Baaghi TV

Tag: امریکی صدر

  • امریکی صدر کا سعودی ولی عہد سے  ٹیلیفونک رابطہ

    امریکی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سعودی عرب پر ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کی،جنہیں مملکت کے فضائی دفاعی نظام نے روکا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خلاف ورزیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔صدر ٹرمپ نے خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی ایرانی خلاف ورزیوں سے نمنٹے کے حوالے سے تمام اقدامات کی حمایت کی-

    دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شامی صدر احمد الشرع سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی احمد الشرع نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام سعودی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے-

    علی خامنہ ای کی شہادت: اسلامی دنیا کی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگی، ایرانی صدر

    سعودی ولی عہد سے عمان کے فرمانروا سلطان ہیثم بن طارق نے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا رابطے میں ملٹری کشیدگی، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی پر اس کے اثرات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا لبنان کے صدر نے مملکت پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ لبنان کی حکومت اور عوام دونوں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے 27 امریکی اڈوں پر شدید حملے

    روئٹرز کے مطابق شمالی عراق میں اربیل ائرپورٹ کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہوگیا، جس کے بعد علاقے سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا، واقعے کی وجوہات اور ممکنہ نقصان سے متعلق فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں،خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کورمضان المبارک کی مبارکباد

    امریکی صدر ٹرمپ کی مسلمانوں کورمضان المبارک کی مبارکباد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے پر امریکی مسلمانوں کو مبارک باد دی ہے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ ٹروتھ‘ پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا آج میں رمضان منانے والے تمام لوگوں کو مبارک باد اور نیک تمنائیں بھیجتا ہوں،ہر رمضان روحانی تجدید، فکر و تدبر اور خدا کی بے شمار نعمتوں پر شکرگزاری کا ایک مقدس موقع فراہم کرتا ہے، بہت سے امریکیوں کے لیے یہ مقدس وقت عبادت اور روزے پر زور دیتا ہے، خاندانی اور سماجی تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور ہمدردی، خیرات، رحمدلی اور عاجزی کی ہماری مشترکہ اقدار کی توثیق کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عبادت کی آزادی کا خداداد حق ہماری قوم کی پہچان اور ہماری خوشحالی اور طاقت کا ستون ہے یہی وجہ ہے کہ ہر روز میری انتظامیہ اس امر کو یقینی بنانے میں مصروفِ عمل ہے کہ تمام شہری اپنے عقیدے پر عمل، اپنے ضمیر کی پیروی اور آزادی سے عبادت کر سکیں، کیونکہ مذہبی آزادی کا مطلب ہے کہ آپ کو فخر کے ساتھ اور کسی بھی ظلم و ستم کے خوف کے بغیر مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق حاصل ہو، فضل اور خیر سگالی کے اس موسم میں، میں گھر میں خوشی اور تشفی، دنیا بھر میں اتحاد و امن اور آنے والے سالوں میں برکتوں کے نزول کی دعا کرتا ہوں۔

  • امریکی صدر کی ری پبلکن پارٹی  میامی کے میئر کا الیکشن ہار گئی

    امریکی صدر کی ری پبلکن پارٹی میامی کے میئر کا الیکشن ہار گئی

    امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ(donald trump) کی ری پبلکن پارٹی میامی کے میئر کا الیکشن ہار گئی۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار ایلین ہگینز 59.46فیصد ووٹ لیکرکامیاب ہوگئیں ، ری پبلکن پارٹی کو میامی میں 30 سال بعد شکست ہوئی، ڈیمو کریٹ ایلین ہیگنز میامی کی پہلی خاتون میئر منتخب ہوئیں۔ایلین ہیگنز نے اپنی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ میامی کو ایک محفوظ، مضبوط اور زیادہ شمولیتی شہر بنانے کے لیے کام کریں گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ ری پبلکن پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک 2026 کے اہم مڈ ٹرم انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے،دوسری جانب، ڈیموکریٹس اس جیت کو ایک بڑے سیاسی بریک تھرو کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو آئندہ انتخابی ماحول پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کا مسلم کمیونٹی کیلیے افطار ڈنر

    وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کا مسلم کمیونٹی کیلیے افطار ڈنر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ افطار ڈنر کا اہتمام کیا،

    غیر ملکی میڈیا کے مطاق ٹرمپ نے رمضان کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے 2024 کے انتخابات میں مسلم کمیونٹی کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ شام بخیر اور اس خاص افطار ڈنر میں خوش آمدید۔ جیسے کہ ہم رمضان کے مقدس مہینے میں ہیں اور میں اپنے مسلمان دوستوں سے کہوں گا رمضان مبارک۔وائٹ ہاؤس کے اس تقریب میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں، سفارتکاروں اور حکومتی عہدیداروں نے شرکت کی۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رمضان روحانی غور و فکر اور خود پر قابو پانے کا موسم ہے۔ اس مقدس مہینے کے دوران مسلمان دن کے آغاز سے شام تک روزہ رکھتے ہیں، اپنی عبادت اور خدا کی رضا پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ پھر دنیا بھر کے مسلمان ہر رات اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ افطار کے ذریعے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور روزہ افطار کرتے ہیں۔ ہم سب دنیا بھر میں امن کی خواہش رکھتے ہیں۔

    پاکستان کرکٹ کے لیے برطانیہ سے بری خبر آ گئی

    فلسطین کے لیے مظاہرہ، امریکہ نے 300 طلبا کے ویزے منسوخ کردیے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایڈز کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کا حکم

    سندھ، ٹرک و ڈمپرز میں کیمرے ، ٹریکرز نصب کرنے کا حکم

  • امریکی صدر کی وفاقی ملازمین کو استعفے کی پیشکش کا آخری روز

    امریکی صدر کی وفاقی ملازمین کو استعفے کی پیشکش کا آخری روز

    امریکی صدر کا وفاقی ملازمین کو استعفے کی پیشکش کا آخری روز، استعفے کی صورت میں ملازمین کو ستمبر تک کی تںخواہ کی ادائیگی کی جائے گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ استعفے دینے والے ملازمین مزید کام نہیں کرسکیں گے،استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں ملازمین کو برطرف کیا جا سکتاہے،امریکی صدر نے لاکھوں وفاقی ملازمین کو استعفی کی پیشکش کی تھی۔اطلاعات کے مطابق کم از کم 40,000 سرکاری ملازمین نے آٹھ ماہ کے ریٹائرمنٹ پیکیج کے ساتھ استعفیٰ دینے پر اتفاق کیا ہے۔یہ خبر سی این این کے نشریاتی ادارے نے اس معاملے سے واقف ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے دی۔ این بی سی نیوز براڈ کاسٹر نے جنوری کے آخر میں بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سرکاری ملازمین کو آٹھ ماہ کے ریٹائر منٹ پیکج کی پیشکش کی جو رضا کارانہ طور پر استعفی دینے کے لیےتیار ہیں۔

    بتایا جارہا ہے کہ 10 فیصد امریکی افسران نے اس تجویز کو قبول کر لیا ہے جس سے حکومت کو اربوں ڈالر کی بچت ہو گی۔ براڈ کاسٹر کی رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر ، امریکہ میں تقریباً 20 لاکھ سرکاری ملازمین کو یہ پیشکش موصول ہوئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے براڈ کاسٹر کو بتایا شرائط کے تحت استعفیٰ دینے کے خواہشمند افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، لیکن دفتر برائے پر سنل مینجمنٹ ڈیڈ لائن کے بعد استعفوں کو قبول کرنا جاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے ہمدردی رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سام دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے، جس کے تحت فلسطینیوں کے حامی مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی کالج کے طلبہ اور دیگر غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام غیر ملکی جنہوں نے حماس کی حمایت میں جاری مظاہروں میں شرکت کی تھی، ہم آپ کو ڈھونڈیں گے اور ملک بدر کریں گے۔اس آرڈر میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ محکمہ انصاف کو حکم دیں کہ امریکی یہودیوں کے خلاف دہشت گردانہ دھمکی، توڑ پھوڑ اور تشدد پر جارحانہ بنیادوں پر کارروائی کریں۔ٹرمپ نے کہا کہ میں کالج کیمپس میں حماس کے تمام ہمدردوں کے اسٹوڈنٹ ویزے بھی فوری طور پر منسوخ کر دوں گا، جو بنیاد پرستی سے متاثر ہوئے۔

    واضح رہے کہ امریکا کی متعدد یونیورسٹیز میں فلسیطن کی حمایت میں طلبہ نے احتجاج کیا تھا جبکہ جامعات کی انتظامیہ اور فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان تناؤ کی فضا بھی رہی تھی، اس کے علاوہ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔احتجاج کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے تھے، جہاں بڑی تعداد میں مظاہرین نے جامعات کے میدانوں میں ’غزہ یکجہتی کیمپ‘ قائم کیے تھے اور یہ سلسلہ یالے، ایم آئی ٹی اور دیگر میں پھیل گیا تھا۔یاد رہے کہ غزہ میں 15 ماہ سے جاری لڑائی کے بعد 16 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 6 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں واپسی شامل ہے۔اس معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے بعد روزانہ 600 ٹرک انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی، 50 ٹرک ایندھن لے کر جائیں گے جبکہ 300 ٹرک شمال کی جانب مختص کیے جائیں گے، جہاں شہریوں کے لیے حالات خاص طور پر سخت ہیں۔

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    دبئی دنیا کا سب سے صاف ترین شہر قرار

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    سول اسپتال کراچی بجلی سے محروم، متعدد آپریشن ملتوی

    سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

  • ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم سرکاری اداروں کے آزادنہ حیثیت میں کام کرنے والے انسپکٹر جنرل کو برطرف کر دیا۔

    امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے اس معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن ایجنسیوں کے حکام کو برطرف کیا گیا ان میں دفاع، ریاست، نقل و حمل، سابق فوجیوں کے امور، ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ، داخلہ اور توانائی کے محکمے شامل ہیں۔نیویارک ٹائمز نے کہا کہ برطرفی کے احکامات نے 17 ایجنسیوں کو متاثر کیا لیکن محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل مائیکل ہورووٹز برطرفی سے محفوٖظ رہے۔واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ برطرفی کے احکامات بظاہر ان وفاقی قانون کی خلاف ورزی لگتے ہیں جن کے تحت کانگریس کو انسپکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے ادارے سے متعلق 30 دن کا نوٹس موصول کرنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر رپورٹس پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل ایک آزاد عہدہ ہے جو ضیاع، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعال سے متعلق آڈٹ، تحقیقات اور الزامات کے حوالے سے کام کرتا ہے، انہیں صدر یا متعلقہ ایجنسی کا سربراہ ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کس نے نامزد یا مقرر کیا۔برطرف کیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کو ٹرمپ کے 2017-2021 کے پہلے دور میں مقرر کیا گیا تھا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد کو وائٹ ہاؤس عملے کے ڈائریکٹر کی جانب سے ای میلز کے ذریعے فیصلے سے مطلع کیا گیا تھا کہ انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات 5 لاکھ روپے کرنے کی منظوری

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

    سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخواہ میں آپریشن، 30 خوارج ہلاک

    کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

  • صدر ٹرمپ کا  جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی  لگانےکا اعلان

    صدر ٹرمپ کا جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی لگانےکا اعلان

    دوسری بار صدر منتخب ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا امریکہ کا سنہری دور شروع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق امریکہ 47 ویں صدر کی حیثیث سے حلف اٹھانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف برداری کی تقریب میں شریک شرکا سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اب سنہری دور شروع ہوگیا، میرے دور میں امریکہ پہلی ترجیح ہوگا، اب امریکہ ترقی کرے گا، میری اولین ترجیج ایک ایسا ملک قائم کرنا جو مضبوط ہو، امریکی خود مختاری کو دوبارہ حاصل کریں گے، امریکا بہت جلد مضبوط، عظیم اور پہلے سے کہیں زیادہ کامیاب ملک بنے گا,سابق حکومتیں داخلی مسائل حل نہیں کرسکیں لیکن دنیا بھر میں مہنگی مہمات کرتی رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پچھلی انتظامیہ نے ہمارے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ’خطرناک مجرموں ‘ کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ’ غیر ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے لامحدود فنڈنگ ‘ دی ہے لیکن امریکی سرحدوں کے دفاع کے چیلنج کو نظر انداز کر دیا لیکن میں اور میری انتظامیہ سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نےسی بی پی ون نامی سرحدی ایپ کا استعمال ختم کر دیا،سی بی پی ون نے 10 لاکھ افراد کو قانونی طور پر کام کرنے کی اہلیت کے ساتھ امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ 8 سال مجھے جن مشکلات کا سامنا رہا امریکی تاریخ میں کسی اور کیساتھ ایسا نہیں ہوا، میں امریکا کو پھر سے عظیم بناؤں گا، آج کا دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے، میں اور میری انتظامیہ ملک کی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے، سابقہ انتظامیہ کے اقدامات کے باعث اب ہمارے پاس ایک ایسی حکومت ہے جو اندرون ملک ایک معمولی بحران سے بھی نمٹ نہیں سکتی،سیاہ فارم اور لاطینی امریکیوں کا شکریہ، میں نے اُن کے مسائل سنے ہیں۔ آج یعنی 20 جنوری مارٹن لوتھر کنگ ڈے ہے اور اس مناسبت سے میں اُن کے لئے کام کروں گا، میں امریکا کی جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کروں گا، آج تاریخی حکم ناموں پر دستخط کروں گا، ہم لاکھوں غیرقانونی تارکین وطن اور جرائم پیشہ افراد کو واپس بھجیں گے، منظم جرائم کے گروہوں کو غیرملکی دہشتگرد قرار دیں گے، اُن کے خلاف فوج کو استعمال کریں گے۔

    اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ اپنی کابینہ کو ہدایت کروں گا کہ ہر صورت میں مہنگائی پر قابو پائے، امریکہ ایک بار پھر دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ ملک بنے گا، میں امریکا کے تجارتی نظام کو فوری ٹھیک کرنے میں لگ جاؤں گا، میں تمام حکومتی سنسرشپ ختم کرنے کا فوری حکم دوں گا، امریکی عوام پر ٹیکسوں میں کمی کرونگا، ہم اپنے شہروں میں قانون کی بالادستی لائیں گے، امریکا کہ دشمنوں کو شکست دینگے۔ ہم ایک میرٹ والی سوسائٹی بنائیں گے ، اپنے ملک کو خطرات اور درندازیوں سے بچانا اولین ذمہ داری ہے، خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خیلج امریکا رکھ رہے ہیں، ہم پاناما کینال واپس لیں گے، امریکا میں آزاد اظہار رائے کی مکمل آزادی بحال کروں گا، مریخ پر خلائی مشن اور خلانوردوں کو بھیجیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سورج کی روشنی پوری دنیا پر پڑ رہی ہے اور امریکا کے پاس اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے جو پہلے کبھی نہیں تھا‘،لاس اینجلس آگ سے متعلق کہا کہ آگ نے کچھ امیر ترین اور طاقتور افراد کو متاثر کیا، جن میں سے کچھ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، ان کے پاس اب کوئی گھر نہیں ہے۔ امریکا میں صحت کا ایسا نظام موجود ہے جو آفت کے وقت کام نہیں کرتا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر ‘دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ’ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایک ایسا تعلیمی نظام ہے جو ’ہمارے بچوں کو خود پر شرمندہ ہونا سکھاتا ہے‘۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ‘یہ سب کچھ آج سے بدل جائے گا اور یہ بہت تیزی سے بدلے گا۔

    انہیں یہ مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ وہ امریکی عوام کے خلاف برسراقتدار لوگوں کی جانب سے ’خوفناک خیانت ‘ کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے اور عوام کو ان کا ایمان، ان کی دولت، جمہوریت اور ان کی مکمل شخصی آزادی دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج سے امریکا کے زوال کا دور ختم ہو چکا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں تمام سابق صدور اور تقریب میں شریک دیگر اہم شخصیات بشمول اپنی حریف سابق نائب صدر کملا ہیرس اور سابق صدر جو بائیڈن کا نام لے کر شکریہ ادا کیا۔

    ایک اور آئی پی پی کے ساتھ پاور معاہدہ ختم

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے معمر صدر بن گئے

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

  • ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کامقام تبدیل

    ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کامقام تبدیل

    20 جنوری ہونے والی امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے کیپیٹل روٹونڈا میں ہوں گی کیونکہ 20 جنوری کو موسم کے مزید سرد ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کےمطابق صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب اور دیگر تقاریر اب امریکی کیپیٹل کے اندرونی حصے (روٹونڈا) میں ہوں گی، اگلے ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہونے کی توقع ہے، جس کے باعث تقریب کا مقام تبدیل کیا گیا ہے۔اناؤگرل پریڈ اور تینوں اناؤگرل بالز بھی واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں اندر منعقد ہوں گے، آخری سرد موسم کی وجہ سے 1985 میں رونالڈ ریگن کی تقریب بھی باہر کی بجائے اندرونی حصہ میں ہوئی تھی۔

    امریکی صدر صدرٹرمپ نے اپنے Truth Social پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا: "میں نہیں چاہتا کہ کوئی زخمی یا متاثر ہو۔” یہ "خطرناک حالات” ہیں نہ صرف ہزاروں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، فرسٹ رسپانڈرز، اور پولیس بلکہ "لاکھوں” حامیوں کے لیے بھی۔لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اگر آپ آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو گرم لباس پہنیں۔”کیپیٹل ون ایرینا تقریب کو لائیو دیکھنے کے لیے کھلا ہوگا.خطرناک سرد موسم کی وجہ سے تقریب کو محفوظ بنانے کے لیے اندرونی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، اور ٹرمپ نے عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔

    پنجاب میں اسکول ٹیچرز انٹرن کی بھرتیوں کیلئے پالیسی جاری

    بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

    عمرہ ویزےکی آڑمیں انسانی اسمگلنگ کا بڑا منصوبہ ناکام

    پاک بحریہ کے سربراہ ، سیکرٹری دفاع سے بنگلہ دیشی جنرل کی ملاقاتیں

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان

  • جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر کی اضافی فوجی امداد کا اعلان کردیا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ میری ہدایت پر امریکا اس جنگ میں یوکرین کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے انتھک کام کرتا رہے گا۔ جو بائیڈن اپنے عہدے کے آخری ہفتوں کو نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل کیف فوجی امداد میں اضافے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔صدر جوبائیڈن کے اعلان میں امریکی ذخیروں سے حاصل ہونے والی ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد اور ایک ارب 22 کروڑ ڈالر کا یوکرین سیکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو (یو ایس اے آئی) پیکیج شامل ہے، جو بائیڈن کے دور کا آخری یو ایس اے آئی پیکیج ہے۔یو ایس اے آئی کے تحت فوجی ساز و سامان امریکی ذخیرے سے حاصل کرنے کے بجائے دفاعی صنعت یا شراکت داروں سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے میدان جنگ میں پہنچنے میں مہینوں یا سال لگ سکتے ہیں۔یوکرین پر روس کے حملے کو 3 سال مکمل ہو رہے ہیں، اور حال ہی میں روسی حکام نے شمالی کوریا کے فوجیوں کو اپنی جنگی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا ہے۔یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں فرنٹ لائن پر شمالی کوریا کی افواج کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور صرف گزشتہ ہفتے روس کے کرسک خطے میں ان کے ایک ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ایک بیان میں بائیڈن نے کہا کہ نئی فوجی امداد سے یوکرین کو فوری طور پر ایسی صلاحیتیں ملیں گی، جو وہ میدان جنگ اور فضائی دفاع، توپ خانے اور دیگر اہم ہتھیاروں کے نظام کی طویل المدتی فراہمی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔جنگ کے تقریباً 3 سال بعد، واشنگٹن نے یوکرین کے لیے مجموعی طور پر 175 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ غیر یقینی ہے کہ آیا نئی ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امداد اسی رفتار سے جاری رہے گی یا نہیں، جو 20 جنوری کو بائیڈن کی جگہ لیں گے۔

    گداگری کیلئے سعودیہ جانے کی کوشش، 2 غیر مسلم خواتین گرفتار

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے