Baaghi TV

Tag: اے آئی ٹیکنالوجی

  • یوٹیوب نے بچوں کی حفاظت کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی

    یوٹیوب نے بچوں کی حفاظت کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی

    ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے امریکہ میں بچوں کو حساس مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

    یوٹیوب اب ایسے بچوں کی شناخت کے لیے اے آئی استعمال کرے گا جو بالغ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ نابالغ صارفین کو غیر موزوں مواد سے دور رکھا جا سکے۔یہ حفاظتی اقدام امریکہ میں متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ گوگل کی ملکیت والی یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کم عمر بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یوٹیوب کے یوتھ پروڈکٹ منیجمنٹ ڈائریکٹر جیمز بیسر نے بتایا کہ مشین لرننگ پر مبنی اے آئی ورژن صارفین کی عمر کا اندازہ لگانے میں مدد کرے گا۔ اس میں مختلف عوامل جیسے دیکھی جانے والی ویڈیوز کی نوعیت اور اکاؤنٹ کی مدت شامل ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ہمیں صارف کی اصل عمر کا اندازہ لگانے کی اجازت دے گی اور چاہے اکاؤنٹ میں درج تاریخ پیدائش کچھ بھی ہو، صارف کو اس کی عمر کے مطابق مصنوعات اور حفاظتی تجربات فراہم کیے جائیں گے۔

    غزہ جنگ بندی: حماس نے تجویز منظور کرلی

    عدالتی امور میں بیرونی مداخلت پر متعلقہ جج کو 24 گھنٹےمیں شکایت درج کرانا ہوگی،فیصلہ

    اسلام آباد میں بچوں کے روزگار کی ممانعت کا بل منظور

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ،کابینہ کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو دینے کا فیصلہ

  • اے آئی ٹیکنالوجی، ایشیا کے بڑے بینک نے  ہزاروں ملازمتیں ختم کردیں

    اے آئی ٹیکنالوجی، ایشیا کے بڑے بینک نے ہزاروں ملازمتیں ختم کردیں

    سنگاپور کے بڑے بینک ڈی بی ایس نے تقریبا چار ہزار اسامیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ کام ملازمین کے بجائے بڑی حد تک اے آئی سے لیا جا رہا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈیویلپمنٹ بینک آف سنگاپور(ڈی بی ایس)کے ترجمان نے بتایا کہ ممکنہ طور پر آئندہ تین برسوں میں عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کی 4 ہزار اسامیاں ختم کر دی جائیں گی۔ بینک کے مستقل ملازمین اس فیصلے سے متاثر نہیں ہو ں گے۔یہ فیصلہ ڈی بی ایس کو ان اولین بڑے بینکوں میں سے ایک بنادے گاجو اس حوالے سے تفصیلات پیش کرے گا کہ اے آئی ٹیکنالوجی اس کے آپریشنز کس طرح متاثر کرے گی۔بینک کے چیف ایگزیکٹیو پیوش گپتا کا کہنا ہےکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ بینک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی ملازمتیں پیدا ہوں۔

    ڈی بی ایس کے ترجمان نے کہا کہ اگلے تین سالوں میں، ہمارا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت مخصوص منصوبوں پر کام کرنے والی ہماری 19 مارکیٹوں میں تقریباً 4 ہزار عارضی یا کنٹریکٹ اسٹاف کی ضرورت کم کر سکتی ہے۔اس وقت ڈی بی ایس کے ملازمین کی تعداد تقریباً 41 ہزار ہے، جن میں سے 8 سے 9 ہزار ملازمین عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔بینک کے چیف ایگزیکٹو نے گزشتہ سال ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا یہ بینک ایک عشرے سے مصنوعی ذہانت پر کام کر رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے 350 جگہوں پر اے آئی کے 800 ماڈل تعینات کر دیئے ہیں۔آئی ایم ایف نے گزشتہ برس اے آئی کی وجہ سے تقریباً 40 فیصد ملازمین کے بےروزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت زیادہ تر مقامات پرعدم مساوات کو مزید گہرا کر دے گی۔جب کہ بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہوگا بلکہ انسان نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ کام کرنا سیکھ جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ خطرات تو ہیں مگر اس میں نئے مواقع بھی موجود ہیں۔

    کراچی میں رمضان المبارک کے دوران ہیٹ ویو کا امکان

    کسٹمز نے بھاری مقدار میں بھارتی ساختہ اسمگلڈ ادویات برآمد کرلیں

  • امریکی نیوی کی  چینی اے آئی ٹیکنالوجی ڈیپ سیک پر پابندی

    امریکی نیوی کی چینی اے آئی ٹیکنالوجی ڈیپ سیک پر پابندی

    امریکی نیوی نے اپنے عہدیداروں کو چین کی اے آئی ٹیکنالوجی ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کے حوالے سے سیکیورٹی اور اخلاقی طور پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی نیوی نے اپنے عہدیداروں کو ای میل کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ ڈیپ سیک اے آئی کا استعمال کسی صورت نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کے ماڈل ماخذ اور استعمال سے سیکیورٹی اور اخلاقی خطرات جڑے ہوئے ہیں۔امریکی نیوی کے ترجمان نے اہلکاروں کو ای میل بھیجنے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ اقدام نیوی کے چیف انفارمیشن افسر کی جانب سے اے آئی سے متعلق بنائی گئی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وارننگ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ڈیپ سیک کا استعمال نیوی کے کام یا اہلکاروں کو کسی صورت نہیں کرنا چاہیے اور نیوی اہلکاروں کو ان احکامات پرعمل درآمد کی اہمیت سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔امریکی نیوی کی جانب سے ڈیپ سیک کے خلاف یہ بڑا قدم امریکی اے آئی ٹیکنالوجی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ریکارڈز قائم کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈیپ سیک نے انتہائی مختصر وقت میں ایپل ایپ اسٹور میں اے آئی ٹیکنالوجی میں سرفہرست چیٹ جی پی ٹی کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ڈیپ سیک محدود وسائل کے باوجود صرف دو ہزار پرانی چپس کا استعمال کر رہا ہے اور اس کا بجٹ 60 لاکھ ڈالر سے بھی ہے جبکہ دوسری اے آئی کمپنیاں کئی گنا زیادہ بجٹ رکھتی ہیں اور پہلے نمبر پر موجود چیٹ جی پی ٹی 100 ملین ڈالر سے زائد خرچ کرتی ہے۔چین کی اے آئی ٹیکنالوجی ڈیپ سیک نے مارکیٹ میں دیگر کمپنیوں کو 800 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے، جس میں اے آئی چپ بنانے والی کمپنیاں نویڈیا اور براڈکام کے حصص کی قیمت 17 فیصد گرگئی ہے۔

    اسٹاک ایکسچینج مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب ڈوب گئے

    اسٹاک ایکسچینج مندی، سرمایہ کاروں کے 31 ارب ڈوب گئے

    پاک بحریہ کے جہازپی این ایس یمامہ کا دورہ جدہ،دوطرفہ مشق میں شرکت

    مختلف شہروں میں بارش سےسردی کی شدت بڑھ گئی

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

  • مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر  ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    پاکستانی نیوز رپورٹنگ کا معروف نام، مبشر لقمان، صحافت کے مستقبل میں ایک انقلابی قدم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی جدت متعارف کرائی ہے جو پہلے کہیں نظر نہیں آئی – ایک مصنوعی ذہانت سے چلنے والا جوہر جو جغرافیائی حدود اور زبان کی رکاوٹوں سے بالاتر ہے۔ اس انقلابی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں نیوز کے استعمال کو نئے سرے سے متعارف کرانے کی صلاحیت ہے۔

    زبان کی رکاوٹ توڑنا:
    مبشر لقمان کا اے آئی اوتار تقریبا 100 زبانوں میں خبریں دینے کی قابل ہے جو ایک قابل ذکر صلاحیت ہے۔ یہ روایتی نیوز نشریات کی حدود کو توڑتا ہے، جس سے معلومات پہلے سے کہیں زیادہ وسیع تر لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ تصور کریں ایسی دنیا کا جہاں افریقہ کے دور دراز کے دیہات، چین کے پررونق شہر، یا اس کے درمیان کہیں بھی، دیکھنے والے اپنی مادری زبان میں نیوز اپڈیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ مبشرلقمان کا اوتار اس خلا کو پورا کرتا ہے، اور ایک زیادہ جامع اور باخبر عالمی شہریت کو فروغ دیتا ہے۔ اپنی مادری زبان میں خبریں حاصل کرنے کی صلاحیت نہ صرف سمجھ بوجھ کو بہتر بناتی ہے بلکہ رپورٹ کی جانے والی کہانیوں کے ساتھ جذباتی رشتے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔

    جغرافیائی حدود سے آگے:
    اس اوتار کی صلاحیت زبان سے کہیں آگے ہے۔مبشر لقمان ایسے مستقبل کا تصور کرتے ہیں جہاں یہ دنیا میں کہیں سے بھی رپورٹ کر سکتا ہے، جس سے جسمانی سفر کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ تصادم زدہ علاقوں، آفت زدہ علاقوں، یا یہاں تک کہ محدود رسائی والے دور دراز کے مقامات سے حقیقی وقت کی رپورٹنگ کے لیے دروازے کھولتا ہے۔ تصور کریں کہ یہ اوتار ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے رپورٹ کر رہا ہے، جنگ زدہ علاقے سے براہ راست اپڈیٹس فراہم کر رہا ہے، یا ایمیزون کے بارش کے جنگل کے قلب سے زمینی رپورٹس فراہم کر رہا ہے۔ اوتار ناظرین کو کہانی کے مرکز میں لے جا سکتا ہے، ایک ایسا دلچسپ اور بغیر فلٹر والا نقطہ نظر پیش کر سکتا ہے جو انسانی صحافیوں کے لیے حاصل کرنا مشکل یا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

    نیوز کے استعمال کا مستقبل:
    مبشر لقمان کا AI اوتار ایک ایسے مستقبل کی طرف ایک جرات مندانہ قدم ہے جہاں خبریں قابل رسائی، فوری، اور سرحدوں کو عبور کرتی ہیں۔ اگرچہ چیلنجز اور سوالات باقی ہیں، یہ اختراع معلومات کو جمہوری بنانے اور خبروں کے استعمال کے طریقے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی پختہ ہوتی جارہی ہے اور اخلاقی تحفظات پر توجہ دی جاتی ہے،مبشر لقمان کا اوتار ڈیجیٹل دور میں خبروں کی رپورٹنگ کے جوہر کی نئی وضاحت کرسکتا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا بھر کی دیگر نیوز آرگنائزیشنز اس پیشرفت پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور کیا وہ اسی طرح کے AI سے چلنے والے ٹولز کو اپنی نشریات میں شامل کرنے کی تلاش کریں گی۔ ایک بات یقینی ہے: مبشر لقمان کی اختراع میں آنے والے برسوں تک عالمی خبروں کے منظر نامے کو نئی شکل دینے کی صلاحیت ہے۔

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • مستقبل قریب میں اے آئی ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت ہوگی،بل گیٹس

    مستقبل قریب میں اے آئی ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت ہوگی،بل گیٹس

    نیویارک: مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے حوالے س ایک بار پھر پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے میں مدد فراہم کرے گی۔

    باغی ٹی وی: بھارت کے دورے پر موجود بل گیٹس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مستقبل قریب میں اے آئی ٹیکنالوجی میں بڑی پیشرفت ہوگی جس سے ہمیں متعدد اہم شعبوں میں آگے بڑھنے میں مدد ملے گی، یہ ٹیکنالوجی بہتر ادویات کی تیاری میں معاون ثابت ہوگی اور ہم یقیناً اسے تعلیمی شعبے میں بھی استعمال کر سکیں گے، اس ٹیکنالوجی کے ساتھ بہترین تجربات کیے جا رہے ہیں اور طالب علموں کی معاونت کے حوالے سے کافی اچھی پیشرفت ہو رہی ہے۔

    بل گیٹس نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اس کو کس حد تک مثبت کاموں کے لیے استعمال کر سکیں گے،اے آئی ٹیکنالوجی میں برق رفتاری سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور اس سے مطابقت پیدا کرنے کافی بڑا چیلنج ہےمجھے اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ خدشہ ہے کہ ہم یہ نہیں جانے کہ یہ کتنی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے، اس ٹیکنالوجی سے مختلف شعبوں جیسے ڈاکٹروں اور اساتذہ کے کاموں کے دورانیے میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب بل گیٹس نے اے آئی ٹیکنالوجی پر بات کی ہے، اس سے قبل وہ کئی بار اے آئی ٹیکنالوجی کو حالیہ دہائیوں کی اہم ترین ٹیکنالوجیکل پیشرفت قرار دے چکے ہیں۔

  • 2024  اے آئی ٹیکنالوجی کا سال ہے،بل گیٹس

    2024 اے آئی ٹیکنالوجی کا سال ہے،بل گیٹس

    نیویارک: مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے 2024 کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کا سال قرار دیا ،منگل کو آنے والے سال کے لیے اپنی سالانہ پیشین گوئیاں جاری کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ 2024 ایک "ٹرننگ پوائنٹ” ہوگا۔

    باغی ٹی وی: 2023 کے اختتام پر اگلے سال کے لیے پیشگوئی کرتے ہوئے10 صفحات پر مشتمل ایک خط میں بل گیٹس نے کہا کہ 2024 اے آئی ٹیکنالوجی کو تبدیل کرنے والا سال ثابت ہوگا بل گیٹس نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ سال ہونے والی پیشرفت سے رواں دہائی کے دوران اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی –

    مائیکروسافٹ کے ارب پتی شریک بانی گیٹس نے 10 صفحات پر مشتمل خط میں کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت میں مزید اختراعات، نوزائیدہ بچوں کی غذائی قلت میں پیش رفت، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بات چیت میں پیشرفت اور دنیا بھر میں انتخابات کی تعریف کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

    کراچی: تاجر کے گھر ڈکیتی کے مقدمے میں ڈی ایس پی کی ضمانت منظور

    2024 میں وہ اے آئی ٹیکنالوجی میں مزید تنوع دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں، اے آئی ٹیکنالوجی سے ویکسینز اور ادویات کی تیاری کا عمل تیز ہوگا جس سے 5 سال سے کم عمر بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی آنے والے برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں عام ہو جائے گی اور اے آئی ٹولز سے ہمیں عالمی صحت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملے گا، انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اینٹی بائیوٹکس مزاحمت کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے بھی اے آئی ٹیکنالوجی مددگار ثابت ہوگی۔

    2023 سے پہلے، گیٹس نے پیش گوئی کی کہ دنیا پولیو کے خاتمے کی حیثیت بحال کر دکے گی ، AI سے چلنے والے الٹراساؤنڈز ماؤں اور ان کے بچوں کو بچانے میں مدد کر سکتے ہیں، جین تھراپی ایڈز کے علاج میں مدد کر سکتی ہے اور بہتر عمارتیں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔

    ٹی 20 سیریز : نیوزی لینڈ کے خلاف قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان

    واضح رہے کہ بل گیٹس اے آئی ٹیکنالوجی کی حمایت میں کافی عرصے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، جولائی میں ایک بلاگ پوسٹ میں بل گیٹس نے کہا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی دنیا میں پرسنل کمپیوٹر کے بعد اب تک کی سب سے اہم ترین پیشرفت ہے اور اس سےخوفزدہ نہیں ہونا چاہیے بل گیٹس نےکہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی سےمختلف مسائل جیسے ڈیپ فیک تصاویر یا ویڈیوز، اسکولوں میں نقل اور متعصب الگورتھمز ضرور ابھرے ہیں، مگر ان کی روک تھام ممکن ہے۔

    فوربز کے مطابق 118.5 بلین ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ، گیٹس سیارے کے ساتویں امیر ترین شخص ہیں، جیسا کہ ایمیزون کے سابق سی ای او جیف بیزوس میامی میں آباد ہوئے، اس اقدام کا اعلان انہوں نے گزشتہ ماہ کیا تھا، گیٹس واشنگٹن کے امیر ترین شخص بن جائیں گے۔

    کراچی: تاجر کے گھر ڈکیتی کے مقدمے میں ڈی ایس پی کی ضمانت منظور

    گیٹس اور سابقہ ​​اہلیہ میلنڈا فرنچ گیٹس نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ذریعے مختلف مقاصد کے لیے اربوں ڈالر عطیہ کیے ہیں پچھلے سال، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی پوری دولت فاؤنڈیشن کے ذریعے دے گا”میں نیچے چلا جاؤں گا اور آخر کار دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست سے باہر ہو جاؤں گا-

  • اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے،ایلون مسک

    اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے،ایلون مسک

    برطانیہ: اسپیس ایکس اور ایکس کے مالک ایلون مسک نے دنیا کی پہلی اے آئی سیفٹی کانفرنس کے دوران انتباہ جاری کیا کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایلون مسک کے مطابق ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار انسانوں کا سامنا خود سے زیادہ ذہین حریف سے ہوگا،میرے خیال میں اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کو لاحق چند بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر مخلوقات سے زیادہ طاقتور یا تیزرفتار نہیں، مگر ہم ان سے زیادہ ذہین ہیں، تاہم اب انسانی تاریخ میں پہلی بار ہمیں خود سے زیادہ ذہین چیز کا سامنا ہے’۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ہم اس پر کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں تاہم میرے خیال میں ہمیں اس کی راہ کا تعین کرنا چاہیے جو انسانیت کے لیے مفید ہوگا میرا خیال ہے کہ یہ انسانیت کی بقا کو لاحق بڑے خطرات میں سے ایک ہے اور اگر ہم اے آئی ٹیکنالوجی کی پیشرفت دیکھیں تو یہ ممکنہ طور پر سب سے بڑا خطرہ ہے۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    یکم نومبر کو برطانیہ میں شروع ہونے والی 2 روزہ کانفرنس میں امریکا، چین، بھارت، فرانس، جرمنی اور بھارت سمیت 28 ممالک کے حکومتی وفود شریک ہیں،ان سب ممالک نے کانفرنس کے پہلے دن ایک اعلامیے پر بھی دستخط کیے جس میں اے آئی ٹیکنالوجی کو انسانیت کے لیے ایک ممکنہ بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔

    موبائل قسطوں پر دیئے جائیں گے یا نہیں،وزارت آئی ٹی کا وضاحتی بیان جاری

  • واٹس ایپ میں اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی نئے فیچر کا فیصلہ

    واٹس ایپ میں اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی نئے فیچر کا فیصلہ

    میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹیکرز کے نئے فیچر کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ بیٹا (beta) ورژن میں یہ فیچر سامنے آیا ہے اب واٹس ایپ میں اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے صارفین اپنی پسند کے مطابق اسٹیکرز تیار کر سکیں گے،اس کے لیے صارفین تحریری وضاحت کریں گے اور واٹس ایپ کا سسٹم اس کے مطابق اسٹیکرز تیار کرے گا۔

    واٹس ایپ صارف کے تجربے کو بڑھانے کے لیے نئے فیچر متعارف کرانے کے لیے اپنی ایپلیکیشن کو بہتر بنا رہا ہےاینڈرائیڈ 2.23.17.8 اپ ڈیٹ کے لیے واٹس ایپ بیٹا انسٹال کر کے صارفین کو ایک ہی ڈیوائس پر متعدد اکاؤنٹس شامل کرنے کی سہولت فراہم کرنے والے فیچر کو جاری کرنے کے بعد، واٹس ایپ اب پیغام رسانی کے تجربے کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔

    سویڈن میں ایک بار پھر شاہی محل کے باہرقرآن پاک کی بے حرمتی

    screen shot
    جیسا کہ مذکورہ بالا اسکرین شاٹ میں دیکھ سکتے ہیں، اسٹیکر ٹیب کے اندر کی بورڈ کھولتے وقت ایک نیا بٹن "تخلیق” دستیاب ہوسکتا ہے۔ اس اختیار کو منتخب کرتے وقت، صارف کو اسٹیکر بنانے کے لیے استعمال ہونے والی تفصیل درج کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ واٹس ایپ پہلے درج کردہ تفصیل سے تیار کردہ اے آئی اسٹیکرز کا ایک سیٹ پیش کرے گا، اور صارف یہ بتا سکتا ہے کہ گفتگو میں کون سا اسٹیکر شیئر کرنا ہے۔

    اے آئی اسٹیکرز میٹا کی طرف سے پیش کردہ ایک محفوظ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیے جاتے ہیں،یہ فیچر مختلف اے آئی ماڈلز جیسے مڈ جرنی یا ڈیل ای سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جس میں تحریر لکھ کر تصاویر تیار کی جاتی ہیں آپ ہمیشہ اے آئی کے ذریعہ تیار کردہ اسٹیکرز پر کنٹرول رکھ سکتے ہیں جیسے کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوئی اسٹیکر نامناسب یا نقصان دہ ہے،تو آپ میٹا کو اس کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ فیچر اختیاری ہے اور وہ AI اسٹیکرز آسانی سے پہچانے جا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وصول کنندہ سمجھ سکتا ہے کہ میٹا سے AI ٹیکنالوجی کے ذریعہ اسٹیکر کب تیار کیا گیا ہے۔

    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    رپورٹ کے مطابق ہماری رائے میں، یہ خصوصیت صارف کے تجربے میں کچھ فوائد لاتی ہے۔ AI اسٹیکرز بنانے کے لیے تفصیل درج کر کے، صارفین ایسے اسٹیکرز بنا سکتے ہیں جو انتہائی ذاتی نوعیت کے ہوں اور ان کی دلچسپیوں، تجربات یا بات چیت سے متعلق ہوں۔ ہمارا خیال ہے کہ ذاتی نوعیت کی یہ سطح پیغام رسانی کے مجموعی تجربے کو بڑھا سکتی ہے اور بات چیت کو یقینی طور پر مزید دل چسپ بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین کو جدید ڈیزائن کی مہارت یا بیرونی ٹولز تک رسائی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ ان شرائط سے متعلق اسٹیکرز کی نسل کو متحرک کرنے کے لیے صرف ایک تفصیل درج کر سکتے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ اس فیچر کے لیے واٹس ایپ کی جانب سے کونسا اے آئی ماڈل استعمال کیا جائے گا،بظاہر واٹس ایپ کے اس فیچر کے ذریعے صارفین ایسی پرسنلائزڈ تصاویر تیار کر سکیں گے جن کو دوستوں یا گروپس میں اسٹیکر کے طور پر شیئر کیا جا سکے گا،رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اے آئی سے تیار کردہ ان اسٹیکرز کے بارے میں یہ جاننا آسان ہوگا کہ انہیں آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہےاس سے عندیہ متا ہے کہ ان اسٹیکرز میں واٹر مارک یا کوئی اشارہ موجود ہوگا تاکہ صارفین کو معلوم ہوسکے کہ انہیں اے آئی ماڈل سے تیار کیا گیا ہے یہ فیچر ابھی بیٹا ورژن میں نظر آیا ہے تو تمام صارفین تک اس کی رسائی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

    بھارتی کپتان روہت شرما، مچل اسٹارک اورشاہین آفریدی کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتے؟

  • اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر دی

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر دی

    CoVID-19 وبائی مرض سے لے کر مصنوعی ذہانت کے ظہور تک ہر چیز کے بارے میں بل گیٹس کے نظریات اور پیشین گوئیاں حالیہ برسوں میں مقبول ہوئی ہیں بل گیٹس نے ایک اور خطرناک پیشگوئی کی ہے جس میں انہوں نے ایک ایسے نظام کی نشاندہی کی ہے جو دنیا کے لاکھوں افراد کی زندگیاں نگل لے گا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق بل گیٹس کہتے ہیں کہ مستقبل میں آرٹیفیشنل انٹیلیجنس روزمرہ زندگی میں شامل ہو گا،اپنے گزشتہ بیانات میں اپنے وہ اس معاملے پر بات کر چکے ہیں کہ کس طرح سے اے آئی ٹیکنالوجی لیبر مارکیٹ کو متاثر کرے گی تاہم اپنے تازہ ترین بیان میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح سے حکومتیں اس ٹیکنالوجی کو غلط کاموں کے لیے استعمال کر سکتی ہیں –

    ارب پتی کو خاص طور پر تشویش ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی 1945 میں جنگ عظیم دوئم کے دوران ہیرو شیما اور ناگا ساگی جیسی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

    چندریان تھری کا دو تہائی سفر مکمل،آج کا دن اہم

    بل گیٹس نے مزید کہا کہ اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو ہتھیاروں کی تیاری اور ڈیزائن سمیت دوسرے ممالک کے خلاف سائبر حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ مستقبل میں ایک ملک آرٹیفیشنل انٹیلیجنس کی مدد سے جوہری ہتھیاروں کا نظام تیار کر رہا ہو۔

    کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اورانکی اہلیہ کے مابین شادی کے 18 برس بعد علیحدگی

    "سائبر ہتھیار” تیار کرنے کی دوڑ، سب سے بڑا خطرہ ،گیٹس کی رائے میں، یہ ایک طرح کی عالمی ‘سرد جنگ’ کو جنم دے سکتا ہے،ہر حکومت اپنے مخالفوں کے حملوں کو روکنے کے قابل ہونے کے لیے سب سے طاقتور ٹیکنالوجی حاصل کرنا چاہتی ہے بل گیٹس نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید اور سائبر ہتھیاروں اور سسٹم کی تیاری کا سلسلہ جاری رہا تو یہ لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گی اور بہت سوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔

    بحران زدہ نیجر سے لوگوں کو نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں. کربی

  • مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار کر دیا

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار کر دیا

    مصنوعی ذہانت کے گاڈ فادر سمجھے جانے والے کمپیوٹر سائنٹسٹ جیفری ہنٹن نے اپنی ہی بنائی گئی ٹیکنالوجی سے خبردار کرتے ہوئے گوگل سے ملازمت بھی چھوڑ دی ۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق نصف صدی تک مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والے جیفری ہنٹن نے اپنی تخلیق پر معذرت کی ہے لیکن یہ بھی کہا کہ اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو کوئی اور ضرور کرتا مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

    اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں،بل گیٹس

    دوسری جانب گوگل نے اپنے ایک سافٹ ویئر انجینیئر بلیک لیمونی کو بھی برطرف کردیا جس نے کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے سسٹم پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے حساس کہا تھا بلیک لیمونی نے دعویٰ کیا تھا کہ بات چیت کی ٹیکنالوجی حساس ہو گئی ہے ۔

    اس سے قبل ہزار سے زائد ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں،ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں سے کہا کہ وہ زیادہ جدید اے آئی سسٹمز کی تیاری کو عارضی طور پر روک دیں۔

    ایلون مسک نے یہ مطالبہ ایک کھلے خط میں کیا جو ان کے ساتھ ساتھ اے آئی ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے افراد نے تحریر کیاخط میں کہا گیا کہ انسانی ذہانت کا مقابلہ کرنے والے اے آئی سسٹمز معاشرے اور انسانیت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    اس خط پر دستخط کرنے والوں میں ایپل کے شریک بانی سٹیو ووزنیاک اور ’ڈیپ مائنڈ‘ کے چند ریسرچرز بھی شامل تھے۔

    ٹیکساس میں شور سے روکنے پربچے سمیت 5 افراد قتل

    اس کے علاوہ اٹلی نے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔ یورپی یونین اور چین میں بھی اس کے استعمال اور اس جانب مزید ریسرچز پر کنٹرول کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ متعدد ممالک کی حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ انسانیت کو خطرے کے پیش نظر اس معاملے میں تمام تبدیلیوں پر مکمل کنٹرول رکھا جائے۔

    اے آئی ہماری زندگی میں مختلف صورتوں میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ وہ سوشل میڈیا ایلگورتھم ہو یا دفتروں اور ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے ٹولز لیکن مستقبل کے بارے میں اِس سے جڑے کچھ اور اہم سوال بھی ہیں جن کے سبب کافی بے چینیاں پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

    ماہرین کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اِس وقت مصنوعی ذہانت کا استعمال عام ہونے کے کئی نقصانات ہو سکتے ہیں جس میں فیک نیوز اور غلط معلومات کو فروغ دیے جانے کا خطرہ سب سے بڑا ہے تاہم خود اِس ٹیکنالوجی پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اِس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیز کوشش کر رہی ہیں۔

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    بی بی سی کےمطابق انڈین اے آئی کمپنی انفیڈو ڈاٹ اے آئی کے شریک بانی ورون پُری کہتے ہیں کہ ’جس طرح کوئی بھی ٹیکنالوجی اچھے اور برے دونوں قسم کے کاموں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے، ویسا ہی اے آئی کے ساتھ بھی ہے لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بہت سے لوگ اب ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو صحیح اورغلط معلومات میں فرق بتا سکے لیکن ہمیں خود بھی اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بغیر اے آئی کے استعمال کے بھی بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    چیٹ بوٹ کیا ہیں؟

    چیٹ بوٹز ایسے کمپیوٹر پروگرامز ہیں جو آپ کے سوالات کے جواب دینے کے لیے تقریباً انسانوں جیسی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    جب آپ ان سے لکھ کر یا وائس نوٹ کے ذریعے کوئی سوال کرتے ہیں تو یہ آپ کی ضرورت کے مطابق جواب دیتے ہیں۔ جواب پسند نہ آنے کی صورت میں آپ اپنے سوال کو تبدیل یا اس میں کچھ جوڑ اور کم بھی کر سکتے ہیں، جس کے رد عمل میں یہ چیٹ بوٹز اپنے جواب تبدیل کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    افغان طالبان نےخواتین پر پابندیوں کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد مسترد کردی

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اے آئی چیٹ بوٹس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔

    اوپن اے آئی کمپنی کا چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی 30 نومبر 2022 کو لانچ ہوا اور ایک ہفتے کے اندر دس لاکھ سے زیادہ لوگ اسے استعمال کر چکے تھے۔

    اِس کا استعمال لوگ سی وی لکھنے، پروجیکٹ رپورٹس تیار کرنے یا مختلف تقریبات کی تیاری کے لیے بھی کر رہے ہیں لیکن اِس کے علاوہ اے آئی ٹیکنالوجی کے کئی مختلف شعبوں میں کئی فائدے ہیں۔

    انھیں ہسپتالوں، دفتروں اور سوشل میڈیا ایلگوریتھم میں بھی پہلے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کاروباروں کو بڑھانے کے لیے پروموشنل ویڈیوز بھی یہ آپ کے ایک اشارے میں بنا کر دے دیتے ہیں۔

    سروگیسی کے ذریعے بچوں کی پیدائش کا پلان تھا جوپورا نہیں ہو سکا،سلمان خان

    ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی ہی طرح کے کئی اور ٹولز پہلے سے ہی مارکیٹ میں آ چکے ہیں جو ہماری زندگی، ہمارے کام کرنے کے طریقے بدل سکتے ہیں۔ پچھلے دنوں گوگل نے اپنا چیٹ بوٹ ’بارڈ‘ لانچ کیا، اڈوبی نے ’فائر فلی‘ اور فروری میں مائکرو سافٹ نے اپنے سرچ انجن بِنگ میں بھی چیٹ بوٹ فیچر متعارف کروایا ہے۔