Baaghi TV

Tag: ایران

  • اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیل پر حملے کے لیے ایران نے حماس کی مدد کی، امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پرحملوں کی منصوبہ بندی اورتیاری کے لیے فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کو ایران نے مدد فراہم کی۔

    باغیی ٹی وی: وال اسٹریٹ جنرل میں شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن طوفان االاقصیٰ کے تحت سرپرائزحملوں کی تیاری اور منصوبہ بندی کیلئے حماس کو ایران کی جانب سے مدد فراہم کی گئی تھی۔

    تاہم امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل پر حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملےبلنکن کا کہنا ہے کہ مطابق حماس کا یہ حملہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے تعلقات میں خلل ڈالنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے تو ایران کے ملوث ہونے کی تردید کی لیکن یران کی حمایت یافتہ طاقتور مسلح جماعت حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے فلسطینی عوام کے ساتھ ”یکجہتی“ کے طور پر شیبا فارمز میں تین پوسٹوں پر گائیڈڈ راکٹ اور توپ خانوں سے حملہ کیا۔

    غزہ پٹی میں جارحیت،یو اے ای کا تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لی اپنا جنگی بیڑہ بھیجنے کا اعلان بھی کردیا ہےامریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کو اسرائیل کے قریب لے جا رہا ہے، جس میں فورڈ کیریئر اور دیگر جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع کے مطابق جنگی بحری بیڑےاسرائیل کی مدد کے لیے روانہ کررہے ہیں، امریکا اسرائیل کو گولہ بارود بھی فراہم کرے گا۔ اسرائیل بھیجے جانے والے بحری بیڑے میں طیارہ بردار جہاز سمیت 5 تباہ کن بحری جہاز شامل ہیں۔

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی مدد کیلئے جنگی بحری بیڑے کو اسرائیل کی طرف روانہ کر رہے ہیں، امریکی ائیرفورس کے ایف 15، ایف 16، ایف 35 اور اے 10 لڑاکا طیارے بھی اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں، اسرائیل کو امریکی سکیورٹی امداد کی فراہمی آج سے شروع ہو جائے گی۔

    سائفرکیس : سماعت اڈیالہ جیل میں شروع،، چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ ہفتہ 7 اکتوبر کو فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کا مقصد 1967 میں ایک مختصر جنگ کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔

  • ایران: اخلاقی پولیس کےحجاب نہ پہننے پرمبینہ تشدد سے لڑکی کوما میں چلی گئی

    ایران: اخلاقی پولیس کےحجاب نہ پہننے پرمبینہ تشدد سے لڑکی کوما میں چلی گئی

    ایران میں اخلاقی پولیس کے حجاب نہ پہننے پرمبینہ تشدد سے ایک لڑکی کوما میں چلی گئی-

    باغی ٹی وی:چند روز قبل ایک 16 سالہ ایرانی طالبہ زیر زمین ٹرین میں بے ہوش ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں فوری طور پراسپتال منتقل کردیا تھا جہاں وہ کومہ کی حالت میں زیر علاج ہے مذکورہ واقعے کے حوالے سے کُرد حقوق انسانی گروپ ہینگاو نے کہا کہ ارمیتا گاروند نامی لڑکی کو حجاب پہننے سے انکار کرنے پر اخلاقی پولیس کی خاتون افسران نے تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ کم بلڈ پریشر کی وجہ سے بے ہوش ہو گئیں تھی۔
    https://x.com/Hengaw_English/status/1709191327366119632?s=20
    ہینگاؤ نے کہا کہ ارمیتا گاروند کو اتوار کے روز تہران کے شہداء انڈر گراؤنڈ ریلوے اسٹیشن پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے زخمی ہوگئیں تاہم ان کا تہران کے فجر اسپتال میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں علاج کیا جا رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا میں مقیم افغان مہاجرین کے اعداد و شمار جاری

    https://x.com/Hengaw_English/status/1709192865966862647?s=20
    کُُرد حقوق انسانی گروپ ہینگاؤنے کہا کہ متاثر ہ لڑکی سے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، حتی کہ اس کے اہل خانہ کو بھی نہیں، جبکہ لڑکی کا تعلق کرد آبادی والے شہر کرمان شاہ سے ہے لیکن وہ تہران میں رہائش پذیر تھی۔

    ایف آئی اے انٹر پول کی کارروائی، تین اشتہاری ملزمان ابو ظہبی سے گرفتار

  • امریکا نے ایران کے سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں لانچ کرنے کا اعتراف کر لیا

    امریکا نے ایران کے سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں لانچ کرنے کا اعتراف کر لیا

    امریکا نے خاموشی کے ساتھ تسلیم کیا ہے کہ ایران کے نیم فوجی دستے نے رواں ہفتے ایک سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں لانچ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: "ایسوسی ایٹڈ پریس” کی رپورٹ کے مطابق ایران نے بدھ کو نور-3 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا تھا، جو کہ ایران کے سویلین خلائی پروگرام کی مسلسل ناکامی کے بعد کے یہ کامیابی کے ساتھ لانچ ہوا تھاایران نے جو سیٹلائٹ لانچ کیا ہے، وہ دوسرے ممالک سے مشابہت رکھتا ہے، اس پہلے امریکا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مدد کرنے پر تنقید کرتا تھا۔

    جمعہ کے روز ایک اسپیس ٹریک نامی ویب سائٹ کی جانب سے اعداد و شمار جاری کیے تھے، جس میں نور-3 سیٹلائٹ کو مدار میں دیکھایا گیا ہے ویب سائٹ کے لیے معلومات امریکی سپیس فورس کے 18ویں اسپیس ڈیفنس اسکواڈرن کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جو کہ امریکی فوج کا جدید ترین دستہ ہےاس نے سیٹلائٹ کو زمین کی سطح سے 450 کلومیٹراوپر رکھا ساتھ ہی سیٹلائٹ کو لے جانے والے راکٹ کو بھی دیکھایا ہے، جسے 2020 میں پہلی بار لانچ کیا تھا۔

    پرینکسٹر یوٹیوبر کو گولی مارنے والے کو عدالت نے رہا

    جمعرات کی رات ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے گارڈ اسپیس کمانڈر جنرل علی جعفرآبادی نے نور-3 سیٹلائٹ کے حوالے سے کہا کہ یہ پہلے دو مشن سے زیادہ بہتر ہے، جبکہ 2020 میں لانچ کیے جانے والا ناکام ہوگیا تھا۔

    جعفرآبادی نے کہا کہ نور-3 میں اپنی رفتار کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر آپ دنیا کی حالیہ جنگوں پر نظر ڈالیں، تو آپ دیکھیں گے کہ میدان جنگ میں کامیابی کا انحصار سیٹلائٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال پر ہے انہوں نے واضح کیا کہ اب تمام ترقی پسند ممالک کی مسلح افواج اپنے تمام آلات کو ریموٹ کنٹرول بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کا سیٹلائٹ لانچ کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی نفی کرتا ہے اور اس نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی کوئی سرگرمی نہ کرے جس میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہوں۔

    واضح رہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندیاں 18 اکتوبر کو ختم ہونے والی ہیں۔

  • امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ کو واشنگٹن آنے سے روک دیا

    امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ کو واشنگٹن آنے سے روک دیا

    امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ کو واشنگٹن کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فوگی باٹم نے ایران کی طرف سے امریکی شہریوں کی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں ایرانی قونصلر دلچسپی کے سیکشن کا دورہ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

    تاہم خیال رہے کہ ایک ڈیل کے تحت ابھی پچھلے ہفتے ہی، پانچ امریکیوں کو ایران سے رہا کیا گیا تھا جس کے بدلے میں پانچ ایرانیوں کو امریکی حراست سے رہا کیا گیا تھا اور بیرون ملک موجود ایرانی فنڈز کو 6 بلین ڈالر غیر منجمد کیا گیا تھا۔ جبکہ ملر کے مطابق امیر عبداللہیان گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک میں تھے اور واشنگٹن جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکہ نے حکام کو اقوام متحدہ کے گھر نیویارک جانے کی اجازت دے دی۔ تاہم، بعض ممالک کے اہلکاروں یا سفارت کاروں کو اکثر نیویارک کے مخصوص علاقوں میں آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی حکام کو نیویارک کے چند محلوں کا دورہ کرنے کی اجازت دی تھی۔

    علاوہ ازیں ملر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ ایرانی حکام اور غیر ملکی حکومتوں کے دیگر اہلکاروں کو اقوام متحدہ کے کام کے لیے نیویارک جانے کی اجازت دینے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکن ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم انہیں واشنگٹن ڈی سی جانے کی اجازت دیں جبکہ انہوں نے مزید کہا، ایران کی طرف سے امریکی شہریوں کی غلط حراست کو دیکھتے ہوئے، ایران کی جانب سے دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی کے پیش نظر، ہم نہیں سمجھتے کہ اس صورت میں [امیر عبداللہ کی] درخواست کو منظور کرنا مناسب یا ضروری تھا۔

  • ایران؛ حجاب بل منظور، خلاف ورزی پر 10 سال قید

    ایران؛ حجاب بل منظور، خلاف ورزی پر 10 سال قید

    ایران کی پارلیمنٹ نے حجاب بل کی منظوری دے دی ہے، بل کے تحت اسلامی ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قیدکی سزا دی جاسکے گی اور ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکےگا جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے آزمائشی بنیادوں پر قانون سازی کی 3 سال کی مدت کی منظوری دی ہے۔

    بل کے حق میں 152 اور مخالفت میں 34 ووٹ ڈالےگئے جب کہ 7 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ اس بل کو اب بھی قانون بننےکے لیے شورائے نگہبان کی منظوری کی ضرورت ہے اور مسودہ قانون کے مطابق غیر ملکی یا مخالف حکومتوں، میڈیا، انسانی حقوق کےگروپوں یا تنظیموں کی ایما پر یا حمایت سے حجاب یا مناسب لباس نہ پہننے والی خواتین کو 5 سے 10 سال تک قید کی سزا دے جاسکےگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
    ٹول ٹیکس کیخلاف ڈرائیور ایک بار پھرسراپا احتجاج
    پہلی بار پاکستانی خاتون خلا میں جائیں گی

  • سوئٹزرلینڈ میں برقع پہننے پر پابندی،خلاف ورزی کرنے والوں پرجرمانہ

    سوئٹزرلینڈ میں برقع پہننے پر پابندی،خلاف ورزی کرنے والوں پرجرمانہ

    سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ نے ملک میں برقع پہننے پر پابندی کو حتمی قانونی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی ایوان زیریں میں قانون کی منظوری کے لئے 151 ووٹ ڈالے جب کہ اس کے خلاف صرف 29 ووٹ کاسٹ کیے گئے برقع اور نقاب پر پابندی کا قانون سوئٹرلینڈ کا ایوان بالا پہلے ہی منظور کر چکا ہے، اسے دائیں بازو کی عوامیت پسند سوئس پیپلز پارٹی نے آگے بڑھایا،یہ اقدام دو سال قبل ملک بھر میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد اٹھایا گیا تھا جس میں سوئس ووٹرز نے نقاب اور برقع پہننے پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔

    ایوان زیریں میں ووٹنگ کے بعد پارلیمنٹ نے اس پابندی کو وفاقی قانون میں تبدیل کر دیا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک ہزار فرانک (تقریباً 1100 ڈالر) تک کا جرمانہ عائد ہوگا سوئٹزرلینڈ کے کچھ حصوں بشمول جنوبی ٹکینو اور شمالی سینٹ گیلن میں پہلے ہی اسی طرح کے قوانین موجود ہیں جب کہ سوئٹزرلینڈ کے علاوہ بیلجیئم اور فرانس جیسے ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔

    کینیڈا میں ایک اورعلیحدگی پسند سکھ رہنما قتل

    دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ نے اسلامی لباس کوڈ کی خلاف ورزی پر 10 سال تک کی قید کی سزاؤں کا قانون منظور کرلیا ایران کی اسمبلی نے “حجاب اور عفت کی ثقافت کی حمایت” بل کو 3 سال کی آزمائشی مدت کے لیے منظور کرلیا جس کے بعد یہ بل گارڈین کونسل کے پاس توثیق کے لیے بھیج دیا گیا۔

    اس بل کے تحت اسلامی ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر 5 سے 10 سال تک قید، جرمانے اور دیگر سخت سزائیں دی جا سکیں گی خواتین کے لی اسلامی ڈریس کوڈ میں سر کو مکمل طور پر ڈھانپنا کہ بال اور گردن نظر نہ آئیں، لازمی ہےاس بل پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لیے جگہ جگہ سی سی ٹی وی فوٹیجز نصب کیے گئے اور انھیں ایک مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے۔

    چیف جسٹس کا وکیل پر جرمانہ عائد،رقم خیرتی ادارے میں جمع کرا کے رسید پیش …

    یہ بل مہسا امینی نامی 22 سالہ کرد لڑکی کی پولیس کی زیر حراست ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد متعارف کرایا گیا ہے ان مظاہروں میں خواتین نے حجاب کی خلاف ورزی کی اور اپنے بال کاٹے تھے۔

    یاد رہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ہی ایران میں خواتین کے لیے سر اور گردن کو ڈھانپنے والے اسکارف پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کو لیگل ٹیم اور ڈاکٹر سے ملاقات کرنے کی اجازت مل …

  • امریکا اور ایران کا  قیدیوں کا تبادلہ

    امریکا اور ایران کا قیدیوں کا تبادلہ

    ایران نے اپنی حراست میں موجود 5 امریکی شہریوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے امریکی قیدیوں کی رہائی قطر کی ثالثی کے بعد ہوئی اور قطر کی کوششوں سے ایران اور امریکا کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایران نے امریکی قیدیوں کو رہا کیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق معاہدے کے مطابق امریکا نے ایران کے 6 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثوں کو بھی قطر کے ایک بینک میں منتقل کیا ہے جبکہ 5 ایرانی شہریوں کو رہا کیا گیا ہے جو قطر کے شہر دوحہ پہنچ گئے ہیں اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان اس معاہدے کے لیے کئی ماہ سے کام کیا جا رہا تھا اور اب اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے امریکی شہریوں طیارے میں بیٹھنے کی اجازت اسی وقت ملی جب منجمد اثاثوں کی منتقلی مکمل ہوئی، جن کو پہلے مرحلے میں قطر لے جایا گیا ہے، جہاں سے انہیں واشنگٹن منتقل کیا جائے گا اور 5 میں سے 3 افراد کی شناخت سامنے آئی ہے جن میں سے ایک برطانوی نژاد امریکی شہری مراد تباز ہے۔

    تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس معاہدے سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری آئے گی یا نہیں، امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کو منتقل کی جانے والی رقم کو صرف ایسی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیا جاسکے گا جن پر پابندیاں عائد نہیں۔ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اس معاہدے پر ریپبلکن جماعت کے رہنماؤں نے شدید تنقید کی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کانگریس میں خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ Michael McCaul نے کہا کہ جو بائیڈن ماضی کی غلطیوں کااعادہ کر رہے ہیں۔

  • ایرانی فنڈز کی منتقلی کیلئے پابندیاں ختم

    ایرانی فنڈز کی منتقلی کیلئے پابندیاں ختم

    امریکا نے 6 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز کی جنوبی کوریا سے قطر منتقلی کی اجازت دینے کیلئے پہلے سےعائد پابندیاں ختم کردیں جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے سلسلے میں یہ اقدام عمل میں آیا ہے۔

    تاہم امریکی دستاویز کے مطابق امریکا نے جنوبی کوریا سے قطر کو 6 ارب ڈالر کے ایرانی فنڈز کی منتقلی کی اجازت دینے کے لیے پابندیاں ختم کر دی ہیں اور امریکی محکمہ خارجہ کی دستاویز میں سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ پابندیوں کو ختم کرنا امریکا کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔

    جبکہ امریکی کانگریس کی کمیٹیوں کو بھیجی گئی دستاویز میں پہلی بار امریکی حکومت نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ وہ 5 امریکی شہریوں کی آزادی کو محفوظ بنانے کے معاہدے کے تحت امریکا میں زیر حراست 5 ایرانیوں کو رہا کر رہی ہے۔ تاہم واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت ایران نے امریکا کے 5 شہریوں کو جیل سے رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا۔

    علاوہ ازیں رہائی کے بعد نظر بند کیے گئے 5 میں سے 3 قیدیوں کے نام سیامک نمازی، عماد شرغی اور مراد طہباز بتائے گئے تھے جبکہ باقی 2 کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ 51 سالہ سیامک نمازی کو پہلی بار 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سکیورٹی الزامات پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 58 سالہ عماد شرغی کی بہن کے مطابق بھائی کو اپریل 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات
    نگران وزیراعظم کا دورہ گلگت،یادگار شہداء پر حاضری
    پی آئی اے کا مالی بحران سنگین ہوگیا
    ایشیا کپ سپر فور، پاکستان 44 رنز پر 2 کھلاڑی آوٹ، بارش کی وجہ سے میچ روک دیا گیا
    تسلسل رہتا تو پاکستان جی 20 میں شامل ہوچکا ہوتا. نواز شریف
    جبکہ اس کے علاوہ 67 سالہ تاجر اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ماہر مراد طہباز کو جنوری 2018 میں ماحولیاتی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن بار بار مطالبہ ہے کہ قیدیوں کو مکمل طور پر رہا کیا جائے۔

  • سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط  بنائیں گے. عبداللہ بن سعود

    سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائیں گے. عبداللہ بن سعود

    ایران میں سعودی سفیر نے اچھی ہمسائیگی کی بنیاد پر مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے رابطے اور ملاقاتوں کو تیز کرنے اور انہیں وسیع تر افق کی طرف لے جانے کی اہمیت پر زور دیاہے جبکہ سفیر عبداللہ بن سعود العنیزی ن ایران کے دارالحکومت تہران پہنچنے پر کہا کہ سعودی قیادت کی ہدایات میں مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور رابطے اور ملاقاتوں کو تیز کرنے اور انہیں وسیع تر افق کی طرف لے جانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ ایران ہمسایہ ملک ہے اور اس کے پاس بہت سے اقتصادی اجزاء، قدرتی وسائل اور فوائد ہیں جو ترقی اور خوشحالی کے پہلوؤں کو بڑھانے میں معاون ہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ خطے میں استحکام اور سلامتی دونوں ممالک اور دو برادر عوام کے مشترکہ فائدے کے لیے ہے۔ علاوہ ازیں سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے شروع کیا گیا مملکت کا ویژن 2030، ایک روڈ میپ کی نمائندگی کرتا ہے جو تعاون کے ان تمام پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

    تایم یہ ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر کے مطابق جو اچھی ہمسائیگی، افہام و تفہیم، تعمیری، بامقصد بات چیت اور احترام کے اصولوں کو قائم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو بڑھاتا ہے، ایرانی سفیر علی رضا عنایتی سعودی عرب میں بطور ایرانی سفیر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاری میں ریاض پہنچ گئے جبکہ ایرانی سفیر کے ساتھ ایک سفارتی ٹیم کی آمد کی تصدیق کی ہے جو ایرانی ناظم الامور سے ڈیوٹی وصول کرے گی، جنہوں نے گذشتہ جون میں سعودی عرب میں ایرانی سفارت خانے کے افتتاح کے بعد سے چارج سنبھال لیا ہے۔

    جبکہ قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے گذشتہ مارچ کی دس تاریخ کو بیجنگ میں دونوں ممالک کے درمیان 2016 سے منقطع سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے اور اپنے سفارتی مشن دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا عالمی ادارے کے مطابق گذشتہ جون میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سرکاری دورے پر تہران گئے تھے جس کے دوران انہوں نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی، اور اس وقت اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تہران نے سفارتی مشنوں کی واپسی کے لیے سہولیات فراہم کی تھیں۔ انہوں نے اس وقت اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی ضرورت پر مبنی ہیں۔

  • سعودی سفیر تہران پہنچ گئے

    سعودی سفیر تہران پہنچ گئے

    ایران میں سعودی عرب کے نئے سفیر منگل کے روز تہران پہنچ گئے ہیں جبکہ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق سعودی عرب کے سفیر عبداللہ بن سعود العنزی کی تہران میں آمد ہوگئی ہے۔یہ اعلان سعودی عرب میں ایران کے سفیرعلی رضا عنایتی کے الریاض پہنچنے کے چند گھنٹے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    جبکہ عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے سفیروں کا تبادلہ مارچ میں چین کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدے کے چند ماہ بعد ہواہے۔ تاہم العربیہ کے مطابق اس سے پہلے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ علی رضاعنایتی ایک نئی سفارتی ٹیم کے ہمراہ سعودی دارالحکومت پہنچے ہیں۔وہ ایرانی ناظم الامور کی جگہ لیں گے جو جون میں ایران کا سفارت خانہ دوبارہ کھلنے کے بعد سے اس کا نظم ونسق سنبھال رہے تھے۔

    جبکہ ایرنا کے مطابق علی رضا عنایتی نے الریاض روانگی سے قبل صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔ایرانی صدرنے علاقائی اور سلامتی کے شعبوں میں ایران اور سعودی عرب کی اہمیت پر زور دیا اور تہران اورالریاض کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے دستیاب صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ڈالر 5 روپے سستا ہوگیا
    افغان انجینئرز نے70سے زائد طیاروں کی مرمت کرکے انہیں دوبارہ پرواز کے قابل بنا دیا
    پاکستان کے معروف مرثیہ نگار اور قصیدہ گو شاعر ساحر لکھنوی
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    علاوہ ازیں مارچ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے علاقوں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل ہونے والے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد پر اتفاق کیا تھا اور سعودی عرب نے سنہ 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پرایرانی حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے۔