Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

    5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی ،گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد، راولپنڈی اور خطہ پوٹھوہار میں 5 ستمبر تک گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت گرد و نواح میں رات گئے موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا،محکمہ موسمیات کے مطابق مسلسل اور تیز بارشوں کے باعث جڑواں شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی تک محدود نہیں رہے گا آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 6 ستمبر تک جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جن میں راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، قصور اور اوکاڑہ شامل ہیں۔

    پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کر دیئے

    ممکنہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نشیبی علاقوں کی نگرانی، نالوں کی صفائی اور بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں پہاڑی اور سیاحتی علاقوں کا رخ کرنے والے شہریوں کو بھی موسم کی صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کرنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    ملک میں جاری مون سون کے شدید اسپیل اور غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقہ جات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور طغیانی کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے انتظامی اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے-

    امریکا کی ٹاپ پارٹی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری، نیویارک کی صرف دو جامعات شامل

    این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے اور کھرمنگ اور آزاد کشمیر میں وادی نیلم اور گردو نواح کے ندی نالوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے،علاوہ ازیں صوبہ خیبر پختونخوا میں چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان کے پہاڑی علاقوں کو بھی حساس قرار دیا گیا، ان علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    گلگت بلتستان، سوات اور مری جانے والے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور سفر سے قبل مقامی انتظامیہ یا این ڈی ایم اے ہیلپ لائن (1129) سے معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،حساس علاقوں میں امدادی ٹیموں، بھاری مشینری اور ہنگامی ادویات کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ سڑکیں بلاک ہونے کی صورت میں فوری بحالی ممکن بنائی جا سکے، تابکار حرارت اور شدید بارشوں کا ایک ساتھ ملنا پہاڑی جھیلوں کے بند توڑنے کا باعث بنتا ہے، جس سے چند منٹوں میں لاکھوں کیوسک پانی نچلے علاقوں کی طرف بہتا ہے۔

    نیویارک کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک اے آئی کے استعمال پر پابندی

  • گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ

    گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ

    اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بارشوں اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے الرٹ کے مطابق غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، دیامر، استور، سکردو اور وادی نیلم کے علاقے حساس قرار دیئے گئے ہیں، جہاں گلیشیا ئی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ موجود ہے، این ڈی ایم اے نے چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان اور مانسہرہ میں بھی سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے سے خبردار کر دیا۔

    دوسری جانب نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نےپوٹھوہار اور بالائی خیبرپختونخوا میں تیز بارشوں کاالرٹ جاری کر دیا،اسلام آباد،راولپنڈی، اٹک ، جہلم اور مری میں 2 سے 5 ستمبر کے دوران شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،دیر، سوات، بونیر، ملاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، صوابی اور پشاور میں بھی شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے باعث شہری علاقوں میں اچانک سیلاب جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو گلیشیئرز سے آنے والے دریاؤں، ندی نالوں، نشیبی علاقوں اور خطرناک پہاڑی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے ادارے نے عوام پر زور دیا ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

  • ملک میں کل سے 4 ستمبر تک موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی،این ڈی ایم کا اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نےکہا ہے ک 30 اگست سے 4 ستمبر تک پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک، آندھی اور بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں کہیں کہیں گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے مری، راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، خوشاب، سرگودھا اور گجرات میں بارش کا امکان ہے سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، لاہور، قصور، اوکاڑہ اور گردونواح کے علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے۔ پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے جبکہ دن کے درجہ حرارت میں اضافے کا امکا ن بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک اور آندھی کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش ہوسکتی ہے، دیر، چترال، سوات، کوہستان، ملاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر اور مانسہرہ میں بارش کا امکان ہے اس کے علاوہ ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، صوابی، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، کرم، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے اور دن کے درجہ حرارت میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک، آندھی اور بارش متوقع ہے اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش ہوسکتی ہے گلگت، اسکردو، ہنزہ، غذر، دیامر اور استور سمیت گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں جبکہ مظفرآباد، نیلم ویلی، پونچھ، باغ، میرپور، کوٹلی اور بھمبر میں بھی بارش کا امکان ہے۔ دونوں خطوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے جبکہ دن کے درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے جبکہ دن کے درجہ حرارت میں اضافے کا امکان ہے این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہ کردیا ہے اور ضروری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے مسافروں اور سیاحوں کو سفر سے قبل موسم کی صورتحال کا جائزہ لینے اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رہنمائی حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران مدد طلب کرنے کے لیے 911 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • مختلف علاقوں میں سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    مختلف علاقوں میں سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ جاری کردیا ہے۔

    این ای او سی کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جبکہ دریائے راوی، چناب، جہلم، کابل اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہےڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں جبکہ نالہ لئی میں بھی پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

    این ای او سی کے مطابق 8 سے 9 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر، دریائے چناب میں مرالہ جبکہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ظاہر کیا گیا ہےدریائے جہلم اور منگلا ڈیم سے بالائی علاقوں اور ملحقہ دریاؤں میں بھی نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے، جبکہ دریائے کابل میں ادیزئی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔

    این ای او سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں چترال، اپر دیر، ایبٹ آباد، شانگلہ، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے،آزاد کشمیر میں باغ اور کوٹلی کے علاقوں میں اچانک کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں ژوب، موسیٰ خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں کم سے درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خطرہ ہےپنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہےراولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور کے شہری علاقوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے نے ڈیموں میں پانی کے موجودہ ذخیرے کی صورتحال بھی جاری کردی ہےتربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,548 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی کا ذخیرہ 97.94 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 95.98 فیصد تھامنگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,205.2 فٹ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ذخیرے کی شرح 62.99 فیصد ہے۔ گزشتہ سال منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 62.80 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے،عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں،سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں، سیاحوں اور مسافروں کو ندی نالوں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہےعوام سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔

    این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کیا جائے تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہےمون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہوسکتا ہے، لہٰذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہنے اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں،این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔

  • چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے چناب پر خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ وزیرآباد میں پلکھو نالہ بھی درمیانے درجے کے سیلاب کی سطح پر بہہ رہا ہے دریائے سندھ کے کالاباغ، چشمہ اور تونسہ، دریائے چناب کے مرالہ اور تریموں، دریائے راوی کے بلوکی اور سدھنائی اور دریائے کابل کے نوشہرہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ اسی طرح نالہ ایک اور پلکھو نالہ کینٹ پل پر بھی پانی کی سطح نچلے درجے کے سیلاب کے برابر ہے۔

    این ڈی ایم اے نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ تریموں بیراج پر بھی پانی کی سطح بڑھ کر درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ سکتی ہے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں، خیبرپختونخوا کے موسمی برساتی نالوں اور شمالی بلوچستان کے بعض علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب (فلیش فلڈ) کا بھی خطرہ موجود ہے شدید بارشوں کے باعث گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ملتان، حافظ آباد اور لاہور میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں اور سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں،ادارے نے متعلقہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں، امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور سڑکوں کی بندش کی صورت میں انہیں فوری طور پر بحال کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

    این ڈی ایم اے نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے بہاؤ اور اچانک سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا، اس لیے شہری دریا کناروں، کھڑی ڈھلوانوں اور تنگ پہاڑی راستوں پر غیر ضروری قیام سے گریز کریں۔

    عوام کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ سیلابی پانی، برساتی نالوں یا تیز بہاؤ والے راستوں کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور نہ کریں، کیونکہ کم گہرائی والا پانی بھی انسانوں اور گاڑیوں کو بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے کہا ہے کہ بروقت وارننگز اور ہنگامی معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے بھی استفادہ کریں۔

  • وزیراعظم سے چیئرمین این ڈی ایم اے  کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیئرمین این ڈی ایم اے کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی جس میں ملک میں مون سون بارشوں کے دوران ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مون سون کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک میں مون سون بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال کی تیاری پر بریفنگ دی، اس کے علاوہ وزیراعظم کو پیشگی اطلاع نظام کو مکمل فعال بنانے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اس حوالے سے تعاون پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    ملک کے مختلف علاقوں میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) نے 6ے 10 جولائی تک ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کے بارے میں ایک اہم الرٹ جاری کیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق کشمیر، اسلام آباد، بالائی خیبر پختونخوا اور شمالی پنجاب کے علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اس کے ساتھ ہی 7 جولائی سے شمالی علاقوں، پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان میں یہ بارشیں مزید تیز ہو جائیں گی، جس کے باعث دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے پانی کے بہاؤ میں تھوڑا بہت اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہےتاہم فی الحال کسی بڑے پیمانے پر دریائی سیلاب کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں کی انٹری ہو چکی ہے، جس سے حبس اور شدید گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہےلاہور میں ہوا 13کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے اور ہوا میں نمی کا تناسب 69 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں آج بھی بارش کی قوی امید ہے۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھی گرم اور مرطوب موسم متوقع ہے، تاہم شام اور رات کے اوقات میں مری، گلیات، راولپنڈی، جہلم، اٹک، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور ملحقہ علاقوں میں چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں بھی گرم اور مرطوب موسم برقرار رہے گا، تاہم چترال، دیر، سوات، بونیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، کرم، کوہاٹ، ہنگو، اورکزئی اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخوا کے زیادہ تر حصوں میں موسم گرم رہے گا لیکن مالم جبہ، سوات، سیدو شریف، دیر، ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں مطلع ابر آلود رہنے اور ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ صوبے کے جنوبی اضلاع میں گرمی مزید بڑھ سکتی ہے جبکہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں سورج آگ برسا رہا ہے اور موسم شدید گرم اور خشک رہے گا۔

    آزاد کشمیر میں شام اور رات کے دوران چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔

    سبی میں درجہ حرارت سب سے زیادہ یعنی 49 ڈگری اور تربت میں 47 ڈگری تک جا پہنچا ہےاسی طرح نوکنڈی میں 46، چمن میں چالیس، کوئٹہ میں 38، ژوب میں 37 اور قلات میں 34 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ ہوا ہے، جبکہ زیارت میں درجہ حرارت 30 ڈگری رہا ساحلی علاقوں گوادر میں 24 اور جیوانی میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ موسم کچھ بہتر رہا۔

  • مون سون کا پہلا اسپیل:ملک بھر میں 6 جولائی تک بارشیں متوقع

    مون سون کا پہلا اسپیل:ملک بھر میں 6 جولائی تک بارشیں متوقع

    ملک بھر میں آج سے 6 جولائی کے دوران مون سون بارشوں کا امکان ہے –

    محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان،آزاد کشمیر، شمالی بلوچستان اور بالائی سندھ میں بارش متوقع ہے،اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات اور گجرات سمیت دیگر شہروں میں بھی بارش متوقع ہے،شمال مشرقی پنجاب میں موسلادھار بارش سے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ راجن پور، لیہ اور میانوالی میں 3 سے 5 جولائی کے دوران بارش متوقع ہے ، اسی طرح ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی 3سے 5جولائی کےدوران بارش کاامکان ہےخیبرپختونخوا کے بالائی اور پہاڑی اضلاع میں موسلادھار بارش کا امکان ہے،دیر، سوات، چترال، کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، خیرپور اور شہید بینظیر آباد میں 3 جولائی سے بارش کا امکان ہے جبکہ بلوچستان کے ژوب، شیرانی، بارکھان، سبی، کوہلو، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی میں بارش متوقع ہے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے،استور، سکردو، گلگت، ہنزہ، دیامر اور غذر میں بھی بارش کاامکان ہےمظفرآباد، نیلم ویلی، راولاکوٹ، باغ، بھمبر اور میرپور میں بھی بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب مون سون کے دوران لاہور ائرپورٹ پر فضائی حفاظت کے خصوصی اقدامات نافذ کردئیے گئے،جاری نوٹم میں پرندوں کی بڑھتی سرگرمی کے پیش نظر پائلٹس کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے،5 جولائی سے 15 ستمبر تک روزانہ صبح 5:01 سے 8:00 بجے رن ویز دستیاب نہیں ہوں گے،عارضی آپریشنل اقدامات سے شیڈول کمرشل پروازیں متبادل اوقات میں آپریٹ ہوں گی،ہنگامی لینڈنگ کی سہولت بدستور دستیاب رہے گی۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہےاس سال بارشوں کا باقاعدہ آغاز ملک کے شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر کے علاقوں سے ہونے کی امید ہے، جس کے بعد یکم جولائی سے ملک کے بالائی شمالی حصوں اور پنجاب کے شمال مشرقی علاقوں میں بارشیں ہونے کی توقع ہے۔

    پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 6 جولائی تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ کے خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، شیخوپورہ اور نارووال سمیت متعدد اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، لیہ، میانوالی، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں اور گردونواح میں بھی بارش متوقع ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ آسمانی بجلی اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات پر جانے سے گریز کریں، گردوغبار اور تیز آندھی کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، جبکہ شمالی علاقوں کا سفر کرنے والے سیاح احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • بارشوں کا مغربی سسٹم ملک میں داخل ،ملک بھر میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    بارشوں کا مغربی سسٹم ملک میں داخل ،ملک بھر میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی

    آج بارشوں کا مغربی سسٹم ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگیا،محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سےمون سون بارشوں کی پیشگوئی کردی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہو چکا ہے جو یکم جولائی سے مون سون بارشوں کا سبب بنے گا ان سسٹمز کے ملاپ سے ملک بھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے،بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے مشرقی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے جولائی کے پہلے ہفتے میں مون سون کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا،30 جون کی شام یا رات سے مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک میں داخل ہو سکتا ہے

    محکمہ موسمیات کے مطابق یکم سے 6جولائی تک لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، مری میں بارشوں کا امکان ہے، گلیات،کشمیر ، گلگت بلتستان اور سندھ میں بھی موسلاد ھاربارشوں کا امکان ہے، بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے مشرقی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے جولائی کے پہلے ہفتے میں مون سون کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا-

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے آئندہ ہفتے کے دوران متوقع موسمی صورتحال کا پیشگی جائز ہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یکم سے 6 جولائی کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا پہلا باقاعدہ اسپیل متوقع ہے، جس کے باعث بعض علاقو ں میں موسلا دھار بارش، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال این ای او سی کی جانب سے 3 سے 4 ماہ قبل جاری کیے گئے موسمی جائزے کے عین مطابق ہےممکنہ موسمی خطرات سے متعلق تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، شمالی بلوچستان اور بالائی سندھ میں آندھی، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، جہلم، چکوال اور اٹک میں یکم سے 6 جولائی کے دوران وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، جبکہ شمال مشرقی پنجاب اور خطہ پوٹھوہار کے بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے ملتان، بہاولپور، بہاولنگر ، لودھراں، خانیوال، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ، بھکر اور میانوالی میں 3 سے 5 جولائی کے دوران بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا میں یکم سے 5 جولائی تک بالائی اور پہاڑی اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے دیر، سوات، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، شانگلہ اور ملحقہ علاقوں میں مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں یکم سے 5 جولائی کے دوران شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور مقامی سطح پر سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق استور، اسکردو، گلگت، ہنزہ، دیامر، غذر، شگر اور گھانچے کے رہائشیوں اور مسافروں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ مظفرآباد، وادی نیلم، راولاکوٹ، باغ، حویلی، پونچھ، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں یکم سے 6 جولائی تک بارشوں کا امکان ہے بلوچستان کے ژوب، شیرانی، بارکھان، سبی، کوہلو، ہرنائی، نصیر آباد اور ڈیرہ بگٹی میں یکم سے 4 جولائی کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ سندھ کے لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، دادو، کشمور، گھوٹکی، شکارپور، خیرپور، شہید بینظیر آباد اور نوشہرو فیروز میں 3 اور 4 جولائی کو بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ موسلا دھار بارش کے دوران نشیبی علاقوں، انڈر پاسز اور برساتی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت سے گریز کریں سیاح، مسافر اور مقامی انتظامیہ موسمی صورتحال سے مسلسل باخبر رہیں اور این ڈی ایم اے سمیت متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں عوام بروقت موسمی اطلاعات اور حفاظتی ہدایات کے لیے ’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘ موبائل ایپ سے استفادہ کریں، جبکہ تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کردی گئی ہے۔

  • آج سے 3 جولائی تک پری مون سون بارشوں کی پیشگوئی ،  الرٹ جاری

    آج سے 3 جولائی تک پری مون سون بارشوں کی پیشگوئی ، الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آج سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق شدید گرمی اور متوقع پری مون سون بارشوں کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں دریاؤں اورندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو سکتی ہے، گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ موجود ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، کھرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال اور سوات سمیت حساس علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیائی جھیلوں اوردریا کناروں کے قریب غیر ضروری نقل وحرکت سے گریز کیا جائے، صوبا ئی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹیزکو بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔