Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ، عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی گئی

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی،بشری بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت نے عمران وبشریٰ پر جرمانے کی سزا بھی سنائی، عدالت نے عمران خان پر دس لاکھ جبکہ بشریٰ پر 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی،احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا،

    ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سنایا۔،عدالت نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی عدالت موجودگی میں فیصلہ سنایا، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی عدالت میں موجود تھے،نیب ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی، علیمہ خان سمیت عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،سلمان صفدر، شعیب شاہین بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے.

    کیس کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔

    عمران خان بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب،بشریٰ معاون،تحریری فیصلہ جاری
    احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے،تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی اور کرپٹ پریکٹس کے مرتکب پائے گئے، بانی پی ٹی آئی کو نیب آرڈیننس 1999 کے تحت مجرم قرار دیا جاتا ہے،عمران خان کو 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے ،بشریٰ بی بی کو کرپشن میں سہولت کاری اور معاونت پر مجرم قرار دیا جاتا ہے، بشریٰ بی بی کو 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے،القادر ٹرسٹ کی پراپرٹی وفاقی حکومت کے سپرد کی جاتی ہے، دونوں مجرموں کو 4 مارچ 2021 میں ڈونیشن قبولیت کی دستاویز پر دستخط کرنے پر نتائج بھگتنا ہوں گے، عمران خان اور بشری بی بی القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے جوائنٹ اکاونٹ کے دستخط کنندہ ہیں،اس مقدمے کا زیادہ تر دار و مدار دستاویزی ثبوتوں پر ہے، شہادتوں کے جواب میں ملزمان کے وکلاء دفاع فراہم نہیں کر سکے جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم فیصلہ نہیں سنایا گیا، آج 17 جنوری جمعہ کو فیصلہ سنایا گیا

    بشریٰ بی بی فیصلہ سننے کے لئے اڈیالہ جیل پہنچیں تو بشریٰ بی بی کی گاڑیاں اڈیالہ جیل کے اندر انہیں اُتارکر واپس باہر آگئیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی اور داماد بھی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں موجود تھے،اڈیالہ جیل کے گیٹ پر قیدی وین بھی پہنچائی گئی، میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھی،رہنما مسلم لیگ ن طاہرہ اورنگزیب بھی فیصلے سے قبل اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی تھیں،انکا کہنا تھا کہ فیصلے تو سارے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں، ہر ادارہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، میں فیصلے کا انتظار کر رہی ہوں،رضوان رضی، حسن ایوب، گوہر بٹ، شفقت عمران بھی فیصلہ سننے اڈیالہ جیل کے عدالت پہنچے،تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، خالد یوسف چودھری، بشریٰ بی بی کی بیٹی کو داخلے کی اجازت نہ ملی،سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج نہیں جانے دیا گیا، پہلے میں سب سماعتوں پر آتا رہا ہوں مجھے نہیں علم کہ کیوں نہیں جانے دیا گیا،

    ن لیگی رہنما طاہرہ اورنگزیب اور دانیال چوہدری بھی فیصلہ سُننے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، کمرہ عدالت میں 22 صحافی آج موجود تھے،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    قبل ازیں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔190ملین پاؤنڈ ریفرنس کے تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب میاں عمر ندیم سمیت نیب پراسیکیوشن ٹیم کے تین ممبران عرفان احمد،سہیل عارف،اویس ارشد اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔بشریٰ بی بی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہیں، عمران خان کے وکیل بھی عدالت پہنچ گئے ہیں

    فیصلے سے قبل پولیس نے انتہائی سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔پولیس حکام کے مطابق سکیورٹی پلان کے تحت اڈیالہ جیل کے اطراف کی نگرانی ایس پی صدر نیبل کھوکھر نے کی، جبکہ ایس ڈی پی او صدر دانیال رانا کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایس ایچ او صدر اعزاز عظیم کو سکیورٹی انتظامات کے سب انچارج کے طور پر ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ایس ایچ او تھانہ چونترہ ثاقب عباسی اور انسپیکٹر محمد سلیم کو اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ اڈیالہ جیل کے علاقے میں 6 تھانوں کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اس کے علاوہ، سکیورٹی کے امور کی نگرانی کے لیے ایلیٹ اور ڈولفن فورس کی بھی تعیناتی کی گئی ہے تاکہ تمام اہم مقامات پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انسپیکٹر نسرین بتول کی نگرانی میں خواتین پولیس اہلکار بھی سکیورٹی امور کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ سکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے کے لیے سادہ کپڑوں میں بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے۔پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کے دوران کسی بھی غیر ضروری پریشانی سے بچنے کے لیے محتاط رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد   ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو حملہ کیس،ملزمان سے برآمد ثبوت عدالت میں پیش

    جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی

    9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی،دوران سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، مقدمے میں نامزد ملزمان شیخ رشید، فواد چوہدری اور راجا بشارت و دیگر بھی پیش ہوئے،اس دوران استغاثہ کے 4 چشم دید گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا، جن میں راولپنڈی پولیس کے اے ایس آئی ثاقب، کانسٹیبل شکیل، سجاد اور یاسر شامل ہیں،گواہان نے ملزمان سے برآمد ہونے والے ثبوت بھی عدالت میں پیش کیے اور بتایا کہ ملزمان سے برآمد اینٹی رائٹ فورس سے چھینا ہیلمٹ اور پیٹرول بم شامل ہیں،عدالت میں پیش کیے گئے شواہد میں شہدا کے مجسموں کے برآمد ٹکڑے، موبائل فونز، ڈنڈے، جھنڈے، پی ٹی آئی ٹوپیاں، تاریں اور ماچس شامل ہیں،عدالت کی سماعت کے دوران ملزم سے برآمد موبائل فون عدالت میں پیش کرنے کے دوران آن نکلا۔

    گواہان نے کمرہ عدالت میں موجود راجا بشارت سمیت کئی ملزمان کی نشاندہی کی اور بتایا کہ راجہ بشارت نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کو لیڈ کیا،گواہان نے عدالت کے روبرو کہا کہ راجہ بشارت مظاہرین کو اکساتے رہے کہ بانی کی گرفتاری کا بدلہ فوج سے لینا ہے،دوران سماعت کمرہ عدالت میں ملزمان، وکلاء، پراسیکیوشن اور میڈیا نمائندوں سے بھرا رہا، وکلا صفائی اور پراسیکیوشن ٹیم کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،عدالت نے ملزمان کے شور کے باعث ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیا اور انہیں وارننگ دی، گواہان کی شہادت بھی ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے ہی ریکارڈ کی گئی،دوران سماعت 3 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہونے تک بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں موجود رہے، آئندہ سماعت پر عدالت نے استغاثہ کے پانچ مزید گواہ طلب کر لیے اور سماعت 18 جنوری تک ملتوی کردی

    کیس کی سماعت کے بعد فیصل چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کے ٹرائل میں آج 9 مئی کو ضبط کیا گیا موبائل فُل چارج حالت میں سیل بند لفافے میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ میں حیران ہوں ایسی کمپنی پر کہ جس کی بیٹری آج 2 سال بعد بھی چل رہی ہے،

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    سعودی عرب معاہدے کے تحت 570 پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی لیے رضامند

  • ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل بھی خوش نہیں ہیں کہ ان کا مقدمہ ابھی تک مؤخر ہوا ہے۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ فیصلہ جلد آ جائے تاکہ پوری دنیا کو یہ پتا چلے کہ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا خواب تھا کہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سٹوڈنٹس کو تعلیم دی جائے۔علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ جج صاحب کو اس معاملے کا فیصلہ سنانے میں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کا ایک بڑا سبب حکومت کا موجودہ پریشر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اور پاکستان جانتا ہے کہ اس وقت کس قسم کی سزا سنائی جا سکتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لفظ "ڈیل” کو سن سن کر ہم تھک چکے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے صرف نیوٹرل ایمپائر لگانے کی بات کی تھی، نہ کہ کسی ڈیل کا حصہ بننے کی۔ مذاکراتی کمیٹی کے ممبران نے بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مطالبہ نہیں آیا ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ 17 جنوری کو اگر حکومت کی جانب سے ہمت ہو تو فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، اور اس دن کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔

    مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

    مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کا حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انہوں نے یہ بات اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف جمہوریت ہے، اور اس کا کیس کے فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ مؤخر ہو رہا ہے، بالکل غلط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت حکومت کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری رکھے گی، لیکن یہ مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلہ تیسری بار مؤخر ہونے کے بعد یہ سننے میں آیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تیسری نشست 15 جنوری کو ہونے جا رہی ہے، جس کا پی ٹی آئی کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف ہمارے موقف کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر واقعی انصاف ہوتا تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کا فیصلہ بہت پہلے آ چکا ہوتا۔بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ کیس کے فیصلے کو جلدی سنائے جانے کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق، 11 بجے فیصلے کی توقع کی گئی تھی، مگر جج صاحب نے اپنی مرضی سے فیصلہ مؤخر کر دیا، جو کہ سیاسی نوعیت کا فیصلہ لگتا ہے۔

    کراچی: 105 ہندوجوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد

    جالندھر میں خودساختہ نبی سامنے آ گیا،عیسائیت کی پرچار،لوگ مذہب بدلنے لگے

  • بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بنی گالہ منتقل ہونے کی پیش کش ہوئی تھی، تاہم خواجہ آصف نے اس بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف بانی پی ٹی آئی کی خواہشات ہیں اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا معاملہ عدالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف عدالت کی جانب سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا گرفتاری کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ قانونی عمل کے تحت ہوگا۔وزیر دفاع نے ملک کی معیشت کے بارے میں بھی گفتگو کی اور کہا کہ ہماری معیشت بتدریج سنبھل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن قائم ہو جائے تو پاکستان خود کفیل ہو سکتا ہے اور اقتصادی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام اور امن کی صورتحال سے معیشت کی بہتری ممکن ہے اور اس کے لیے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں امن قائم ہو، تو معیشت میں خود کفالت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیوں ملک کی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ علیمہ خان نے دو روز قبل کہا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے عمران خان کو اڈیالہ سے منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد یہ بات چل رہی تھی کہ عمران خان کو اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی کی بات چیت چل رہی ہے تا ہم اب واضح ہو چکا ہے کہ بنی گالہ منتقلی پی ٹی آئی کی خواہش ہو سکتی ہے، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے.

  • عمران خان کو رانا ثنا اللہ  کی  پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    عمران خان کو رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ،علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اور ڈاکٹر عظمیٰ جب اندر گئے تو پہلے ہمیں گیٹ سے اندر جانے سے روکا گیا

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عظمٰی نے جب عمران خان سے کہا کہ علیمہ خان کو آپ سے ملنے نہیں دیا جا رہا تو عمران خان نے عدالت کی کاروائی روک دی۔،مجھ پر آج بین لگا تھا اور عمران خان سے نہیں ملنے دیا جا رہا تھا،سلمان اکرم راجہ کو عمران خان نے نامزد کیا ہے اور اپنے ہی لوگ اُس کے پیچھے لگ گئے ہیں، سلمان اکرم راجہ وہی کرے گا جو عمران خان کہے گا، عمران خان بتا کر بھیجتے ہیں کہ میرے ٹویٹر اکائونٹ پر کیا کرنا ہے،عمران خان کہتے کہتے تھک گئے کہ میں عدالت کے ذریعے اپنے کیسز کا سامنا کر کے باہر نکلوں گا، وہ ڈیل کے تحت نہیں، سرخرو ہو کر جیل سے نکلیں گے، رانا ثنا اللہ کو بتائیں عمران خان سونا نہیں ہیرا ہے، عمران خان کو رانا ثناءاللہ خان کی کی گئی پریس کانفرنس کا بتایا تو وہ بہت ہنسے ۔ہمیں کہا گیا آپ لوگ اکیلے ہیں،عمران خان کا پیغام قوم کو دینا بند کر دیں۔ ہمیں دو مہینے پہلے پیغام دیا گیا تھا کہ آپکی اے آئی ویڈیوز نکال دیں گے۔ ہم نے کہا ہمارے ساتھ پورا پاکستان کے سب بہن بھائی اور پورا سوشل میڈیا کھڑا ہے۔ جب تک عمران خان رہا نہیں ہو جاتے ہم عمران خان کا پیغام ضرور پہنچاتے رہیں گے، عمران خان اڈیالہ میں بیٹھ کر اپنی جماعت چلا رہے ہیں اور تمام فیصلے خود کررہے ہیں،

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

  • بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر   گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے،علیمہ خان

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کا دن،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے اڈیالہ جیل میں ہونے والی ملاقات ختم ہو گئی

    ملاقات کرنے والوں میں علیمہ خان، عظمی خانم اور نورین خانم شامل تھے،بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات اڈیالہ جیل کے کانفرنس روم میں کروائی گئی،ملاقات کے بعد فیملی ممبران اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گئے،علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بنی گالہ شفٹ کرنے کی آفر علی امین گنڈاپور عمران خان کے پاس لیکر آئے ،صحافی نے سوال کیا کہ واقعی ایسا ہے؟جس پر علیمہ خان نے جواب میں کہا ایسا ہی ہے گنڈاپور ہی آفر لیکر آئے تھے جس کو عمران خان نے مسترد کر دیا تھا اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا کہا.عمران خان کو آفرز آ رہی ہیں لیکن مذاکراتی کمیٹی کو کیوں نہیں ملنے دیا جا رہا، انکو کیوں آفر نہیں دی جا رہیں،عمران خان کو آفر کی جاتی ہے کہ چپ رہو اور حکومت چلنے دو، یہ آفر تو نہیں ہے،ڈیڑھ سال سے یہ آفر آ رہی ہے،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ مجھے کتابیں پہنچا دیں، کئی مہینوں سے عمران خان کو بچوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،حالانکہ جیل مینوئل کے مطابق اجازت ہے، نہ ہی انکو ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ہے، عمران خان کے ڈاکٹر کی ملاقات نہیں کروائی جاتی، رہائی بارے عمران خان کو کچھ نہیں پتہ، بہت کیسز ہیں، دنیا ساری دیکھ رہی ہے، کہ آپ کیا کیسز بنا رہے ہیں،کیا مذاق بنا ہوا ہے، ہائیکورٹ میں کیس دم توڑ جاتا، عمران خان بڑے مایوس تھے کہ ان کوسزا نہیں ہوئی،تحریک شروع ہو چکی ہے ، اوورسیز پاکستانی شامل ہو رہے ہیں، پاکستانی پاکستان میں ہوں یا باہر سب سے زیادتی ہو رہی ہے، احتجاج کرنے والوں کو دھمکیاں ملتی ہیں،عمران خان نے کہا ہے کہ باہر سے پیسے نہ بھیجیں.مذاکرات چلانے ہیں تو چلائیں روکا کس نے ہے؟ جیل کے اندر ملاقات کروانے کیلئے صبح 7 بجے دروازے کھلتے ہیں، اب کیوں مذاکراتی کمیٹی کو ملنے نہیں دیا جارہا ہے، عمران خان نے کہا ہے پہلے یہ سنجیدگی دکھائیں پھر دیگر معاملات پر بات ہوگی،

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

  • بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات پر سنجیدہ ہے تو ان کے نتیجے تک پہنچا جا سکتا ہے، ورنہ یہ صرف وقت ضائع کرنے کا عمل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے پاس حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں آیا اور ان کی مذاکراتی کمیٹی صرف دو مطالبات پر بات کر رہی ہے، جو پہلے ہی حکومت کو بتا دیے گئے ہیں۔

    اڈیالہ جیل میں غیر رسمی بات چیت کے دوران عمران خان نے کہا کہ "میرے پاس میری مذاکراتی کمیٹی حکومت کا کوئی مطالبہ نہیں لے کر آئی ہے، اور اگر حکومت انہیں ملاقات کی اجازت دیتی ہے، تو وہ مجھ سے بات کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں حکومت کو اپنی سنجیدگی دکھانی ہوگی اور ان کے مطالبات پر بات کرنی ہوگی تاکہ ایک نتیجے تک پہنچا جا سکے۔عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ اس کیس کا فیصلہ کیوں نہیں سنایا جا رہا؟ انہوں نے کہا کہ "یہ مجھے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میں کسی صورت میں ڈیل نہیں کروں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ "یہ جب بھی فیصلہ سنائیں گے، انہیں بین الاقوامی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

    انہوں نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ بشریٰ بی بی پر مذاکرات کرنے کا کوئی الزام درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو بھی مذاکرات کا عمل ہوگا، وہ میری مذاکراتی ٹیم کے ذریعے ہوگا اور میں خود اس کے حتمی فیصلے کروں گا۔”عمران خان نے جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے مارشل لا کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ "ان کا مارشل لا اتنا بدترین نہیں تھا، اُس دور میں میڈیا کو آزادی تھی۔ میں خود بھی اُس دور میں جیل گیا تھا۔”

    دوسری جانب، تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کو آج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اس بات سے آگاہ کیا۔ مذاکراتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ کل عمران خان سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ اس ملاقات کے بعد آگے کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔

    عمران خان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل میں اب مکمل طور پر "لیٹ” چکے ہیں

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

  • حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    حساب دینا ہو گا،علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام پہنچا دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا جو لاپتہ ہیں اُس پرآواز کیوں نہیں اُٹھا رہے؟ پارٹی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی تصاویر جاری کریں، لوگوں کو بتائیں، عمران خان نے کہا، 26 نومبر کا حساب دینا ہوگا، یہ نہ بھولے ہیں نہ بھولنے دیں گے،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ایسا تاثر دیا جائے کہ عمران خان بھی حکومتی این آر او کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عمران خان بیک ڈور چینلز کے ذریعے حکومت سے معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ بالکل غلط ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ حکومت کی طرف سے یہ پیغامات عمران خان تک براہ راست نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے پہنچائے گئے ہیں۔ ان پیغامات میں حکومت نے کئی مرتبہ عمران خان سے کہا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں یا پھر انہیں ہاؤس اریسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ علیمہ خان نے کہا کہ حکومت کے ان پیغامات کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان خاموش رہیں اور حکومت کو چلنے دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کو واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت سے کسی بھی بیک ڈور مذاکرات میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عمران خان کے دو بنیادی مطالبات ہیں: پہلا، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر ایک جوڈیشل کمیشن کا قیام، اور دوسرا، بے گناہ افراد کی رہائی۔ علیمہ خان کے مطابق، عمران خان کا خیال ہے کہ جو کچھ بھی ہونا چاہیے وہ عدلیہ اور قانون کے ذریعے ہو، اور وہ خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں۔علیمہ خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی این آر او یا بیک ڈور رابطے کی حمایت نہیں کرتے اور وہ عدالتوں سے سزا سنوانا چاہتے ہیں تاکہ پوری دنیا کو پتہ چلے کہ ان کے خلاف الزامات کس نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں فوری فیصلہ سنایا جائے تاکہ اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے۔

    علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کارکنان کے لاپتا ہونے کی صورتحال کا پتہ چلائیں اور اس معاملے کو میڈیا میں اُٹھائیں۔ بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کے واقعات کا حساب لینے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ اس دن ہونے والے آپریشن کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیے۔علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا موقف ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کا خوف ختم ہو جائے اور وہ حکومت کے ساتھ بات چیت میں سنجیدگی دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی بھی اس پر تیزی سے عمل کرے گی، لیکن اگر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو پھر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے سامنے پی ٹی آئی کے دو مطالبات ہیں، مگر ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ مذاکراتی کمیٹی سے ملاقاتوں میں پی ٹی آئی کے بانی کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا، جس سے مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔علیمہ خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 26 نومبر کے آپریشن کے حوالے سے عمران خان نے کہا تھا کہ اس پر حکومت کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے کارکنان اب مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اس معاملے پر آواز اُٹھائیں گے۔

    شیرافضل مروت اور افنان اللہ خان نے ایک دوسرے کو گلے لگالیا

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    عمران خان سے ملاقات،مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے،اسد قیصر

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے۔ کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جہاں ممبران کو مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی اور کور کمیٹی مذاکراتی عمل میں مکمل طور پر آن بورڈ ہے۔ تاہم، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت اگلی مذاکراتی نشست سے پہلے ضروری ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں قومی مفاد انا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر پاکستان کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بشریٰ بی بی کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں رد کر دیں ہیں اور کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غلط خبریں پھیلائی ہیں کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا کہ "ہمارے کسی بھی بیک ڈور رابطے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی ہی مذاکرات میں شامل ہے اور وہی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے راؤنڈ سے پہلے بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔ "ہم نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو بھی آگاہ کیا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔” بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ اُنہیں امید تھی کہ آج ملاقات ہوگی، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ کل تک یہ ملاقات ممکن ہو جائے گی۔بیرسٹر گوہر علی خان نے پی ٹی آئی کے دو اہم مطالبات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے دو اہم مطالبات ہیں: ایک تو اسیران کی رہائی اور دوسرا جوڈیشل کمیشن کا قیام۔ انہوں نے بتایا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے ان مطالبات کے لیے ایک وقت کی حد بھی دی ہے۔

    چئیرمین پی ٹی آئی نے بانیٔ پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے القادر کیس میں کسی بھی ذاتی فائدے کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں گواہوں نے عدالت میں بھی کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا براہِ راست کوئی لین دین نہیں تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ "ہمیں امید ہے کہ القادر کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں بری ہوں گے۔”اس کے ساتھ ہی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات پر فوری طور پر عمل کرے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو سکے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھے۔

    علی امین گنڈا پور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

    اوچ شریف: چوکی مقبول شہید کی غیر فعال عمارت جرائم پیشہ افراد کی پناہ گاہ بن گئی