Baaghi TV

Tag: انجنئیر ظفر اقبال وٹو

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔