Baaghi TV

Tag: انجنئیر ظفر اقبال وٹو

  • آر  یو  او کے؟ —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آر یو او کے؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ ایک مسافر کو ڈراپ کرکے واپس گھر جارہا تھا کہ شہر کے پوش ہوٹل کے باہرایک قطار میں لگے درجن بھر فلیگ پوسٹس پر اسے سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آیا ۔اس کا دل دھک سے باہر آگیا کیونکہ یہ ناروے کا ایک دور دراز قصبہ تھا جس میں وہ واحد پاکستانی تھا- اسے یہاں رہتے ہوئے کئی برس بیت گئے تھے لیکن کسی اور پاکستانی سےاس شہر میں اس کا سامنا نہیں ہوا تھا اور وہ بھی اب اس ماحول میں رچ بس گیا تھا-غیر ارادی طور پر اس نے اپنی ٹیکسی کا رخ ہوٹل کے صدر دروازے کی طرف موڑ دیا اور ٹیکسی پارکنگ میں لگا کر وہ ہوٹل کے میں گیٹ سے استقبالیہ کی طرف بڑھا –وہ حیران ہورہا تھا کہ اندر سے یہ ہوٹل کتنا بڑا اور شاندار تھا- وہ تو بس اس کے باہر سے ہی ہر دفعہ گزر جاتا تھا اور کبھی اس کے اندر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تھی-

    استقبالیہ پر بیٹھی سنہری رنگت کے بالوں والی نارویجئین لڑکی نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا ” میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں؟”-اس نے باہر لگے پاکستانی پرچم کا پوچھا کہ اس کو آج ہوٹل کے باہر لہرانے کی کیاخاص وجہ ہے؟ ۔ لڑکی نے بتایا ” ہمارے ہاں آج ایک پاکستانی مہمان بھی ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے یہ جھنڈا لگا دیا ہے۔”

    اس کا دل اس مہمان سے ملنے کے لئے مچل اٹھا جس کی وجہ سے آج اس دور دراز جگہ پر بھی سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھنے کا موقع ملا تھا۔اس نے اپنی خواہش کا اظہار لڑکی سے کیا جو کہ تھوڑی بہت منت ترلے کے بعد اس کا رابطہ اس پاکستانی مہمان سے کروانے پر راضی ہوگئی تھی اور اب ملِک میرے کمرے میں بیٹھا مجھے احترماًاس طرح دیکھ رہا تھا جیسے میں ابھی ابھی حج کرکے مکہ سے لوٹا ہوں۔وہ مجھے اپنے گھر آنے کی د دعوت دے رہا تھا تاہم میرا اگلے پورے ہفتے کا شیڈول ہائیڈروپاور پراجیکٹس کے لئے بک تھا اور ویک اینڈ پر ہی ملاقات ہو سکتی تھی۔

    میں خود اس طرح اتنی چھوٹی سے جگہ پر ایک ہم وطن کے ملنے پر خوش تھا اور اس سے ناروے میں ملنے والے کھانوں کے بارے میں شکوہ کر رہاتھا۔ پچھلے دوتین دن سے مسلسل ابلی ہوئی لوبیا، ابلے چاول اور آلو کھا کھا کر ٹیسٹ بڈ جواب دے چکے تھے ۔نمک مرچ کے شدید کمی کے شکار اس ملک میں اگلے چند ہفتے گزارانا مشکل نظر آرہا تھا۔ملک مجھے ناروے میں اپنی سیٹنگ بنانے کے قصے سنا رہا تھا کہ کس طرح وہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے خالی ہاتھ کسی نہ کسی طریقے سے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔پہلے ایک گوری سے شادی کی،پیپر ببنائے اور پھر جب کاغذ برابر ہوگئے تو پاکستان سے شادی کرکے بیگم کو لے آیا اور اب ماشااللہ اس کا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ اور تین ٹیکسیاں چل رہی تھی۔ دو بچے تھے جو کہ وہیں کی جم پو تھےاور اردو بمشکل ہی سمجھ سکتے تھے۔

    میں نے کہا” یہ بتاو ملک کہ ادھر تو پاکستانی نہیں ہیں تو تمھارا ریسٹورینٹ کیسے چلتا ہے”۔ کہنے لگا ” آپ بھی بڑے سادہ ہو۔ بھئی ہم گوروں کی خوراک اور مشروبات بیچتے ہیں ۔مجبوری ہے”۔ میں نے اسے کہا کہ اس کا مطلب ہے اب تم سیٹ ہوگئے ہو اور خوب مزے ہورہے ہیں۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تاہم وہ سنبھلتے ہوئے رونی صورت بنا کر بولا ” کہاں بھائی؟ مزے تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ ادھر تو پد مارنے کے لئے بھی حکومت کی اجازت لینی پڑتی ہے۔میں اپنے گھر میں ایک نیا باتھ روم بنانا چاہ رہا تھا۔ سب سے پہلے میونسپیلٹی کو درخواست دی۔ ان کے لوگوں نے فزیبیلٹی چیک کی کہ اس سے گھر بندوں کے لئے رہنے کی کم سے کم گنجائش تو متاثر نہیں ہوگی۔پھر ان کے لائسنس یافتہ نقشہ ساز سے گھر میں باتھ روم کا ترمیمی نقشی بنوایا۔ پھر ان کے منظور کردہ پلمبر سے پلمبنگ کا کام کروایا، بجلی والے سے بجلی اور پھر سینٹرل ہیٹنگ والے سے اس کا کام کیونکہ ہمیں یہاں باتھ روم ہر وقت خشک رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہوتے تو جس طرح مرضی بنا لیتے”۔

    پھر مزیذ فرمانے لگا کہ” میں یہاں ٹیکسی چلاتا ہوں لیکن ادھر کے قانون کی پابندی نے میری ڈرائیوننگ ایسی خراب کر دی ہے کہ قسم سے میں اب پاکستان میں جا کر خود گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ ٹھوک دیتا ہوں- اسی لئے اب پاکستان جاتے ہی میں سب سے پہلے رینٹ پر ڈرائیور سمیت کار لیتا ہوں جو میرے پورے قیام کے دوران میرے ساتھ رہتی ہے”۔میں نے کہا "یہ تو واقعی ظلم ہے "۔

    وہ ضد کرکے زبردستی مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں سٹی سنٹر کا چکر لگوانے لے گیا۔پھر اس نے مجھے ریل اسٹیشن بھی دکھایا ہم نے ایک جگہ سے کافی پی ۔ اب رات ہورہی تھی اور نائٹ لائف انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی تھی ۔ کلب اور بار آباد ہونے لگے تھے اور سڑک کنارے سجائی گئی کرسیوں پر نوجوان جوڑے بیٹھے پینے پلانے میں مشغول تھے-ہم نے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد واپسی کی راہ لی۔ سٹی سنٹر سے نکلتے ہی ایک اشارہ سرخ تھا لیکن ملک صاحب نےبائیں طرف کے بار کی طرف جاتے ہوئے ایک جوڑے کو مسلسل دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی آگے بڑھا لی جو مخالف سمت سے آنیوالی کار کے ساتھ ٹھک گئی۔ گاڑیوں کی ٹکر کی آواز سن کر سڑک کنارے بائیں طرف کے بار میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ داخل ہوتی لڑکی تیزی سے بھاگ کر ملک صاحب کی طرف دوڑی اور انہیں تھپتھپا کر بولی ۔۔۔”آر یو اوکے ڈیڈ”

  • آؤ کچھ نیا کر جائیں —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آؤ کچھ نیا کر جائیں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے۔۔۔“وقت سے پہلے تیاری”۔۔۔۔تاہم اب تک این ڈی ایم اے، فیڈرل فلڈ کمیشن یا واپڈا سمیت کوئی بھی ادارہ بارش یا سیلابی پانی کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرکے مستقبل کی پیش بندی کے لئےکسی بھی قسم کی مفید اور فوری قابل استعمال معلومات سامنے نہیں لائے۔ محکمہ موسمیات بھی ڈیٹا بیچنے کے چکر سے نکل کر مفاد عامہ کے لئے اسے پبلک اور قابل رسائی نہیں کرسکا۔

    دوسری طرف سیلابی نظام معیشت خوب پھل پھول رہا ہے۔ نقصانات کے اعدادوشمار 30 ارب ڈالر کا ہندسہ بتا رہے ہیں۔ ساہوکار خوش نما عالمی بنکوں اور مالیاتی اداروں کے روپ میں قرض دینے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور ہماری پٹاری میں اس قرض کو خرچ کرنے کے لئے کوئی قابل عمل منصوبے نہیں۔ الماریوں میں کئی سالوں سے پڑے پی سی ون کی جھاڑ پونچھ کرکے کنکریٹ، مٹی اور پتھر سے بننے والے منصوبوں پر قرض کی رقم خرچ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔تاہم عوامی بھلائی کے لئے اہم منصوبوں کا فقدان ہے جن پر اصل توجہ ہونی چاہیے۔

    غیر معمولی سیلاب سے ہونے والی تباہی ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔

    ۱-سیلاب کا پیشگی اطلاعاتی اور فوری ردعمل کا نظام

    زلزلے یا کووڈ کے برعکس سیلاب ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کی اب جدید نظام پیمائش کے ذریعے قبل از وقت پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔ بہت سے کمپیوٹر ماڈل اور سیٹیلائٹ ڈیٹا نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ خود ہمارے ہاں محکمہُ موسمیات اس سال طوفانی اور سیلابی صورت حال کی پیش گوئی دو ماہ پہلے ہی مئی کے اوائل میں کر چکا تھا۔تاہم یہ ایک بہت سطحی انداز میں کی گئی اور متعلقہ ادارے ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے مزے لینے میں مصروف تھے اور اس سے صرف نظر کر گئے۔پاکستان میں ایسا نظام دریائی سیلاب کی پیشگوئی کے لئے تو کسی حد تک کام کر رہا ہے لیکن دریائی نظام سے باہر اس کا وجود نہیں۔ اس سال کوہ سلیمان، کیرتھر رینج اور شمال مغربی بلوچستان سیلاب کا نشانہ تھے جو کہ انڈس روور سسٹم باہر ہیں۔

    ۲- محکمہ موسمیات کے نظام پیمائش کو جدید بنانا اور اس کی پہنچ کو بہتر بنانا

    محکمہ موسمیات کے پاس موجود بیش تر ریڈار اور آلات وقت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب کہ دنیا میں اس وقت سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے کئی ماہ پہلے موسمیاتی پیش گوئی کرنا ممکن ہوچکا لیکن ہمارے ہاں کوہ سلیمان اور شمالی بلوچستان کی سیلابی بارشوں کو وقت سے پہلے نہ پکڑا جاسکا۔ ژوب کے بعد محکمے کا اگلا موسمیاتی اسٹیشن ہی تین سو کلومیٹر دور کوئٹہ یا بارکھان میں ہے جب کہ سیلابی تباہی درمیان میں قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، لورالائی اور ہرنائی وغیرہ میں ہوتی رہی۔لہذا موسمیاتی اسٹیشنوں کا نیٹ ورک بڑھانا ہوگا اور عوامی مفاد میں پچھلے ۷۵ سالوں کا موسمیاتی ڈیٹا پبلک اور فری اور ہر کسی کے لئے قابل رسائی کرنا ہوگا۔

    ۳- ملکی سطح پر فلڈ میپنگ ، فلڈ زوننگ اور فلڈ زون بائی لاز

    ملک کےسیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔پورے ملک کی فلڈ زوننگ ہونی چاہئے اور تمام انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے فلڈ زون بائی لاز بننے چاہئیں۔ تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔ سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔ سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں۔

    ۴۔ قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا مقامی سطح تک پھیلاؤ

    قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا نظام کم ازکم تحصیل یا ٹاون کی سطح پر فوری طور پر استوار کیا جائے۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔ مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    ۵۔آفت سے پہلے بچاو کا انتظام

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں مقامی تربیت یافتہ لوگ اور رفاہی تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔

    ۶-فلڈ ریسکیو اینڈ ریلیف ایپ

    آئی ٹی کی جدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی ایپ لانچ کی جائے جوکہ سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرسکے اور پانی سے بچاو کے لئے راہنمائی کرے۔ اس ایپ میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سپورٹ کریں گے۔

    ۷- سیلاب موافق عمارتیں

    سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کی سطح سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ ک جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    ۸۔ ریسکیو کاموں میں جدت اور مقامیت

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر پور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔ آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کے مستقل راستوں کی باقاعدہ نشاندہی ہو۔

    ۹۔ تربیتی پروگرام

    این ڈی ایم اے , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    ۱۰۔ مستقبل کی عارضی پناہ گاہیں

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے این ڈی ایم اے کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں اونچی اور محفوظ جگہوں پر قائم خیمہ بستیوں کی جگہوں کو باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔ حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    ۱۱۔ موبائل ہسپتال اور موبائل صاف پانی

    سیلابی پانیوں میں گھرے لوگوں تک صحت اور خوراک پہنچانا سب سے مشکل مگر اہم کام ہے اور موبائل ہسپتال اور صاف پانی کے یونٹ سب سے موثر اور وسیع الاثر ثابت ہوتے ہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرز پر موٹر سائیکل بردار پیرا میڈیکل سٹاف اس معاملے میں سب سے اہم ہیں۔ اس معاملے میں الخدمت اس سال بھی کام کر رہی ہے لیکن اسے حکومتی سطح پر پھیلانا ہوگا اور بلوچستان ، چولستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں کے لئے تو یہ نظام سارے سال کی بنیاد پر استوار کر دینا چاہئے۔

    موسمیاتی تبدیلی کا حل اس آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے اوراپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئیں اور ریسکیو، ریلیف دیا اور اب بحالی کے کانوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اگلے سیلاب سے نپٹنے کی تیاری کون کر رہا ہے؟؟ آؤ کچھ نیا کر جائیں۔

  • نامعلوم انجمن —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نامعلوم انجمن — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تاریخ کا نہایت ہی اہم میچ شروع ہوا ہی چاہتا ہے ،ٹاس ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کھیلنے ٹیم کا اعلان ہی نہیں ہوا ۔ یہ میچ اس لئے بھی اہم ہے کہ تمام دنیا پاکستان کو سننے کے لئے آرہی ہے۔ آپ کے دکھ درد بانٹنا چاہتی ہے۔

    نومبر پاکستان میں COP کی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ایک اور سرخ نومبر ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ بدقسمتی سی بد قسمتی ہے کہ وہ ساری توجہ جو COP27 پر مرکوز ہونی چاہیے تھی وہ 29 نومبر پر ہے۔ تمام بڑے اپنی اپنی سودا بازی میں مصروف ہیں جب کہ دنیا شرم الشیخ مصر میں آپ کو سننے کے لئے آرہی ہے۔

    کانفرنس آف پارٹیز (COP27) اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن پر نظر رکھنے کے لئے قائم کی گئی جسے 1992 میں دنیا کے 154 ممالک نے دستخط کیا۔دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے تمام ممالک اس معاہدے کے تحت ماحول کی بہتری کے اقدامات کرنے کے پابند ہیں جب کہ اس سے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے قابل عمل منصوبوں کے لئے امداد دی جاتی ہے۔

    ‏COP کی 27 ویں سالانہ میٹنگ 6 نومبر کو شروع ہونے جارہی ہے لیکن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا کہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کر رہا اور پاکستان کون کون سے قابل عمل منصوبے اس میں فنڈنگ کے کئے لے کر جا رہا ہے۔کس طرح لابنگ اور مذاکرات ہوں گے؟ پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ٹاپ کے دس ممالک میں شامل ہے اور حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد دنیا ہمیں سننے کو بے تاب ہے۔ ہماری مدد کرنا چاہتی ہے۔

    چند دن پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اس بارے اجلاس بھی بھی ہوا لیکن اس میں انہیں COP پر بریفنگ دی گئی مگر پاکستانی وفد کے ناموں پر تاحال خاموشی ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار شرم الشیخ مصر جانے کا ہما کس کس کے سر پر بیٹھتا ہے کیونکہ کانفرنس 6 نومبر سے شروع ہورہی ہے ۔ ٹاس ہو چکا ہے میچ شروع ہونے جارہا ہے لیکن پلئیرز کو ابھی تک پتہ نہیں کہ کس نے کھیلنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری صاحب ایک نوجوان ، متحرک اور پڑھے لکھے وزیر خارجہ ہیں۔وہ پالیسی لیول پر تو اچھا بول لیتے ہیں لیکن نچلی کمیٹیوں کی سطح پر ان کے ساتھ اس کانفرنس میں اچھی ، سمجھدار اور کام کرنے والی ٹیم ہونی چاہئے۔ یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ امید ہے وہ اس دفعہ ایک مستعد ٹیم کا انتخاب کریں گے جو پاکستان کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکے۔

  • ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈھوک سکون — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ندی میں سرخی مائل پانی بہہ رہا تھا جس کی گہرائی نامعلوم تھی۔ندی کے پیندے میں پانی کے متعدد راستے تھے جن کے ساتھ ساتھ کوندر اور سر کے پودے تھے۔ ہمارے پانچ عدد ڈالے چیونٹیوں کی طرح قطار بنائے کچے راستے پر ندی کو پار کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن سرخ رنگ پانی کی دہشت سے ڈرتے تھے۔

    قافلے کی سب سے پہلی گاڑی ہماری تھی۔ میرے ڈرائیور قمر شاہ نے بسم اللہ پڑھ کر اللہ توکل پر گاڑی پانی میں ڈال دی اور احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے کھاڑی کے دوسرے کنارے پر لے آیا۔ اس کے بحفاظت دوسرے کنارے پر پہنچتے ہی پچھلی چاروں چیونٹیوں نے اس کے بنائے گئے راستے پر ندی پار کی اور پھر ہم ندی کی دوسری کھاڑی کو پار کرنے لگے جس کے بعد ندی میں ریت سے بنا ایک بہت بڑا بیلہ آگیا جس کے بالکل درمیان ندی کے اندر زندہ پیر موجود تھا۔

    بیلے کے وسط میں دس سے پندرہ فٹ کی قدرتی اونچائی تھی جس کے اوپر ایک مزار تھا۔ یہاں پر کوئی قبر نہ تھی بس مزار تھا۔ ایک مسجد بنی ہوئی تھی اور ساتھ ہی ایک برآمدہ۔ اس درگاہ کے اطراف میں تین چار فٹ اونچا اینٹوں کا چبوترہ بنا ہوا تھا اور درگاہ کو اونچے گھنے پرانے درختوں نے اپنے نیچے چھپایا ہوا تھا جس سے ماحول اور پراسرار نظر آتا تھا۔ ان درختوں پر کثیر تعداد میں رنگ برنگے کپڑے لٹکے ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں دلھا کے پہننے والے کلاہ بھی لٹکتے نظر آئے۔

    ہماری چیونٹیاں اس درگاہ کے اطراف بیلے پر پارک ہو چکی تھیں۔ اندر برآمدے میں چار بندے بیٹھے کسی ذکر میں مشغول تھے ان میں سے ایک چبوترے سے اتر کر ہمارے پاس آیا اور خاموشی سے ہمیں دیکھنے لگا۔ ہم نے یوں اچانک وارد ہو کر شائد ان کے مراقبے کو خراب کر دیا تھا۔

    درگاہ کے باہر لگے نلکے سے ہماری ٹیم کے لوگ پانی پینے لگے۔ندی کے پانی کی پیمائش کرنے اور پانی کی کوالٹی کی جانچ کرنے والی ٹیم کو یہ جگہ پسند آئی تھی۔ لہذا انہوں نے اپنا اسٹیشن یہاں لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ بوٹ اتار کر ندی کے پانی میں اترنے کی تیاری کرنے لگے۔

    ٹیم کے باقی لوگوں کو میں نے ایک گاڑی ادھر چھوڑ کر دوسری گاڑیوں میں اگلی کھاڑی پار کرکے دوسرے کنارے پر موجود گاوں کی طرف جانے کا کہا۔ گاوں ایک پہاڑ کے دامن میں آباد تھا اور میرا پروگرام اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر سروے اسٹیشن لگوانے کا تھا۔

    مزار کے چبوترے سے اترنے والا شخص ہماری بھاگ دوڑ دیکھ کر مسکرایا تھا اور میری نظر اس کی مسکراہٹ پر رک گئی تھی۔ میں نے اپنی پانی پیمائش ٹیم کے ایک بندے کو بلایا اور اس کے کان میں آہستگی سے سرگوشی کی کہ اس شخص سے گپ شپ لگا کر مزار کے متعلق معلومات ضرور لینا۔

    ہم گاوں کے پاس پہنچ گئے تھے جہاں پر میں نے اپنی سوشل اور ماحولیاتی ٹیم کے ممبران کو کہا کہ آپ لوگ گاوں میں پھیل جائیں اور یہاں کے سماج اور لوگوں کی خواہشات کو ٹٹو لیں۔ مسائل کی جانچ کریں اور پانی کی ضروریات کا اندازہ لگائیں۔

    میں پتھروں کی جانچ کرنے والی ٹیم، سروے ٹیم اور ڈیم کے ماہر انجنئیرز کو لے کر سڑک کے اس بلند ترین مقام کی طرف لپکا جہاں گاڑیاں چھوڑ کر ہمیں کو پیمائی شروع کرنی تھی ۔ گاڑی سے اتر کر جب چوٹی کی طرف اوپر دیکھا تو یہ خاردار گھنی جھاڑیوں سے پر تھی جن کے لامتناہی کانٹے ہمارے جسموں پر کٹ لگا کر ہمارے خون سے لاہوری چٹخاروں کا مزہ لینے کو بے تاب تھے۔ ہم پچھلی آتھ دنوں سے پوٹھوہار میں گھوم رہے تھے لیکن یہ چوٹی ہمیں سب سے بلند اور دشوار لگ رہی تھی۔

    ہم اللہ کا نام لے کر آہستہ آہستہ اوپر چڑھنے لگے۔یہ چڑھائی توقع سے زیادہ دشوار ثابت ہورہی تھی کیونکہ جھاڑیوں نے اس کے عمودی پن کو چھپا رکھا تھا۔ احسن رشید سب سے آگے جیالوجیکل ہتھوڑے سے جھاڑیوں میں راستہ بناتا جارہا تھا لیکن یہ اتنی زیادہ تھیں کہ ان میں سے بمشکل گزرا جاسکتا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ اپنے سروئیر اظہر کا خیال آرہا تھا جو کہ کئی کلو وزنی ایکو پمنٹ کندھے پر اٹھائے اوپر چڑھ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ اس کا اسسٹنٹ سروئیر ظہیر تھا جس نے راڈ اور باقی سامان پکڑا ہوا تھا۔ سخت گرمی اور حبس تھا اور دوپہر کا وقت۔ سب کی پانی کو بوتلیں خالی ہورہی تھیں اور واحد سہارہ سروئیر کے پاس موجود کولر نظر آرہا تھا جو کہ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ چڑھائی چڑھ رہا تھا۔

    نیچے زندہ پیر پر دھونی جما دی گئی تھی۔ندی کے عین وسط میں موجود اس مقبرے کو ندی میں آنے والا کوئی بڑے سے بڑا سیلاب بھی نقصان نہیں پہنچا سکا۔ پچھلے پچاس سال سے کئی ٹیمیں اس علاقے کا دورہ کرچکی تھیں لیکن وہ اس مقبرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھیں ۔“اس ٹیم نے بھی خوار ہو کر واپس جانا ہے۔ ہمیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں” مسکرانے والے بندے نے نیچے ہماری پانی پیمائش ٹیم کے ممبر کو بتایا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے کہا تھا “بابا اپنے آپ کو خود بچا لے گا”۔

    گاوں میں جانے والی سماجیات کی ٹیم ممبران کو میں نے لوگوں سے ڈھکے چھپے الفاظ میں بات چیت کرنے کا کہا تھا۔ کیوں کہ ہم ابھی ابتدائی جانچ کرنے آئے تھے۔ پتہ نہیں اس مقام کی موزونیت کے بارے کیا فیصلہ ہونا تھا لیکن کسی نے گاوں میں افواہ اڑا دی تھی کہ یہ گاوں ڈیم میں ڈوب جائے گا۔ میں نے اپنے لوگوں کو احتیاط برتنے کا کہا تھا۔ مجھے سب سے زیادہ پریشانی سروے ٹیم کے حوالے سے تھی کیوں کہ انہوں نے گاوں اور ندی میں جاکر پیمائشیں لینا تھیں جہاں کوئی بھی ان کے ساتھ الجھ سکتا تھا۔

    تاہم یہ گاوں ابھی تک خاموش تھا۔ لوگ ہمیں ندی میں پھرتا اور پہاڑوں پر چڑھتا دیکھ کر چپ تھے۔وہ ہم سے لاتعلق تھے اور یہی بات مجھے اور زیادہ پریشان کئے جارہی تھی ۔۔۔۔

    خدا خدا کرکے چڑھائی کا سفر طے ہوا جس کے دوران ہم پسینے سے بدحال ہوگئے۔ میرے سینے میں آکسیجن کی کمی سے درد ہو رہا تھا اور طرح طرح کے خیالات آنا شروع ہو چکے تھے۔ آخر وہ بندہ ہمیں پہاڑ کی طرف جاتا دیکھ کر ہنس کیوں رہا تھا؟۔۔۔۔

    چوٹی تک پہنچ کر ہم سب ہانپنے لگے تھے اور ایک پتھر پر بیٹھ کر کافی دیر تک سانس بحال کرتے رہے۔ چوٹی سے ایک بہت پیارا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ سرسبز چوٹیاں، ان کے درمیان سرخ رنگ بہتا پانی، پہاڑی ڈھلان پر تیزی سے اوپر آتا گاوں اور اس کے پیچھے تا حد نگاہ وسیع وعریض دریائی میدان۔

    سروے اسٹیشن لگ چکا تھا اور ہم نے پتھروں کی جانچ شروع کردی تھی۔ ڈیم انجنئیرز اور اس کے ساتھی اسٹرکچر کی مناسب جگہ دیکھنے پہاڑی پر آگے نکل گئے تھے جب کہ میں نیچے گاوں میں پارک اپنی چیونٹیوں کو دیکھ رہا تھا۔

    سروئیر نے ایک گاڑی پر اپنا بندہ بٹھا کر وسیع وعریض دریائی میدان میں ادھر ادھر بھگانا شروع کیا ہوا تھا۔ میں نے اسے ندی کے عین وسط میں موجود مزار کی بلندی پڑھنے کا بطور خاص کہا تھا جس سے فارغ ہونے کے بعد اب وہ پانی میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    ہماری ٹیم کو وہاں کام کرتے بہت وقت گزر چکا تھا لیکن ابھی تک کسی طرف سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تھی اور یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔ تاہم چوٹی سے نظارہ کرنے کے بعد اندازہ ہوگیا تھا کہ آبادی کے پھیلاؤ اور مزہبی مقامات کی موجودگی کی وجہ سے ہمیں شائد ڈیم سائٹ شفٹ کرنا پڑے۔

    میں نے وقت کا حساب کتاب لگایا تا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کوئی متبادل جگہ دیکھ لی جائے اور سروئیر کو وہاں چھوڑ کر باقی ٹیم کے ساتھ نیچے اترنا شروع کیا۔ پونے گھنٹے کی اتر ائی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر گاڑیوں میں بیٹھ کر مزار کے پاس سے دریائی بیلے میں اتر چکے تھے۔

    مزار پر دھونی جم چکی تھی۔اس بندے کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ جاری تھی۔ وہ ہمارے سروئیر کی پانی میں مست گھوڑی کی طرح بھاگتی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جو چند سیکنڈ کے لئے کہیں رکتی اور دوبارہ بھاگ پڑتی۔اس دوران سروئیر ریڈنگ لے لیتا۔

    ہم نے دریا میں پہاڑی کے ساتھ ساتھ دائیں جانب جانے کا قصد کیا اور روانگی پکڑی ہی تھی کہ سروئیر کی سفید گھوڑی دلدلی پانی میں پھنس چکی تھی۔ وہ دلدل سے نکلنے کے لئے جتنا زور لگاتی اتنا ہی نیچے بیٹھتی اور بالآخر اس کے پہئے سارے کے سارے زمین میں دھنس گئے۔ اسے ریسکیو کرنے کے لئے ایک اور گاڑی کو بھیج کر ہم آگے روانہ ہوگئے تاکہ مغرب سے پہلے دوسری سائٹ دیکھ لیں۔

    ہماری راہنمائی ایک مقامی ٹیچر کر رہے تھے جوکہ انتہائی کم گو آدمی تھی۔وہ ہمیں دریا کے ساتھ ساتھ ایک ایسے دوراہے پر لے گئے کہ جہاں سے آگے صرف پیدل کا پہاڑی راستہ تھا اور ادھر سے سورج غروب ہوچکا تھا۔ موبائل سگنل ندارد تھے اور بالآخر میں نے پیدل ٹیم کو واپسی کا حکم دے دیا۔ ہمارے دن کا اختتام ایک تنگ پتھریلے درے پر ناکامی سے ہورہا تھا۔ یہ ایک سخت دن تھا۔

    ندی کے اندر واپسی کا سفر اندھیرے میں شروع ہوا اور چند کلومیٹر واپس آنے بعد جیسے ہی موبائل سگنل آنا شروع ہوئے تو پتہ چلا کہ سفید گھوڑی کو بچاتے ہوئے ہماری کالی چیونٹی بھی دلدل میں پھنس چکی ہے۔ میں نے گاڑیاں تیز واپس بھگانے کا کہا جو کہ اندھیرے اور پتھریلے دریائی میدان پر ایک مشکل کام تھا۔ چشم تصور میں مجھے پورا گاوں ہماری گاڑیوں کا تماشا دیکھتے ہوئے نظر آنے لگا۔

    کالی چیونٹی باہر آچکی تھی لیکن سفید گھوڑی ابھی بھی دلدل میں گھڑی تھی۔ رات کے آتھ بج چکے تھے۔ مزار پر ایک دیا روشن تھا۔ ایک سایہ وہاں نظر آرہا تھا۔ ہم نے گاڑیاں پارک کرکے لائنیں جلائے رکھیں۔ بیلچے سے کافی کھدائی کرنے کے باوجود بھی گاڑی پھنسی ہوئی تھی۔ اس کی روشنیوں میں اردگرد کی دلدلی جھاڑیوں کے سائے بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔ ندی کے پانی کے اندر سے مینڈک بولنا شروع ہوگئے تھے۔ندی کا سرخ پانی بے رنگ ہوچکا تھا اور گاوں سے منگوایا گیا ٹریکٹر بھی گاڑی کو باہر گھینچ کر نہ نکال سکا تھا۔

    اس اندھیرے میں اب گاوں کے لوگ بھی آہستہ آہستہ ندی میں اتر کر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔کچھ نوجوان موٹر سائیکل پر پڑوس کے گاوں بھیج دئے گئے تاکہ ہل چلانے والا بھاری ٹریکٹر منگوایا جا سکے جو گاڑی کے اگلے ٹائر اٹھا کر دلدل سے باہر کھینچ سکے۔ عجیب لوگ تھے یہ گاوں والے بھی جو ہمیں خوار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ بلکہ وہ جلد از جلد ہماری وہاں سے روانگی چاہتے تھے۔ وہ اپنا سکون واپس چاہتے تھے۔ان کے لبوں پر کوئی شکوہ، کوئی طعنہ نہیں تھا۔

    آدھے گھنٹے کی مزیذ تگ و دو کے بعد سفید گھوڑی کو بڑا ٹریکٹر ایک ہیرو کی طرح نکال لایا تھا۔ ٹریکٹر والا ہم سے اس مدد کرنے کا کوئی معاوضہ لینے کو تیار نہیں تھا۔ وہ ڈیزل کے پیسے بھی نہیں لے رہا تھا۔ چیونٹیاں رات کے اندھیرے میں واپسی کو تیار تھیں۔ مزار کے درختوں سے دھواں نکلنا کم ہو گیا تھا۔ چبوترے پر ہلنے والا سایہ نیچے اتر کر روشنی میں آگیا تھا ۔ وہ ہمیں جاتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو “یہ ٹیم بھی خوار ہو کر جارہی ہے”۔

    میں وہاں اگلے چند دنوں میں واپس آنے کا سوچ رہا تھا۔ گاڑی میں خاموشی تھی۔گاڑی انتہائی ناہموار سڑک پر واپس جارہی تھی۔پہاڑی ڈھلوان پر اوپر نیچے بنے گاوں کے گھروں میں سکون تھا ۔۔۔ڈھوک سکون سونے کی تیاری کرہا تھا۔مزار سے دھواں اٹھنا بند ہوچکا تھا۔۔۔

  • کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر، سب سے بڑی اور پرانی بندرگاہ ، سارے ملک کے تمام شہروں کے اجتماعی ریونیو سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اکیلے شہر کراچی کی “ایڈمنسٹریشن سے شہر کے برساتی نالے صاف نہیں ہوسکے” (جیو نیوز رپورٹ) ۔ شہری اربن فلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔ کراچی والو فیر آیا جے غوری۔

    کراچی کے 41 بڑے اور 514 چھوٹے برساتی اور گندے پانی کی نکاسی کے نالے اس وقت گجر نالے اور اورنگی نالے کی قیادت میں ، شہر پر یلغار کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات ،صوبائی محکمہ برائے انتظام آفات اور کراچی کی شہری حکومت وارننگ جاری کرکے اپنے تئیں بری الذمہ ہو چکے ہیں۔ تاہم مجاہد کرینیں اور ان کے غازی مزدور نالوں سے کچرہ نکالنے کی نیم مردہ کوششیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر لاہور کے لکشمی چوک میں بھی بارشی پانی کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہے۔پنڈی کا نالہ لئی بھی خاموشی سے وار کرنے کے انتظار میں ہے۔

    اس سال کراچی ، لاہور اور پنڈی میں پھر وہی کہانی دہرائے جانے کے لئے تیار ہے ۔ہرسال کی طرح زور کی بارشیں،غضب کا مون سون ،تالاب منظر سڑکیں، گرتے مکانات ، مرنے والے عام شہری اور اربن فلڈنگ میں برباد ہوتی عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی۔

    اقتداریہ کے اجلاس پہ اجلاس، پانی نکالنے کی ہدایات، رپوٹوں کی طلبی، امداد کے اعلانات اور فوٹو سیشن، دو چار افسران کی سرزنش اور پھر آئندہ مون سون تک لمبی تان کر سونا۔ مجال ہے کہ اربن فلڈنگ کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بر وقت اقدامات کا سوچا جائے اور اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.80 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوجاتا ہے۔ جبکہ ہم سخت شرائط کے بعد 1ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے آج کل آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ہم اربن فلڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرکے ہر سال کئی ملین ڈالر کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا ڈرینیج ماسٹر پلان 1978 میں بن چکا تھا جس وقت بقول شخصے ملائیشیا کا وزیراعظم پاکستان سے گندم ادھار لینے کے لئے خود چل کر پاکستان آتا تھا ۔میں خود سنہ 2000 کی دھائی میں دو تین سال کوالالمپور کے اسٹریجک سٹارم واٹر مینیجمنٹ پلان پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہا تو معلوم ہوا کہ کوالالمپور کی شہری حکومت کی ہدایت ہے کہ ایسا منصوبہ بنا کر دیں کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں آدھے گھنٹے سے کم وقت کی اربن فلڈنگ بھی نہ ہو حالانکہ وہاں روزانہ اتنے بڑے حجم کی بارش (80 ملی میٹر) ہوتی ہے جتنے کی آج محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے پیشن گوئی کی ہوئی ہے اور کراچی شہر کی ایڈمنسٹریشن نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت کوالالمپور میں بارش ہونے اور اربن فلڈنگ کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا ریسپانس ٹائم ملتا تھا۔ اس پر بھی شہری حکومت نے ہمیں یہ وژن دیا کہ آپ بارش کو بھول کر ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں کہ بادلوں کے بننے کے پیٹرن سے اربن فلڈنگ کی پیشن گوئی ہوسکے جس سے ریسپانس ٹائم بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو محکمہ موسمیات پچھلے ایک مہینے سے چیخ رہا ہے لیکن ہم اپنے سب سے بڑے کمرشل ہب کراچی کے برساتی نالے نہ صاف کرسکے۔

    کراچی میں تو بارشی پانی کی نکاسی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہئے جہاں سمندر کی شکل میں اتنا بڑا نکاسی کا ڈرین موجود ہے۔ وفاقی حکومت اربن فلڈنگ کو اپر چیونٹی سمجھتے ہوئے فوری طور پر شہر کے اربن سٹارم واٹر منیجمنٹ پلان پر کام شروع کردے۔ کسی ایک بڑی سڑک کے نیچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سگنل فری سٹارم وے واٹر ٹنل بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے قطر کی (40فٹ تک) سرنگ ہو جس کے اندر دوتین منزلیں ہوں۔ سب سے نچلی منزل سارا سال گندے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہو جب کہ اوپر والا پہلا فلُور آنے والی ٹریفک اور دوسرا فلور جانے والی ٹریفک کے لئے استعمال ہو۔جس کا باقاعدہ ٹول ہو۔

    اس ٹنل پر 7/24 موٹروے پولیس پٹرول ، ایمرجنسی فون سروس، سائن بورڈ، بچاو کے راستے اور ایمرجنسی مینار ہوں گے۔ انہی میناروں سے تازہ ہوا کی فراہمی اور ٹریفک چلنے کی صورت میں ہوا کی کوالٹی ٹھیک رکھنے کے لئے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ کا بندوبست ہوگا۔

    اربن فلڈنگ کی وارننگ کی صورت میں ایک دن پہلے ہی ٹنل کے دونوں اوپر والے فلور ٹریفک کے لئے بند کر دئے جائیں اور مون سون کے دنوں میں ٹنل کے تینوں فلور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہوں۔ بارش کے دنوں میں شہری حکومت ٹنل کمپنی سے اسٹارم واٹر وےکرائے پر لے کر نکاسی آب کے لئےاستعمال کرے۔ بارش کا پانی گزر جانے کے بعد ٹنل کمپنی اس کی صفائی کرکے دوبارہ ٹریفک چلا دے۔

    عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کا انتظام کرنے والی کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اربن سٹارم واٹر وے استعمال کریں۔ شہر میں ٹریفک جام کم ہوں اور صاحب استطاعت شہریوں کا وقت بھی بچے۔

    یہ راستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ والے بھی استعمال کریں ۔ اقتداریہ بھی یہ راستہ استعمال کرکے عام آدمیوں کو پروٹوکول لگنے کی صورت میں ہونے والی تکلیف سے بچا سکتی ہے۔یہ ٹنل قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا سائیکلون کی صورت میں بطور پناہ گاہ بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور خدانخواستہ کسی جنگی صورت حال میں بطور بنکر بھی۔

    لاہور کے پانی کا قدرتی ڈرینیج دریائے راوی ہے جہاں تک بارشی پانی کو شہر کے بقیہ حصوں سے پہنچنے میں اوسطا 10 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت شہر میں ایک گندے نالے کو چھت ڈال کر سڑک کے لئے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس سے نالہ کچرہ پھینکنے سے بھی بچا ہوا ہے۔ تین چار جگہوں پر انڈر گراونڈ ٹینک بنا کر بھی بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھی کسی ایک بڑی سڑک جیسے مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کے نیچے دریائے راوی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے سگنل فری اسٹارم واٹر وے ٹنل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک اور بہترین راستہ لاہور کینال کے نیچے ٹنل بنانے کا ہے۔ٹنل کی مالک کمپنی سے LDA مون سون کے تین مہینوں کے لئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے ٹنل کرائے پر لے لے اور بقیہ 9 مہینوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اسٹارم وے استعمال کر لیں۔یہی کام نالہ لئی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی PPP پر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹنل والا تو بہت ہائی ٹیک اور مشکل کام ہے تو پھر کم ازکم لاہور شہر کی مثال سامنے رکھتے ہوئے برساتی گندے نالے کو چھت ڈالیں اور اوپر سڑک بنادیں جو ارد گرد کی سڑکوں سے نیچی ہو اور اس کی سائیڈ پر دیواریں ہوں ( سیمی انڈر پاس )۔ چھت کے نیچے والے پرانے نالے میں عام دنوں میں پانی چلے اور اوپر سیمی انڈر پاس پر ٹریفک چلے۔

    بارش کی صورت میں اوپر والی سیمی انڈر پاس سڑک پر بھی بارشی پانی ڈال دیں جو سگنل فری اسٹارم وے سے جلد ہی سمندر برد ہوجائے گا یا جاکر بوڑھے دریائے راوی کی پیاس بجھائے گا ۔ بارش ختم ہونے کے بعد پھر اس پر ٹریفک چلا دیں۔ہاں اس منصوبے کو کمرشل بنیادوں ہونا چاہئے۔

    سگنل فری سٹارم واٹر وے ٹنل ان اقدامات کے علاوہ ہوگی جو وقتا فوقتا بارشی پانی کی کھپت کے لئے عرض کرتا رہتا ہوں جیسے پارک، میدان اور کھلی جگہوں پر ڈونگی گروانڈ اور تالاب وغیرہ بنا کر پانی چوس کنوؤں (ری چارج ویل) کے ذریعے بارش کے پانی سے زیرزمین پانی تی چارج کرنا یا نشیبی جگہوں پر زیرزمین پانی ذخیرہ کرنے کے اسٹوریج ٹینک بنانا۔ واٹر بینک بنانا( میری گزشتہ کل کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔

    تو پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ دیر کس بات کی۔ اس دفعہ کراچی لاہور اور پنڈی کے شہری اپنے نمائندوں سے ضرور اس بارے مطالبہ کریں۔

  • ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ریڈ لائن — انجنئیر ظفراقبال وٹو

    ہم گھبیر ندی کے کنارے بیٹھے تھے اور اس پر مجوزہ ڈیم کی جھیل کے علاقے کو دیکھنا چاہتے تھے۔ ارشد فیاض صاحب چیف جیولوجسٹ نے سگریٹ کا کش لیا اور ایک گہرا سانس اندر لے کر بولے ۔۔۔۔دھیان سے جانا ۔ کئی سال پہلے ہم ایک ڈیم سائٹ کے دورے پر مجوزہ جھیل کے علاقے میں سروے کے لئے پہنچے تو گاوں والوں نے ہم پر کتے چھوڑ دئے تھے ۔ایک دوست بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور دوسرے نے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ تیسرا جو گاڑی کے پاس تھا اس نے جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور بھگالے گیا۔وہ لوگ اپنی زمینوں کے مجوزہ جھیل میں ڈوبنے کا سن کر شدید برہم تھے۔۔

    پھر انہوں نےمونچھوں کو تاؤ دینے کے بعد بتایا کہ کچھ دن بعد اسی ڈیم پر جیسے ہی ہم سروے کے لئے ڈیم سے نیچے والے علاقے میں پہنچے جہاں مجوزہ ڈیم کا نہری نظام بننا تھا تو لوگوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی۔ چائے پانی کیا اور ہمیں کہا کہ آپ نے کھانا کھائے بغیر نہیں جانا اور وہ بھی دیسی مرغ کا سالن۔

    ہر ڈیم انجنئیر کی زندگی ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ڈیم پراجیکٹ میں ڈیم وہ ریڈ لائن ہوتا ہے جس کے اوپر جھیل کا علاقہ ہمیشہ قربانی دیتا ہے اور ڈیم سے نیچے نہریں نکلنے والا علاقہ نفع لیتا ہے۔اسے آپ لائن آف کنٹرول بی کہہ سکتے ہیں جسے عبور کرنے پر آپ کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    کل سہ پہر ہم تین دوست کوتل کنڈ کے علاقے میں جب دو ڈھائی سوفٹ بلند تین چار چوٹیاں چڑھ کر ٹاپ پر پہنچے تو ہمیشہ کی طرح اپنے سامنے مجوزہ ڈیم، جھیل کا علاقہ اور اسپل وے کی لوکیشن کے لئے جائزہ لینے لگے۔ ٹاپ پر تین سو ساٹھ ڈگری کا نظارہ مل جاتا ہے۔

    ہم پسینے سے شرابور ہو چکے تھے اور پھلائی کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ کر ڈسکشن کرنے لگے۔ پتھروں کی ساخت پر باتیں ہونے لگیں۔ جھیل کی اسٹوریج کے اندازے لگانے لگے اور لوگوں کو پہنچنے والے ممکنہ فائدے پر باتیں ہونے لگیں جب کہ نیچے دریا میں ہماری گاڑیاں اور ٹیم کے دوسرے دوست نقطوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ کچھ دوست دریا کے چلتے پانی میں گھس کر اس کی پیمائش اور دوسرے ٹیسٹ کر رہے تھے جب کہ چند اور بائیں طرف کی پہاڑیوں پر نکل گئے تھے جہاں اونچائی پر ہمارے سروئیر نے انسٹرمنٹ لگایا ہوا تھا-

    ہمیں چوٹی پر چڑھے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ہاتھ میں کلہاڑی لئے سلیم وہاں نمودار ہوگیا تھا ۔ وہ ایک مقامی چرواہا تھا جو آس پاس کہیں پھر رہا رھا تھااور شاید اس نے ہماری باتیں سن لی تھیں ( پہاڑوں میں دور تک آواز جاتی ہے)۔ وہ اپنی چراگاہوں کے ڈوبنے پر خوش نہیں تھا اور اس کا سوال پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ اگر ہم نے ذرہ برابربھی اس کے علاقے میں چھیڑ خانی کی تو وہ اسی کلہاڑی سے ہمارے ٹکڑے کرکے چوٹی سے نیچے پھینک دے گا۔

    اس گرم گرم بات چیت میں میں نے اس کی نفسیات سے کھیلنے کے لئے اس سے پوچھا کہ اگر ہم مجوزہ ڈیم کو دریا پر اس کی جگہ سے ہزار دو ہزار فٹ اوپر بنائیں تو کیسا رہے گا۔ عین توقع کے مطابق اس نے جواب دیا کہ اگر ڈیم اوپر بن جائے تو پھر اس علاقے کو بہت فائدہ ہوگا ۔پاکستان سپر پاور بن جائے گا۔۔۔ یعنی کہ میری چراگاہوں میں قدم نہ رکھو دوسروں کو رگڑ دو۔

    میں کہا کہ ہاتھ ملاو اور اب ہمیں اس چوٹی سے نیچے اترنے کا آسان راستہ بتاو تاکہ ہم نیچے اتر کر ندی میں کہیں اوپر جاکر ڈیم کی جگہ دیکھیں اور تمھاری چراگاہوں سے نکل جائیں۔اس نے نہ صرف ہمیں آسان راستہ بتایا بلکہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ دیسی مرغی کے سالن سے ہماری تواضح بھی کرے۔

  • لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    لاوہ بھائی کے دیس میں اپنے گُرو سے ملاقات — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انجنئیرنگ یونیورسٹی کے تھرڈ ائیر میں جب لیاقت ہال میں کمرہ ملا ہوا تو پتہ چلا کہ کوریڈور میں میرے سامنے والے کمرے میں لاوہ بھائی رہائش پذیر ہیں۔ وہ بہت مہمان نواز اور ہر دلعزیز شخصیت تھے اور اسلامی جمعیت طلبا کے سرگرم رکن۔ ان کے کمرے میں ساتھی طالب علموں کی ٹریفک سارا دن رات چلتی اور ساتھ ہی کینٹین سے چائے کی سپلائی جاری رہتی۔

    چند دنوں بعد جب تھوڑا تعارف ہوا تو ہم نے لاوہ بھائی سے ڈرتے ڈرتے ان کے سلگتے ہوئے نام کی وجہ تسمیہ پوچھی تو وہ زور دار قہقہہ لگا کر بولے کہ یہ میرے پنڈ کا نام ہے۔ یو ای ٹی میں ایڈمشن ہوا تو میں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے کے دروازے پر عبدالرشید فرام لاوہ لکھ دیا۔ وہ دن اور آج کا دن ، اصل نام کی بجائے ہم مسٹر لاوہ اور پھر لاوہ بھائی مشہور ہو گئے۔ اصل نام کسی کو یاد بھی نہیں(مجھے بھی یاد نہیں)۔لاوہ اس زمانے میں جدید دنیا سے کٹے ایک ایسے گاوں کا بام تھا جس میں کوئی ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ نہیں جاتی تھی۔

    لاوہ بھائی کی یاد اتنے عرصے بعد اب اس طرح آئی کہ جب ہم لاوہ ڈیم کی سائٹ دیکھنے 13 ستمبر 2022 کو واقعی واقعی لاوہ جا پہنچے جو کہ ترقی کرتے اب ضلع چکوال کی ایک تحصیل بن چکا ہے۔ یہ قصبہ مغرب میں میانوالی کے بارڈ پر“ ترپی ندی” کے کنارے واقع ہے جس پر گوروں نے موجودہ پاکستان کے علاقے کا شائد سب سے پرانا نمل ڈیم 1913 میں بنایا تھا جو کہ اب مٹی سے بھر چکا ہے۔ اس ڈیم سے میانوالی کے علاقے موسی خیل کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں ۔تاہم لاوہ سے سے 20 کلومیٹر نیچے ہونے کی وجہ سے یہ قصبہ اس پانی سے فائدہ اٹھانے سے محروم تھا جو اس کے بغل سے ہوکر نمل جھیل کو جاکر بھرتا تھا۔

    لاوہ اب ایک لاکھ آبادی والا قصبہ بن چکا ہے جس کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ کافی دیر سے آرہا ہے کیونکہ زیرزمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے اور ترپی ندی بھی سارا سال نہیں چلتی جس سے قصبے کو پمپ کرکے پانی پہنچاتے ہیں۔ندی لاوہ قصبے سے کوئی کم ازکم پچاس فٹ نیچے بہتی ہے اور پی ایچ ای کا پمپ اسٹیشن اس کے کنارے ہے۔

    13 ستمبر کو ہم لمحکمہ آب پاشی کے آفیسر جاوید اقبال صاحب کے ہمراہ دندہ شاہ بلاول کے راستے اوہ پہنچے جہاں یہ میانوالی تلہ گنگ روڈ سے ہٹ کر جنوب میں 9کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔لاوہ بازار میں مسکراتے چہرے کے ساتھ جناب ظفر علی صاحب نے ہمارا استقبال کیا جو کہ مقامی تعلیمی ادارے کے پرنسپل رو چکے تھے اور کچھ فاصلے پر ہم جناب دوست محمد صاحب کو بھی لے کر آگے بڑھے۔ دوست محمد صاحب حال ہی میں محکمہ مال سے ریٹائر ہوئے ہیں اور لاوہ کی زمینداری سسٹم کو بہت سمجھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ گھمبیر ڈیم کی چک بندی کراچکے ہیں۔

    لاوہ کی واٹر سپلائی ٹینکی سے آگے ہم ترپی ندی میں اتر گئے اور گاڑیاں ندی کے کیچڑ بھرے پتھریلے راستے پر آگے بڑھنے لگیں۔ ایک جگہ راستہ نہ ہونے پر دائیں کنارے کے جنگل میں گھس گئے جس کی گھنی جھاڑیاں اور مٹی اڑاتا راستہ مستنصر حسین تارڑ کے ناول بہاؤ کے “رکھوں” کی یاد تازہ کرنے لگا۔

    چند کلومیٹر آگے چلنے کے بعد ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں لاوہ ڈیم بنائے جانے کا امکان ہے۔ ٹیم سائٹ ہر نکل کر اپنے اپنے کام میں جت گئی ۔ پہاڑوں کی جیالوجی چیک ہونے لگی، کچھ انجنئیر دریائی پانی کی پیمائش میں لگ گئے، کسی نے تعمیراتی میٹئیرئل کی تلاش شروع کردی اور کچھ سوشیالوجسٹ ساتھ کی آبادیوں کے سروے پر نکل گئے۔

    میری آنکھیں اپنے گُرو کی تلاش میں چاروں طرف گھومنے لگیں جو مجھے ہر ایسی دوردراز سائٹ پر بہت کچھ سکھا جاتا ہے ۔ تھوڑیسی تلاش کے بعد وہ استاد مجھے بائیں طرف کی پہاڑی پر اپنی بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ نظر آگیا ۔ یہ چرواہے کسی بھی سائٹ پر ہمارے سب سے پہلے استاد ہوتے ہیں جوکہ علاقے میں لمبے عرصے سے اپنے جانوروں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے سے اس کے چپے چپے سے واقف ہوتے ہیں۔ یہ بیک وقت ہائیڈورولجسٹ، جیالوجسٹ، سوشیالوجسٹ اور تاریخ دان ہوتے ہیں۔

    میں بائیں طرف کی پہاڑی چڑھ کرر لال خان تک پہنچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس 20 بکریاں ، 15 بھیڑیں اور 3 عدد گائیں ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ بچہ تھا تو اس وقت بھی اس سائٹ کا سروے ہوا تھا۔ یہاں بورنگ بھی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ ان مقامات کی نشاندہی کرسکتا ہے تو اس نے کہا کیوں نہیں۔ وہ سارا دن تو انہی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔

    لال خان نے مجھے اس علاقے کے لوگوں اور ان کے رسم و رواج ، کیچمنٹ میں موجود درختوں اور جڑی بوٹیوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے مجھے وہاں کی وائلڈ لائف بارے بتایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دریا میں کب کب کتنا کتنا پانی آیا۔ اس دوران اس کے ساتھ ہی پاس کے ڈیرے سے اس کا چچا دوست محمد بھی پہنچ چکا تھا ۔ اس عمر رسیدہ شخص سے ہم نے اس کی یاد میں یہاں آنے والے بڑے بڑے پانیوں کے متعلق پوچھا اور جب تک ہماری ٹیمیں کسم مکمل کرتیں ہم ظفر علی ، دوست محمد اور لال خان کے ہمراہ سائٹ کے کونے کھدرے چھانتے رہے۔ بحث چلتی رہی۔ظفر علی صاحب ایک بہت مستعد شخصیت کے مالک تھے جب کہ ان کے مقابلے میں دوست محمد صاحب ایک سنجیدہ شخص۔

    دوست محمد نے ہمیں بتایا کہ اس علاقے کی آبادی اعوان قبائل سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر لوگ ایک ہی دادے کی اولاد ہیں۔ لاوہ شہر وقت کے ساتھ ساتھ دریا کے کبھی ایک کنارے اور کبھی دوسرے کنارے بار بار آباد ہوتا رہا جس کی تاریخ میں کوئی خاص وجہ نہیں ملتی۔ نیزہ بازی یہاں کا مقبول کھیل ہے اور گھوڑے پالنا ایک شوق۔

    شام ڈھلے جب کام ختم ہوا تو ترپی ندی میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ہمیں بتائے بغیر ہمارے دوستوں نے لاوہ میں ملک اسلم کے ڈیرے پر چائے کے نام پر ہائی ٹی کا بندوبست کیا ہوا تھا۔اس مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم رات گئے واپس کلر کہار میں اپنے کیمپ آفس پہنچے جہاں سے زمینی سروے ٹیم کو اگلے دن لاوہ ڈیم کے سروے پر روانہ کرنا تھا۔

  • مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔

    تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔

    حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔

    بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔

    سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔

    کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    انقلابی واٹر وے — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    گوادر چائنہ کے “ون روڈ ۔ ون بیلٹ” جیسے جدید عالمی تجارتی راستے کا وہ صدر دروازہ ہے جس کے تالے کی کنجی گوادر سے چارسو کلومیٹر مشرق میں ہنگول نیشنل پارک کے قریب ہنگلاچ ماتا کے مندر میں پڑی ہوئی ہے۔ اس چابی سے وہ انقلابی واٹر وے کھلے گا جو ساحل مکران کی تمام بندرگاہوں اورماڑہ، پسنی ، گوادر اور جیونی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پینے کے صاف پانی کی قلت سے آزاد کرسکتا ہے۔

    سی پیک کے منصوبہ سازوں کو پنجاب اور سندھ میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ بنانا تو یاد رہے لیکن سی پیک کی روح گوادر شہر کے باسیوں کے لئے پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی فراہمی بھول گئی کہ جس کے بغیر کوئی شہر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ سی پیک منصوبہ ساز اتنی اہم جگہ کو نظرانداز کر گئے جس کا کھوج واپڈا کے انجنئیرز نے پچاس سال قبل لگا لیا تھا۔

    گوادر میں اب مولانا ہدایت الرحمن کی “حقوق دو” تحریک اقتدار میں آچکی ہے جس کا ایک بنیادی مطالبہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی تھا لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔گوادر کی صاف پانی کی ضرورت کا تخمینہ 7MGD لگایا گیا ہے جو کہ اگلے چند برسوں میں دوگنا ہونے جا رہا ہے ۔مغرب کی مدد سے لگایا جانے والا سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے والا ڈی سیلی نیشن پلانٹ بھی ناکارہ پڑا ہے۔

    گوادر شہر کو مستقل بنیادوں پر لمبے عرصے کے لئے اگر کہیں سے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکتا ہے تو وہ صرف مجوزہ ہنگول ڈیم ہی ہے جو کہ گوادر کے مشرق میں تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہ کراچی سے 250 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور کوسٹل ہائی وے پر اگھور نامی جگہ سے دریا کے پل سے تقریباً 16 کلومیٹر شمال میں ہنگول نیشنل پارک سے بھی آگے واقع ہے۔

    ہنگول ڈیم پہلے پہل ضلع آواران کی تحصیل جھل جاؤ میں چند ہزار ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لئے سوچا گیا منصوبہ جس میں بعد ازاں بجلی بنانے کی صلاحیت بھی نظر آئی۔ اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں سے سب سے بڑے شہر کراچی اور حتی کہ خلیجی ریاستوں کو پانی کی فراہمی کا بھی سوچا گیا لیکن یہ منصوبہ بوجوہ آگے نہ بڑھ سکا۔

    ہنگول ڈیم کے موجودہ مجوزہ ڈیزائن میں اس سے 65 ہزار ایکڑ سیراب کرنے کا پلان ہے۔ تاہم دس لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈیم کے پانی کا سب سے قیمتی استعمال زراعت کی بجائے مکران کے تمام ساحلی علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہونا چاہئے۔

    مجوزہ ہنگول ڈیم سے ساحل مکران کے اورماڑہ، پسنی، گوادر اور جیونی بندرگاہ کو ایک عام چھوٹی سی نہر سے قدرتی طور پر بنا بغیر کسی پمپنگ سے پانی پہنچانا ممکن ہے۔ یہ کام زمین کے اوپر یا زیر سمندر پائپ لائن بچھا کر بھی کیا جاسکتا ہے جس کی فزیبیلٹی چیک کرنا ہوگی۔

    یہ ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس کو اگر مناسب طریقے سے پیش کیا جائے تو بیرون ملک پاکستانیوں کا کنسورشئئم یا کوئی بھی ملٹی نیشنل کمپنی PPP موڈ پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ چڑھ کر کرنے کے لئے تیار ہوگی۔ حکومت وقت کا خرچہ بہت کم ہوگا اور فوائد سدا بہار ہوںگے۔

    ذیل کے نقشے میں ہنگول ڈیم سے ساحل مکران خصوصا گوادر تک صاف پانی پہنچانے کے آسان ترین روٹ لگا دئے گئے ہیں۔

    روٹ- 1 : عام سی چھوٹی نہر

    یہ روٹ پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے مجوزہ گریویٹی نہر کو دکھا رہا ہے۔ یہ نہرسادہ ترین طریقے سے ملکی وسائل، مقامی میٹیرئیل اور لیبر سے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر راستے میں کوسٹل ہائی وے کے ساتھ ساتھ چلے گی سوائے کنڈ ملیر سے آگے تھوڑے پہاڑی علاقے میں ایک چھوٹی ٹنل بنانی پڑے گی یا پھر اس پہاڑی کا بائی پاس کرنے کے لئے سمندرکے نیچے پائپ لائن کا سٹنٹ ڈالنا پڑے گا جو کہ سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا ہے۔اس روٹ پر نہر کی بجائے زیر زمین پائپ بھی بچھایا جا سکتا ہے۔

    روٹ۔ 2: سمندر کی تہہ میں پائپ لائن

    یہ پائپ لائن کنڈ ملیر تک 20 کلومیٹر نہر والے روٹ پر چلے گی اور اس سے آگے سمندر کی تہہ میں پائپ لائن بچھائی جائے (جسے سبز اور سرخ کلر کی لائن سے دکھایا گیا ہے)۔ کراچی کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک کمزور سی نیلی لائن بھی لگا دی ہے۔

    ان راستوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے روٹ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پانی دیتے آگے بڑھیں گے۔ اورماڑہ کے پاس حال ہی میں مکمل ہونے والے بسول ڈیم کی جھیل کو بھی اس خوابی واٹر وے سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ساحلی پہاڑیوں سے سمندر میں بہنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو بھی رام کرکے اس واٹر وے سے منسلک کرنے کی کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔

    اس واٹر وے کی صلاحیت صرف 45 کیوسک (30MGD) تک ہوگئی جسے فیز 2 میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہنگول ڈیم اس سے دس گنا زیادہ پانی بلا روک ٹوک فراہم کرسکے گا جب کہ گوادر کی موجودہ پانی کی ڈیمانڈ 10MGD بھی نہیں۔

    بعض لوگ اس واٹر وے کی 400 کلومیٹر لمبائی پر اعتراض کریں گے تو عرض ہے کہ کچھی کینال تونسہ بیراج سے 500 کلومیٹر دور ڈیرہ بگٹی اور کچھی کے میدانوں تک 6000 کیوسک پانی لانے کے لئے تعمیر ہوچکی ہے اور یہ سارا کام ہمارے مقامی انجنئیرز نے کیا ہے۔ اور اس کا روٹ کوسٹل واٹر وے سے کہیں زیادہ مشکل تھا جس میں تمام راستے میں دائیں طرف کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی نالوں کو کراس کرنا تھا۔

    تربت میں تعمیر شدہ میرانی ڈیم گوادر سے صرف 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ تاہم اس ڈیم سے گوادر کو پانی کی فراہمی کا روٹ بہت مشکل ہے جس میں بہت زیادہ لمبی ٹنل یا سرنگیں تعمیر کرنا پڑتی ہیں۔ دوسرے میرانی ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہنگول ڈیم سے کہیں کم ہے جس کہ وجہ سے یہ ہنگول ڈیم سے زیادہ توجہ حاصل نہیں کر پاتا اور مہنگا منصوبہ لگتا ہے۔

    ہنگول ڈیم کی تعمیر پر ہنگول نیشنل پارک اور ہنگلاچ ماتا کے مندر کے حوالے سے تحفظ ماحول تنظمیوں اور مقامی آبادی کو کچھ اعتراض تھے جنہیں دور کرنے کے لئے ہنگول ڈیم کو اپنی اصل جگہ سے 16 کلومیٹر شمال میں لے جایا گیا ہے تاکہ تمام لوگ مطمئن ہوں۔ تاہم اس عمل میں ہنگول ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت آدھی (دس لاکھ ایکڑ فٹ) رہ گئی ہے جو کہ پھر بھی ایک بہترین کیپیسٹی ہے۔

    امید ہے فیصلہ ساز بلوچستان کے ساحل مکران کی پینے کے صاف پانی کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان خطوط پر ضرور سوچیں گے اورگوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ضرور ملے گا۔