Baaghi TV

Tag: انٹرنیٹ

  • وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے آسان طریقے

    وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے آسان طریقے

    عصر حاضر میں انٹرنیٹ زندگی کی تقریباً ضرورت بن چکا ہے، موجودہ عہد میں اس کے لیے وائی فائی سگنلز پر انحصار کیا جاتا ہے،مگر اکثر وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار اتنی کم ہوتی ہے کہ ٹھنڈے مزاج کا فرد بھی چڑچڑا ہوجاتا ہے۔

    اگر آپکو وائی فائی کی رفتار کم محسوس ہوتی ہے تو ایسے متعدد طریقے ہیں جس سے آپ انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر کرسکتے ہیں۔

    راؤٹرز فرش پر مت رکھیں
    دیوار، فرش اور دھاتی اشیا کے قریب راؤٹرز رکھنے سے وائرلیس سگنلز متاثر ہوتے ہیں تو جس حد تک ممکن ہو اس طرح کی رکاوٹوں سے بچیں۔

    راؤٹر کا انٹینا بدل دیں
    راؤٹر کے انٹینا عموماً ہمہ جہتی ہوتے ہیں یعنی ہر سمت سگنل بھیجتے ہیں، تو اگر آپ نے گھر کے باہری حصے کے قریب راؤٹر کو رکھا ہے تو 50 فیصد سگنل تو باہری دنیا کو چلے جاتے ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ آج کل بیشتر راؤٹرز میں ریموو ایبل انٹینا ہوتے ہیں اور omnidirectional (ہمہ جہتی) انٹینا کو ہائی گین انٹینا سے بدل دیں، تاکہ وائرلیس سگنل اسی جانب جائیں جہاں آپ چاہتے ہیں۔

    مداخلت کم کریں
    سب سے عام وائرلیس ٹیکنالوجی 802.11 (وائرلیس جی) 2.4 گیگا ہرٹز فریکوئنسی پر کام کرتی ہے، متعدد وائرلیس مصنوعات جیسے مائیکرو ویو اوون کی فریکوئنسی بھی یہی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈیوائس اور راؤٹر کے درمیان مداخلت ہوتی ہے،اس سے بچنے کے لیے اگر آپ ڈوئل بینڈ راؤٹر استعمال کررہے ہیں تو اسے 2.4 سے 5 گیگا ہرٹز پر سوئچ کردیں۔5 گیگا ہرٹز سے نہ صرف انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر ہوگی بلکہ دیگر وائرلیس نیٹ ورکس اور ڈیوائسز سے سگنل میں مداخلت بھی کم ہوجائے گی، کیونکہ اس فریکوئنسی کو زیادہ عام استعمال نہیں کیا جاتا۔

    راؤٹر کیلئے درست مقام
    کسی عمارت کے مرکزی حصے میں راؤٹر کی موجودگی ہر جگہ انٹرنیٹ کوریج کے لیے اہم ہوتی ہے، مثال کے طور پر 2 منزلہ عمارت میں راؤٹر پہلی منزل پر ہو تو اسے کسی الماری یا شیلف کے اوپر رکھ دیں تاکہ دوسری منزل پر ڈیوائسز کو بہتر سگنلز مل سکیں۔

    چینل بدل دیں
    وائرلیس نیٹ ورکس کے سگنلز انٹرنیٹ اسپیڈ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، مگر جدید راؤٹرز میں مختلف چینلز پر سوئچ کرنا ممکن ہوتا ہے،بیشتر راؤٹرز آپ کے لیے مخصوص چینل منتخب کرتے ہیں تاہم اگر پڑوس کا وائرلیس نیٹ ورک بھی وہی چینل استعمال کررہا ہوں تو سگنل متاثر ہوسکتے ہیں۔ایک اچھا راؤٹر خودکار طور پر ان حالات میں چینل بدلنے کی کوشش کرتا ہے مگر پرانے یا سستے راؤٹر پہلے سے متعین چینل تک محدود رہتے ہیں،تو یہ محسوس ہو کہ آٹو سیٹنگ فائدہ مند نہیں تو راؤٹر کے ایڈمنسٹریٹر انٹرفیس میں جاکر خود چینل کو بدل دیں۔

    غیرضروری ڈیوائسز کو خارج کریں
    اگر آپ کا نیٹ ورک اوپن ہے یا پاس ورڈ کمزور ہے تو ہوسکتا ہے کہ ایک یا 2 افراد آپ کے نیٹ ورک کو بلااجازت استعمال کررہے ہوں،اگر یہ افراد آپ کے وائی فائی پر 4K ویڈیوز یا گیمز کھیل رہے ہوں تو آپ کا انٹرنیٹ متاثر ہوتا ہے۔راؤٹر کے ایڈمن انٹرفیس سے یہ جاننا ممکن ہے کہ کونسی ڈیوائسز زیادہ ڈیٹا استعمال کررہی ہیں جو ہوسکتا ہے کہ آپ کے گھر میں ہی کوئی فرد ہو۔

    مضبوط پاس ورڈ

    راؤٹر فرم وئیر کو اپ ڈیٹ کریں، راؤٹر بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اکثر مفت اپ ڈیٹس فراہم کی جاتی ہیں جس سے راؤٹر کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے،راؤٹر کی فرم وئیر اپ ڈیٹس کے لیے راؤٹر بنانے والی کمپنی کی ویب سائٹ پر جائیں۔

    راؤٹر اپ ڈیٹ کریں
    اگر آپ پرانے راؤٹر کو استعمال کررہے ہیں تو بہترین کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی، اس کا آسان حل یہی ہے کہ نئے جدید راؤٹرز کو استعمال کریں۔

    وائی فائی ایکسٹینڈر
    اگر کوئی طریقہ کام نہیں کررہا یا راؤٹر سیٹنگز بدلنا بہت مشکل لگتا ہے اور پیسے موجود ہیں تو وائی فائی ایکسٹینڈر خرید سکتے ہیں جس سے وائرلیس سگنل کو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

    راؤٹر ری اسٹارٹ کرلیں
    اگر کسی مسئلے کا سامنا ہے تو راؤٹر کو ری اسٹارٹ کرنا بھی انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے پر راؤٹر کم مداخلت والے چینل کا انتخاب کرے گا، مگر ایسا کبھی کبھار کرنا چاہیے۔

    سونا مہنگا ،قیمتیں پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

  • شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک  لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ان سیٹلائٹس کے کردار اور ان کے ذریعے ملک کے کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران شزا فاطمہ خواجہ نے ایل ای او سیٹلائٹ کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل ای او سیٹلائٹس کے ذریعے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھایا جا سکتا ہے اور یہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف پاکستان کی ضروریات کو پورا کرے بلکہ عالمی معیار کے مطابق بھی ہو۔

    اسٹارلنک، جو کہ ایک معروف سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے، کے لائسنس کی فراہمی اور اس کے لیے ریگولیٹری پیشرفت کا بھی اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ اسٹارلنک کے لائسنس کی فراہمی پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس پر بھی بات چیت کی گئی کہ اس پروسیس کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستانی صارفین کو عالمی معیار کی انٹرنیٹ سروسز میسر آئیں۔
    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹارلنک اور ایل ای او سیٹلائٹ کے لائسنس کے حوالے سے کنسلٹنٹ کی تقرری کو چند ہفتوں میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو ہم آہنگ کرنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ ہو سکے۔

    وزارت آئی ٹی نے اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کو عالمی معیار کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی موجودگی کو مستحکم کیا جا سکے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان کی سیٹلائٹ پالیسی کا عالمی سطح پر ایک مربوط اور جدید فریم ورک ہونا ضروری ہے تاکہ ملک کی ٹیکنالوجی میں ترقی ہو اور عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا جا سکے۔

    اس اجلاس کا مقصد نہ صرف پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا تھا بلکہ ملک میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک مربوط اور مضبوط حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رسائی بڑھائی جائے گی جو کہ پاکستان کے معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    یو اے ای نے واجب الادا دو ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ، وزیراعظم

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

  • اسٹار لنک سروس  کی  یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں میں موسم بہار تک لانچ متوقع

    اسٹار لنک سروس کی یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں میں موسم بہار تک لانچ متوقع

    ٹیکنالوجی کے ارب پتی شخصیت ایلن مسک کی اسٹار لنک وائی فائی سروس اب یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں پر دستیاب ہوگی۔ اس سروس کا آغاز بہار 2025 میں متوقع ہے، جس کے بعد یونائیٹڈ ایئر لائنز کے مسافر اب پروازوں کے دوران تیز رفتار انٹرنیٹ کا لطف اٹھا سکیں گے۔ یہ اقدام ایلن مسک کے کاروباری اثرورسوخ کی مزید توسیع کا غماز ہے، جس نے اپنی ٹیکنالوجی کی دنیا سے باہر مختلف صنعتوں میں قدم جمانا شروع کر دیا ہے۔

    یونائیٹڈ ایئر لائنز اسٹار لنک کی سروس کا ٹیسٹ فروری 2025 میں شروع کرے گا اور اس کے بعد پہلی کمرشل پرواز پر اسٹار لنک کی سروس فراہم کی جائے گی جو ایئر لائن کی ایمبرائر ای-175 طیارے پر ہو گی۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ 2025 کے آخر تک اپنی تمام ریجنل فلائٹس کو اسٹار لنک سروس سے لیس کر دیا جائے گا اور اسی سال کے آخر تک اس کی پہلی مین لائن پرواز میں بھی اسٹار لنک کا استعمال شروع ہو جائے گا۔یونائیٹڈ ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ اسٹار لنک سروس تمام ممبرز کے لیے مفت دستیاب ہوگی، جس میں اسٹریمنگ سروسز، خریداری، گیمز اور دیگر تفریحی مواد شامل ہوں گے۔ یہ معاہدہ یونائیٹڈ ایئر لائنز اور اسٹار لنک کے درمیان ستمبر 2024 میں طے پایا تھا۔

    ایلن مسک، جو ٹیسلا، اسپیس ایکس اور اسٹار لنک کی مالک کمپنیوں کے سربراہ ہیں، نے اپنے وسیع کاروباری پورٹ فولیو اور بے پناہ دولت کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کی دنیا سے باہر بھی اپنے اثرورسوخ کو بڑھایا ہے۔ یونائیٹڈ ایئر لائنز کے ساتھ معاہدہ ایک اور مثال ہے کہ کس طرح ان کی کمپنیاں مختلف امریکی صنعتوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئر لائنز واحد ایئر لائن نہیں ہے جو اپنی پروازوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہے۔ ستمبر 2024 میں ہوائی ایئر لائنز نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے تمام ایئر بس طیاروں پر اسٹار لنک کی سروس مفت فراہم کرے گا، جو ہوائی جزائر اور امریکہ کے درمیان سفر کرنے والی پروازوں میں شامل ہوگی۔ اسی طرح، نیم پرائیویٹ چارٹر کمپنی JSX بھی اپنی 46 طیاروں میں اسٹار لنک وائی فائی سروس فراہم کر رہی ہے۔ڈیلٹا ایئر لائنز نے 2023 کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ اس کے اسکائی مائلز پروگرام کے اراکین کو مفت وائی فائی فراہم کیا جائے گا۔ جبکہ جیٹ بلیو ایئر لائنز نے 2017 سے اپنی پروازوں میں مفت وائی فائی سروس متعارف کروا رکھی ہے۔

    ہوا بازی کی صنعت میں انٹرنیٹ سروسز کی تاریخ: انٹرنیٹ کی سہولت 2003 میں فراہم کی گئی تھی، جب طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے اپنی سروس "کنیسیکشن” کا آغاز کیا تھا۔ تاہم، بوئنگ نے 2006 میں اس سروس کو بند کر دیا کیونکہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ترقی نہ ہو سکی تھی۔

    یونائیٹڈ ایئر لائنز اور اسٹار لنک کا معاہدہ ایئر لائنز کی انٹرنیٹ سروسز کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ایلن مسک کی کاروباری حکمت عملی اور اسٹار لنک کی انٹرنیٹ کی فراہم کردہ سروسز نے ایئر لائنز کی مسافروں کے لیے سروسز کو نیا رخ دیا ہے، اور اس سے مستقبل میں دیگر ایئر لائنز کی جانب سے بھی اسی طرح کے اقدامات دیکھے جا سکتے ہیں۔

    کے پاپ، سفید رنگت، پتلے جسم اور نسوانی خصوصیات کو اہمیت

    سعود نے لالی ووڈ کی تباہی کا ذمہ دار 2 بڑی شخصیات کو ٹھہرا دیا

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین  کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    قومی اسمبلی اجلاس میں ایکس سمیت سوشل میڈیا ایپس، انٹرنیٹ کی سست روی پر آج بحث کی گئی

    قومی فرانزک ایجنسی بل 2024 پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل میں کچھ تکنیکی مسائل ہیں جنہیں دور ہونا چاہیے۔ بل کے تحت ایک ایسی سزا تجویز کی گئی ہے جو قابل اعتراض ہے۔شق 25 میں ایجنسی کے ماہر کو غلطی پر جرمانہ محض ایک لاکھ روپے تجویز کیا گیا۔ شازیہ مری نے جرمانے میں اضافے کی تجویز دے دی۔شازیہ مری نے فرانزک ایجنسی بل 2024 میں ترامیم کی تجویز دے دی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آج اگر بل منظور کر دیا جائے تو ترامیم کو بعد میں منظور کر لیا جائے گا۔ شازیہ مری نے اپنی تجویز کردہ ترامیم واپس لے لیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش کی قومی اسمبلی میں گونج دکھائی دی، زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ کیاایکس کو دوبارہ کھولنے کی کوئی امید ہے؟ سید نوید قمر نے کہا کہ وزیر مملکت کی موجودگی میں پارلیمانی سیکریٹری جواب نہیں دے سکتا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی اے کابینہ ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی کو جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ کابینہ ڈویژن کا چارج وزیراعظم کے پاس ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ریگولیٹری باڈیز کی اکثریت کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام ہیں۔

    وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ،عبدالقادر پٹیل
    سست انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش پر حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔پیپلز پارٹی اراکین نےسست انٹرنیٹ اور فائروال پر حکومت پر سخت تنقید کی، شازیہ مری نے کہا کہ یہ کونسی فائروال ہے ہم کس سے جواب لیں۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ انٹرنیٹ کی رفتار کا ستیاناس کر دیا گیا۔ وزارت بدحالی کا شکار ہے،انٹرنیٹ کا اتنا ستیاناس کیوں کیاگیا ہے۔ آئی ٹی سے جڑے لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔اتنی بدحالی کبھی کسی وزارت کی نہیں دیکھی جتنی اب ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے کابینہ ڈویژن نے کہا کہ وزارت داخلہ جونہی کہے گی حالات ٹھیک ہیں ہم ایکس کھول دیں گے۔

    اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے،شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ برائے سوالات میں سوشل میڈیا ایپ کی بندش سے متعلق جواب دیا اور کہا کہ پاکستان میں جتنی آزادی رائے ہے کسی اور ملک میں نہیں ہے.اگر اظہار رائے کی آزادی نہ ہوتی تو ٹک ٹاک اور فیس بک بھی بند ہوتے.پاکستان میں 2 فیصد سے بھی کم لوگ ایکس استعمال کرتے ہیں.ہمارے متعلق نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے.پی ٹی اے ایک خودمختار ادارہ ہے. پی ٹی اے ریگولیٹر کے طور پر کانٹینٹ کاذمہ دار ہے.ایکس کی بندش کے حوالے سے وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو سفارشات ارسال کی تھیں.قومی سلامتی کیلئے ڈیجیٹل حملوں سے بچنا ہوگا.دشمن ہروقت سوشل میڈیا کےذریعے سائبر حملوں کیلئے تیارب یٹھاہوتاہے.قومی سلامتی سے آگے کچھ نہیں ہونا چاہیے.ملک کی معیشت سنبھل چکی ہے.حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی لانے کیلئے کوشاں ہے.مسلم لیگ ن نے چھ سالوں میں 10لاکھ سےزائد لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے،

    ڈیجیٹل نیشن پاکستان پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ سیخ پا ہو گئیں، بولیں، اگر یہ بل نہیں پاس کرانا چاہتے تو واپس پتھر کے زمانے میں چلے جاتے ہیں اپنی گاڑیاں اور ٹی وی بند کریں،

    معروف کبڈی پلئیرسمیت چارنوجوان انسانی سمگلرزکے ہتھے چڑھ گئے

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

    میٹرو سٹی گوجر خان کی تقریب،گولیاں چل گئیں،ایک شخص کی موت

  • یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں  تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہم کچھ چھپائیں تو بات چھپ جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ وی پی این (ویئرچل پرائیویٹ نیٹ ورک) کو بلاک کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے ماضی میں بھی یہ اعلان کیا تھا کہ وہ وی پی این کو بلاک نہیں کریں گے اور آج تک ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

    یہ بات انہوں نے پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 کی لانچنگ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ "ہم پہلے بھی واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وی پی این کو بلاک کرسکتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ آج تک کسی وی پی این کو بلاک نہیں کیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ دور نہیں ہے جب ہم کچھ چھپائیں تو وہ چھپ جائے گا، بلکہ اب تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے قومی سلامتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جب قومی سیکورٹی کے حوالے سے سوالات کیے جاتے ہیں کہ انٹرنیٹ کیوں بند کیا گیا، تو ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔” انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی اے کو نیشنل سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کا اختیار نہیں ہے اور یہ سوالات پالیسی سازوں سے کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیشنل سیکیورٹی کے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ پالیسی ساز اداروں کی طرف سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ پی ٹی اے کا کام صرف ٹیلی کمیونیکیشن کی نگرانی اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی تک محدود ہے۔

    پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ 2024 میں پی ٹی اے کی کارکردگی، انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی سروسز، اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ پی ٹی اے مستقبل میں انٹرنیٹ کی سیکیورٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دے گا۔

    یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں وی پی این کا استعمال بڑھ رہا ہے، اور کچھ حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کو انٹرنیٹ کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اس پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ تاہم، پی ٹی اے کا موقف واضح ہے کہ وہ صارفین کی آزادی اور انٹرنیٹ کی سہولت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

    موبائل نمبر کے ذریعے وی پی این رجسٹریشن کی اجازت

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پی ٹی اے کا وی پی این پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

    وی پی این پر پابندی،پی ٹی اے کو نوٹس جاری،جواب طلب

  • انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،انٹرنیٹ اہم ضرورت ہے لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،

    اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹائزیشن کی جانب گامزن ہے، کرنسی کے استحکام نے انڈسٹری کو بہت فائدہ دیا ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، مسائل حل ہو رہے ہیں، انٹرنیٹ کی اسپیڈ اس طرح نہیں جس طرح ہونی چاہیے، دنیا تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے،حکومت ڈیجیٹائزیشن پر قانون سازی کے لیے کام کر رہی ہے، چیلنجز کے باوجود ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت اب بہتر ہو رہی ہے تو اُمید کرتے ہیں باقی چیزیں بھی بہتر ہوں گی۔

    شزہ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ امیدہے اگلے 5 سالوں میں ہم فائبرائزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے، رائٹ آف وے پر بڑی توجہ سے کام ہوا ہے،ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ نظر آئے گا جبکہ حکومت معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ٹی کی تربیت حاصل کرنے والےنوجوانوں کومبارکبادپیش کرتی ہوں،نوجوانوں کے بہترمستقبل کیلئے ٹیکنالوجی سے آراستہ کرناہوگا،آئی ٹی کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کررہی ہے،نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دے کرروزگار کے مواقع مہیا کر رہے ہیں،سائبرسکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں،حکومت آئی ٹی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہی ہے،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا، جس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے، ہر پاکستانی کی ڈیجیٹل شناخت بنانے کے لیے قانون سازی کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش ہو گا،بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہے جسے وزیرِ مملکت شزہ فاطمہ خواجہ پیش کریں گی،ڈیجیٹل شناخت بنانے کے بل کا مقصد سماجی، اقتصادی اور گورننس ڈیٹا تیار کرنا ہے،ایجنڈے کے مطابق قانون سازی ’پاکستان کو ڈیجیٹل قوم میں تبدیل کرنے، ڈیجیٹل سوسائٹی، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل گورننس کو فعال کرنے کے لیے فراہم کرے گی،ذرائع کے مطابق بل کا مقصد معیشت کو ڈیجیٹائز کرنا اور ای گورننس کو فروغ دینا ہے، حکومت 2 نئی باڈیز بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

    بل کے متن کے مطابق ایک باڈی نیشنل ڈیجیٹل کمیشن این ڈی سی ہو گی جس کی سربراہی وزیرِ اعظم کریں گے، باڈی میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور پی ٹی اے کے سربراہان شامل ہوں گے،دوسری باڈی پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ہو گی جس کی قیادت صنعت کے اعلیٰ ماہرین کریں گے، نئے نظام کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل شناخت بنائی جائے گی،بل کے متن کے مطابق شناخت میں فرد کی صحت، اثاثوں اور دیگر سماجی اشاریوں کے بارے میں ڈیٹا شامل ہو گا، شناختی کارڈ، لینڈ ریکارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹس اور صحت کے ریکارڈ کا انتظام کرنے والے محکموں تک رسائی بہتر بنانا ہے، ڈیجیٹلائزیشن کی کوشش سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گی، خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ہدف پر مبنی منصوبے دیے جائیں گے۔

    تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی میں ملوث نائجیرین گروہ گرفتار

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات سے کچھ نہیں نکلنا،شیخ رشید

  • پاکستان عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 ویں نمبر پر

    پاکستان عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 ویں نمبر پر

    ورلڈ پاپولیشن ریویو نے پاکستان کو عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں 198 واں نمبر دیا ہے، جس سے ملک کا انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں تنزلی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ پوزیشن فلسطین، بھوٹان، گھانا، عراق، ایران، لبنان اور لیبیا سے بھی نیچے ہے۔

    ورلڈ پاپولیشن ریویو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اوسط موبائل انٹرنیٹ ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 19.59 میگابٹس پر سیکنڈ (Mbps) ہے، جبکہ براڈبینڈ انٹرنیٹ کی اوسط اسپیڈ 15.52 میگابٹس پر سیکنڈ ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں انٹرنیٹ کی رفتار دیگر ممالک کی نسبت خاصی سست ہے۔رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر موبائل اور براڈبینڈ دونوں انٹرنیٹ کی رفتار میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد سنگاپور موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اور قطر براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رفتار میں سر فہرست ہیں۔ ہانگ کانگ اور چلی بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں مسلسل کمی کی وجہ سے صارفین کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور متواتر انٹرنیٹ بندش کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، جو صارفین کو ویب سائٹس کھولنے، میڈیا ڈاؤن لوڈ کرنے اور شئیر کرنے میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ اور دیگر مشہور پلیٹ فارمز پر میڈیا فائلز جیسے تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس بھی بھیجنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انٹرنیٹ کی سست رفتار کے باعث، صارفین کے لیے آن لائن کام، تعلیم، اور تفریح میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

    پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین، سید سجاد مصطفیٰ نے انٹرنیٹ کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ان مسائل کو تین ماہ کے اندر حل کرنے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر واٹس ایپ پر پیغام بھیجا جا رہا ہو لیکن تصاویر نہیں بھیجی جا رہیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ مانیٹرنگ ہو رہی ہے۔”چیئرمین نے مزید کہا کہ فائر وال کی تنصیب کے باعث انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جو مزید سست رفتار انٹرنیٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری کی توقع ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں صارفین کی مشکلات اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔اس صورتحال میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور دیگر مسائل نے پاکستان کے لاکھوں صارفین کی روزمرہ زندگی میں خلل ڈالا ہے، اور ان کے لیے آن لائن کام کرنا، تعلیم حاصل کرنا اور تفریح کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    ڈی چوک سے کون بھاگا؟ بشریٰ یا پی ٹی آئی قیادت

    عدالت پیش نہ ہونیوالی بشریٰ بی بی ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک

    رقص و سرور کی محفل،بیٹے موسیٰ اور سابق شوہر خاورمانیکا کو بشریٰ بی بی کب "تبلیغ” کریں گی

    بشریٰ بارے انٹرویو، مشال یوسف زئی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    بشریٰ بی بی کی سیاسی انٹری نئی نہیں،عمران خان کی بہن پھٹ پڑی

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

  • انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    انٹرنیٹ سست روی،پشاور ہائیکورٹ نے کیا جواب طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی سست روی پر وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیا گیا، جس میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے باعث عوام کو درپیش مشکلات اور اس کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میاں خیل شامل تھے، جنہوں نے اس درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار سے عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اور اس کا اثر ملک کے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) پر بھی پڑ رہا ہے۔

    وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ اکثر احتجاج یا کسی سیاسی معاملے کے دوران حکومت انٹرنیٹ سروس کو جان بوجھ کر سست کر دیتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست روی کو تسلیم کرتی ہے اور بعض اوقات ایسے اقدامات کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ کی اس سست رفتاری سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس پر جسٹس وقار احمد نے سوال کیا کہ "آپ کا مطلب ہے کہ حکومت انٹرنیٹ کی سست رفتاری کو تسلیم نہیں کر رہی؟” جس پر وکیل نے جواب دیا کہ "جی ہاں، حکومت اکثر اوقات انٹرنیٹ سروس کو مخصوص حالات میں سست کرتی ہے، اور یہ پہلے سے عوام کو بتایا بھی جاتا ہے۔”

    عدالت نے اس معاملے کی مزید تفصیل جاننے کے لیے وزارت داخلہ اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آئندہ سماعت تک انٹرنیٹ کی سست رفتار کے حوالے سے جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس اہم مسئلے پر مزید تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت کا وقت مقرر کردیا۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ سلو کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی پلوشہ خان نے کہا کہ وزارت آئی ٹی جو بھی اقدام اٹھاتی ہے ذمے داری وزارت داخلہ پر ڈال دیتی ہے، سمجھ نہیں آتی ہمارے پاس وزارت آئی ٹی کیوں ہے؟وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی تقاضے پورے کرتے ہوئے کوشش کر رہے ہیں آئی ٹی انڈسٹری پر کم سے کم اثرات ہوں۔ پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ یکم جنوری سے وی پی این کی لائسنسنگ شروع کر دیں گے، وی پی این کی لائسنسنگ سے مسئلہ حل ہو جائے گا، انٹرنیٹ وی پی این کی وجہ سے سلو نہیں۔

    کمیٹی ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ مجموعی طور پر سلو ہے۔،سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ انٹرنیٹ فائر وال کی وجہ سے سست ہو سکتا ہے،سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کی جانب سے انٹرنیٹ کی سست روی کی شکایات آ رہی ہیں، نیشنل سیکیورٹی کی صورت میں انٹرنیٹ سروس بند کرتے ہیں،سینیٹر کامران نے سوال کیا کہ کیا نیشنل سیکیورٹی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ بھارت کو نہیں ہوتا کیا،سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ 2018ء میں ہم نے وی ہی این رجسٹر کیے لیکن انٹرنیٹ پر کوئی مسئلہ نہیں ہوا، ہم نے بھی وائٹ لسٹنگ کی اور گرے ٹریفک روکنے کے لیے اقدامات کیے لیکن انٹرنیٹ متاثر نہیں ہوا۔

    چیئرمین پاکستان سافٹ وئیر ہاؤس ایسوسی ایشن (پاشا) سجاد سید کا کہنا کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا آئی ٹی انڈسٹری 30 فیصد کے حساب سے ترقی کر رہی ہے، نیشنل سیکورٹی کو خطرے کی صورت میں انٹرنیٹ سروس بند ہو سکتی ہے، تمام ممالک وی پی این کو مانیٹر کرتے ہیں،پاشا نے وی پی این سروس پروائیڈرز کی تجویز دی ہے، حکومت کو تجویز دی ہے کہ وی پی اینز کو مقامی سطح پر رجسٹر کرے کیونکہ فری وی پی اینز سے ڈیٹا سیکورٹی کے خطرات ہیں ، انٹرنیٹ آئی ٹی انڈسٹری کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، موجودہ صورتحال میں 99 فیصد آئی ٹی کمپنیوں نے خلل کی نشاندہی کی ہے، وزارت آئی ٹی کے ساتھ انٹرنیٹ میں خلل کا معاملہ اٹھایا ہے، پی ٹی اے نے آئی ٹی انڈسٹری کے خدشات دور کرنے کیلئے سیل بنایا۔

    سینیٹر افنان اللہ نے وزارت داخلہ کے حکام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کے تحت پی ٹی اے کو نہیں لکھ سکتے، جس پر وقار خان نے بتایا کہ ہم نے ایسا کوئی لیٹر نہیں لکھا جس میں سخت ہدایت دی ہو اس میں واضح طور پر If it all لکھا ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان کا کہنا تھا آپ کیسے وی پی این بند کرنے کیلئے ہدایات کر سکتے ہیں، پہلے آپ وی پی این کو غلط ثابت کریں پھر بند کریں۔ سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا کروڑوں صارفین متاثر ہو رہے ہیں اس کا حل نکالنا ہو گا،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ وقار خان نے بتایا کہ پیکا کے تحت وی پی این کو بند کر سکتے ہیں، جس پر سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا آپ پیکا ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی بند نہیں کرسکتے، کسی سوشل ٹول کو بند نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل کو کمیٹی میں آنا چاہیے تھا،

    ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔شزا فاطمہ
    وزیر مملکت برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزا فاطمہ نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیکا قوانین میں ترمیم زیر غور ہیں، فیک نیوز کو ہمیں ہی ریگولیٹ کرنا ہے، انٹرنیٹ سست ہونے کی ٹیکنیکل وجوہات بھی ہیں، انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے، ہم نے 3 برس میں آئی ٹی میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی، اپریل میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی ہو جائے گی،سینٹر افنان اللہ نے پوچھا کہ کس دہشت گرد نے وی پی این استعمال کیا ہے؟ جس پر وزیر مملکت شزا فاطمہ کا کہنا تھا میں سکیورٹی معاملات پر یہاں بات نہیں کر سکتی، کسی سکیورٹی وجوہات پر انٹرنیٹ بند کرنا پڑا تو بھاری دل سےکریں گے، آج انٹرنیٹ بالکل ٹھیک چل رہا ہے،چیئرمین پی ٹی اے سے دو دن پہلے بات کی کہ انٹرنیٹ میں کہاں کہاں چیلنج ہے لوکیشن کی نشاندہی کر دیں، ہم اسٹار لنک سے بات کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں۔

    وی پی این ،سوشل میڈیا پر پابندی، پی ٹی اے سے جواب طلب

    پچھلے اتوار 2 کروڑ پاکستانیوں نے غیراخلاقی سائٹس تک رسائی کی کوشش کی، چیئرمین پی ٹی اے

    اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن طاہر اشرفی کاوی پی این فتویٰ سے اختلاف

    فارم 47 پر آنے والا وزیراعظم شرعی ہے یا غیر شرعی؟حافظ نعیم الرحمان

    وی پی این غیرشرعی، فتویٰ پر کھراسچ میں مذہبی رہنماؤں کا ردعمل

    وی پی این کا استعمال غیر شرعی،فتویٰ غلط ہے،مولانا طارق جمیل

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام