ابوابراہیم الہاشمی ہلاک ہو گیا، آپریشن میں شامل تمام امریکی فوجی بحفاظت واپس لوٹ آئے،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے سربراہ نے آپریشن کے دوران خود کودھماکے سےاڑا دیا، دھماکے میں ابوابراہیم کا خاندان بھی ہلاک ہو گیا،

    امریکی صدر جو بائیڈن نے آج جمعرات کو اعلان کیا کہ شمال مغربی شام میں خصوصی دستوں کی طرف سے کی گئی کارروائی میں "داعش” تنظیم کے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کو نشانہ بنایا گیا۔ ہے ،انہوں نے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا، "میری ہدایات کے تحت، شمال مغربی شام میں امریکی فوجی دستوں نے امریکی عوام اور ہمارے اتحادیوں کی حفاظت اور دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کے لیے دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے آپریشن کیا ہے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ "ہماری مسلح افواج کی مہارت اور حوصلے کی بدولت، داعش کے رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو میدان جنگ سے ہٹا دیا گیا،

    داعش کے سربراہ کی موت کی تصدیق کے لیے "ڈی این اے” کا تجزیہ کرنے کے لیے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی اشارہ کیا کہ آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں 3 خواتین بھی شامل ہیں جو کہ داعش کے سربراہ کی بیویاں ہوسکتی ہیں۔

    آج، جمعرات کو، پینٹاگون نے اعلان کیا کہ امریکی خصوصی آپریشنز فورسز نے شام کے شمال مغرب میں اہم غیر ملکی رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے مشن کو انجام دیا۔ ادلب میں امریکی لینڈنگ آپریشن کے ساتھ جھڑپیں 3 گھنٹے تک جاری رہیں۔

    شامی شہری دفاع نے اعلان کیا کہ شمالی شام میں امریکی حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔

    ابو ابراہیم الہاشمی القریشی، جن کا اصلی نام المولا یا حاجی عبداللہ بتایا جاتا ہے، 2019 میں داعش کے پہلے سربراہ ابو بکر البغدادی کی امریکی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد شدت پسند تنظیم کے سربراہ مقرر کیے گئے تھے امریکا کے محکمہ انصاف کی جانب سے ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی

  • حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

    حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

    حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے حوثی باغیوں کی جانب سے یو اے ای پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان کیا ہے

    خبرر ساں ادارے کے مطابق امریکا نے حوثی باغیوں کے حملوں کیخلاف متحدہ عرب امارات کو مدد فراہم کرنے کے لئے جنگی بحری جہاز اورجدید لڑاکا طیارے متحدہ عرب امارات بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں جنگی جہاز اورلڑاکا طیارے بھیجنے کا فیصلہ امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن اورابوظہبی کے کراؤن پرنس محمد بن زید النہیان کے درمیان ٹٰیلی فون پرگفتگو کے بعد کیا گیا ہے

    دوسری جانب بہت سے عربوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک حوثیوں کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر دوبارہ کیوں نامزد نہیں کیا، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تناظر میں، ایک طرف امریکہ یو اے ای کی مدد کرنا چاہتا ہے لیکن یو اے ای پر حملے کرنے والے حوثی باغیوں کو دہیشت گرد قرار نہیں دے رہا،

    عربوں کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے غلطی کی جب اس نے گزشتہ سال حوثیوں کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام نے مشرق وسطیٰ میں سب سے خطرناک دہشت گرد گروہوں میں سے ایک کی حوصلہ افزائی کی ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    عرب لیگ کے 22 ارکان نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرے، بین الاقوامی امور کے ماہر عاطف سعداوی کا کہنا ہے کہ "بائیڈن انتظامیہ اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہی ہے؟ کیا وہ تماشائی بننا جاری رکھنا چاہتی ہے؟اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اپنے متضاد موقف کو ختم کرے یمن میں اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری امریکہ پر ہے. بائیڈن انتظامیہ کا پہلا فیصلہ حوثیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنا تھا، اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔

    یمن کی جنگ دنیا کا بدترین انسانی بحران بن چکی ہے۔ امریکی ساختہ بموں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی قیادت میں فضائی حملوں میں اسکول کے بچے اور عام شہری مارے گئے ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں نے ملک کی خانہ جنگی کے دوران اندھا دھند بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

  • امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا  بیان پر طالبان کا ردعمل

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے انخلا کے سوال پربھڑک اٹھے اور الٹا صحافیوں پر ہی سوال داغ دیا کہ کیا آپ افغانوں کو ایک حکومت پر متحد کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر جوبائیڈن افغانستان سے فوجیوں کے انخلا اور 20 سالہ جنگ کو ضائع کرنے کے سوال پر صحافیوں پر برس پڑے اور جواب میں صحافیوں سے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کی وجہ یہ بھی تھی کہ جنگ زدہ ملک میں سب کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں رہا تھا اور اگر آپ میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ہاتھ کھڑا کرے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    صدر جوبائیڈن نے مزید کہا کہ افغانستان حکومتوں کا قبرستان اسی لیے رہا ہے کیوں کہ وہاں اتحاد ناپید ہے ہم ہر ہفتے اس 20 سالہ جنگ پر ایک ارب ڈالر خرچ کر رہے تھے اور مزید اس خرچے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہوا تھا اور ہم نے اسے عملی جامہ پہنایا ہے تاکہ قیمتی جانوں، وسائل اور اخراجات کو بچایا جا سکے۔

    دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے اتحاد سے ہی بیرونی حملہ آوروں اور طاقتور ممالک کو شکست دی۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    افغانستان میں طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنی ٹوئٹ میں افغانوں کے درمیان تقسیم اور اتحاد نہ ہونے کے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔


    ترجمان وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان غیر ملکی تسلط کے دوران کبھی متحد نہیں رہا بلکہ اکثریت حملہ آوروں کے خلاف اپنی قانونی جدوجہد میں مضبوطی سے متحد رہی ہے افغانستان کے بارے میں مسٹر بائیڈن کا "حکومت کا قبرستان” ہونے کا تبصرہ بذات خود افغان اتحاد کا اعتراف ہے۔


    ترجمان نے کہا کہ تقسیم نہیں بلکہ صرف "متحدہ” قومیں حملہ آوروں اور عظیم سلطنتوں کے زوال کا سبب بنتی ہیں قبضے کے خاتمے کے بعد، ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہم نےمحدود وسائل کے باوجود مختصر مدت میں امن قائم کیا مجموعی سلامتی کو یقینی بنایا، اور ملک میں مرکزی حکومت قائم کرکے افغان قوم کو متحد کیاہم نے اتحاد کے ذریعے ہی خود سے بڑی قوتوں کو شکست دی۔


    ترجمان عبدالقہار بلخی نے مزید کہا کہ افغانوں کے درمیان معمولی اختلافات بھی بیرونی حملہ آوروں کی جانب سے اپنی بقا کے لیے اکسانے کے باعث ہوا تھا اور ایسا تب ہی ہوا ہے جب افغانستان پر بیرونی حملہ آور حکومت کر رہے ہوافغانوں نے اپنے مشترکہ اسلامی عقائد، وطن اور معروف تاریخ کے ذریعے بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دی اور اب ایک برابری کی قوم بننے کی جانب گامزن ہیں-

  • "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    "اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون” کو امریکہ میں افراتفری نہیں پھیلانے دیں گے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں، ہمارے پاس دنیا کی بہترین ویکسین، ادویات، سائنسدان ہیں اور ہم ہر روز کچھ نیا سیکھ رہے ہیں۔ ہم افراتفری نہیں پھیلنے دیں گے اور اس ویریئنٹ کے خلاف سائنسی اور علمی طریقے سے انتہائی تیزی کے ساتھ نمٹیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اومی کرون کے خلاف لڑنے کیلئےاتنے وسائل ہیں جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھے، ہمارے پاس پانچ سال تک کے بچوں کو لگنے والی ویکسین بھی موجود ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ اومی کرون کے بارے میں یہ نہیں پتہ کہ وہ کتنا اور کیسے پھیلتا ہے اور اس کے خلاف ویکسین کتنی موثر ہے تاہم اس وقت سائنسدان کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔

    کرونا کی نئی قسم انتہائی خطرناک، کیسے بچ سکتے ہیں؟ ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتا دیا

    دوسری جانب یورپی ممالک اسپین اور سویڈن میں عالمی وبا کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے شہر میڈرڈ میں 51 سالہ شخص میں اومیکرون وائرس کی تشخیص ہوئی ہے متاثرہ شخص 28 نومبر کو جنوبی افریقہ سے واپس اسپین پہنچا تھا۔

    دوسری جانب سویڈن کے صحت کے حکام نے بھی ملک میں اومی کرون کے پہلے کیس کی تصدیق کر دی ہے اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقا سے واپس لوٹنے والے ایک شخص میں اومی کرون پایا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ کینیڈا میں دو اور برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے تین متاثرین سامنے آچکے ہیں برطانیہ میں ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے جبکہ بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں ماسک پہننا لازم قرار دے دیا گیا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

    کورونا کی نئی قسم کے متاثرین بوٹسوانا، ہانگ کانگ اور اسرائیل میں بھی پائے گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ سے نیدرلینڈز آنے والے سینکڑوں مسافروں میں اومیکرون کی تشخیص کی گئی ہے۔

    احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے کئی ممالک نے افریقی ملکوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، تاہم جنوبی افریقہ کے صدر نے سفری پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی جنوبی افریقی ممالک کے لیے پروازوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ سفری پابندیاں لگانے کی بجائے صحت سے متعلق عالمی قوائد وضوابط پر عمل کیا جائے، سفری پابندیوں سے اومی کرون کے پھلاو کو روکنے میں کم مدد ملے گئی، جبکہ عوامی اور معاشی مسائل زیادہ بڑھیں گے۔

    ڈبلیو ایچ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی بہت زیادہ میوٹیشنز والی قسم اومی کرون ممکنہ طور پر عالمی سطح پر پھیل جائے گی اور اس سے بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے جس کے کچھ خطوں میں تباہ کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

    کورونا کی نئی قسم،سی اے اے نے نیا سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا

    رپعرٹس کے مطابق عالمی ادارے نے بتایا کہ ابھی اومی کرون سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی اور اس کے ویکسینز ہا سابقہ بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف مزاحمت کے بارے جانچ پڑتال کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ ہفتے اومی کرون کے اولین کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور اب عالمی ادارہ صحت نے اپنے 194 رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ خطرات سے دوچار گروپس کے لیے ویکسینیشن کی رفتار بڑھائیں اور طبی سروسز کو مستحکم رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔

    عالمی وبا کورونا کی نئی قسم کو ’اومی کرون‘ کا نام کیوں دیا؟