Baaghi TV

Tag: او آئی سی

  • او آئی سی کی عمان کی بندرگاہ اور تیل ٹینکر پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت

    او آئی سی کی عمان کی بندرگاہ اور تیل ٹینکر پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ایران کی جانب سے سلطنت عمان کی دقم بندرگاہ اور عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر مبینہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کو عمان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے،بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا بین الاقوامی قانون اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں خطرناک کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے،ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    iran

    ایران کا بحیرۂ روم میں برطانوی فوجی اڈے پر حملہ

    او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ نے سلطنت عمان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمان نے ایران اور امریکا کے درمیان بحران کے پرامن حل کے لیے اہم اور قابلِ قدر ثالث کا کردار ادا کیا ہے،او آئی سی نے عمان کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا، تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تعمیری مذاکرات کو فروغ دیں۔

    برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

  • او آئی سی ہنگامی اجلاس کا ایجنڈا فلسطین ہے اور اس میں افغانستان شامل نہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    او آئی سی ہنگامی اجلاس کا ایجنڈا فلسطین ہے اور اس میں افغانستان شامل نہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے،جبکہ او آئی سی ہنگامی اجلاس کا ایجنڈا فلسطین ہے اور اس میں افغانستان شامل نہیں-

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیر قطر کی دعوت پر دوحا کا دورہ کیا، جس میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا،وزیراعظم اور امیر قطر کے درمیان اعلیٰ سطح کی بات چیت ہوئی اور قطر نے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی قبول کر لی، دورے کے دوران افغانستان کے معاملات اور دفاع کے شعبے میں بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور دہشتگردی کے دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں،قطر کی جانب سے پاک افغان مصالحت کی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں ،پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کی دھمکیوں کے مقابلے کے لیے مکمل تیار ہیں، افغانستان میں پاکستا نی شہریوں اور سفیروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان آگاہ ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔

    وزیرِاعظم کی لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز شہید کے اہلخانہ سے ملاقات

    ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی مؤقف پیش کرنے کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں، او آئی سی ہنگامی اجلاس کا ایجنڈا فلسطین ہے اور اس میں افغانستان شامل نہیں،ترجمان نے مغربی کنارے کو اسٹیٹ لینڈ میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت اور واضح مخالفت بھی کی۔

    انہوں نے کہا کہ رواں ماہ سمجھوتا ایکسپریس کے حملے کی 19ویں برسی ہے، جس میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے پاکستان نے بھارتی حکومت کی سنگ دلی اور 4 مجرموں کی رہائی کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، خصوصاً کشتواڑ ضلع میں 3 نوجوانوں کی شہادت کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارت جعلی انکاؤنٹرز اور کسٹوڈیل کلنگز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے پاکستان انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اداروں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور بھارت کو اپنے اعمال کا جوابدہ بنائے گا-

    ڈاکٹر طارق میمن کا تبادلہ : وفاقی آئینی عدالت نے واپڈا کو نوٹس جاری کردیا

    طاہر اندرابی نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہونے والی بات چیت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی انسانی حقوق کے معاہدات کا حصہ ہے اور اس طرح کے بیانات ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہیں، آخر میں آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کی سالگرہ کو یادگار ملٹری واقعہ قرار دیا۔

  • قطر پر اسرائیلی حملہ:او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس آج دوحہ میں ہوگا

    قطر پر اسرائیلی حملہ:او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس آج دوحہ میں ہوگا

    قطر پر اسرائیلی حملے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس آج دوحہ میں ہوگا۔

    اجلاس میں مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے اور پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کریں گےاجلاس میں ممکنہ طور پر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور ایک قرارداد کی منظوری متوقع ہے حکام کے مطابق یہ قرارداد کل ہونے والے او آئی سی سربراہی اجلاس کے لیے پیش کی جائے گی،سربراہی اجلاس پیر 15 ستمبر کو ہوگا جس میں وزیراعظم شہباز شریف بھی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ شرکت کریں گے وزیراعظم اس سے قبل اظہارِ یکجہتی کے طور پر قطر کا ایک روزہ دورہ بھی کر چکے ہیں۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس اجلاس میں اسرائیلی حملے پر باضابطہ قرارداد کے مسودے پر غور کیا جائے گا وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد بن محمد الانصاری نے کہا کہ یہ کانفرنس عرب اور اسلامی دنیا کی وسیع تر یکجہتی اور قطر کے ساتھ اظہارِ حمایت کی علامت ہے۔

    ایران کے مشہور گلوکار کنسرٹ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاںبحق

    ادھربرطانیہ، فرانس اور جرمنی نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے کی سخت مذمت کی ہےیورپی وزرائے خارجہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں جاری امن معاہدے کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے، وہ قطر کی ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور دوحہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے 9 ستمبر کو دوحہ میں کارروائی کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم حماس کے رہنما اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

    عظمیٰ بخاری کی معروف تھیٹر آرٹسٹوں سے ملاقات

  • او آئی سی نے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا

    ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے بعد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے 21 جون کو وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس طلب کر لیا،یہ اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں ہو گا-

    اجلاس میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف خصوصی سیشن ہوگا، جس میں رکن ممالک کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی،ترک صدر رجب طیب اردوان افتتاحی سیشن سے خطاب کریں گے، پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کریں گے، جو جمعہ کو استنبول پہنچیں گے وہ اجلاس میں ایران پر اسرائیلی حملوں سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح طور پر پیش کریں گے۔جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان بھی اجلاس میں شریک ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے –

    اجلاس کے دوران اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، اور بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ توحید حسین سمیت آذربائیجان، ترکیہ، ملائشیا، مصر اور کویت کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں طے ہیں،جبکہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کا اجلاس بھی اتوار کے روز استنبول میں منعقد ہوگا، جس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

    پہلگام واقعہ بھارت کی سیکیورٹی ناکامی تھی”امر جیت سنگھ دولت

    شیری رحمان کی ایوانِ صدر میں صدر مملکت سے اہم ملاقات

    بلاسود قرض کے نام پر آن لائن لوٹ مار، شہریوں کی زندگیاں تباہ، ریاستی ادارے محض تماشائی

  • او آئی سی کی خضدار بس حملے کی شدید مذمت،  لواحقین سے اظہارِ تعزیت

    او آئی سی کی خضدار بس حملے کی شدید مذمت، لواحقین سے اظہارِ تعزیت

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) نے بلوچستان کے شہر خضدار میں کمسن طلباء کی بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید طالب علموں اور دیگر افراد کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ او آئی سی کی جانب سےحملے کو ناقابلِ قبول اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ او آئی سی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

    سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ معصوم طلباء پر حملہ ایک بزدلانہ اقدام ہے جس کی کوئی مذہبی، اخلاقی یا انسانی توجیہ ممکن نہیں۔او آئی سی نے پاکستان میں قیامِ امن، دہشت گردی کے خاتمے اور معصوم جانوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، مزید 40 شہادتیں

    سابق ’را‘ چیف اے ایس دلت کا صحافی سے جھگڑا، دھکے دے کر باہر نکال دیا

    راولپنڈی میں ڈکیتی کے دوران بزرگ شہری جاں بحق

    برطانوی ایجنسی نے حسینہ واجد کی بھانجی اور سابق منسٹر ٹولپ صدیق کو بڑا جھٹکا دے دیا

    وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ترک صدر اردوان کی اہم ملاقات

  • او آئی سی کی بھارت میں اسلاموفوبیا اور کشمیری مسلمانوں پر مظالم  کی مذمت

    او آئی سی کی بھارت میں اسلاموفوبیا اور کشمیری مسلمانوں پر مظالم کی مذمت

    او آئی سی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نفرت انگیز حملوں کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کرائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل آزاد انسانی حقوق کمیشن نے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں پر حملوں میں خطرناک اضافے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔کمیشن نے حالیہ پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔کمیشن نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں اجتماعی سزا، سیاسی قید، اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں لگا کر ظلم کر رہا ہے۔

    او آئی سی نے ایک بار پھر 5 اگست 2019 کو بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کر دیا اور مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ اور او آئی سی کے مشن کی رسائی کا مطالبہ کیا۔انسانی حقوق کمیشن نے سیاسی قیدیوں کی رہائی، بنیادی حقوق کی بحالی، اور عالمی فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کی اپیل بھی کی ہے۔او آئی سی نے اپنا دیرینہ مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں آزادانہ و منصفانہ رائے شماری کرائی جائے تاکہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جا سکے۔

    پاکستان خطے کی صورتحال سے سلامتی کونسل کو آگاہ کرئے گا

    بھارت کی ناپاک منصوبہ بندی،اگلے 72 گھنٹے انتہائی اہم،پاکستان بھی تیاروبیدار

    بھارتی بیانیہ انتہائی خطرناک اور غیرذمہ دارانہ ہے، مراد علی شاہ

    اسرائیل کا دفاعی نظام ناکام، میزائل کے مرکزی ایئر پورٹ پر جا گرا

  • او آئی سی  رکن ممالک کا  اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا عزم

    او آئی سی رکن ممالک کا اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا عزم

    اسلام آباد: او آئی سی کے رکن ممالک نے سائنس، ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلنس (CCoE) کے دوسرا سالانہ اجلاس اور او آئی سی کے رکن ممالک کے اعلیٰ سطح وفد کے ہفتہ بھر کے دورے کے اختتام پر جاری کردہ "اسلام آباد اعلامیہ” میں کہا گیا کہ او آئی سی کے 17 نمایاں جامعات اور اداروں کے 28 رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا ایک ہفتے کا دورہ کیا جس کے دوران شراکت داری کے فروغ اور مختلف موضوعات پر بات چیت کی گئی-

    اس وفد میں فلسطین، ملائیشیا، بنگلہ دیش، عمان، اردن، روس، صومالیہ، یوگنڈا، تنزانیہ، موریطانیہ، انڈونیشیا اور ایران کے نمائندے شامل تھے، اس دورے کے دوران وفد نے CCoE کی دوسرے سالانہ اجلاس اور پانچویں ریکٹرز کانفرنس میں شرکت کی جس میں پاکستانی جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز بھی شریک ہوئے۔

    پیکا ایکٹ کالا قانون ہے جوکسی صورت قبول نہیں ،بیرسٹر گوہر

    کامسٹیک کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے مطابق اس اہم دورے کے دوران تعلیم، تحقیق اور صنعت میں تعاون بڑھانے کے لیے 30 سے زائد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے وفد نے پاکستان کی معروف جامعات اور صنعتی ادا روں کا دورہ بھی کیا جن میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، دی یونیورسٹی آف فیصل آباد، یونیورسٹی آف دی پنجاب، اور گورمے فوڈز شامل ہیں تاکہ مشترکہ منصوبوں کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

    جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے روسی صدر کے قتل کی سازش کا انکشاف

    یہ اتفاق کیا گیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا جس میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، تربیتی پروگرام، ورکشاپس، سیمینارز، فیکلٹی اور ماہرین کے تبادلے، اور ایک ایسا مؤثر نظام وضع کرنا شامل ہے جس کے ذریعے رکن ممالک ایک دوسرے کے تجربات، مہارت اور علم سے استفادہ کر سکیں۔

    وفد نے فلسطین کے لیے کامسٹیک کے اقدامات کو سراہا، خاص طور پر فلسطینی طلبہ اور محققین کے لیے 5 ہزار اسکالرشپس اور ریسرچ فیلوشپس کی فراہمی کا تذکرہ کیا گیا،وفد نے فلسطین کے تعلیمی اور صحت کے شعبوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

    جنوبی کوریا : ہانگ کانگ روانگی کی تیاری کے دوران طیارے میں آگ بھڑک اٹھی

    تعلیمی اور تحقیقی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وفد نے CCoE کے پاکستانی وائس چانسلرز کو مستقبل میں مشترکہ تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کے لیے مدعو کیا، اجلاس کے اختتام پر کامسٹیک کنسورشیم آف ایکسیلنس کے اہداف کو عملی اور نتیجہ خیز شراکت داری کے ذریعے آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    "اسلام آباد اعلامیہ” او آئی سی رکن ممالک کے اس اجتماعی عزم کی علامت ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کو پائیدار ترقی کے کلیدی عوامل کے طور پر بروئے کار لایا جائے،اس دورے کے دوران قائم ہونے والی شراکت داریاں اختراع، علم کے تبادلے اور طویل مدتی ترقی کی راہ ہموار کریں گی جو پورے او آئی سی خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

    طبی فوائد کا دعویٰ،چڑیا گھر نے چیتے کی غلاظت بیچنا شروع کر دی

  • اسماعیل ہنیہ کا قتل ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے،سعودی عرب

    اسماعیل ہنیہ کا قتل ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے،سعودی عرب

    سعودی عرب نے کہا ہے کہ حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھا۔

    او آئی سی کا اجلاس ہوا جس کے اعلامیے میں اسرائیل کو اسماعیل ہنیہ کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے،گزشتہ روز سعودی عرب میں 57 رکنی بلاک کے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس حملے کا مکمل طور پر ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتا ہے، اور اسرائیلی اقدام کو اس نے ایران کی خودمختاری کی "سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے، سعودی نائب وزیرخارجہ ولیدالخوریجی نے اوآئی سی اجلاس کےدوران کہا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اوراندرونی معاملات میں مداخلت کومسترد کرتے ہیں اور اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی تھا۔

    ایران کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اپنے دفاع کے قانونی حق سے کام لے،ایرانی وزیر خارجہ
    ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ نے جدہ میں او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی جارحیتوں اور خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل کی جانب سے مناسب اقدام نہ کئے جانے کی صورت میں ایران کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے دفاع کے قانونی حق سے کام لے،ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق او آئی سی اجلاس کی درخواست ایران نے تہران میں غاصب صیہونی حکومت کی بزدلانہ اور دہشت گردانہ جارحیت میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کی تھی، ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری کنی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں ان حکومتوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے تہران پر غاصب صیہونی حکومت کی بزدلانہ اور دہشت گردانہ جارحیت کی مذمت کی ،ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت کی مغربی ملکوں بالخصوص امریکا کی جانب سے بے دریغ حمایت کئے جانے کے باعث اقوام متحدہ بھی غزہ میں فلسطینی عوام کا قتل عام روکنے پر قادر نہیں ہے،غاصب صیہونی حکومت نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کو بزدلانہ اور دہشت گردانہ جارحیت میں ایسی حالت میں شہید کیا ہے کہ وہ صدر ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے تہران آئے تھے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری مہمان تھے، غاصب صیہونی حکومت کی اس دہشت گردی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ یہ حکومت دہشت گردی، جرائم، جارحیت، جنگ افروزی اور نسل کشی پر استوار ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی اسلامی ممالک مل کر اعلان کریں کہ سرزمین فلسطین پر اسرائیلی حکومت کا قبضہ اور اس کے اقدامات اور پالیسیاں نا قابل انکار جارحیت، ناجائز ‍قبضے، اپا ر تھائیڈ، مںظم دہشت گردی اور جنگی نیز انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کی مصداق ہیں

    اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے کے اسرائیلی حکومت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس اقدام سے ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی ہے، او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے جدہ میں خطاب میں کہا کہ وحشیانہ جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے پر غاصب اسرائیلی حکومت کا اصرار سبھی بین الاقوامی قوانین، اصول و ضوابط اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے منافی ہے،

    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران میں میزائل حملے میں شہید کیا گیاتھا، وہ نومنتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری کے لیے تہران میں موجود تھے، ایران کی جانب سے حملے کا الزام اسرائیل اور امریکا پر عائد کیا گیا ہے تاہم اسرائیل نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا،اسماعیل ہنیہ کے شہادت کے بعد یحییٰ السنوار کو حماس کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے.

    ایرانی حملے کا خطرہ،حکومت نے آج ہمیں لبنان کا سفر کرنے سے روک دیا،مبشر لقمان

    یحییٰ السنوار حماس کے نئے سربراہ مقرر

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • او آئی سی اجلاس میں اسلاموفوبیا   کے حل کیلئے تجاویز  دیں،اسحاق ڈار

    او آئی سی اجلاس میں اسلاموفوبیا کے حل کیلئے تجاویز دیں،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں مرکزی ایجنڈے کے تین نکات تھے-

    باغی ٹی وی :اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ افریقی ملک گیمبیا میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس ہوا جہاں پاکستان کی نمائندگی کی اور 57 ممالک کے فورم میں وزیراعظم کے بجائے میں نے بھرپور نمائندگی کی، اجلاس میں مرکزی ایجنڈے کے تین نکات تھے، جن میں غزہ پر مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے بھرپور باہمی تعاون اور جامع فیصلہ کرنا تھا۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، بلاامتیاز فورس کا استعمال روکنے اور محصور فلسطینیوں کو انسانی بنیاد پر امداد پہنچانے کے لیے کوششوں کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد پر عمل درآمد پر زور دیا گیا، فلسطینی علاقوں میں اسرائیلیوں کی آبادکاری روکنے اور مقامی فلسطینیوں کے اثاثوں پر قبضے سے روکا جائے اور جب تک فلسطین کو 1967 کی سرحد کے مطابق آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا جاتا جس کا دارالحکومت القدس نہیں ہوگا تو فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

    پاکستان کو خوشحال اور پرامن ملک بنانے کیلئے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا،ترجمان پاک فوج

    اسحاق ڈار نے کہا کہ میرا دوسرا ایجنڈا مسئلہ کشمیر تھا اور تیسرا ایجنڈا عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات کے خلاف ہم خیال ممالک کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بات کرنی تھی اور ہماری ٹیم نے اپنی ذمہ داری نبھائی،اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بدترین حالات پیدا کیے ہیں اور وہاں کے حالات غزہ اور فلسطین سے مختلف نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو قائل کرے کہ وہ 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اقدامات واپس لے اور اس کے نتیجے میں کیے گئے اقدامات بھی ختم کرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر روک دے اور یاسین ملک سمیت تمام کشمیری قیدیوں کو رہا کرے،او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت سے کہے کہ وہ غیرکشمیریوں کو کشمیر میں پراپرٹی خریدنے، رہائش اور ووٹ کا حق نہ دے، ایمرجنسی قانون اور کشمیر کے شہروں سے فوج واپس لے کر بین الاقوامی میڈیا کو وہاں سے آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دے۔

    سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد میں اضافے کا اصولی فیصلہ کیا ہے،وزیر …

    اسحاق ڈار نے کہا کہ اوآئی سی کے جموں و کشمیر پر رابطہ گروپ کا اجلاس نہیں ہوا تھا لیکن ہمارے وفد نے پہلے ہی اجلاس میں سیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ سائیڈ لائن پر کشمیر پر اجلاس ہونا چاہیے اور دوست ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات میں بھی ان سے اس حوالے سے بات کی، ہماری کوششوں سے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کا اجلاس ہوا اور اپنا موقف وہاں رکھ کر اپنی قومی ذمہ داری نبھائی۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا پر بات کی اور اس کے حل کے لیے تجاویز بھی دیں کہ دنیا کے سوشل میڈیا گروپس سے دیگر مذاہب کے خلاف مواد ہٹوا دیا جاتا ہے تو ہم 57 اسلامی ممالک اپنے دین کے حوالے سے ہونے والی بدترین مہم کو ختم کیوں نہیں کرواسکتے ہیں، اچھی بات ہے کہ تجویز کو اعلامیے میں شامل کیا گیا اور سیکریٹری جنرل نے اسلاموفوبیا پر اپنا خصوصی نمائندہ بھی مقرر کردیا ہے، پاکستان میں تعینات ترک سفیر کو او آئی سی کا اسلاموفوبیا کے حوالے سے نمائندہ خصوصی مقرر کردیا گیا ہے۔

    ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

  • او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت

    دبئی: او آئی سی نے بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت کردی۔

    باغی ٹی وی: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے بھارتی شہر ایودھیا میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید کی گئی بابری مسجد کے مقام پر "رام مندر” کے افتتاح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جاری بیان کے مطابق او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے جس کا مقصد پانچ صدیوں قدیم بابری مسجد کی نمائندگی کرنے والے اسلامی نشانات کو مٹانا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز پیر کو ایودھیا میں ہندو رسومات ادا کرکے رام مندر کا افتتاح کیا تھا، اس موقع پر ہندو پنڈتوں، ارکان اسمبلی، کھلاڑیوں اور شوبز شخصیات سمیت 7 ہزار مہمان موجود تھے۔

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    واضح رہے کہ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر 1528 میں یو پی کے شہر ایودھیا میں تعمیر کی گئی تھی جسے 1992 میں ہندو انتہاپسندوں نے حملہ کرکے شہید کردیا تھا، جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

    برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لیے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا، بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے 1980 میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع کی تھی۔

    نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ مل کر معیشت سنبھالیں گے،جہانگیر ترین

    1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا جب کہ اس دوران 2 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دئیے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیےکئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019کو بابری مسجد کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی اور مرکزی حکومت ٹرسٹ قائم کرکے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا جب کہ عدالت نے مسجد کے لیے مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

    عمران خان نے نئے پاکستان کے نام پر مجھے بیوقوف بنایا،پرویز خٹک