Baaghi TV

Tag: ایم ایل ون

  • پاکستان ریلوے کی  ایم ایل ون پر کام شروع کرنے کی تیاریاں تیز

    پاکستان ریلوے کی ایم ایل ون پر کام شروع کرنے کی تیاریاں تیز

    ایم ایل ونپاکستان ریلوے کے مین لائن ون (ML-1) منصوبے کے پہلے مرحلے پر تعمیراتی کام جنوری 2027 میں شروع کیے جانے کا امکان ہے-

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منصوبے کا کام جلد شروع کرنے کی ہدایت کے بعد پاکستان ریلوے نے منصوبے کے پہلے مرحلے سے متعلق مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں اور ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ تیز کردیا ہے،پاکستان ریلوے نے 8 ستمبر کو آن لائن ابتدائی مارکیٹ انگیجمنٹ سیشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں سول ورکس کے مقامی و غیر ملکی ٹھیکیداروں، منصوبہ ڈیزائن کرنے والے ماہرین اور مانیٹرنگ کنسلٹنٹس کو مدعو کیا گیا ہے۔

    اجلاس میں منصوبے کی تیاری، خریداری کے عمل، حکمت عملی، مارچ کے بعد ہونے والی پیشرفت اور پہلے مرحلے سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائےگافاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ حکومت منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دینے کی بھرپور کوشش کررہی ہے اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ ایم ایل ون منصوبے کا کام ہر صورت آئندہ سال جنوری میں شروع ہوجائے۔

    انہوں نے کہاکہ ابتدائی مارکیٹ مشاورت، بین الاقوامی ٹینڈرنگ، بولیوں کے عمل، ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی شارٹ لسٹنگ اور معاہدوں کے اجرا میں قریباً 4 سے 5 ماہ لگ سکتے ہیں، تاہم وزارت ریلوے جنوری میں منصوبے کا افتتاح یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی،ایم ایل ون کے پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی، سکھر تک قریباً 480 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائےگا۔

    منصوبے کے تحت اس روٹ پر اپ اور ڈاؤن دونوں سمتوں میں نئے ٹریک بچھائے جائیں گے، جبکہ ریلوے لائن کے دونوں اطراف باڑ بھی لگائی جائے گی تاکہ لوگوں، جانوروں اور گاڑیوں کی غیر مجاز آمدورفت روکی جاسکے منصوبے کی تکمیل میں قریباً ڈھائی سے 3 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے یہ ریلوے کوریڈور ملک کے مجموعی مسافر ٹریفک کا قریباً 76 فیصد جبکہ مال بردار ٹریفک کا 98 فیصد تک سنبھالتا ہے اور بڑے آبادی والے مراکز اور صنعتی علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

    ایم ایل ون کے پہلے مرحلے پر قریباً 2.5 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے، منصوبے کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے متوقع ہے جبکہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، یورپی سرمایہ کاری بینک، عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سے شریک مالی معاونت کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

    منصوبے کے مجوزہ دائرہ کار میں کیماڑی، لانڈھی، حیدرآباد، نواب شاہ اور روہڑی کے درمیان مختلف ریلوے سیکشنز پر سول اور ٹریک ورکس شامل ہیں،اس کے تحت موجودہ ٹریک کی تعمیر نو، محدود پیمانے پر ری الائنمنٹ، پلوں، پلچوں اور دیگر ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی، ریلوے اسٹیشنز، مال بردار ٹرینوں کے یارڈز اور دیگر عمارتوں کی تعمیر شامل ہے،منصوبے میں والٹن اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ پورے کوریڈور میں سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام بہتر بنانے اور منصوبہ مینجمنٹ و نگرانی کے لیے کنسلٹنسی سروسز بھی شامل ہیں۔

    پاکستان ریلوے کے مطابق 8 ستمبر کو ہونے والی مشاورت میں منصوبے کے پیکیجز کے حجم اور دائرہ کار، اہلیت کے معیار، مشترکہ منصوبوں کے لیے جوائنٹ وینچر کی شرائط، متعلقہ تجربے، سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے پیکیجز اور بولیاں تیار کرنے کے لیے درکار وقت پر تفصیلی بات چیت ہوگی،اس کے علاوہ تکنیکی اور مالیاتی معیار کی اہمیت، تعمیراتی خطرات کی تقسیم، ریلوے آپریشن جاری رکھتے ہوئے تعمیراتی کام، مقامی صنعت کی شمولیت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے والی جدید و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال پر بھی تجاویز لی جائیں گی۔

    پاکستان ریلوے کے ایک عہدیدار کے مطابق کراچی، روہڑی اور روہڑی، ملتان سیکشنز ریلوے کے انتہائی اہم حصے ہیں، جہاں موجودہ بوسیدہ ٹریک کے باعث ٹرین حادثات اور پٹری سے اترنے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں موجودہ ٹریک کی بار بار مرمت پر بھاری اخراجات آتے ہیں، اسی وجہ سے ایم ایل ون منصوبے کے آغاز کے لیے کراچی، روہڑی سیکشن کو ترجیح دی گئی ہے۔

    عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ حکومتی ترجیحات کے پیش نظر منصوبے پر جنوری میں یا ممکنہ طور پر اس سے بھی پہلے کام شروع ہوسکتا ہے۔ اپ گریڈیشن مکمل ہونے کے بعد ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

  • گزشتہ حکومت کا کارنامہ، ایم ایل ون کی لاگت 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی

    گزشتہ حکومت کا کارنامہ، ایم ایل ون کی لاگت 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی

    گزشتہ حکومت کا کارنامہ، ایم ایل ون کی لاگت 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد قاسم کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا- سینیٹرز مرزا محمد آفریدی، مشاہد حسین سید، نصیب اللّہ بازئی، دوست محمد خان، شہادت اعوان، کے علاوہ سینیٹر مشتاق احمد بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے-سیکریٹری وزارت ریلوے، سی ای او پاکستان ریلوے، آئی جی پی ریلوے پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    سینیٹر مشتاق احمد نے اجلاس میں ریلوے پٹرولرز کی برطرفیوں کا معاملہ اٹھایا انہوں نے کہا یہ لوگ 15-20 سال تک ریلوے کی خدمت کر چکے ہیں اب ان کے ساتھ یہ زیادتی ظلم ہے ان سے روزگار نہیں چھیننا چاہئے ان کو بحال کر کے مستقل کیا جائے  سیکریٹری وزارت ریلوے نے کہا کہ سروسز کو مستقل کرنا ان کے اختیار میں نہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ان کومستقل کرنے کا اختیار رکھتی ہے- وزارت ریلوے کے حکام نے بتایا کہ اب ان ڈیلی ویجرز کو بحال کرنا شروع کر دیا ہے حکام نے بتایا کہ گورنمنٹ ریگولائریزیشن کے حوالے سے کوئی پالیسی اگر بناتی ہے تو تب ہی ان کو مستقل کیا جا سکتا ہے معاملے پر طویل بحث کے بعد کمیٹی نے نکالے جانے والے ریلوے پٹرولرز کو دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ڈیلی ویجرز ملازمین میں زخمی یا شہید ہونے والوں کو مستقل ملازمین کی طرز پر سہولیات دینے کی ہدایات جاری کیں۔

    وزارت ریلوے کے حکام نے ریلوے کی گزشتہ تین سالوں میں لیز کی گئی زمین کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیں -پیش کی گئی دستاویز کے مطابق ملک بھر میں ریلوے کی زمین 1 لاکھ، 68 ہزار 858 ایکڑ ہے جس میں ریلوے کی کل لیز کردہ زمین 10 ہزار 772 ایکڑ ہے-9291 ایکڑ زراعت کیلئے، 955 ایکڑ رہائش کیلئے، 221 ایکڑ کمرشل اور 305 ایکڑ دیگر کیلئے لیز کی گئی ہے-حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین سالوں میں ریلوے نے کل 4779 ایکڑ کی زمین لیز پر دی ہے، جس میں پشاور 112 ایکڑ، راولپنڈی میں 621 ایکڑ، لاہور میں 1344 ایکڑ، مغل پور ہ میں 2.1 ایکڑ، ملتان میں 2425 ایکڑ، سکھر میں 79 ایکڑ،کراچی میں 191 ایکڑ اور کوئٹہ میں 5 ایکڑ زمین لیز پر گزشتہ تین سالوں میں دی گئی۔

    کمیٹی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج پاکستان ریلوے کوئٹہ کے تحت بھرتی کئے گئے 10 سب انجینئرز کو مستقل نہ کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا-حکام نے بتایا کہ ان سب انجینئرز کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا- اس کے بعد ایک ایک سال کی توسیع دی جا رہی ہے-انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کو نہیں فارغ کیا جائے گا-ان ملازمین کو مستقل کرنے کا اختیار اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے پاس ہے اور ان کو مستقل کرنے کیلئے عمر کی حد بھی بڑھ گئی ہے-سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ وزیراعظم کو عمر کی حد میں چھوٹ دینے کیلئے سمری بھیجی جاسکتی ہے-جس کے بعد کمیٹی نے سینیٹر مشاہد حسین سید کی تجویز پر فیصلہ کیا کہ چیئرمین کمیٹی اور وزارت ریلوے کی جانب سے ان سب انجینئرز کو عمر کی حد میں چھوٹ دینے کے حوالے سے ایک سمری وزیراعظم کو لکھ کر کابینہ سے منظور کی جائے-

    ایم ایل-منصوبہ کے حوالے سے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ 1172 کلو میٹر پر محیط یہ منصوبہ ملک میں ایک انقلاب برپا کرے گا-سینیٹر مشاہد حسین سید کے سوال پرسیکریٹری ریلوے نے بتایا کہ کچھ سیکیورٹی ، غیر یقینی صورتحال اور گزشتہ حکومت کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے بیانات کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی کل لاگت اب تاخیر کے باعث 6.8 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 9.8 بلین ڈالرز ہو گئی ہے-منصوبہ 7 سال میں مکمل ہوگا اب کراچی سرکلر ریلوے کو بھی ایم ایل-ون میں شامل کردیا گیا ہے-سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایم ایل-ون ملک کی تقدیر بدل دے گا-انہوں نے وزارت ریلوے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایم ایل-ون کو سپورٹ کرنا چاہئے اور الزام تراشیوں اور بیان بازیوں سے اجتناب کرنا چاہئے-

    کمیٹی نے وزارت ریلوے کے کردار کو سراہا اور ان کی مکمل حمایت کرنے کاعزم کیا-کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ایم ایل ون منصوبہ شروع کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرے-کمیٹی اراکین نے کہا کہ یہ منصوبہ ملک میں انقلاب لائے گا اور پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا

    رپورٹ، ممتاز اعوان
    @MumtaazAwan

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • عمران خان چینی صدر کی منت کرے پھر ایم ایل ون کیلئے لون دینگے،چین

    عمران خان چینی صدر کی منت کرے پھر ایم ایل ون کیلئے لون دینگے،چین

    عمران خان چینی صدر کی منت کرے پھر ایم ایل ون کیلئے لون دینگے،چین

    اسلام آباد , قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی حکام نے بتایا ہے کہ ایم ایل ون کے لون کی منظوری اس وقت ہوگی جب وزیراعظم عمران خان چینی صدر شی کو درخواست کریں گے ،ڈیڑھ سال سے چین لون کی منظوری نہیں دے رہا اور نہ ہاں کررہا ہے اور نہ ناں جس کی وجہ سے کسی دوسرے ملک سے بھی ایم ایل ون کی بات نہیں کرسکتے ہیں ۔

    چیئرمین کمیٹی نے ریلوے افسران کی اعدادوشمار میں ہیر اپھیری کو پکڑلیا گذشتہ مالی سال میں خسارہ 12 ارب بنتا تھا ریلوے افسران نے 7 ارب روپے دکھایا ہوا تھا،وزیر ریلوے اعظم سواتی نے افسران کی طرف سے ہیر پھیرکا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام سے جواب طلب کرلیا،کمیٹی نے ایم ایل ون منصوبے پر معاون خصوصی سی پیک خالدمنصور سے بریفنگ طلب کرلی ،وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کمیٹی کوبتایا کہ بجلی چوری کو ختم کرنے کے لیے میٹر لگارہے ہیں ،ریلوے کے 165اسٹیشن کو سولر پر منتقل کررہے ہیں،کے سی آر کے لیے ریلوے کی زمین فروخت کی جارہی ہے مگر ریلو ے کے لیے فروخت نہیں کرسکتے ہیں،نیاسی ای او ریلوے باہر سے آئے گا،ڈی ایس لاہور میاں طارق لطیف میری ٹیم کاسب سے ایمانداراور کام کرنے والے افسر ہے ریلوے میں گروپنگ کی وجہ سے افسران ایک دوسرے کے خلاف لیٹر لکھتے ہیں ،سکھر ڈویژن میں ٹریک کی حالت بہت خراب ہے دوارب مرمتی کام کے لیے جاری کردیئے ہیں مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اس ٹریک پر کسی بھی وقت حادثہ ہوسکتا ہے

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس چیئرمین محمد معین وٹو کی زیرصدرات وزارت ریلوے اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے کمیٹی ارکان جن میں آفتاب جہانگیر،محمدبشیر خان،صابر قائمخانی علی پرویز اور رمیش لال نے وزیرریلوے اعظم سواتی کی دعوت پران کے نئے دفتر کا دورہ کیا اور مسافرکوچ کے ماڈل پر بنائے گئے وزیر کے دفتر کی تعریف کی ۔

    70 آدمیوں کے جلنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، چیف جسٹس کا شیخ رشید سے مکالمہ کہا آپ کو تو استعفیٰ دینا چاہئے تھا

    شیخ رشید نے عدالت سے مانگی مہلت،چیف جسٹس نے کہا لوگ آپکی باتیں سنتے ہیں لیکن ادارہ نااہل

    اسد عمر حاضر ہو، شیخ رشید کے بعد سپریم کورٹ نے اسد عمر کو بھی طلب کر لی

    شہباز شریف لندن کیا بھول آئے؟ دوبارہ لندن جانے کی اجازت ملے گی؟ شیخ رشید کا بڑا دعویٰ

    چھوٹی عید پر قربانی نہیں بلکہ گرفتاریاں ہوں گی،کس کس کی؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    نواز شریف ایٹمی دھماکے کے مخالف تھے،میں ایٹمی دھماکوں کیلئے کس کو ملا تھا، شیخ رشید نے بتا دیا

    اجلاس شروع ہونے کے بعدرکن کمیٹی علی پرویز نے کہا کہ پانچ جنوری 2022 کی سابق ڈی ایس سکھر شعیب عادل کی رپورٹ ہے جو سابق ڈی ایس سکھر اور موجودہ ڈی ایس لاہور طارق لطیف کے بارے میں لکھی ہے کہ ان کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں ہے سی ایم ایچ میں ان کا معائنہ کیا جائے ۔وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہاکہ شعیب عادل اچھا افسر تھا مگر میری ٹیم میں سب سے اچھا اور ایمان داربندہ طارق لطیف ہے سب سے زیادہ ایمان دار ڈی ایس ہے ۔ریلوے میں دو تین گروپ ہیں جس کی وجہ سے مسائل ہیں طارق لطیف نے لاہورڈویژن سے فالتو لوگوں کو نکالا ہے وہ میرا ایک بہترین افسر ہے ان افسران کے درمیان جھگڑا ہوا جس کی وجہ سے یہ رپورٹ لکھی گئی ۔سی ای او کے حوالے سے کابینہ کی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ریلوے کا سی ای او باہر سے آئے گا ۔سی سی آئی آر کو سمری بھیج دی ہے اس میں ریٹائرڈ افسران کو بھی سی ای او لگایا جاسکتا ہے ۔سابق سی ای اوریلوے نثار میمن کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریٹ کمپنی لگایا جائے گا اس کے لیے قانونی قوائد پورے کئے جارہے ہیں ۔فریٹ کمیٹی کا سربراہ صحیح کام نہیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے افسر نے چوری کی آٹھ ماہ میں اس کو کوئی سزا نہیں ہوئی ۔اس لیے عارضی بنیادوں پر سربراہان کو لگایا جائے گا اگر کام نہیں کریں گے تو نکال دیں گے ۔

    پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کا امکان ؟ شیخ رشید نے کی پیشنگوئی

    شیخ رشید کا ٹویٹر اکاؤنٹ بنانے اور چلانے والا چل بسا

    کرونا سے صحتیابی کی بعد شیخ رشید نے دیا صدقہ،کہا حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں،ایک لاکھ نوکریوں کا بھی اعلان

    ریلوے ٹریک ڈیتھ ٹریک بن چکا، سیکرٹری ، سی ای او اور تمام ڈی ایس فارغ کرنا پڑیں گے، چیف جسٹس

    الیکشن سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا،پاکستان بدلنے جا رہا ہے، شیخ رشید

    بہت ہو گیا، اب ریلوے کو ٹھیک کرنا ہو گا، شیخ رشید کی اجلاس میں افسران کو ہدایت

    رکن کمیٹی رمیش لال نے کہاکہ سابق ڈی ایس سکھر طارق لطیف نے کہا تھا کہ سکھر کا ٹریک ٹھیک نہیں اور اس کے بعد حادثہ ہوا۔اس پر ابھی تک دوبارہ کام نہیں ہوا ہے۔سکھر میں ریلوے کی ملی بھگت سے تجاوزات ہوے ہیں۔وزیر ریلوے اعظم سواتی نے کہا کہ سابق ڈی ایس سکھر میاں طارق لطیف نے جو کہا وہ ٹھیک کہا سکھر ڈویژن سے سو گاڑیاں چلتی ہیں ٹریک ٹھیک نہیں ہے ۔کیا گاڑیاں بند کریں؟ ٹریک اس قابل نہیں ہے مگر ہم کیا کریں؟ ۔دو ارب روپے اپنے خرچے سے اس ٹریک پرلگائے جائیں گے ۔پیچ ورک سے مستقبل محفوظ نہیں ہوگا اس ٹریک پر کبھی بھی حادثہ ہوسکتا ہے اس کی ذمہدار ہم سب ہیں اگر ریلوے بند کریں تو تباہی ہوگی ۔ریلوے غریب کی سواری ہے اس کا دوسرا حل نہیں ہے اس کاایک حل ہے کہ یہ پورا ٹریک نیا ڈالاجائے اور یہ ایم ایل ون میں ہی ہوگا ۔ریلوے کی 46 ایکڑ زمین سندھ میں واگزار کی ہے ۔ چیف جسٹس کو خط لکھ رہے ہیں کہ سٹے آڈر نہ دیں ۔نیا قانون بن گیا ہے تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ سابق ڈی ایس سکھر طارق لطیف نے تجاوزات کے خلاف بڑے آپریشن کئے ہیں ۔تجاوزات میں ہمارے افسر ملوث ہوتے ہیں۔ڈی ایس طارق لطیف کو کمیٹی کی سفارش پر سکھر سے ہٹایا میں اس کوسکھر سے نہیں ہٹانا چاہتاتھا ۔ پورے پاکستان میں ریلوے پارکنگ کی لیز ختم کررہا ہوں پارکنگ کا پرانہ مافیا ہے اس کو ختم کررہا ہوں نئے لینزنگ سے ریلوے کوزیادہ آمدن ہوگی ۔ریلوے کی زمین سے آئی ایم ایف کا قرض ختم کیا جا سکتا ہے ۔ریلوے ہسپتالوِں میں بلیاں اورکتے ہوتے ہیں ۔ریلوے کی زمین پر صوبوں نے بھی قبضہ کیا ہواہے ۔سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے زمینوں پر قبضہ ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس کے بغیر قبضہ ختم نہیں ہوسکتا تھا۔

    چیئرمین کمیٹی محمد معین وٹو نے کہا کہ ڈی ایس طارق لطیف کے خلاف شکایات پہلے سے ہیں ۔ان کوخیبر میل کارینالا خورد پر سٹاپ بحال کرنے کا کہا تھا مگر انہوں نے سٹاپ بحال نہیں کیا۔وزیرریلوے نے بتایا کہ 15کڑور روپے سے نوشہرہ درگئی سیکشن بحال کررہے ہیں 31مارچ تک ٹریک بحال کردیں گے ۔بجلی کے میٹرز لگانے کے لیے دوارب روپے جاری کئے ہیں اس سے سالانہ ہونے والا دو ارب روپے کا خسارہ ختم ہوگا ۔ حکام نے بتایا کہ مالی سال 2020-21میں اخراجات میں کمی اورآمدن میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے مالی سال 2019-20 میں خسارہ 13.5ارب روپے تھا سے کم ہوکرمالی سال 2020-21میں 7.3 ارب ہوگیاہے ۔معین وٹو نے نشاندہی کی کہ خسارہ 7 ارب روپے نہیں 12ارب روپے بنتاہے ۔وزیرریلوے نے نے اعدادوشمار میں ہیرپھیر کاسختی سے نوٹس لے لیا اورکہا کہ جو ذمہ دار ہوگا اس کو سزا ملے گی حکام نے وزیر کو بتایا کہ یہ شعبہ خزانہ نے بریفنگ بنائی ہے وزیر نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا۔

    اعظم سواتی نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ کے سی آر کے لیے ریلوے کی زمین بیچی جارہی ہے مگر عام ریلوے کے لیے ریلوے کی زمین نہیں فروخت کر سکتے ہیں ۔ریلوے کے 165اسٹیشن کو سولر پر منتقل کررہے ہیں اس کے 14فروری کو ٹینڈر کھل رہے ہیں ۔سکولوں اور ہسپتالوں کی نجکاری نہیں ہوئی اس میں ہماری مدد کریں ۔حکام نے بتایا کہ 40فیصد میٹر لگ گئے ہیں بجلی بناکر واپڈا کو بھی دیں گے ہمارے اسٹیشن کے سسٹم بجلی سے چلتے ہیں بیک آپ بھی ہوگا۔حکام نے بتایا کہ ایم ایل ون کے حوالے سے ہماری تیاری مکمل ہے ۔ ایم ایل ون 8سال 6ماہ میں مکمل ہوگا 6.806ارب ڈالر خرچ آئے گا،لون کی درخواست ایک سال سے زائد ہوگئی ہے کی گئی ہے کہ وہ منظور کرے ۔ایم ایل ون نہ بننے کی وجہ سے تباہی ہورہی ہے۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایم ایل ون کیوں نہیں شروع ہورہاہے کام کب شروع ہوگا تاخیر کس کی طرف ہے چین کو کیا خدشات ہیں۔اگر چین ایم ون نہیں بنانا چاہتا تو کسی دوسرے ملک سے بات کرنی چاہیے اس معاملہ کوبھی کمیٹی اٹھائے گی اور حل کرنے کی کوشش کرئے گی کہ یہ منصوبہ جلدازجلد شروع ہوسکے ۔ریلوے افسر شارخ ابشار نے کمیٹی کو بتایا کہ ایم ایل ون کے لیے لون کی منظوری کی درخواست نومبر2020میں چین کو دی گئی ہے چینی حکام ہمیں کہتے ہیں کہ اگر وزیراعظم عمران خان چینی صدرشی کودرخواست کریں تو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا لون کی منظوری ہوجائے گی ۔اس لون ہر سود کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ہم نے درخواست کی ہے کہ ایک فیصد سے 2.38 فیصد کے درمیان شرح سود پر قرض دیا جائے ۔کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ اگلے اجلاس صرف ایک نکاتی ایجنڈے ایم ایل ون پر ہوگا اور معائون خصوصی سی پیک خالدمنصور سے بریفنگ لی جائے گی۔

    رپورٹ، ممتاز اعوان
    @MumtaazAwan

    اور مولانا فضل الرحمان نے سی پیک روٹ کا افتتاح کر دیا

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف ایک اور کاروائی، را کا اہم رکن گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز کو کراچی میں رقوم فراہم کرنیوالا گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کا اہم رکن کراچی سے گرفتار

    کیا سی پیک رک چکا ، نئے چینی سفیر کس مشن پر آئے ، معاملہ گڑ بڑ.؟ مبشر لقمان کی اہم باتیں

    پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت، ڈی جی آئی ایس پی آر سب کچھ سامنے لے آئے

    بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم منصوبے، شاہ محمود قریشی نے مودی سرکار کو کیا بے نقاب

    لندن کا جوکربھارتی ایجنٹ،پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث،ثبوت سامنے آ گئے

    سی پیک کیخلاف بھارتی عزائم،مبشر لقمان کے اگست میں کئے گئے تہلکہ خیز انکشافات کی وزیر خارجہ نے کی تصدیق

    تین سال میں سی پیک کومکمل بند کرکے بیڑا غرق کردیا گیا .چینی سفیرکا شکوہ،تہلکہ خیز انکشافات

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • پاک چین دوستی کا نیا سفر، ایم ایل ون منصوبے کے تحت پاکستانی ریل کا نقشہ بدلنے کی تیاریاں

    پاک چین دوستی کا نیا سفر، ایم ایل ون منصوبے کے تحت پاکستانی ریل کا نقشہ بدلنے کی تیاریاں

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی سے چین کے سفیر نونگ رونگ نے منگل کو یہاں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک اورسی پیک کے حوالے سے امور زیر بحث کی گئی۔ وزیر ریلوے نے ایم ایل ون منصوبے میں گہری دلچسپی پر چینی سفیر کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے چین کے سفیر کی خد مات کو سراہا اور پاک چین دوستی کو مزید استحکام پہنچانے کے لئے ایم ایل ون پر اجیکٹ کو جلد از جلد شروع کر نے پر اتفاق کیا۔

    چینی سفیر نے کہاکہ ایم ایل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا اور اس سے پاک چین دوستی کو مزید استحکام ملے گا۔ ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے اور ملکی معیشت کے لئے انتہائی اہمیت کاحامل ہے اور چینی شراکت داری سے اس منصوبہ سے پاکستان میں ریل کا نقشہ بدل جائے گا ،یہ منصوبہ سی پیک منصوبے کا حصہ ہے ،ایم ایل ون منصوبے پرتقریباً6.8ارب ڈالر خر چہ آئے گا، ہم چینی حکومت کے خاص طورپر چین کے صدر کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے اس منصوبے کے لئے پاکستان کی تمام ممکنہ مد د کی۔ایم ایل ون منصوبے کا کام پشاور سے کراچی تک چاروں صوبوں میں ہو گا اس کی تعمیر میں چینی اور مقامی لوگ کام کر یں گے۔ وفاقی وزیر نے چین کے سفیر کو سفاری ٹرین کی افتتاحی تقریب میں بھی مدعو کیادونوں رہنماؤں کے درمیان دیگر امور پر بھی بات چیت ہوئی اوروفاقی وزیر نے پاک چین دوستی مضبوط بنانے کی کوششوں پر چین کے سفیر کا شکر یہ ادا کیا