Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • اڈیالہ جیل میں‌قیدی آپس میں لڑپڑے، ایک زخمی

    اڈیالہ جیل میں‌قیدی آپس میں لڑپڑے، ایک زخمی

    اڈیالہ جیل میں قیدی آپس میں لڑ‌پڑے ، ایک قیدی زخمی ہو گیا، واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا.

    جیل میں بنائے گئے کٹر کے وار سے ایک قیدی شدید زخمی ہو گیا، تھانہ صدر بیرونی پولیس نے اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عامر شہزاد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں3حوالاتیوں حماد صدیق،شاہ ویز اور شمس کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، درج مقدمے میں کہا گیاکہ حوالاتی حماد صدیق بارک 1سے 8گیا،شاہ ویز اور شمس سے جھگڑے بارے صلاح مشورہ کیا،حوالاتی شمس بارک 1،کمرہ 2سے صائم کو بلا کر برآمدے لایا۔ حوالاتی حماد صدیق،شاہ ویز نے خود ساختہ کٹر سے صائم پرحملہ کرکےناک پیشانی اور بازو کو زخمی کیا۔مقدمے میں ایس جی وارڈرعدیل شہزاد،چیف ہیڈ وارڈر فیاض احمد کو گواہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے،مقدمے میں تین حوالاتیوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    واضح رہے کہ آئے روز اڈیالہ جیل میں قیدیوں کے آپس میں لڑنے کے واقعات سامنے آتے ہیں، قیدیوں سے ملنے کے لئے آنے والے افراد سے منشیات بھی برآمد ہوتی ہے،اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل اڈیالہ کے مطابق چند روز قبل حوالاتی ماجد سے ملاقات کے لیے اعجاز خان آیا،تلاشی کے دوران ملاقاتی سے منشیات اور سم ملی ، واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا،ملاقاتی سے دوران تلاشی بٹوا سے 10گرام چرس اور ایک عدد موبائل فون سم برآمد ہوئی،واقعہ کا مقدمہ تھانہ صدر بیرونی پولیس نے محمدعثمان اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل اڈیالہ کی مدعیت میں درج کر لیا

  • پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    پی ٹی آئی مشکل میں،صاحبزادہ حامد رضا کا علیحدگی کا عندیہ

    تحریک انصاف مشکل میں پھنس گئی، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا،

    تحریک انصاف نے عام انتخابات کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو گئے تھے، پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے بلے کا نشان واپس لیے جانے کے بعد پی ٹی آئی امیدواروں نے آزاد الیکشن لڑا تھا، پی ٹی آئی نظریاتی کا نشان لینے کی کوشش کی گئی تھی تا ہم نظریاتی کے چیئرمین اختر ڈار نے پریس کانفرنس کر کے اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا، آزاد امیدوار الیکشن جیتے تو پی ٹی آئی نے باہمی مشاورت کے بعد سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کیا، عمران خان بھی سنی اتحاد کونسل کے ساتھ اتحاد کے خواہاں تھے، تاہم اب حالیہ سیاسی منظر نامے میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل میں جلد طلاق ہونے والی ہے کیونکہ سنی اتحاد کونسل کےسربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے پی ٹی آئی سے علیحدگی کا عندیہ دے دیا ہے،

    موجودہ حکومت کے خلاف تحریک انصاف تحریک چلانا چاہ رہی ہے، وہیں جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی رہنماؤں میں متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملکر تحریک چلائیں اور حکومت پر دباؤ بنائیں تا ہم جے یو آئی کو ابھی بھی پی ٹی آئی پر تحفظات ہیں، جن کو ختم کرنے کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، ایسے میں سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ "میں اور میری مولانا فضل الرحمان کیساتھ سیاسی اتحاد کی مخالفت کرتے ہیں”۔

    صاحبزادہ حامد رضا نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے بعد ساتھی کو چھوڑ جاتے ہیں یہ فن صرف انہی کو ہی آتا ہے،مولانا کہتے تھے کہ عورت کی حکمرانی حرام ہے اور محترمہ کی ہی حکومت میں ہی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنے نوازشریف کے ساتھ تھے، پھر دوسری سائیڈ پر ہوگئے،مولانا صاحب اب کتنی خوبصورتی کے ساتھ حکومت میں حصہ دار ہیں، شاید مولانا گورنربننا چاہ رہے ہیں

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا بیان ایسے وقت میں آیا جب پی ٹی آئی اور جے یو آئی رہنماؤں کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں،صاحبزادہ حامد رضا کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان کا اتحاد بن جاتا ہے تو وہ پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں.

    صاحبزادہ حامد رضا نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ ہم بندوقیں ہاتھ میں پکڑ کر نکلیں تو یہ ممکن نہیں، تشدد کی طرف جانا ہماری پالیسی ہے ہی نہیں،میں نے تجویز دی کہ حکومت کو وقت دیں، اگر اس وقت تک بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کرتے تو ہمیں مستعفی ہوجانا چاہیے اصولی طورپر مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں، اگر ہمیں مخصوص نشستیں نہیں دیتے توپھر ہماری طرف سے بی جے پی کو دے دیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمر ایوب نے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،پی ٹی آئی میں متحرک ترین رہنما شیر افضل مروت بھی ناراض ہیں اور احتجاجی سیاست سے دور ہیں، پی ٹی آئی میں دھڑے بن چکے ہیں، فواد چودھری بھی دوبارہ واپسی کے لئے متحرک ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر مسلسل الزامات عائد کر رہے ہیں، حامد خان کہہ چکے ہیں کہ فواد چودھری کوو اپس نہیں لیا جائے گا،پی ٹی آئی بلوچستان کے رہنما بھی موجودہ سیاسی قیادت سے نالاں ہیں، شیر افضل مروت نے شبلی فراز کے استعفیٰ مطالبہ کیا ہے تو اراکین اسمبلی بھی اختلافات کا شکار ہیں، ایسے میں اب آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی مزید زوال پذیر ہو گی.

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • جناح ہاؤس حملہ سمیت تین مقدمات میں عمران کی ضمانت میں توسیع

    جناح ہاؤس حملہ سمیت تین مقدمات میں عمران کی ضمانت میں توسیع

    انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس حملہ،عسکری ٹاور حملہ اور تھانہ شادمان نذر آتش کرنے کے مقدمات میں عمران خان کی 3 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 5 جولائی تک توسیع کردی

    کیس کی سماعت اننسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج خالد ارشد نے کی، تفتیشی افسر عدالت پیش نہ ہوئے، جونیئر افسر عدالت پیش ہوئے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے عسکری ٹاور حملہ کیس کے تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،عدالت نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر سے دلائل طلب کر لئے،

    عمران خان کی وکلا ٹیم نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر سلمان صفدر دیگر کیسز میں مصروف ہیں مہلت دی جائے،چار مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی حاضری کے بغیر میرٹ پر فیصلہ ہو چکا ہے،کورٹ نمبر 3 نے چار مقدمات میں ملزم کی عبوری ضمانتیں کنفرم کی تھیں،بانی پی ٹی آئی کی جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری مکمل نہیں ہوئی، عدالت نے ملزم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری مکمل کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی.

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    القادر ٹرسٹ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کر دی گئی

  • کیا عمران خان آج رہا ہو جائیں گے؟

    کیا عمران خان آج رہا ہو جائیں گے؟

    دوران عدت نکاح میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کی خلاف اپیلوں پر فیصلہ آج سنایا جائے گا،امکان ہے کہ عدالت سزائیں معطل کر کے دونوں کو رہا کرنے کا حکم دے گی، بشریٰ بی بی کی تو رہائی کے امکانات ہیں لیکن کیا عمران خان رہا ہو پائیں گے؟

    اس ضمن میں عدالتی رپورٹنگ کرنے والے صحافی ثاقب بشیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف چوتھے اور آخری (جن میں اب تک سزائیں ہو چکیں) مقدمے میں اپیل کے دوران ابتدائی ریلیف ملنے نا ملنے کا فیصلہ آج 3 بجے ہو گا 11 ماہ تقریبا 328 دن سے جیل میں رہنے کے دوران تقریبا 18 مختلف مقدمات میں ریلیف/ضمانت لے چکے لیکن رہائی ممکن نہیں ہو سکی جس طرح اگر آج ضمانت ہوتی ہے تو وفاقی وزرا کے بیانات کے بقول رہائی ممکن نہیں ہو گی عمران خان پہلی دفعہ 5 اگست کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں گرفتار ہوئے جس کی سزا 28 اگست کو معطل ہوئی رہائی کا حکم ہوا تو پتہ چلا سائفر کیس میں 16 اگست کو ہی گرفتاری ہو چکی جس کا نا میڈیا نا ہی عمران خان کے وکلا کو اس سے قبل معلوم تھا پھر اس دوران توشہ خانہ نیب کیس میں گرفتاری ہوئی عدت کیس کا بھی ٹرائل چل پڑا درمیان میں بہت اتار چڑھاؤ آئے سائفر کیس میں دسمبر میں سپریم کورٹ سے ضمانت منظور ہوئی تو رہائی پھر بھی نا ہو سکی کیونکہ توشہ خانہ نیب کیس اور 9 مئی کیسز میں پہلے سے گرفتاری ہو چکی تھی پھر 30 جنوری سائفر 31 جنوری توشہ خانہ نیب کیس اور 3 فروری عدت کیس میں تین عدالتوں نے پلک جھپکتے 5 دنوں میں 3 سزائیں سنا دیں جن کے خلاف اپیلیں فائل ہوئیں اس دوران 10 فروری کو 9 مئی کے 12 کیسز میں راولپنڈی کی عدالت سے ضمانت منظور ہوئی لیکن رہائی ممکن نا ہوئی اس کے بعد سزا والے کیسز میں توشہ خانہ نیب کیس میں نیب کی جانب سے مخالفت نا کرنے کی وجہ سے سزا معطل ہو گئی عدالت نے رہائی کا حکم تو دیا لیکن سائفر اور عدت کیس میں سزا کی وجہ سے رہا نا ہو سکے پھر 190 ملین پاؤنڈ کیس جس کا ٹرائل چل رہا ہے اس میں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کر لی لیکن رہائی سائفر اور عدت کیس سزا کی وجہ سے نا ہو سکی سائفر کیس میں عدالت نے باعزت بری کیا تو آخری کیس عدت میں نکاح کا رہ گیا جس میں عمران خان قید ہیں آج اگر ضمانت ہوتی ہے تو انتظار کریں کس مقدمے میں گرفتاری ڈالی جاتی ہے (جس طرح حکومتی وزرا کہہ رہے ہیں) اگر ضمانت نہیں ہوتی تو الگ بات ہے آخری بات میری اپنی رائے ہے 11 ماہ سے قید سیاسی رہنما کے خلاف سیاسی طور پر یہ ٹرینڈ اچھا نہیں ڈالا جا رہا ہے ایک سے رہائی دوسرے میں گرفتاری ، دوسرے سے رہائی سے تیسرے میں گرفتاری اور یہ معاملہ چلتا جا رہا ہے پھر یہی ٹرینڈ مستقبل میں ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے جو ڈال رہے ہیں ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں کیونکہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اس لئے سیاسی حکومت کو ہر اینگل کو مد نظر رکھنا چاہیے

    اڈیالہ جیل میں سزا یافتہ عمران خان الیکشن لڑنے کے خواہشمند

     عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا، ابھی تک آپریشن عزم استحکام کی کلیئرٹی نہیں۔نا ہی آپریشن عزم استحکام کی کوئی وضاحت دی گئی ہے کہ کس ایریا میں ہوگا ، کہاں ہوگا کب ہوگا اور نہ ہی میری آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی سے کوئی ملاقات ہوئی ہے ، جب اس آپریشن پر پر بریفنگ دی جائے گی تب ہی اس پر کوئی بات ہو سکتی ہے، آئی ایس پی آر کا جب پلان آجائے گا،تب ظاہری بات ہے بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ تو یہ کام نہی ہوسکتا۔ ایپکس کمیٹی میں ایک پالیسی بنائی گئی میری عمران خان سے پالیسی پر بات ہوئی، پالیسی تھی کہ امن و امان قائم ہو اور دہشت گردی ختم ہو ، پاکستان میں ہم امن بالکل چاہتے ہیں، 9 مئی کیسے ہوا، کس نے کیا پتہ لگنا چاہیے، میری آرمی چیف سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، دہشت گردی کو روکنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ مل کر پالیسی بنا سکتے ہیں، اس پالیسی بنانے میں ہم مدد کر سکتے ہیں،

    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ مراد راس کی 1700 کالیں پکڑی گئی ہیں یہ انہوں نے کہا اس نے پریس کانفرنس کی اسے چھوڑ دیا گیا ہماری دو خواتین ایک ہی گاڑی میں موجود تھیں ایک نے پریس کانفرنس نہیں کی تو اسے پورے پاکستان میں گھمایا جا رہا ہے ایسے نہیں چلے گا فارم 45 کھولیں اس کے بعد بات چیت ہو گی۔

    علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان نے اہم ہدایات دیں، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی علی امین گنڈا پور سے کے پی ہاوس میں آج ملاقات کریں گے، علی امین گنڈا پور عمران خان پیغام پارٹی کو پہنچائیں گے، آپریشن عزم استحکام پر گفتگو ہوگی

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے آپریشن عزم استحکام کی منظوری دی گئی تھی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور بھی اس اجلاس میں شریک تھے تا ہم بعد میں تحریک انصاف نے اس آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر دی

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس میں دہشتگردی کی عفریت سے نمٹنے کیلئے آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تاہم اس فیصلے کے بعد مختلف حلقوں بالخصوص مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے مختلف مفروضات سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں جو عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس حوالے سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے مطالعے سے سب کچھ صاف اور واضح ہو،

    *آپریشن عزم استحکام کا دائرہ کار*
    آپریشن “عزم استحکام” کا دائرہ پورے ملک تک ہو گا نا کہ کسی ایک صوبے یا مخصوص علاقے تک۔ حتٰی کہ دہشت گردوں کے تعاقب میں سرحد پار آماجگاہوں کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا جائیگا۔ کل کے اجلاس میں تمام وزراء اعلی نے یکسو ہو کے اس فیصلے کی توثیق بھی کی۔ اس سلسلے میں تمام سفارتی کوششیں بھی بروئے کار لائی جائینگی۔

    *سیکورٹی فورسز کی استعداد کار میں اضافہ*
    دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے زمینی آپریشن کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائیگا جس میں جدید آلات، بہتر انٹیلیجینس، موثر ڈیٹا کی فراہمی، فورینسک کی بہترین سہولیات، بائیو میٹرکس کا موثر استعمال اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کی پڑتال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ بارڈر مینجمنٹ کے نظام کو مزید فعال کیا جائیگا تاکہ کسی بھی غیر قانونی کراسنگ کا تدارک کیا جا سکے۔

    *عزم استحکام کیلئے قومی جذبہ اور اتحاد و یگانگت*
    اجلاس میں تمام سیاسی، عسکری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جہاں سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے نبرد آزما ہیں وہیں دہشت گردی کی اس جنگ میں کامیابی کیلئے پوری قوم یکجا ہے اور یہ جنگ جیتنے کیلئے قومی اتحاد اور یگانگت بنیادی عوامل ہیں۔ یہ جنگ کسی مخصوص سیاسی جماعت، مذہبی یا لسانی گروہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے اور تمام حاضرین نے اس کی توثیق کی۔ یہ پاکستان کی مستقبل کی نسلوں کی جنگ ہے۔جو بھی تاریخ کے اس اہم موڑ پہ اس جنگ کے خلاف منفی سیاست کرے گا وہ تنہا رہ جائے گا اور تاریخ اُسے معاف نہیں کرے گی-

    *آئینی اور قانونی معاونت*
    شرکاء نے متفقہ طور پہ اس آپریشن کی کامیابی کیلئے ایک موثر اور بِلا خوف قانونی سپورٹ کی ضرورت پہ زور دیا۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مؤثر عدالتی نظام کی کلیدی حیثیت کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا اور ماضی میں دہشت گردوں سے روا رکھی جانے والی نرمی کو کامیابی کے حصول میں ایک رکاوٹ قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں موجود عدالتی سقم دور کرنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا۔

    مخصوص سیاسی جماعت اور اسکے سوشیل میڈیا کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات
    مخصوص سیاسی جماعت کے گوہر خان اور اسد قیصر نے آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی آپریشن کے آغاز سے قبل پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے ہم کسی طور بھی کسی آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتے ان بیانات کے تناظر میں مندرجہ ذیل عوامل کا احاطہ کرنا بہت ضروری ہے

    ایک جانب وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی میں بھرپور شرکت کرنا، آپریشن عزم استحکام اور دیگر اہم فیصلوں پر اپنی ہر طرح کی مدد اور تعاون کا یقین دلانا اور دوسری جانب گوہر خان اور اسد قیصر آپریشن مخالف بیان ، مخصوص سیاسی جماعت کے اندر تفریق کو واضح کرتا ہے-اگرمخصوص سیاسی جماعت کے رہنما سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو پھر اسی جماعت کا وزیراعلی عزم استحکام کی بھرپور تائید کیسے کر رہا ہے۔۔۔؟
    مخصوص سیاسی جماعت رہنماوں کیجانب سے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس جماعت کو ملک کے قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔جہاں تک مخصوص سیاسی جماعت کے رہنمائوں کی جانب سے آپریشن عزم استحکام کی کی پارلیمان سے منظوری کی بات ہے اگر اس فیصلے کو منظوری کیلئے پارلیمان میں لایا بھی جاتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آئیں گی-مخصوص سیاسی جماعت کے دور حکومت بھی بارہا ایوان میں دہشت گردی کے خلاف قراردادیں پیش کی جاتی رہی ہیں جو بھاری اکثریت سے منظور بھی ہوتی رہی ہیں ،مخصوص سیاسی جماعت پارلیمان کا جواز بنا کر عزم استحکام کو متنازعہ بنانا, اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جماعت دہشت گردی کے ساتھ منسلک ہوتی جا رہی ہے اور مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے قومی سلامتی سے جڑے مفادات بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پر سیاست کرنا انتہائی تشویشناک ہے

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عزم استحکام آپریشن کیسے کیا جائے گا؟ اس پر بحث کریں گے، ایوان میں قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس بلایا جائے گا،وزیراعظم بھی اجلاس میں شریک ہوں گے،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھاکہ عزم استحکام آپریشن سے متعلق وزیردفاع بات کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن نے بات نہیں کرنے دی، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، کچھ ایشوز بے ضرر ہوتے ہیں، اس سے آپ کی اور ہماری سیاست کو نقصان نہیں، عزم استحکام پر وزیر دفاع بات کررہے تھے، لیکن آپ نے ایک لفظ نہیں سنا، اپوزیشن مشاورت نہ کرنے کا الزام لگاتی ہے لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آپ کے وزیراعلیٰ نے کوئی بات نہیں کی، وزیردفاع کی تقریر کا ایک لفظ اپوزیشن نے نہیں سنا، کیسے مشاورت کریں؟ آپ کے وزیراعظم کی طرح ناراض ہوکر ہمارا وزیراعظم باہر نہیں بیٹھے گا، بلکہ پوری کابینہ کے ساتھ یہاں موجود ہوگا۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے پاکستان میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کوئی ایپکس کمیٹی پارلیمان سے بالا تر نہیں ہے، بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کوئی بھی آپریشن ہو اس کیلئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کوئی بھی کمیٹی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے، کوئی بھی آپریشن ہو، اس کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے،اسد قیصر کا کہنا تھا ہم کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرتے، کوئی فیصلہ یا معاہدہ ہوا ہے تو اسے پارلیمنٹ میں لایا جائے۔

  • عمران خان کی رہائی کیلیے ریلیاں نکالنا مہنگا پڑ گیا، مقدمے درج

    عمران خان کی رہائی کیلیے ریلیاں نکالنا مہنگا پڑ گیا، مقدمے درج

    سابق وزیراعظم عمران خان کی لئے ریلیاں نکالنا پی ٹی آئی کو مہنگا پڑ گیا، پنجاب کے کئی شہروں میں مقدمے درج کر لئے گئے، گزشتہ روز حکومت نے دفعہ 144 نافذکی تھی جس کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی رہنماوں و کارکنا ن پر مقدمے درج ہوئے

    پنجاب کے ضلع جھنگ میں عمران خان کی رہائی کے لئے ریلی نکالنے پر سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم سمیت تحریک انصاف کے کارکنان کیخلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ کر لیا گیا،رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم کے خلاف دفعہ 144کی خلاف ورزی پر 16ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ 6 نامزد اور 25 نامعلوم افراد شامل بھی مقدمے میں شامل کیے گئے ہیں۔

    فیصل آباد میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلی نکالنے پر 9 نامزد اور 35 نامعلوم کارکنان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بہاولپور میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے 10 نامزد اور 4 نامعلوم کارکن شامل ہیں،گوجرہ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،ایم این اے اسامہ حمزہ، ایم پی اے اسد زمان چیمہ، ایم پی اے احسن احسان گجر سمیت کئی کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،رینالہ خورد میں ریلی نکالنے پر رینالہ بار کونسل کی سینئر نائب صدر کاشف مجید علوی اور پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کے بھائی مہر اقبال سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیاگیا ہے

    عمران خان کی رہائی کے لیے ریلی نکالنے پر سینئر ممبر دیپالپور بار ضلع اوکاڑہ میاں ارشد علی مہار ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و ممبر پنجاب بار کونسل و ٹکٹ ہولڈر عوامی ایم این اے رہنما پی ٹی آئی NA 138، میاں پرویز احمد مہار ایڈووکیٹ، حافظ ابرار مصطفی مہار ایڈووکیٹ،میاں منصب مہار ایڈووکیٹ، ملک طاہر جنید رہنما پی ٹی آئی و دیگر پی ٹی آئی کارکنوں پر پولیس کیجانب سے مقدمہ درج کیا گیا ہے.

  • مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،عمران خان

    مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پاکستان کے لیے مزاکرات کرنا چاہتا ہوں،اپنی ذات یا حکومت کے لیے مزاکرات کرنا نہیں چاہتا،پہلے بھی کہا تھا اگر میرے پیچھے ہٹنے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی اگر کوئی آفر لے کر آئیں گے تو پھر مزاکرات کرنے کا سوچیں گے،ہم نے محمود خان اچکزئی کو سیاسی اتحاد کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی ہے، قوم عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ن لیگ سے کیا مذاکرات کریں ،مزاکرات کے بعد انکی تو حکومت ختم ہو جانی ہے کیونکہ یہ حکومت جعلسازی سے وجود میں آئی ہے، پاکستان کو سرجری کی ضرورت ہے، سرجری وہ کر سکتا ہے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو،ملک کی آمدنی 1500 ارب جبکہ سود 9800 ارب روپے ہے ۔لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں ملک کے اندر ریفارمز نہیں ہے، فراڈ سے آئی حکومت ریلیف کیسے دے گی،

    وہ ڈرے ہوئے ہیں جو غلط طریقے سے اقتدار میں آئے،عمران خان
    صحافی نے سوال کیا کہ خان صاحب لوگ احتجاج کے لیے باہر نہیں نکلتے ڈرے ہوئے ہیں۔ جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ نہیں ڈرے ہوئے وہ ڈرے ہوئے ہیں جو غلط طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں اور جس دن میں کال دوں گا اس دن لوگ آٹھ فروری سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے۔ہارتا وہ ہے جو ہار ماننے اور ہار ماننے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا، ہم آخری گیند تک مقابلہ کریں گئے اور انشاءاللہ پاکستان کو مافیا کے چنگل سے آزاد کروائیں گے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت اڈیالہ جیل ایجنسی کے کنٹرول میں ہے، وہ فیصلہ کرتے ہے کہ مجھ سے کون ملے گا ،اڈیالہ جیل میں بیٹھے ایجنسیوں کے لوگوں کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رھا ہوں،

    اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی
    دوسری جانب اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی کر دی گئی،نیب کے 2گواہان پر جرح مکمل،2پر ابتدائی جرح بھی کی گئی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل سے کمرہ عدالت پیش کیا گیا،بشریٰ بی بی کی جانب سے طبی معائنے کی درخواست پر عدالت نے سپرینڈنٹ جیل کو بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کردی،احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے سماعت کی،،نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر چودھری نذر، عرفان بھولا اور سہیل عارف جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء عثمان گل، ظہیر عباس چودھری،خالد یوسف چودھری و دیگر عدالت پیش ہوئے،

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • عمران خان کی سکیورٹی سپر ویژن پر تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ  تبدیل

    عمران خان کی سکیورٹی سپر ویژن پر تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تبدیل

    راولپنڈی: عمران خان کی سکیورٹی سپر ویژن پر تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل محمد اکرم کو تبدیل کردیا گیا-

    باغی ٹی وی :محمد اکرم کو فوری طور پر عہدہ کا چارج چھوڑ کر محکمہ جیل خانہ جات لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جوڈیشل طاہر صدیق شاہ کو محمد اکرم کی جگہ اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے جیل افسران کے تبادلہ اور تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور بشریٰ بی بی کی بیٹی عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچنے والوں میں شبلی فراز، رؤف حسن، انتظار پنجوتھا، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید، ثنااللہ مستی خیل اور سلمان آفتاب بھی شامل ہیں، بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ بھی ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچی ہیں۔

    عمران خان سے آج 6 پارٹی رہنماؤں کی ملاقات،علی امین گنڈا پور پر جیل حکام …

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کیلئے سپریم کورٹ میں تقرری پر الوداعی تقریب

    آج سے ہلکی بارش کا اسپیل،درجہ حرارت 5 ڈگری کم ہونے کا امکان

  • عمران خان عید والے دن  لیٹ بیدار ہوئے تو نماز عیدکیسے ادا کرتے؟

    عمران خان عید والے دن لیٹ بیدار ہوئے تو نماز عیدکیسے ادا کرتے؟

    عیدالاضحیٰ کا آج تیسرا دن ہے، تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی

    عمران خان کو عدالت نے تین مقدمات میں سزائیں سنائی تھیں جن میں سے دو میں معطل ہو چکی ہیں، دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے، عمران خان کونومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، شاہ محمود قریشی بھی اڈیالہ جیل میں ہیں،عید کے موقع پر اڈیالہ جیل میں عمران خان، شاہ محمود قریشی اور بشریٰ بی بی سے انکے قریبی افراد نے ملاقاتیں کی ہیں،

    تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو نماز عید ادا نہیں کرنے دی گئی تا ہم اب صحافی عمر چیمہ نے ایک ویلاگ میں کہا ہے کہ عمران خان کے نماز عید کے حوالہ سے جیل حکام سے رابطہ کیا اور کہا کہ نماز عید کیوں پڑھنے دی گئی جس پر جیل حکام نے انکشاف کیا کہ عمران خان عید والے دن لیٹ سو کر اٹھے، جیل میں ہوتا یہ ہے کہ نماز عید کے لئے قیدی پہلے آگاہ کرتا ہے کہ اس نے نماز عید پڑھنی ہے، عمران خان نے نہ تو اس ضمن میں کسی کو آگاہ کیا تھا اور نہ ہی عمران خان عید والے روز جلدی اٹھے، عمران خان روٹین میں جیل میں دس گیارہ بجے نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور عید کے دن بھی عمران خان اپنی روٹین کے مطابق ہی اٹھے،وہ تہجد کی نماز پڑھتے ہوں گے جو انفرادی عبادت ہے تا ہم نماز عید ایک اجتماعی عبادت ہے جس میں جیل کے پروٹوکول کو فالو کیا جاتا ہے.عمران خان نے اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ وہ نماز عید پڑھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ وقت پر اٹھے، جیل حکام کی جانب سے کوئی پابندی نہیں تھی.

    ٹیریان کیس کی نئی سماعت مقرر کرنا بانی پی ٹی آئی کو ناحق جیل میں رکھنےکامنصوبہ ہے،پی ٹی آئی

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • عمران خان ،قریشی، بشریٰ بی بی کی عید اڈیالہ جیل میں

    عمران خان ،قریشی، بشریٰ بی بی کی عید اڈیالہ جیل میں

    سابق وزیراعظم عمران خان نے عید اڈیالہ جیل میں گزاری

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بھی عید اڈیالہ جیل میں گزاری، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی عید اڈیالہ جیل میں‌گزاری، باخبر ذرائع کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے نماز عید ادا کی، دونوں نے جیل حکام کے ہمراہ نماز عید ادا کی ،تاہم شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ آج دوسری عید ہے جو والد کے بغیر کر رہا ہوں،عمران خان کو اور شاہ محمود قریشی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی،سائفر کیس میں اللہ نے سرخرو کیا، عید کے بعد شاہ محمود قریشی رہا ہو جائیں گے،

    عمران خان کا محسن نقوی کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    دوسری جانب عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے عید پیغام پوسٹ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہاہلِ وطن کو عید کی خوشیاں مبارک! عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کے اس جذبے، جس کی مثال جنابِ ابراہیم علیہ السّلام کی جانب سے قائم کی گئی،کوصحیح معنوں میں اپنانے کا درس دیتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں چند افراد کی اپنی اناؤں کی پوجا اور نفسِ عمّارہ کی پرستش نے ہمارے سماج کی اخلاقی تباہی کا سامان کیا ہے اور ہر ادارے کو تنزّلی و انحطاط کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی کسمپرسی پوری طرح یہ ظاہر کر رہی ہے کہ کیسے ایک شخص کی انا اور اس کے نتیجے میں اقربا پروری نے پہلے ہی پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ محسن نقوی کو زرداری، جو مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ہی اپنا بیٹا قرار نہیں دیتا محسن نقوی انکے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتا ہے چنانچہ پہلے اسے وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے نوازا گیا حالانکہ (اس کی وزارتِ اعلیٰ کا) یہ دور پاکستان کی تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ اس کے خلاف تو دستور کی منشا اور آئین کے تقاضوں کے مطابق پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کی اجازت نہ دینے پر آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئیے۔ پھر اس نے قوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور جبر و فسطائیت کی ایسی سیاہ تاریخ رقم کی جسکی نظیر تک ملنا ناممکن ہے۔ اسکی نگرانی میں چادر و چاردیواری کےتقدّس کو پامال کیا گیا، سیاسی کارکنان (ناحق) قتل کئے گئے، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنائے گئے۔ وحشت و سفّاکیّت کا ریکارڈ قائم کرنے پر اسےداخلہ امور جیسی حسّاس ترین وزارت سےہی نہیں بلکہ سینیٹرشپ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کے ذریعے بھی نوازا گیا۔ ٹیم کی کارکردگی میں اضافے پر توجّہ دینے کی بجائے محسن نقوی نے نے اپنی تمام تر توانائیاں (سرکار کے) سیاسی مخالفین کو دبانے میں کھپا دیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی ثابت کرتی ہےکہ کھلاڑیوں کا مورال بُری طرح مجروح/نچلی ترین سطح پر ہے کیونکہ کرکٹ بورڈ کی کمان ایک نااہل ٹاؤٹ کے ہاتھ میں ہے۔ ترجیحات میں یہ حد درجہ بگاڑ ملک میں امن و امان کی صورتحال سے بھی عیاں ہے۔ پوری ریاستی مشینری شہریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے اور سفّاکیّت کے ریکارڈز قائم کرنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ امنِ عامہ درہم برہم ہے، دہشتگردی بڑھ رہی ہے اور معیشت تباہی کے پاتال میں اتر چکی ہے۔ حتمی طور پر اب ”جنگل کے بادشاہ“، جو بنیادی طور پر اس ملک میں ڈوریاں ہلاتا ہے، کو اداروں کی تباہی کا سلسلہ فی الفور ترک کر دینا چاہئیے۔ وقت آگیا ہے کہ اپنا قبلہ درست کیا جائے قبل اس کے کہ ملک کا حشر بھی وہی ہو جو 2024 کے عالمی کپ کے دوران پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا ہوا۔