Baaghi TV

Tag: ایران

  • اپنی جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیں گے،ایران

    اپنی جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیں گے،ایران

    دوحہ: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں پورا خطہ "مکمل جنگ” کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

    باغی ٹی وی: قطر میں الجزیرہ عربی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دے گا اور اس طرح کا حملہ امریکہ کی تاریخ کی "سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک” ہوگا۔

    ایران میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دور حکومت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایران کے جوہری مراکز پر حملے کی اجازت دے سکتے ہیں عراقچی نے اپنے دورہ قطر کے دوران وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی اور خطے کی اہم صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے قطر کے غزہ میں جنگ بندی کے لیے کردار کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باقی مسائل بھی جلد حل ہو جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، نمایاں صحافتی خدمات پر سرٹیفکیٹ تقسیم

    قطر میں اپنے قیام کے دوران عراقچی نے حماس کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ فلسطینی عوام نے غزہ میں اسرائیلی جار حیت کے باوجود فتح حاصل کی ہے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے قتل و غارت اور تباہی کے باوجود فلسطینی عوام نے اپنی جدوجہد جا ر ی رکھی جو ان کے اصولوں کی فتح کی علامت ہےاسرائیلی فوج نے حماس کو ختم کرنے اور اپنے یرغمالیوں کو باز یا ب کرانے کی پوری کوشش کی، لیکن آخرکار انہیں حماس سے مذاکرات کرنا پڑے جو کہ حماس کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران شام میں ایک ایسی حکومت کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس میں معاشر ے کے تمام طبقات کی نمائندگی ہو، ایران کا ہدف شام میں استحکام اور اس کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ہےایران کسی بھی ایسی حکو مت کی حمایت کرے گا جسے شامی عوام قبول کریں کیونکہ شام میں استحکام پورے خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔

    فلسطینیوں کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، مولانا فضل الرحمان

    امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی دوبارہ کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ دشمنی اور بداعتمادی سے بھری ہوئی ہے گزشتہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا تھا، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب کر دئیے۔

    عراقچی کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتا ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن بات چیت کو صرف جوہری مسئلے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔

    ملک کے مزید 26 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان  کا دورہ

    ایرانی وزیر خارجہ کا 8 سال بعد افغانستان کا دورہ

    تہران: 8 سال بعد ایران کے کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے افغانستان کے دورے پر پہنچے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی افغانستان کے دورے پر کابل پہنچے جہاں اُن کا پُرتپاک استقبال کیا گیا کابل پہنچنے پر انہوں نے اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ملاقات کی، ایرانی وزیر خارجہ نے طالبان حکومت کے وزیراعظم سے بھی دوبدو ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے افغان پناہ گزینوں کی موجودگی اور پانی کی تقسیم سے متعلق تبادلہ خیال کیا ایران وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ 35 لاکھ افغان مہاجرین کی ان کی وطن واپسی کے لیے پُرعزم ہیں۔

    ایرانی خبر ایجنسی ارنا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے افغانستان کی عبوری حکومت کے رئیس الوزرا ملا محمد حسن آخند سے ملاقات میں ایران اور افغانستان کے تاریخی، دینی اور اقتصادی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی سلامتی کو ایک دوسرے سے وابستہ قرار دیا۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان کو بڑا جھٹکا،درخواست خارج

    انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ چار عشروں کے بعد ایک بار پھر پورے افغانستان میں سیکورٹی برقرار ہوگئی ہےایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلی سطح پر سفارتکاروں کی آمد اور روابط کی حفاظت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان کی امارت اسلامی سے، اسلامی جمہوریہ ایران کے روابط محکم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہا افغانستان کے حالیہ تغیرات کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغان امارت اسلامیہ سے ہمارے روابط میں فروغ آنا چاہئے انہوں نے ایران میں افغان پناہ گزینوں اور پانی کے مسئلے کے بارے میں کہا کہ ان دونوں مسائل کو باہمی تعاون میں توسیع کے عوامل میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہےایران غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی باوقار وطن واپسی چاہتا ہے۔

    برطانیہ کیلئے پروازوں کی بحالی،برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ اور سول ایوی ایشن کا وفد پاکستان پہنچ گیا

    اس ملاقات میں افغانستان کی عبوری حکومت کے رئيس الوزرا محمد حسن آخند نے بھی ایرانی وفد کے دورہ افغانستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دورے انجام دیئے جانے کی ضرورت ہےاسلامی امارت افغانستان کی عبوری حکومت کے رئیس الوزرا نے دونوں برادر مسلمان ملکوں کے درمیان سفارتی، سیاسی اور اقتصادی روابط میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ ایران نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا اور یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات تھی۔

    حالیہ برسوں میں ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق اور ہلمند اور ہریرود دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ایران کی سرحد افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر (560 میل) سے زیادہ ہے، اور اسلامی جمہوریہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آبادی کی میزبانی کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر افغان ہیں جو دو دہائیوں کی جنگ کے دوران اپنے ملک سے فرار ہوئے تھے۔

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان مہاجرین کی آمد میں اضافہ ہوا ہے ستمبر میں، ایران میں مقامی میڈیا نے افغانستان کے ساتھ مشرقی سرحد کے 10 کلومیٹر سے زیادہ کے ساتھ ایک دیوار کی تعمیر کا اعلان کیا، جو تارکین وطن کے داخلے کا اہم ذریعہ ہے.

    حکام نے اس وقت کہا تھا کہ سرحد کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی طریقوں میں خاردار تاریں اور پانی سے بھری کھائیاں شامل ہیں تاکہ ’ایندھن اور سامان، خاص طور پر منشیات کی اسمگلنگ‘ کو روکا جا سکے اور ’غیر قانونی امیگریشن‘ کو روکا جا سکے۔

    پاکستان کوسٹ گارڈز کی بلوچستان میں کارروائی،1832کلوگوام اعلی کوالٹی کی چرس برآمد

    دسمبر میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایرانی نے کہا تھا کہ ”60 لاکھ سے زیادہ افغانوں نے ایران میں پناہ لی ہے،ایران کئی سالوں سے افغانستان میں فعال سفارتی موجودگی رکھتا ہے، لیکن اس نے قبضے کے بعد سے ابھی تک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔

    گزشتہ کئی سالوں میں متعدد ایرانی وفود افغانستان کا دورہ کر چکے ہیں جن میں اگست 2023 میں ایک پارلیمانی وفد بھی شامل ہے تاکہ پانی کے حقوق پر بات چیت کی جا سکے۔

    چیمپئنز ٹرافی:گروپ میچز اور پہلے سیمی فائنل کے ٹکٹوں کی فروخت کل سے شروع

  • سپیکرپنجاب اسمبلی سے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے وفد کی ملاقات

    سپیکرپنجاب اسمبلی سے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے وفد کی ملاقات

    لاہور: ایران کی پارلیمنٹ کے رکن محمد میرزائی کی قیادت میں ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان سے ملاقات کے لیے اسمبلی چیمبر پہنچا۔

    ملاقات میں ایران کے پارلیمانی وفد میں علی اکبر علی زادہ بورمی، امیر حسین ثابتی مونفرد، اور علی معروفی شامل تھے۔ اس موقع پر قونصل جنرل ایران لاہور مہران موحدفر، مسٹر حسینی اور علی اصغر مسعودی بھی موجود تھے۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مذہبی اور ثقافتی تعلقات کی گہرائی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور احترام کا نشان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی رابطے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات نہ صرف دوطرفہ ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ علاقائی امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو تجارتی تعلقات میں تبدیل کرنا باہمی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    ایرانی رکن پارلیمنٹ محمد میرزائی نے سپیکر ملک محمد احمد خان کو ایران کے دورے کی دعوت دی، جسے سپیکر نے خوشی سے قبول کیا اور اس دعوت کا خیرمقدم کیا۔

    ملاقات کے دوران سپیکر ملک محمد احمد خان نے ایران کے وفد کو پنجاب اسمبلی کے نئے ایوان کا دورہ بھی کروایا اور اسمبلی کی سرگرمیوں اور اس کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس دوران سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی چودھری عامر حبیب، ایڈوائزر اسامہ خاور، ملک تیمور، سٹاف آفیسر عماد حسین بھلی اور ترجمان پنجاب اسمبلی راؤ ماجدعلی بھی ملاقات میں موجود تھے۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش تھی، جس میں دونوں طرف سے مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

    غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

  • ایران نے گستاخی رسول ﷺ  کرنے پر گلوکار کو موت کی سزا سنا دی

    ایران نے گستاخی رسول ﷺ کرنے پر گلوکار کو موت کی سزا سنا دی

    تہران: ایران نے پاپ گلوکار امیر حسین المعرف ٹیٹالو کو نبی پاک ﷺ کی توہین کرنے پر سزائے موت سنا دی۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق ایران کے معروف پاپ گلوکار کو توہین رسالت ﷺ پر گزشتہ برس ترکیہ سے بلا کر حراست میں لیا گیا تھاگلوکار کو توہینِ مذہب پر 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم یہ مقدمہ دوبارہ کھولا گیا اور اس بار نبی آخری الزماں ﷺ کی گستاخی بھی ثابت ہوگئی-

    تاہم سپریم کورٹ میں سرکاری پراسیکیوٹر نے اس سزا پر اعتراض کیا تھا کہ یہ سزا اس کے جرم کے مقابلے میں بہت کم ہے اسے سزائے موت سنائی جائے،سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر کی یہ استدعا قبول کر لی اور پراسیکیوٹر کے پچھلی 5 سال قید پر اعتراض کو تسلیم کرتے ہوئےنبی پاک ﷺ کی توہین کرنے پر 37 سالہ گلوکار کو موت کی سزا سنا دی۔

    کبریٰ خان نے فروری میں شادی کی تصدیق کردی

    واضح رہے کہ گلوکار امیر حسین 2018 سے استنبول میں مقیم تھے اور توہین مذہب و رسول ﷺ پر ایران کی درخواست پر ترک پولیس نے گرفتار کرکے دسمبر 2023 میں ایران کے حوالے کیا تھا اس سےقبل جسم فروشی کو فروغ دینےاسلامی جمہوریہ کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے اور فحش مواد شائع کرنے کا الزام میں بھی گلوکار کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    پاسپورٹ کیلئے فاسٹ ٹریک کا دائرہ مزید26 شہروں تک بڑھا دیا گیا

    العربیہ کے مطابق حکومت مخالف ایرانی سیاست دان اسے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے تھےوہ 2015میں ایرانی جوہری پروگرام کی حمایت میں بھی ایک گانا ریکارڈ کر چکا تھا تاہم یہ گانا ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں منظر عام پر آیا تھا اس گلوکار نے 2017 میں صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ملاقات کی تھی۔

    چیمپئنز ٹرافی :سنیل گواسکر نے پاکستان کو فیورٹ قرار دے دیا

  • ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایرانی سپریم کورٹ کے باہر فائرنگ،2 جج ہلاک،ایک زخمی

    ایران: سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر ججز پر فائرنگ کی گئی ہے
    فائرنگ سے سپریم کورٹ کے 2 ججز جاں بحق، ایک زخمی ہو گیا ہے، حملہ آور نے ایرانی سپریم کورٹ کے 3 ججوں کو نشانہ بنایا، ایک جج محافظ سمیت زخمی ہوا ہے، واقعہ تہران میں سپریم کورٹ کے باہر پیش آیا، حملہ آور نے فائرنگ کے بعد خود کو بھی گولی مار لی ہے،

    ایران کی سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں حجت الاسلام والمسلمین رزنی اور حجت الاسلام والمسلمین مغیثی کو تہران کے محل انصاف کے باہر قتل کر دیا گیا۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ایک حملہ آور نے ججوں پر فائرنگ کردی۔حملے میں ہلاک ہونے والے دو ججوں کی شناخت علی رزنی اور محمد مغیشی کے نام سے ہوئی ہے۔واقعہ کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

    دونوں ججز ایران میں دہشت گردی اور جاسوسی کے مقدمات کے ذمہ دار تھے، اور ان کی ہلاکت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی تھے، جو ایران کے سخت گیر ججوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان دونوں کو "پھانسی دینے والے” کے طور پر جانا جاتا تھا، کیونکہ یہ ججز مختلف دہشت گردوں اور مخالفین کو سخت سزائیں دینے کے لیے مشہور تھے۔ ان کی ہلاکت نے ملک میں سنسنی پھیلائی اور اس پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ایران، حملے میں جاں بحق دونوں ججز”پھانسیاں دینے” کے حوالہ سے مشہور
    مقتول ججز علی رازینی اور محمد مغیشی نے ایران میں کئی سالوں تک عدلیہ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ان کی شہرت اس بات کے لیے رہی کہ انھوں نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزائیں سنائیں۔ ان کی عدالتوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا دی، جن میں بیشتر وہ لوگ شامل تھے جو ایران کی حکومت کے مخالف یا مختلف نظریات رکھتے تھے۔1980 کی دہائی میں ہونے والی بڑے پیمانے پر پھانسیوں کے دوران دونوں ججز کا کردار خاص طور پر مشہور ہوا، جب حکومت نے سیاسی قیدیوں کو پھانسی دی۔ ان پھانسیوں کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    ججز کی ہلاکت کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ واقعہ ایران کی عدلیہ میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایرانی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    حکومت پنجاب کا گاڑیوں کی رجسٹریشن پر بڑا فیصلہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

  • ایران اور روس کے صدور کے مابین جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط

    ایران اور روس کے صدور کے مابین جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے روس کے دارالحکومت ماسکو میں موجود کریملن میں ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہے۔

    روسی صدر پیوٹن نے ایران میں دو نئے نیوکلیئر پاور پلانٹ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران کے لیے نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر میں کچھ تاخیر ہوئی ہے، تاہم وہ ایران کے لیے مزید جوہری منصوبے شروع کرنے کو تیار ہیں تاکہ دونوں ممالک کو توانائی کے بحران سے نجات مل سکے اور ان کی اقتصادی ترقی کو مزید فروغ ملے۔معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان فوجی تعاون کو مزید بڑھایا جائے گا۔ پیوٹن نے واضح طور پر کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو لاحق فوجی خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کریں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران یا روس پر حملہ کرنے والے کسی بھی ملک کو فوجی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔ اس معاہدے میں سیکیورٹی سروسز کے درمیان تعاون، فوجی مشقوں اور افسران کی تربیت کا تبادلہ بھی شامل ہے۔

    اس موقع پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے یوکرین کی جنگ کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ یوکرین جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے اور امن قائم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات کا خیرمقدم کرے گا کہ دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر آ کر امن کے حصول کی کوشش کریں۔ روسی صدر پیوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کی بدولت دونوں ممالک عالمی سطح پر درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے میں زیادہ طاقتور ہوں گے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان یہ شراکت داری نہ صرف ان دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ عالمی سطح پر توازن کو بھی بہتر کرے گی۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے دونوں کے درمیان اقتصادی، فوجی اور سیاسی تعلقات میں مزید گہرائی آئے گی۔ ایران اور روس کی اس اسٹریٹجک شراکت داری کا اثر عالمی سیاست پر بھی پڑے گا، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں مغربی ممالک اور عالمی طاقتوں کی پالیسیاں ایران اور روس کے مفادات کے خلاف ہو سکتی ہیں۔

    علیمہ خان عدالت پیش،آج فیصلہ کروں گا، جج

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

  • ایرانی ایٹمی تنصیب پر پیجر دھماکوں کی طرز کا حملہ ناکام بنایا گیا،روسی میڈیا

    ایرانی ایٹمی تنصیب پر پیجر دھماکوں کی طرز کا حملہ ناکام بنایا گیا،روسی میڈیا

    ماسکو: ایرانی ایٹمی تنصیب پر پیجر دھماکوں کی طرز کا حملہ ناکام بنادیا گیا،یہ دعویٰ روسی خبر ایجنسی کی جانب سے کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی: روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی تاس نے ایران کے نائب صدر جواد ظریف کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یورینئیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے گیس سینٹری فیوج کے پلیٹ فارم میں بم نصب تھا جسے ناکارہ بنادیا گیاجواد ظریف نے اس کارروائی کے پیچھے اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ بھی دیا۔

    جواد ظریف نے ایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے لبنان میں ہونے والے پیجر دھماکوں پر بات کی، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو پیجر دھماکو ں کی تیاری کے لیے بہت وقت لگا لیکن شاید پابندیوں کے باعث یہ دھماکے ممکن ہوئے پابندیوں کے باعث کسی پیداواری ادار ے سے براہ راست خریداری کرنا ممکن نہیں ہوتا جس کے باعث کسی تیسرے ذریعے سے خریداری کرنی پڑتی ہے، اگر اسرائیل سپلا ئی چین میں داخل ہوجائے تو وہ جو چاہے کرسکتا ہے اور جو چاہے نصب کرسکتا ہے۔

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہ ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن نے سینٹری فیوج خریدا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر دھماکہ خیز مواد نصب تھا جس کا ماہرین نے پتا لگا لیا یہ واقعہ ان پابندیوں کی وجہ سے ہوا جن سے ایران کو بچنا پڑتا ہے، ان کے باعث مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ ایران کی سلامتی کو بھی نقصان پہنچا ہے،تاہم جواد ظریف نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا۔

    مریم نواز کی فیک تصاویرمعاملہ:ملزمان کے فونز سے شہباز گل اور عمران ریاض خان کی پوسٹیں برآمد

    واضح رہے کہ 17 ستمبر 2024 کو لبنان میں سیکڑوں کی تعداد میں پیجرز میں دھماکے ہوئے تھا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور ہزارو ں زخمی ہوگئے تھےان دھماکوں کے اگلے ہی روز لبنان میں کئی واکی ٹاکی سیٹس اور موبائل فونز میں دھماکے ہوئے جن کے نتیجے میں مزید 25 افراد ہلاک اور 608 افراد زخمی ہوئے تھےلبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ان دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا، بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    علی امین گنڈا پور ٹی وی پر جھوٹی بڑھکیں ماررہے ہیں، ترجمان جے یو آئی

  • ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    نیو یارک: یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (یو اے این آئی) کی جانب سے ٹرمپ حکومت کی نئی مدت کے پہلے 100 دنوں کے دوران ایران کے بارے میں امریکی پالیسی کو از سر نو تشکیل دینے کی سفارشات شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (UANI) امریکا میں وہ تنظیم ہے جو ایران کو ایک علاقائی سپر پاور بننے کے اپنے عزائم کو حاصل کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا میں یہ غیر جانبدار تنظیم تہران کو عالمی سطح پر دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے مذکورہ تنظیم کا منصوبہ امریکی حکومت کے لیے قومی طاقت کے چار اہم محوروں پر مبنی ”جامع حکمت عملی“ پر انحصار کرتا ہے، یہ چار محور سفارتی، معلوماتی، فوجی اور اقتصادی ہیں۔

    ٹیسٹ فاسٹ بولر میر حمزہ فیلڈنگ کے دوران زخمی

    اس کی اہم سفارشات میں اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ لگانے کے طریقہ کار کو فعال کرنا، ایران سے ایٹمی پروگرام میں ”زیرو افزودگی یا دوبارہ پروسیسنگ“ کی پالیسی پر عمل کرنا شامل ہے۔

    تہران پر دباؤ کو بڑھانے کے لیے اتحادیوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد تشکیل دینا۔ ایرانی عوام کی مدد کے لیے ”ڈیموکریسی فنڈ“ بنانے کے لیے ایرانی اثاثوں کو ضبط اور ری ڈائریکٹ کرنا۔

    امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے پر ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی خفیہ ایجنسی کی تنصیبات کے خلاف فوجی حملے کرنا۔

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    امریکی پابندیوں سے بچنے والے پورے ایرانی گھوسٹ بیڑے کی نشاندہی کرنا اور پائلٹس کیلئے انعامی پروگرام شروع کرنا کہ وہ اپنے جہازوں پر ایرانی تیل کی نقل و حمل نہ کریں۔

    اس تنظیم کا کہنا ہے کہ قومی طاقت کے اوزار (DIME) پر مبنی اس جامع نقطہ نظر کے ذریعے ٹرمپ حکومت ایرانی حکومت کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ ایرانی عوام کو ان کی اپنی خواہشات کا احساس کرنے کے لیے جگہ فراہم کر سکتی ہے پہلے 100 دنوں کے اندر ان سفارشات پر عمل کرنا شروع کر کے آنے والی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اسلامی جمہوریہ کو اپنی دہائیوں سے جاری جارحیت اور جبر کی مہم کی اصل قیمت کا سامنا کرنا پڑے۔
    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری
    دوسری جانب ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات ”ایرانوفوبیا“ کو فروغ دینے کی کوشش ہیں اور ایران کی جانب سے ایسے اقدامات کی مسلسل تردید کی گئی ہے۔

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اپنے غیرملکی میڈیا انٹرویو میں مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی ٹرمپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور اکتوبر میں سوئس سفارت کاروں کے ذریعے امریکہ کو تحریری یقین دہانی بھیجی تھی۔

  • سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

    سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

    ریاض: سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں ایران کے 6 شہریوں کا سر قلم کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے جرم میں سزا پانے والے ایرانی شہریوں کا خلیجی ساحلی شہر دمام میں سرقلم کردیا گیامنشیات اسمگلنگ کے حوالے سے سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بیان میں کہا کہ مذکورہ افراد کو خفیہ طریقوں سے سعودی عرب میں چرس لانے پر سزا دی گئی ہے تاہم مذکورہ افراد کی سزا پر کب عمل درآمد کیا گیا اس حوالے سے بیان میں کچھ نہیں بتایا۔

    سال 2025 میں سورج اور چاند کو کتنی بار گرہن لگے گا؟

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں 2024 میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں 117 افراد کے سرقلم کردیئے گئے،سعودی عرب کی حکومت نے 2023 میں انسداد منشیات کی مہم شروع کردی تھی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی تھیں۔

    پاکستان میں رجب المرجب کا چاند نظر آگیا

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب 2023 میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا، اس سے پہلے چین اور ایران موجود تھے،انسانی حقوق کے ادارے سعودی عرب کے اس قانون پر مسلسل تنقید کررہے ہیں جبکہ سعود ی عرب کی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے سزائے موت کا قانون ضروری ہے اور اس پر اسی وقت عمل درآمد کیا جاتا ہے جب اپیل مسترد ہو یا تمام مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔

    تربیت یافتہ پاکستانی پائلٹس کو ایکسپورٹ کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے 2016 میں ایران کے ساتھ تعلقات اس وقت منقطع کر لیے تھے جب تہران میں اس کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر شیعہ عالم نمر النمر کی پھانسی پر مشتعل مظاہرین کی جانب سے حملے کیے گئے تھے،مارچ 2023 میں چین کی ثالثی کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے۔

    پشاور میں بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج پر پولیس کی شیلنگ

  • اسماعیل ہنیہ کا قتل: ایران کا  اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ

    اسماعیل ہنیہ کا قتل: ایران کا اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ

    تہران: ایران نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید نے سیکرٹری جنرل یو این انتونیو گوتریس کو خط لکھا ہے خط میں ایرانی سفیر نے کہا اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کو شہید کرکے سنگین جرم کیا اور اس گھناؤنے جرم کی باضابطہ ذمہ داری قبول کی، ایران اسرائیل پر جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے ، اسرائیل عالمی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیردفاع نے گزشتہ روز حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا باضابطہ اعتراف کیا تھا،اس نے کہا تھا کہ اسرائیل حوثیوں پر ‘سخت حملہ‘ کرے گا اور اس کی قیادت کو ’ختم‘ کر دے گا۔

    خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    کاٹز نے حزب اللہ اور حماس کے رواں سال شہید ہونے والے ہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جیسے ہم نے تہران، غزہ اور لبنان میں ہنیہ، سنوار، اور نصر اللہ کے ساتھ کیا تھا، ہم حدیدہ اور صنعا میں بھی ایسا ہی کریں گے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، دو ملزمان اشتہاری قرار

    واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے جب انھیں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ حماس اور ایرانی حکام نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کے حالیہ بیان سے قبل اسرائیل کی جانب سے اس الزام کی نہ تو کبھی تردید کی گئی تھی نہ تصدیق۔

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران