Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • بھارتی سفارتخانے کے وفد کا اڈیالہ جیل کا دورہ

    بھارتی سفارتخانے کے وفد کا اڈیالہ جیل کا دورہ

    بھارتی سفارتخانے کے 3 رکنی وفد کی اڈیالہ جیل آمد ہوئی ہے

    اڈیالہ جیل آنے والے بھارتی سفارتخانے کے وفد میں فرسٹ سیکرٹری سمیت 2 سٹاف ممبر شامل تھے، بھارتی سفارتخانے کے وفد نے اڈیالہ جیل میں قید بھارتی قیدی سے ملاقات کی، وفد بھارتی قیدی سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے.

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

  • شیر افضل مروت کا مشرق وسطیٰ کے ملک جانے کا اعلان

    شیر افضل مروت کا مشرق وسطیٰ کے ملک جانے کا اعلان

    تحریک انصاف کےرہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ میری خدمات پارٹی کے لیے رضاکارانہ ہیں میں کسی سے معاوضہ نہیں لیتا

    پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ صوبے میں بیوروکریسی وہی ہے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی،وفاقی حکومت بیوروکریسی میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے ،صوبائی حکومت نے بہت زبردست کام کیا کہ بشکیک سے طلبہ کے لیے خصوصی طیارہ بھیجا،وفاقی حکومت کی صوبے کی رائلٹی میں سیاست تعصب کا مظاہرہ کر رہی ہے،مجھے کمیٹیوں سے نکالا گیا لیکن میں پی ٹی آئی میں ہوں،نہ میں پارٹی میں سازشی کرتا ہوں اور نہ گروپ بندی ، خان جو کہتا ہے وہی کرونگا،رؤف حسن کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ پارٹی کے لیے ایک پیغام ہے،ہمیں ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن پی ٹی آئی ڈرنے والے نہیں ہے،میری خدمات پارٹی کے لیے رضاکارانہ ہے میں کسی سے معاوضہ نہیں لیتے،بانی چیئرمین نے کہا تھا کہ پارٹی اختلافات پر بات نہ کریں میں نے باتیں کی بانی چیئر مین ناراض ہوگئے، بانی چیئرمین سے ملاقات ہوگی تو تمام چیزیں کلئیر ہو جائینگی،

    صرف خان کے ساتھ ہوں اور اس کے احکامات پر عمل کرتا ہوں،شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ نگران حکومت کے دورمیں میرے خلاف دو درجن سے زائد کیسز بنائے گئے، تمام کیسز ہائیکورٹ میں چیلنج کیے اور عدالت نے میری گرفتاری روک دی ہے،القادر ٹرسٹ کیس میں بانی چیئرمین عمران خان کو سزا ہوتی ہے تو یہ سیاسی انتقام ہو گا،یہ اسی طرح کیسز بناتے رہینگے اور سزائیں دیتے رہینگے،اس کا حل احتجاج ہوگا،شیر افضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ میں سیاست میں گروپنگ پر یقین نہیں رکھتا نہ میں نے کبھی گروپنگ کی ہے اور نہ آئندہ کروں گا۔میں کسی گروپنگ کا حصہ نہیں میں صرف خان کے ساتھ ہوں اور اس کے احکامات پر عمل کرتا ہوں

    میں اپنی مرضی سے احتجاج کا منصوبہ نہیں بنا سکتا،شیر افضل مروت
    قبل ازیں ایک ٹویٹ میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایجی ٹیشن اور احتجاج کے بارے میں مجھ سے مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں دریافت کر رہی ہے۔ میں ہر قسم کے لوگوں پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ احتجاج کی قیادت کا چارج اب میرے پاس نہیں ہے۔ فیصلہ خان صاحب نے کیا تھا اس لیے میں اپنی مرضی سے احتجاج کا منصوبہ نہیں بنا سکتا کیونکہ اس کی منصوبہ بندی اور انتظام پارٹی اور اس کے عہدیداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ پارٹی آئندہ کے لائحہ عمل پر کارکنوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آزاد ہونے کی وجہ سے، میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ دس سے بیس دن قیام کے لیے مشرق وسطیٰ کے ایک ملک جا رہا ہوں جو کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی طرف سے میرے گھر پر آدھی رات کے حملے کے بعد فروری 2024 سے بیرون ملک مقیم ہے۔ میں پی ٹی آئی کے تمام ورکرز کو یقین دلاتا ہوں کہ خان صاحب جب بھی دیں گے میں اپنی ذمہ داریاں نبھاؤں گا۔ پارٹی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے تک میڈیا کو دستیاب نہیں رہوں گا۔

    شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھاتاہم دوسری جانب نور عالم خان بھی چیئرمین پی اے سی کے امیدوار ہیں، نور عالم خان اتحادی حکومت میں بھی پی اے سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار آزاد ہیں، جبکہ نور عالم خان جے یو آئی کے رکن ہیں،شیر افضل مروت پر اعتراض کے بعد حامد رضا کا نام سامنے آیا تھا  شیخ وقاص کا نام سامنے آیا ہے تو اس پر شیر افضل مروت نے اعتراض عائد کر دیا ہے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

  • اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی غصے میں نظر آئیں، بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں تو عمران خان کے پاس جانے کی بجائے الگ بیٹھیں ،بعد ازاں روسٹرم پر گئیں اور احتساب عدالت کے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا تاہم عمران خان اور وکلا سے مشاورت کے بعد عدم اعتماد واپس لے لیا

    اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوسکا،عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی گئی

    سماعت کا آغاز ہوا تو بشریٰ بی بی انتہائی غصے میں کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں اور اپنے شوہر عمران خان کے پاس جانے کی بجائے الگ بیٹھ گئیں، بشریٰ بی بی عمران خان کی بہنیں جو کمرہ عدالت میں موجود تھیں، ان سے بھی نہیں ملیں،بشریٰ کی بیٹیاں عمران خان کی بہنوں کے ساتھ بیٹھی تھیں بشریٰ اپنی بیٹیوں سے بھی نہیں ملیں، بشریٰ بی بی روسٹرم پر گئیں اور بولیں” پہلے کیسز کے ججز پر بھی اعتماد نہیں تھا، اس عدالت پر بھی عدم اعتماد کر رہی ہوں،15مئی کو اڈیالہ جیل میں سماعت تھی، کسی نے نہیں بتایا”۔عدالت نے کہا کہ 15 مئی کی سماعت تو ملتوی ہوئی تھی،بشریٰ بی بی نے کہا کہ میں اس کیس میں قیدی نہیں ہوں، نا انصافی کی وجہ سے جیل میں ہوں

    عمران خان نے جب دیکھا کہ بشریٰ بی بی نے جج پر عدم اعتماد کر دیا ہے اور بحث کر رہی ہیں تو عمران خان اٹھے اور بشریٰ بی بی کے پاس گئے،اور انہیں فیملی کارنر میں جانے کو کہا،بشریٰ بی بی علیحدہ کمرے میں گئیں تو اپنی بیٹیوں کو بلایا اور ان سے ملاقات کی تا ہم عمران خان کی بہنوں سے نہ ملیں

    اڈیالہ جیل میں آج ہونے والی سماعت کے آغاز سے لے کر آخر تک عمران خان پریشان نظر آئے،عمران خان کبھی وکلاء، کبھی روسٹرم، کبھی بشریٰ بی بی اور کبھی بہنوں کے پاس جاتے رہے،بشریٰ بی بی اور عمران خان نے پانچ سے چھ مرتبہ سرگوشیوں میں باتیں بھی کیں، وکلاء اور عمران خان نے عدالت سے بشریٰ بی بی کو قائل کرنے کیلئے تین مرتبہ وقت بھی مانگا،عدالت نے وکلاء اور عمران خان کی درخواست پر سماعت میں تین بار وقفہ کیا اور طویل مشاورت کے بعد وکلاء اور بانی پی ٹی آئی نے عدم اعتماد واپس لینے سے عدالت کو آگاہ کیا۔

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    عمران نیازی کے بلانے کے باوجود بشریٰ بی بی نے نہ صرف انکی بات نہیں سنی بلکہ انکی بہنوں سے ملاقات بھی نہیں کی،تاہم اپنی بیٹیوں سے عدالت سے باہر جا کر ملاقات کی۔بشری بی بی نے دوپہر2 بجے کمرہ عدالت میں ہی نماز ظہر ادا کی۔

    ملزمان کے وکلاء نے مشاورت کے بعد عدالت میں نئی درخواست دائر کی،درخواست میں نیب عدالت سے دیگر مقدمات کی طرح کیس کی ہر 14دن بعد سماعت کی استدعا کی گئی،عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی،عدالت نے 22 مئی کو درخواست کی سماعت کے لیے نوٹسز جاری کردئیے

    توشہ خانہ کیس،عمران ،بشریٰ کو نیب کے نئے نوٹس پر عدالت نے کیا جواب طلب

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

    عمران ،بشریٰ کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہ لگانے پر توہین عدالت نوٹس

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں،شعیب شاہین
    اڈیالہ جیل کے باہر شعیب شاہین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی قریب میں جج ابو الحسنات ذوالقرنین اور قدرت اللہ نے انصاف کا قتل کیا ، انصاف کا قتل کرنے والوں کے خلاف ریفرنس فائل کرنے جارہے ہیں، جس طرح جج ابو الحسنات ذوالقرنین کو تعینات کیا گیا ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ،انوار الحق کاکڑ نے فارم 47 کی تصدیق کی اور اس بات کا اعتراف سابق کمشنر راولپنڈی نے بھی کیا ،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے پوچھا گیا بتائیں کیسے جیتے ان کا کہنا تھا عدالت میں بتاؤں گا ، ہم فارم 45 کے تحت جیتیں ہیں اور ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں، الیکشن کمیشن اور فارم 47 والے جرائم کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ،جسٹس بابر ستار کے خلاف 7 لوگوں نے ایک جیسا بیان دیا، انصاف کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے، عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے،

    جسطرح ملک چلایا جارہا ہے اسے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی،عمران خان
    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے بینیفیشری سے جب کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ حملہ اور ہو جاتے ہیں، جھوٹ کو بچانے کے لیے ججز اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، صدر، وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب جھوٹ پر بیٹھے ہیں، فارم 47 کا بینیفیشری گورنر خیبر پختونخواہ، علی امین گنڈاپور پر ذاتی حملے کر رہا ہے، فارم 47 کے بینیفیشری ہی جسٹس بابر ستار پر لفظی حملے کر رہے ہیں، جمہوریت اخلاقی قوت پر چلائی جاتی ہے، نگران وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے پاس کیا جواز ہے، کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہباز شریف کو پیغام بھیجا، چیف جسٹس ایک دبنگ آدمی ہیں، چیف جسٹس نے کہا بھٹو کو فئیر ٹرائل نہیں ملا، کیا مجھے فئیر ٹرائل مل رہا ہے؟ جسطرح ملک چلایا جارہا ہے اسے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی، یہ جنگ آمریت کے خلاف جنگ چل رہی ہے،ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری نو مئی اور آٹھ فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا، ہمارا ٹرائل بھی نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے ٹرائل کی طرز پر چلایا جائے،

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ بھی بشریٰ بی بی کی طرح عدالت پر عدم اعتماد کررہے ہیں، جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ٹرائل کی کاروائی نارمل انداز میں آگے بڑھائی جائے۔ آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، وکلا کو ہدایات دی ہیں وہ خط تیار کر کے مجھے بتائیں گے، خط میں بتاؤں گا کہ آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے اور ملک جہاں جا رہا ہے اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا، فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا، مس کنڈکٹ پر جج ابو الحسنات اور جج قدرت اللہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کا کہا ہے،

  • ہمیں بھی عمران خان والی سہولیات دی جائیں، قیدیوں کا مطالبہ

    ہمیں بھی عمران خان والی سہولیات دی جائیں، قیدیوں کا مطالبہ

    جیل میں قید قیدیوں نے عمران خان کو ملنے والی سہولیات کا مطالبہ کر دیا ،کہا جو سہولیات عمران خان کو جیل میں دی گئی ہیں وہ ہمیں بھی دی جائیں، قیدیوں نے آئی جی جیل کو خط لکھ دیا ہے

    پنجاب کی جیلوں میں قید قیدیوں کی جانب سے آئی جی جیل خانہ جات کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو سہولیات عمران خان کو دی گئی ہیں،ہمیں بھی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل مراعات جیسی سہولیات فراہم کی جائیں،جیل قوانین کے مطابق اعلیٰ درجے کےقیدیوں کو ایک ہفتے میں 2ملاقاتوں کی اجازت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ملاقات کی سہولت دی،عمران خان کو ایک دن میں 6سے زائد ملاقاتیں کرنے کی اجازت دی گئی ہے،عمران خان کو جیل میں ایکسائز کرنے کیلئے مخصوص سائیکل بھی فراہم کی گئی ہے،عمران خان کو جیل میں مراعات کی فراہمی قیدیوں کیساتھ امتیازی سلوک کی واضح مثال ہے،عمران خان کو آن لائن میٹنگ کی بھی سہولت حاصل ہے جو کہ جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے،جو سہولیات عمران خان کو دی گئی ہیں وہ دوسرے قیدیوں‌کو کیوں نہیں فراہم کی جا رہیں، ہمیں بھی دی جائیں اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے.

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

     اڈیالہ جیل راولپنڈی، میانوالی،اٹک اور ڈی آئی خان کی جیلوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر 

    سکیورٹی اہلکار اب عمران خان کی ملاقاتوں کے دوران ہونے والی گفتگونہیں سن سکیں گے

    سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل آرڈر پاس کرے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

    واضح رہے کہ عمران خان گرفتار ہیں اور اڈیالہ جیل میں قید ہیں،عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک سے گرفتار کیا گیا تھا، عمران خان کو پہلے اٹک جیل پھر اڈیالہ منتقل کیا گیا تھا، توشہ خانہ کیس کی سزا عدالت نے معطل کر دی ہے تا ہم سائفر کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں بھی عدالت نے عمران خان کو سزا سنا رکھی ہے جس کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں.

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 7 سیلز پر مشتمل سیکیورٹی وارڈ میں رکھا گیا ہے، جس میں سے 2 سیل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے زیر استعمال ہیں، باقی کے 5 سیل سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر بند رکھے گئے ہیں، ان سیلز کے صحن کو سابق چیئرمین پی ٹی آئی چہل قدمی کے لیے استعمال کرتے ہیں، بانی تحریک انصاف کے سیل تک رسائی بہت محدود ہے، کوئی بھی شخص بغیر اجازت وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وارڈ کی حفاظت کے لیے پیشہ ور تربیت یافتہ افراد معمور ہیں، اڈیالہ جیل میں 10 قیدیوں پر ایک اہلکار تعینات ہے، جبکہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی کے لیے 15 اہلکار تعینات ہیں، جن میں دو سیکیورٹی افسران بھی شامل ہیں، 3 اہلکار سابق وزیراعظم عمران کی سیکیورٹی کیلئے لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں پر مامور ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی پر ماہانہ 12 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے، جبکہ کیمروں پر 5 لاکھ روپے کا خرچ آیاہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کھانے کے لیے اسپیشل قواعد و ضوابط تشکیل دیے گئے ہیں، صحت افزا کھانا مہیا کیا جاتا ہے جوکہ ایک اسپیشل کچن میں بنتا ہے،بانی تحریک انصاف کا کھانا اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہےانہیں کھانا فراہم کرنے سے قبل ایک میڈیکل افسر یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اس کا معائنہ کرتا ہے، جیل کے میڈیکل افسر کے علاوہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال کے 6 میڈیکل افسران بھی سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئے تعینات ہیں، راولپنڈی کے ایک دوسرے ہسپتال کے اسپیشلسٹ کی ٹیم جیل کا ہفتہ وار دورہ بھی کرتی ہے ، اسپیشلسٹ کی ٹیم ضرورت پڑنے پر عمران خان کا چیک اپ کرتی ہے،عمران خان کو جیل میں ورزش کے لیے مشین اوردیگر اشیا فراہم کی گئی ہیں، ملاقات کے لئے آنے والوں کے حوالے سے ب بھی اہم قوائد وضوابط بنائےگئےہیں، عمران خان کے جیل ٹرائل کے دوران، ایک جامع سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جاتا ہےاڈیالہ جیل کی حفاظت کے لیےپولیس، رینجرزسمیت مختلف محکمے فرضی مشقیں بھی کرتے ہیں اڈیالہ جیل کی جانب جانے والے روڈ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، جبکہ جیل کے ارد گرد رینجرز اور ایلیٹ فورس کے اہلکار گشت بھی کرتے ہیں۔

  • بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا

    بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا

    راولپنٍڈی:بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا۔

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل میں شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر فیصل سلطان کی نگرانی طبی ٹیم کا بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کیا جبکہ پمز ہسپتال کے عملے نے ضروری بلڈ ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے بھی حاصل کرلیے اور بشریٰ بی بی نے جیل میں طبی معائنے سے انکار کردیا۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی پی ٹی آئی کے اصرار کے باوجود بشریٰ بی بی خون کے نمونے دینے کے لیے راضی نہ ہوئیں، عمران خان کا طبی معائنہ عدالتی حکم کی روشنی میں کیا گیا، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنا اور اہلیہ بشری بی بی کا طبی معائنہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان کی نگرانی میں کرانے کی درخواست کی تھی جس پر عدالت نے درخواست منظور کرتے ہو ئے جیل انتظامیہ کو مناسب انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔

    ڈالر او ر سونے کی قیمت میں اضافہ

    فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس،سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

    اسلام آباد اورر بالائی پنجاب میں آج سے بارشوں کی پیشگوئی

  • نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، عمران خان کے دلائل نہ ہو سکے، سماعت ملتوی

    نیب ترامیم کیس، سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنماوں ، وکلا کی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود ہے،عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے،جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں،‏وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ ایڈووکیٹ ، فیصل چودھری ،بیرسٹر علی ظفر بھی موجود ہیں،اظہر صدیق ایڈووکیٹ،نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ سمیت پی ٹی آئی کے 15 کے قریب وکلاء و رہنما سپریم کورٹ میں موجود ہیں،سینیٹر فیصل جاویدخان ،سابق سینیٹر اعظم سواتی ،سینیٹر شبلی فراز ،رکن قومی اسمبلی علی محمد خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں.

    عمران خان نے نیلے رنگ کی قمیض زیب تن کر رکھی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر بلا لیا۔‏سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کرلیا،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا،خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے،

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی نے دلائل دیئے،‏، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے،آپ کے نہ آنے پر مایوسی تھی، ہم آپ کے موقف کو بھی سننا چاہیں گے، عمران خان مخدوم علی خان کے دلائل سنے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی سے کہا کہ ‏مخدوم علی خان اونچی آواز میں بولیں تاکہ عمران خان سُن سکیں،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیر التواء ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ‏کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں وہ درخواست سماعت کے لیے منظور ہوچکی تھی،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی وہ درخواست سماعت کےلیے منظور ہوچکی تھی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے نیب ترامیم کیخلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لے،

    کیس کی سماعت براہ راست نہیں دکھائی جا رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے،خواجہ حارث نے کہا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا، عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترمیم کیس پر ہوئی سماعت کا حکم نامہ طلب کر لیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا نیٹ چل رہا ہے؟مخدوم علی خان اونچا بولیں تا کہ عمران خان سن سکیں،

    imran supreme

    ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست 4جولائی2022کوآئی ،سپریم کورٹ میں 6جولائی 2022کو کو نمبر لگا ،سماعت 19جولائی کو ہوئی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ مرکزی کیس پر اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 2022کا پورا سال درخواستگزاڑ کے وکیل نے دلائل میں لیے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کا پورا آرڈیننس بنانے میں کتنا عرصہ لگا تھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف نے 12 اکتوبر کو اقتدار سنبھالا اور دسمبر میں آرڈیننس آچکا تھا،مشرف نے دوماہ سے کم عرصے میں پورا آرڈیننس بنا دیا تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسےقابل سماعت ہوا؟کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا، مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس کی کل کتنی سماعتیں ہوئیں؟وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا،مخدوم علی خان آپ کیس میں موجود تھے اتنا عرصہ کیوں لگا دیا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مارش لاء کے فوری بعد ایک ماہ کے اندر نیب قانون بن گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ترامیم سے متعلق پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں کیسز زیر التوا تھے،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست ہائیکورٹس میں کیس زیر سماعت ہونے کے باجود الیکشن کیس بھی سنا ،

    الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس اطہرمن اللہ
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس کا آرڈر آف کورٹ کدھر ہے،جب ایک آرڈر آف کورٹ ہی نہیں تو اسے فیصلہ کیوں کہہ رہے ہیں، وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ میں پھر اسے سات جج کی رائے کہوں گا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا بنچ دوبارہ تشکیل دیا گیا تھا، وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے براہ راست درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوال آئینی تشریح سے متعلق ہے،اگر ایک جج اپنی رائے دے تو وہ دوبارہ کیسے بنچ میں رہ سکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2023میں الیکشن کیس میں ایسی ہی وجوہات پر ہم دو ججز نے ناقابل سماعت کردیا تھا،ہم نے کہا تھا جو کیس ہاٸیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،اگر تب لاہور ہاٸیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بنچ سے الگ ہوجانا الگ معاملہ ہے،اگر پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ بھی کہہ دیا جائے تب بھی یہ سوال ہے کہ آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ الیکشن کیس میں تمام بنچ کی رائے تھی نوے روز میں الیکشن ہوں،عدالتی فیصلے کے باوجود عملدرآمد نہیں ہوا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس زیر التو ہونے کے باجود سپریم کورٹ براہ راست کیس سننے پر ججز میں اختلاف آیا،

    دوران سماعت عمران خان نے ورزش کے انداز میں سر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر سٹریچنگ کی،بازوؤں کو ورزش کے انداز میں ہلایا اور گردن کو دائیں بائیں حرکت دیتے رہے،عمران خان نے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں کو پاس بلا لیا اور اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے کی شکایت کی کہ اسکو سہی کرو جس پر اہلکاروں نے فوراً لائٹ کو ایڈجسٹ کر دیا

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا اور کہا کہ آپ جب میرے ساتھ بینچ میں بیٹھے ہم نے تو 12 دن میں الیکشن کروادیے،آپ جس بینچ کی بات کررہے ہیں اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں نہیں تھا، کیا چیف جسٹس کسی بھی جج کو بنچ سے الگ کرسکتا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سات رکنی بنچ نے کہا نوے دونوں میں الیکشن ہوں مگر نہیں ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری سربراہی میں تین رکنی بینچ نے صرف بارہ دونوں میں الیکشن کرانے کا فیصلہ دیا،پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا ہم نے آرڈر آف دی کورٹ دیا،

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے عدالتی کارروائی لائیو نہ ہونے کا نکتہ اٹھا دیا، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ عدالتی کاروائی براہ راست نشر نہیں ہو رہی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایڈوکیٹ جنرل کے پی کو اپنی جگہ پر بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کیس جیسے مختلف فیصلے بھی موجود ہیں،ہائی کورٹ میں زیرسماعت درخواست سپریم کورٹ نہیں سن سکتی، نیب ترامیم کیس بھی سپریم کورٹ میں قابل سماعت نہیں تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں سرگوشیوں پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ جس نے باتیں کرنی ہیں کمرہ عدالت سے باہر چلا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا نفاذ کب سے ہوا؟ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد نیب ترامیم کی کتنی سماعتیں ہوئیں؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے بعد کئی سماعتیں ہوئیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا،پریکٹس اینڈ پروسیجر معطل کرنا درست تھایا غلط مگر بہر حال اس عدالت کے حکم سے معطل تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک قانون کو معطل کرنے پھر اس کیس کو سناہی نہ جائے تو ملک کیسے ترقی کرے گا ،آپ کو قانون پسند نہیں تو پورا کیس سن کر کالعدم کردیں ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بل کی سطح پر قانون کو معطل کرنا کیا پارلیمانی کارروائی معطل کرنے کے مترادف نہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایسے پھر پارلیمنٹ کو ہی کیوں نہ معطل کریں، ہم قانون توڑیں یا ملٹری توڑے ایک ہی بات ہے،ہم کب تک خود کو پاگل بناتے رہیں گے،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اچھا تھا یا برا تھا لیکن پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو عدالت نے معطل کر رکھا تھا، ایکٹ معطل ہونے کے سبب کمیٹی کا وجود نہیں تھا،وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بنچ کے ایک رکن منصور علی شاہ نے رائے دی کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کو طے کیے بغیر نیب کیس پر کارروائی آگے نہ بڑھائی جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون درست نہیں ہے تو اسے کلعدم قرار دے دیں،اگر قوانین کو اس طرح سے معطل کیا جاتا رہا تو ملک کیسے ترقی کرے گا،ہم کب تک اس بے وقوفانہ دور میں رہتے رہیں گے،اگر مجھے کوئی قانون پسند نہیں تو اسے معطل کردوں کیا یہ دیانتداری ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کمرہ عدالت میں درخواست گزار موجود ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ لیکن پہلے مخدوم علی خان کو سن لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو سن لیں گے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے وکیل مخدوم علی سے سوال کیا کہ مخدوم علی خان ابھی کتنا وقت دلائل دینگے، مخدوم علی خان نے کہا کہ مجھے ابھی وقت لگے گا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اپیل متاثرہ فریق دائر کر سکتا ہے اور وہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے،حکومت اس کیس میں متاثرہ فریق کیسے ہے؟پریکٹس ایند پروسیجر کے تحت اپیل صرف متاثرہ شخص لائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صرف متاثرہ شخص نہیں قانون کہتا ہے متاثرہ فریق بھی لاسکتا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ دو تشریحات ہو سکتی ہیں کہ اپیل کا حق صرف متاثرہ فریق تک محدود کیا گیا،متاثرہ فریق میں پھر بل پاس کرنے والے حکومتی بنچ کے ممبران بھی آسکتے ہیں،

    آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں،کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔چیف جسٹس
    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں وزیراعظم خود آرڈیننس جاری کرواتے رہے، پی ٹی آئی ارکان نے پارلیمنٹ میں نیب ترامیم کی مخالفت نہیں کی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس حکومت کے سیاست دانوں کو مجرم ٹھہرا رہے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے کہا کہ آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں۔آرڈیننس کے زریعے آپ ایک شخص کی مرضی کو پوری قوم پر تھونپ دیتے ہیں۔کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں۔ کیا آرڈینس کے ساتھ تو صدر مملکت کو تفصیلی وجوہات نہیں لکھنی چاہیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط بنانا سیاستدانوں کا ہی کام ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگلے ہفتے بنچ دستیاب نہیں ہوں گے، عمران خان کی موجودگی آئندہ سماعت پر بھی ہوگی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیی نے عمران خان کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم عمران خان سے مخدوم علی خان کے سوالوں کے جواب لیں گے، عمران خان یہ نکات نوٹ کر لیں، عمران خان بھی چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی مسکراہٹ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دیے

    سابق چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان آج کی سماعت میں دلائل نہ دے سکے ،مخدوم علی خان کے دلائل جاری ، سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہیں دلائل کے لئے مزید کچھ گھنٹے درکارہونگے، نیب ترامیم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی.

    سپریم کورٹ، عمران خان کی تصویر لیک ہونے پر تحقیقات شروع،پولیس کی دوڑیں
    سپریم کورٹ انتظامیہ نے عمران خان کی تصویر وائرل ہونے پر تحقیقات شروع کردیں،پولیس نے انتظامیہ اسٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کر دی،پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی،تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی،عمران خان کی کمرہ عدالت سے تصویر وائرل ہونے پر سپریم کورٹ میں دوڑیں لگ گئیں ،عدالتی عملہ اور پولیس پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تصویر کس نے کھینچی ہے ،عمران خان کی کمرہ عدالت میں تصویر بنانے والے کی تلاش شروع کردی گئی،کمرہ عدالت میں نصب بڑی سکرین سے عمران خان کی تصویر چند لمحوں کیلئے ہٹا دی گئی تھی پھر دوبارہ لگا دی گئی،سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ون جانے والے افراد کی چیکنگ مزید سخت کر دی گئی،بانی پی ٹی آئی کی تصویر کمرہ عدالت کے بائیں جانب بیٹھے افراد میں سے کسی نے بنائی، کمرہ عدالت کی بائیں جانب موجود افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی گئی،کمرہ عدالت میں جانے والے افراد کی تلاشی میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔

    نیب ترامیم کیس میں کمرہ عدالت سے بانی پی ٹی آئی کی تصویر وائرل ہونے کا معاملہ ،شوکت بسرا کا تصویر لیک ہونے کے حوالے سے کہنا ہے کہ میں نے کوئی تصویر لیک نہیں کی، بانی پی ٹی آئی کی تصویر میں نے نہیں بنائی ، سوشل میڈیا پر میرے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،اگر میں نے تصویر بنائی ہوتی تو میں اسے تسلیم کرتا ،

    سپریم کورٹ میں سیکورٹی سخت،موبائل فون لے جانے پر پابندی
    سپریم کورٹ نے کورٹ رپورٹر، صحافی ، اینکر پرسن اور کسی بھی فرد کو کورٹ میں موبائل فون لے جانے سے منع کر دیا تاکہ کوئی کیمرے سے بھی عمران خان کی تصویر نہ بنا سکے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،سپریم کورٹ میں آج عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کے انتظامات مکمل کیے گئے تھے، جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ نے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سے متعلق آگاہ کردیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے عملے اور جیل اتھارٹیز کے مابین ویڈیو لنک کے کونیکشن بارے رابطہ بھی کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے

    نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا،بابر اعوان
    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ بانی چئیرمین کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے، ذوالفقار علی بھٹو شہید کو عدالتی قتل کے بعد یہاں سنا گیا، نواز شریف جیل میں قید تھے انہیں مچھر کاٹنے کی شکایت پر بلایا گیا، آئین کے آرٹیکل 10 کے مطابق فئیر ٹرائل کا حق دیا جائے،

    تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سپریم کورٹ کی آج کی سماعت بھی لائیو نشر ہونی چاہیئے،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، انہیں سائفر کیس، توشہ خانہ کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی تھی، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر رکھی ہے تا ہم سائفر اور دوران عدت نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے، عمران خان کی گزشتہ روز القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت ہوئی ہے، عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کیس میں سزا ہوئی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان کو مقامی عدالتوں نے پیشی کا حکم دیا تھا تاہم کسی بھی عدالت میں عمران خان کو پیش نہیں کیا گیا، بلکہ عمران خان کے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہے، اب سپریم کورٹ نے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی.

    عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے،علیمہ خان
    عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ آمد پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اِنہوں نے نہیں دکھانا اس وقت تک عمران خان کو جیل میں رکھیں گے جب تک سارے آپشنز ختم نہیں ہوتے ججز بھی پریشان ہیں کہ کیسے فیصلہ کریں،عمران خان کو القادر میں رہا کرنے کا حکم دیا تو کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا،عمران خان کی سزاؤں کے حوالے سے سکرپٹ لکھا ہوا ہے، یہ اب بھی چاہتے ہیں کہ القادر کیس میں سزا دے دی جائے، عدت کیس میں کچھ بھی نہیں پھر بھی اسے گھسیٹا جا رہا ، بشری بی بی کے حوالے سے ان کی بیٹیوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دیا ہے، اس کیس پر سزا دینے والے جج کو بھی شرمندگی محسوس ہورہی ہو گی، اس وقت ججز بھی پریشان ہیں انہیں بھی سمجھ نہیں آ رہی کیسے فیصلے کریں، ہم اپنی عدلیہ سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی امید رکھتے ہیں،عمران خان نے کہا کہ اپنے تمام مقدمات کا سامنا کروں گا،اب عدلیہ پر ہے عمران خان کو کیسے انصاف دیں گے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے کیسز میں ججز اب چھٹی پر چلے جائیں گے

  • سیکیورٹی خدشات کےباعث 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    سیکیورٹی خدشات کےباعث 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    راولپنڈی: جیل حکام کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : احتساب عدالت اسلام آبادکے جج ناصرجاوید رانا نے آج اڈیالہ جیل میں سماعت کرنا تھی اڈیالہ جیل حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 190ملین پاؤنڈریفرنس کی سماعت ملتوی کرنےکی استدعا کی تھی، اڈیالہ جیل صوبہ کی حساس ترین جیل ہے، اڈ یالہ جیل میں اہم سیاسی شخصیات قید ہیں، سیکیورٹی خدشات کےباعث سماعت ملتوی کی جائے، میانوالی، ڈی جی خان، راولپنڈی، اٹک جیل کوتھریٹس ہیں۔

    واضح رہے کہ 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی آج عدالت میں پیش ہونا تھا۔

    انگلینڈ نے پاکستان کیخلاف سیریز میں اہم پلیئرز آئی پی ایل سے واپس بلانے کا …

    پاکستان اورامریکا دہشتگرد گروپوں کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں پر متفق

    روسی وزارت دفاع کا ایک اور سینئیر افسر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

  • عمران خان نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے،بیرسٹر گوہر

    عمران خان نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں چوتھا کیس بنا جو سیاسی انتقام ہے، ایک سیاسی جماعت کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام ہوگا تو ملک ترقی کرے گا، عدالت سے درخواست ہے عدت کیس کی کل سماعت اور فیصلہ کریں، سابق نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کے فارم 47 سے متعلق بیان پر عدالت میں جا رہے ہیں،عمران خان نے کہا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے،معافی ان سے مانگی جائے، ہم نے 9 مئی کی مذمت کی ہے، تحقیقات جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کی جائے،عمران خان نے کہا ہے رول آف لاء ہوگا تو استحکام آئے گا، ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، ایک مخصوص سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں دی جاتی، عدلیہ کا احترام ہے اور اعتماد ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے ایشو پر بانی پی ٹی آئی نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ تشدد کے بجائے تحمل سے کام لیا جانا چاہیے، بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہماری حکومت گرائی گئی، مذاکرات سے متعلق نہ کوئی پیش رفت ہے نہ کسی نے کوئی پیغام بھیجا، عارف علوی کو خصوصی ذمے داری دی گئی ہے، عارف علوی کو کہا گیا ہے وہ آگے بڑھنے کے لیے ماحول بہتر کرنے کی کوشش کریں ،اس وقت ملک میں سیاسی صورتحال اور انفلیشن بہت ہائی ہے،عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے،حکومتی سطح پر پلان ہونا چاہیے کہ شاہ خرچیوں کو کنٹرول کیا جائے،پبلک کو ریلیف ملنا چاہیے،نواز شریف کے ساتھ مذاکرات دیکھیں گے، شیر افضل مروت کا مسئلہ پارٹی بہت جلد خوش اسلوبی سے حل کر لے گی،

    دوسری جانب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اڈیالہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات پر 3 روز کیلئے پابندی عائد کردی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈیالہ جیل میں پابندی کا فیصلہ جیل کے اطراف میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے،اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی کا اطلاق 15 مئی کی رات 12 بجے تک رہے گا، پابندی کا اطلاق آئی جی جیل خانہ جات کے فیصلے کے بعد کیا گیا .

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کاعدالتوں کو زبردستی بند کروانے کا نوٹس

    ہڑتال پر چیف جسٹس برہم،بولے اتنے جرمانے لگائیں گےکہ یاد رکھیں گے

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

  • شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    شیر افضل مروت پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران کہا ہے کہ ملکی حالات پر آرمی چیف کو خط لکھوں گا،سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جو 35 ارب روپے آئے اس پر 13 ارب کا منافع بھی بن چکا ہے ،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بنجر زمین پر القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بنائی جو بچوں کو مفت تعلیم دے رہی ہے ، نواز شریف نے توشہ خانہ سے6 لاکھ روپے میں بلٹ پروف گاڑی خریدی اس کو بری کرنے کا سوچا جا رہا ہے،زرداری نے توشہ خانہ سے تین گاڑیاں لیں وہ عدالت سے استثنیٰ مانگ رہا ہے ، حسن شریف نے 18 ارب روپے کی پراپرٹی بیچی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا،مجھ پر توشہ خانہ کا چوتھا کیس چلانے جا رہے ہیں،برطانیہ میں پیسے منی لانڈرنگ نہیں بلکہ مشکوک ٹرانزیکشن کی وجہ سے پکڑے گئے تھے ،سول عدالت میں کیس چلتا تو مزید پانچ سال تک پیسے پاکستان نہ آسکتے ،بیرون ملک عدالتوں میں مختلف کیسوں میں پاکستان کے پہلے ہی 100 ملین ڈالر ضائع ہو چکے ،190 ملین پائونڈ معاہدہ کو خفیہ رکھنا پراپرٹی ٹائیکون اور نیشنل کرائم ایجنسی کی ڈیمانڈ تھی، 190 ملین پائونڈ سے متعلق انکوائری نیب میں بند کی جاچکی تھی جو دو سال بعد دوبارہ کھولی گئی،نیب چیئرمین ، وائس چیئرمین اور پراسیکوٹر جنرل نے استعفیٰ بھی دیا،زرداری اور نواز شریف کی طرح ملک سے باہر نہیں جائوں گا ،انکے تو محلات بیرون ملک ہیں وہاں شاپنگ بھی کرنی ہوتی ہے،پبلک مینڈیٹ کے مطابق حکومت بنانی پڑے گی اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، ملک کی ٹیکس کولیکشن 13 اعشاریہ 3 ٹریلین ہے، 9 اعشاریہ 3 ٹریلین ہم نے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہوتے ، اس طرح سے 24 کروڑ آبادی کا ملک کیسے چلے گا ،ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو نہیں رہا سرمایہ کاری کیلئے کوئی تیار نہیں، بجٹ سے پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا تنخواہ دار طبقہ سڑکوں پر ہو گا ،

    عمران خان سے صحافی نے سوال کیا کہ شہزاد اکبر اور فرح گوگی کو بلائیں آپ کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالت میں بیان دیں، جس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ فرح گوگی سے صرف تین ملاقاتیں ہوئی ہیں اس کا تعلق بشری بی بی سے تھا، ایسے حالات میں شہزاد اکبر آیا تو اس کو ائیرپورٹ سے اٹھا لیا جائے گا، ملک میں جنگل کا قانون ہے، جنگل کا بادشاہ سب کچھ چلا رہا ہے،

    شیر افضل مروت کو کئی مرتبہ سمجھایا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرے،عمران خان
    سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے شیر افضل مروت کے خلاف کی گئی پارٹی کارروائی پر ردعمل آگیا،اڈیالہ جیل میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی کیلئے زبردست کام کیا،سیاسی جماعت میں دائرے کے اندر رہ کر کام کرنا ہوتا ہے،شیر افضل مروت کو کئی مرتبہ سمجھایا پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کرے، شیر افضل مروت ہر دوسرے دن کسی نہ کسی پارٹی لیڈر پر چڑھائی کر دیتا تھا،شیر افضل کو سمجھایا کہ جنگ باہر والوں سے ہوتی ہے پارٹی میں لڑائی نہیں ہوتی،سعودی وفد کے دورہ کے موقع پر شیر افضل مروت نے متنازعہ بیان دیا۔ محمد بن سلمان نے میرے کہنے پر دو مرتبہ او آئی سی کانفرنس کروائی،شیر افضل مروت نے پارٹی کے لئے بہت کام کیا لیکن انکو پارٹی پالیسی کی بار بار خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے،شیر افضل مروت اب بھی پارٹی پالیسی کے مطابق چلے تو کوئی ایشو نہیں ہے،شیر افضل مروت کو نوٹس جاری کیا ہے جواب دینگے تو ٹھیک ہے،کوئی پارٹی ڈسپلن میں رہے تو ٹھیک خلاف ورزی کرے تو پورس کا ہاتھی بن جاتا ہے

    صحافی نے سوال کیا کہ شیر افضل مروت نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی ملاقات کیلئے بلائینگے تو جیل جاؤنگا کیا آپ انکو بلائینگے، عمران خان صحافی کے سوال کا جواب دئیے بغیر نکل گئے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی نے شوکار نوٹس جاری کر رکھا ہے،شوکاز نوٹس عمر ایوب کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” آپ کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پارٹی کے مفادات کو نقصان پہنچا، عمران خان کی ہدایات کے باوجود آپ نے بیانات دیئے ہیں، آپ کے بیان سے پارٹی ممبران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعلقات خراب ہوئے، آپ تین روز کے اندر اندر جواب دیں ورنہ کارروائی کی جائے گی”۔

    واضح رہے کہ شیر افضل مروت عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل گئے تھے تا ہم ملاقات نہ ہو سکی جس پر شیر افضل مروت نے دھواں دھار پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ اب میں ملنے نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت کی عمران خان نے سعودی عرب بارے بیان دینے پر سرزنش بھی کی تھی،میڈیا ٹاک کے بعد پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی کے واٹس ایپ گروپ سے بھی نکالتے ہوئے سائیڈلائن کردیا،پارٹی رہنماؤں نے شیر افضل مروت کو سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے نکالنے کی تجویز دی تھی۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کیلئے شیر افضل مروت کا نام تجویز کیا تھاتاہم دوسری جانب نور عالم خان بھی چیئرمین پی اے سی کے امیدوار ہیں، نور عالم خان اتحادی حکومت میں بھی پی اے سی کے چیئرمین رہ چکے ہیں، سنی اتحاد کونسل کے امیدوار آزاد ہیں، جبکہ نور عالم خان جے یو آئی کے رکن ہیں،شیر افضل مروت پر اعتراض کے بعد حامد رضا کا نام سامنے آیا تھا  شیخ وقاص کا نام سامنے آیا ہے تو اس پر شیر افضل مروت نے اعتراض عائد کر دیا ہے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    شیر افضل مروت کو ایف آئی اے نے کیا طلب

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    مبشر لقمان کے ساتھ احترام کا رشتہ ہے اور رہے گا، شیر افضل مروت

    مبشر لقمان کو شیر افضل مروت کی جانب سے دیا گیا انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں،

    میرے قتل کی سپاری دی گئی ،شواہد موجود ہیں،شیر افضل مروت کا مریم نواز پر سنگین الزام

  • فوج ہماری ،ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،خدا کے واسطے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ،عمران خان

    فوج ہماری ،ہمیں کوئی مسئلہ نہیں،خدا کے واسطے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ،عمران خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 کے دھرنے کی انکوائری کے لیے تیار ہوں، مجھے خوشی ہوگی کہ مجھے انکوائری کمیٹی میں پیش کیا جائے، 2014 کے دھرنے کے حوالے سے مجھ پر جتنے الزامات لگائے گئے سب غلط ہیں،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ 2013 کا الیکشن آر اوز کا الیکشن تھا،نگران وزیراعظم کے فارم 47 کے حوالے سے بیان کے بعد وفاقی حکومت سے کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں ،صدر، وزیراعظم ، وزیراعلی پنجاب ،اور سینٹ الیکشن فراڈ ہیں،نون لیگ کے لوگوں نے پرائیویٹلی ہمیں بتا دیا تھا کہ جب تک قاضی فائز عیسی چیف جسٹس نہیں بنتا نہ الیکشن ہوں گے نہ نواز شریف واپس آئے گا میرا آدھا خاندان فوج اور آدھا خاندان بیوروکریسی میں ہے ، فوج ہماری ہے اور ہمیں فوج سے کوئی مسئلہ نہیں ،نو مئی واقعات کا مجھے اس وقت پتہ چلا جب مجھے سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا، نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی ،خدا کے واسطے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ، ہم نے اپنی 27 سال کی تاریخ میں کبھی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا ،دو حکومتیں ہم نے انتخابات کیلئے تحلیل کیں سیاسی جماعت انتشار نہیں چاہتی،

    میں کیوں معافی مانگوں، معافی تو مجھ سےمانگنی چاہئے،عمران خان
    عمران خان سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ 9مئی کے واقعات پر معافی مانگیں گے، جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں کیوں معافی مانگوں، معافی تو مجھ سےمانگنی چاہئے،کیپٹل ہل میں سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ملزمان کی شناخت کرکے سزا دی گئی، یہاں تو سی سی ٹی وی فوٹیجز ہی غائب کردی گئیں، اگر بات نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں، میں پاکستان کیلئے بات چیت کا کہہ رہا ہوں،مجھے کون سی ڈیل چاہئے یا میں کون سا بیرون ملک جانا چاہتا ہوں،

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    عمران خان سے ملنے اب اڈیالہ نہیں آؤنگا،شیر افضل مروت پھٹ پڑے