Baaghi TV

Tag: ایران

  • یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد  تین مقامات پر حملےکی،کارووائی   آخری لمحے منسوخ کر دی،ایران

    یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد تین مقامات پر حملےکی،کارووائی آخری لمحے منسوخ کر دی،ایران

    تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں تین مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی ۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مجوزہ حملوں کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، لیکن بعد میں آپریشن روکنے کا فیصلہ کیا گیا،یوکرین کی جانب سے معذرت کے بعد ایران نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت یا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

    محسن رضائی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران اپنی مقررہ بحری گزرگاہ کے علاوہ کسی متبادل راستے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مخالف بحری جہاز ایران کی نظر میں غیر قانونی راستہ اختیار کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے حالیہ 17 روزہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے 25 جولائی کو یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کا ایک عملہ رکن ہلاک ہو گیا تھا،دوسری جانب یوکرین نے ان الزامات کے بارے میں باضابطہ طور پر کوئی مؤقف جاری نہیں کیا، جبکہ محسن رضائی کے تازہ دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اسماعیل بقائی

    ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارت خارجہ،کاکہناہےکہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ عمان کے ساتھ صرف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ رابطے صرف عمان کے ساتھ ہیں، عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے اور اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے-

    انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں کوئی صداقت نہیں اور تہران کی موجودہ توجہ صرف عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے، اسی لیے اس سے متعلق معاملات پر علاقائی سطح پر مشاورت جاری رہنا ضروری ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں،سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے تازہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران اس وقت امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بجائے آبنائے ہرمز سے متعلق علاقائی تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔

  • ایران سے دو شرائط پر مذاکرات آج سے  ہوں گے،ٹرمپ

    ایران سے دو شرائط پر مذاکرات آج سے ہوں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز آج دوپہر سے ہو رہا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ایک خاص مذاکراتی فریم ورک کے تحت جاری ہےسعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خود ایران کی درخواست پر حملے کو روکا گیا ہے کیونکہ اسرائیل نے بھی اس وقت حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، ہماری ترجیح ایک جامع معاہدہ کرنا ہے کیونکہ جنگ میں بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں اور ہم ایسا نہیں چاہتے،حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی جس میں دو بنیادی شرائط شامل ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کو فوری، مکمل اور مستقل طور پر کھولا جائے اور دوسری شرط کے طور پر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگرچہ وہ سفارت کاری کو موقع دے رہے ہیں لیکن امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائی کا اختیار موجود ہے اور اس وقت امریکا کی خطے میں عسکری تیاری ایسی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔

    دوسری طرف بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیصلے میں خطے کے ممالک کا اہم کردار رہا، جہاں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان، قطر، یو اے ای اور ترکیہ نے بھی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھایا۔

    سفارتی محاذ پر پیش رفت کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، عمانی حکام، اور سعودی و ترک وزرائے خارجہ سے رابطے کیے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، یورپ میں امریکا کے ٹاپ جنرل الیکسز گرینکیوچ نے پینٹاگون کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ ایرانی میزائلوں سے اسرائیل کو مکمل محفوظ رکھنا ناممکن ہے اور خطے میں امریکی بحری فورس کی تعداد اتنی نہیں کہ وہ اسرائیل کا مکمل دفاع کر سکے۔

  • ایران کا سعودی عرب پر میزائل حملوں سے اظہار لاتعلقی

    ایران کا سعودی عرب پر میزائل حملوں سے اظہار لاتعلقی

    ایران نے سعودی عرب پر میزائلوں حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیاہے-

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق ایران کے ایک فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران سعودی عرب میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے دیگر ممالک سے داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کرتا ہےخطے میں امریکی مفادات کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو ایران سے منسوب کرنا بڑی غلط فہمی ہے، ان کارروائیوں کو ایران سے منسوب کرنا خطے کی صورتِ حال سے آگاہی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

    یہ بیان سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی جانب سے مشرقی صوبے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے نئے ڈرون حملوں کی اطلاع دینے کے بعد سامنے آیا ہے، جن کا الزام سعودی حکام نے عراق میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں پر عائد کیا ہے۔

    سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اس واقعے کو عراق سے کیا جانے والا ایک اور “دہشت گرد حملہ” قرار دیتے ہوئے اس کا الزام “ایران سے منسلک گروہوں” پر عائد کیا،کہاکہ سعودی عرب مناسب وقت اور مناسب مقام پر اس حملے کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے عراق میں ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کی ہے ،غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹکام کا کہنا ہے کہ،اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے،عراق کے نیم فوجی گروپ حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیاجس میں 10 اہلکار ہلاک ہوئے۔

  • ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز پر حملہ

    ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز پر حملہ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈے اور سینٹکام کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمزمیں وارننگ نظر انداز کرنے والے 3 آئل ٹینکرز کو بھی روک دیا گیاامریکی فوج کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جنھیں روک لیا گیا ہے، امریکی فورسز چوکس اور ہائی الرٹ ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے اردن میں واقع امریکی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل داغے تھے اردن کی فضاؤں میں دھماکے سنے گئے ،جہاں میزائل دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے فائر کئے گئے میزائلوں کو روکا ہے۔

    دوسری جانب کویت کی وزراء کونسل نے ایران کی جانب سے ملک کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کویتی کابینہ نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ ایران کے حملے خطے میں کشیدگی میں سنگین اضافہ ہیں اور یہ نہ صرف کویت بلکہ پورے خلیجی خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، ملکی دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گےکویتی حکومت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ خطے میں مزید کشیدگی روکنے، بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنانے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے۔

    واضح رہے امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے تین روز قبل ایران پر ایک روز کے لیے حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم مطالبات پورے نہ ہونے پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے،ٹرمپ

    ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کا کہنا ہے کہ ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے-

    ریاست مشی گن میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی زیادہ تر صلاحیت بھی تباہ کر دی ہے۔ لیکن ایران اب اپنی سابقہ صلاحیت کے صرف تقریباً 7 فیصد کی رفتار سے ڈرون تیار کر رہا ہے اب ایران ہمارے ساتھ معاہدے کی بات کر رہا ہے، اگر ہم سخت کارروائی نہ کرتے تو مذاکرات کی نوبت ہی نہ آتی۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کو گزشتہ 47 سے 50 سال سے مشرقِ وسطیٰ کا “غنڈہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کا خیال تھا کہ ایران کو رعایتیں دے کر منایا جا سکتا ہے، مگر ‘ایران کو خریدا نہیں جا سکتا، اسے شکست دینا پڑتی ہے، اور ہم اسے بری طرح شکست دے رہے ہیں،دیکھتے ہیں انجام کیا ہوتا ہے، اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی خوشگوار مذاکرات جاری ہیں، ہماری بحریہ کی ناکہ بندی اتنی مؤثر ہے کہ ایک بھی کشتی گزر نہیں سکتی، ایران امریکا سے کہہ رہا ہے، “براہِ کرم، بحری ناکہ بندی ختم کر دیں۔

    اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھاکہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کیخلاف طاقتور فوجی آپریشن کے لیے تیار ہیں، سفارت کاری کو زیادہ وقت نہیں دوں گا، سفارت کاری تیزی سے ہونی چاہیے ورنہ پھر بالکل نہیں ہو گی،ابھی ہم ایران سے بات چیت کر رہے ہیں، ہماری ایران سے اچھی بات چیت ہو رہی ہے، بہت امکان ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔

  • امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا،مجتبیٰ خامنہ ای

    امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا،مجتبیٰ خامنہ ای

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا-

    سپریم لیڈر نے حزب اللہ کے خط کے جواب میں لکھا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف مضبوط چٹان کی طرح ہے، ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، امریکی اور صہیونی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ حزب اللہ کی ثابت قدمی دنیا بھر کی آزاد اقوام کیلئے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے، عالمی تکبر و غلبہ کے خلاف جدوجہد کرنے والی اقوام کیلئے حزب اللہ مثال بن چکی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ایران کے دشمن سیاسی اور معاشی دباؤ کے ذریعے قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشکل حالات کے باوجود ایرانی قوم کی مزاحمتی طاقت میں اضافہ ہوا ہےدباؤ اور پابندیوں کے باوجود سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ایران نے نمایاں ترقی کی ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا فعال تبادلہ جاری ہے ، واشنگٹن ماضی میں مذاکرات میں دھوکا دے چکا ہےپاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایران کی ترجیح اب بھی حملوں کے جواب میں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔

  • تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے  یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    تجارتی جہاز پر حملہ:ایران نے یوکرینی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا

    ایرانی وزارت خارجہ نے ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے تجارتی جہاز پر یوکرینی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ایرانی تجارتی جہاز میں دھماکا ہوا، جس میں ایک اہلکار جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیاایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں مبینہ طور پر ہتھیار ایران لے جانے والے روسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب،ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ہفتے کے اختتام پر مزید وسعت اختیار کر گیا، تاہم امریکا نے مسلسل 13 روز تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد پہلی بار ایران پر کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور مکمل طور پر نافذ ہے، تاہم فضائی حملے روکنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ اگر وہ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ نہ ہوا تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ 25 جولائی تک امریکی افواج نے ناکہ بندی توڑ کر ایران جانے کی کوشش کرنے والے 12 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، 2 جہازوں کو احکامات نہ ماننے پر ناکارہ بنا دیا، جبکہ 2 دیگر جہازوں پر سوار ہو کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ نے عرب بحیرہ میں کوموروس کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی چارمینار کی تلاشی مکمل کرنے کے بعد اسے اپنا سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی، جبکہ 24 جولائی کو خلیج عمان میں موزمبیق کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم/ٹی لاوین کو متعدد بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اور امریکی انتباہات نظر انداز کرنے پر ناکارہ بنا دیا گیا، جس کے بعد وہ ایران کی جانب سفر جاری نہ رکھ سکا۔

    ادھر نیویارک ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملوں میں مزید شدت لانے کا منصوبہ مؤخر کر دیا ہے رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو خدشہ ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی متاثر ہو سکتے ہیں، دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کے ساتھ عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

  • بحرین اور کویت نے  ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، امریکی اخبار

    بحرین اور کویت نے ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، امریکی اخبار

    بحرین اور کویت نے رواں ماہ پہلی بار ایران کے اندر براہِ راست فضائی کارروائیاں کیں، جن میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں خلیجی ممالک نے خاموشی سے اپنے جنگی طیارے ایران میں حملوں کے لیے بھیجے، بحرین اور کویت کے لڑاکا طیاروں نے ایران میں ڈرونز اور میزائل ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کے علاوہ دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، یہ دونوں ممالک کی جانب سے تہران کے خلاف پہلی معلوم براہِ راست فوجی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی ان کارروائیوں میں کردار ادا کیا اور ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات فراہم کیں امارات نے فضائی دفاعی معاونت بھی فراہم کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے عرب ممالک ایران کے خلاف دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اگرچہ بحرین اور کویت کی فضائی طاقت محدود ہے اور ان کے پاس زیادہ تر امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیارے موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایران کے مسلسل حملوں کا جواب دیے بغیر رہنے پر تیار نہیں تھےخطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 جولائی کو اعلان کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی۔

    اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ واشنگٹن نے ایران کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اس نے خطے کے کئی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے۔

  • ٹرمپ کی اثاثے ضبط کرنے کی دھمکی پر ایرانیِ وزیر خارجہ کا سخت انتباہ

    ٹرمپ کی اثاثے ضبط کرنے کی دھمکی پر ایرانیِ وزیر خارجہ کا سخت انتباہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، سامان یا دیگر املاک کو کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں اس کا معاوضہ امریکا کے قبضے میں موجود ایرانی رقوم سے ادا کیا جائے گا۔

    عباس عراقچی نے جمعے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کرکے مستقبل میں سامنے آنے والے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کرنا ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرے گا جو لوگ ایسے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اس پر خوش ہوتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسرے ممالک کے اثاثے ضبط کرنے کو معمول بنا لیں گی تو پھر کسی کے بھی اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے، اس کے بعد پیدا ہونے والا انتشار نہ خوشگوار ہوگا اور نہ ہی پُرامن۔

    عباس عراقچی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی ادائیگی امریکا کے قبضے اور کنٹرول میں موجود ایرانی رقوم سے کی جائے گی۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کن مخصوص ایرانی اثاثوں کی بات کر رہے ہیں۔ البتہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے اب بھی امریکا کے کنٹرول میں منجمد ہیں۔

    اس سے قبل ایکس پر جاری ایک اور بیان میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بے سوچے سمجھے جارحانہ اقدامات کا راستہ اختیار کرنے کی صورت میں صدر ٹرمپ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی حقیقی صورتحال کے بجائے صرف 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے،امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ افراد نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جن کے نتائج خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کسی ممکنہ معاہدے یا امریکی اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکی پالیسیوں اور بیانات کو خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔