Baaghi TV

پاکستان ریلوے کی ایم ایل ون پر کام شروع کرنے کی تیاریاں تیز

ایم ایل ونپاکستان ریلوے کے مین لائن ون (ML-1) منصوبے کے پہلے مرحلے پر تعمیراتی کام جنوری 2027 میں شروع کیے جانے کا امکان ہے-

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منصوبے کا کام جلد شروع کرنے کی ہدایت کے بعد پاکستان ریلوے نے منصوبے کے پہلے مرحلے سے متعلق مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں اور ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ تیز کردیا ہے،پاکستان ریلوے نے 8 ستمبر کو آن لائن ابتدائی مارکیٹ انگیجمنٹ سیشن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں سول ورکس کے مقامی و غیر ملکی ٹھیکیداروں، منصوبہ ڈیزائن کرنے والے ماہرین اور مانیٹرنگ کنسلٹنٹس کو مدعو کیا گیا ہے۔

اجلاس میں منصوبے کی تیاری، خریداری کے عمل، حکمت عملی، مارچ کے بعد ہونے والی پیشرفت اور پہلے مرحلے سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائےگافاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ حکومت منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دینے کی بھرپور کوشش کررہی ہے اور وزیراعظم کی خواہش ہے کہ ایم ایل ون منصوبے کا کام ہر صورت آئندہ سال جنوری میں شروع ہوجائے۔

انہوں نے کہاکہ ابتدائی مارکیٹ مشاورت، بین الاقوامی ٹینڈرنگ، بولیوں کے عمل، ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی شارٹ لسٹنگ اور معاہدوں کے اجرا میں قریباً 4 سے 5 ماہ لگ سکتے ہیں، تاہم وزارت ریلوے جنوری میں منصوبے کا افتتاح یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی،ایم ایل ون کے پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی، سکھر تک قریباً 480 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائےگا۔

منصوبے کے تحت اس روٹ پر اپ اور ڈاؤن دونوں سمتوں میں نئے ٹریک بچھائے جائیں گے، جبکہ ریلوے لائن کے دونوں اطراف باڑ بھی لگائی جائے گی تاکہ لوگوں، جانوروں اور گاڑیوں کی غیر مجاز آمدورفت روکی جاسکے منصوبے کی تکمیل میں قریباً ڈھائی سے 3 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے یہ ریلوے کوریڈور ملک کے مجموعی مسافر ٹریفک کا قریباً 76 فیصد جبکہ مال بردار ٹریفک کا 98 فیصد تک سنبھالتا ہے اور بڑے آبادی والے مراکز اور صنعتی علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔

ایم ایل ون کے پہلے مرحلے پر قریباً 2.5 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے، منصوبے کی مالی معاونت ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے متوقع ہے جبکہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، یورپی سرمایہ کاری بینک، عالمی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سے شریک مالی معاونت کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

منصوبے کے مجوزہ دائرہ کار میں کیماڑی، لانڈھی، حیدرآباد، نواب شاہ اور روہڑی کے درمیان مختلف ریلوے سیکشنز پر سول اور ٹریک ورکس شامل ہیں،اس کے تحت موجودہ ٹریک کی تعمیر نو، محدود پیمانے پر ری الائنمنٹ، پلوں، پلچوں اور دیگر ڈھانچوں کی تعمیر و بحالی، ریلوے اسٹیشنز، مال بردار ٹرینوں کے یارڈز اور دیگر عمارتوں کی تعمیر شامل ہے،منصوبے میں والٹن اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ پورے کوریڈور میں سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام بہتر بنانے اور منصوبہ مینجمنٹ و نگرانی کے لیے کنسلٹنسی سروسز بھی شامل ہیں۔

پاکستان ریلوے کے مطابق 8 ستمبر کو ہونے والی مشاورت میں منصوبے کے پیکیجز کے حجم اور دائرہ کار، اہلیت کے معیار، مشترکہ منصوبوں کے لیے جوائنٹ وینچر کی شرائط، متعلقہ تجربے، سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے پیکیجز اور بولیاں تیار کرنے کے لیے درکار وقت پر تفصیلی بات چیت ہوگی،اس کے علاوہ تکنیکی اور مالیاتی معیار کی اہمیت، تعمیراتی خطرات کی تقسیم، ریلوے آپریشن جاری رکھتے ہوئے تعمیراتی کام، مقامی صنعت کی شمولیت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے والی جدید و ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال پر بھی تجاویز لی جائیں گی۔

پاکستان ریلوے کے ایک عہدیدار کے مطابق کراچی، روہڑی اور روہڑی، ملتان سیکشنز ریلوے کے انتہائی اہم حصے ہیں، جہاں موجودہ بوسیدہ ٹریک کے باعث ٹرین حادثات اور پٹری سے اترنے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں موجودہ ٹریک کی بار بار مرمت پر بھاری اخراجات آتے ہیں، اسی وجہ سے ایم ایل ون منصوبے کے آغاز کے لیے کراچی، روہڑی سیکشن کو ترجیح دی گئی ہے۔

عہدیدار نے امید ظاہر کی کہ حکومتی ترجیحات کے پیش نظر منصوبے پر جنوری میں یا ممکنہ طور پر اس سے بھی پہلے کام شروع ہوسکتا ہے۔ اپ گریڈیشن مکمل ہونے کے بعد ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔

More posts