Baaghi TV

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

امریکااور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا اورایران کے درمیان معاہدہ طے پانے پر عالمی برادری کا ردعمل سامنے آ گیا۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا، اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے، ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا،اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحا لی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہو گی تاہم اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،ترکیہ قطر ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے

قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب اہم اور مثبت پیشرفت ہے، معاہدہ مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے، مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل تعریف ہے۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہو گی، دنیا کو طویل عرصے سے ایسی مثبت خبر کا انتظار تھا معاہدے سے قبل اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے، ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے، امن معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ محفوظ بنے گا۔

More posts