Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کیس پر سماعت کی

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،بشری بی بی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئیں،بشریٰ بی بی کے وکیل ارشد تبریز کی عدم موجودگی کے باعث گواہ کا نہ تو بیان ریکارڈ ہو سکا اور نہ ہی جرح ہو سکی ،وکیل کوسین مفتی نے کہا کہ ارشد تبریز بیماری کے باعث آج عدالت پیش نہیں ہو سکے،پہلے ارشد تبریز اپنی جرح مکمل کریں گے اس کے بعد ہم اپنی جرح کا آغاز کریں گے،پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی مخالفت کی گئی،سپیشل پراسیکوٹر ذولفقار نقوی نے کہا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو جرح شروع کرنے کا حکم دے۔ جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ آئندہ سماعت پر جرح شروع نہ کی گئی تو عدالت کاروائی کرے گی،عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت چھ جنوری تک ملتوی کر دی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

  • مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    مجھ سے بات کب کرنی؟ علیمہ خان نے عمران خان کا پیغام بتا دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کہا ہے میں قانونی طور پر جیت چکا ہوں میرے کیس فائنل سٹیج پر ہیں میں ڈیل نہیں کروں گا۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا، 9 مئی کو جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہےانھوں نے 9 مئی کرایا ہے۔دس ہزار سے زیادہ لوگوں کو 9 مئی میں گرفتار کیا گیا لیکن 9 مئی کو جنہوں نے پارٹی چھوڑ دی تھی انہیں آپ نے کیسے معاف کردیا، جس سے واضح ہے یہ ڈرامہ صرف پارٹی توڑنے کیلئے تھا،ہمارے 2یہ مطالبات ہیں کہ جو ڈیشنل کمیشن بنائیں اور یہ بےگناہ لوگ جو آپ نے جیلوں میں بھریں ہوئے ہیں ان کو رہا کریں۔جب ان کو رہا کر دیں گے پھر اگر آپ نے بات کرنی ہو گی میرے سے بات کریں،عمران خان نے کہا ہے کہ بنی گالہ ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،توشہ خانہ ٹو کیس توشہ خانہ کے پہلے کیس جیسا ہے۔القادر یونیورسٹی کیس میں چھ تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کو انہوں نے سزا سنانی ہے۔القادر کا کیس اور توشہ خانہ ٹو اعلی عدالتوں میں ختم ہو جائینگے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے عدلیہ کا مذاق بنایا گیا ہے،بانی یہ پوچھ رہے ہیں مجھے ڈیل کرنے کی کیا ضرورت ہے جب میں کیسز لڑ رہا ہوں۔ کسی باہر کے ملک کے کہنے پر ڈیل نہیں کرونگا۔

    یو اے ای کے سفیر کی جاری ترقیاتی منصوبوں پر مریم نواز کی تعریف

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

  • توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی

    عمران خان اور بشری عمران کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 2جنوری تک ملتوی کر دی گئی

    کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل کی عدالت میں پیش ہوئیں، عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ کابینہ ڈویژن کے سیکشن آفیسر بنیامین کا بیان قلمبند کر لیا گیا وصول کیئے گئے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کر دی گئیں،سپیشل جج سنٹرل شاہ رخ خان ارجمند نےاڈیالہ جیل میں سماعت کی ،گواہ نے توشہ خانہ تحائف کی رجسٹریشن کا رجسٹر بھی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی کے وکیل ارشد تبریز نے گواہ پر ابتدائی جرح کی اورسماعت2جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد کررکھی ہے،عمران خان اور بشری بی بی نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں جبکہ بشریٰ بی بی رہا ہو چکی ہے اور پشاور میں ہے،

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

    پی آئی اے نے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود لاہور سے مسافروں کو ملتان نہ بھجوایا

  • 9 مئی کیس: ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے مزید پانچ مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    9 مئی کیس: ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے مزید پانچ مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    راولپنڈی: سانحہ 9 مئی کیس میں ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے مزید پانچ مجرموں کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی: ملزمان کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیاملٹری کورٹس سے اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والوں میں محمد عبداللہ ولد کنور اشرف، راجہ دانش وحید والد راجہ عبدالوحید، حسن شاہ ولد صابر حسین شاہ، علی حسنین والد خلیل الرحمن فرہاد خان والد شاہد حسین خان شامل ہیں۔

    جیل ذرائع کا کہنا تھا کہ اب تک سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں ملٹری کورٹس سے سزا پانے والے 7 مجرموں کو اڈیالہ جیل منتقل کیا جاچکا ہے، دیگر مجرموں کو دیگر جیلوں میں منتقل کیا جائے گا۔

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    واضح رہے کہ آج سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید مجرمان کو سزائیں سنا دی گئی ہےڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائی گئی ہے،جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان خان نیازی ولد حفیظ اللہ نیازی کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہےجناح ہاؤس حملے میں ملوث میاں عباد فاروق ولد امانت علی کو 2 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،بریگیڈیئر جاوید اکرم کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، سانحہ 9 مئی میں ملوث مزید 60 مجرمان کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سزائیں سنائیں-

    ڈیل کا پیغام ملا ہے،جیل رہ لوں گا،کوئی ڈیل قبول نہیں کروں گا،عمران خان

  • عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان حکومت کی تعریفیں کرنے لگے

    عمران خان آج اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر صحافی بھی موجود تھے،صحافیوں نے عمران خان سے سوال کئے ،جن کے عمران خان نے جواب دیئے،صحافیوں نے عمران خان سے ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پوچھ لیا ،صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کو استحکام دیا ہے؟جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا ہے، معیشت مستحکم ہونے سے دیوالیہ ہونے سے بچ گئی ہے لیکن ترقی نہیں ہوئی۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے علاوہ کسی کو تاحال ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، تمام رہنماؤں کو ابھی جیل داخلے سے روکا گیا ہے، کمیٹی کی ملاقات جب طے ہے انہیں روکنا تذلیل ہے، حکومت میں شامل کچھ لوگ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا ہے تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو ملاقات سے روکنے پر ہم احتجاج کرتے ہیں،حکومت میں شامل مریم نواز گروپ مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکراتی کمیٹی کو لوگ باعزت لوگ ہیں انہیں روکنا انکی توہین ہے،

    علاوہ ازیں عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہاؤس اریسٹ میں جانے سے انکار کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے سب سیاسی قیدیوں کو رہا کریں میں اگر جاؤں گا تو مکمل رہائی میں جاؤں گا ہاؤس اریسٹ میں نہیں جاؤں گا،سب کیسز کا سامنا کروں‌گا، پہلے سیاسی قیدیوں کو رہا کریں ،جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں،بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ عمران خان کو بنی گالہ یا کے پی کے شفٹ کر رہے ہیں،عمران خان نے واضح کہا ہے کہ سول نا فرمانی کی کال واپس نہیں ہوگی، عمران خان کا موقف ہے کہ اوور سیز ہی زرمبادلہ بھیجتے اور سرمایہ کاری کرتے ہیں ،عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمارے دو مطالبات میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    وزیراعظم سے ممتاز چینی آرٹسٹ و مجسمہ ساز ماسٹر یوآن شیکم کی ملاقات

  • جی ایچ کیو  راولپنڈی کیس:  قید کی سزا پانے والے 2 مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    جی ایچ کیو راولپنڈی کیس: قید کی سزا پانے والے 2 مجرم اڈیالہ جیل منتقل

    راولپنڈی: جی ایچ کیو راولپنڈی حملہ کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا پانے والے 2 مجرمان کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 مجرمان کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سزائیں سنا دی گئی ہیں مجرمان کو 2 سے 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنائی گئی ہیں جی ایچ کیو حملہ کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا پانے والے 2 مجرمان کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، اڈیالہ جیل پہنچائے گئے مجرمان میں راجہ محمد احسان اور عمر فاروق شامل ہیں،جرم ثابت ہونے پر دونوں کوملٹری کورٹ سے10، 10 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے سانحہ 9 مئی کے 25 مجرموں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ یہ سزائیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے تحت دی گئیں، جس میں تمام شواہد کی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سزائیں سننے کے بعد تمام ملزمان کو ان کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں، مجرموں کو ان کے حقوق دینے کے لیے قانونی عمل کی ہر سطح پر پابندی کی گئی، جس سے ان کے حقوق کی پامالی کا کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس  کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

    توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت، گواہان پر وکلاء صفائی کی جرح مکمل

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ کیس 2 کی سماعت کے دوران اہم پیشرفت ہوئی۔

    اسپیشل جج سینٹرل، شاہ رخ ارجمند کی زیر صدارت توشہ خانہ کیس 2 کی سماعت ہوئی۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی، عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔اس کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی ٹیم نے 2 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے، جن میں کابینہ ڈویژن کے افسر ساجد اور اسٹیٹ بینک کے افسر میسم شامل تھے۔ ان گواہان نے توشہ خانہ کے متعلق اہم معلومات فراہم کیں، جن کی بنیاد پر کیس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوران سماعت وکلاء صفائی نے دونوں گواہان پر جرح مکمل کی۔ جرح کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ اس دوران مزید گواہان کے بیانات اور ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔

    اسٹیٹ بینک کے افسر میسم نے عدالت میں 2018ء سے 2021ء تک فارن ایکسچینج کے ڈالرز اور یورو کے ریکارڈز پیش کیے، جن میں توشہ خانہ کے معاملات سے متعلق اہم معلومات فراہم کی گئیں۔ جبکہ کابینہ ڈویژن کے افسر ساجد نے 2018ء میں وزیر اعظم کا توشہ خانہ سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔

    توشہ خانہ کیس 2 میں پی ٹی آئی کی قیادت پر الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے کے بعد انہیں فروخت کیا، جس میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس کیس کی مزید سماعت آئندہ 26 دسمبر کو ہوگی، جس میں مزید گواہان کے بیانات اور ریکارڈ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت متوقع ہے۔

    فواد چوہدری سمیت بھگوڑوں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان

    وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان و دیگرکی بریت درخواستیں خارج

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی کو ہونے والے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان، علی امین گنڈاپور، شاہ محمود قریشی سمیت 12 ملزمان کی درخواست بریت پر فیصلہ سنایا گیا۔ عدالت نے ان تمام ملزمان کی درخواست بریت کو خارج کر دیا۔

    عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان، علی امین گنڈاپور، اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواستیں بریت خارج کرتے ہوئے انہیں مزید قانونی مراحل سے گزرنے کا حکم دیا۔ ان کے علاوہ، پی ٹی آئی کے دیگر رہنما جیسے شبلی فراز، شہریار آفریدی، فواد چودھری، کنول شوذب اور عمر تنویر بٹ کی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئیں۔اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی طرف سے بریت کی درخواستوں میں کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور ان پر الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ ظہیر شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کو مسترد کیا جائے تاکہ ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا سکے۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب تک فرد جرم عائد نہیں ہو جاتی، بریت کی درخواستوں کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ فرد جرم عائد ہو چکی ہے، اس لیے ان درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیا جاتا ہے،عدالت نے 4 ملزمان کی طرف سے بیرون ملک جانے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ ان ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے دستاویزات نامکمل ہیں اور ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم، عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی نوعیت اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء فیصل چودھری اور فیصل ملک نے عدالت میں اپنے دلائل دیے اور کہا کہ ان کے موکلین کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں، اس لیے انہیں بری کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرنے سے پہلے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

    عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرتے ہوئے تمام ملزمان کو اپنے دفاع کے لیے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے مزید شواہد اور گواہوں کی پیشی کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی بریت کی درخواست مسترد،فیصلہ جاری

    جی ایچ کیو حملہ کیس، گنڈا پور ،قریشی،شبلی فراز سمیت مزید 14 ملزمان پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس، مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    جی ایچ کیو حملہ کیس،گنڈاپور،شبلی فراز سمیت 25 ملزمان کے وارنٹ

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان سمیت دیگر پر فردجرم عائد

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمر ایوب کی بریت کی درخواست خارج

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ 23 دسمبر کو سنایا جائیگا

    اسلام آباد: احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

    عدالت نے اس کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی جہاں دونوں ملزمان، عمران خان اور بشریٰ بی بی، عدالت میں موجود رہے۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت جاری تھی۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کے وکلا نے اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیے جبکہ پراسیکیوشن ٹیم نے گزشتہ روز اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔ عدالت نے فریقین کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ 23 دسمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اس فیصلے کا انتظار ملک بھر میں کیا جا رہا ہے کیونکہ اس مقدمے کی نوعیت اہم ہے اور اس سے سیاسی منظرنامے پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران ،بشریٰ پیش،وکیل صفائی کو ملاجرح کا آخری موقع

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا