Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • این ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کردیں

    این ڈی ایم اے نے حالیہ مون سون بارشوں میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کردیں

    پنجاب: لاہور میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق لاہور کے بیدیاں روڈ پر مکان کی خستہ حال چھت گر گئی جس کے ملبے تلے دب کر دو افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی۔

    ریسکیو زرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت عثمان اور دلاور کے نام سے ہوئی ہےزخمی ہونے والی بچی کو فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے حالیہ مون سون بارشوں میں جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کردی پاکستان میں ہونے والی حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 304 افراد لقمہ اجل بنے۔

    این ڈی ایم اے کے جاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں مون سون بارشوں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جس میں جاں بحق افراد میں 132 مرد 84 خواتین اور 118 بچے شامل ہیں –

    بارش میں دوران ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اسلام آباد پولیس

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 99خیبر پختونخواہ میں 61 اموات پنجاب میں 60 اموات، سندھ میں 70 گلگت بلتستان 8 آزاد کشمیر پانچ اسلام آباد ایک موت رپورٹ ہوئیں۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں کے نتیجے میں 8 ہزار 8 سو 89 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں سے 5255 گھر جزوی طور پر متاثر ہوے ، 3634 گھر منہدم ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستا ن میں 6 ہزار خیبر پختونخواہ میں 2406 گھروں کو نقصان پہنچا، اسی طرح سندھ میں 165 جی بی میں 173 گھر متاثر ہوئے جبکہ 1694 لائیو سٹاک سیلابی ریلوں کی نظر ہوگئے۔

    حیدرآباد،پی ٹی آئی کارکنوں کی پیپلز پارٹی کے کارکن کی گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش

  • مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    لاہور: ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہےمحکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کے موجودہ سپیل میں توسیع کی پیشگوئی کے بعد محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہے جبکہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارش سے دریائے راوی اور دریائے چناب کے 11 نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دریائے راوی اور چناب میں پانی کے تیز بہاؤ کی توقع ہے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی وجہ سے گوجرانوالہ ڈویژن کے متاثر ہونے کا امکان ہے جبکہ گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ کے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

    کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی پھیلادی:ٹرینوں کا نظام درہم برہم

    پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں جبکہ پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کا عملہ 24 گھنٹے الرٹ رہے گا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون ہواؤں کا حالیہ سلسلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے تک مزید جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مون سون کے سپیل میں ہفتے کے آخر تک مزید شدت آسکتی ہے۔

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی،کوئٹہ آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ

    ملک کے بیشتر علاقوں میں 5 جولائی رات تا 7 جولائی صبح آندھی،تیز ہواؤں اور بوندا باندی کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے، جس کی وجہ سے وفاقی، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ودیگر محکموں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور وفاقی وزیر ماحولیات کے مطابق حالیہ مون سون بارشیں توقع سے 87 فیصد زیادہ ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم گرما میں برفانی جھیلیں پھٹنے کے 16 واقعات ہوئے جبکہ ہر سال اس طرح کے 5 یا 6 واقعات ہوتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ 14 جون سے اب تک مون سون میں 77 اموات رپورٹ ہوئی ہیں اور بلوچستان میں سب سے زیادہ 39 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ آئندہ دنوں میں مون سون کے اثرات پنجاب میں ہوں گے جبکہ آزاد کشمیر میں 49 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اوربلوچستان میں بھی اندازےسے 274 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں سندھ میں 261 فیصد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں اور یہ مون سون میں شدید بارشوں کی شروعات ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی کے بعد حکومت نے کوئٹہ کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کردی ہے وئٹہ میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ روز کوئٹہ میں مون سون کی بارشوں کے باعث صوبے کے ندی نالے بھر گئے پی ڈی ایم بلوچستان کی جانب سے کہا گیا ہےکہ چھتیں اور دیواریں گرنے سمیت مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں۔

    پاکستان میں موسم کیسا رہے گا؟

    جاں بحق افراد میں سے 6 کا تعلق کوئٹہ 3 کا تربت جبکہ خضدار اور قلعہ سیف اللہ میں مرنے والوں کی تعداد ایک ایک ہے سریاب مشرقی بائی پاس نواں کلی میں درجنوں مکانات زیر اب آگئے۔چالیس سے زیادہ خاندان بے گھر ہوگئے۔ ان علاقوں میں مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔

    بلوچستان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کےمطابق بارشوں کےباعث قلعہ سیف اللہ، ژوب، پشین، ہرنائی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسلم باغ، قمرالدین اور خشنوب میں سیلابی صورتحال ہے خشنوب میں متعدد دیہات میں رات کو سیلابی ریلے داخل ہوئے جبکہ خشنوب میں رابطہ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ریسکیو اہلکاروں کو متا ثرین تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پاکستان بھرمیں‌ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی:این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    پاکستان بھرمیں‌ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی:این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

    اسلام آباد:پاکستان بھرمیں‌ طوفانی بارشوں کی پیش گوئی،اطلاعات کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں طوفانی بارشوں کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق 20 تا 22 جون ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں، بارشوں سے ندی نالوں، دریاؤں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب آنےکا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکمے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم ایز اور ڈی ڈی ایم ایز کومتعلقہ اداروں سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ مسافروں اورسیاحوں کو متوقع بارشوں اور راستوں کی صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔

    دوسری جانب پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان نے بھی طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق آج رات یا کل بارش کا ایک مضبوط سسٹم بلوچستان میں اثرانداز ہوسکتا ہے۔پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی بلوچستان میں مضبوط سسٹم بن رہا ہے جس کے باعث اس حصے میں غیرمتوقع بارش اور ژالہ باری کاا مکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کیلئے فلڈ وارننگ جاری کی ہے اور کہا گیا ہے کہ کوہلو، بارکھان، موسیٰ خیل، شیرانی، ہرنائی، ژوب، دکی، زیارت اور لورالائی میں بھی بارش کا امکان ہے۔

  • بارشوں اور برفباری سے7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے:تفصیلات آگئیں‌

    بارشوں اور برفباری سے7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے:تفصیلات آگئیں‌

    پشاور : بارشوں اور برفباری سے 7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے:تفصیلات آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں بارشوں اور برفباری سے مختلف واقعات میں 7 افراد جاں بحق اور 16 زخمی ہوئے۔

    پروونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور برفباری سے 15 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا اور ایک گھر مکمل تباہ ہوا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بند سڑکوں کوبحال کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ ڈائریکٹر (پی ڈی ایم اے) نے شانگلہ کے متاثرہ علاقےکا دورہ بھی کیا اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو جلد معاوضہ ادا کیا جائے۔

    دوسری جانب پولیس کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک کی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال کردی گئی ہیں اور رزمک سے ڈنگین روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کا بتانا ہے کہ جنوبی وزیرستان سرحد تک سڑک سے برف ہٹا کرکنٹینرزکے گزرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے، ساتھ ہی برف میں پھنسے سیاح اور گاڑیوں کو نکالنے میں بھی مدد کر رہے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر عقیق حسین کے مطابق سیاحوں کو برف میں ڈرائیونگ سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں جبکہ سیاحوں کے لیے رزمک پولیس اسٹیشن کو کھول دیا ہے جہاں انہیں چائے،کھانے پینے اور گرم بستر کی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔

    ادھر کوئٹہ میں بارش اور برفباری کے بعد شدید سردی سے گھروں میں پائپ لائنوں مین پانی جمنے لگا، معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔

    حالیہ دنوں سردی کی شدید لہر نے شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کردیا ہے، بلوچستان کے بیشتر اضلاف میں موسم شدید سرد اور خشک ہوگیا جب کہ شمالی بلوچستان میں شدید سردی متوقع ہے۔کوئٹہ میں بارش اور برفباری کے بعد موسم کی شدت میں اضافہ ہوگیا جس نے معمولات زندگی بھی متاثر کردئیے۔

    شدید سردی کے باعث گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی بھی جمنے لگا ہے، صبح کوئٹہ کا کم سے کم درجہ حرارت منفی پانچ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

  • مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت

    مری سانحہ،انکوائری کی ضرورت نہیں،ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،عدالت
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سانحہ مری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس میں این ڈی ایم اے حکام کو طلب کرلیا

    وکیل نے کہا کہ سانحہ مری کے تمام ذمہ داروں کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی کی جائے، سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا،وزیر اعظم، وزیر داخلہ، پولیس حکام نے اطلاع کے باوجود کوئی ایکشن نہ لیا،25 ہزار سیاح کی گنجائش والے مری میں ایک لاکھ سے زائد سیاحوں کی اجازت کیوں دی گئی؟ تمام اعلیٰ حکام کا ایکشن نہ لینا مجرمانہ غفلت ظاہر کرتا ہے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ کو روسٹرم پر طلب کر لیا،چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ڈیزاٹر مینجمنٹ کا مطلب کیا ہے، پرونشل ڈیزاٹر مینجمنٹ بھی ہے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاٹر مینجمنٹ بھی ہے، عدالت نے این ڈی ایم اے حکام کو 11 بجے طلب کر لیا،

    جس کے بعد ممبر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہو گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے آپ کو کہا تھا کہ این ڈی ایم اے کا قانون پڑھیں، آپ نے کہا کہ اگر زلزلہ آئے تو وہ ہماری ذمہ داری نہیں ،آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہو گا؟ یہ تعین کر لیں کہ جو 22 لوگ جاں بحق ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟

    ممبر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے این ڈی ایم اے قانون پڑھ کر سنایا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیاری اور اقدامات ہوتے تو 22 لوگوں اور بچوں کی جانیں نہ جاتیں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کی میٹنگ کبھی ہوئی ہے، ممبر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے عدالت میں کہا کہ کمیشن کی 5میٹنگز ہوئی تھیں، 5مارچ2007 اور 2010 کو کمیشن کی میٹنگ ہوئی،21فروری 2013 اور 28 مارچ 2018 کو بھی کمیشن کی میٹنگ ہوئی. عدالت نے استفسار کیا کہ اپوزیشن کے کسی ممبر نے کمیشن کی میٹنگ کیلئے درخواست بھیجی،جس پر ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ نہیں، اپوزیشن کے کسی ممبر نے درخواست نہیں بھیجی، عدالت نے کہا کہ کیا اس سے زیادہ طاقتور کوئی باڈی ہو سکتی ہے،کیا ڈی جی این ڈی ایم اے نے وزیراعظم سے کبھی میٹنگ بلانے کی درخواست کی، قانون موجود ہے، عملدرآمد ہوتا تو ایک جان بھی ضائع نہ ہوتی،یہ اتنا زبردست قانون ہے کہ ہر ضلع تک ذمہ داری ڈالتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا این ڈی ایم اے نے ذمہ داروں کا تعین کیا ؟ ممبر این ڈی ایم اے نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی، جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ نے این ڈی ایم اے کا قانون ٹھیک سے نہیں پڑھا،اس کیس میں انکوائری کی کوئی ضرورت نہیں ہے، باہر جا کر تقریری سارے کرتے ہیں، کام کسی نے نہیں کرنا،ریاست کے یہ حال ہے کہ 2010 سے 2021 تک کوئی کارگردگی نہیں ہے،چیرمین این ڈی ایم اے نے این ڈی ایم اے کا قانون پڑھا ہے، ذمہ دار پھانسی کے حق دار ہیں،وزیر اعظم سے لے کر اپوزیشن لیڈر اور چیف آف آرمی سٹاف سارے موجود ہیں، سارے لوگ مری کے لوگوں پر اعتراض کرتے ہیں،این ڈی ایم اے اور پوری ریاست مری واقع کے ذمہ دار ہیں،
    وزیر اعظم این ڈی ایم اے کا اجلاس فوری طور پر طلب کرے، 9 بچے مری واقع میں مرے ہیں، عدالت نے سماعت جمعہ تک کے لئے ملتوی کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاح تو ہرسال اسی طرح مری جاتے ہیں، این ڈی ایم اے اتنی بڑی باڈی ہے جس میں سارے متعلقہ لوگ موجود ہیں، اپوزیشن بھی ہے، کیا اتنی بڑی باڈی کی کبھی بھی کوئی میٹنگ ہوئی ہے؟-

    مری میں ریاستی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے،ابھی تک انگریزوں کےڈھانچے پر چل رہا ہے،حماد اظہر

    دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل کا کہنا تھا کہ مفاد عامہ میں درخواست دائر کی، پٹشنر7 جنوری کو مری گیا جب ٹول پلازہ سے سیاح مری جا رہے تھے تو کسی نے ان کو نہیں روکا نہ خدشے سے آگاہ کیا۔

    عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا کر این ڈی ایم اے سے متعلقہ قوانین پڑھنے کی ہدایت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر ہی عدالت کو آگاہ کر سکتا ہوں،-

    بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا این ڈی ایم اے کی اس حوالے سے کبھی میٹنگ ہوئی، اس حوالے سے تو باقاعدہ مینجمنٹ پلان ہونا چاہیے تھا، اگر میٹنگ نہیں ہوئی تو کیوں نہیں ہوئی، عدالت کو آ کر آگاہ کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل راولپنڈی کے تھانہ سول لائین میں اسسٹنٹ کمشنر مری، ڈی سی راولپنڈی اور سی ٹی او کے خلاف بھی اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کرائی گئی درخواست میں درخواست گزارایڈووکیٹ شہناز بیگم جوڈسٹرکٹ کورٹ راولپنڈی میں پریکٹس کرتی ہیں نےموقف اختیارکیا تھا کہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی کہ برف باری ہونی ہے اور سیاحوں کا رش پڑنا ہے انتظامیہ نے بروقت انتظامات کرتے تھے لیکن اموات انتظامیہ کی لاپرواہی سے ہوئی-

    کیا بروقت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ وزیراعظم کا وفاقی وزرا سے…

    سانحہ مری،ثابت کریں کہ کسی خاتون نے کمرے کیلئے زیور گروی رکھا،ہوٹل ایسوسی ایشن

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اسسٹںٹ کمشنر مری ، سی ٹی او ،ڈی سی او اور 1122 ان تمام کی غفلت اور لاپرواہی سے لوگوں کی قیمتی جانیں اور مال کانقصان ہوا ان تمام کے خلاف مقدمہ درج کرکے کروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات آئندہ نہ ہوں-

    مری:سڑک پربرف بکھیر کر رقم اینٹھنے والا ملزم گرفتار

  • وفاقی حکومت بارش متاثرین کے  لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے.بلاول

    وفاقی حکومت بارش متاثرین کے لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے.بلاول

    وفاقی حکومت بارش متاثرین کے لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے.بلاول
    وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلی ٰبلوچستان سے بارشوں سے نقصانات کی رپورٹ طلب کر لی

    وزیر اعظم نے این ڈ ی ایم اے کو گوادر اور تربت میں متاثرین کو فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کی اور کہا کہ بارشوں سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بلوچستان میں حالیہ بارش عوام کے لیئے پریشانی کا باعث بن گئی ہے .کوئیٹہ، گوادر، کوہلو، سبی، ژوب، تربت، چمن اور زیارت میں عوام کو نقصان اٹھانا پڑا ہے .وفاقی حکومت بارش متاثرین کے لیے بلاتاخیر امدادی کاروائیاں شروع کرے .نیازی حکومت نے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا، حکومتی ادارے و افسران ملک کے پسماندہ صوبے کی مدد کے لیئے ذمہ داری نبھائیں .پی پی پی بارش متاثرین کے ساتھ ہے، کارکنان امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں

    سبی اور گردونواح میں مسلسل 12 گھنٹوں سے بارش کا سلسلہ جاری ہے. بلوچستان کے شمالی اضلاع میں شدید برفباری اور بارش کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ بند ہوگئی۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے

    بلوچستان بارش اور برف باری برسانے والا نیاطاقتور سسٹم داخل ہوگیا.کوئٹہ، کان مہترزئی، کوژک ٹاپ،لکپاس اور زیارت میں برف باری ہوئی ہے. مسلم باغ،قلعہ سیف اللہ،سنجاوی سمیت دیگر اضلاع میں برف باری اور بارش ہوئی ہے .ہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوگئی .کان مہترزئی شاہراہ کو بحال کردیا گیا.ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کان مہترزئی،کوژک ٹاپ پر ہیوی مشینری موجود ہے،پی ڈی ایم اے،لیویز اوراین ایچ اے اور انتظامیہ شاہراہوں کی بحالی میں مصروف ہے .پاک فوج کی جانب سے مکران اور دیگر اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں. کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ چھوٹی گاڑیوں کے لیے بحال کردی گئی ہے

    شدید برفباری سے کوئٹہ چمن بین الاقوامی شاہراہ عام ٹریفک کے لیے بند تھی.لیویز فورس نے شدید برفباری میں بھی کوئیٹہ چمن شاہراہ سے برف ہٹانے کے سرتوڑ کوشش کی. ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل کوژک ٹاپ پہنچ گئے جاری کام کا خود معائینہ کیا برف ہونے کے باوجود ہیوی ٹرانسپورٹ کے علاؤہ شاہراہ پر ضروری سفر بحال رکھنے پہ زور دیا فورس شدید برفباری میں بھی کوئیٹہ چمن شاہراہ سے برف ہٹانے کے سرتوڑ کوشش کررہے ہیں: شہری کوئیٹہ چمن شاہراہ پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں

    ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ گڑنگ چیک پوسٹ اور ژڑہ بند پر ہیوی لوڈ گاڑیوں سفر سے گریز کریں کوژک ٹاپ پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹرییشن نے سنو مشین بلڈوزر کی مدد سے برفباری ہٹا رہے ہیں روڈ کلیر ہونے تک مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں لیویز فورس این ایچ اے بی اینڈ ار کے اہلکار الرٹ کردیں گئے کوژک ٹاپ پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹرییشن نے سنو مشین بلڈوزر کی مدد سے برفباری ہٹا رہے ہیں روڈ کلیر ہونے تک مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں

    پاک بحریہ کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے دور دراز ساحلی علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کی گئی پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جہاں لوگوں کو علاج اور ادویات کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں کھڑا پانی نکالنے میں بھی مقامی افراد کی مدد کی۔ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں ساحلی علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔