Baaghi TV

Tag: امن معاہدہ

  • معاہدہ کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟کیا ایران کو  منجمد اثاثےملیں گے؟ڈی جے وینس کی میڈیا سے گفتگو

    معاہدہ کب عوام کے سامنے لایا جائے گا؟کیا ایران کو منجمد اثاثےملیں گے؟ڈی جے وینس کی میڈیا سے گفتگو

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو جمعے سے قبل ہی عوام کے سامنے جاری کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جے ڈی وینس نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران متعدد معروف نشریاتی اداروں سے گفتگو کی، جہاں انہوں نے ایران معاہدے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جواب دیا جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے الیکٹرانک دستخط کیے جا چکے ہیں، جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعے کے روز متوقع ہے، معاہدے کی بعض تفصیلات ابھی تک زیر غور ہیں، تاہم دونوں فریقین اہم نکات پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں،صدر ٹرمپ معاہدے کی تفصیلات کو جلد عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

    اے بی سی نیوز کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران سے متعلق معاہدے پر ڈیجیٹل طور پر دستخط ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے معاہدے کی بعض اہم تفصیلات کے بارے میں واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

    سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے ان خبروں کی تردید کی کہ ایران کو معاہدے کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے جائیں گے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض اطلاعات درست نہیں ہیں۔

    سی این بی سی کے پروگرام ’اسکواک باکس‘ میں جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، تاہم امریکا کے پاس مذاکرات میں مضبوط پوزیشن موجود ہے اور ’تمام اہم کارڈز‘ امریکا کے ہاتھ میں ہیں۔

    سی این این کے پروگرام ’دی لیڈ‘ میں انہوں نے ریپبلکن حلقوں کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

    فاکس نیوز کے پروگرام ’ہینیٹی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا تو اسے کسی بھی جانب سے مالی فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔

    این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نائب صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنگ کے خاتمے کے مجوزہ فریم ورک کے تحت بین الاقوامی جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران کا دورہ کریں گے اور جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک پر کام کر رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کی مسلسل میڈیا مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران معاہدے کے حوالے سے پیدا ہونے والے سیاسی اور عوامی سوالات کا جواب دینے اور اس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری تناؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکااور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا اورایران کے درمیان معاہدہ طے پانے پر عالمی برادری کا ردعمل سامنے آ گیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

    دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا، اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے، ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

    ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا،اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحا لی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہو گی تاہم اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

    اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،ترکیہ قطر ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے

    قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب اہم اور مثبت پیشرفت ہے، معاہدہ مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے، مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل تعریف ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہو گی، دنیا کو طویل عرصے سے ایسی مثبت خبر کا انتظار تھا معاہدے سے قبل اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے، ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے، امن معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ محفوظ بنے گا۔

  • خیبر پختونخوا، لوئر کرم اور صدہ قبائل کے امن معاہدے پر دستخط

    خیبر پختونخوا، لوئر کرم اور صدہ قبائل کے امن معاہدے پر دستخط

    خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر کرم اور صدہ کے قبائل نے صدہ فرنٹیئر کور قلعہ میں منعقدہ جرگے میں ایک سال کے لیے امن معاہدے پر اتفاق رائے اور دستخط کر دیے ہیں، جس میں مقامی معززین اور قبائلی سرداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مارچ کے مہینے میں کرم ضلع کے قبائلی رہنماؤں نے عیدالفطر سے پہلے آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدے پر بھی اتفاق کیا تھا، جو اب ایک سال تک بڑھا دیا گیا ہے۔یہ امن معاہدہ دہائیوں پرانے زمین کے تنازعات کے باعث ہونے والے تشدد کے خاتمے کی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس نے اس حساس ضلع میں کم از کم 130 افراد کی جانیں لے لی تھیں۔ اس سے پہلے جنوری میں مہینوں کے جاری تنازع کے بعد جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر لوئر کرم اشفاق خان، جنہوں نے اس جرگے کی صدارت کی، نےبتایا کہ انتظامیہ، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قبائلی رہنماؤں کی مسلسل کوششوں کے باعث امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوئر کرم اور صدہ کے مقامی قبائل کے درمیان ایک سال کے لیے امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘‘

    جرگہ صدہ فرنٹیئر کور قلعہ میں اہل سنت اور توری بنگش قبائل کے اہم سرداروں کے درمیان منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، سیکیورٹی فورسز، پولیس کے اعلیٰ افسران اور اسسٹنٹ کمشنرز بھی شریک تھے۔اشفاق خان نے بتایا کہ قبائلی عمائدین نے کوہاٹ معاہدے کی روشنی میں اس امن معاہدے پر دستخط کیے اور معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کیا گیا ہے، جس سے علاقے میں دیرپا امن کے قیام کی امید بڑھ گئی ہے۔

    ایرانی صدر کا پاکستان کا متوقع دورہ، تیاریاں حتمی مراحل میں

    اٹلی: چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، خاتون سمیت 2 افراد ہلاک

    استنبول میں روس یوکرین مذاکرات شروع، جنگ بندی کی امید

    اسلام آباد احتجاج کیس: عارف علوی، گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

  • ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

    فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ایسا امن معاہدہ پیش کیا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے رکھے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ شراکت دارممالک یوکرین میں امن و امان کیلئے مشترکہ منصوبہ پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ امن منصوبہ یوکرین کومضبوط سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرے، فرانسیسی صدرنے 30 دن کی جنگ بندی پررضامندی پریوکرینی صدرکی تعریف بھی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو اورکیف کے درمیان تنازع ختم کرنے پرامریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں ہیں اور اب روس پر ہے وہ یہ ثابت کرے کہ واقعی امن چاہتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی تجویز کی حمایت کرتے ہیں لیکن امریکا سے مزید تفصیلات درکار ہیں۔امریکا اور روس کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق بات چیت کے بعد یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی امریکی تجویز پر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے۔ امریکی صدر سے گفتگو کا مقصد یہ جاننا ہوگا کہ روس نے امریکا کو کیا پیشکش کی ہے، یہ جاننا بھی چاہتے ہیں کہ امریکا نے روس کو کیا پیشکش کی۔

    بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد ہلاک ، 40 لاپتا

    شاہد آفریدی کی کرکٹ ٹیم میں رد و بدل پر شدید تنقید

    شرم کی بات ہے پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتی، شرجیل میمن

  • کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے

    کرم میں شر پسند عناصر امن معاہدے کی ناکامی کیوں چاہتے ہیں

    دونوں فریقین بجائے اس کے کہ امن کمیٹیوں کی بات مانتے اور لڑائی روکتے، وہ سیکورٹی فورسز کو الزام دینے میں مصروف ہیں تاکہ اصل مسئلے کے حل سے توجہ ہٹ جائے-مگر یہ بات طے ہے کہ اگر امن کمیٹیوں کام نہ کریں اور اگر مقامی لوگ امن معائدے پے عمل درآمد نہ کروائیں تو پھر ریاست سے گلہ نہیں بنتا-

    آخر شر پسند عناصر گیم کیا کھیل رہے ہیں ؟؟
    16 جنوری 2025 کو لوئر کرم کے علاقے بگن کے قریب سامان رسد لے کر جانے والے قافلے پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا- اس سے پہلے 4 جنوری 2025 کو اسی علاقے میں ڈی سی کُرم کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا-ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جو کہ جلنے والی گاڑیوں کے ساتھ تھے اور جن کو شر پسندوں نے اغوا کر کے جان بحق کر دیا -اس کے علاوہ دو سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

    لوئر کرم میں پچھلے دو ہفتے میں امن معائدے کی دو بار خلاف فرضی کی جا چکی ہے –
    اگر دیکھا جائے تو شر پسند عناصر شائد اسلحہ نہ جمع کروانے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں-شر پسند عناصر شائد قومی بنکر بھی نہیں تباہ ہونے دینا چاہتے-شر پسند عناصر درحقیقت اس افرتفری اور ان خراب حالات سے حقیقی طور پے فائدہ اٹھاتے ہیں-تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ اگر ریاست نے آہنی ہاتھ کے ساتھ کاروائی شروع کر دی تو معصوم لوگوں کی زندگی بھی مشکلات کا شکار ہو گی -اگر اس علاقے کی امن کمیٹیاں اپنے وعدے کا پاس نہ رکھتے ہوئے مقامی شر پسندوں کو فائرنگ سے باز نہیں رکھ سکی تو پھر امن معائدے کی شرائط پوری کرتے ہوئے ریاست اس علاقے کے لوگوں کے compensation کے پیسے روکنے اور باقی کارروائیوں کا اختیار رکھتی ہے-

    سوال یہ ہے کیا امن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر اس مخصوص علاقے کے شر پسندوں کے خلاف ریاست کوئی ایکشن لے گی؟
    یاد رہے، یکم جنوری کو ہونے والے امن معاہدے میں امن کمیٹیوں نے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کی گارنٹی دے رکھی ہے۔واضح رہے کہ امن معاہدے کے مطابق، معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے کے ساتھ ساتھ اس کے علاقے میں کارروائی کی تجاویز دی گئی تھیں۔
    اب چونکہ کچھ لوگ اس معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں ، لہٰذا ریاست سے اپیل کی جاتی ہے کہ امن کے دشمنوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ایسے واقعات کا سدِ باب کیا جا سکے۔اس سے قبل امن دشمن عناصر کی ان حرکات کی وجہ سے پاڑا چنار کی اہم شاہراہ کئی ہفتوں سے بند ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ریاست سے گزارش ہے کہ ان امن دشمنوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ سڑکیں کھولی جا سکیں اور عوام کی زندگی کو سہل بنایا جائے.

    میرپور ماتھیلو:صحافت کی آڑ میں منشیات کا کاروبار کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    "میں سیف علی خان ہوں”، جب آٹو ڈرائیور کو پتا چلا کہ اس کا زخمی مسافرسیف تھا

  • لوئر کرم: گاڑی پر فائرنگ ، ڈپٹی کمشنر  زخمی

    لوئر کرم: گاڑی پر فائرنگ ، ڈپٹی کمشنر زخمی

    لوئر کرم کے علاقے بگن میں ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ضلعی انتظامیہ کا قافلہ بگن سے گزر رہا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، بگن کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کو گولیاں لگیں اور وہ زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا،

    پولیس کا کہنا ہے کہ بگن میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔ آر پی او کوہاٹ نے تصدیق کی کہ یہ فائرنگ کسی فریق کی جانب سے نہیں کی گئی بلکہ یہ حملہ نامعلوم افراد نے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور علاقے میں بھرپور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    فائرنگ کے دوران تین ایف سی اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں مزید علاج کے لیے ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق،امدادی قافلے کو ہنگو کی تحصیل ٹل سے کرم روانہ ہونا تھا، لیکن فائرنگ کے واقعے کے بعد قافلے کی روانگی میں تاخیر ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے اس وقت مشاورت اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ قافلہ مزید حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بعد روانہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلہ روانہ ہونے سے قبل سیکیورٹی کے مزید انتظامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کرم تنازع کے حوالے سے فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے تحت ٹل پارہ چنار شاہراہ کو تین ماہ بعد آج کھولا جانا تھا۔ اس معاہدے کے تحت 75 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو سکیورٹی حصار میں کرم روانہ کیا جانا تھا۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف نے اس بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ اس قافلے کی روانگی میں سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کیے جائیں گے۔

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور قافلے کی روانگی کے حوالے سے مزید مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی غیر متوقع صورتحال سے بچا جا سکے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور انتظامیہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ سرچ آپریشن جاری رہے گا تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے۔

    لوئرکرم، گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ، صدر مملکت، وزیرداخلہ، گورنر خیبر پختونخوا کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے لوئر کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے،صدر مملکت نےکرم میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شرپسند عناصر عوام کے دشمن، فساد پھیلانا چاہتے ہیں، عوام شرپسند عناصر کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دے، صدر مملکت نےڈپٹی کمشنر سمیت فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کیلئے جلد صحتیابی کی دعا کی،

    سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔وزیر داخلہ
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی.

    خیبر پختونخوا کےگورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ قابل مذمت ہے ،حملہ میں ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے،کرم۔ امدادی قافلہ پر فائرنگ صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کی جلد صحت یابی کے لیئے دعا گو ہوں

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کی وجہ سے فلائٹ سیفٹی کو خطرہ