Baaghi TV

Tag: ایم کیو ایم

  • اگروعدے پورے نہ کیےگئےتو ایم کیو ایم پھر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی،کامران ٹیسوری

    اگروعدے پورے نہ کیےگئےتو ایم کیو ایم پھر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی،کامران ٹیسوری

    لاہور: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سے جو پیپلزپارٹی نے معاہدہ پر دستخط اور وعدے کئے پیپلزپارٹی اسے پورا کرے، اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو ایم کیو ایم پاکستان پھر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔

    باغی ٹی وی: داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا ہے کہ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر شکرانے کی حاضری دینے آیا اور یہاں آکر جو دل کو سکون ملا اُسے بیان نہیں کرسکتا، داتا دربار پر پاکستان، صوبے اور شہر کے لیے دعا کی۔

    پاکستانی شہری کے ہاں 60 ویں بچے کی پیدائش

    انہوں نے کہا کہ میرا شہر کراچی جسے غریب سمجھ کر کوئی منہ نہیں لگا رہا، روشنیوں کا شہر معیشت کا حب کو نظر لگ گئی ہے، ملک میں معاشی استحکام آئے کراچی میں گیس پانی بجلی نہیں ہے وہ دستیاب ہوں لاہور سے دلی لگاؤ ہے جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ نئے سال کا پہلا دن پرانا سال پریشانی میں گزرا، اگر آج بھی ایک دوسرے سے ایمانداری سے چیزوں کو آگے لے کر نہیں جائیں گے منظر نامہ سامنے ہے، اتفاق کے بجائے نفاق کو جنم دیا تو اتحاد ختم ہو سکتا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سے جو پیپلزپارٹی نے معاہدہ پر دستخط اور وعدے کئے پیپلزپارٹی اسے پورا کرے، اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو ایم کیو ایم پاکستان پھر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی،ایم کیو ایم پاکستان میں دوبارہ شمولیت کی تو دعا کی تھی تو گورنر کا منصب ملا، الطاف حسین کا مسئلہ اسٹیٹ کے ساتھ ہے وفاق کے بطور نمائندہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہوں۔

    کیا بندہ ہے؟ اپنی ذات میں قید شخص کو آگے کی سوچ نہیں ،مریم اورنگزیب کی عمران خان…

    اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک سے محبت کرنے کا یقین ہے، چاہتا ہوں سب میں اتفاق رائے قائم ہو اس لئے ایم کیو ایم کے تمام گروپوں کو اتحاد پیدا کرنے دوستوں کو ملانے کا کام کریں گے۔

    کامران ٹیسوری نے کہا کہ پرویز الہی اور گورنر پنجاب سے ملاقات ہوئی دوبارہ ایک ہفتہ بعد آ جاؤں گا، شہبازشریف گورنر بننے کے بعد تین ملاقاتیں ہوئی فون پر بھی رابطہ ہے، شہبازشریف کو کہا ایم کیو ایم گلہ کررہے ہیں پیپلزپارٹی معاہدہ پر عمل درآمد نہیں کر رہے یقین دلایا آصف زرداری وبلاول بھٹوسے بات کریں گے۔

    راولپنڈی: سال نو کا پہلا مقدمہ درج،سینکڑوں افراد کو نوکری کا جھانسہ دے کر لوٹنے…

  • بوکس ووٹنگ اور جعلی حلقہ بندیاں والے الیکشن کسی کو قبول نہیں ، خالد مقبول صدیقی

    بوکس ووٹنگ اور جعلی حلقہ بندیاں والے الیکشن کسی کو قبول نہیں ، خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نےکہا ہےکہ 15جنوری سے پہلےکراچی اور حیدرآ بادکی از سرنو حلقہ بندیاں کی جائیں، حلقہ بندیاں درست نہ ہوئیں تو سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

    باغی ٹی وی: کراچی میں ایم کیوایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے غیر سنجیدہ رویئے اور حلقہ بندیوں کے خلاف احتجاج کیا جائےگا اور وفاق کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے سمیت سخت مؤقف اختیار کیا جائےگا۔

    ٹھٹھہ : امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا شاندار استقبال،جلسہ میں ہزاروں افرادکی شرکت

    ہم باضابطہ طور پر پیپلز پارٹی کے اتحادی نہیں ہیں، ہمارا ایک معاہدہ ہوا تھا جو سندھ کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے تھا، آج ہمارا رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

    رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم وعدے پورے کریں، تحفظات دور کریں ، ورنہ احتجاج پرمجبور ہوں گے یہ حلقہ بندیاں اس طرح کی گئی ہیں تاکہ اس شہر کا مینڈیٹ چرایا جاسکتا ہے، وزیراعظم صاحب! آپ نے تو اسلام آباد میں حلقہ بندیاں کرلیں اب بتائیں کہ اپنے وعدے پر عمل درآمد کب کرارہے ہیں؟

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو ہم ٹیلی فون کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کررہے، 2018ء میں شفاف الیکشن نہیں ہوئے اس کے نتائج آپ نے دیکھ لیے، اس حلقہ بندیوں کی صورت میں عوام الیکشن کیسے قبول کریں گے؟ بوکس ووٹنگ اور جعلی حلقہ بندیاں والے الیکشن کسی کو قبول نہیں۔

    راولپنڈی: سال نو کا پہلا مقدمہ درج،سینکڑوں افراد کو نوکری کا جھانسہ دے کر لوٹنے والا ملزم گرفتار

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے اس صورت حال میں فیصلہ کرنا ہےکہ حکومت کے ساتھ رہ کر الیکشن لڑيں گے یا باہر رہ کر، اب صبرکرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، پیپلز پارٹی سے معاہدے میں ہمارا نکتہ ہی یہ تھاکہ موجودہ بلدیاتی حلقہ بندیاں درست نہیں، ان سے پری پول رگنگ واضح ہے ، 15جنوری سے پہلےکراچی اور حیدرآ بادکی از سرنو حلقہ بندیاں کی جائیں۔

    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے یقین سے کہاتھا کہ ہمارے مطالبات 100 فیصد جائز ہیں، حلقہ بندیاں درست نہ ہوئیں توسڑکوں پراحتجاج کے لیے مجبور ہوں گے، ہم بلدیاتی انتخابات شفاف اور دباؤ کے بغیر چاہتے ہیں، ہم چاہتےہیں کہ 15جنوری کو صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ بلدیاتی انتخابات ہوں،سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالےسےحلقہ بندیاں آئین وقانون کے خلاف ہیں اور ہم نے 8 ماہ کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے درجنوں ملاقاتیں کی ہیں جن میں کہا ہے کہ فوری طور پر کراچی و حیدر آباد کی حلقہ بندیاں تبدیل کی جائیں۔

    پی آئی اے پر یورپ میں پروازوں کیلئےعائد پابندی ختم ہونے کے امکانات

    انہوں نے کہا کہ یہاں پری پول رگنگ ہوچکی ہے، ایم کیو ایم کے زیر اثر علاقوں میں 90 ہزار آبادی پر یوسی بنائی گئی جبکہ دوسری جانب 20 سے 25 ہزار افراد پر یوسی بنادئی گئی، الیکشن کمیشن 15 جنوری سے قبل ازسر نو حلقہ بندیاں کرے۔

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر حلقہ بندیاں درست نہ ہوئیں تو پھر سڑکوں پر آئیں گے اور احتجاج کری گے، یہ کارکنان کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس الیکشن میں حکومت میں رہ کر لڑنا ہے یا حکومت سے باہر ہو کر، اگر الیکشن غیر جانب دار نہیں ہوئے تو پُرامن کس طرح ہوں گے؟ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کی ذمہ داری سندھ حکومت کو کیوں سونپی؟-

    عادل فاروق راجہ کے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے بارے اہم انکشافات

  • ایم کیو ایم کے وفد کی گورنر سندھ سے ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے معاہدوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار

    ایم کیو ایم کے وفد کی گورنر سندھ سے ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے معاہدوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار

    ایم کیو ایم کے وفد کی گورنر سندھ سے ملاقات، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے معاہدوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    کراچی: تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے کنوینر خالد مقبول کی قیادت میں اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے ملاقات کی۔

    حکومت کا بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کی ہدایت

    ایم کیو ایم پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان اور گورنر سندھ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں رابطہ کمیٹی کے 35 سے زائد اراکین بھی موجود تھے، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور مشاورت کی گئی۔

    ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق ملاقات میں بلدیاتی الیکشن، ایم کیو ایم، پی پی معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق امور اور ایم کیو ایم دھڑوں، پی ایس پی اور فاروق ستار کو ملانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

    گورنر سندھ کا مولاجٹ کی طرح گنڈاسا اٹھانے کا اعلان

    ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا ہے کہ ملاقات میں خالد مقبول صدیقی نے پی پی پی اور ن لیگ کے ساتھ معاہدوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور لاپتا کارکنوں کی عدم بازیابی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، خالد مقبول صدیقی نے اجلاس میں طے شدہ اعلامیے کی توثیق کی۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کنوینر و اراکین رابطہ کمیٹی نے گورنر کی شہری سندھ کے لیےکاوشوں کو سراہا اور کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنے مشن کی طرف کامیابی سے گامزن ہے، تنظیم کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے ہیں۔

    آج رات سے کل تک مری میں ہلکی برف باری کا امکان

  • انتخابات میں شکست،ایم کیو ایم میں جھگڑے کی اطلاعات،جھوٹا الزام ہے،ترجمان

    انتخابات میں شکست،ایم کیو ایم میں جھگڑے کی اطلاعات،جھوٹا الزام ہے،ترجمان

    انتخابات میں شکست،ایم کیو ایم میں جھگڑے کی اطلاعات،جھوٹا الزام ہے،ترجمان

    پیپلز پارٹی ، اے این پی ، جے یو آئی اور ن لیگ کی حمایت کے باوجود ایم کیو ایم کے امیدوار معید انور کی بدترین شکست کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں مرکزی رہنماوں میں شدید جھگڑا ہوگیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ ذلت امیز شکست پر وسیم اختر اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے اور عامر خان کی غیر موجودگی میں ان کا نام لے کر مغلظات بکیں اور عامر خان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹہرایا اس موقع پر موجود خالد مقبول صدیقی کو بھی وسیم اختر نے کھری کھری سنائیں اور کہا کہ آپ کی بزدلی اور لالچ کی وجہ سے ایم کیو ایم کو شکست ہوئی ہے اور پیپلز پارٹی سے معاہدے نے ایم کیو ایم کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ہے جبکہ خالد مقبول نے معید انور کی شکست کا ذمہ دار وسیم اختر کوٹھہراتے ہوئے کہا کہ مہم کے انچارج آپ تھے اور آپ نے انتہائی ناقص مہم چلائی اور سارا زور فاروق ستار کو بدنام کرنے میں ضائع کیا جس پر وسیم اختر نے کہا کہ میں اکیلا ہی مہم چلا رہا تھا جب خواجہ اظہار سے کہا وہ نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے منع کردیتا تھا جبکہ فیصل سبزواری اور امین الحق کو وزارتیں مل گئی ہیں تو ان کو مزے کرنے سے ہی فرصت نہیں ہے فیصل سبزواری شام کو بوٹ میں بیٹھ کر بیگم کے ساتھ سمندر کی سیر کو نکل جاتا ہے تو کیا میں اکیلے خاک مہم چلاتا

    موقع پر موجود خواجہ اظہار اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور چیختے ہوئے بولے چیک کرکے بتاو کیا میں اس وقت نشے میں ہوں یا شراب پی رکھی ہے تم خود ساری رات پارٹیاں کرکے پورا دن سوتے ہو اور رات میں مہم چلانے آجاتے ہو اس بات پر وسیم اختر خواجہ اظہار کی طرف بڑھے مگر وہاں موجود جاوید حنیف نے انہیں اپنے بازووں میں جکڑ لیا جبکہ خالد مقبول انتہائی مایوسی کے عالم میں اپنی نشست پر بیٹھے تھے اس سارے لڑائی جھگڑے کی آوازیں مرکزی دفتر کے باہر موجود نہ صرف کارکنان سُن رہے تھے بلکہ راہگیر بھی رک کر ایم کیو ایم رہنماووں کی گالم گلوچ اور تلخ کلامی سن رہے تھے بعض نے موبائل کے ذریعے آوازیں ریکارڈ کرنے کی کوشش کی مگر ایم کیو ایم کے سیکیورٹی اسٹاف نے انہیں روک دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

    دوسری جانب ترجمان ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی من گھڑت کہانیوں کی تردید کرتے ہیں انتخابات مسلسل سیاسی عمل ہے جسمیں ہار،جیت ہوتی رہتی ہے مخالفین جھوٹی کہانیاں پھیلا کر تنظیم کی صفوں میں تذبذب کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں جھوٹے پروپگنڈہ سے ساکھ کونقصان پہنچانےکی کوشش بھی کی گئی ہے رابطہ کمیٹی و کارکنان تنظیمی نظم وضبط کی ڈوری سےجُڑے ہوئے ہیں مخالفین ایم کیو ایم کے بغض میں اوچھے ہتھکنڈوں پراُتر آئے ہیں جھوٹےالزامات لگانے،منظم منفی پروپگنڈہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کروائی کرینگے

  • این اے 245 ضمنی انتخاب؛ کس کا پلڑا کتنا بھاری؟عوام کس کو پسند کرتے ہیں:کل پتے لگ جان گے

    این اے 245 ضمنی انتخاب؛ کس کا پلڑا کتنا بھاری؟عوام کس کو پسند کرتے ہیں:کل پتے لگ جان گے

    کراچی :کل اتوارکو کراچی کے حلقے NA245 میں ضمنی الیکشن کا معرکہ سجنا ہے۔ پہلے سے ہرکوئی اپنی مرضی کی پیشن گوئی کررہا ہے ، مگرجیتے گا کون اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ، اس حلقے کے نتائج کئی حوالوں سے ملک کی 2 سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔

     

     

    کراچی کے یہ  حلقہ این اے 245 ضمنی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے، قومی اسمبلی کے حلقے میں سخت مقابلے کی توقع ہے کراچی میں موسلا دھار بارش،سیلابی صورتحال اوراس سے پہلے عیدالاضحیٰ اور دیگر عام تعطیلات کے باعث انتخابی مہم شدید متاثرہوئی ہے، بارش آج بھی ہورہی ہے مگرکل اگرموسم خراب رہا تو جواپنے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن پر لانے میں کامیاب رہا وہ الگے مرحلے میں بھی کامیاب ہوسکتا ہے

     

     

    ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کو مرکز میں مخلوط حکومت میں اپنے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ نشست ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار کو 56 ہزار 673 ووٹ لے کر شکست دی تھی جبکہ ستار کے 35 ہزار 429 ووٹ تھے۔

    ان انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے محمد احمد رضا نے 20 ہزار 737 ووٹ، ایم ایم اے کے سیف الدین نے 20 ہزار 143 ووٹ، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ طارق نذیر نے 9 ہزار 682 ووٹ، پی ایس پی کے ڈاکٹر صغیر احمد نے 6 ہزار 222 ووٹ حاصل کیے۔ احمد نے 890 ووٹ، اے این پی کی ثمینہ ہما میر نے 606 ووٹ، آزاد امیدوار سلیم سچوانی نے 996 ووٹ، ارشد علی نے 569 ووٹ، محمد جمیل نے 524 ووٹ، عبدالخورشید خان نے 183 ووٹ اور عبدالانیس خان نے 80 ووٹ حاصل کیے۔

    اس حلقے میں 166,869 ووٹ ڈالے گئے۔ جن میں سے 2,866 کو باطل اور 164,003 کو درست قرار دیا گیا۔ انفرادی اعداد و شمار کے مطابق مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایم کیو ایم کے امیدوار کو 21 ہزار 244 ووٹوں سے، ٹی ایل پی کے امیدوار کو 35 ہزار 936 اور ایم ایم اے کے امیدوار کو 36 ہزار 530 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    21 اگست کو ہونے والے اس ضمنی انتخاب میں این اے 245 کی نشست کے لیے سترہ امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں پی ٹی آئی کے محمود باقی مولوی، ایم کیو ایم کے معید انور، ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کے سید حفیظ الدین نمایاں ہیں۔

    پی پی پی کے محمد دانش خان اور جے یو آئی کے امین اللہ نے اپنے امیدواروں کو واپس لے لیا اور پی ڈی ایم اتحاد کے فیصلے کے مطابق ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں‌

    اس سے پہلے ایم کیوایم یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ اس سے یہ حلقہ چھینا گیا ، 2018 کے انتخابات میں کراچی میں اس کا مینڈیٹ چرایا گیا تھا، لیکن اب ایم کیو ایم کو اپنے دعوے کی حقیقت کا علم ہوجائے گا کہ کیا واقعی یہ حلقہ چھینا گیا تھا یا لوگوں نے پی ٹی آئی کو وو ٹ دیا جس طرح اس الیکشن میں بھی یہی خیال کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی یہ سیٹ جیت سکتی ہے

    ایم کیوایم اب مکمل طور پر تقسیم ہوچکی ہے اور اس حلقے میں ایم کیو ایم کے چار دھڑوں کے اپنے اپنے امیدوار ہیں‌،لائنز ایریا جہاں اردو بولنے والوں کی اکثریت رہتی ہے وہاں اس بار آفاق احمد نے اپنا مضبوط امیدوار کھڑا کیا ہے جبکہ مصطفی کمال بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

    محمود مولوی علی زیدی کے قریبی دوست ہیں ۔ پیسہ اچھا خاصا خرچ کیا جارہا ہے ۔امید کی جارہی ہے کہ محمود مولوی اس وقت ایم کیوایم کی تقسیم کی وجہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورپی ڈی ایم کی حمایت بھی شاید ایم کیوایم پاکستان کو یہ سیٹ نہ جتوا سکے

     

    جہاں تک تعلق ہے ٹی ایل پی کا تو 2018 میں تحریک لبیک 22 ہزار ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔مگراس وقت یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اصل مقابلہ ٹی ایل پی اور پی ٹی آئی میں ہو ،مقامی حالات کا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حلقے میں تین جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ ہو

     

     

    این اے 245 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار ہے ، جن کے لئے 263 پولنگ اسٹیشن اور 1052 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔

    263 میں 203 پولنگ اسٹیشز کو انتہائی حساس اور باقی کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    ضمنی انتخاب کو ہر صورت غیر جانبدار، شفاف اور پُر امن بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ فوج اور رینجرز کو انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات کیا جائے گا۔

  • سوال کرتا ہوں کہ کہاں جا کر اپنے حق کی بات کریں ؟ خالد مقبول صدیقی

    سوال کرتا ہوں کہ کہاں جا کر اپنے حق کی بات کریں ؟ خالد مقبول صدیقی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کا اختیارصرف الیکشن کمیشن کو ہے ،

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمرا بہادرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف حلقہ بندیاں کی گئیں حلقہ بندیاں لسانیت کی بنیاد پرکی گئیں،ہم عدالت منصفانہ الیکشن کے لیے گئے تھے ہم بلدیاتی الیکشن میں ایک دن کی تاخیر بھی نہیں چاہتے سندھ کے شہری علاقوں میں بنائی گئی حلقہ بندیاں قانون کے خلاف ہیں ہم ملک میں انصاف کے لیے کہاں جائیں گے ؟مردم شماری میں سندھ کی آبادی کو کم کرکے دکھایا گیا ،حلقہ بندیوں کے ذریعے اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا گیا ،سپریم کورٹ میں ہمارے اعتراضات کو جائز سمجھا گیا اپنے حق کے لیے مقدمہ کہاں رکھیں،سوال کرتا ہوں کہ کہاں جا کر اپنے حق کی بات کریں

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست نمٹا دی ،سپریم کورٹ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی انتخابات منسوخ نہیں کیے جا سکتے،ایم کیو ایم حلقہ بندیوں کے معاملے پر متعلقہ فورم سے رجوع کرے،پی ٹی آئی سندھ بلدیاتی الیکشن ایکٹ سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست دائر کرے تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کروانے کی حمایت کی الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام فہمیدہ مرزا کے حلقہ سے متعلق تحفظات دیکھیں،سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 28 اگست کو ہوں گے

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ ،سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    سپریم کورٹ نے 4 اگست تک سندھ حکومت کو جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو جواب جمع کرا دے،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت کو تحریری جواب جمع کرانے کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جائے ،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی.

    فروغ نسیم نے کہا کہ 27 اگست کو الیکشن ہے، دو ہفتے کا وقت دیا گیا سندھ حکومت کہے گی پولنگ قریب ہے

    گزشتہ سماعت پر وکیل ایم کیو ایم فروغ نسیم نے کہا تھا کہ پورے سندھ کی حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا ہے،سندھ حکومت کی ترامیم آئین اور سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف ہیں،ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر قانونی بھی قرار نہیں دیا،

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو کیس واپس ہائیکورٹ بھجوانا پڑے گا،وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم امتناعی دے کر کیس ہائیکورٹ بھجوا دے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال انتخابات تو روک دئیے گئے ہیں ،وکیل نے کہا کہ بارش اور محرم کی وجہ سے انتخابات روکے گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ بھی ساتھ نہیں لگایا، وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ کراچی رجسٹری میں جمع کروا دیا گیا تھا،

     تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

  • پولیس نے بابر غوری کو بے گناہ قرار دے دیا

    پولیس نے بابر غوری کو بے گناہ قرار دے دیا

    کراچی پولیس نےسابق وفاقی وزیر بابر غوری کو ضمانت پر رہا کردیا

    کراچی کی مقامی عدالت میں بابر غوری کے خلاف اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں پولیس نے اپنی رپورٹ جمع کرائی ،انسداد دہشت گردی کورٹ کلفٹن ،پولیس نے ایم کیو ایم رہنماء بابر غوری کو بے گناہ قرار دے دیا

    اشتعال انگیز تقریر کیلٸے سہولت کاری کا الزام ،پولیس نے بابرغوری کوعدالت میں پیش کردیا .پولیس نے کہا کہ بابرغوری کے خلاف ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ عدالت نے رپورٹ مسترد کردی، عدالت نے حکم دیا کہ قانون کے مطابق رپورٹ بنا کر لاٸیں زیردفعہ 497 کے مطابق نہیں زیر دفعہ 169 کےتحت رپورٹ لاٸیں۔ اگر آپ کو شواہد نہیں ملے اور ملزم کا مقدمے میں نام نہیں تو اسے رہاکیوں نہیں کیا۔

    عدالت نے تفتیشی افسر کو 20 منٹ میں نٸی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ،پولیس بابرغوری کو بکتر بندگاڑی میں بٹھا کر واپس لے گٸی۔ بعد ازاں عدالت نےتفتیشی افسر کے نام کی آواز لگواٸی لیکن وہاں کوٸی موجود نہیں تھا

    خیال رہے کہ بابر غوری کو پولیس نے 4 جولائی کو امریکہ سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا، بابر غوری کے خلاف سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں مقدمہ درج ہے، بابر غوری پر ملک مخالف اور اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کا الزام ہے۔

    خیال رہے کہ بابر غوری 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کا حصہ تھے اور انہوں نے حکومت کی اتحادی جماعت کے سینیٹر کی حیثیت سے وفاقی وزیر کا قلم دان سنبھالا تھا۔

    بابر غوری کو وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ بنایا گیا تھا تاہم 2013 میں مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی اور کراچی میں رینجرز نے آپریشن شروع کیا اور بعد ازاں بابرغوری ملک سے باہر چلے گئے تھے، جس کے بعد وہ لوٹ کر دوبارہ پاکستان نہیں آئے تھے۔واضح رہے کہ چند سال قبل قومی احتساب بیورو نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما بابر غوری سمیت 3 افراد کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہارات دیے تھے۔

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

  • ایک مہینہ پہلے نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ وسیم اختر

    ایک مہینہ پہلے نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ وسیم اختر

    ایم کیو ایم کے رہنما، سابق میئر کراچی سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ 15 سال سے سندھ حکومت سارے وسائل پر قابض ہے،

    سید وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ پہلے نالے کیوں صاف نہیں کیے پی ڈی ایم اے کہاں تھا،سارا نظام ڈی سیز کے دفتر چلا رہے تھے ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اپنی نااہلی کا اعتراف کیا، کراچی کے ساتھ کیوں کھلواڑ کیا جارہا ہے، ہمارے دور میں بھی بارش ہوئی لیکن کبھی انڈر پاسز بند نہیں ہوئے آپ نے سارے وسائل فنڈز سمیت اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، سندھ حکومت مکمل طو رپر ناکام ہو گئی ہے،اگر نچلی سطح پر اختیارات دیتے تو یہاں کے مسائل حل ہو رہے ہوتے،کراچی کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے،حکومت ایک ماہ قبل پلاننگ کرتے تو کراچی کا یہ حال نہ ہوتا، یہ سارا پیسہ کہاں جاتا ہے کہیں دکھائی نہیں دے رہا،کراچی کےلوگ سوال کر رہےہیں ٹیکس کہاں جاتاہے،

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    سید وسیم اختر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یہ پیسہ پی ایف سی کے ذریعے نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا وفاق سے این ایف سی کی مد میں صوبے کو 1200 ارب روپے ملتے ہیں کراچی کا ٹیکس کراچی پر ہی لگنا چاہیے، 2سال سے ایڈمنسٹریٹر کے پاس تمام نظام موجود ہے جعلی ڈومسائل پر لوگوں کو نوکریاں دیں گے تو ایسا ہی ہوگا، افسران عید منانے کے لیے اندرون سندھ چلے گئے،کیا حکومت کو معلوم نہیں تھا کہ عید پر آلائشیں پڑی ہوں گے،

  • بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی

    بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،شہری انتظامیہ اس شہر کی بجائے اس وقت اپنے اپنے گاؤں میں موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں مسلسل چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، دوپہرسے شروع ہونے والی اس موسلا دھار بارش سے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ندیوں میں پانی کا بہاﺅ تیز ہوگیا، ملیر میمن گوٹھ کے بعد گڈاپ ندی میں بھی طغیانی ہے۔

    شہر قائد میں آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    پانی کے تیز بہاﺅ کے باعث نالے کے اوپر بنائی گئی سڑک بھی بیٹھ گئی۔ پانی میں گاڑی پھنس گئی، پک اپ سوزوکی میں قربانی کا جانور بھی موجود تھا۔رات گئے پانی کے تیز بہاﺅمیں پھنسنے والے 5 سے 4 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

    کراچی شہر کے مختلف علاقوں گلشن حدید، ملیر، اسٹیل ٹان، گھگھر پھاٹک، نیشنل ہائی وے، سپرہائی وے، گلزار ہجری، بفرزون، نارتھ کراچی، یوپی موڑ، سرجانی ٹاﺅن، ڈسکوموڑ، گلستان جوہر، حیدری، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، گڈاپ کاٹھور، گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ، ایم اے جناح روڈ، کے ڈی اے، شادمان ودیگر علاقوں موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

    بارشوں سے 135 سے زائد افراد جاں بحق، مزید بارشوں کا امکان

    گلستان جوہر، گلشن اقبال، گڈاپ، لیاقت آباد، ملیر سمیت کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال ہے، شہر بھر کی سڑکیں زیر آب اور دریا کے مناظر پیش کررہی ہیں جب کہ برساتی پانی گھروں میں بھی داخل ہوچکا ہے جس کے باعث شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    کراچی میں رات سے جاری بارش کے باعث مختلف علاقوں کی سڑکیں اور گلیاں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہوگیا جس سے علاقہ مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے-

    کراچی حیدر آباد موٹروے پر پانی کا بڑا ریلا آ جانے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے،رات گئے ہونے والی شدید بارش کے باعث چند گھنٹوں کے لیے ٹریفک کو معطل کرنا پڑا۔

    شاہراؤں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے کے بعد گاڑیاں، موٹر سائیکلز، آٹو رکشا وغیرہ پھنسے ہوئے ہیں۔نشیبی علاقوں سے رہائشیوں کی نقل مکانی جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں تیز اور موسلا دار بارش کا سلسلہ آج شام تک جاری رہنے کا امکان ہے جب کہ آئندہ دو روز کے دوران کراچی میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

    چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق گذشتہ دنوں بارش کا سبب بننے والا ہوا کا کم دباؤ گوادر کے جنوب میں ہے، سسٹم کا پھیلاؤ کراچی اور زیریں سندھ پر اب بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ سسٹم کے تحت کبھی تیز اور کبھی معتدل بارش ہورہی ہے، پیر کو بھی دن بھر ہلکی اور معتدل بارش کا سلسہ جاری رہنے کاامکان ہے۔ 14 جولائی کی شام سے بارش برسانے والا ایک اور سسٹم بھی آسکتا ہے،جو 18 جولائی تک اثر اندازرہےگا پہلے سسٹم کی طرح دوسرا سسٹم بھی مضبوط ہوسکتا ہے، دوسرے سسٹم میں تیز اور موسلا دار بارش کا امکان ہے۔

    ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ بارش نے ایک بار پھر کراچی کے انفراسٹرکچر کی خامیوں کا پول کھول دیا،شہری انتظامیہ اس شہر کی بجائے اس وقت اپنے اپنے گاؤں میں موجود ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیوریج سسٹم بیٹھ گیا ، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں،سندھ حکومت کی نااہلی کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مختلف حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، حکومت اور انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی،صوبائی وزرا اور افسران اپنے اپنے آبائی علاقوں میں عید منانے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیفنس، کلفٹن، کیماڑی، بلدیہ ٹاؤن اور موسیٰ کالونی کے علاقے زیر آب آچکے ہیں،کراچی والوں کو لاوارث سمجھ کر ان کی جان و مال سے کھلواڑ بند کیا جائے۔

    بارشوں سے حب ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 5.6 فٹ رہ…

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما علی زیدی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نااہلی نے کراچی کو ایک بار پھر ڈبو دیا،ان کے وزراء شہریوں کی عید خراب کر کے چھٹیاں گزارنے میں مصروف ہیں۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے تجارتی حب صدر میں دکانوں میں پانی داخل ہو چکا ہے، سب سے زیادہ ٹیکسں دینے والے تاجروں کی املاک کو نقصان پہنچ رہا ہے سندھ حکومت کی نااہلی نے ابر رحمت کو زحمت میں تبدیل کردیا ہے، طوفانی بارشوں کے باوجود حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔

    علی زیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومتی مشینری کا استعمال صرف سیاسی مخالفین پر کرتی ہے، 14 سالوں سے سندھ پر پیپلز پارٹی کا راج ہے شہر کی تباہ حالی کے ذمہ دار وزیر اعلی سندھ اور مرتضی وہاب ہیں،ایڈمنسٹریٹر کراچی نیند سے جاگ جائیں تو دیکھیں شہر کی صورتحال کیا ہے۔

    آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں آبادی کا عالمی دن منایا جائے گا