Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

    عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا ارنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار محمد علی بیک کا کہنا ہے کہ اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا اجلاس کے انعقاد کے مناسب وقت کے حوالے سے ضروری انتظامات اور رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ایران، عمان کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہا ہے۔

    دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اجلاس ملتوی ہونے کی تصدیق کر دی ہے،ایکس پر بیان میں کہا کہ ہم ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کو فروغ دے،انہوں نے اپنے پیغام کے ساتھ بحرین، ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچموں کی تصویر بھی شیئر کی۔

    واضح رہے کہ یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی فریم ور ک کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل برآمدات کی اہم شاہراہ ہے، اجلاس میں عراق اور دیگر خلیجی ریاستوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ خلیجی ممالک ایران سے ملاقات کریں تو انہیں اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا اپنا فیصلہ ہے ایران جنگ رواں سال ختم ہو جائے گی، ممکن ہے ایران جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔

    قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کو پیر کے روز عمان میں اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان معاملات میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔

  • ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے،ایرانی صدر

    ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنی چاہیے،کل پیر کو مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھاایران اپنے بین الاقوامی حقوق چاہتا ہے، جنگ نہیں چاہتے ، اب بھی امن کو ترجیح دیتے ہیں، امریکا، اسرائیل اور یورپی مما لک چاہتے ہیں علاقے میں کوئی ملک آزاد نہ رہے۔

    ایرانی صدر کا سعودی عرب اور حوثیوں کے حوالے سے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی جنگجووں نے سعودی عرب پر حملے شروع کر دیئے ہیں،سعودی پریس ایجنسی نے سعودی سول ڈیفنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک پروجیکٹائل سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک مسجد اور متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

    دو دن پہلے سعودی عرب کے شہروں ریاض اور مدینہ میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کئے گئے تھے جس کے بعد سعودی عرب نے پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا،علاوہ ازیں چند روز قبل بھی حوثی گروپ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ امریکا، سعودی عرب اور دیگر مغربی و عرب اتحادی ممالک طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں (تحریک انصار اللہ) کو عسکری سازوسامان، ٹیکنالوجی اور مالی امداد فراہم کرتا ہے۔

  • قشم جزیرے کے قریب ایرانی بحری جہاز پر حملہ، ایک شخص ہلاک، 3 زخمی

    قشم جزیرے کے قریب ایرانی بحری جہاز پر حملہ، ایک شخص ہلاک، 3 زخمی

    ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایرانی تجارتی بحری جہاز پر حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا آئی آر آئی بی کے مطابق قشم کے گورنر امیر تیموری نے بتایا کہ بحری جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 5 بجے جزیرہ ہنگام اور جزیرہ قشم کے ساحل شِب دراز کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا،جہاز پر امریکی دہشتگرد دشمن کی جانب سے حملہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز کو نامعلوم ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز پر حملے کی نئی اطلاع نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی قیمت بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔

    واضح رہے، آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے مابین شدید کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اگست میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 3 پاکستانی ملاح جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا تھا، چار روز قبل تقریباً 20 لاکھ بیرل آئل لے جانے والے ایک ٹینکر کو عراقی علاقائی پانیوں میں ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

  • ایران کی عالمی جوہری معاہدے سے علیحدہ  ہونے کی دھمکی

    ایران کی عالمی جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کی دھمکی

    اقوامِ متحدہ کے ایٹمی انرجی کمیشن کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد تہران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی اور ایٹمی کشیدگی انتہائی تشویشناک شکل اختیار کر گئی ہے-

    ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق 25 سال میں پہلی بار پاس ہونے والی اس قرارداد کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی سے الگ ہونا اور ملک کے ایٹمی نظریے پر نظرِ ثانی کرنا ممکنہ آپشنز ہیں،این پی ٹی کو چھوڑنے اور ایٹمی پالیسی بدلنے سے امریکا اور اس کے حواریوں کو ان کی صحیح جگہ دکھائی جا سکتی ہے۔

    ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمدرضا محسنی ثانی نے بھی واضح کیا کہ تہران اب این پی ٹی کو اپنے لیے پابندی نہیں سمجھتا، چاہے وہ اس میں رہے یا اس سے نکل جائے،تاہم ایرانی دفترِ خارجہ کی جانب سے این پی ٹی سے باقاعدہ الگ ہونے کا کوئی رسمی اعلان واشنگٹن یا ماسکو کو نہیں بھیجا گیا ہے۔

    دوسری طرف ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ عالمی ایٹمی ایجنسی کے سیاسی اقدامات ممالک کو این پی ٹی سے نکلنے پر مجبور کریں گے۔

    اس کے برعکس اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ موجودہ صورتِ حال امریکا اور اسرائیل کی مجرمانہ جارحیت کا نتیجہ ہے اور امریکا کا ایران کو جھکانے کا خام خیال کبھی پورا نہیں ہوگا۔

    عالمی ایٹمی ایجنسی کے 32 رکنی بورڈ میں 23 ممالک نے اس یورپی و امریکی قرار داد کی حمایت کی جبکہ روس، چین اور نائیجر نے اس کی مخالفت کی،یورپی یونین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ انتہائی اہم اور فوری ہے کہ ایران اپنے ایٹمی مواد کی مقدار اور جگہ کے بارے میں تصدیق شدہ معلومات فراہم کرے اور ایجنسی کو تمام جوہری تنصیبات کے معائنہ کی اجازت دے۔

    اگرچہ بین الاقوامی برادری نے ایران کی عدم تعمیل پر تشویش ظاہر کی ہے، تاہم سلامتی کونسل میں روس اور چین کے پاس ویٹو پاور ہونے کی وجہ سے ایران کے خلاف فوری عملی کارروائی کے امکانات انتہائی محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

  • ایران کو امریکی فوجی اڈے پر حملے کیلیے سیٹلائٹ تصاویر چین نے فراہم کیں، وال اسٹریٹ جرنل

    ایران کو امریکی فوجی اڈے پر حملے کیلیے سیٹلائٹ تصاویر چین نے فراہم کیں، وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار نےایران کو اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کی حملے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر چینی اداروں کی جانب سے فراہم کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چینی اداروں نے ایران کو اردن میں واقع موافق السَلطی ایئر بیس کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں جہاں امریکی فوجی موجود تھے،اسی اڈے پر 17 جولائی کو ایران نے میزائل حملہ کیا تھا جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے، واقعے کو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ایران کے اہم ترین حملوں میں شمار کیا گیا، امریکی حکام نے چینی اداروں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ الزام عائد کیا کہ چینی حکومت براہ راست اس حملے میں ملوث تھی۔

    تاہم اس معاملے نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں امریکی حکام کے مطابق حملے سے قبل اور اس کے بعد اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر ایران تک پہنچائی گئی تھیں ان تصاویر سے مبینہ طور پر ایران کو اڈے کی صورتحال اور حملے کے اثرا ت کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہو سکتی تھیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے اس معاملے کو اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا ہے جب امریکی حکام نے چینی حکام سے سیٹلائٹ تصاویر ایران کو منتقل کیے جانے کے بارے میں سوال کیا تو چینی حکام نے اس منتقلی کے ثبوت طلب کیےچینی حکام نے مبینہ طور پر اس بات کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا کہ چینی کمپنیوں نے ایران کو یہ سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں۔

    رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سی چینی کمپنیاں یا ادارے مبینہ طور پر تصاویر کی فراہمی میں ملوث تھے یہ معاملہ آئندہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے ٹرمپ 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں شی جن پنگ کی میزبانی کرنے والے ہیں ایسے میں ایران کو مبینہ طور پر چینی سیٹلائٹ معلومات کی فراہمی کا معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان حساس سکیورٹی امور میں شامل ہو سکتا ہے۔

    امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ چین کو براہ راست ایرانی حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا امریکی حکام نے صرف یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا ہے کہ آیا چینی تجارتی یا دیگر اداروں نے ایران کو سیٹلائٹ تصاویر فراہم کی تھیں گر یہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے ایران کی فوجی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں نئی بحث شروع ہو سکتی ہےساتھ ہی واشنگٹن میں چینی تجارتی سیٹلائٹ کمپنیوں کی سرگرمیوں اور حساس فوجی مقامات کی تصاویر کی ممکنہ منتقلی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے ہی کئی محاذوں پر کشیدہ ہیں تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، جدید ٹیکنالوجی، تجارتی پابندیوں اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے تعلقات کو پیچیدہ بنا رکھا ہے اگر امریکی حکام یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ چینی اداروں نے ایران کو امریکی فوجی اڈے کی حساس نوعیت کی تصاویر فراہم کی تھیں تو یہ معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سکیورٹی تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی فوج کی بغیر کپتان ’سیل ڈرون‘ کشتی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مطابق امریکی فوج کی بغیر کپتان چلنے والی کشتی کو آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا، ایرانی حکا م کا کہنا ہے کہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی کشتی کا مبینہ جارحانہ مشن ناکام بنا دیا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تباہ کی گئی کشتی کا شناختی نمبر 5838 ہے اور اس کا نام سیل ڈرون (Saildrone) ہے ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں انسان کی مدد کے بغیر چلنے والی کشتی کا ایک حصہ تباہ دکھائی دے رہا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند اور مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے آبی گزرگاہ میں دشمن کی کسی بھی قسم کی موجودگی کو نشانہ بنایا جائے گا دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق اسے عمان کے ساحل کے قریب دو بحری جہازوں کو پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

    ادھر یمن کے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم شہر موخا پر قبضہ کرلیا ہے، جس کے بعد باب المندب آبنائے پر ان کا کنٹرول مزید وسیع ہوگیا ہے باب المندب دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

  • امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    امریکا نے اردن سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی فوج نے اردن میں موافق سلطی ایئربیس سے ہیلی کاپٹر منتقل کرنا شروع کردیے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق منتقل کیے جانیوالے ہیلی کاپٹروں میں وہ ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو امریکا کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوا بی کارروائی میں تباہ ہوئے تھے، گزشتہ روز ایران نے اردن میں امریکی ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    واضح رہےکہ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اردن کے علاقے الازرق میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں متعدد امریکی جنگی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے-

    امریکی نشریاتی ادارےسی بی ایس نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سےبتایا کہ بدھ کی صبح اردن کے موافق السلطی ایئربیس پر ایرانی حملے میں تقریباً 8 ایف 15 جنگی طیاروں کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم انہیں دوبارہ آپریشنل کردیا گیا حملے میں ایک اے 10 تھنڈر بولٹ جنگی طیارہ بھی زد میں آیا، جسے ’وارٹ ہاگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،میزائل حملے کے نتیجے میں طیارے کا ایک پر تباہ ہوگیا۔

    یہ حملہ ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے جوابی حملوں کی لہر کا حصہ تھا امریکا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایران کی جانب سے امر یکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں اس نے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں 8 تیل بردار جہازوں، 2 جنگی بحری جہازوں اور اردن میں قائم امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا،اردن میں موجود امریکی فورسز نے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے 30 سے زائد پیٹریاٹ میزائل فائر کیے،اردن میں واقع موافق السلطی ایئربیس امریکی فوج کے لیے خطے میں اہم فضائی مرکز ہے، جہاں امریکی فوجی طیارے اور اہلکار تعینات ہیں۔

  • بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی

    ایران، روس اور چین کی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔

    امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے ایران کیخلاف پیش قرارداد کے حق میں 23 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 8 اراکین غیر حاضر رہے،قرارداد میں آئی اے ای اے کے سربراہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف نئی اور پرانی قراردادیں اور اپنی تازہ رپورٹ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھیجے۔

    تاہم ایران، روس اور چین نے تہران پر پابندیوں کی بحالی سے متعلق اس مسودے کو کالعدم اور باطل قرار دیا مشترکہ بیان میں ایران، روس اور چین نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے پیش قرارداد کے مسودے میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کمزور کرنا ہے۔

    ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کےمطالبے سےمتعلق مغربی قرارداد کا یہ مسودہ قانونی بنیاد نہیں رکھتا تینوں ممالک نے آئی اے ای اے کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قرارداد کی حمایت نہ کریں۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ سیاسی بنیادوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگاایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکا نے حملہ ہی اس لیے کیا تھا تاکہ توثیق کا عمل متاثر ہو اور اسے بنیاد بنا کر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرزکے سامنے ایران کیخلاف قرارداد پیش کی جائے، ایران نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جسے عدم تعمیل سمجھا جائے۔

  • ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں –

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے ساحلی خطے سیرک، میناب کاؤنٹی اور جزیرہ قشم کے متعدد علاقوں میں یکے بعد دیگرے کئی پروجیکٹائلز آ کر گرے ہیں جس سے تباہی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں تاہم، مقامی حکام اور میڈیا کی جانب سے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ ان دھماکوں کی آوازیں کھلے سمندر سے آئی تھیں یا یہ دھماکے جزیرہ قشم کی حدود کے اندر ہی ہوئے ہیں۔

    یہ تازہ ترین حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ایران کے پانچ تیل بردار جہازوں کو تباہ کر دیا تھا امریکا کی اس فوجی کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ اور شدید جوابی ردِ عمل کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اسی خطرے کے پیشِ نظر امریکی فوج نے اردن میں واقع موافق سلطی ایئربیس سے اپنے ہیلی کاپٹروں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں مزید نقصا ن سے بچایا جا سکے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن کے ایئربیس سے جن امریکی ہیلی کاپٹروں کو منتقل کیا جا رہا ہے، ان میں وہ آلات اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جنہیں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی کے دوران نقصان پہنچا تھا یا وہ تباہ ہوئے تھے۔

    اس سے قبل ایران نے خلیج فارس میں دو امریکی جنگی جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز اور ہرمز کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش پر 10دیگر جہازوں کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا تھا-

  • مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرجائیں گی، ٹرمپ

    مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرجائیں گی، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ تہران اب مزید امریکی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور جنگ کے باعث بلند ہونے والی تیل کی قیمتیں بھی انتخابات کے بعد تیزی سے نیچے آئیں گی۔

    ڈیلس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ”میرا خیال ہے انتخابات کے فوری بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایرانی حکمران) اب مزید نہیں ٹک سکتے اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان انتخابات پر اثر انداز ہو سکیں۔

    امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کا امکان موجود ہے، تاہم یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”جی ہاں، مذاکرات بالکل ہو سکتے ہیں لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی ہم اس وقت کوشش کر رہے ہوں۔“

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازع اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور فی الحال اس کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین تصادم اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو غرق کرنے کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا اس نئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی ہیں اور بین الاقوامی بنچ مارک برینٹ کروڈ جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلا گیا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہوا ہے تاہم انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے جائیں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

    ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ محض ایک روایتی جوہری معاہدہ نہیں چاہتے بلکہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں جوہری پروگرام سے کہیں زیادہ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔

    ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بارے میں امریکی مؤقف میں حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے رائٹرز کے مطابق مئی میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن تجویز آنے کے بعد حملہ روکنے اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے والے ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔

    دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دباؤ برقرار ہے، برطانیہ نے رواں ہفتے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے لیے قانون سازی بھی شروع کی ہے، جس میں ایرانی مالیاتی نظام، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر پابندیاں شامل ہیں۔

    ایران جنگ اور خلیج میں توانائی کی تنصیبات و جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ میں ہے۔ رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً دو تہائی تک رہ گئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

    اسی تناظر میں برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں توانائی کے اہم انفرااسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا تو تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ٹرمپ اس کے برعکس جنگ کے خاتمے کے بعد قیمتوں میں تیز کمی کی توقع ظاہر کررہے ہیں۔

    یوں ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایران جنگ کے خاتمے، تیل کی قیمتوں میں کمی، ایران کے ساتھ ممکنہ وسیع تر مذاکرات، اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں اور روس یوکرین جنگ کے لیے نئی ڈیل کو امریکی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔