Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • رواں سال  ملک میں چاندی کی اسمگلنگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ

    رواں سال ملک میں چاندی کی اسمگلنگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق رواں سال کے 5 ماہ کے دوران پاکستان کسٹمز نے ملک بھر کے بین الاقوامی ائیر پورٹس پر2.73 کلوگرام سونا اور 359 کلوگرام چاندی ضبط کیا-

    ایف بی آر کے مطابق پاکستان کسٹمز نے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران ائیرپورٹس پر کارروائیاں کرتے ہوئے 30 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور چاندی ضبط کرلیا جبکہ ملک میں چاندی کی اسمگلنگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایف بی آر نے بتایا کہ چاندی کی درآمدات اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت تجارت کے قواعدو ضوابط کے تحت ہوتی ہیں اور مارکیٹ جائزوں کے مطابق چاندی کی قیمت میں گزشتہ 10 ماہ کے دوران دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، قیمت میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے ملک میں چاندی اسمگلنگ کا رحجان بڑھا ہے تاہم ایف بی آر اسمگلنگ کی روک تھام اور اس کے منفی اثرات سے قومی معیشت کے تحفظ کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

  • مشکلات کے باوجود اسمگلنگ کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ اب تھمنے والا نہیں ہے،چیئرمین ایف بی آر

    مشکلات کے باوجود اسمگلنگ کیخلاف کارروائیوں کا سلسلہ اب تھمنے والا نہیں ہے،چیئرمین ایف بی آر

    فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے چیئرمین راشد محمودلنگڑیال نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگے کپڑے، گھر، گاڑیوں اور گھروں کی نمائش کرنے والے ریڈار پر ہیں –

    میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گوشوارہ کم ظاہر کرنے والے 30 افراد کو نوٹس جاری کرچکے اور ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائیوں کی یومیہ رپورٹ مرتب ہو رہی ہےپہلے ٹیکس والی چینی اور بغیر ٹیکس والی چینی کا ریٹ الگ الگ تھا، اب بغیر ٹیکس والی چینی کا اسٹاک رکھنے والے کا نام بتائے، ایسے افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی ہوگی،یک سال میں شوگر انڈسٹری سے جمع سیلزٹیکس میں 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف ایک چیف کمشنر انفوسٹمنٹ مقرر کر دیا گیا ہے، ٹیکس چوروں کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں چیف کمشنر کے ماتحت ہوں گی،سمگلنگ کے سامان کی ترسیل روکنے کے لیےسخت کارروائیاں ہو رہی ہیں، اسمگلرز نے کسٹم حکام کو نقصان پہنچایا، دو ٹیکس اہلکار شہید ہوئے،مشکلات کے باوجود اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ اب تھمنے والا نہیں ہے۔

  • غلط ٹیکس ریٹرن   جمع کرانے کے پیغامات ، ایف بی آر کی وضاحت جاری

    غلط ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے پیغامات ، ایف بی آر کی وضاحت جاری

    ٹیلی کام سروس پرووائیڈرز کی جانب سے جاری کیے گئے غلط ٹیکس ریٹرن میسج کے بارے میں ایف بی آر کی وضاحت آگئی ہے۔

    ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کی طرف سے تاریخ گزر جانے کے بعد انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے پیغامات موصول ہونے کی شکایات موصول ہوئی تھیں،تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ایف بی آر نے ایسے کسی بھی میسج کو جاری کرنے کا نہیں کہا،پی ٹی اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ پیغامات ٹیلی کام سروس پرووائیڈرز کی تکنیکی خرابی کی وجہ سے جاری ہوئے ہیں۔

    ایف بی آر نے پی ٹی اے کو متعلقہ ٹیلی کام سروس پرووائیڈرز سے رابطہ کر کے معاملہ کے فوری حل کیلئے معاونت کی درخواست کی ہے،ایف بی آر ہمیشہ معزز ٹیکس دہندگان کی رہنمائی اور مدد کے لیے دستیاب ہے ایف بی آر واضح اور درست معلومات کی فراہمی کے لئے پر عزم ہے۔

  • ایف بی آر کا معروف اسپتال پر ٹیکس چوری کا الزام

    ایف بی آر کا معروف اسپتال پر ٹیکس چوری کا الزام

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے لاہور کے تمام نجی اسپتالوں سے ٹیکس ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جبکہ ایک معروف پرائیویٹ اسپتال کا ریکارڈ پہلے ہی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

    ایف بی آر حکام کے مطابق مذکورہ اسپتال کی انتظامیہ ٹیکس چھپانے میں ملوث پائی گئی ہے اور فراہم کردہ اعداد و شمار درست نہیں تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال کا اصل ٹیکس تقریباً 55 کروڑ روپے سالانہ بنتا ہے، جبکہ انتظامیہ سہ ماہی بنیادوں پر صرف 55 لاکھ روپے ٹیکس جمع کرانے پر اصرار کر رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دیگر نجی اسپتالوں سے بھی مکمل ٹیکس ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے اور ریکارڈ کی چھان بین جاری ہے۔ افسروں کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری اور غلط بیانی کے معاملے پر سخت کارروائی کی جائے گی

    ایئربس A320 میں سافٹ ویئر خرابی، سیکڑوں پروازیں متاثر

    آئی پی ایل خیر باد، اب پی ایس ایل،سابق کپتان کا بڑا اعلان

  • ایف بی آر کی انکم ٹیکس رولز 2002ء میں ترمیم کی تجویز، الیکٹرانک فائلنگ لازمی قرار

    ایف بی آر کی انکم ٹیکس رولز 2002ء میں ترمیم کی تجویز، الیکٹرانک فائلنگ لازمی قرار

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس رولز 2002ء میں ترمیم کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کے تحت انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس رولز 2002ء میں ترمیم کی تجویزدینے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ایف بی آر کی تجویز کے مطابق، اب انکم ٹیکس ریٹرن اور ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹ صرف آن لائن جمع کرائی جا سکیں گی۔جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر نے مجوزہ ترمیم پر تجاویز اور اعتراضات 7 دن میں طلب کر لیے ہیں۔ ترمیم رول 73 کے سب رول (2DD) میں کی گئی ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام میں ڈیجیٹل شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق، ریٹیلرز کے لیے بزنس انٹیگریشن بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ وہ ریٹیلرز جن کا ودہولڈنگ ٹیکس ایک لاکھ روپے سے زائد ہے، انہیں ایف بی آر کے نظام کے ساتھ منسلک ہونا ہوگا۔

    مزید بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس قوانین 2006ء میں بھی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت پانچ لاکھ روپے تک ودہولڈنگ ٹیکس والے ریٹیلرز بھی ضابطے کے دائرے میں آئیں گے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نیا قانون سیکشن 150Q کے تحت شامل کیا گیا ہے، جبکہ انٹیگریشن سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے سیکشن 43A کے مطابق کی جائے گی

    اسحاق ڈار کا 27ویں آئینی ترمیم پر اتحادیوں سے مشاورت کا اعلان

    نیو یارک میئر انتخاب: مسلمان امیدوار ظہران ممدانی کی برتری، پولنگ جاری

  • ایف بی آر  نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں  توسیع کر دی

    ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کر دی ہے۔

    ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب ٹیکس ریٹرن 15 اکتوبر تک جمع کروائے جا سکیں گے۔ترجمان ایف بی آر کے مطابق تاریخ میں توسیع تاجر تنظیموں، ٹیکس بار ایسوسی ایشنز اور عوام کی درخواست پر کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 40 لاکھ سے زائد افراد اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروا چکے ہیں۔اس سے قبل ایف بی آر نے واضح کیا تھا کہ تاریخ میں توسیع نہیں کی جائے گی، تاہم نئی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔

    ایف بی آر کے مطابق ٹیکس گزار نئے متعارف کردہ سادہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم کے ذریعے آسانی سے ریٹرن فائل کر سکتے ہیں۔ مقررہ تاریخ تک ریٹرن جمع نہ کروانے والوں کو لیٹ فائلر تصور کیا جائے گا اور ان پر قانون کے مطابق جرمانے عائد ہوں گے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکس گزار واجب الادا ٹیکس ادا کرکے 15 دن کی یہ توسیع حاصل کر سکتے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے معین ریاض قریشی نامزد

    لاہور میں شہری سے رشوت لینے والے 4 ڈولفن اہلکار برطرف

    وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر دیں

    سندھ حکومت کا این جی اوز کو مقامی افراد کو ملازمت دینے کی ہدایت

  • ٹیکس چھپانے والے جیولرز کیخلاف کریک ڈاؤن کی تیاری

    ٹیکس چھپانے والے جیولرز کیخلاف کریک ڈاؤن کی تیاری

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ سے باہر اور صلاحیت سے کم ٹیکس ادا کرنے والوں کے خلاف ملک گیر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے،جس کے لیے ایف بی آر نے 60 ہزار سے زائد جیولرز کا ڈیٹا اکٹھا کر لیا۔

    ایف بی آر حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں جیولرز کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اعداد و شمار کے مطابق زیورات کے کاروبار سے وابستہ 60 ہزار جیولرز میں سے صرف 21 ہزار رجسٹرڈ ہیں جب کہ ان میں سے بھی محض 10 ہزار نے ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں۔

    حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی صرف ایک مارکیٹ میں ہی ایسے 50 جیولرز موجود ہیں جن کے ٹیکس ریٹرنز ان کی دکانوں، خرید و فروخت اور رہن سہن کے معیار سے میل نہیں کھاتے،ہزاروں جیولرز اب تک ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہوئے، لہٰذا نوٹسز کے ذریعے ان سے جواب طلبی کی جا رہی ہےساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلاوجہ کسی تاجر یا صنعت کار کو نوٹس نہیں بھیجا جائے گا، تاہم ٹیکس چوری کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

    سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    ایف بی آر حکام نے کہا کہ ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ بیشتر جیولرز اپنی آمدنی کم ظاہر کرکے ٹیکس چھپا رہے ہیں، ٹیکس چھپانے والے جیولرز کے خلاف کارروائی شروع کی جا رہی ہے جس کے لیے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 900 جیولرز کی فہرست تیار کر لی گئی ہےاگر ہر شہری اپنے حصے کا ٹیکس ایمانداری سے ادا کرے تو ملک کی معیشت بہتر طور پر چل سکتی ہے ادارے کا مقصد تمام سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے تاکہ ٹیکس چوری کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

  • سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ان تمام افراد کا ڈیٹا جمع کرلیا ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی عالیشان زندگی، گاڑیاں، بنگلے اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں،پہلے مرحلے میں ایک لاکھ امیر افراد کا آڈٹ کیا جائے گا، ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو شادیوں پر بے پناہ اخراجات کرتے ہیں لیکن ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔ شادیوں میں 20، 20 ہزار ڈالر کے مہنگے سوٹ پہننے والے بھی ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے ہیں۔

    ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ دولت کی نمائش کرنے والوں کو لازمی طور پر اپنے ذرائع آمدن واضح کرنے ہوں گے۔ اگر ظاہر کی گئی آمدن اور خرچ میں فرق پایا گیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،جبکہ ایف بی آر گزشتہ سال جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کا اس سال کے گوشواروں سے موازنہ کرے گا اگر کسی شخص کی آمدن میں اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا لیکن وہ مسلسل عیاش زندگی گزار رہا ہے یا سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش اشیاء اور تقریبات کی نمائش کر رہا ہے تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا یہ اقدام نان فائلرز اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف مہم کا حصہ ہے تاکہ قومی خزانے میں اضافہ کیا جا سکے اور ٹیکس کے دائرے کو مزید وسیع کیا جا سکے۔

  • فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سے 100 ارب نقصان کی رپورٹ غلط ہے،ایف بی آر

    فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سے 100 ارب نقصان کی رپورٹ غلط ہے،ایف بی آر

    چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کہا ہے کہ فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سے 100 ارب روپے نقصان کی آڈٹ رپورٹ درست نہیں۔

    میڈیا بریفنگ میں چیئرمین ایف بی آر نے ممبرز کسٹم کے ہمراہ بتایا کہ گاڑیوں کے اسکینڈل میں ایک ایڈیشنل کلکٹر اور 2 اسسٹنٹ کلکٹرز کو معطل جبکہ فیک آئی ڈیز سے گاڑیاں کلیئر کرنے والے 7 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ افراد اور اسٹیک ہولڈرز نے فیس لیس اسسمنٹ کے خلاف منفی مہم چلائی، جن افسران نے یہ رپورٹ بنائی ان کی اگلے گریڈ میں ترقی نہیں ہوئی۔

    چیئرمین ایف بی آر کے مطابق فیس لیس اسسمنٹ کے بعد ریونیو وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے، لینڈ کروزر کی کلیئرنس پر 4 کروڑ 72 لاکھ روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ غلط رپورٹ تیار کرنے اور میڈیا کو لیک کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ ادارے میں اصلاحات جاری ہیں، پاکستان کسٹمز نے فیس لیس اسسمنٹ کا آڈٹ خود کروایا تھا تاکہ نظام میں خامیوں کو دور کیا جا سکے، رپورٹ جولائی میں مکمل ہوئی مگر ایف بی آر کو پہنچنے سے پہلے لیک ہو گئی۔

    ایف بی آر حکام نے کہا کہ یہ سنگین معاملہ ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں، پہلے صرف بات چیت پر اسسمنٹ ہوتی تھی، اب اصل اسسمنٹ کے بعد مزید اسسمنٹ کی جاتی ہے۔

    امریکا اور چین کے درمیان ٹک ٹاک کی فروخت سمیت تجارتی معاملات پر اتفاق

    اسرائیلی حملہ دہشت گردی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایرانی صدر

    امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان

  • ایف بی آر کا  صلاحیت بڑھانے کیلئے 1600 آڈیٹرز بھرتی کرنے کا اعلان

    ایف بی آر کا صلاحیت بڑھانے کیلئے 1600 آڈیٹرز بھرتی کرنے کا اعلان

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آڈٹ کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے تقریباً 1600 آڈیٹرز بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    ایف بی آر کے مطابق شوگر، سیمنٹ، تمباکو، کھاد، مشروبات اور ٹیکسٹائل سیکٹرز میں ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ متعارف کرا دی گئی ہے۔ آڈٹ کے لیے ٹیکس دہندگان کا انتخاب مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک پیرامیٹرز کے تحت کیا جائے گا۔ترانسفارمیشن پلان کے نتیجے میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.24 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ فیس لیس کسٹمز اپریزمنٹ کے باعث فی گڈز ڈیکلریشن محصولات میں 17.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں انفورسمنٹ کی وجہ سے محصولات 8 گنا بڑھ گئے۔

    چیئرمین ایف بی آر نے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں ایل ٹی او کراچی میں فیسیلٹیشن ڈویژن قائم کیا گیا ہے تاکہ کاروباری طبقے کو مزید آسانیاں فراہم کی جا سکیں۔

    ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کیس: ملزم کی ضمانت مسترد، جیل بھیج دیا گیا

    چھ مسلم ممالک پر اسرائیلی حملے، قطرڈپلومیسی تو وڑ گئی، اربوں ڈالر تحائف کام نہ آئے

    آئی سی سی رینکنگ جاری، بابر اعظم ون ڈے میں تیسرے نمبر پر

    نیپال، سابق چیف جسٹس سوشیلا کرکی عبوری حکومت کی سربراہ ہوں گی