Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کررہے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے وکلاء سلمان صفدر، سکندر ذوالقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں اسپیشل پراسیکیوٹرز حامد علی شاہ اور ذوالفقار نقوی عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،علی محمد خان، بیرسٹر علی ظفر، اور عمران خان کی بہنیں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خاندانی افراد، منتخب نمائندے، سنیٹرز اور وکلاء قیادت کی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت موجود تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے12 اکتوبر 2022 کی کمپلینٹ عدالت کے سامنے پڑھی اور کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس وقت کے سیکرٹری داخلہ نے کمپلینٹ دائر کی ، پانچ اکتوبر 2022 کو کس نے انکوائری شروع کی اس حوالے سے کوئی دستاویز عدالتی ریکارڈ پر نہیں ،اگر یہ دستاویز ریکارڈ پر نا ہو تو کیس کی بنیاد ہی نہیں تو کیس ختم ہو جائے گا ، تفتیشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پانچ اکتوبر کو انکوائری ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر شروع کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو انکوائری شروع کرنے کا کہا؟وفاقی کابینہ نے انکوائری کی منظوری دے کر سیکرٹری داخلہ کو اختیار دیا،کیا سیکرٹری داخلہ نے یہ اختیار ایف آئی اے کو ڈیلیگیٹ کر دیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ایف آئی اے کو کہا کہ انکوائری کریں اور معاملہ دیکھیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس کی بنیاد ہی ہِل گئی اور ساری عمارت ہی منہدم ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ ہارڈ کور کرمنل کیس نہیں، وائٹ کالر کرائم بھی نہیں، اپنی نوعیت کا الگ کیس ہے، یہ ہائبرڈ قسم کا کیس ہے اور اس میں نئی عدالتی نظیر تیار ہو گی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جتنے بھی کیسز بانی پی ٹی آئی کے خلاف آئے ہیں وہ آؤٹ دا باکس ہی رہے ہیں ، توشہ خانہ ، سائفر ، عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ بھی اسی طرح ہی آیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ وائٹ کلر کیس بھی نہیں نا ہی مرڈر کیس کی طرح کہہ سکتے ہیں یہ مکس ہائبرڈ کیس ہے ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف جرم کا کیس ہے ، یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں کہ ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں ،میں میرٹ پر دلائل دوں گا ، عدالت نے کہا کہ حق جرح ختم ہو جائے آپ کی حق تلفی ہوتی ہے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم عدالت کی نظر میں favourite child ہوتا ہے ،شام کے ٹرائل کی کیا حیثیت ہو گی ؟ اس حوالے سے بھی پوچھیں گے ، کیا بے چینی تھی کہ رات کے نو بجے بھی ٹرائل ہو رہا تھا ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اِس کیس کے مدعی ہیں اور انکی شکایت پر انکوائری کا آغاز کس نے کیا اُسکو گواہ نہیں بنایا گیا بیان قلمبند نہیں کیا گیا، یہ بنیادی نکتہ نہ ہونے کی وجہ سے اِس کیس کی بنیاد ہِل گئی اور عمارت زمین بوس ہو گئی،

    وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے وکیل سکندر ذوالقرنین ایک دن دانت میں تکلیف کی وجہ سے جیل سماعت میں پیش نہیں ہو سکے، اگلے ہی روز ٹرائل جج نے سرکاری وکلاء مقرر کر دیے، سوال یہی ہے کہ کیا جلدی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو کیا جلدی تھی، وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن شاید جج صاحب نے کوئی ڈیدلائن پوری کرنی تھی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ یہ دونوں سرکاری وکیل عدالت نے تعینات کیے تھے ،کیا ایڈوکیٹ جنرل نے نام بھیجے تھے ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی ایڈوکیٹ جنرل نے یہ تعینات کئے تھے ، عدالت نے کہا کہ پھر تو ہمیں ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس کرکے سننا پڑے گا ، ان سرکاری وکلا کی اسٹینڈنگ کیا تھی ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ سائفر کیس کا ٹرائل اسلام آباد کی تاریخ کا متنازعہ ترین ٹرائل تھا اور ٹرائل کورٹ کے جج نے اس ٹرائل کو متنازعہ بنایا، اعلیٰ عدالت کی کسی ڈائریکشن کے بغیر ٹرائل جج نے جلدبازی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل چلایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی قدغن نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل نہیں ہو سکتا، روزانہ کی بنیاد پر بھی ٹرائل منطقی طور پر ہونا چاہیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دو مرتبہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کا ٹرائل کلعدم کیا سر ہم کتنی بار آپ سے آکر شکایت لگاتے،ہم اڈیالہ جیل میں تھوڑا لیٹ پہنچ تھےتو پتہ چلتا تھا کہ گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے گئے ہیں دو تین دن بعد ہمیں کاپیاں فراہم کی جاتی تھیں،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی، ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • عمران خان کو عدالت لاتے  راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟جوڈیشل مجسٹریٹ

    عمران خان کو عدالت لاتے راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟جوڈیشل مجسٹریٹ

    ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹس اسلام آباد،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی لانگ مارچ توڑپھوڑ کے دو کیسز میں درخواست بریت، پروڈکشن پر سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی کے وکلاء نعیم پنجوتھا، سردار مصروف، آمنہ علی عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت، پروڈکشن پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کی،وکیل نعیم پنجوتھا نے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت طلب کیاجائے، جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر بحث کرلیں، اگر عمران خان کو عدالت لاتے ہوئے راستے میں کچھ ہوگیا تو کون ذمہ دار ہوگا؟ وکیل نعیم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس سے قبل بھی خود سے عدالتوں میں پیش ہوتےرہےہیں، زمان پارک آپریشن کیاگیا، وارنٹ نکالے گئے، حکومت کا کام سیکیورٹی مہیہ کرنا ہے،بانی پی ٹی آئی کی موجودگی میں دلائل دینا چاہتے ہیں،

    لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس، عمران خان کو بری کر دیا گیا

    جج شائستہ کنڈی نے کہا کہ ضمانت پر حاضری ضروری ہوتی، درخواست پروڈکشن پر نہیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پروڈکشن مسترد کردی،بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر وکیل نعیم پنجوتھا نے دلائل دیئے اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر تمام مقدمات میں صرف ایما کا کردار ہے، ایک ہی دن میں متعدد مقدمات درج ہوئے، بانی پی ٹی آئی کا ایک ہی طرح کا کردار رکھا،دفعہ 144 کا نفاذ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیاگیا نہ بتایاگیا،مدعی ایس ایچ او ہے جس کو مقدمہ درج کرنے کا اختیار نہیں،بانی پی ٹی آئی پر درج مقدمات میں گواہان کے بیانات بھی نہیں،جج شائستہ کنڈی نے استفسار کیا کہ کیا اس سے پہلے بھی بانی پی ٹی آئی مقدمات میں بری ہو چکے؟ وکیل نےکہا کہ اس سے قبل بھی بانی پی ٹی آئی متعدد مقدمات سے بری ہو چکے ہیں،عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی لانگ مارچ توڑپھوڑ کیس میں بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، جو اب سنا دیا گیا ہے،

    بانی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ توڑپھوڑ کے دو کیسز میں ریلیف مل گیا،بانی پی ٹی آئی کی دو مقدمات میں بریت کی درخواست منظور کرلی گئی ،جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے بانی پی ٹی آئی کو دو مقدمات میں بری کردیا،بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ لوہی بھیر، سہالا میں مقدمات درج کیے گئے تھے

    ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، چیف جسٹس

    یہ کس قسم کے آئی جی ہیں؟ان کو ہٹا دیا جانا چاہئے،چیف جسٹس برہم

    چیف جسٹس اور ریاستی اداروں کے خلاف غلط معلومات کی تشہیر، ایف آئی اے حرکت میں آ گئی

    طلال چوہدری ،عائشہ رجب علی کو ٹکٹ نہ ملنے پر "تنظیم سازی” سوشل میڈیا پر زیر بحث

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • علی امین گنڈاپور  بانی پی ٹی آئی  کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    راولپنڈی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اپنے سرکاری پروٹوکول کے بغیر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: جیل ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور پروٹوکول کے بنا اڈیالہ جیل پہنچے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کانفرنس روم میں ہوئی، علی امین گنڈاپور ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے۔

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو صوبائی حقوق کے حصول کے لیے ایس آئی ایف سی سمیت تمام وفاقی پلیٹ فارمز پر بات چیت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے اور سیکیورٹی اداروں سے تعاون کی ہدایت کی-

    مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کی جانب سے میڈیا کو جاری تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہفتہ کے روزاڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی جس میں اہم سیاسی امور پر مشاورت کی گئی، علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے اہم سیاسی امور پر ہدایات لیں، ملاقات کے دوران سینیٹ الیکشن میں خیبر پختونخوا سے ناموں پر مشاورت ہوئی اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے بانی پی ٹی آئی سے خیبر پختونخوا سے سینیٹ الیکشن کے لیے ناموں کی منظوری لی۔

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف کے مطابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے وزیر اعظم سے ملاقات کے بارے میں عمران خان کو تفصیلی بریفننگ دی، بانی پی ٹی آئی نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو ہدایت دی کہ صوبائی حقوق کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں، وزیر اعلی نے آئندہ ہونے والے ایس آئی ایف سی اجلاس کی حوالے سے بھی مشاورت کی جس پر بانی پی ٹی آئی نے وزیر اعلی کو ہدایت دی کہ صوبائی حقوق کے لیے ایس آئی ایف سی اور دیگر وفاقی پلیٹ فارم پر بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں۔

    بیرسٹر سیف کے مطابق ملاقات کے دوران صوبے میں امن وامان کے حوالے سے بات چیت ہوئی، ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی نے شمالی وزیرستان میں ہونے والے حملے پر افسوس کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کے لیے ہر قسم اقدامات اٹھائیں، عمران خان نے وزیر اعلی کو ہدایت دی کہ سیکیورٹی معاملات میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں، وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے صحت کارڈ کی بحالی، اور رمضان پیکیج پر بھی بریفنگ دی جس پر عمران خان نے خوشی کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے آج ہی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے اسپیشل اٹارنی ہدایت اللہ کے ذریعے دائر کی گئی درخواست دائر میں وزارت داخلہ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جیل کے باہر خاردار تاریں لگا دی گئیں ہیں، جبکہ اضافی نفری بھی تعینات ہے،جیل سے متصل اڈیالہ روڈ پر ناکے قائم کردیئے گئے ہیں، جبکہ جیل کے مرکزی دروازے پر ملاقاتوں پر پابندی کے بینرزآویزاں کردیئے گئے،جیل کے باہر غیر متعلقہ افراد، گاڑیوں کورکنے کی اجازت نہیں ، جیل حکام کے مطابق اڈیالہ جیل میں صرف متعلقہ افراد کوجانے کی اجازت ہے، میڈیا کی سیٹلائٹ وین کوجیل سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑے ہونے کی اجازت ہے۔

  • اٹک جیل میں برے حالات تھے،  زمین پر سلایا گیا،‏عمران خان

    اٹک جیل میں برے حالات تھے، زمین پر سلایا گیا،‏عمران خان

    تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چھوڑ کر جانے والے ان افراد کو جن پر تشدد ہوا واپس لے لیں گے،‏

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان کا کہنا تھاکہ ہمیں چاہیے تھا ہم تینوں جماعتوں سنی اتحاد کونسل،مجلس وحدت المسلمین اور جے یو آئی شیرانی گروپ سے اتحاد کرتے،‏آئی ایم ایف سے قرض لینے سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے،سیاسی استحکام تب ہی ہو گا تب عوام کو اس کا چوری ہونے والا مینڈیٹ واپس کیا جائے گا،‏اٹک جیل میں برے حالات تھے، بہت سختی کی گئی، زمین پر سلایا گیا،‏صاف شفاف انتخابات کروائیں جو بھی آئے مجھے منظور ہو گا، ایک قوم بن پر اصلاحات کی ضرورت ہے، جرمنی اور جاپان بھی ایک قوم بنی تھی، ‏علی امین اور شہباز ملاقات سے کوئی برف نہیں پگھلی ۔برف اس وقت پگھلے گی جب ھمارے مینڈیٹ پر پڑنے والے ڈاکے کو ریورس کیا جاے گا ۔‏پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا فوری طور پر آڈٹ کروایا جائےہماری اکانومی ڈوب رہی ہے، ملک میں سخت ریفارمز کی ضرورت ہے، ‏یوسف رضا گیلانی کا بیٹا سینٹ الیکشن میں پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا آج تک کیس نہیں چل سکا، ‏آج الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہوتی تو دھاندلی کا معاملہ ایک گھنٹے میں حل ہو جاتا،

    آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے احتجاج درست ، گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہئے تھی،عمران خان
    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے خدشہ ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخواہ کا فنڈ جاری نہیں کرے گی،آئی ایم ایف کے دفتر کے سامنے جو احتجاج ہوا وہ درست تھا ، اسٹیٹ مخالف نعرے بازی کا علم نہیں ، علی امین گنڈاپور کو شہباز شریف کے ساتھ تصاویر نہیں بنوانی چاہئے تھی،3 کروڑ ووٹ ہماری جماعت کو ملے اور 3 کروڑ 17 جماعتوں کو مل کر،پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا فوری طور پر آڈٹ کروایا جائے،

    عمران خان سے جب شیخ رشید کے بارے میں سوال کیا گیا تو عمران خان نے جواب دیا کہ "‏شیخ رشید کا شغل، ہنسی مذاق مس کریں گے،

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،اڈیالہ جیل میں سماعت 20 مارچ تک ملتوی
    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کو عدالت پیش کیا گیا ،ایک گواہ کا بیان قلمبند اور ایک گواہ پر جرح مکمل ہو گئی،عدالت نے سماعت بدھ 20 مارچ تک کیلئے ملتوی کردی،پراسیکیوشن کی جانب سے دو گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا،وکلاء صفائی نے ایک گواہ پر جرح مکمل کرلی جبکہ عدالت نے ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا،گواہان میں چیف فنانشل آفسیر القادر یونیورسٹی شامل تھے،نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر چودھری نذر، عرفان بھولا و دیگر پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء چودھری ظہیر عباس، عثمان گل و دیگر پیش ہوئے،دوران سماعت بشری بی بی کی بیٹی اورداماد بھی کمرہ عدالت موجود تھے،عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید گواہان کو طلب کرلیا

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلا نے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے چیف فنانشل آفیسر زاہد حنیف پر جرح مکمل کرلی ،190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں ایک گواہ کا بیان قلمبند بھی کیا گیا ، سی ایف او القادر یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشری بی بی القادر ٹرسٹ کی منیجمنٹ کمیٹی میں شامل نہیں ۔القادر ٹرسٹ کے ملازمین کی ہائیرنگ اور فائرنگ میں عمران خان اور بشری بی بی کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ یہ درست ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی نے ٹرسٹ کی منیجمنٹ کمیٹی کے فیصلوں سے کوئی اختلاف نہیں کیا ۔یہ درست ہے کہ ٹرسٹ کے اکائونٹ سے کوئی رقم عمران خان اور بشری بی بی کے اکائونٹ میں ٹرانسفر نہیں ہوئی۔یہ درست ہے کہ ٹرسٹ کی زمین القادر یونیورسٹی کے قیام کے مقصد کیلئے تھی ۔ ریکارڈ کے مطابق ٹرسٹ کے تمام اثاثے ٹرسٹ کے مفاد کیلئے ہیں ۔یہ درست ہے کہ ٹرسٹ کے اثاثوں سے ٹرسٹی کوئی فائدہ نہیں لے سکتے ۔ درست ہے کہ ٹرسٹی کا رشتہ دار یا ملازم بھی ٹرسٹ کے اثاثوں سے کوئی فائدہ نہیں لے سکتا ۔درست ہے ٹرسٹی ٹرسٹ کی زمین کو مستقبل میں ذاتی استعمال میں نہیں جاسکتے ۔یہ درست ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی ٹرسٹ کی زمین اور اثاثوں کے بینفشری نہیں ہیں ۔ یہ درست کہ ٹرسٹ کے اثاثوں کے بینفشری ٹرسٹ میں پڑھنے والے طلبہ اور فیکلٹی ممبرز ہیں ۔ درست ہے کہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی کسی بھی صورت ٹرسٹ کے اثاثوں کے بینفشری نہیں ہیں ۔ 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

    مراد سعید بھی سینیٹ کے امیدوار،اظہر مشوانی کورنگ،زلفی بخاری،حامد خان، یاسمین راشد ،صنم جاوید بھی امیدوار
    دوسری جانب بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے سینیٹ انتخابات کیلئے امیدواروں کے ناموں کی منظوری دے دی ، خیبرپختونخوا سے جنرل نشستوں کیلئے مراد سعید ، فیصل جاوید،مرزا محمد آفریدی اور عرفان سلیم،خرم ذیشان اور اظہر مشوانی امیدوار ہوں گے ،اعظم سواتی اور ارشاد حسین ٹیکنوکریٹ کی نشست پر امیدوار ہوں گے .خواتین کی نشستوں پر عائشہ بانو اور روبینہ ناز امیدوار ہوں گی،پنجاب سے حامد خان اور زلفی بخاری جنرل نشست پر امیدوار ہوں گے ،پنجاب میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر یاسمین راشد امیدوار ہوں گی ،پنجاب سے خواتین کی نشست پر صنم جاوید امیدوار ہوں گی

  • اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت

    اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت

    راولپنڈی، سکیورٹی تھریٹ کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکورٹی مزید سخت کردی گئی

    جیل کے باہر خار دار تاروں کی تنصیب شروع، اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے،جیل سے متصل اڈیالہ روڈ پر ناکے قائم کر دیئے گئے ہیں، جیل کے مرکزی دروازے پر ملاقاتوں پر پابندی کے بینرز آویزاں کر دیئے گئے ہیں،اڈیالہ جیل سے متصل سڑک پر خار دار تاروں کی فینسنگ کا کام تیز کر دیا گیا ہے،جیل کے باہر غیر متعلقہ افراد، گاڑیوں کو رکنے کی اجازت نہیں،جیل حکام کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل میں صرف متعلقہ افراد کو جانے کی اجازت ہے،میڈیا کی سیٹلائٹ گاڑیوں کو جیل سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر کھڑے ہونے کی اجازت ہے

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے قریب سے چند روز قبل دہشت گرد گرفتار ہوئے تھے، سابق وزیراعظم عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں ،شاہ محمود قریشی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہیں،

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

     اڈیالہ جیل راولپنڈی، میانوالی،اٹک اور ڈی آئی خان کی جیلوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر 

  • کل آپ کو عدالت کے لیے تھریٹ آتی ہے تو کیا عدالت بند کر دیں گے؟عدالت کا استفسار

    کل آپ کو عدالت کے لیے تھریٹ آتی ہے تو کیا عدالت بند کر دیں گے؟عدالت کا استفسار

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کے خلاف شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواستوں پرسماعت کی،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو سپرنٹنڈنٹ جیل کی طرف سے تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے دوران سماعت استفسار کیا کہ یہاں پیر کے روز ملاقات پر رضامندی کے باوجود ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی قیدیوں کی ملاقاتوں کے لیے سیکیورٹی انتظامات کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ قیدی کا وکیل سے ملاقات کرنا بنیادی اور آئینی حق ہے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ پوری جیل کو سخت سکیورٹی تھریٹس ہیں،

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ راہ فرار کا آسان طریقہ ہے کہ سیکیورٹی تھریٹ ہے تو پوری جیل بند کر دیں، سیکیورٹی تھریٹس ہیں تو پورے ملک کے موبائل نیٹ ورک بند کر دیں،کل آپ کو عدالت کے لیے تھریٹ آتی ہے تو کیا عدالت بند کر دیں گے؟ آپ کو درمیانہ راستہ نکالنا ہوگا جس سے بنیادی اور آئینی حقوق بھی متاثرنہ ہوں، سیکیورٹی تھریٹ شہریوں کے بنیادی اور آئینی حقوق کی قیمت پر نہیں ہوگا، آپ کے لیے بڑا آسان ہے کہ یہ کہہ دیں قیدی وکلا سے نہ ملیں، ایسے اقدامات کی بہت سے ممالک کی مثالیں موجود ہیں، آپ ان ممالک کی تقلید کر رہے ہیں جن میں خطرناک نتائج آئے ہیں

    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کی ملاقات نہیں ہو سکی، ان کی ملاقاتوں کا حکم دیا جائے،جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سوال کیا کہ کیا ملاقات پر پابندی کا نوٹی فکیشن معطل ہوگیا؟ نوٹی فکیشن معطل نہیں ہوا تو میں آپ کے لیے کیسے استثنیٰ نکال دوں؟ عدالت نےسپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

    عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان سے جیل ملاقاتوں پر 12 مارچ پابندی کے آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ کئی سو درخواستیں آرہی ہیں ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں یہ طے ہو گیا ہے ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ آرڈر یہ ہوا تھا کہ وکلا کے علاؤہ چھ افراد کو ملنے کی اجازت ہو گی ، میرے پاس سات ہزار قیدی ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر چھ افراد کو ملنے کی عدالت نے اجازت دی جو ہمارے لئے ممکن نہیں ؟جسٹس ارباب محمد طاہر نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر روز کسی نئے اعتراض کے ساتھ ہمارے پاس آجاتے ہیں ، ان آرڈرز کے فیلڈ میں ہوتے ہوئے آپ نے دیکھنا ہے ،کیا آپ ان آرڈرز کی خلاف ورزی چاہ رہے ہیں ؟ کونسے ایسے لوگ ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا ؟ شیر افضل مروت ، قومی اسمبلی کے ممبران ، سینیٹر آپ ان کو چیک کریں ، اگر عدالتی حکم پر عمل نہیں کریں گے تو کیوں نا سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہو ؟

    سپریڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت میں کہا کہ میں کورٹ کے حکم پر بھی عمل کرتا ہوں یہ محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن بھی ہے ،عدالت نےسپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ٹرمز پر ان کو ہم نے منا کر طے کیا تھا کہ یہ کب کب ملیں گے ، پہلے ہی آپ کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں زیر التوا ہیں ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور وکلاء کو میکنزم بنانے کا حکم دے دیا،عدالت نے کہا کہ دونوں فریق بیٹھ کر ایک میکنزم بنائیں اور 12 بجے آگاہ کریں ،

    ہر بندہ آ کر کہتا میں وکیل ہوں،ملاقات کرنی، جیل حکام عدالت میں پھٹ پڑے
    بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل سے میکنزم طے کر لیا ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہم یہ پٹیشن زیر التوا رکھ رہے ہیں آپ ایس او پیز بنا لیں ،عدالت نے شیر افضل مروت کو ہدایت کی کہ آپ فوکل پرسن مقرر کر دیں، شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم آج چار لوگ اور منگل کو دوبارہ ملاقات کے لیے جائیں گے،جسٹس اربا ب طاہر نے کہا کہ ہم آپ کو یہ نہیں کہہ رہے کہ سب لوگوں کو جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دیں،جیل سریڈینٹ نے کہا کہ یہ پرابلم اس وجہ سے آ رہی ہے کہ دنیا جہان کا ہر آدمی کہہ رہا ہے کہ وہ وکیل ہے اور ملاقات کرنی ہے، بیس وکیل سماعت پر آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اندر جانا ہے، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ کو بانی پی ٹی آئی نے جن چھ وکلا کے نام دیے صرف وہی ملاقات کریں گے، جیل سپریڈنٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں سے ملاقات پر پابندی کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکشن ہیں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ وہ آپ کو ڈائریکٹ نہیں کر سکتے، یہ آپ کی صوابدید ہے،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ  نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کا محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی،وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش، روسٹرم پر آگئے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ نے کیا چیلنج کیا ہے،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا ،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئیے ہفتے میں دو دن مقرر کیے،تین کیٹگریز کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت تھی،تین مختلف اپیلیں دائر ہوئی اور سب پر فیصلے ہوئے،عدالتی فیصلے لیکر سب کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت تھی،بانی پی ٹی آئی سے جیل میں سیاسی معاملے پر مشاورت ہوتی ہے،سنگل بینچ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے واضح احکامات جاری کیے ،سنگل بینچ نے جیل ملاقات سے متعلق ایک فیصلہ جاری کیا ،

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ سنگل بینچ نے آرڈر جاری کردیا ہے ،وکیل شیر افضل مروت نے کہاکہ جی بالکل آرڈر جاری کیا اور اس میں واضح طور پر ملاقات کی اجازت دی گئی ،سینٹ کا ضمنی الیکشن کل ہے اور ہم نے مشاورت کرنا تھی ،ہمیں ملاقات پر پابندی لگا کر کہا گیا آپ نہیں مل سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر ہی پابندی لگی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نہیں پوری اڈیالہ جیل میں ملاقات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کوئی قیدی کسی سے کسی قسم کی ملاقات یا مشاورت نہیں کرسکتا ،وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ، سینیٹ انتخابات آرہے ہیں،جس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے،

    وکیل شیر افضل مروت سینٹ انتخابات کی تاریخ ہی بھول گئے،کہا کل انتخابات ہیں اس حوالے سے ان سے مشاورت کرنی تھی،قانون اجازت دیتا ہے کہ قیدی وکلا سے مشاورت کرے،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی اڈیالہ جیل میں کونسا جیل ٹرائل چل رہا ہے،وکیل نے کہا کہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس زیر سماعت ہے ، عدالت نے کہا کہ آج اسکی سماعت تھی کیا ، کون سی عدالت ہے، وکیل نے کہا کہ آج نیب کیس کی سماعت تھی احتساب عدالت کے جج نے سماعت کی ، ہمارے دو وکیل آج گئے لیکن انھیں خان صاحب سے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی ،عدالت نے کہا کہ ویسے اب تو ضمنی الیکشن کی نامزدگی ہوگی،باقی جو نشستیں ہیں انکی پولنگ تو اپریل میں ہوگی ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سینٹ الیکشن بے شک اپریل میں ہو مشاورت تو ابھی کرنی ہے ہم نے،دوسری جانب بشری بی بی کو بنی گالا سب جیل میں رکھا گیا ہے،ہم نے اس آرڈر کو بھی چیلنج کر رکھا ہے،عدالت نے کہا کہ سب جیل کا آرڈر کہاں چیلنج کیا گیا ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ بشری بی بی کو سب جیل رکھنے والا آرڈر اسی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ، بانی پی ٹی آئی کو سیریس تھریٹ ہیں ، اب ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ،آرٹیکل ٹین اس سے متعلق واضح ہے، ہمارا قانونی حق ہے ، پنجاب حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن خلاف قانون ہے ، کلعدم قرار دیا جائے،آپ اگر کل جیل سپرٹنڈنٹ کو بلا لیں تو بہتر رہے گا ، عدالت نے کہا کہ ہم اپنے طریقے سے کام کرینگے ، آپ نے فریق کس کو بنایا ہے ،ویل نے کہ کہ ہم نے جیل سپرٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے، عدالت نے کہا کہ وہ کل اگر کہیں ہم نے تو آرڈر نہیں کیا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا ہے، وکیل نے کہا کہ آپ آرڈر کردیں جیل سپرنٹینڈنٹ کے پاس اختیارات ہوتے ہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا،کل گیارہ بجے سماعت ہوگی ،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،بیرسٹر گوہر

    ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دو گواہان پر جرح مکمل ہوئی، 7 گواہان میں سے 6 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں،

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبعیت ٹھیک ہے،ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے لیکن ہم نے درخواست کی تھی ، ملاقات میں پارٹی سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی ہے،سینٹ کے انتخابات کا اعلان ہوا ہے 15 اور 16 کو انتخابات ہوں گے،امیدواران کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اس پر پارٹی فائنل فیصلہ کرے گی ،وفاقی کابینہ میں نگران حکومت کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے،نگران حکومت ایک سیاسی جماعت کے پیچھے بنے اور اب بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، موجودہ حکومت کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہی، اس کی مذمت کرتے ہیں ،حکومت ہمیں پیچھے دھکیل رہی ہے اور کوریج کو بھی محدود کر دیا گیا ، دہشت گردی ایک سیریس مسئلہ ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں ہمیں اعتماد میں لینا ہو گا ،ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، ہمیں پارلیمان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا،

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت 16 مارچ تک ملتوی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، بیرسٹر علی ظفر، عثمان گل اور ظہیر عباس چودھری عدالت میں پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،جیل حکام نے صرف 6 وکلاء کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔جیل حکام نے صرف 6 صحافیوں کو پروسیڈنگز کور کرنے کی اجازت دی۔شاہ محمود قریشی کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی بھی ملاقات کیلئے جیل کے باہر موجود تھے،میڈیا کو جیل سے دو کلو میٹر دور کوریج کی اجازت دی گئی ہے۔جیل کے اندر اور اطراف سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔وکلاء کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجودتھی،

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس کی سماعت 16 مارچ تک ملتوی کر دی گئی،عدالت نے نیب کے تین گواہان کے بیانات قلمبند کرلئے۔گواہان کا تعلق فارن آفس، اسٹیٹ بینک، کیبنیٹ ڈویژن اور القادر یونیورسٹی سے ہے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔نیب کے پراسیکیوٹر عرفان بھولا ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔دوران سماعت وکلاء کے تاخیر سے آنے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ صبح دس بجے سے آئے ہوئے ہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی، ہمیں جیل کے اندر پوری دستاویزات لانے کی بھی اجازت نہیں،

    دوسری جانب مشعال یوسفزئی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہم صبح 9 بجے سے اڈیالہ جیل کے باہر موجود ہیں ہمیں اندر جانے نہیں دِیا جارہا ہے۔ باقی روٹین کی موومنٹ چل رہی ہے ، مخالف وکیل ،پراسیکیوٹر سب پروٹوکول کے ساتھ اندر باہر جارہے ہیں، شاید ہم ہی وہ دہشت گرد ہیں جس سے اڈیالہ جیل کو خطرہ ہے اور جس سے پنجاب کی مینڈیٹ چور چیف منسٹر خوف کا شکار ہے۔عمران خان جیل میں بیٹھ کر اس ملک کے پورے نظام پر بھاری ہے۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان
    سابق وزیراعظم عمران خان نےاڈیالہ جیل میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ جھوٹ پر چل رہا ہے،الیکشن نتائج فراڈ جاری ہوئے،اداروں کی ساکھ ختم کر دی گئی،سیکورٹی تھریٹ فریب اور جھوٹ ہے،سارا ملک جھوٹ پر چل رہا ہے،ادارے تباہ ہو چکے ہیں،انتخابات میں پی ٹی آئی کو میدان میں نہیں آنے دیا گیا،ووٹر نے پولنگ ڈے پر ان سے بدلہ لیا،لیکن ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا گیا،انھوں نے مینڈیٹ چھین کر قوم کی امید ختم کر دی ہے،میری ساری پیشگوئیاں سچ ثابت ہوئیں،اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ہے
    کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی،وکلا تک سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں،اب مہنگائی میں اضافہ ہو گا،عوام باہر نکلے گی
    ہمارا پرامن احتجاج کا سلسہ جاری رہے گا،ہم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سپریم کورٹ بھی جائیں گے ،سینٹ الیکشن میں پھر پیسہ چلنے والا ہے،گزشتہ سینٹ انتخابات میں گیلانی کا بیٹا پکڑا گیا،آج تک سزا نہیں ہوئی