Baaghi TV

Tag: ایران

  • 81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    تہران: سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے سہولت کاروں سمیت 81 افراد کو ایک ہی دن میں سزائے موت دینے کے فوری بعد ایران نے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو ملتوی کردیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے ساتھ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا اور نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

    ایک ہی دن میں دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    خیال رہے کہ ویانا میں جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں دونوں ممالک پر جوہری معاہدے 2015 کی بحالی کے لیے دیگر رکن ممالک نے دباؤ ڈالا تھا۔

    مذاکرات کے ملتوی ہونے کی وجہ تو نہیں بتائی گئی ہے تاہم ایران نے یہ اقدام اُس وقت اُٹھایا ہے جب سعودی عرب میں 81 افراد کو ایک ہی دن میں عدالتی حکم پر سزائے موت دی گئی۔

    جن 81 ملزمان کے سر قلم کیے گئے ان میں سے 43 افراد اہل توشیع تھے اور ان پر حوثی باغیوں کی سہولت کاری کا الزام تھا اور یہ اہل توشیع کے اکثریتی علاقے قطیف کے رہائشی تھے جہاں سے سعودی حکومت کے خلاف متعدد بار مہم چلائی گئی ہے۔

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    2016 میں بھی شیعہ عالم کا سر قلم ہونے پر ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے جس کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

    اس کے بعد سن 2019ء میں ایک ساتھ 37 افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔ تب ان افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

    ایران کے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو ملتوی کرنے پر سعودی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    یوکرین میں موجود مغربی ہتھیاروں کو روس نے نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی:امریکہ بھی…

  • جوہری مذاکرات:امریکی عورتیں حجاب اور وائٹ ہاؤس کوامام بارگاہ میں بدلیں،ایران کی شرائط

    جوہری مذاکرات:امریکی عورتیں حجاب اور وائٹ ہاؤس کوامام بارگاہ میں بدلیں،ایران کی شرائط

    ایران اپنے جوہری پروگرام پر مغربی ملکوں کے ساتھ جاری مذاکرات میں من مانی شرائط پیش کرتا رہا ہے مگر حال ہی میں ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے ایک سینیر رکن اور سرکردہ شیعہ مناظر نے حیران کر دینے والی شرائط پیش کیں۔

    باغی ٹی وی : ایران کی پیش کردہ حیران کن شرائط سے یقین نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ایرانی مذاکرات جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات میں ایسی شرائط پیش کرسکتا ہے عباسی شاہرود شہر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک رکن کے قتل کی برسی کے موقع پر منعقدہ ایک سمپوزیم سے خطاب میں شرائط پیش کیں-

    العربیہ کے مطابق سخت گیر ایرانی مذاکرات کار حسن عباسی نے کہا کہ ایرانی قوم کو اپنے جوہری پروگرام پر جاری مذاکرات میں معاہدے کے لیے مطالبات کی طویل فہرست جاری کرنی چاہیے اور اس فہرست میں سب سے اوپر ہمیں وائٹ ہاؤس کو حسینیہ (امام بارگاہ) میں تبدیل کرنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ امریکی اور مغربی خواتین کے حجاب کی شرط شامل کی جانی چاہیے جبکہ دیگر شرائط میں میں "اسلام قبول کرنا”، "ہم جنس پرستی کے قانون کو ختم کرنا” اور "بدعنوانی کا خاتمہ” شامل ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت اپنے قرضوں کی وجہ سے گرجائے گی جن کا حجم 30 ہزار ارب ڈالر ہے۔ جاپان اور یورپ بھی قرضوں کی وجہ سے منہدم ہو جائیں گے لہذا ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رکن نے مشورہ دیا کہ وہ ان سے ایران پر عاید پابندیوں کی منسوخی کی درخواست نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ماضی سے زیادہ تیل فروخت کرتا ہے۔

    برما کے8 ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین کو مفت اقامہ:سعودی عرب کا بڑا اعلان

    ایرانی عہدیدار نے کہا کہ یورپ اور امریکا طویل المدتی جنگ میں نہیں پڑ سکتے اس لیے ہم نے اپنے سروں سے جنگ کے خوف کے سائے ختم کیے ہیں مذاکرات کے نتیجے میں نہیں بلکہ اپنے عوام کی مزاحمت کی وجہ سے-

    حسن عباسی نے یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق اور مغرب کی جنگ میں ایران ہی فاتح ہوگا لہذا اب وقت آگیا ہے کہ مغرب کو رعایت دینے پر مجبور کیا جائے۔

    حسن عباسی ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈروں میں سے ایک ہیں اور وہ کچھ عرصے سے پاسداران انقلاب کے جنگی طریقہ کار تیار کرنے کے ذمہ دار تھے وہ اس وقت سن2000 میں قائم ہونے والے یقین ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں اس ادارے نے اعلان کیا کہ اس کی سرگرمیوں کا رخ "نظریاتی علم کو مقامی بنانے” کی طرف ہے اگرچہ عباسی کے پاس ان امور سے متعلق کوئی تعلیم نہیں ہے جن میں وہ سرگرم ہیں لیکن وہ سیاست، مذہب، معاشیات، کھیل، ثقافت اور تاریخ کے شعبوں میں لیکچر دیتے ہیں۔

    مشرق وسطیٰ کے 16 ہزار رضا کار یوکرین میں روسی فوج کا ساتھ دینے کیلئے تیار:امریکہ کا انکار

  • ایران کا دوسرا فوجی سیٹلائٹ خلا میں روانہ

    ایران کا دوسرا فوجی سیٹلائٹ خلا میں روانہ

    تہران:ایران نے اپنا دوسرا فوجی سیٹلائٹ ” نور دوم ” خلا میں بھیج دیا ہے-

    باغی ٹی وی : یہ اس وقت ہوا جب مہینوں تک جاری رہنے والی بات چیت میں ایران کے اعلیٰ سفارت کار کو پیر کو دیر گئے مشاورت کے لیے واپس روانہ کیا، جو کہ تہران پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی علامت ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ سمجھوتے کی بحالی پر مذاکرات اپنے اختتام کے قریب ہیں۔

    ایران کا مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا ایک اورتجربہ ناکام

    فوجی سیٹلائٹ کے خلا میں روانہ کرنے کی تصدیق ایرانی انقلاب اسلامی کور (IRGC) کی طرف سے کی گئی ہے، ایرانی میڈیا کے یہ سیٹلائٹ اب زمین سے 500 کلومیٹر کی بلندی پر خلا میں اپنے مدار میں گردش میں ہے۔

    نیا فوجی سیٹلائٹ نور دوم تین مراحل پر مشتمل ‘قاصد‘ نامی خلائی راکٹ کے ذریعے شہر شاہرود کے لانچنگ مرکز سے خلا میں بھیجا گیا فوجی سیٹلائٹ ایک ایسے وقت پر خلا میں بھیجا گیا ہے، جب ویانا میں ایرانی جوہری مذاکرات جاری ہیں۔

    آئی آر جی سی نے فوری طور پر لانچ کی تصاویر یا ویڈیو جاری نہیں کی۔ دوسرے سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنا ایران کی فوج کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔

    امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    امریکی حکام نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا اور خلائی اشیاء کے امریکی زیر انتظام کیٹلاگ نے اس ماہ ایران کے نئے لانچ کو نوٹ نہیں کیا۔ یہ لانچ سیٹلائٹ تصاویر کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ ایران کے سویلین پروگرام کو ایک اور ناکام لانچ کا سامنا کرنا پڑا۔

    یاد رہے ایران نے اپنا پہلا فوجی سیٹلائٹ ”نور اول” اپریل 2020 میں خلا میں بھیجا تھا اور وہ اس وقت زمین سے 425 کلومیٹر کی بلندی پر اپنے مدار میں گردش میں ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ تہران فوجی سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجنے کے لیے طویل فاصلے تک رسائی کو یقینی بنانے والی بیلسٹک ٹیکنالوجی کا استعمال کر ر ہا ہے۔

    اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار بھی بنا سکتا ہے، جس پر ممکنہ طور پر ایٹمی وار ہیڈز بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

  • کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    ریاض:ایران ایک قدم آگے بڑھے ہم دوقدم آگے بڑھیں گے:معاملات حل ہونے چاہیں:سعودی عرب ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مضبوط جوہری معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ "تفصیلی بات چیت” جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ دونوں کے لیے ایک تسلی بخش معاہدے تک پہنچ سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہےکہ حقیقی اسلام کی جانب لوٹنا ہمارا نصب العین ہے، سعودی عرب میں اب کسی مذہبی نقطہ نظر کی اجارہ داری نہیں ہے۔
    امریکی جریدے اٹلانٹک کو خصوصی انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت مستند احادیث نبویﷺکے پروجیکٹ پرکام کر رہی ہے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران پڑوسی ہیں، جدا نہیں ہوسکتے، سعودی عرب نے4 ماہ میں ایران کےساتھ کئی مذاکرات کیے ہیں۔خطے میں شدت پسندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی جنگ نےشدت پسندوں کو اکھٹا ہونےکا موقع دیاہے۔

    سعودی ویژن 2030 کے حوالے سے سعودی ولی عہد نے بتایا کہ کچھ طاقتیں ویژن 2030 ناکام کرنےکی کوششیں کررہی ہیں، سعودی عرب تیز ترین معیشت رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری 800 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، چین میں سعودی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالرز سےکم ہے لیکن یہ تیزی سےبڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت خطے کی سنی مسلم اور شیعہ طاقتوں کے لیے "اچھی صورت حال اور روشن مستقبل کی نشان دہی” کے قابل ہو جائے گی، جو دشمنی میں بند ہیں۔ پورے مشرق وسطی میں تنازعات میں کھیل رہے ہیں۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایران ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہے، ہم ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے اور وہ ہم سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔”

    ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ویانا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کے جوہری پروگرام کو روکا تھا۔

    ریاض اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسیوں کے نیٹ ورک کے بارے میں اپنے خدشات کو دور نہ کرنے کے لیے اس معاہدے کو خامیوں کے طور پر دیکھا تھا، بشمول یمن میں جہاں سعودی عرب ایک مہنگی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔

  • ایران کا مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا ایک اورتجربہ ناکام

    ایران کا مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا ایک اورتجربہ ناکام

    تہران: ایران کی جانب سے مدار میں مصنوعی سیارے بھیجنے کا ایک اور راکٹ تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق”Maxar Technologies” کمپنی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں اتوار کے روز ایران کے دیہی علاقے سمان میں واقع امام خمینی خلائی بندرگاہ کے نزدیک راکٹ لانچنگ پیڈ پر آگ کے شعلوں کی علامات سامنے آئیں۔

    علاوہ ازیں راکٹ کے تباہ شدہ پل بھی واضح ہو رہے ہی۔ عام طور پر کامیاب تجربات کے نتیجے میں راکٹوں کے پل تباہ نہیں ہوتے اس لیے کہ پلوں کو راکٹ کی روانگی سے قبل اتار لیا جاتا ہے –

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واضح رہے کہ "Planet Labs PBC” سے علیحدہ کی گئی تصاویر سے غالب گمان ہوتا ہے کہ راکٹ بھیجنے کی ناکام کوشش جمعے کے روز کے بعد کسی وقت کی گئی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ دہائی کے دوران میں ایران کے خلائی پروگرام کے سلسلے میں راکٹ بھیجنے کی مسلسل پانچ ناکام کوششیں واقع ہوئیں۔ فروری 2019ء میں اسی نوعیت کی ایک ناکام کوشش میں تین محققین ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اپریل 2020ء میں مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا کامیاب تجربہ کر کے اپنے خفیہ خلائی پروگرام کا انکشاف کیا تھا امریکا کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے سیٹلائٹ بھیجنا اقوام متحدہ کے زیر انتظام سلامتی کونسل کی قرار داد کو کھلا چیلنج ہے۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    سابق صدر حسن روحانی نے مذاکرات کے دوران میں مغرب کے متنفر ہونے کے اندیشے کے سبب ملک میں خلائی پروگرام کی پیش رفت روک دی تھی تاہم موجود سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی نے اپنی توجہ اس پروگرام کو سرگرم کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے یوکرین پر روسی حملے کا ذمے دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پر بھروسہ کرکے سیکیورٹی حاصل نہیں ہوسکتی ایرانی حکومت کے ترجمان علی بہادری کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

    دوسری جانب ایرانی صدر ابراہیم ریئسی نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرق میں نیٹو فورسز کا دائرہ پھیلنا باعث تشویش ہے اور اسی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ایرانی صدر نے نیٹو کے توسیع پسندی کو خود مختار ممالک کی سیکیورٹی اور نقص امن کےلیے سنگین خطرہ قرار دیا ایران نے مغربی ممالک کو بحران زدہ یوکرین سے عبرت حاصل کرنے کا کہہ دیا ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ مشرقی ممالک میں بدامنی اور عدم استحکام مغربی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

  • پاکستان کی جازان ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت

    پاکستان کی جازان ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت

    اسلام آباد:پاکستان نے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہر جازان میں کنگ عبداللہ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں حوثی باغیوں کی جانب سے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ مملکت سعودی عرب اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان سلامتی اور علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا بھی اعادہ کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’پاکستان حوثیوں کی جانب سے جازان کے شاہ عبداللہ ایئرپورٹ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘’اس قسم کے حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ مملکت سعودی عرب اور خطے میں امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان فوری طور پر ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘’پاکستان سعودی عرب کی سالمیت اور سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے پر اس کے ساتھ مکمل تعاون اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘

  • ایران کے علاقے تبریز میں جنگی طیارہ گر کر تباہ

    ایران کے علاقے تبریز میں جنگی طیارہ گر کر تباہ

    ایران کے علاقے تبریز میں جنگی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے

    جنگی طیارہ تباہ ہونے سے 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں ایران میں جنگی طیارہ اسپورٹس ہال اور اسکول کے قریب گرا،طیارہ گرنے سے پائلٹ سمیت تین لوگوں کی جانیں گئی ہیں، طیارہ جہاں‌ گرا وہاں آگ لگ گئی ، امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آگ کو بجھایا گیا،خبر رساں ادارے کے مطابق طیارے میں سوار دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک زمین پر چلنے والا شخص طیارہ گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا، تیسرے شخص کی لاش کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی

    خبر رساں ادارے کے مطابق ایف 5 لڑاکا طیارہ سکول اور سپورٹس ہال کے قریب زمین سے ٹکرایا جو اس وقت بند تھا، حادثے کے بعد زوردار دھماکہ سنا گیا جس کے بعد آگ بجھانے والے ادارے کی مدد لینا پڑی،آرمی کے لوکل افسر رضا یوسفی نے بتایا کہ بدقسمت طیارہ تربیت کے لیے استعمال ہورہا تھا اور تکنیکی خرابی کی وجہ سے گرگیا۔ الجریزہ کے مطابق انہوں نے رہائشی علاقے میں طیارے کو گرنےسے بچانے کی کاوشوں کے دوران اپنی زندگیاں قربان کرنیوالے پائلٹس کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ” وہ طیارے سے نکل سکتے تھے لیکن وہ اندر ہی رہے اور غیررہائشی علاقے کی طرف طیارہ لے کر گئے

  • ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود ایران کیساتھ مذاکرات کے نئے دور کیلئے تیار ہیں ،سعودی وزیرخارجہ

    ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود ایران کیساتھ مذاکرات کے نئے دور کیلئے تیار ہیں ،سعودی وزیرخارجہ

    میونخ: سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کے 4 ادوار میں ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے باوجود مذاکرات جاری رکھیں گے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کےمطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2016 سےتعلقات منقطع ہیں دونوں ملکوں نے تعلقات کی بحالی کے لیے گذشتہ سال عراق کی میزبانی میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا میونخ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے چار ادوار میں ناکامی کے باوجود پانچویں دور میں شریک ہوں گے۔

    تاہم سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ بحال ہوا تو اس اقدام کو علاقائی خدشات دور کرنےکے لیے یہ’’نقطہ آغاز ہونا چاہیے نہ کہ اختتامی نقطہ‘‘ الریاض ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے حتمی طور معاملات طے پانے کے لیے ایران کو ہمسایہ ممالک بنیادی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ خواہش کا اظہار کرنا ہوگا انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایک نیاطریقہ کار تلاش کرلیا جائے گا۔

    اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے شکوہ کیا کہ اب تک ایران کی جانب سے ان نکات پر ٹھوس پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ جو دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    شہزادہ فیصل نے کہا کہ ایران حوثیوں کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون کے پرزوں کے ساتھ ساتھ روایتی ہتھیار بھی مہیا کرتارہا ہے جبکہ ایران اور حوثی گروپ دونوں اس الزام کی تردید کرتے ہیں انھوں نے یمن میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں تعطل کا شکار امن کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس تنازع کو حل کرنے کا راستہ تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے لیکن اس کے باوجود ہم پرعزم ہیں اور ہم اقوام متحدہ کے ایلچی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کی دھماکہ خیز مواد سےبھری کشتی تباہ کردی

    میونخ میں کانفرنس سےا یران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے بھی خطاب کیا، انھوں نے بھی اس خواہش کا اعادہ کیا کہ ایران جتنا ممکن ہو اتنی جلدی ایک اچھے معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم ایسا تب ہی ممکن ہے جب دوسرا فریق بھی سیاسی فیصلہ کرے ۔

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا امریکا فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے۔

    قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی سربراہی کرنے والے رابرٹ مالے نے ایران سے 4 امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جسے ایران نے امریکا میں قید اپنے شہریوں سے مشروط کیا تھا۔

    قبل ازیں جرمن چانسلر اولف شولز نے بھی اس کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کے حکمرانوں کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ابھی خود پر پابندیاں ہٹانے کے لیے ایران کے پاس کچھ وقت بچا ہے تاہم جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔

    مسئلہ فلسطین: اسرائیل کا اقوام متحدہ سے تعاون نہ کرنے کا اعلان

    خیال رہے سعودی عرب شیعہ ایران کی یمن کی جنگ اورلبنان کے علاوہ خطے بھر میں مداخلت پر نالاں ہے لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت نے بیروت کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات کونقصان پہنچایا ہے اور سعودی عرب کے علاوہ یواے ای کے بھی لبنان کے ساھ تعلقات سردمہری کاشکار ہیں ۔

    رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے صدرابراہیم رئیسی نے کہا تھا کہ اگرالریاض باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے ماحول میں مذاکرات کے انعقاد پر آمادہ ہے تو تہران مزید بات چیت کوتیار ہے۔

    واضح رہے کہ 2019ء میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔سعودی عرب نے ایران پراس حملے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ تہران نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ یمن بحران پر اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے جہاں سعودی عرب سمیت عرب اتحاد ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف لڑ رہا ہے۔

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط

  • پاکستان اور ایران کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی،وزیر داخلہ

    پاکستان اور ایران کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی،وزیر داخلہ

    وزیر داخلہ شیخ رشید سے ایرانی وزیر داخلہ ڈاکٹراحمد وحیدی نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : ملاقات کے دوارن شیخ رشید نے کہا کہ ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال، افغانستان میں ممکنہ انسانی المیے سمیت دیگر امور پر بات چیت کی گئی ملاقات میں پاک ایران بارڈر پر فینسگ کا کام جلد سے جلد مکمل کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم سے آرمی چیف کی ملاقات

    شیخ رشید نے کہا کہ غیرقانونی انسانی امیگریشن اور منشیات کی روک تھام کے لیے فینسگ کا کام مکمل ہونا ضروری ہے پاکستان اور ایران کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی، مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی تائید پر ایران کے مشکور ہیں

    افغانستان کے حالات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ وسائل کی قلت سے افغانستان میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، اقوام عالم کو انسانیت کے ناطے افغان عوام کی مدد کرنی چاہیے خطے میں پائیدارامن اورافغان عوام کی فلاح کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    اس موقع پر ایرانی وزیر داخلہ ڈاکٹر احمد وحیدی نے پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ اضافہ افسوسناک ہے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے۔

    وزیرستان: سیکیورٹی چیک پوسٹ میں گھسنے کی کوشش ،جوابی کاروائی میں دہشت گرد ہلاک

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث گروپ اور عناصرانسانیت کے دشمن ہیں۔ پاکستان پر دہشتگرد حملے کو ایران پر حملہ سمجھتے ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور دیرینہ ہیں۔

    قبل ازیں ایرانی وزیر داخلہ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی ہے،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی ، ایرانی سرحدی گارڈز کے سربراہ احمد علی گودرزی اور پاکستان میں ایرانی اتاشی مصطفی قنبر پور اور پاکستانی فوج اور سکیورٹی فورسز کے اعلی افسران بھی موجود تھے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ایرانی وزیر داخلہ کے مابین اس ملاقات میں ایران اور پاکستان کے باہمی تعلقات اور دونوں ممالک کے سرحدی امور اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا-

    صدر مملکت سے آرمی چیف کی ملاقات

  • ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    ایران کا بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ

    تہران: ایران نے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق ایران نے طویل فاصلے تک مارکرنے والے بیلسٹک میزائل ’خیبرشکن ‘ کا تجربہ کیا ہے ایرانی میزائل 1 ہزار450 کلومیٹرفاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کونشانہ بنایا میزائل ’خیبرشکن‘ میزائل شیلڈ سے پارہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اورمیزائل کولانچ کرنے کے لئے سولڈ فیول کا استعمال کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بیلسٹک میزائل ’خیبرشکن‘ مکمل طورپرایران میں تیارکیا گیا ہے۔

    یہ میزائل تجربہ ایران کی جانب سے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر جبو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سےایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا شرو کی گئیں-

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نےایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا دوبارہ شروع کر دیں۔ انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں نافذ کیا تھا امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے 4 فروری جمعہ کو ایران کی پابندیوں سے استثنیٰ کو بحال کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی پر بالواسطہ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب ،یواے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری

    ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی-

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔

    تاہم بعد ازاں مریکی صدرجو بائیڈن کے مشرق اوسط میں نامزداعلیٰ فوجی جنرل مائیکل کوریلا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جاتا ہے یا ان میں نرمی کی جاتی ہے تو اس سے وہ خطے میں اپنی آلہ کار تنظیموں کی مالی معاونت کرسکتا ہے اور اس کی جانب سے دہشت گردی کے لیے حمایت کو مہمیز مل سکتی ہے پابندیوں سے نجات کی صورت میں اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران غیرمنجمد کی جانے والی رقوم میں سے کچھ رقم خطے میں اپنے آلہ کاروں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرے گا۔

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

    لیفٹیننٹ جنرل مائیکل کوریلا نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اگرانھوں نے ایران پرعاید پابندیوں کاخاتمہ کیا تو اس سے خطے میں ہماری افواج کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

    55 سالہ کوریلا ریاست شمالی کیرولائنا میں واقع فورٹ بریگ میں امریکی فوج کی جوابی فورسزسمیت 18ویں ایئربورن کور کی قیادت کرتے ہیں صدربائیڈن نےان ہی کے زیرقیادت ایئربورن کور کے ارکان کویورپ میں یوکرین کی حمایت میں تعینات کرنے کاحکم دیا ہے اور جنرل کوریلا سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت کے بعد اسی سلسلے میں یورپ روانہ ہونے والے تھے۔

    دریں اثناء امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی متحدہ عرب امارات کا دورہ کررہے ہیں۔انھوں نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ابوظبی اور سعودی عرب پرحال ہی میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خلیجی ممالک کو امریکا کی فوجی امداد بڑھانے پر بات چیت کی ہے۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے