Baaghi TV

Tag: اپوزیشن

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18 منٹ کے بعد ملتوی،اپوزیشن کا ایوان میں شورشرابا

    پاکستان کی پارلیمنٹ میں آج ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو آیا، جب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

    یہ اجلاس صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر وزیراعظم کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔پارلیمنٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ حکومت نے ایجنڈے میں آٹھ بل رکھے ہیں، جن پر اپوزیشن کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگی اور اس کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گی۔

    مشترکہ اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی درخواست کی، تاہم اسپیکر نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر اپوزیشن ارکان نے اپنے احتجاج کا آغاز کیا اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔اپوزیشن ارکان نے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی، جن میں "پیکا ایکٹ نامنظور” اور "صحافیوں پہ ظلم بند کرو” جیسے نعرے شامل تھے۔ احتجاج کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ ان ہنگامی حالات میں ایوان میں شور و غوغا مچ گیا، جس کے نتیجے میں ایوان مچھلی منڈی کی طرح کا منظر پیش کرنے لگا۔

    اس کے باوجود اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھا اور حکومتی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کرنے کا عمل نہ رک سکا۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ احتجاج ایک دن پہلے کی طرح ہی تھا، جس میں حکومت کے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 18منٹ جاری رہا،مشترکہ اجلاس نے 9منٹ میں 4بل کثرت رائے سے منظور کئے،،نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ کے قیام کا بل 2024منظور ،بل سینیٹر منظور احمد نے پیش کیا ،بل کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی،تجارتی تنظیمات ترمیمی بل 2021ء مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا جبکہ درآمدات و برآمدات انضباط ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا۔قومی ادارہ برائے ٹیکنالوجی بل 2024ء اور نیشنل ایکسیلنس انسٹیٹیوٹ بل 2024ء بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیے گئے۔علاوہ ازیں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء ڈیفر کر دیا گیا جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی ترقی ترمیمی بل 2023ء مؤخر کر دیا گیا۔این ایف سی ادارہ برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی ملتان ترمیمی بل 2023ء اور نیشنل اسکلز یونیورسٹی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیے گئے۔وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس و ٹیکنالوجی اسلام آباد ترمیمی بل 2023ء بھی مؤخر کر دیا گیا۔

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تجارتی تنظیمات ترمیمی بل سمیت 4 قوانین منظور کر لیے گئے، پی ٹی آئی اراکین پلے کارڈز کے ساتھ ایوان میں داخل ہوئے اور بھرپور احتجاج کیا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت مقررہ وقت کے ایک گھنٹہ بعد شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، بلاول بھٹو زرداری، وزیر دفاع خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور دیگر اراکین ایوان میں پہنچے، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کونسل کے اراکین بھی ایوان میں موجود تھے۔

    اپوزیشن کے احتجاج کے بعد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 12 فروری 2025 کو دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا.

    دوسری جانب پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا،پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر بھی صحافیوں کے احتجاج میں شامل ہوگئے،صحافیوں کی جانب سے شہباز گردی نامنظور کے نعرے لگائے گئے،پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر 1 کے باہر صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی،

    یقینی بنائیں تعلیم آنے والی نسلوں کے لیے امید کی کرن بنی رہے۔وزیراعظم

    پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔عدالت

  • قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

    قومی اسمبلی میں پھر ہنگامہ آرائی ، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ، پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی جس کے بعد اپوزیشن ارکان واک آؤٹ کر گئے۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر مائیک مانگا، تاہم اسپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی۔

    عمر ایوب کو اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے ارکان نے ڈیسک بجا کر احتجاج کیا، جس سے ایوان کی کارروائی شدید متاثر ہوئی اور اسپیکر نے کان پر ہیڈ فون لگا لیے حکومتی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز نے ہیڈ فون لگا کر کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی۔

    پی ٹی آئی ارکان نے ظالمو جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے گئے پی ٹی آئی ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ کر پھینک دیں اور اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

  • بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ ابھی تک پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا، اور اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کو بار بار مشورہ دے چکے ہیں کہ حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ ان کے مطابق، اگر اپوزیشن جماعتوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو حکومت خود ہی مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے سول نافرمانی کی تحریک کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کی رائے کے بعد اس تحریک کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور سول نافرمانی کی تحریک جلد شروع ہو گی۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو کبھی مفاہمت اور کبھی مزاحمت کرتی ہے، اور اگر مخالفین کی ہٹ دھرمی برقرار رہے تو مزاحمتی سیاست کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچتا۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طرف سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، مگر حکومت کو ان مذاکرات میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی۔ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، عمر ایوب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو بے جا طور پر جیلوں میں رکھا گیا ہے، اور پی ٹی آئی کسی سے نہیں ڈرتی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، مگر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کرے، ورنہ پی ٹی آئی کسی کے پاس نہیں جائے گی۔

    پی ٹی آئی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گی اور حکومت کو ہی پہل کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مفاد میں ہے کہ وہ باضابطہ مذاکرات کی پیشکش کرے، کیونکہ اگر بات چیت سے کوئی حل نکلتا ہے تو یہ ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کیا ہے، اور پی ٹی آئی کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، جس سے کمیٹی کی حدود کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔شبلی فراز نے مزید کہا کہ جب حکومت اپوزیشن کو سنبھال نہ سکے تو ملک کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشی استحکام اسی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھا لیا ہے، اور امن و امان کے مسائل کو حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی خبریں زیر گردش ہیں، لیکن ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو انہیں حکومت کو مثبت پیغام دینا چاہیے، اور پی ٹی آئی کی کمیٹی مذاکرات کے لیے حکومت سے رابطہ کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی کہیں گے کہ وہ وزیر اعظم سے بات چیت کریں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے یا ملک میں سیاسی بحران مزید بڑھتا ہے۔

  • ایاز صادق کی  حکومت اور  اپوزیشن کو مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش

    ایاز صادق کی حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش

    اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔

    باغی ٹی وی: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں تلخیاں ختم کرنے کےلیے مذاکرات بہت ضروری ہیں اور مذاکرات کے لیے میرا دفتر اور گھر ہر وقت حاضر ہے،سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

    واضح رہے کچھ دنوں سے حکومت اور اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی خبریں زیر گردش ہیں مگر اب تک کسی جانب سے باقاعدہ مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی،اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو حکومت کو مثبت پیغام دے کہ یہ ان کی کمیٹی ہےاور ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں-

    وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس وقت بھی مذاکرات کی بات کررہے تھے جب کہا جارہا تھا کہ چھوڑوں گا نہیں،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اگر اب آپ نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی ہے تو کم از کم حکومت کو باقاعدہ پیغام تو دیں۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ جب تک حکومت اور اپوزیشن مذاکرات نہیں کریں گے یہ سسٹم نہیں چل سکتا پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو حکومت کو مثبت پیغام دے کہ یہ ان کی کمیٹی ہےاور ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، ہم اسپیکر کو کہیں گے کہ وزیر اعظم سے بات چیت کریں، اسپیکر کے پاس بیٹھ کر اس معاملے کو مثبت انداز میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

  • ملک کی تمام خرابیوں کی صرف  ایک وجہ  "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے رہنما،سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے "الیکشن چوری”۔ جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جائے گا اور انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

    فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ "میں وکلاء کا مشکور ہوں کہ مجھے یہاں مدعو کیا گیا اور جو سوالات آپ لوگ یہاں اٹھا رہے ہیں، وہی سوالات سارا پاکستان کر رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئینی اور قانونی نظام کی مکمل عدم موجودگی کے باعث حالات بہتر نہیں ہو رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "آج پاکستان میں کچھ لوگ امیر ہو رہے ہیں، لیکن وہ ممالک جو اپنے نظام میں تبدیلی نہیں لاتے، وہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ہمارے ملک میں آئین اور قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہی، اور جب تک رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) قائم نہیں ہوتی، ملک کی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں سابق مشرقی پاکستان (آج کا بنگلہ دیش) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے 53 سال پہلے اپنا آدھا ملک کھو دیا تھا کیونکہ ایسٹ پاکستان کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں جہاں انتخابات چوری ہوں اور عوام کی رائے کا کوئی احترام نہ ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔سابق وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ "آج کل رات کے اندھیرے میں آئینی ترامیم کی جاتی ہیں، جو نہ صرف قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ قوم کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہیں۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی خرابی کی اصل وجہ اس کا سیاسی نظام ہے، جہاں انتخابات کا عمل شفاف نہیں اور قانون کی حکمرانی مفقود ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کئے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا محض ایک سراب ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قانون کی حکمرانی اور ایک ایسا نظام جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    نومئی مقدمے، زرتاج گل پر فرد جرم عائد

  • حکومت واپوزیشن  عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی بقاء کی جنگ کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراتفری، انتشار اور دہشتگردی سے ملک پاکستان کو نجات مل سکےموجودہ حالات میں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے مہنگائی اور بیروزگاری کے مسائل بڑھ رہے ہیں جن پر قابو پانے کیلئے تمام پارٹیوں کو باہمی سیاسی رنجشیں ختم کر کے مشترکہ طور پر فیصلے کرنے ہوں گے تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے حصول کیلئے دربدر ہو رہے ہیں بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی روزمرہ زندگی مشکل میں ڈال دی ہے مرکزی مسلم لیگ ان حالات میں عوام کی خدمت کیلئے شانہ بشانہ ہے سستے سبزی بازار ، تندور اور دستر خوان لگا کر اپنا حصہ شامل کر رہی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی سیکریٹریٹ میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمرا ہ ضلعی صدر شہباز راجپوت ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری انجینئر مبین صدیقی، سینئر نائب صدر نثار خان، نائب صدر ملک شہریارکھوکھر، نائب صدرو عمر جنجوعہ، عبدالواحد، شیخ عبدالحنان ویگر بھی موجود تھےدریں اثناء نہوں نے ضلع راولپنڈی کی تنظیم کا باقاعدہ اعلان کی.ا پر یس کا نفرنس میں 16 دسمبر اے پی ایس واقعہ میں شہید ہونے والے بچوں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی .خالد مسعود سندھو نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ جمہوریت، شخصی آزادی اور مساوات اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے ، سیاسی کردار کےذریعے پاکستان کے تمام طبقات میں اتحاد و یکجہتی کے لیے کوشاں ہیں، ہمارا منشور شہریوں کو تعلیم ، صحت ، روز گار اور انصاف کے بلا تفریق مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشش کرنا ہے۔

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی ،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل نکلے گا،بندوق کی نالی سے معیشت ٹھیک نہیں ہو گی

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج اکٹھے بیٹھ کر ملکی معاملات حل کرنے کی ضرورت ہے،کیوں گولی چلی، کیوں مظاہرین آئے،؟کیونکہ آپ نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا ہوا ہے۔عمران خان نے بھی اپوزیشن کو دیوار سے لگایا۔میرے دور میں جو ہوا اس کا ذمہ دار ہوں۔دھرنا صحیح ہوا یا غلط لیکن گولی نہیں چلی۔کسی کو قتل نہیں کیا۔عمران خان کے دور میں ہم نے بھی مشکل وقت گزارا ،سیاست میں دشمنی اب خونی ہو گئی ہے صدر اور وزیراعظم کی ذمہ داری ہے ،تمام جماعتوں کو بیٹھ کر ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کرنا ہونگے.اسلام آباد میں پٹھانوں کوگرفتارکیاجارہا ہے، ملک میں قانون نام کی چیزنہیں، رات کی تاریکی میں 26ویں آئینی ترمیم کی گئی، یہ سمجھتے ہیں بندوق کےزورپرترقی کرینگے، یہ درست نہیں، ہم نہ حکومت میں نہ اپوزیشن میں ۔ہم ملک کی بات کر رہے ہیں، حکومت بات کرے، ہم اسکے ساتھ ہیں،جو ملک کی بات کرے ہم اس کے ساتھ ہیں۔یہ کسی ایک کے بس کی بات نہیں ہے،

    اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں،شاہد خاقان عباسی
    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں اگر سسٹم ملنے دے۔ ن لیگ کاووٹ کوعزت دو کا بیانیہ دفن ہو چکا ہے، نوجوان مایوس ہوکرملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ میاں صاحب آٹھ فروری کویہ کہہ دیتے ہم الیکشن ہار گئے ہیں، آج ملک کی سیاست کچھ اور ہوتی، آج بھی فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں، جوملک کے حالات کو بہتر کرسکتے ہیں،جو پارلیمان ساری رات بیٹھ کر بغیر پڑھے ترمیم کردے اس سے کوئی امید نہیں۔مجھے کوئی امید نہیں، جو حکومت یہ کام کرے اس سے بھی مجھےکوئی امید نہیں ہے،ہماری سوچ یہ ہے کہ سب ایک جگہ بیٹھیں، بات ملک کی کریں، آگے بڑھنے کی بات کریں،ہم ہر ایک سے ملنے کو تیار ہیں،حکومت اپوزیشن جنگ میں مصروف ہیں،پورا ملک تماش بین ہے۔جن کو حکومت و اپوزیشن ہونا چاہئے وہ متحارب ہیں، یہ خرابی کو ہم نے دور کرنا ہے، کم از کم چھ آٹھ لوگ ایسے ہوں جو بات کر سکیں، دوری کو ختم کرنے کی کوشش کریں،مہنگائی بڑھ گئی ہے،سٹاک مارکیٹ کا اوپرجانا حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے، لوگ اپنا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں سٹاک خرید رہے ہیں،

    ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے،مفتاح اسماعیل
    دوسری جانب عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت کا کارنامہ یہی ہے کہ ہر چیز مہنگی کر دی گئی ہے،پاکستان میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، آج بھی ملک میں لاکھوں بچے بھوکے سوئیں گے، ہر پاکستانی گزرتے سال کے ساتھ غریب ہو رہا ہے، اس حکومت نے اپنا پورا سال ضائع کر دیا، حکومت نے ایک سال میں صرف اپنی کرسی مضبوط کی ہے،سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے۔ڈیڑھ لاکھ سٹاک مارکیٹ میں کام کر رہے انکے لئے اچھی بات ہےلیکن اس سے عوام کو کیا فائدہ، عوام کے پاس تو بل بھرنے، راشن کے پیسے ہونے چاہئے، دوائی کے پیسے ہونے چاہئے، دس سال پہلے جو تین بچوں کی کفالت کرتا تھا کیا آج وہ کر سکتا ہے، اسٹاک مارکیٹ کا اوپر جانا اچھی بات ہے لیکن غربت کتنی ہے، معیشت کی بات کرتے ہوئے غریب عوام کو بھی دیکھنا چاہئے،لوگوں کی آمدن کم ہوئی، عوام غریب ہوئے، تنخواہیں کٹ رہی ہیں،کہیں ایک تنخواہ،کہیں آدھی دی جا رہی، حکومت نے صرف قانون سازی کر کے خود کو مضبوط کیا،عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، صوبوں کو وزارتیں نہیں دیں، زراعت پر ٹیکس نہیں لگایا، اپنے خرچے کم نہیں کئے لیکن تنخواہ دار پر ٹیکس حکومت نے لگا دیا، حکومت اپنے ان کارناموں پر خوش ہے کہ زیادہ ٹیکس لے رہے ہیں مہنگی بجلی گیس بیچ رہے ہیں تو اس پر شہباز شریف کو مبارکباد دیتے ہیں.

  • حکومت میں جاؤں گا یا نہیں؟ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کر دیا

    حکومت میں جاؤں گا یا نہیں؟ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کر دیا

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم نہیں آئے گی، بھرپور مزاحمت کریں گے، اپوزیشن میں ہوں،حکومت میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں،

    مولانا فضل الرحمان سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے چناب نگر پہنچ گئے ہیں، اس دوران میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گنڈاپور کے پنجاب پر چڑھائی کی باتیں درست نہیں،یہ غیر سیاسی لوگ ہیں،ہم نے مارچ کیے تو ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا، عام انتخابات دوبارہ ہونے چاہیے،ملک میں سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اچھا وقت گزارا،26 ویں آئینی ترمیم کا اصل ڈرافٹ کچھ اور فائنل جو ہوا فرق تھا ،مختلف ناموں سے تنظیمیں بنتی ہیں اور سب کہتے کہ یہ میری ہے،یہ میری ہے یہ کونسا طریقہ ہے،تنظیموں میں تشدد نہیں، ہر تنظیم کو میرا کہنا یہ ہرجائیت ہے یکجائیت نہیں، اضطراب کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، ایک جماعت کا تصور ہی اہم ہے، لازم ہے کہ جماعت سے وابستہ رہو،جماعت کی اطاعت عقیدے،نظریئے کی بنیاد پر ہے، جماعت کے فیصلوں کی پیروی کرو، اختلاف ہو تو بھی جماعتی فیصلہ پر عمل لازم ہے،تبھی جماعتی زندگی منظم ہو سکتی ہے

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

    پانچویں کلاس کی طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی،بنائی گئی نازیبا ویڈیو

    بچوں کی دینی تعلیم کے نام پر نازیبا ویڈیو بنانے والا گرفتار ، 497 ویڈیوز برآمد

    خواتین اداکاروں کی کپڑے بدلنے کے دوران نازیبا ویڈیو بنائے جانے کا انکشاف

  • یونیورسٹی روڈ اکھاڑ دیا ، 15منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، علی خورشیدی

    یونیورسٹی روڈ اکھاڑ دیا ، 15منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، علی خورشیدی

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما و اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی روڈ اکھاڑ کے رکھ دیا گیا، 15منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات تھی، سندھ کے عوام کو درپیش مسائل چیف سیکریٹری کے سامنے رکھے۔علی خورشیدی نے کہا کہ حکومتی توجہ ایم ڈی کیٹ جیسے مسائل کی طرف مبذول کروائی ہے، ہم بچوں سے ٹھیک طرح سے ٹیسٹ بھی نہیں لے سکتے۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ کو کہا ہے کہ شفاف تحقیقات کروائیں، شہری انفرا اسٹرکچر کی بدحالی پر بھی بات کی ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ کراچی میں پینے کے پانی کا اہم مسئلہ ہے، ہم نے کے فور اور حب ڈیم پر بھی بات کی، چالیس پچاس ہزار نوکریاں دی جارہی تھیں ہم کورٹ گئے تھے۔علی خورشیدی نے کہا کہ سیاسی بھرتیاں نہیں ہونی چاہئیں، میرٹ پر نوکریاں دی جائیں، ریڈ لائن منصوبہ 2027 تک مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا، وزیر موصوف آئے دن دعوے کرتے ہیں لیکن عوام ذہنی اذیت میں ہیں۔

    الطاف حسین کی صاحبزادی کا پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ

    کراچی میں رواں سال ڈکیتوں نے100 افراد کی جان لے لی

  • مولانا بڑے کھلاڑی نکلے،آئینی ترامیم پر حکومتی دھوکہ سامنے لے آئے

    مولانا بڑے کھلاڑی نکلے،آئینی ترامیم پر حکومتی دھوکہ سامنے لے آئے

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں مفادات کا لین دین ہماری سیاست بن گئی ہے

    ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہر ایسی تجویز کو مسترد کردیا جو بنیادی انسانی حقوق کی نفی کررہی تھی، ہمیں جو مسودے کی کاپی دی گئی اس کے بعد معلوم ہوا اس میں فرق ہے،حکومت بغیر تیاری ایوان سے توقع کررہی تھی ہمیں سپورٹ کیا جائے ، بنیادی انسانی حقوق کی نفی کرنیوالی چیزوں کو ہم نے مسترد کیا ، جے یو آئی اراکین حکومت کے دیے مسودے سے متفق نہیں ہیں، انتخابات کے ذریعے مرضی کی حکومت سے پاکستان کمزور ہوگیا، حکومت کے پاس اکثریت نہیں تھی انحصار جے یو آئی اراکین پر تھا ،آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کیلئے ہفتہ 10 دن لگ سکتے ہیں ، کوشش کرینگے حکومت کو غلط فیصلے یا غلط قانون سازی سے روکیں ، آئین یا کسی ادارے کو تہس نہس کرنے کی اجازت نہیں دینگے ،پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے ڈرافٹ پر کام شروع کر دیا ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ شخصیات کی بجائے اداروں کی اصلاحات پر جائیں ہمارا موقف شخصیات کو سامنے رکھنے کے بجائے عدالتی اصلاحات کی جائیں، ہمارے وکلا ڈرافٹ کےحوالے سےکام کر رہے ہیں، اداروں کو دائرے کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے،مجوزہ آئینی ترامیم کا مقصد صرف حکومت کو تحفظ دینا تھا، آئینی عدالت کے قیام میں بھی بدنیتی نظر آ رہی ہے۔ ہم اس اسمبلی کو عوام کا نمائیندہ نہیں سمجھتے، اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔لوگوں کو توڑ کر غلط کام کیا تو یہ سوداگری ہو گی، ایسی حرکت کی اور ہم نے ردعمل دیا تو ایسا نہیں کر سکیں گےہائیکورٹس ججز کا تبادلہ نظام کو متاثر کرے گا، میرے حق میں فیصلہ نہیں دے سکے گا تو فوراً تبادلہ کر دیں، یا کیس کسی دوسرے جج کو دے دیں، یہ چیزیں نظام کو متاثر کریں گی۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی تلخیاں کم ہوگئیں مگر تحریک انصاف سے باقاعدہ اتحاد نہیں ہے ،پی ٹی آئی بھی اپوزیشن بینچوں میں ہے، ہمارے اراکین کم ہیں، ایک پارٹی جو اپوزیشن میں ہو،تو اپوزیشن ملکر ہی چلتی ہے،اس وقت باقاعدہ ہمارا کوئی اتحاد نہیں، 26 ویں ترمیم لائی تو حکومت اور پی ٹی آئی دونوں رابطے میں رہیں، دونوں کے خیال سنتے تھے اور پھر ہم آپس میں بیٹھ کر جماعت کی رائے بناتے تھے، پارلیمانی رول پر ڈے ٹوڈے ایشو پر ہم بات کر سکتے ہیں،ہم اس چیز کو مثبت سفر سمجھتے ہیں کہ بہتر تعلقات کی جانب بڑھنا چاہئے،ہم نے ایک آئینی کردار ادا کرنا ہے،بدقسمتی ہے کہ اسمبلیاں عوام کی منتخب کردہ نہیں ہوتیں،

    آئینی ترامیم، اسپیکر قومی اسمبلی کی حکومت و اپوزیشن کو مصالحت کی پیشکش

    مجوزہ آئینی ترامیم کیخلاف درخواست پر اعتراض عائد

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے