Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • غیر شرعی نکاح کیس: دوران سماعت  عمران خان، بشریٰ اور خاور مانیکا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    غیر شرعی نکاح کیس: دوران سماعت عمران خان، بشریٰ اور خاور مانیکا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل راولپنڈی میں غیرشرعی نکاح کیس میں دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا کے مابین تلخ کلامی ہوئی-

    باغی ٹی وی : سینئر سول جج اسلام آباد قدرت اللہ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف اڈیالہ جیل میں غیرشرعی نکاح کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران 3 گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے گئے، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل نے عون چوہدری اور خاور فرید مانیکا کے بیانات پر جرح بھی مکمل کرلی جبکہ 2 گواہان مفتی سعید اور لطیف کے بیانات پر کل جرح مکمل کی جائے گی،قبل ازیں جب بشرٰی بی بی عدالت آئیں تو عمران خان نے آگے بڑھ کر گلے لگایا اور ماتھا چوما-

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کل گواہان کے بیانات پر جرح کا آغاز کریں گے، گواہان میں مفتی سعید، عون چوہدری، خاورمانیکا اور محمد لطیف شامل ہیں، دوران سماعت بشریٰ بی بی نے کہا کہ میرے بیان کے بغیر عدالت کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ،میرے بیان کے بغیر عدالت کوئی سزا نہیں سنا سکتی،منافق اور شیطان کو قرآن میں برا کہا گیا ہے –

    اڈیالہ جیل میں دلچسپ صورتحال اس وقت ہوئی جب دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی اور خاورمانیکا کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، خاور مانیکا نے تین مرتبہ ہاتھ جوڑ کر اور سوری کی بشری بی بی نے کوئی جواب نا دیا –

    چین نے پاکستان کا 2ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور کر دیا

    علیمہ خان نے کہا کہ یہ بچوں کا گند کیوں اچھال رے ہو جسپر خاور مانیکا نے جواباً کہا کہ گند آپکے بچوں نے پھیلا یا ہے،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل بھی دوران جرح خاورمانیکا سے لڑپڑے، وکیل عثمان گل نے خاور مانیکا کو مکا مارنے کی کوشش کی۔

    خاور مانیکا نے بشری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بچے سوال کرکے کے تھک گئے مگر تم نے جوب نہیں دیا ،چھوٹی بیٹی رات کو اٹھ اٹھ کر روتی ہے ،میرا گھر اور بچے برباد کر دیئے،جس پر بانی پی ٹی آئی نے خاور مانیکا کو جواب دیا کہ چھ سال بعد یاد آیا ہے-

    دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان نےعدالت سے استدعا کی میں اور بشریٰ بی بی قرآن پاک پر حلف لینے کے لیے تیار ہیں، خاورمانیکا بھی حلف لےعمران خان نے جج قدرت اللہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کو نکاح کے دن دیکھا ہے، قرآن لائیں میں ہاتھ رکھ کر حلف دینے کو تیار کو ہوں،میں اپنی بیوی کو کلیئر کرنا چاہتا ہوں-

    انتخابات میں رخنہ ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹا جائیگا، چیف الیکشن کمشنر

    خاور مانیکا نے عمران خان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، خدا سے ڈرو میرا گھر تم نے برباد کیاسماعت کے دوران سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے قرآن پاک پر حلف لینے کی ضد کی، عدالت نے عمران خان سے کہا کہ حلف لینے کے بعد آپ کا حقِ جرح ختم ہوجائے گا۔

    عدالت نے آرڈر لکھوایا کہ قرآن پاک پر حلف لینے کے ملزمان کا حق جرح ختم ہوگا، جس پر عمران خان حلف لینے سے مکر گئے اور کہا کہ ہم حلف بھی لیں گے جرح بھی کریں گے،اس پر جج نے کہا کہ آپ جرح نہیں کرسکتے، آپ نے گواہ سے حلف لینے کی آفر کی ہے۔

    بعدازاں عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس کی ساڑھے 10 گھنٹے تک جاری رہنے والی طویل سماعت کل صبح تک ملتوی کردی۔

    پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے قواعد وضوابط جاری کردیئے

    سماعت کے بعد بشری بی بی نے اڈیالہ جیل میں میڈیا سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ بشرٰی بی بی سے اڈیالہ جیل کی بجائے بنی گالہ جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ بولیں میں اڈیالہ جیل میں رہنا چاہتی ہوں،میں کل گرفتاری دینےآئی،مجھے دیکھ کر جیل حکام پریشان ہوگئے،میں نے جیل حکام سے کہا،میں بزدل نہیں،بہادر ہوں،گرفتاری دینے آئی،مجھے گرفتار کرلیں،مجھے ایک دفتر میں بٹھا دیا گیا،پھر مجھے کہا گیا،آپ کو سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس لے کر جانا ہے،میں نے کہا،نہیں مجھے اڈیالہ جیل میں رکھیں،مجھے دھوکے سے بنی گالہ لےجایا گیا،میں اب بھی کہہ رہی ہوں مجھے اڈیالہ میں رکھا جائے، ابھی بھی اڈیالہ جیل رہنا چاہتی ہوں ، اسی لیے دھوکے سے لائے کہ پراپیگنڈا کیا جا سکے ،میں بہادر ہوں خود گرفتاری دی، کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی نا کرونگی مجھے ڈیل کی آفر کی گئیں تھیں ، میں نے جواب دیا کہ خان سے ڈائیریکٹ بات کریں ، اللہ کو منافقت اور شیطان پسند نہیں ، صرف پردے اور داڑھی میں ایمان نہیں ہوتا ، مسلمان ہوں اللہ کے علاؤہ کسی سے نہیں ڈرتی ،‏مجھے جیل میں رہنے سے کوئی مسئلہ نہیں، ابھی میرے گھر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن منسوخ کریں اور مجھے اڈیالہ جیل میں ڈال دیں-

    جان بچانے والی 146 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری

    سماعت کے بعد عمران خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک بات میں کلئیر کر دوں ،میں نے اور میری بیگم نے عدالت سے کسی قسم کا کوئی ایکسٹرا ریلیف نہیں مانگا ، ہماری بہادر خواتین یاسمین راشد،صنم جاوید،عالیہ حمزہ جیلوں میں ہیں ہمیں مجھے اور بشریٰ کو جیلوں میں رہنے سے کوئی مسئلہ نہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ فیصلے اوپر سے لکھوائے جا رہے ہیں، یہ سارے "پتلے” ہیں، مجھے بدنام کرنے کےلئے بشری بی بی کو مقدمات میں شامل کیا گیا،میں باریاں لینے کےلئے سیاست میں نہیں آیا، میں نے کیا ڈیل کرنی ہے، رابطے کرنے والے رابطے کرتے رہیں، میوزیکل چیئر چل رہی ہے-

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ بشری بی بی خود چل کر اڈیالہ جیل گرفتاری دینے آئیں، مجھے نہیں معلوم انہیں بنی گالہ کیوں لے گئے، مجھے ابھی پتہ چلا بشری بی بی کو تو بنی گالہ لے گئے تھے، میں نے تو رات کو ان کےلئے کمبل بھی بھیجا،یہ ان کے فیصلے نہیں، یہ نظام انصاف کا تماشہ بنا رہے ہیں،ہار والے معاملے سے بشری بی بی کا کوئی تعلق نہیں، یہ ہار توشہ خانہ کا نہیں تھا، سعودی سفیر نے میرے گھر خود پہنچایا، میں نے خود یہ ہار توشہ خانہ میں جمع کرایا-

    سکھ رہنما کے قتل میں سازش کا الزام، امریکا نے بھارت کو ڈرونز …

    اڈیالہ جیل میں عدت میں نکاح کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خاور مانیکا نے الزام لگایا کہ بشریٰ کی بے وفائی کی وجہ سے میری ایک بیٹی کو طلاق ہوگئی میرا ایک بیٹا ذہنی دباؤ کا شکار رہا اب وہ بحالی سینٹر میں داخل ہے، عمران خان فرح گوگی اور بشریٰ بی بی کی بہن مریم کے ذریعے ہمارے گھر آیا تھا، میں بے بس تھا خاموش رہا، بچوں کی وجہ سے اب آواز اٹھائی ہے، لوگوں کو سمجھنا چاہیے میرا ہنستا بستا گھر تباہ ہوا، بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا، فرح گوگی اور بشریٰ بی بی نے سارا پنجاب سنبھال رکھا تھا، میرا ملازم لطیف طویل عرصے سے میرے ساتھ ہے، ایسا نہیں ہےکہ کیس سے پہلے ہی میں نے اسے ملازم رکھا، خاور مانیکا اپنے بچوں کے واٹس ایپ میسج میڈیا نمائندوں کو دکھاتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئے۔

  • اڈیالہ جیل کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والوں کیخلاف مقدمہ درج،تلاش سروع

    اڈیالہ جیل کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والوں کیخلاف مقدمہ درج،تلاش سروع

    راولپنڈی: سینٹرل جیل اڈیالہ کے لیے افغانستان و بیرون ملک سے آئی دو مختلف دھمکی آمیز کالوں اور تین دن میں جیل کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے کالرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مقدمہ تھانہ صدر بیرونی میں انسداد دہشت گری ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے اور ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 25 ڈی ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، مقدمہ اڈیالہ جیل کے لائن آفیسر اے ایس آئی سجاد حیدر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    متن کے مطابق جیل کے سرکاری نمبر پر کالیں کرنے والے نامعلوم کالر نے بتایا کہ وہ افغانستان سے بول رہا ہے، کالر کی جانب سے پہلی کال دن اڑھائی بجے اور دوسری کال شام سوا چار بجے کی گئی، پہلی کال کا کوئی نمبر جیل کے فون کی سی ایل آئی پر ظاہر نہیں ہوا، دوسری مرتبہ والی کال کا نمبر 971 کوڈ کے ساتھ ظاہر ہوا، دھمکی آمیز کالوں سے جیل میں سخت خوف وہراس پھیلا ہوا ہے۔

    سکھ رہنما کے قتل میں سازش کا الزام، امریکا نے بھارت کو ڈرونز …

    پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور دھمکیاں دینے والے کالرز کی تلاش کے لیے تفتیش کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ راولپنڈی میں قائم سینٹرل جیل اڈیالہ کی انتظامیہ کو تین دن کے اندر نشانہ بنانے کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی حکام کا کہنا تھا کہ دھمکی آمیز کال اڈیالہ جیل کےآفیشل نمبر پر کی گئی، جس کے بعد جیل سپرٹنڈنٹ کی جانب سے دھمکی آمیز فون کال کے متعلق اطلاع دی گئی، دھمکی آمیز کال کے بعد سینٹرل جیل اڈیالہ کی سیکورٹی کو ریڈ الرٹ کردیاگیا ہے جبکہ جیل کے گرد نواح میں سیکورٹی کو بڑھا کر 8 مقامات پر ناکے قائم کردیے گئے ہیں اور ایلیٹ فورس کے 5 سیکشن بھی مسلسل پیٹرولنگ پر ہیں۔

    عام انتخابات: سندھ میں تعلیمی اداروں میں کتنی چھٹیاں ہوں گی؟

    ایم کیو ایم پاکستان نےانتخابی مہم کے لیےطیارے کی خدمات حاصل کرلیں

  • ہم کسی کی سزا پر خوش نہیں ہوتے،عمران کی اہلیہ قابل احترام ہیں،شرجیل میمن

    ہم کسی کی سزا پر خوش نہیں ہوتے،عمران کی اہلیہ قابل احترام ہیں،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کو معزز عدالت نے سزا سنائی ہے، ہم کسی کی سزا پر خوش نہیں ہوتے ، ملک کی عدالت نے انہیں سزا سنائی ہے ،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ ہمارے لئے قابلِ احترام ہیں، یہ وہی قانون ہے جس سے عمران خان مخالفین کو دباتے رہے،عید کی رات کو فریال تالپور کو اسپتال سے جیل منتقل کیا گیا تھا ان کی تذلیل کی گئی تھی ،ہماری لیڈر شپ نے گیارہ سال جیل کاٹی ، توشہ خانے سے تحفے آدھی قیمت میں خرید سکتے ہیں ،ایسا نہیں ہو سکتا کہ تحفہ لے کر بازار میں بیچ دیں، توشہ خانہ کے قوانین ہیں تحفے لینے کے،جس تحفہ پرسزا ہوئی وہ گراف کمپنی کی گھڑی پر ہوئیاس کمپنی نے ایک ہی گھڑی بنائی خانہ کعبہ کی شبیہ اس پربنی ہوئی تھی،اس نے گھڑی دی پھرجھوٹ بولا ہم نے گھڑی نہیں بیچی، گھڑی خریدنے پیسے جمع کرنے کی منی ٹریل نہیں دی،گھڑی خود استعمال کرنے کے لئے خریدی جاتی ہے نہ کہ مارکیٹ میں بیچنے کے لئے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان پاکستان کا طاقتور ترین وزیراعظم تھا،اس نے جھوٹ بولا کہ سڑک بنانے کے لئے گھڑی بیچی،وکیل لطیف کھوسہ صاحب میرے بھی وکیل رہ چکے ہیں وہ بغیر پیسوں کے کام نہیں کرتے، کہیں تو پیسے لیکربھی کام نہیں کرتے، میرے پاس ان کےمیسیج بھی پڑے ہیں، خان صاحب کو کسی نے مشورہ دیا کیس میں تاخیری حربے استعمال کریں، جب جیل ٹرائل ہو رہا ہو آپ کو پیش ہونا پڑتا ہے، خان صاحب نے تاخیری حربے استعمال کئے ، وکیل خود بینی فیشری ہے، ان کے اندر ہونے سے وکیل پارٹی سربراہ بنے ہوئے ہیں،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • دوران عدت نکاح کیس  کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    دوران عدت نکاح کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    دوران عدت نکاح کیس،ٹرائل کورٹ کو کیس کا ٹرائل روکنے کی عمران خان کی استدعا مسترد کردی گئی
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ فرد جرم عائد ہوچکی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کی سماعت میں مداخلت نہیں کر سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے دورانِ عدت نکاح کا کیس خارج کرنے کی عمران خان اور بشری بی بی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کے خلاف درخواست پر سماعت کی،عمران خان اور بشری بی بی نے کیس خارج کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں،درخواست گزار،بشریٰ بی بی کے سابق شوہر، خاور مانیکا اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہِ عدالت میں موجود تھے،سماعت شروع ہوئی تو بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست گزار اور گواہوں کے بیانات پڑھے،اور کہا کہ یہ کیس درخواست گزاروں کی تذلیل کرنے کیلئے دائر کیا گیا، سیاسی مقاصد کیلئے سکینڈلائز کرنے کیلئے نوٹسز جاری کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس معاملے پر پہلی کمپلینٹ کب دائر کی گئی؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمپلینٹ نکاح کے پانچ سال اور 11 ماہ بعد نومبر 2023 میں دائر کی گئی،

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاور مانیکا کا کیس ہے کہ اُنہوں نے بشریٰ بی بی کو 14 نومبر کو طلاق دی، یکم جنوری کو نکاح ہوا تو درمیان میں 48 دن بنتے ہیں، سپریم کورٹ کا 39 دن عدت سے متعلق فیصلہ موجود ہے،فرض کریں آپ نے ثابت کر دیا، پھر اِس میں جرم کیا ہو گا؟وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ اگر نکاح بےقاعدہ قرار پائے گا تو پھر وہ خلاف قانون ہو گا، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ثابت ہو گا 39 دن ہیں یا 90 دن؟، خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ یہ شوہر اور پراسیکیوشن ثابت کرینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون سے شوہر، پہلے یا بعد والے؟ وکیل بولے جس کے ساتھ بشریٰ بی بی 28 سال رہیں وہی بتائیں گے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے عدت کے دوران نکاح کے کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن جج ایسٹ کا گیارہ جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، بشری بی بی اور ان کے قانون شوہر کیخلاف درخواست بدنیتی پر مبنی ہے،عدت کے دوران نکاح کے کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا جائے،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے،بشریٰ بی بی نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام اباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرائی ، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتوں نے عدت میں نکاح کو بے قاعدہ کہا، ختم نہیں کیا گیا۔ قرار دیا کہ عدت میں نکاح بے قاعدہ شادی ہے جو عدت کی مدت مکمل ہونے پر باقاعدہ ہو جائے گی عدت میں نکاح کو غیر اسلامی یا شریعت کیخلاف قرار نہیں دیا گیا، بشری بی بی کی درخواست میں اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالہ جات دیئے گئے.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کا خطرہ،دھمکی آمیز کال، سیکورٹی سخت کر دی گئی

    اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کا خطرہ،دھمکی آمیز کال، سیکورٹی سخت کر دی گئی

    اڈیالہ جیل انتظامیہ کو دھمکی آمیز کال موصول ہونے کے بعد جیل کے اطراف میں سیکورٹی سخت کر دی گئی،نامعلوم شخص نے گزشتہ روز بذریعہ فون کال جیل میں دہشت گردی کے حوالے سے دھمکی دی تھی

    اڈیالہ جیل پر مبینہ طور پر ممکنہ دہشت گردی کاخدشہ،جیل انتظامیہ کو نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیزکال موصول ہوئی،نامعلوم کالر کی جانب سےاڈیالہ جیل پر آئندہ تین روز میں حملےکی دھمکی دی گئی،جیل انتظامیہ کی جانب سےپنڈی پولیس کوآگاہ کر دیا گیا دھمکی امیز کال اڈیالہ جیل کےآفیشل نمبر پر کی گئی،جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیل کے راولپنڈی اطراف پولیس کی مزید نفری تعینات کی جائےجیل کے مرکزی دروازوں کے باہر گشت کو بھی بڑھایا جائے، جیل کے اندر کالعدم دہشت گرد تنظیم کے قیدی بھی موجود ہیں، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور پرویز الٰہی بھی قید ہیں، آج بشریٰ بی بی نے بھی اڈیالہ جیل جا کر عدالتی فیصلے کے بعد گرفتاری دے دی ہے

    راولپنڈی پولیس کی جانب سے اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکورٹی مزید بڑھا دی گئی،جیل کے مرکزی، عقب اور اطراف میں مزید سیکورٹی اہلکار تعینات کیئے گئے، راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے اطراف گشت کو بھی مزید موثر بنایا گیا،جیل کی بیرونی سیکورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے تمام اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا ،بشری بی بی عدالت پیش نہ ہوئیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگائی ، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا342 کا بیان کہاں ہے،عمران خان نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کیلئے بلایاگیاتھا،آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرادیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں، عمران خان نے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنادی گئی، وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو ان کو دکھا کر جمع کراؤں گا، میں صرف حاضری کیلئے آیا ہوں، عمران خان کمرہ عدالت سے واپس چلے گئے

    جج نے کہا کہ جائیں فوری اپنا بیان لائیں،عمران خان نے کہا کہ لیکن بیان میں کچھ چیزوں کو ردوبدل کرنا ہے،جج نے کہا کہ آپ بیان لے آئیں کمپیوٹر پر ٹائپ کریں، بعد میں ردوبدل بھی کرلیں گے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی،عمران خان گئے تو واپس نہیں آئے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں کہا وہ نہیں آرہے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے سوال کیا کیوں نہیں آرہے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نےجج کو جواب دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں میرے وکلاء جب تک نہیں آتے میں عدالت نہیں آوں گا،

    جج نے عدالتی اہلکار کو ہدایت کہ وہ کیس ٹائیٹل کی آواز لگائے،عدالتی اہلکار برآمدہ میں گیا اور آواز لگائی سرکاری بنام عمران خان، بشری بی بی،پکار کے باوجود بانی پی ٹی آئی عدالت نہیں آئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توشہ خانہ، سائفر کیس میں سزائیں، تحریری فیصلوں کی کاپی فراہمی کے لئے درخواست
    توشہ خانہ اور سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف سزاؤں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے تحریری فیصلوں کی کاپیوں کی فراہمی کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ نے جمع کروائی ،درخواست سائفر کورٹ اور احتساب عدالت کی نقل برانچ میں جمع کروائی گئی ، درخواست میں کہا گیا کہ حکم سزا، 342 کے بیانات، ارڈر کاپی، شہادتوں کی کاپیاں فراہم کی جائیں،درخواستیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے جمع کروائی گئیں ،

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر

    توشہ خانہ کیس کا تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک صحافی کی جانب سے معلومات کے حصول کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) کے تحت پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ انہیں عہدے پر رہتے ہوئے کتنے تحائف ملے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ جواب دینے کی صورت میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

    عمران خان کی سائیکل کہاں ہے؟ میں نے ساڑھی توشہ خانہ سے نہیں لی،حاجرہ خان

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان

    اور بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی
    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں،بشری بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ غیر شرعی نکاح کیس میں پیش ہونا تھا،بشری بی بی کو فیصلے سے متعلق آگاہ کیا گیا،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں، بعد ازاں بشری بی بی گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں ،راولپنڈی پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات کردی گئی،پولیس کے تازہ دم دستے جیل کے باہر تعینات ہیں، بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی،بشریٰ بی بی کی گاڑی خالی زمان پارک روانہ کردی گئی،نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا،احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد نیب کی جانب سے بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لئیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی،بشری بی بی کے اڈیالہ جیل پہنچتے ہی نیب کی ٹیم نے گرفتاری ڈالی،

    گرفتاری سے قبل بشریٰ بی بی نے ٹیلی فون پر کس سے کی مشاورت
    اسلام آباد ہائی کورٹ سے واپسی پر بشری بی بی نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی،لیگل ٹیم سے مشاورت کے بعد بشری بی بی اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہوئیں،بشری بی بی نے بیرسٹر گوہر علی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا،بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں اپنے خاوند کے ساتھ کھڑی ہر جبر کا مقابلہ کروں گی اور میں خود گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہوں

    بشری بی بی کی توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتاری کا معاملہ ،بشری بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا، بشری بی بی کو الگ سیل میں منتقل کر دیا گیا، بشری بی بی کے سامان کی مکمل تلاشی اور فگر پرنٹس کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی حکومت کے دور میں بیرون ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف کم قیمت پر حاصل کیے اور پھر ان تحائف کو 6 لاکھ 35 ہزار ڈالر میں فروخت کیا،عمران خان کو ملنے والے تحائف میں سعودی عرب سے ملنے والی قیمتی گھڑی بھی شامل ہے جس پر خانہ کعبہ کا ماڈل بنا ہوا ہے اور اس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت اندازے کے مطابق 60 سے 65 کروڑ روپے ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 21 اکتوبر 2022 کو کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 63 (1) کے تحت توشہ خانہ کے تحائف اور اثاثوں کے حوالے سے غلط بیانی کی،اس کے علاوہ الیکشن واچ ڈاگ کی جانب سے سیشن عدالت میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کرمنل پروسیڈنگ شروع کرنے کی استدعا کی گئی،10 مئی 2023 کو ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر عمران خان پر فرد جرم عائد کی تاہم 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو سننے اور 7 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی،4 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سن کو دوبارہ کیس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر 5 اگست کو سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،

    توشہ خانہ کیس میں نیب رپورٹ میں کیا سامنے آیا تھا؟
    عمران خان کو سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف سے متعلق نیب کی رپورٹ سامنے آ ئی ہے،نیب کی رپورٹ 31 دسمبر 2023 کو منظرعام پر آئی تھی جس میں تحائف کی درست قیمت جانچنے کا نظام موجود نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا، نیب رپورٹ کے مطابق 3 ارب 16 کروڑ روپے کے تحفوں کی قیمت پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے لگائی گئی، نصف رقم 90 لاکھ ادا کرکے تحائف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے رکھ لیے،پاکستان میں کوئی ادارہ سعودی شہزادے سے ملے گراف جیولری سیٹ کی قیمت نہ جان سکا، دبئی سے تخمینہ لگوانے پر معلوم ہوا خزانے کو 1 ارب 57 کروڑ، 37 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا،ایف بی آر، کولیکٹوریٹ آف کسٹمز کی کمیٹی نے قیمت لگانے سے معذوری ظاہر کی، جیولری کی قیمت کیلئے انڈسڑیز اینڈ پروڈکشن ڈویژن سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن بتایا گیا جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی ہی غیر فعال ہے جبکہ جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز ایسوسی ایشن بھی قیمت کا اندازہ نہ لگا سکی،پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بھی کہا قیمت نہیں بتا سکتے جبکہ برطانیہ، متحدہ عرب امارات، اٹلی اور سوئٹزر لینڈ ایم ایل اے بھیجے لیکن جواب نہ ملا، دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے ذریعے نجی کمپنی سے تعلق رکھنے والے شخص کی خدمات لی گئیں، نجی کمپنی کے فرد نے بتایا تحائف کی اصل قیمت 3 ارب 16 کروڑ 55 لاکھ روپے بنتی ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ایک ارب 57 کروڑ 37 لاکھ روپے ادا کر کے ہی تحفہ رکھ سکتے تھے، پاکستان میں سرکاری افسران کیخلاف رشوت یا مالی فوائد لےکر کم قیمت بتانے کے ثبوت نہیں ملے، مالی فوائد کے ثبوت نہ ہونے پر سرکاری افسران کو ملزم نہیں بنایا گیا،

    توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور نے کیا کہا تھا؟
    واضح رہے کہ عمر فاروق ظہور نے انکشاف کیا تھا کہ میں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، (وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی) فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔ میں نے یہ قیمتی گھڑی فخر کے ساتھ خریدی تھی کیوں کہ یہ دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس پر ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر ہے، بطور پاکستانی یہ گھڑی میرے لیے کسی کوہ نور کے ہیرے کی طرح قیمتی اور منفرد تھی اور جب مجھے یہ پتہ چلا یہ گھڑی فروخت کیلئے دستیاب ہے تو میں کسی صورت اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ جس طرح بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دبئی کی مارکیٹس میں اس گھڑی کی مارکیٹنگ کی گئی تھی اس کے لیے مجھے خدشہ تھا کہ یہ گھڑی غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتی ہے، میں نے یہ گھڑی اس کے وقار اور انفرادیت کی وجہ سے خریدی، یہ ایک محدود ایڈیشن ہے اور یہ گھڑی دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس میں ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر موجود ہے، میں اپنے پاس اس گھڑی کی موجودگی کے باعث خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھتا ہوں کیوں کہ اس میں ایک روحانی عنصر ہے-انہوں نے کہا کہ میں نے گھڑی کو پوری قوم کی قیمتی ملکیت بنانے کا تصور کیا لیکن ایسا نہیں ہو سکا،جب میں نے دبئی مال میں گراف شاپ پر گھڑی دیکھی اور اس کی صداقت کا جائزہ لیا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک پاکستانی وزیر اعظم یا پھر کوئی حکومت ایسا قیمتی تحفہ کیوں فروخت کرتا چاہتی ہے؟ ایسی گھڑی جس کی قیمت کے ساتھ انتہائی مذہبی اور جذباتی قدر بھی جڑی ہو جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو وہ بالاخر اتنا قیمتی ٹکڑا کیسے چھوڑ سکتے ہیں ایک عام پاکستانی اور سعودی عرب کے لیے بطور اظہار تشکر اگر مجھے موقع ملا تو میں یہ گھڑی اس کے حقیقی مالک کو واپس کرنا چاہوں گا تاکہ یہ تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، میں ساری عمر اس مقدس گھڑی کا مالک ہونے پر فخر محسوس کروں گا لیکن اگر اسے واپس کرنے سے یہ تنازع ختم ہو جاتا ہے اورپاک سعودیہ تعلقات میں مدد ملتی ہے تو مجھے اس میں کوئی حرج نہیں۔

  • نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل کیخلاف بانی تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کئے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت نے سماعت کے مقام کے تعین سے متعلق ایگزیکٹو کے اختیارات کے حوالے سے 1931کے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار درست قرار دیا،عدالت نے فیصلے میں جیل سماعت کے دوران میڈیا اور پبلک کی موجودگی کیلئے بھی ٹرائل کورٹ کو احکامات دئیے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے جج کی تقرری پر درخواست گزار کے اعتراضات مسترد کردئیے

    فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق سیشن عدالت کے مقام کا تعین کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے ، ایگزیکٹو آرڈر موجود نہ ہو تو متعلقہ عدالت کسی دوسرے مقام پر سماعت کیلئے آرڈر جاری کرسکتی ہے،ایگزیکٹو آرڈر کی موجودگی میں متعلقہ عدالت نے دئیے گئے مقام پر سماعت کرنا ہوتی ہے،سائفر کیس میں دو رکنی بنچ کے سامنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت زیر سماعت معاملے میں اپیل تھی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں عدالت کے مقام کے تعین کے حوالے واضح قانون موجود نہیں واضح قانون موجود نہ ہونے کی وجہ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمے میں سی آر پی سی کی دفعہ 352کا اطلاق ہوتا ہے، ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈر اور سی آر پی سی کی سیکشن 352کا اطلاق تب ہوگا جب سیشن عدالت مقام سے متعلق آرڈر پاس کرے،بظاہر جیل ٹرائل درخواست گزار کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر ہے،بدنیتی پر مبنی نہیں،درخواست گزار کے وکیل کا یہ اعتراض درست ہے کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نیب پراسکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ جیل سماعت کے نوٹیفکیشن کے وقت ضمانت اور ریمانڈ کی کارروائی چل رہی تھی،ایگزیکٹو آرڈر یا ٹرائل کورٹ کے کسی حکم کی بنیاد پر کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا،سی آر پی سی کی سیکشن 537 میں واضح ہے کہ کونسی کارروائی کالعدم قرار دی جاسکتی ہے اور کونسی نہیں ،سی آر پی سی میں واضح ہے کہ ایسی غلطی جس سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی ہو تو اس کا ازالہ ضروری ہے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو ئی، گزشتہ روز سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے دس برس قید کی سزا سنائی. توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • سائفر کیس میں عمران خان کو سزا،امریکا کا ردعمل بھی آ گیا

    سائفر کیس میں عمران خان کو سزا،امریکا کا ردعمل بھی آ گیا

    سائفر کیس میں عمران خان کو سزا پر امریکہ کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    امریکی حکام نے عمران خا ن کو سائفر کیس میں سزا ملنے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کو دیکھ رہے ہیں، عدالت کی سنائی گئی سزا پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے،عمران خان کو 10 سال کی سزا قانونی معاملہ ہے،ہم اس معاملہ پر تبصرہ نہیں کرسکتے، ہم دنیا کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان میں بھی قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کی پاسداری پر زور دیتے ہیں، پاکستان کے اندرونی معاملات، عہدے کے امیدواروں کے حوالے سے کوئی پوزیشن نہیں لیتے۔

    دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں میڈیا پر پابندیوں اور صحافیوں کی گرفتاریوں پر تشویش ہے،پاکستان میں صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز کے اجراء پر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اصول کے تحت ہم جاری قانونی معاملے پر تبصرہ نہیں کرتے، آزاد میڈیا اور باعلم شہری ہی کسی قوم اور اس کے جمہوری مستقبل کے لیے اہم ہوتے ہیں صحافیوں پر حملہ کرنے والوں کے عدم احتساب پر بھی تشویش ہے۔صحافیوں پر پابندیاں آزادی اظہار اور جمہوری عمل کے خلاف ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آزادیٔ اظہار سے متعلق تشویش ہے

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • سائفر کیس، عمران خان، شاہ محمود قریشی کا عدالت میں پھر شورشرابا

    سائفر کیس، عمران خان، شاہ محمود قریشی کا عدالت میں پھر شورشرابا

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے کیس کی سماعت کی۔ سابق سیکریٹری اعظم خان سے جرح کے دوران عدالت کا ماحول ناساز ہوگیا،دوران سماعت عمران خان اور شاہ محمود قریشی غصہ میں آگئے، شور شرابہ شروع کر دیا جس کے بعد عدالت نے کاروائی کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی

    گزشتہ سماعت پر عدالت کے احکامات پر عمران خان اور شاہ محمود کو سرکار کی طرف سے دیئے گئے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جس پر دونوں نے سرکار کی طرف سے دیے گئے وکلا صفائی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل کی فائل دیوار پر دے ماری تھی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کر دیا ہے

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سیکریٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا آج بھی عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا،ملک عبدالرحمان عمران خان کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسٹیٹ کونسل ملزمان کی نمائندگی کرتے ہوئے گواہان پر جرح کریں گے

    عدالتی فیصلے پر اڈیالہ جیل میں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور انہوں نے جیل کے کمرہ عدالت میں اسٹیٹ ڈیفنس کونسل یونس شاہ سے فائل چھین کر دیوار پر دے ماری جج نے شاہ محمود قریشی کو بدتمیزی پر وارننگ دی، عمران خان نے بھی خصوصی عدالت کے جج سے آج بھی سماعت کے دوران بدتمیزی کی

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے تلخ کلامی،شاہ محمود قریشی کا غصہ، پراسیکیوٹر کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا مسترد
    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذولقرنین نے کیس کی سماعت کی ،بانی تحریک انصاف کے وکلا کی عدم موجودگی کے باعث سائفر کیس میں گواہوں کے بیانات پر جرح شروع نہ ہوسکی ،عدالت کے احکامات پر سرکار کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری وکلا بھی پیش ہوئے،سرکاری وکیل ایڈووکیٹ عبد الرحمن بانی تحریک انصاف کی طرف سے اور حضرت یونس شاہ محمود قریشی کی طرف سے پیش ہوئے ،

    بانی تحریک انصاف اور شاہ محمود قریشی نےسرکاری وکلا صفائی پر اظہار عدم اعتمادکر دیا،جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین اور بانی تحریک انصاف کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی،شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل صفائی کی دی گئی کیس کی فائل ہوا میں اچھال دی ،عمران خان نے کہا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے ۔ جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی ، مشاورت نہیں کرنے نہیں دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا ، جج نے کہا کہ جتنا آپ کو ریلیف دیا جا سکتا تھا میں نے دیا،سائیکل فراہمی کی بات ہو یا پھر وکلا سے ملاقات میں نے آپ کی درخواست منظور کی، میرے ریکارڈ پر 75 درخواستیں ہیں جو ملاقاتوں سے متعلق ہیں،عمران خان نے کہا کہ آپ نے تو ملاقات کا آرڈر کیا لیکن ملاقات کرائی نہیں گئی،

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ادھر بھی سرکار ادھر بھی سرکار یہ مذاق ہو رہا ہے، ہمیں اتنا حق نہیں کہ اپنے وکلا کے ذریعے کیس لڑ سکیں،عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی کاروائی اردو میں ہونی چاہیے،سرکار کی طرف سے تعینات کردہ وکیل صفائی جو انگریزی بول رہے ہیں وہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی،جو کچھ ہو رہا ہے یہ شفاف ٹرائل کے تقاضوں سے متصادم ہے،پاکستان کی تاریخ میں ایسا ٹرائل نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ نے فیصلہ سنانا ہے تو ایسے ہی سنا دیں، انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے ۔نہ اللہ کا ڈر ہے کسی کو نہ ہی آئین و قانون کا۔

    مان نہ مان میں تیرا مہمان، عمران خان کا سرکاری وکلا پر طنز
    عمران خان نے جج سے استدعا کی کہ ان گھس بیٹھیوں کو تو باہر بھیجیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سرکاری وکیلوں کو یہاں طوطا مینا کی کہانی کے لیے بٹھا دیا گیا ہے۔ ہمارے وکلا کو جیل کے اندر نہیں آنے دیا جا رہا ۔اوپن ٹرائل میں کسی کو جیل آنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جج نے کہا کہ شاہ محمود قریشی صاحب اگر آپ خود جرح کرنا چاہتے ہیں تو آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ تین مرتبہ تاریخ دی مگر آپ کے وکلا نے آنے کی زحمت نہیں کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سرکاری ڈرامہ نہیں چلے گا اس طرح سے ٹرائل کی کیا ویلیو رہ جائے گی ۔جج نے کہا کہ” میرے لیے آسان تھا کہ میں ڈیفنس کا حق ختم کر دیتا ۔ لیکن میں نے پھر بھی سٹیٹ ڈیفنس کا حق دیا۔ اس کسٹڈی کی وجہ سے مجھے یہاں جیل آنا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی تو کسی ماں کے بچے ہیں جن کے کیس جوڈیشل کمپلیکس میں چھوڑ کر آیا ہوں۔میں آرڈر کر کر کے تھک گیا ہوں مگر آپ کے وکیل نہیں آتے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ اگر ٹرائل میں رکاوٹیں آتی ہیں تو عدالت ضمانت کینسل کر سکتی ہے”۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کا بھی مذاق اڑایا گیا۔جیل سے باہر نکلتے ہی ایک اور کیس میں اُٹھا لیا گیا۔ جج نے کہا کہ شاہ صاحب اس کیس کو لٹکانے کا کیا فائدہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جج صاحب جیل میں کوئی خوشی سے نہیں رہتا۔میں اپنا وکیل پیش کرنا چاہتا ہوں سرکاری وکیلوں پر اعتبار نہیں۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بلا لیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پراسیکیوشن کے نامزد کردہ وکیلوں سے ڈیفنس کروایا جا رہا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو چکا۔عثمان گل نے کہا کہ نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ سائفر کیس کا فیصلہ پانچ فروری تک ہو جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نجم سیٹھی کو عدالت بلایا جائے اور پوچھا جائے کہ کہاں سے یہ انفارمیشن ملی۔ جج نے کہا کہ آپ کو نجم سیٹھی کی باتوں پر اعتبار ہے یا عدالت پر اعتبار۔ پراسکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں ملزمان کی سائفر کیس میں ضمانت خارج کی جائے، جج نے کہا کہ ضمانت کا معاملہ خود دیکھوں گا یہ میرا معاملہ ہے۔ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ فیئر ٹرائل وہ نہیں جو وکلا صفائی مانگ رہے ہیں، فیئر ٹرائل وہی ہے جو قانون میں دیا ہوا ہے ۔عدالت نے جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ان کے وکلا سے فون پر بات کروانے کی ہدایت کی ،وکلاء سے مشاورت کیلئے سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی اپنے وکیلوں سے بات کروانے کا حکم
    وقفہ کے دوران میڈیا نمائندوں کو جیل سے باہر بھجوا دیا گیا،معزز عدلیہ نے سائفر کی سماعت 15 منٹ کیلئے روک دی، وکلاء کی جانب سے گواہوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ روک دیا گیا،ایڈووکیٹ عثمان ریاض نے عدالت سے 15 منٹ کا وقت مانگا تھا ،15منٹ کے وقفے کے بعد معزز جج صاحبان دوبارہ کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی کے ڈیفینس کونسل بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی نے اپنے ڈیفینس کونسل کے ساتھ بدتمیزی کی اور فائل چھین کر دیوار پر دے ماری ، شاہ محمود قریشی نے فرمائش کی کہ میری بات بیرسٹر گوہر سے کرائی جائے،عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بیرسٹر گوہر سے بات کرنے کی اجازت دے دی،عمران خان نے بھی اپنے ڈیفینس وکیل سکندرذوالقرنین سے بات کرنے کی اپیل کی،معزز جج نے پولیس کو بانی پی ٹی آئی کی اُن کے ڈیفینس کونسل سے بات کرانے کا حکم دیا

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،