Baaghi TV

Tag: اڈیالہ جیل

  • توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ،جیل ٹرائل کیخلاف عمران خان کی درخواست

    توشہ خانہ، القادر ٹرسٹ،جیل ٹرائل کیخلاف عمران خان کی درخواست

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سماعت ملتوی، گواہان دوبارہ طلب

    توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سماعت ملتوی، گواہان دوبارہ طلب

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں کی

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، امجد پرویز، سہیل عارف اور عرفان بھولا عدالت پیش ہوئے۔وکیل صفائی سردار لطیف کھوسہ عدالت پیش نہ ہوئے،وکلاء صفائی نے استدعا کی کہ لطیف کھوسہ آج دستیاب نہیں،سماعت ملتوی کی جائے،نیب گواہان کے بیانات بھی قلمبند نہ ہوسکے،عدالت نے سماعت کل 13 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی

    دوسری جانب سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے 15 جنوری تک ملتوی کردی گئی،سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سرٹیفائیڈ کاپی موصول نہ ہونے کے باعث ملتوی کی گئی،سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں گواہان دوبارہ طلب کر لئے گئے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سماعت 15 جنوری تک کیلئے ملتوی کردی،وکلاء صفائی علی بخاری، بیرسٹر تیمورملک اور دیگر عدالت پیش ہوئے،عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بہنوئی پیر احمد قریشی کی وفات پر فاتحہ خوانی کرائی،وکلاء صفائی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ کی کاپی عدالت میں پیش کی گئی،عدالت نے پانچ گواہان کو دوبارہ طلب کرلیاگیا،طلب کیے جانے والے گواہان میں اقراء اشرف، عمران ساجد، شمعون قیصر، فرخ عباس اور حسیب بن عزیز شامل ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • آج رات ٹکٹ کا اعلان کر دیں گے، بیرسٹر گوہر

    آج رات ٹکٹ کا اعلان کر دیں گے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ آج رات گیارہ بجے سے پہلے ٹکٹوں کا اعلان کروں گا

    اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ٹکٹ کے متعلق مشاورت مکمل ہوگئی ہے۔ آج شام 9 بجے اعلان کردیاجائے گا، ہمیں عدلیہ پر اعتماد ہے، ہمارے ساتھ انصاف ہو گا،ہمارے ساتھ امیدوار کل یا پرسوں‌تک ٹکٹ جمع کروا دیں گے، الیکشن کمیشن کو آرڈر ہو چکا ہے کہ بلے کا نشان الاٹ کیا جائے، الیکشن کمیشن سے استدعا ہے کہ بلے کے نشان کا سرٹیفکیٹ ویب سائٹ پر جاری کرے، پی ٹی آئی کا نشان کے ساتھ جانا ضروری ہے، الیکشن کمیشن کہ ذمہ داری ہے کہ الیکشن شفاف ہو، عدالت کا احترام کریں اور اس کے فیصلے پر عمل کریں، پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے سپریم کورٹ میں جانا الیکشن کمیشن کا حق ہے جب تک سپریم کورٹ فیصلہ کالعدم قرار نہ دے تو الیکشن کمیشن کو عمل کرنا ہے

    دوسری جانب چکوال کےحلقہ این اے 58 سے پی ٹی آئی کے امیدوار معروف صحافی چوہدری ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے چوہدری ایاز امیر کو الیکشن لڑنے کے لیے اہل قراد دے دیا، چوہدری ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظور حلقہ این اے 58 سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں، ایاز امیر کے کاغذات نامزدگی منظوری کے خلاف اعتراض دائر کئے گئے تھے جو مسترد کر دیئے گئے

    جب تک کسی عدالت سے بریت نہ ہو جرم ختم نہیں ہو سکتا ،فیصلہ
    علاوہ ازیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حلقہ این اے 122 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ ،ٹریبونل کے جسٹس طارق ندیم نے 19 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ، بانی پی ٹی آئی کے وکیل رائے محمد خان کھرل نے فیصلہ وصول کر لیا، فیصلے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا ،عدالت نے ان کی سزا معطل کی ہے جرم ختم نہیں ہوا ،جب تک کسی عدالت سے بریت نہ ہو جرم ختم نہیں ہو سکتا ،سزا معطل ہونا اور بریت ہونا دو الگ چیزیں ہیں ، الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی سزا ابھی تک برقرار ہے ،ابھی تک کسی مجاز عدالت نے الیکشن کمیشن کی سزا ختم نہیں کی ، بانی پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کےخلاف ٹھوس وجوہات ہیں ، ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کی جاتی ہے ،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • نومئی کے 12 مقدمے،عمران خان کو جوڈیشل کر دیا گیا

    نومئی کے 12 مقدمے،عمران خان کو جوڈیشل کر دیا گیا

    اڈیالہ جیل: بانی چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے 12 مقدمات کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی

    دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی عدالت پیش ہوئے،تفتیشی افسران کی جانب سے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے مزید 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی ،عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز آصف نے کی

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد ہائیکورٹ سے نو مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں.عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، شاہ محمود قریشی ، پرویز الہیٰ بھی اڈیالہ جیل میں ہیں، مراد سعید، حماد اظہر سمیت تحریک انصاف کے کئی رہنما روپوش ہیں،

     سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے، نقول فراہمی اور ان کیمرہ سماعت کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، سکندر ذولقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،سائفر کیس میں ایف آئی اے نے جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ کی خدمات حاصل کرلی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کیس سے متعلق تمام آفیشل دستاویزات عدالت کو جمع کریں گے، ٹرائل کورٹ نے کچھ گواہوں کے لیے سماعت ان کیمرہ کرائی تھی، گواہوں کے بیانات کی سرٹیفائیڈ کاپیاں درخواست گزار وکلاء کے پاس موجود ہیں، اس عدالت کے ڈویژن بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرایا گیا تھا، 14 دسمبر کا ٹرائل کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا تو دوبارہ گواہان کا بیان قلمبند کرتے ہیں، اگر اس معاملے پر میرا کولیگ سلمان اکرم راجہ متفق ہے تو درخواست کو نمٹا دیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے دو دفعہ غلط فیصلہ کیا، عدالت نے کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، چلیں نئے سرے سے اس کیس کو شروع کریں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاسفندیار ولی کیس کا حوالہ دیا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل دوبارہ وہاں جانا چاہیے جہاں سے غیر قانونی فیصلہ کیا گیا تھا، عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ چار گواہوں کے بیانات ان کیمرہ قلمبند کرائے گئے تھے، سول لاء، کریمنل لاء سے بہت مختلف ہیں، عدالت نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے سائڈ کے ترجیحات یا مجبوریاں بھی دیکھ لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تمام 13 گواہان کے بیانات قلمبند کرانے کو دوبارہ تیار ہیں، ایف آئی اے پراسیکیوشن نے کہا کہ اس کیس میں 25 گواہان ہیں جن میں 12 کے بیانات ابھی رہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں حکم امتناعی ختم کردیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر فیصلہ محفوظ کرلیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 14 دسمبر کے آرڈر کے بعد کی کاروائی کالعدم قرار دی جائے ، انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ 14 دسمبر کا آرڈر درست نہیں تھا،اٹارنی جنرل نے 14 دسمبر کے بعد کی کاروائی از سر نو کرنے کی یقین دھانی کروا دی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، ملک ریاض اشتہاری قرار

    190 ملین پائونڈ کیس میں چھ ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا گیا۔ اشتہاری قرار دینے والوں میں ملک ریاض اور علی ریاض بھی شامل ہیں.

    اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی، عدالت میں شریک ملزمان سے متعلق تفتیشی آفیسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا،شریک ملزمان میں ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، ضیاء السلام نسیم، شہزاد اکبر اور ذلفی بخاری شامل ہیں

    تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چودہ سینیٹرز کی الیکشنز کو موخر کرنے کی قرارداد سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہے، سینیٹ میں کورم بھی پورا نہیں سپریم کورٹ کو اسکا نوٹس لینا چاہئیے، سینیٹ کی قرار داد آئین کی تضحیک ہے، پی ٹی آئی کا موقف ہے الیکشنز کو کسی صورت موخر نہیں ہونا چاہیئے،

    اڈیالہ جیل کےباہر میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کا کہا ہے، الیکشن ٹریبونلز نے بیشتر کاغذات نامزدگی منظور کئے ہیں،الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے اس بات کی عکاسی ہے آر اوز کسطرح کے فیصلے دیتے رہے ہیں،ہماری درخواست پر سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب اور سیکرٹری پنجاب کو نوٹسز جاری کئے ہیں، جس انداز سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کے خلاف کاروائیاں کی گئی وہ دنیا نے دیکھا،ہمارا مطالبہ ہے پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیا جائے،نگراں حکومتیں پی ٹی آئی کی انتخابی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں،

    عدالت نے ملک ریاض کو مفرور قرار دے دیا، لطیف کھوسہ
    لطیف کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں درخواست ضمانت پر ہمارے دلائل مکمل ہوچکے ہیں،نیب کی پراسیکیوشن ٹیم مسلسل التواء مانگ رہے ہیں،نیب نے پچھلی سماعت پر بھی عدالت سے وقت مانگا آج بھی وقت مانگا، نیب نے پچھلی سماعت پر نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کو بطور پراسیکیوٹر پیش کیا، عدالت کو بتایا کیا نواز شریف نیب کو کنٹرول کررہا ہے، عدالت نے پیر 8 نومبر کیلئے سماعت رکھی ہے، ملک ریاض کے وکیل فاروق ایچ نائیک بھی آج عدالت میں پیش ہوئے، ملک ریاض کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کردی گئی ہے، عدالت نے ملک ریاض کو مفرور قرار دیا ہے،

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ سات دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں شریک ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغازہو ا تھا،احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے تحریری حکمنامہ میں کہا تھا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم عدالت میں پیش ہوئے، رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم ملک ریاض، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی،ملزم ذلفی بخاری، احمد علی ریاض، فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے، خود کو چھپا رکھا، ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو خراب کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں، گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے، احتساب عدالت سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کےخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے،ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں، ملزمان کے آبائی، رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے.

    190 ملین پاونڈ اسکینڈل کی نیب تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کر رکھا ہے،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں،نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے القادر ٹرسٹ کیس میں ضمانت کیلئے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں گرفتار تھے،ٹرائل کورٹ نے عدم حاضری پر ضمانت خارج کردی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ضمانت خارج کا فیصلہ برقرار رکھا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر ضمانت بحال کی جائے،

    القادر ٹرسٹ میں عمران خان اور بشری کا کردار بطور ٹرسٹی ہے،وکلاء

    بطور وزیراعظم اکیلا ذمہ دار نہیں تھا کابینہ کا فیصلہ اجتماعی ہوتا ہے،عمران خان

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    190 ملین پاؤنڈزسکینڈل میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خود فائدہ اٹھایا

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

    گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے چار سال قبل ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔

    2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔

  • توشہ خانہ کیس، عمران ،بشریٰ پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ کیس، عمران ،بشریٰ پر آج پھر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

    توشہ خانہ اور 190ملین پاونڈ ریفرنسسز کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی

    توشہ خانہ ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،190ملین پاونڈ ریفرنس میں ملزمان کو نقول کی تقسیم بھی 8جنوری تک موخر کر دی گئی،بشری بی بی اور عمران خان کی درخواست ضمانتوں پر سماعت بھی 8جنوری تک ملتوی کر دی گئی،عمران خان کی جانب سے بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کی استدعا،عدالت نے منظور کرلی ،سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی بانی چیئرمین سے ملاقات کی درخواست بھی منظور کرلی گئیں

    ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج
    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں ملک ریاض کی جانب سے انکے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کیں۔ایک درخواست وڈیو لنک کے ذریعے پیشی دوسری درخواست حاضری سے استثنیٰ کی تھی۔تیسری درخواست ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی تھی۔عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست خارج کردی۔وڈیو لنک اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں فاروق ایچ نائیک نے واپس لے لیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ملزم عدالت میں خود پیش نہیں ہوتا استثنیٰ نہیں دے سکتے،

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کرنے پر زور دیا۔ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں ریفرنس کی نقول کی فراہمی کو 7 روز مکمل ہو چکے ۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو پہلے سنا جائے ۔ عدالت نے فرد جرم عائد کرنے اور درخواست ضمانت پر سماعت کیلئے 8 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

    واضح رہے کہ احتساب عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت خارج کی تھی جسکے بعد نیب نے عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا تھا،عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، سائفرکیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، القادر ٹرسٹ کیس میں بھی عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر

  • سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ اگرسردار لکھنے میں اعتراض ہوتا ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں، دوسرا نام ہی سردار سے شروع ہوتا ہے، میں اپنی نسل، حَسَب نَسَب کو کیسے مسمار کر سکتا ہوں، آپ سمجھتے ہیں کہ میں نمود ونمائش کیلئے کر رہا ہوں، بھائی میرا نام ہے

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، ہمیں بلے کا نشان ملے یا نا ملے پی ٹی آئی ایک ہی نشان پر الیکشن لڑے گی ،پی ٹی آئی قوم کی خدمت کیلئے کوشاں ہے،یہ لوگ پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتے،الیکشن کمیشن پی ڈی ایم کیلئے سہولت کاری کر رہا ہے، القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف شواہد نہیں ،تیزی سے ہونے والی ڈوپلمنٹ کا تماشا قوم دیکھ رہی ہے،اس سے عوام کے غم وغصہ میں اضافہ ہو رہا ہے، بلے کا انتخابی نشان نظر ثانی میں واپس لے لیا گیا، ہمارے 7سو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،آگ کے سمندر سے گزر کر کاغذات نامزدگی داخل کرائے گئے،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جو ہم نے بیان کیا وہ بھی قوم نے دیکھا،الیکشن کمیشن کا مکروہ چہرہ سامنے رکھا، نئے پراسیکیوٹر امجد پرویز کو کھڑا کر دیا گیا،وہ نواز شریف کے وکیل بھی ہیں،وہ آج وارد ہو گئے، نئے پراسیکیوٹر امجد پرویز نے سات دن،دس دن کا وقت مانگا، میرے اصرار اور شدید مخالفت کے باوجود سماعت 6جنوری تک ملتوی کی گئی،ہم نے کہا رکھتے نہیں تو خارج توکر دیں،عدالت سے استدعا کی کہ کیوں صرف بانی چیئرمین پر قانون کا اطلاق کرکے پابند سلاسل کیا جا رہا ہے،عوامی مقبولیت دیکھ کر پی ڈی ایم اور اپوزیشن جماعتیں خائف ہیں، لندن والے ظل سبحانی کی سزائیں ایک ایک کرکے ختم کیں جیسے عدالتیں انکی چشم براہ تھیں،پی ایم ایل این کا کوئی امیدوار اپنے حلقے میں جانے کے لائق نہیں،20ماہ ملک کا حشرنشر کر دیا گیا،اب قوم ملک کو تین مرتبہ لوٹنے والوں کو موقع نہیں دے گی،اب عوام انکا جھانسہ مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ کاغذات نامزدگی منظور ہو جائیں گے، الیکشن کمیشن اپنے ایکٹ کی شق 185,186,187کے تحت آئی جی کو سزا دے سکتی ہے،انھیں تبدیل کر سکتے ہیں،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے 14 رکنی کمیٹی ممبران کے نام 

  • ٹکٹوں کی تقسیم ،پی ٹی آئی نے کمیٹی بنا دی

    ٹکٹوں کی تقسیم ،پی ٹی آئی نے کمیٹی بنا دی

    عام انتخابات 2024 تحریک انصاف کے ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے 14 رکنی کمیٹی ممبران کے نام سامنے آگئے

    کمیٹی میں اسد قیصر، سینیٹر دوست محمد خان، اشتیاق مہربان شامل ہیں،شہزادہ سکندر الملک، چوہدری محمد عدنان،شفقت ایاز بھی 14 کمیٹی ممبران میں شامل ہیں،ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کمیٹی اپنی سفارشات چیرمین پی ٹی آئی کو پیش کرے گی، 14 رکنی کمیٹی ممبران کی بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، عدالتی احکامات پر کمیٹی ممبران بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کریں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں، آٹھ فروری کو عام انتخابات ہو رہے ہیں، پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلا بھی واپس لیا جا چکا ہے، تحریک انصاف نے آج سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے، چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں لکھا تھا یہ اہم ترین معاملہ ہے،ہماری بھی یہی استدعا ہے اسکروٹنی کا وقت ختم ہو رہا ہے ٹکٹ تقسیم کرنا ہے، کوشش ہے جلد سے جلد یہ کیس لگے، اللہ کرے بلے کا نشان ملے ہمیں امید ہے

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    pti

  • توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد چودھری پر فرد جرم عائد

    توہین الیکشن کمیشن کیس، عمران خان،فواد چودھری پر فرد جرم عائد

    اڈیالہ جیل میں الیکشن کمیشن نے توہینِ الیکشن کمیشن کیس میں عمران خان اور فواد چوہدری پر فردِ جرم عائد کر دی۔

    کیس کی سماعت الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل میں کی۔ الیکشن کمیشن ممبران میں شاہ محمود جتوئی، بابر حسین بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ شامل ہیں،الیکشن کمیشن کی جانب سے فردِ جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی، عمران خان، فواد چودھری عدالت میں موجود تھے،عمران خان اور فواد چوہدری نے صحت و جرم سے انکار کر دیا،کیس کی مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،

    چارج شیٹ کے مطابق عمران خان اور فواد چوہدری نے 2022ء میں الیکشن کمیشن کے خلاف منصوبہ بندی سے تضحیک آمیز مہم کا سلسلہ شروع کیا ملزمان نے ایک نہیں متعدد بار الیکشن کمیشن اور سربراہ کے خلاف متعصبانہ اور تضحیک آمیز زبان استعمال کی، ملزمان نے 12جولائی 2022ء کو بھکر میں عوامی جلسے کے دوران الیکشن کمیشن کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی ملزمان نے 18جولائی اور 27 جولائی کو عوامی جلسوں میں الیکشن کمیشن اور سربراہ پر من گھڑت الزامات عائد کیے،ملزمان نے 4 اگست اور 10 اگست 2022ء کو الیکشن کمیشن کو اسکینڈلائز کیا، عمران خان اور فواد چوہدری نے جلسوں میں آئینی ادارے کو تضحیک کا نشانہ بنایا ،مطلوبہ شواہد، ویڈیوز اور دستاویزات کے مطابق ملزمان کے خلاف ٹرائل شروع کیا جائے ملزمان نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی توہین کی سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے تحت الیکشن کمیشن ملزمان کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے.

    چارج میں ایسی کوئی چیز نہیں جس پر توہین ثابت ہو سکے، عمیر نیازی
    سابق وزیراعظم عمران خان کے ترجمان عمیر نیازی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو لندن معاہدے کے تحت الیکشن سے باہر رکھا جا رہا ہے، آج الیکشن کمیشن کو بتایا کہ عجلت کا معاملہ نہیں ہے، انہوں نے چارج شیٹ پڑھنا شروع کر دی، لیکن چارج میں ایسی کوئی چیز نہیں جس پر توہین ثابت ہو سکے، پی ٹی آئی نے دو صوبوں میں خود حکومتیں گرائیں تاکہ بروقت الیکشن ہو، الیکشن کمیشن انتخابات کرانے میں ناکام رہا.،الیکشن کمیشن کا فوکس الیکشن کروانے پر ہونا چاہے مگر وہ آج عمران خان صاحب پر فردِ جرم لگا کر چلے گئے، ہمیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں دی جا رہی، کاغذات مسترد کئے گئے اور ادھر فرد جرم عائد لگا دی،فرد جرم کو التوا میں‌ ڈالنا چاہئے تھا لیکن نہیں ڈالا گیا،

    ایڈووکیٹ علی بخاری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو بتایا کہ لیڈنگ کونسل شعیب شاہین سپریم کورٹ میں مصروف ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے سماعت ملتوی نہیں کی، دوسری درخواست الیکشن کمیشن کی جیل ٹرائل کے خلاف تھی جس کو ڈس مس کر دیا گیا، ہم چارج شیٹ کو چیلنج کریں گے

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کی گزشتہ تین سماعتوں میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان اور فواد پر فرد جرم عائد نہ کی جا سکی تھی،عمران خان نے اڈیالہ جیل میں توہین الیکشن کمیشن کیس کے ٹرائل کرنے کے اقدام کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی تا ہم عمران خان کو توہین الیکشن کمیشن کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف فوری ریلیف نہ مل سکا،لاہور ہائیکورٹ نے فوری جیل ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کردی تھی،

    توہین الیکشن کمیشن،فواد چودھری کی معافیاں کام نہ آئیں، فردجرم عائد
    ایک سماعت میں فواد چودھری الیکشن کمیشن پیش ہوئے تھے اور توہین الیکشن کمیشن کیس میں معافی مانگ لی تھی ،فواد چودھری نے کہا کہ میں نے فیصلہ پڑھا تھا شاید زبان کے استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی،فواد چودھری نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں ایک اور تحریری معافی نامہ جمع کرادیا ، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس معافی نامے کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیتے ہیں،فواد چودھری نے کہا کہ میں اپنی جماعت کا سفیر تھا، میں ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میری معذرت قبول کریں ، شو کاز نوٹس واپس لے لیں، پارٹی ایک ادارہ ہے، میں انکا ترجمان تھا، ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میں قانونی کیسز میں نہیں پڑنا چاہتا،آپ کے لیے احترام ہے، اس وقت پارٹی کی پوزیشن تھی جو میں بیان کی، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین آپ سے قتل کروائیں تو آپ کریں گے، فواد چودھری نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پارٹی چئیرمین کو ئی غلط بات کرے تو مان لیں گے،آپ کی جماعت نے کمیشن اور میری ذات کے حوالے سے کیا کیا نہیں کہا، آپ نے الیکشن کمیشن کی توہین کی ،آپ کے چیئرمین نے میری اہلیہ کے بارے مین غلط الفاظ استعمال کیے،میری بیوی کے بارے میں اوپن جلسے میں کہا گیا، پھر میڈیا کے سامنے مکر بھی گئے ،فواد چودھری نےکہاکہ سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں کیا کیا کہا جا رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ماحول ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے، فواد چودھری نے کہا کہ میری معذرت قبول کریں اور کیس ڈراپ کریں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ تحریری معافی دے دیں، اگر آپ معافی لینا چاہتے ہیں، فواد نے کہا کہ میں نے زبانی معافی مانگ لی ہے

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 اگست کو عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو نوٹسز جاری کیے تھے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں نے مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور انٹرویوز کے دوران الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر الزمات عائد کیے تھے

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی