Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا ڈرون حملہ:پاکستان کا اماراتی حکام سےپاکستانی کی میت واپسی کیلئےرابطہ

    ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا ڈرون حملہ:پاکستان کا اماراتی حکام سےپاکستانی کی میت واپسی کیلئےرابطہ

    اسلام آباد:ایران کےحمایت یافتہ حوثیوں کا ڈرون حملہ:پاکستان کا اماراتی حکام سےپاکستانی کی میت واپسی کیلئےرابطہ،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اماراتی حکام سے حوثی باغیوں کے حملے میں پاکستانی کی میت کی واپسی سے متعلق رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان سفارتخانہ ابوظبی نے ٹویٹ میں کہا کہ اماراتی حکام سے میت واپسی کیلئے رابطہ ہے، پاکستانی کی میت تدفین کیلئے جلد وطن بھیجی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کے حملے میں ایک پاکستانی اور 2 بھارتی زخمی ہوئے ہیں، سفیر پاکستان افضل محمود نے اسپتال کا دورہ کیا اور پاکستانی زخمیوں کی عیادت کی۔

    یاد رہے گزشتہ روز یمن کے حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں مختلف تنصیبات پر ممکنہ طور پر ڈرون حملے کئے ہیں۔

    عرب ویب سائیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں دو مقامات پر آگ لگنے کے مشتبہ واقعات ہوئے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر ڈرون حملوں کا نتیجہ ہیں۔

    ابو ظہبی پولیس کا کہنا ہے کہ ابو ظہبی کے صنعتی علاقے مصفاح میں آئل کمپنی کے 3 ٹرکوں اور ایئرپورٹ کی ایسی جگہ پر آگ لگی ہیں جہاں تعمیراتی کام ہورہے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے مقامات سے چھوٹے طیارے کے پرزے ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ڈرون یوسکتے ہیں، یہی ڈرونز یہاں ممکنہ طور پر دھماکوں اور آگ کا سبب بنے ہیں۔

    پولیس نے کہا ہے کہ آئل ٹینکرز میں آگ لگنے سے ایک پاکستان اور 2 بھارتی شہری جاں بحق جب کہ 6 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب حوثی باغیوں کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے اندر فوجی آپریشن کیا ہے۔حوثی باغیوں کے ترجمان نے اس حملے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

    یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے عرب اتحاد کا اہم ملک ہے۔

    یو اے ای نے 2019 کے بعد سے یمن میں اپنے فوجیوں کی تعداد بہت کم کردی تھی لیکن یو اے ای کی جانب سے مسلسل یمن کی سرکاری فوج کو مسلح کرنے اور ان کی تربیت کی جارہی ہے۔

    حوثی باغی سعودی عرب اور یو اے ای کی تنصیبات پر بموں سے لیس ڈرونز کے ذریعے حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب پر میزائل حملے بھی کئے جاتے رہے ہیں۔

  • سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا

    تہران : سعودی عرب اور ایران : دل ملنے لگے:سفارت خانے کھلنے لگے:فیصلہ ہوگیا.اطلاعات کے مطابق ایرانی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے رکن جلیل رحیمی جہان آبادی کے مطابق ایران اور سعودی عرب اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں جنہیں 2016 میں سعودی ڈپلومیٹک مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے بند کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور قانون ساز جلیل رحیمی جہان آبادی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو مذکورہ واقعے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

    دو جنوری 2016 کو متشدد افراد کی قیادت میں مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

    جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے میں اہم اثر ڈالیں گے۔

    انہوں نے ایران کے سیکورٹی اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ’شیطان اسرائیلیوں اور احمق بنیاد پرستوں‘ کی سرگرمیوں سے محتاط رہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے اس امر پر اصرار دیکھا گیا کہ ایران سعودی مذاکرات کا نیا دور ہونا چاہیے لیکن سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت ہے۔

    سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے مقصد سے کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال مذاکرات کیے تھے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔

  • ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز

    ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز

    تہران: ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ایرانی میڈیا کی رپورٹ کےمطابق دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبدالحیان نے کہا کہ ایران اور چین کا 25 سالہ تعاون معاہدے پر عمل شروع ہوچکا ہے۔

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی…

    الجزیرہ کے مطابق دورہ چین کے دوران اپنے ہم منصب وینگ یی سے ملاقات کے وقت ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بات کہی انہوں نے کہا کہ دورہ چین کی تیاری میں یہ بات شامل تھی کہ ہم آج کے دن معاہدے پر عملدرآمدگی کی بنیاد رکھ دیں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    معاہدے پر دستخط مارچ 2021 کو تہران میں کیے گئے تھے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان معاشی، عسکری، اور سیکورٹی تعاون کو فروغ دیا گیا ہے۔ تاہم یہ بات ذہن نشیں رہے کہ دونوں ممالک امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں جبکہ دوسری جانب دونوں عہدیداران نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی تفصیلات واضح نہیں کی ہیں۔

    جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ،تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش

    دورہ چین کے دوران امیر عبدالحیان نے ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کی جانب سے چینی صدر ژی چن پنگ کے نام بھیجے گئے خط کو بھی سُپرد کردیا ہے جس کے بارے میں عبدالحیان نے بتایا کہ ژی چن پنگ کیلئے اس میں ایک ضروری پیغام ہے امیر عبدالحیان نے مندرجات کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا لیکن ابراہیم رئیسی کی انتظامیہ کی جانب سے متعدد بیانات کے مطابق اس میں ایشیائی خطے سے متعلق ایرانی خارجی امور میں چین کو ایک خاص اہمیت دی گئی ہے۔

    چین :عالمی تجارتی سرپلس 2021 میں 676.4 بلین ڈالر تک بڑھ گیا

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اس وقت ایران میں امارت اسلامیہ کے وفد نے مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان سے ملاقات کی ہے۔

    "ہاں، ہم نے احمد مسعود، کمانڈر اسماعیل خان اور دیگر افغانوں سے ملاقات کی۔ ہم نے ان سب کو یقین دلایا کہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور بے فکر زندگی گزار سکتے ہیں،” متقی نے امارت اسلامیہ کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔

    ایرانی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے اس ملاقات کی میزبانی کی، انہوں نے مزید کہا کہ افغان فریقین کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔

    دریں اثنا، طالبان نے پیر کو تصدیق کی کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان مخالف اتحاد کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

    یہ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی، جس میں طالبان کی جانب سے اپنے سابق مخالفین کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔ قومی مزاحمتی فرنٹ کے نام سے جانے والے اس اتحاد کی قیادت طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں، جنہیں 2001 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اگست کے وسط میں طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد یہ گروپ متحد ہو گیا جب افغان حکومت فرار ہو گئی اور افغان فورسز نے طالبان پر قبضے کے لیے بہت کم یا کوئی مزاحمت پیش نہیں کی۔ احمد مسعود کے ساتھ مغربی صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

    تہران میں اتوار کی ملاقات طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول کی پہلی علامتوں میں سے ایک ہے۔

    سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں ہی رہے۔

  • کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    تہران: ایران نے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے لیکن تاحال طالبان کو ’باضابطہ طور پر تسلیم‘ نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب خبررساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات “مثبت” رہے لیکن ایران اب بھی طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

    افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال ایران کے لیے ایک بڑی تشویش ہے اور افغان وفد کا دورہ انہی خدشات کے حوالے سے تھا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کی قیادت میں اپنے ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات کی۔

    واضح رہے کہ اگست میں امریکا کے انتشار انگیز انخلا کے بعد طالبان کے وفد کا ایران کے لیے یہ پہلا دورہ تھا ایران کا سرکاری مؤقف ہے کہ وہ طالبان کو صرف اس صورت میں تسلیم کریں گے جب وہ ایک “جامع” حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ایران کے خصوصی ایلچی حسن کاظمی قومی نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے کئی دورے کیے ہیں تب سے ایران اور طالبان رابطے میں ہیں۔

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    خیال رہے کہ وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے وفد کے ہمراہ پڑوسی ملک ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان مہاجرین اور معاشی بحران سمیت اہم باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا وفد کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اس حوالے سے عبدالقہار بلخی نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ یہ دورہ ایران کی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد افغانستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، راہداری اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت کرنا ہے ایران اور افغانستان کے درمیان ابتدائی ملاقات وزارت خارجہ کی سطح پر ہوچکی ہے تاہم اب وزیر خارجہ بہ نفس نفیس ایران جا رہے ہیں۔

    افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا پڑوسی ملک ایران پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے اور اب مزید مہاجرین کی آمد کا اندیشہ لیے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات کا خاکہ تیار کرنے کی کوششں کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور دو دہائیوں کے بعد دوبارہ قائم ہونے والی طالبان کی نئی حکومت کو بھی تاحال تسلیم نہیں کیا تاہم اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

  • ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    تہران :ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی ،اطلاعات کے مطابق ایران نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی سمیت 50 سے زائد امریکی افراد پر پابندیاں عائد کر ‏دیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پابندی کے فیصلے کے تحت ایران میں موجود جنرل مارک ملی سمیت 50 ‏سے زائد امریکیوں کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے۔

    مذکورہ افراد پر پابندی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عائد کی گئی ‏ہے۔ اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پابندی والے افراد میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے والے بھی ‏شامل ہیں۔

    وزارت خارجہ نے بیان میں بتایا ہے جن افراد پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق امریکی فوج ‏سے ہے۔ پابندی کے تحت ایران میں موجود ان کے اثاثے اور املاک ضبط کی جائیں گی۔

    واضح رہے کہ امریکی جانب سے ایران پر کئی بار معاشی، اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ‏ایرانی کمپنیوں، تجارتی و کاروباری افراد سمیت اعلیٰ حکومت ارکان بھی پابندی والے افراد میں شامل ہیں۔

    ایران نے بھی ردعمل میں امریکی اہلکاروں، تاجروں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کو پابندی والی فہرست میں شامل ‏کر رکھا ہے۔

    جنوری 2020 میں عراقی دارالحکومت بغداد کے ایئر پورٹ پر امریکی فضائی حملے میں ایرانی ‏جنرل سمیت 9 افراد ‏ہلاک ہوئے تھے۔ فضائی حملے میں ہلاک جنرل قاسم سلیمانی القدس فورس کے ‏سربراہ تھے۔

    ادھرویانا میں ایران کے خلاف غیر قانونی و ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے مقصد سے جاری مذاکرات میں اختلافی نکات میں کمی آ رہی ہے۔ ویانا مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سینیئر مذاکرات کار علی باقری نے یہ بات کہی۔

    علی باقری نے گروہ 4+1 کے نمائندوں کے ساتھ متعدد اجلاس کے بعد سنیچر کی رات کو بتایا کہ اختلافی مسائل کم ہو رہے ہیں۔

    ان مذاکرات میں شامل قریب سبھی ممالک نے مذاکرات کے عمل کو مثبت اور رو بپیشرفت قرار دیا۔

    ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب میخائیل اولیانوف نے حال ہی میں کہا کہ نہ صرف روس بلکہ باقی فریقوں کا یہ خیال ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہ

  • افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    کابل: امارات اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے وفد کے ہمراہ پڑوسی ملک ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان مہاجرین اور معاشی بحران سمیت اہم باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا وفد کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔


    طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ٹویٹر پر لکھا کہ یہ دورہ ایران کی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد افغانستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، راہداری اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران اور افغانستان کے درمیان ابتدائی ملاقات وزارت خارجہ کی سطح پر ہوچکی ہے تاہم اب وزیر خارجہ بہ نفس نفیس ایران جا رہے ہیں۔


    افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا پڑوسی ملک ایران پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے اور اب مزید مہاجرین کی آمد کا اندیشہ لیے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات کا خاکہ تیار کرنے کی کوششں کر رہا ہے۔

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    واضح رہے کہ ایران نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور دو دہائیوں کے بعد دوبارہ قائم ہونے والی طالبان کی نئی حکومت کو بھی تاحال تسلیم نہیں کیا تاہم اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    قبل ازیں فغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر نے کہا تھا کہ مریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کیے ہوئے ہیں، جبکہ امدادی رسد بھی تعطل کا شکار ہے اس وقت کئی جگہوں پر لوگوں کے پاس خوراک، رہنے کی جگہ، گرم کپڑے اور پیسے نہیں ہیں دنیا کو بغیر کسی سیاسی تعصب کے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے اور انسانی ہمدردی کا فرض پورا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہ موسم کی صورت حال خراب ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہےطالبان ملک بھر میں بین الاقوامی امداد کو تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

  • "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں  اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    "حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے؟

    اسرائیلی فوج شمالی علاقے میں حزب اللہ اور شام کی سمت سے ایران کے خلاف متوقع جنگ کے مختلف منظر ناموں سے نمٹنے کے لیے تربیتی مشقیں انجام دے رہی ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ اردو” کے مطابق اسرائیل میں ملٹری سیکورٹی ادارے نے شمالی علاقے میں طاقت کے توازن کے معاملے کو سال 2022 کے اہداف میں سرفہرست رکھا ہے اس مقصد کے لیے "حزب اللہ” اور "ایران” کے عناصر کو سرحدی علاقے سے بالخصوص شام میں دور کیا جائے گا اسرائیلی فوج نےالجلیل میں سرحد کے نزدیک حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

    ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کی کرپشن پر12سال قید کی سزا کیخلاف اپیل مسترد

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عسکری قیادت فوج کو حزب اللہ کی جانب سے بھیجےگئےجاسوس ڈرون طیارے سرحد سے دور علاقوں تک پہنچنے کی صورت میں فوری طور پر جوابی کارروائی عمل میں لانے کی تربیت دے رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فضاؤں میں داخل ہونے والے ایک ڈرون طیارے کو مار گرایا گیا-

    لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ طیارے نے بعض مقامات کی تصاویرلےلی تھیں اسرائیلی فوج کی رپورٹ کےمطابق حزب اللہ اور ایران کے عناصر نے ڈرون طیاروں کوانٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ فضا سے دھماکا خیز مواد اور دستی بموں کو گرانے کے لئے استعمال کیا۔

    اسرائیلی فوج کے نزدیک گذشتہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ نے ڈرون طیاروں کے استعمال میں ایک بڑی پیشرفت کویقینی بنایا ہےاس عرصے میں اسرائیل کے ساتھ لبنانی سرحد پر ڈرون طیاروں کی اڑان کی شناخت کی گئی اسرائیلی فوج نے ڈرون سے متعلق حزب اللہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ڈیڑھ برس قبل فضائی نگرانی کا ایک نظام قائم کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق وہ دو برس میں شام کی سمت سینکڑوں زمینی خفیہ عسکری کارروائیاں کرنے اور جدید میزائلوں کے داغنے میں کامیاب رہی ان کا مقصد مذکورہ علاقے سے ایران اور حزب اللہ کے عناصر کو دور کرنا ہے سال 2022ء کے دوران میں متوقع منظر ناموں کے لیے اسرائیلی سیکورٹی جائزے میں تسلیم کیا گیا ہے کہ اسرائیل شام پر بمباری سے اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا۔

    جائزے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد ایک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ان کے پاس شام کی تعمیر نو اور یا پھر ایرانیوں کو مطلقاً سپورٹ جاری رکھنے کے راستے ہیں تا کہ تہران خطے میں اپنے منصوبے کو تکمیل کر سکے-

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول…

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔