Baaghi TV

Tag: ایران

  • ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم’ کو ایران نے  ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا

    ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم’ کو ایران نے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا

    ‘پروجیکٹ فریڈم’ (Project Freedom) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے اور بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے شروع کیا گیا ایک نیا فوجی اور سفارتی اقدام ہے، تاہم ایران نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل ’سکائی نیوز‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں، صدر ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن کا آغاز گزشتہ روز صبح کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔

    ایرانی ردعمل کے باوجود امریکی فوج نے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھتے ہوئے اس کی مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس آپریشن میں 100 سے زائد زمینی اور بحری فضائی اثاثے شامل ہیں، جن میں ایف-16 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، اس مشن کے تحت 15 ہزار امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید جنگی پلیٹ فارمز دفاعی نوعیت کے اس آپریشن کے دوران امریکی افواج کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کے دفاع میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاکہ عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران کی یو اے ای پر حملوں کی تردید

    ایران نے پیر کو متحدہ عرب امارات پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، ایرانی ریاستی میڈیا سے وابستہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا متحدہ عرب امارات پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور یہ واقعات دراصل امریکا کی ’فوجی مہم جوئی‘ کا نتیجہ ہیں ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب بھی ایران نے کوئی کارروائی کی ہے، اس کی ذمہ داری کھل کر قبول کی ہے، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہوا۔

    تاہم، نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ ایرانی فوجی عہدیدار نے وارننگ دی ہے کہ اگر امارات نے کوئی ’غیر دانشمندانہ‘ قدم اٹھایا تو اس کے تمام مفادات ایران کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز ملک پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں فجیرہ کی ریا ست میں ایک آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی اور تین بھارتی شہری زخمی ہو گئے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے فائر کیے گئے 12 بیلسٹک میزائلوں، 3 کروز میزائلوں اور 4 ڈرونز کو فضا میں ہی روکا۔

    یہ حملے 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کی پہلی بڑی خلاف ورزی ہیں یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو اپنی نگرانی میں نکالنے کا اعلان کیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود میں ایسی کسی نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گا۔

  • ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کی بندرگاہِ دیر (Dayyer Port) میں لنگر انداز متعدد تجارتی بحری جہازوں (لانچوں) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے –

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق یہ آگ بندرگاہ کے کمرشل ایریا میں لگی جس سے وہاں موجود تجارتی سامان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں،واقعے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

    دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

  • ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    ایران کی جانب سے سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات پر حملے کی دھمکی

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے سعودی عرب اور عمان کو آگاہ کیا تھا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو وہ متحدہ عرب امارات کو اپنے جوابی حملوں میں "بھاری نشانہ” بنائے گا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے سعودی حکام کے ساتھ ایک بات چیت میں ریاض اور ابوظہبی کے درمیان موجودہ اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے امارات کو "کچلنے” کی دھمکی دی تھی،ایران نے مبینہ طور پر خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ارکان کو یہ پیغام دیا کہ امارات کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی (بشمول امریکی/اسرائیلی فورسز کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دینا) کی صورت میں، یو اے ای کو سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ اقدام بظاہر جی سی سی کے اندر، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی دراڑ کو وسیع کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات اب مختلف سمتوں میں جا رہے ہیں۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، 2026ء کی ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل آرڈر کو بدل دیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اب روایتی عرب صف بندی کے بجائے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ زیادہ قریب ہو گیا ہے سعودی حکام نے اس دھمکی آمیز زبان کو ناپسند کیا اور وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2026ء کے اوائل میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے، جس سے ان ملکوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہوا۔

  • ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی  انٹیلیجنس

    ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے درکار وقت میں تبدیلی نہیں آئی،امریکی انٹیلیجنس

    امریکی انٹیلیجنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت میں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،حالانکہ گزشتہ سال ماہرین کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اس عمل کو ایک سال تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق یہ اندازے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہیں برقرار ہیں، جبکہ اس جنگ کا ایک بڑا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا تھا28 فروری سے جاری حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زیادہ تر ایران کے روایتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیل نے چند اہم ایٹمی تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے وقت میں تبدیلی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی بڑی رکاوٹ ڈالنی ہے تو اس کے لیے تہران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ امریکا کا مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    اس سے قبل انٹیلی جنس اداروں کا خیال تھا کہ ایران 3 سے 6 ماہ میں ایٹمی بم بنا سکتا ہے، لیکن جون میں نطنز، فردو اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر امر یکی حملوں کے بعد یہ اندازہ 9 ماہ سے 1 سال تک بڑھا دیا گیا تھاتاہم اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش معطل ہونے کی وجہ سے 60 فیصد تک افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ٹھکانے کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اصفہان میں زیر زمین سرنگوں میں چھپا یا گیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایران کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا، وہیں آپریشن ایپک فیوری نے ایران کے اس دفاعی صنعتی ڈھانچے کو ختم کر دیا جسے وہ اپنے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے تھے ،صدر ٹرمپ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور وہ محض باتیں نہیں کرتے۔

    اگرچہ اسرائیل نے ایٹمی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن امریکا نے زیادہ توجہ ایران کی فوجی طاقت اور قیادت پر مرکوز رکھی ہےسابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں میں تبدیلی نہ آنا حیران کن نہیں ہے کیونکہ حالیہ حملوں میں ایٹمی تنصیبات کو ترجیح نہیں دی گئی، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، ایران کے پاس اب بھی تمام ایٹمی مواد موجود ہے جو غالباً ایسی گہری زیر زمین جگہوں پر ہے جہاں امریکی بموں کی رسائی نہیں ہے۔

    دوسری جانب سابق انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے قتل نے تہران کی بم بنانے کی صلاحیت کو مشکوک بنا دیا ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ علم کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن کام کرنے کی مہارت کو ضرور تباہ کیا جا سکتا ہے۔

  • ایران پر  امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    ایران پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے24 گھنٹوں میں حملے کا امکان ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا اور برطانوی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں حملے کا شدید امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے ایک عہدیدار نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی بھی وقت حملہ متوقع ہے حالیہ واقعات نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اب ایک مربوط فوجی جواب پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

    یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ایک تیل کی تنصیب پر ڈرون حملہ ہوا اور دبئی کی فضاؤں میں میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق 50 سے زائد ایرانی اہداف نشانے پر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے پہلے ہی 6 ایرانی کشتیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے،ایران میں بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ایرانی پاسداران انقلاب نے کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی تیاری کر رکھی ہے،اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں ایران کے وسطی اور مغربی حصوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    اسی حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی فورسز کی سات کشتیاں تباہ کی ہیں جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہی تھیں ایران نے جنوبی کوریا کے مال بردار جہاز سمیت دیگر غیر متعلقہ ممالک کے جہازوں پر حملے کیے ہیں، اب شاید وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی ہمارے مشن کا حصہ بن جائے۔

    صدر ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت وارننگ دی کہ اگر ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا تو انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں، یا تو مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہو جائے یا پھر مکمل فوجی کارروائی کی طرف واپسی ہو۔

    اس کشیدگی کے معاشی اثرات بھی پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز جو کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، وہاں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحری راستہ بند رہا تو امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں پانچ ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے،ایرانی میڈیا

    ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ جاسک کے قریب دو میزائلوں نے ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی جہاز نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے رکنے کے انتباہ کو نظر انداز کیا۔

    یہ مبینہ حملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے پیر سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس مشن کے لیے 15 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے، جنگی جہاز اور ڈرونز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز پر میزائل حملے میں نقصانات کی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں امریکی صہیونی ڈسٹرائزر کے داخلے کو روک دیا ہے۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری فورسز نے ایک سخت اور فوری وارننگ کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے،دوسری جانب سینئر امریکی عہدیدار نے امریکی جہاز کا ایرانی میزائل کا نشانہ بننے کی خبر کی تردید کر دی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی افواج کا کہنا تھا کہ تمام تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں ہم سے رابطے کے بغیر نقل و حرکت نہ کریں، امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ جائےیرانی افواج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔

    ایرانی فوجی کمانڈر میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے غیر ملکی بحری بیڑوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تجارتی جہازوں کی حفاظت کے بہا نے آبنائے ہرمز میں داخل نہ ہوں،ا مریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے نے عالمی تجارت اور معیشت کی سلامتی کو خطر ے میں ڈال دیا ہے۔

    میجر جنرل علی عبداللّٰہی نے کہا کہ شرپسند امریکا کے حامیوں کو محتاط رہنا چاہیے اور ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے ناقابلِ تلافی پچھتاوا ہو، کیونکہ امریکا کی جارحا نہ کارروائیوں کا نتیجہ حالات کو مزید پیچیدہ بنانے اور بحری جہازوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

  • ایران نے  امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوادی

    ایران نے امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوادی

    ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو 3 مراحل پر مشتمل ایک تازہ امن تجویز بھجوائی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور 2026ء کی جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اس تین مرحلے پر مشتمل منصوبے میں اسرائیل سمیت تمام فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کا عہد شامل ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر لگی امریکی پابندیوں کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی ذمہ داری تہران قبول کرے گا۔

    دوسرے مرحلے کے تحت ایران کو ایک مخصوص مدت کے بعد 3.6 فیصد تک یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم یہ ”زیرو اسٹوریج“ اصول کے تحت ہوگا جس کا مطلب ہے کہ افزودہ شدہ مواد کا ذخیرہ نہیں کیا جائے گااس مرحلے میں ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے یا نقصان پہنچانے کی کسی بھی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔

    تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل، ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملوں سے گریز کریں گے اور بدلے میں ایران بھی کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا، جبکہ پابندیوں میں نرمی کے طور پر ایران کے منجمد فنڈز کو مرحلہ وار جاری کیا جائے گا۔

    آخری اور تیسرے مرحلے میں تہران نے اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات اور پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک جامع علاقائی سلامتی کے نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے توسط سے امریکا کو بھیجی گئی ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر ان تجاویز کو "ناکافی” یا "ناقابل قبول” قرار دیا ہےپاکستان اس معاملے میں "بیک ڈور ڈپلومیسی” کے ذریعے سرگرم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے،یہ نئی پیش رفت اپریل 2026ء میں قائم ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا تھا-

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بحال کرنے کے لیے ایک بڑے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے یہ مشن پیر کی صبح شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ان ممالک کے جہازوں کو آزاد کرانا ہے جو مشرق وسطیٰ کے حالیہ تنازع میں فریق نہیں ہیں دنیا کے کئی ممالک نے اپنے پھنسے ہوئے جہاز اور عملہ نکالنے کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے جس کے جواب میں انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان ممالک کو بھرپور تعاون کا یقین دلائیں، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں میں کھانے پینے کے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی اشیاء کی شدید کمی ہو چکی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اس مشن کا مقصد ان کمپنیوں اور ملکوں کو ریلیف دینا ہے جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کے بقول یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر اس انسانی ہمدرد ی کے عمل میں کسی نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ عمل سب کے لیے انتہائی بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق اس مشن کے تحت تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا کیونکہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے ہونے والی تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے،سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس دفاعی مشن کے لیے ہمارا تعاون علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے، جبکہ ہم بحری محاصرہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    اس بڑے آپریشن کی کامیابی کے لیے امریکی فوج اپنے گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز، 100 سے زائد طیاروں، جدید ڈرونز اور 15 ہزار فوجی اہلکاروں کا استعمال کرے گی تاکہ اس عالمی تجارتی راہداری میں بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکا نے ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

    امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش پر تحویل میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت ایران واپسی کے لیے پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کا کہنا ہے کہ آج امریکی افواج نے ایم وی توسکا کے 22 عملے کے ارکان کو وطن واپسی کے لیے پاکستان منتقل کر دیا ہے، مزید 6 افراد کو گزشتہ ہفتے ہی ایک علاقائی ملک منتقل کر دیا گیا تھا، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ 6 افراد عملے کے بعض ارکان کے اہلِ خانہ تھے۔

    کیپٹن ہاکنز کے مطابق توسکا جہاز کی تحویل بھی اس کے اصل مالک کو واپس کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق 19 اپریل کو جب توسکا کے عملے نے امریکی بحری جہازوں کی جانب سے دی گئی 6 گھنٹے کی وارننگ کو نظر انداز کیا تو ایک امریکی ڈسٹرائر نے جہاز کے انجن روم پر متعدد گولے داغے،بعد ازاں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھائی کر کے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔